Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Last updated: 5 April 2026
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 01)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 02)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 03)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 04)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 05,06)Do Roop Muhabbat (Episode 07)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 08)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 09)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 10,11)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 12)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 13)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 14)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 15)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 16,17)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 18)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 19)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 20)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 21,22)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 23)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 24)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 25)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 26)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 27)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 28)Do Roop Muhabbat Ke (Episode 29)Do Roop Muhabbat Ke (Last Episode)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
وہ نقاب پوش عورت کتنی ہی دیر سے اِس موقع کی تلاش میں تھی کے نرس باہر نکلے اور وہ اندر جا کر اپنا کام کرے۔ ۔۔
وہ اٹھ کر اِدھر اُدھر دیکھتی ہوئی احتیاط سے اندر جاتی ہے۔ ۔۔ سب ہی بچوں پر پنک ریبن بندھا ہوتا ہے جس کا مطلب لڑکی ہے۔ ۔ صرف ایک بچہ جس کے ہاتھ پر نیلے رنگ کا ریبن ہوتا ہے جس کا مطلب کے وہ لڑکا ہے ۔۔
اس سے پہلے کے وہ بچے کو اُٹھاتی ایک کام والی بولتی ہے
بی بی تم اندر کیا کر رہی ہو یہاں آنا منع ہے چلو باہر جاو۔۔
میں خالا ہوں اسکی ڈاکٹرنی نے کہا ہے بچے کو لے کر آوں میں پوچھ کر آئی ہوں اُن سے۔۔۔
اس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا
اچھا فیر کھڑی کی سوچ رہی آں۔ ۔ جاو جا کر لے جاو ڈاکٹرنی اینی فارغ نہیں ہوندی۔ ۔
نقاب پوش نے فوراً بچے کو اٹھایا اور باہر نکل گئی۔ ۔ ادھر اُدھر دیکھا تو سامنے ہی اسکا ساتھی کھڑا نظر آیا ۔۔ تیزی سے چلتی اس کے پاس پہنچی۔ ۔
ایک کام والی نے دیکھ لیا ہے جتنی جلدی ہو سکے نکلو یہاں سے۔۔۔
بچے کو آدمی کے ہاتھ میں دیا اور خود باتھ روم میں جاکر اپنی نقاب والی چادر اتار کر بیگ میں رکھی اور دوسرا دوپٹا نکالا اور جلدی جلدی پہن کر باہر آئی۔۔ تیزی سے ہوسپٹل سے نکل کر باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ ۔ فون پر نمبر ملایا اور موبائل کان پر پر لگا لیا
جی سر کام ہو گیا ہم پہنچ رہے ہیں بس دس منٹ لگے گے۔ ۔
فون بند کر کے اپنے بیگ میں ڈالا اور ایک نظر سوئے ہوئے بچے پر ڈالی جسے نیند کا انجیکشن لگا کر بے سولایا ہوا تھا۔
ایسے کیسے کو ئی ہمارا بچہ لے گیا ہمیں ہر حال میں ہمارا بچہ چاہیئے ۔۔ ورنہ پورے ہوسپٹل کو آگ لگا دونگا۔ ۔
پچھلے ایک گھنٹے سے بچہ نہیں ملتا تو پشیر پاگل ہونے کو تھا آخر تین سال بعد اللہ نے یہ دن دیکھایا تھا اور ابھی ٹھیک سے خوشی بھی نہیں منائی تھی کے بچہ ہی غائب ہو گیا۔ ۔۔
ماروخ آنسہ کو سنبھالے کھڑی تھی جبکے عشرت بی بی ایک بچے کو اپنے گلے سے لگائے رونے میں مصروف تھیں۔ ۔۔
ہوسپٹل کی انتظامیہ ہر جگہ بچے کو تلاش کر لیتی ہے مگر وہ نہیں ملتا۔ ۔۔ بشیر کے دوستوں نے پولیس کو بھی خبر کر دی تھی۔ ۔۔سب ہی لوگ اپنے بچوں پکڑے بیٹھ جاتے ہیں۔ ۔۔
تھوڑی دیر پہلے جو جُڑواں بچوں کی پیدائش پر خوش ہوتے میٹھیاں کھا رہے تھے اب دکھ سے اس کے لیئے دعا کرنے لگتے ہیں۔
