Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat (Episode 07)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

اگلی صبح پورے ہوٹل میں پولیس اور میڈیا والے جمع ہوتے ہیں ہر طرف ہل چل مچ جاتی ہے جبکے ضوریز پرسکون انداز میں اپنا ناشتہ کرتا ہے۔ ۔۔

ویری گُڈ ضوریز رات کے اندھیرے میں مارنے کا یہ ہی فائدہ ہے کے باقی عام کو صبح پتا لگتا ہے۔ ۔ اور پولیس کا سارا شک ان لوگوں پر جاتا ہے جو وہاں موجود نہیں ہوتے۔ ۔ ویل میں تو تمہارا فین ہوں۔ ۔

ٹائیگر نے ضوریز کی خوش آمد کی

میں دن کے اجالے میں بھی مار سکتا ہوں مجھے کسی بھی انجام کی فکر نہیں۔ ۔۔ یہ آپکا پلان تھا اس لیئے رات میں کیا!

ضوریز نے سخت لہجے میں جواب دیا۔۔

ہاہاہا پتا ہے مجھے تمہیں ڈر نہیں لگتا کسی بھی انجام سے خیر یہ رش تھوڑا کم ہو تو دیکھتے ہیں دوسرے بندے کو کب مارنا ہے کیونکے ابھی تو بہت سخت چکینگ ہو گی۔ ۔۔

آئی نو کب اور کسطرح مجھے اپنا کام کرنا ہے آپ کو اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیئے

Its my job & i will handle it !

(یہ میرا کام ہے اور میں سنبھال لونگا)

ضوریز نے ٹائیگر کو سختی سے کہا

Okay i know u can handle everything .. You don’t need my suggestions!

(مجھے معلوم ہے تم سب سنبھال سکتے ہو تمہیں میرے مشوروں کی ضرورت نہیں)

ٹائیگر نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا

خیر چلتا ہوں میں اپنے روم میں۔ ۔

ٹائیگر نے برا مانتے ہوئے کہا اور اپنے روم میں چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا کس کا فون تھا؟

جنت نے صہیب کو پریشان دیکھ کر پوچھا

یار کولیگ تھا کہہ رہا تھا کوئی مرڈر ہو گیا ہے ہوٹل میں ایک سایسی آدمی کا۔ ۔ پتا نہیں اتنی سکیورٹی میں کوئی مرڈر کیسے کر گیا حیرت ہے۔۔۔

صہیب نے حیران ہو کر کہا

اوہ۔ ۔۔ یہ تو برا ہوا صہیب کل تو آپ کہہ رہے تھے یہ کراچی نہیں یہاں سب سیف ہے اور اب آپ یہ خبر سنا رہے ہیں۔ ۔

جنت نے فکر مندی سے کہا

ارے میری جان تم کیوں پریشان ہوتی ہو میں ہوں نہ تمہارے ساتھ جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کچھ نہیں ہونے دونگا ہاں اگر میں نہ رہوں تو الگ بات ہے۔ ۔

صہیب نے جنت کے بالوں کو کُھولتے ہوئے کہا

فضول مت بولیں صہیب۔ ۔ مجھے اپنی نہیں آپکی پریشانی ہے وہاں ہوٹل میں آپکو بھی تو جانا ہے نہ۔ ۔ آپ بس واپس چلیں چھوڑیں یہ سب۔ ۔

جنت نے صہیب کے سینے پر مُکا مارا

اففف میری زندگی ایسا کچھ نہیں ہے یقینً اس آدمی کا کوئی دشمن ہو گا جب ہی اسے مار دیا۔ ۔بھلا میرا اس دنیا میں کونسا کوئی دشمن ہے ۔۔ بلاوجہ کوئی کسی کو نہیں مارتا اس لیئے پریشان مت ہو۔۔

صہیب نے جنت کو گلے لگایا

مگر پھر بھی صہیب عجیب بات ہے اتنی سکیورٹی میں کوئی کیسے مار کر چلا گیا اتنے آرام سے کے پتہ بھی نہیں لگا۔ ۔

ہاں یار بہت ٹرین ہو گا قاتل یا پھر سکیورٹی والے بھی ملے ہوئے ہونگے خیر تم ان سب باتوں کو چھوڑو یہ بتاو لنچ میں کیا بناو گی میں سامان لے آتا ہوں اب روز باہر کا کھانا نہیں کھا سکتا اور ویسے بھی تمہارے ہاتھ کا مزیدار کھانا میری کمزوری ہے ۔۔۔

صہیب نے جنت کے چہرے پر آئے بال ہٹائے

یہ اچھا طریقہ ہے کھانا بنوانے کا۔ ۔ خیر بریانی بنا لیتی ہوں آپ سامان لے آئیں برتن تو سب پڑے ہیں یہاں۔ ۔

ٹھیک ہے میں سامان لےآتا ہوں پھر مجھے اوفس کے کام سے بھی جانا ہے مگر شام میں جانا ہے۔ ۔۔

صہیب نے جھک کر جنت کے ماتھے پر لب رکھے اور آنکھیں بند کیں۔ ۔

واٹ شام کو جانا ہے ۔۔۔ وہاں تو مرڈر ہوا ہے پلیز وہاں مت جائیں ابھی۔۔۔

جنت نے صہیب کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کیا

ارے وہاں نہیں ہے میٹنگ باہر کسی جگہ رکھی ہے بس تھوڑا ڈسکشن کرنا ہے جلدی آ جاوں گا۔ ۔ اور میں یہاں اوفس کے کام سے آیا ہوں میڈم صرف ہنی مون منانے نہیں آیا۔ ۔

صہیب نے پھر سے جنت کو اپنے قریب کیا اور اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا

ہنہ بہت اچھا ہنی مون ہے۔ ۔۔ بس مونال ہی لے کر گئے ہیں آپ اب تک۔ ۔

تو ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں چندا۔ ۔ میں آج باس کو بتا دونگا کے میں مری جا رہا ہوں دو دن کے لیئے ٹھیک ہے۔ ۔۔ اچھا میں سامان لے آوں پھر کرتی رہنا یہ گلے شکوے۔ ۔

صہیب نے بہت مشکل سے خود کو جنت سے الگ کیا ورنہ اسکا کہاں دل کرتا تھا کے جنت کو ایک پل کے لیئے بھی دور کرے

اچھا ٹھیک ہے جلدی سے لے آئیں سامان میں امی کو فون کر لوں جب تک۔۔۔

جنت نے صہیب کے جاتے ہی دروازہ لوک کیا اور فون پر مصروف ہو گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے خیال سے آج ہی دوسرے آدمی کا کام تمام کر دیتے ہیں۔ ۔۔

ٹائیگر نے ضوریز سے کہا جو سگریٹ ہاتھ میں پکڑے گم سم سا بیٹھا تھا

ضوریز نے ٹائیگر کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ ۔ ٹائیگر نے جیک کی طرف دیکھا

What would you say jack.. We should kill other man tonight???

(تم کیا کہتے ہو جیک ۔۔ ہمیں آج رات دوسرے آدمی کو بھی ختم کر دینا چاہیئے؟ ؟)

well i don’t think so.. We should wait for 2 to 3 days.. Because at this moment everyone is alert

(خیر میرا نہیں خیال ایسا کرنا چاہئے.. ہمیں 2 سے 3 دن انتظار کرنا چاہئے .. کیوں کہ اس وقت ہر شخص چوکس ہے)

جیک نے ضوریز کی طرف دیکھ کر کہا۔ ۔

Yes jack you are right.. As I know better what to do & when to do!

(ہاں جیک تم ٹھیک کہ رہے ہو۔۔جیسا کے میں بہتر جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ ۔۔!)

آخری بات کو ضوریز نے ٹائیگر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ ۔ بظاہر تو ٹائیگر نے ہمیشہ ضوریز کا ساتھ دیا تھا لیکن ضوریز کو ٹائیگر شروع سے ہی کچھ خاص پسند نہ تھا۔ ۔۔ اس کی نسبت وہ جیک کو زیادہ اہمیت دیتا تھا جیک نے ضوریز کو بہت دل لگا کر ٹرین کیا تھا۔ ۔ جیک کا پاکستان آنے کا مقصد ہی یہ تھا کے وہ ٹائیگر کے اُلٹے مشوروں سے ضوریز کو بچا سکے۔ ۔۔

تمہیں تو شاید میری کوئی بات پسند ہی نہیں آتی۔ ۔ یہ مت بھولو اس پورے گینگ میں صرف میں ہی ہوں جو تمہارا خیر خواہ ہوں تمہاری طرح پاکستانی ہوں۔ ۔

ٹائیگر نے تھوڑی اونچی آواز میں کہا

ہنہ زہر لگتے ہیں مجھے پاکستانی ۔۔۔ اپنے فائدے کے لیئے کسی کو بھی بیچ دیتے ہیں اس لیئے میں تم پر بھی اعتبار نہیں کر سکتا۔ ۔!

ضوریز نے غصے سے جواب دیا اور بچی ہوئی سگریٹ کو اپنے پاوں میں روندھتا ہوا اندر کی طرف چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یار اتنے مزے کا کھانا کیوں بناتی ہوں تم دل کرتا ہے ان ہاتھوں کو چوم لوں۔ ۔۔

صہیب نےپہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی جنت کے ہاتھوں کو تھاما

اچھا بس اوورایکٹینگ مت کرو پہلے پورا چمچ کھا لو۔ ۔۔ چاول بھی کچے رہہ گئے اور نمک بھی زیادہ ہو گیا۔ ۔ پتا نہیں کس قسم کے چاول تھے ٹھیک سے پکے ہی نہیں۔۔۔

جنت نے منہ بنا کر کہا

امممم واقعی میں نے کچھ زیادہ جلدی تعریف کر دی

صہیب نے بہت مشکل سے چاول نگلے۔۔

آممم مگر پھر بھی میں تمہارے ہاتھ چوموں گا آخر اتنی بری بریانی بھی ہر کوئی نہیں بنا سکتا۔ ۔

صہیب نے جنت کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا۔

یار مجھ سے نہیں کھائی جا رہی۔۔۔

جنت نے منہ بنا کر کہا

اچھا چلو باہر چلتے ہیں یہ رکھ لو رات میں دیکھ لینا اگر کچھ حل ہو اسکا۔۔۔۔

صہیب اپنی جگہ سے اُٹھا

جلدی کرو جنت آکر سمیٹ لینا یہ سب فل حال بس ڈھک کر رکھ دو ۔۔۔

صہیب نے جنت کا ہاتھ پکڑا اور جلدی جلدی جوتے پہنا کر باہر لے گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صہیب لان میں بیٹھا اپنی اوفس کی کار کا انتظار کر رہا تھا۔ ۔

ضوریز کو اپنے کمرے میں گھبراہٹ ہوئی تو وہ بھی باہر لان میں آیا اور اُسی بینچ کی پچھلی طرف بیٹھ گیا ۔ ۔ دونوں کی ایک دوسرے کی طرف پیٹھ تھی ضوریز نے سگریٹ نکالی اور پینے لگا۔ ۔

صہیب کا فون بجنے لگا اس نے تھوڑا اٹھ کر اپنا فون جیب سے نکالا اور مسکرا کر یس کا بٹن دبایا

جی جانِ صہیب۔ ۔۔

کیا ہو گیا جنت بتایا تو تھا کے نکل رہا ہوں یار کیا کروں اوفس کی کار کا محتاج ہوں ویٹ کر رہا ہوں ڈرائیور نہیں آیا اب تک۔۔۔

ضوریز نہ چاہتے ہوئے بھی صہیب کی باتیں سننے لگا

ہاں میری جان بتا دیا ہے باس کو مری جانے کا انہوں نے کہا ہے جاو ہنی مون مناو وہ زیادہ ضروری ہے۔ ۔۔

ضوریز اندازہ لگانے لگا کے یقینً دوسری طرف اسکی بیوی ہے۔۔

اچھا سنو میرا دل کر رہا ہے تم ریڈ ساڑھی پہنو۔ ۔ اور ہاں ساتھ میں ریڈ لپ سٹک بھی لگانا مجھے بہت پیاری لگتی ہو ریڈ کلر میں۔ ۔

صہیب نے آنکھیں بند کیں جیسے وہ بند نظروں سے جنت کو دیکھ رہا ہو۔ ۔۔

جنت بچوں جیسی باتیں نہیں کرو جو کہہ رہا ہوں وہ کرو میری جان ۔۔

ضوریز نے دونوں کی محبت بھری باتیں سنی تو ہلکی سی اپنے ہونٹوں کو زحمت دی اور مسکرا دیا ایک پل کو اسکا دل کیا وہ مڑ کر دیکھے کے کوئی کسی سے اتنی محبت سے بات کرتا ہوا کیسا لگتا ہے

اچھا جنت فون رکھو گاڑی آ گئی ہے میرے آنے سے پہلے تیار رہنا ۔۔ لو یو بائے۔۔۔

صہیب نے فون بند کیا اور اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر وہاں سے اٹھ گیا

ضوریز نے مڑ کر دیکھا مگر صہیب جب تک گاڑی میں بیٹھ چکا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مری کی خوبصورت وادیوں میں گھومتے ہوئے جنت بہت خوش تھی۔ ۔

صہیب کتنا حسین ہے یہ سب۔ ۔۔ اففف دل کر رہا ہے میں گول گول چکر لگاوں اس وادی میں۔ ۔۔

جنت نے اپنے چاروں طرف پھیلے اونچے درختوں کو دیکھ کر کہا

ہاں تو گُھوموں نا منع کس نے کیا ہے جو دل کرتا ہے کرو۔ ۔ میں ہو نا تمہارے ساتھ۔۔

سچ۔۔۔ اچھا آپ دیکھنا کوئی یہاں آئے تو بتانا ۔۔

جنت اجازت ملنے پر خوشی خوشی اپنے دونوں ہاتھ پھلائے آنکھیں بند کر کے گُھومنے لگی صہیب جنت کو دیکھتا رہ گیا۔ ۔۔۔ پھر اپنا فون نکال کر اس کی ویڈیو بنانے لگا۔ ۔۔

جنت نے آنکھیں کھول صہیب کو دیکھا اور وہ کِھل کِھلا کر ہنس پڑی جنت کی یہ خوبصورت ہنسی موبائل کے کمرے میں قید ہوگئی صہیب نے بے اختیار ہو کر جنت کو اپنے گلے لگایا

آئی لو یو سو مچ جنت۔ ۔۔ عشق کرتا ہوں تم سے۔ ۔۔

آئی لو یو ٹو ۔۔۔آپ سے بھی زیادہ عشق کرتی ہوں میں آپ سے۔۔۔۔

جنت نے صہیب کے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا

سچ چ چ۔ ۔۔؟

صہیب نے جنت کو تھوڑا سا خود سے الگ کیا اور اسکا چہرہ اُٹھا کر پوچھا

جی۔ ۔ سو فیصد سچ۔ ۔!

جنت نے صہیب کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

اتنے میں جنت نے اپنے سامنے آتی فیملی کو دیکھا تو صہیب سے دور ہو گئی

اچھا اب کہیں اور چلیں یہاں تو لوگ آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ۔

ہاہاہا تو کیا پورا مری تم نے خرید لیا ہے وہ بچارے آئیں گے ہی انہوں نے بھی تو گھومنا ہے۔۔۔

صہیب نے جنت کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا

تو کیا آپ میرے لیئے مری نہیں خرید سکتے؟ ؟ ویسے آپ نے تو کہا تھا ہم یہاں پی سی میں رہیں گے بہت خوبصورت ہے وہ مگر آپ نے پی سی دیکھایا تک نہیں۔ ۔۔

جنت کو صہیب کی بات یاد آئی تو فوراً گِلا کیا

میری جان دیکھا تو میں دونگا مگر وہاں رہ نہیں سکتے کیونکے بہت مہنگا ہے پھر بجٹ کا مسئلہ ہو گا مگر میرا وعدہ ہے جب دوبارہ آئے تو پی سی میں رہیں گے۔ ۔ خوش؟

صہیب نے جنت ہاتھ کو زور سے دبا کر کہا

ہمم ٹھیک ہے بس یاد رکھنا اپنا فائدہ۔۔۔

اچھا چلو اب مال روڈ چلتے ہیں کوئی شوپنگ کرنی ہو وہاں سے کر لینا۔۔۔

دونوں اپنی باتیں کرتے ہوئے پیدل چلنے لگے۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل شام کو دوسرے آدمی کا بھی کام ہو جائے گا اب آپ مارک کو بتا دیں میں یہاں زیادہ دیر رکنا نہیں چاہتا تیسرے آدمی کا بتا دے ابھی کام ختم کر دوں یا پھر میں دوبارہ آ جاوں گا۔ ۔۔

ضوریز نے سگریٹ جلائی

ہمم میں نے کہا تھا مارک سے اس نے کہا ہے بار بار آنا جانا ٹھیک نہیں کیونکے تیسرا آدمی کوئی عام آدمی نہیں۔ ۔۔ اسکی موت پر یہاں بہت حالات خراب ہو سکتے ہیں اس لیئے ہمیں یہیں رہنا ہو گا کم سے کم دو مہینے رہنا ہوگا۔ ۔۔ ورنہ یہاں کی ایجنسی کو ہم پر شک بھی ہو سکتا ہے۔ ۔۔

ٹائیگر نے ضوریز کو سمجھایا

اففف کیا مصیبت ہے۔ ۔۔ میں مارک سے خود بات کرتا ہوں۔۔۔

ضوریز کو ٹائیگر کی بات پر کچھ خاص یقین نہیں آیا اس نے اُکتا کر کہا

ضوریز تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہارا دشمن ہوں۔ ۔۔ میں نے ہمیشہ تمہارے لیئے مارک سے بات کی ہے جبکے وہ اپنی مرضی کے آگے کسی کی نہیں سنتا مگر میں نے تمہارے لیئے اسکے سامنے بار بار اپنی انسلٹ کروائی ہے اگر تمہیں یقین نہیں تو کر لو خود بات۔ ۔

ٹائیگر ناراض ہوا

ایسی بات نہیں ہے بس اس ملک میں عجیب وحشت سی ہوتی ہے ۔۔

ضوریز نے سگریٹ کا کش لیا

جانتا ہوں میں بھی یہیں پیدا ہوا تھا جب پہلی بار میں یہاں آیا تھا مجھے بھی ایسا لگتا تھا جیسے کوئی میرا اپنا مجھے مل جائے گا کوئی مجھے پہچان لے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا میں نے اپنا کام ختم کیا اور واپس چلا گیا۔ ۔ اس کے بعد عادت ہوگئی۔ ۔ اب تو میں پورا پاکستان گھوم چکا ہوں ویسے تمہیں درخت پسند ہیں نہ میں تو کہوں گا جب تک تیسرا آدمی یہاں نہیں آجاتا تم یہاں کی خوبصورت جگہ دیکھ لو۔ ۔ پاس ہی مری ہے اور کشمیر تو بہت ہی خوبصورت ہے تم لندن بھول جاو گے۔ ۔

ٹائیگر نے بہت چلاکی سے ضوریز کا دیہان کسی اور طرف کر دیا

نہیں مجھے یہاں کی جگہ دیکھنے کا شوق نہیں خیر فل حال میں کل کی تیاری کر لوں۔۔

ضوریز نے سگریٹ بجھائی اور وہاں سے چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنی جلدی دو دن گزر گئے۔۔۔ دل ہی نہیں کر رہا واپس جانے کو۔ ۔

جنت نے اداسی سے کہا

دونوں اس وقت جیپ میں بیٹھے واپس جا رہے تھے

ہاں یار دل تو میرا بھی نہیں کر رہا مگر ان شاءاللہ اگلی بار زیادہ چھٹی لے کر آونگا تم اداس مت ہو۔۔۔

صہیب نے جنت کی اداسی دیکھی تو اس کے قریب ہو کر اسکا سر اپنے کندھے پر رکھا

ہمم ان شاءاللہ۔ ۔۔ ۔ صہیب نیچے دیکھو ایسا لگ رہا بس درخت ہی درخت ہیں یہاں اور کتنے حسین بادل ہیں۔۔

جنت نے اپنے ہاتھ سے اشارا کیا

صہیب نے اپنا سر جھکا کر پہلے نیچے دیکھا اور پھر بادلوں کو دیکھا

ہاں جنت ۔۔۔ بلکل جنت کا نظارا لگ رہا ہے۔۔۔

صہیب نے جنت کو اپنی نظروں کے حسار میں لے کر بولا

اچھا کونسی والی جنت کی بات کر رہے ہیں۔۔۔

جنت نے شرارت سے پوچھا

میری بس ایک ہی جنت ہے فل حال وہ ہو تم۔ ۔۔

صہیب نے جنت کے کان میں کہا اور اسکا گال چوم لیا

صہیب ۔۔۔ شرم کرو خبردار اب ایسی حرکت کی۔۔

جنت کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا اس نے ڈرائیور کودیکھا اور شکر کا سانس لیا۔۔

اوفففف ایک تو تم اتنی ادائیں دیکھاتی ہو جب میں بچارا بہکنے لگتا ہوں تو اسطرح غصہ کرتی ہو۔ ۔ چلو دور ہو کر بیٹھو مجھ سے ورنہ اسطرح کی بدتمیزیاں ہوتی رہیں گی مجھ سے۔ ۔۔

صہیب نے جنت کو خود سے تھوڑا سا دور کیا اور جنت صہیب کو دیکھ کر مسکرا دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری جان اٹھ جاو میں لیٹ ہو رہا ہوں یار آج کانفرنس ہے پلیززز ڈئیر۔۔۔

صہیب نے ایک بار پھر جنت کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا

اففف صہیب اتنی تھکاوٹ ہو رہی ہے آج اوف کر لیتے آپ ۔۔ ریدٹ کرتے۔ ۔۔۔

جنت نے اپنی جمائی روکی

میری جان تم جانتی ہو نہ میں چھٹی نہیں کر سکتا میں نے چائے بنا دی ہے بس اٹھ جاو شاباش میرے جانے کے بعد دل بھر کر آرام کرنا۔۔۔

صہیب نے جنت کو گود میں اٹھا کر کھڑا کیا

اچھا منہ تو دھو لو دو منٹ بس۔۔۔

جنت بھاگ کر واشروم چلی گئی اور منہ دھو کر باہر آ گئی

آج کتنے بجے واپس آئیں گے؟

جنت نے چائے پیتے ہوئے کہا

دیکھو آج کا ٹائم نہیں بتا سکتا دیر بھی ہو سکتی ہے ڈیپنڈ کرتا ہے کانفرنس کب ختم ہوتی ہے۔۔۔

صہیب نے جلدی جلدی چائے پیتے ہوئے کہا

ہمم اچھا میں تو بور ہو جاوں گی خیر کھانا گھر آ کر کھانا میں بنا کر رکھوں گی۔۔۔

اوکے بیگم صاحبہ اور کوئی حکم؟

صہیب نے اپنی چائے ختم کی اور اٹھ گیا

چلو مل لو مجھ سے باقی میرے جانے کے بعد پی لینا

صہیب نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر اسے گلے لگایا

صہیب ایسے کیسے مل رہے ہو اتنی جلدی جلدی میں

جنت نے ناراضگی سے کہا

کیا کروں لیٹ ہو رہا ہوں میری جان۔ ۔

صہیب نے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر جانے گا۔ ۔۔جبکے جنت منہ پھولا کر وہیں کھڑی رہی

اووو میرا بے بی ناراض ہو گیا۔۔۔

صہیب واپس آیا اور جنت کو زور سے گلے لگایا

ادھر دیکھو میرک طرف اچھا سوری تم سے زیادہ کچھ ضروری نہیں اگر تم یوں ناراض ہو گی میں جاونگا ہی نہیں۔۔۔

صہیب نے جنت کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا

ناراض نہیں ہوں مگر مل تو لیں ٹھیک سے آپ۔۔۔

اچھا جناب ٹھیک سے مل لیتا ہوں مگر پھر اعتراض مت کرنا ۔۔۔۔

صہیب نے شرارت سے جنت کے ہونٹوں کو چھو کر کہا

اففف ہووو یہ مطلب نہیں ہے میرا آپ جائیں اپنے کام پر ہر وقت انہی چکروں میں رہتے ہیں۔۔۔

جنت نے صہیب کا ہاتھ پکڑ کر باہر کا راستہ دیکھایا

ہاہاہا حد ہے ویسے خود ہی شکوے کرتی ہو اور پھر الزام بھی مجھ پر لگاتی ہو ظالم لڑکی ۔۔۔

صہیب نے مڑ کر جنت کو دیکھا

اچھا بس اب جائیں ۔۔۔

جنت صہیب کا ارادہ جان گئی تھی اس لیئے زبردستی اسے باہر کی طرف دھکیلا

مطلب پھر میں نہ ہی سمجھوں؟؟؟ ٹھیک ہے کبھی تم پر بھی یہ وقت آئے گا اور میں بھی اسی طرح تنگ کروں گا۔۔

صہیب نے منہ بنایا اور ایک نظر ڈال کر باہر نکلنے لگا۔۔ جنت نے صہیب کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔

اور اس کے پاس آ کر جلدی سے اس کے لب پر اپنے لب رکھے ۔۔۔

بس خوش فوراً ایموشنل ہو جاتے ہیں۔ ۔۔

جنت نے گھبرا کر آنکھیں جُھکائیں

ہممم Not bad۔ ۔ چلو آہستہ آہستہ یہ بھی سیکھا دونگا ٹھیک سے ۔ ۔

صہیب نےجنت کو گلے لگایا اور اسکا ماتھا چوم کر باہر نکل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز کتنی ہی دیر سے اس آدمی پر نظر جمائے بیٹھا تھا۔ ۔۔۔ ٹائیگر ضوریز سے تھوڑا دور بیٹھا جوس پینے میں مصروف تھا۔ ۔۔ وہ آدمی اپنے ساتھیوں سے ہاتھ ملا کر اٹھ گیا۔ ۔ ضوریز نے بھی اپنی سگریٹ بُجھائی اور کھڑا ہوا ۔۔ تھوڑا فاصلہ رکھ کر ضوریز اس آدمی کا پیچھا کرنے لگا۔ ۔۔

اوہ آیم سو سوری۔ ۔۔

ایک دم ضوریز کسی سے ٹکرایا تو سامنے والے نے ضوریز سے سوری کی مگر ضوریز کا سارا دیہان اس آدمی پر تھا

اٹس اوکے۔۔۔

ضوریز نے اسے دیکھے بنا جواب دیا

ٹکرانے والا کوئی اور نہیں صہیب تھا ۔۔ صہیب نے چونک کر ضوریز کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ ۔ مگر ضوریز اسکی طرف توجہ دیئے بغیر آگے بڑھ گیا۔ ۔۔

یہ۔ ۔۔ یہ کہیں زوہیب تو نہیں اوہ خدایا مجھے دیکھنا چاہیئے۔ ۔۔

صہیب نے خود سے کہا اور ضوریز کے پیچھے چلنے لگا۔ ۔

ٹائیگر جو صہیب کو ہی دیکھ رہا تھا فوراً الرٹ ہوا اپنی گن کو ہاتھ لگاتا ہوا وہ بھی ان دونوں کا خاموشی سے پیچھا کرنے لگا۔۔۔

وہ آدمی واشروم کی طرف گیا ضوریز بھی اسکے پیچھے اندر آ گیا ۔۔۔ یہ ضوریز کی خوش قسمتی تھی کے واشروم میں اس وقت اور کوئی نہیں تھا ضوریز نے ریلکس ہو کر ایک نظر میں آس پاس کا جائزہ لیا ۔۔ جیسے ہی اس آدمی نے واشروم کا لوک کھولا ضوریز نے اسکے باہر نکلنے سے پہلے ہی اسے گردن سے پکڑ لیا۔۔۔

صہیب کی نظروں سے ضوریز غائب ہوا تو وہ کچھ سوچتے ہوئے واشروم کی طرف گیا اور اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔ ارد گرد بنے واشروم کو دیکھنے لگا ضوریز کو محسوس ہوا کے کوئی اندر آیا ہے اس نے جلدی سے اس آدمی کا سانس روکا اور ایک جھٹکے میں اس آدمی کو دوسری دنیا میں پہنچا دیا۔۔۔

صہیب جیسے ہی آخری واشروم کی طرف گیا تو ضوریز اپنا چاقو ہاتھ میں لیئے باہر آیا۔ ۔ صہیب کی آنکھیں ضوریز کو اسطرح دیکھ کر پھٹی رہہ گئیں۔ ۔ اس نے نیچے گرے ہوئے آدمی کو دیکھا تو گھبرا گیا۔ ۔۔

اتنی ہی دیر میں ٹائیگر اندر آیا اور واشروم کے دروازے کی کُنڈی لگا کر صہیب کی طرف گن کی۔ ۔

صہیب پریشان ہو کر گہرے سانس لینے لگا۔ ۔۔

ضوریز یک ٹک صہیب کو دیکھنے لگا۔ ۔۔

ز ز زوہیب ب ب مم میں تمم تمہارا بھ بھائی صہیب ۔۔۔دیکھو۔ ۔ ہممم دونوں ایک جیسے ہیں ں ں۔ ۔۔

صہیب نے اٹک اٹک کر کہا

ٹائیگر نے صہیب کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے زور سے پکڑ لیا

صہیب پھٹی پھٹی آنکھوں سے ضوریز کو دیکھ رہا تھا۔ ۔۔

ضوریز کی بھی یہ ہی حالت تھی وہ بھی حیران پریشان ساصہیب کو دیکھنے لگا۔ ۔

ضوریز ہمیں یہاں سے چلنا چاہیئے اس سے پہلے کے کوئی یہاں آئے اسے بھی ختم کرنا ہوگا۔۔۔

ٹائیگر نے ضوریز سے کہا اور صہیب کا گلا دبانے لگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *