Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

وہ نقاب پوش عورت کتنی ہی دیر سے اِس موقع کی تلاش میں تھی کے نرس باہر نکلے اور وہ اندر جا کر اپنا کام کرے۔ ۔۔
وہ اٹھ کر اِدھر اُدھر دیکھتی ہوئی احتیاط سے اندر جاتی ہے۔ ۔۔ سب ہی بچوں پر پنک ریبن بندھا ہوتا ہے جس کا مطلب لڑکی ہے۔ ۔ صرف ایک بچہ جس کے ہاتھ پر نیلے رنگ کا ریبن ہوتا ہے جس کا مطلب کے وہ لڑکا ہے ۔۔
اس سے پہلے کے وہ بچے کو اُٹھاتی ایک کام والی بولتی ہے
بی بی تم اندر کیا کر رہی ہو یہاں آنا منع ہے چلو باہر جاو۔۔
میں خالا ہوں اسکی ڈاکٹرنی نے کہا ہے بچے کو لے کر آوں میں پوچھ کر آئی ہوں اُن سے۔۔۔
اس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا
اچھا فیر کھڑی کی سوچ رہی آں۔ ۔ جاو جا کر لے جاو ڈاکٹرنی اینی فارغ نہیں ہوندی۔ ۔
نقاب پوش نے فوراً بچے کو اٹھایا اور باہر نکل گئی۔ ۔ ادھر اُدھر دیکھا تو سامنے ہی اسکا ساتھی کھڑا نظر آیا ۔۔ تیزی سے چلتی اس کے پاس پہنچی۔ ۔
ایک کام والی نے دیکھ لیا ہے جتنی جلدی ہو سکے نکلو یہاں سے۔۔۔
بچے کو آدمی کے ہاتھ میں دیا اور خود باتھ روم میں جاکر اپنی نقاب والی چادر اتار کر بیگ میں رکھی اور دوسرا دوپٹا نکالا اور جلدی جلدی پہن کر باہر آئی۔۔ تیزی سے ہوسپٹل سے نکل کر باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ ۔ فون پر نمبر ملایا اور موبائل کان پر پر لگا لیا
جی سر کام ہو گیا ہم پہنچ رہے ہیں بس دس منٹ لگے گے۔ ۔
فون بند کر کے اپنے بیگ میں ڈالا اور ایک نظر سوئے ہوئے بچے پر ڈالی جسے نیند کا انجیکشن لگا کر بے سولایا ہوا تھا۔
ایسے کیسے کو ئی ہمارا بچہ لے گیا ہمیں ہر حال میں ہمارا بچہ چاہیئے ۔۔ ورنہ پورے ہوسپٹل کو آگ لگا دونگا۔ ۔
پچھلے ایک گھنٹے سے بچہ نہیں ملتا تو پشیر پاگل ہونے کو تھا آخر تین سال بعد اللہ نے یہ دن دیکھایا تھا اور ابھی ٹھیک سے خوشی بھی نہیں منائی تھی کے بچہ ہی غائب ہو گیا۔ ۔۔
ماروخ آنسہ کو سنبھالے کھڑی تھی جبکے عشرت بی بی ایک بچے کو اپنے گلے سے لگائے رونے میں مصروف تھیں۔ ۔۔
ہوسپٹل کی انتظامیہ ہر جگہ بچے کو تلاش کر لیتی ہے مگر وہ نہیں ملتا۔ ۔۔ بشیر کے دوستوں نے پولیس کو بھی خبر کر دی تھی۔ ۔۔سب ہی لوگ اپنے بچوں پکڑے بیٹھ جاتے ہیں۔ ۔۔
تھوڑی دیر پہلے جو جُڑواں بچوں کی پیدائش پر خوش ہوتے میٹھیاں کھا رہے تھے اب دکھ سے اس کے لیئے دعا کرنے لگتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *