Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 08)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

ٹائیگر کو صہیب کا گلا دباتے دیکھ کر ضوریز کو ہوش آیا جبکے صہیب تڑپ کر ضوریز کو دیکھتا ہے۔ ۔۔ ضوریز نے لمحے ضائع کیئے بغیر ہی صہیب کو ٹائیگر سے چھوڑوایا۔ ۔۔

یہ کیا کر رہے ہو ضوریز یہ بکواس کر رہا ہے اور سوچو اس نے ہمیں قتل کرتے دیکھ لیا ہے اسے زندہ چھوڑنا ٹھیک نہیں۔ ۔۔

ٹائیگر کسی صورت صہیب کو زندہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا مگر ضوریز کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے۔ ۔

صہیب گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے لگا

نہیں تم ضوریز نہیں زوہیب ہو۔ ۔۔ یہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے تم میرے جُڑواں بھائی ہو تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا میں نے۔ ۔ مگرررر تم ایک قاتل۔ ۔۔ اففف مجھے یقین نہیں آ رہا۔ ۔

صہیب بے یقینی سے بولا

ضوریز ابھی تک شوک میں کھڑا غور غور سے صہیب کو دیکھ رہا تھا ایک ایک نقش اس کا یہ گواہی دے رہا تھا کے وہ اس کا بھائی ہے مگر اس کے باوجود وہ اس کے لیئے کوئی ہمدردی محسوس نہیں کرتا۔ ۔۔

ضوریز کیا سوچ رہے ہو جلدی کرو یہاں کسی بھی وقت کوئی بھی آ سکتا ہے۔ ۔۔

ٹائیگر نے بے چینی سے کہا

آں ہاں ۔۔۔ یی یہ میرا بھ بھا۔ ۔۔

واشروم کا دروازہ نوک ہوا۔ ۔۔

اوہ نو دیکھا۔ ۔ جلدی کرو۔ ۔

ٹائیگر نے سب سے پہلے صہیب کو پکڑ کر اسکی قمر پر گن رکھی

خبردار ایک لفظ مت نکالنا ورنہ۔ ۔۔ جیسا کہیں ویسا کرنا۔ ۔۔

ٹائیگر نے صہیب کے کان میں کہا

او بھائی یہ دروازہ کیوں لوک کر دیا اندر سے کون ہے۔ ۔۔ لگتا ہے سکیورٹی کو بلوانا پڑے گا۔ ۔

باہر کھڑے آدمی نے چلا کر بولا

شیشش۔ ۔ اسے جانے دیں پھر ہم نکلتے ہیں یہاں سے

چند سکینڈ بعد ضوریز اور ٹائیگر نے اپنے چہرے پر نقاب چڑھائے۔ ۔۔ضوریز نے احتیاط سے دروازہ کھولا جبکے ٹائیگر صہیب کو پکڑ کر ضوریز کے پیچھے باہر آیا صہیب کو کچھ سمجھ نہیں آتی وہ کیا کرے۔ ۔۔ وہ دونوں صہیب کو لیئے ایک خُفیہ راستے سے کسی روم میں چلے گئے۔ ۔ ٹائیگر نے جیک کو بھی میسج کر کے بلا لیا ۔۔ ٹائیگر اور جیک نے مل کر صہیب کو روم میں باندھ دیا۔ ۔۔

زوہیب یہ کیا کر رہے تم۔ ۔ میں تمہارا بھائی ہوں آخر تم میری بات کیوں نہیں سن رہے۔ ۔۔

صہیب پریشان ہو کر بولا

شٹ اپ۔ ۔ اسکا منہ باندھنا پڑے گا۔۔۔

ٹائیگر نے صہیب کا منہ باندھ دیا

ضوریز گھبرا کر ٹیرس پر چلا گیا

ضوریز میں بتاتا ہوں تمہیں سچ۔ ۔۔ یہ تمہارا بھائی ہے مگررر۔ ۔ تم دونوں ایک ہی دن پیدا ہوئے اس لیئے تمہارے ماں باپ نے غربت سے جان چھوڑانے کے لیئے اسے اپنے پاس رکھ لیا اور تمہیں مارک کو بیچ دیا۔ ۔۔ اس ہی کی وجہ سے تم یہاں ہو۔ ۔۔ ایک جیسی شکل تھی تو تمہاری ماں نے سوچا ہو گا دو کا کیا کرنا اس لیئے تمہیں بیچ دیا۔ ۔۔

ٹائیگر نے جلدی جلدی ایک جھوٹی کہانی بنائی

شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔ ۔۔۔ میرا دماغ مت خراب کرو ٹائیگر۔ ۔ میں بہت غصے میں ہوں کہیں تمہیں۔ ۔

ضوریز غصے سے چلایا

کول ڈاون ضوریز اچھا ٹھیک ایک حل ہے میرے پاس۔ ۔ چونکے اب اس نے ہمیں قتل کرتے دیکھ لیا ہے ہم اسے ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔ ۔ اسے تھوڑے دنوں کے لیئے اپنے پاس رکھنا ہو گا۔ ۔ جب ہم اپنے سارے کام ختم کر لیں گے اور واپس چلے جائیں گے تو اسے چھوڑ دیں گے ایک بار یہاں سے چلے گئے تو کسی کا باپ بھی ہمیں نہیں پکڑ سکے گا۔ ۔۔ ہممم تم بس نیچے جاو دیکھو کیا ہو رہا ہے میں اسے پیچھے کے راستے سے کہیں اور لے جاتا ہوں۔ ۔۔ ٹھیک ہے۔۔

ٹائیگر نے پیار سے ضوریز کو سمجھایا

ہممم ٹھیک ہے مگر سنو۔ ۔ اسے مارنا مت۔ ۔۔ میں نیچے جاتا ہوں تم اور جیک سنبھال لینا اسے۔ ۔

ٹائیگر نے اندر آکر جیک کو سب بتایا جیک کو بھی یہ ہی مناسب لگا۔ ۔ ضوریز نے ایک نظر صہیب کو دیکھا جو ضوریز کو ایک امید سے دیکھ رہا تھا مگر ضوریز نظریں چُرا کر باہر چلا گیا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہاں رہہ گئے صہیب ۔۔۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔ ۔۔ افففف فون کیوں نہیں اٹھا رہے۔ ۔۔

جنت بار بار صہیب کے نمبر پر کال ملا رہی تھی۔ ۔۔۔

کس سے کہوں یہاں تو میں کسی کو جانتی تک نہیں اور امی کو بتایا تو پریشان ہو جائیں گی۔ ۔۔ کیا پتا ابھی تک مصروف ہوں وہ مگر ایک بار بتا تو دیتے۔ ۔۔

وہ خود سے بولتی ہے

یا اللہ جلدی سے صہیب گھر آ جائیں۔۔۔

جنت دعائیں کرنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس مرڈر کے بعد کسی کو بھی اندر سے باہر اور باہر سے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی سب ہی اپنی اپنی جگہ حیران اور پریشان کھڑے تھے۔ ۔ پولیس نے ضوریز کی بھی تلاشی لی چونکے اس کا پاسپورٹ یہاں کا نہیں تھا تو پولیس نے اُسے عزت سے بیٹھا دیا۔ ۔ ٹائیگر اور جیک نے صہیب کو اسی ہوٹل میں میں بنے بکس مینٹ میں چھپا دیا اور خود بھی ضوریز کے پاس آ گئے۔ ۔۔

پولیس اپنی چھان بین کر کے لاش کو لے کر چلی گئی۔ ۔ اجازت ملتے ہی سب لوگ اپنے کمروں میں جانے لگے۔ ۔۔

آج تو بال بال بچے ہیں ضوریز۔ ۔۔ اگر پکڑے جاتے تو پتہ ہے کیا ہوتا۔ ۔ جیل جانے سے پہلے ہی مارک ہمیں مار دیتا۔ ۔۔

ٹائیگر نے ضوریز سے کہا۔ ۔

وہ لڑکا کہاں ہے؟

ضوریز نے ٹائیگر کی بات کو اگنور کیا

نیچے بیس مینٹ میں باندھ دیا ہے۔ ۔ نیند کا انجکشن بھی لگا دیا ہے ۔ ۔ کل اسے کہیں اور لے جائیں گے۔ ۔۔

ہممم مگر کب تک اسے اسطرح چھپا کر رکھیں گے۔ ۔۔ جب وہ گھر نہ پہنچا تو اس کے گھر والے پولیس کو رپورٹ کریں گے۔ ۔۔ اور ایک بار پھر پولیس یہاں آئے گی۔ ۔

ضوریز نے سوچتے ہوئے کہا

ہاں بات تو تمہاری ٹھیک ہے۔ ۔ ہوٹل کی انتظامیہ بھی بہت الرٹ ہو گئی ہے ہو سکتا ہے ایک دو دن میں یہ ہوٹل سے سب کو چیک اوٹ کروا دیں۔ ۔۔ اور کچھ دن کے لیئے ہمیں بھی کہیں شفٹ ہونا پڑے گا۔ ۔ مگر مسئلہ اس لڑکے کا ہے۔ ۔۔ اممم اگر اسکا مارک کو پتا لگا تو وہ ہمیں بھی نہیں چھوڑے گا۔ ۔

کسی فون کے بجنے کی آواز آنے لگی۔ ۔

یہ کس کا فون ہے۔ ۔

ضوریز نے پوچھا

اوہ یہ اُسی لڑکے کا ہے میں نے سب چیزیں اس کی جیب سے نکال لیں اس کا کارڈ بھی ہو سکتا ہے کام آئے۔ ۔

ٹائیگر نے فون نکال کر دیکھا

اسکی وائف کا ہے شاید۔ ۔۔ کتنی دیر سے بار بار فون کر رہی ہے۔ ۔ ایک کام کرو تم اسی لڑکے کی طرح اس لڑکی سے بات کرو اور کہو کے تم یہاں پھس گئے ہو جب موقع ملا تم خود گھر آ جاو گے اور اسے بولو کے وہ کسی کو نہ بتائے بس کچھ بھی ایسا بولو کے وہ لڑکی پولیس کے پاس نہ جائے۔۔۔

ہمممم

ضوریز نے فون کی سکرین پر نظر ڈالی جہاں jannat my life calling لکھا آ رہا تھا۔ ۔۔

اُس نے گہرا سانس لے کر فون اٹھایا

اوہ خدایا صہیب کہاں رہہ گئے ہو میں کب سے کال کر رہی ہوں کہاں ہو تم پلیز جلدی گھر آو مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔۔

ضوریز کو جنت کی بے چین سی آواز سنائی دی

آممم میں۔۔ جنت میں ابھی نہیں آ سکتا ۔۔۔ کک کچھ مسئلہ ہو گیا ہے تم م م پریشان مت ہو۔۔۔ ایکچولی یہاں کسی کا ایک قتل ہو گیا ہے تو اس لیئے یہاں سب کو بند کر دیا ہے کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں میں کچھ دن گھر نہیں آ سکوں گا تم پلیز پریشان مت ہو میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔

ضوریز نے بہت سنبھل کر بات کی

کیا۔۔۔۔ ایک اور قتل ہو گیا۔ ۔۔ یہ کیا ہو رہا وہاں نہیں صہیب مم میں نہیں رہہ سکتی یہاں اکیلے۔۔ میں تمہارے پاس آجاتی ہوں اور جب تم نے کچھ کیا نہیں تو تمہیں کیوں بند کیا ہے۔۔۔

ضوریز نے جنت کی بات سنی اور کہا

دیکھو۔۔۔ کوئی نہ اندر آ سکتا ہے نہ باہر۔۔۔ کہا نہ کچھ دنوں کی بات ہےاور پلیز مجھے بار بار فون مت کرنا ورنہ میرے لیئے مسئلہ ہوگا مجھ پر شک کریں گے بس تم میری بات غور سے سنو۔۔ میں کچھ دنوں تک خود تمہارے پاس آونگا ۔۔۔ تمہیں بلکل پریشان نہیں ہونا اوکے؟

ضوریز نے بہت مشکل سے اپنے لہجے کو نرم کیا

صہیب مجھے تمہاری کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی۔۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔ پلیززز جلدی آ جانا میں انتظار کر رہی ہوں مجھے اکیلے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔

ضوریز کو محسوس ہوا کے جنت رو رہی ہے

اچھا ٹھیک ہے میں جلدی آونگا تم ریلکس رہو۔۔

ضوریز نے فون بند کیا

اب کیا کرنا ہے۔۔۔

ٹائیگر نے ضوریز کو دیکھ کر پوچھا

بس کچھ دن تک چھوڑ دینا اسے ۔۔۔

کچھ دن تک کیسے چھوڑ سکتے ہیں چاہے وہ تمہارا بھائی ہے مگر مجھے یقین ہے وہ پولیس کے پاس جائے گا۔۔۔ فل حال جب تک ہم پاکستان میں ہیں اسے چھوڑنے کا رزک نہیں لے سکتے۔۔ یہ تم اسکا فون اپنے پاس رکھو۔۔ اور اگر اس لڑکی کی دوبارا کال آئے تو یوں ہی ٹالتے رہو۔۔۔

ٹائیگر نے صہیب کا فون اُسے دیا

ہممم ۔۔ اب میں سونا چاہتا ہوں۔۔

ضوریز نے تھکے ہوئے انداز سے کہا

اوکے گُڈ نائیٹ۔۔۔

ٹائیگر ضوریزکے روم سے چلا گیا اور ضوریز نے تھک کر اپنی آنکھیں بند کیں۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُففف کیا کروں ماموں کو بتاوں یا ابو کو۔۔ نہیں وہ لوگ بہت پریشان ہو جائیں گے۔۔۔ ٹھیک ہے ایک دو دن انتظار کر لیتی ہوں صہیب کا۔۔۔ مگر اللہ نہ کرے اسے کچھ ہو گیا۔۔ نہیں وہ ٹھیک ہے اس نے خود بتایا ہے مجھے۔۔ یا اللہ میری مدد کر۔۔۔ پلیز جلدی سے صہیب خریت سے گھر آجائیں۔۔

جنت نے پریشانی سے پوری رات خود کو تسلیاں دیتی رہی۔۔

صبح ہوتے ہی جنت نے دوبارا سے صہیب کو کل کی۔۔۔

مگر دوسری طرف سے فون بند تھا

اففف اس نے فون کیوں بند کر دیا۔۔ اب اگر ماموں نے پوچھا تو کیا کہوں گی۔۔ صہیب کس امتحان میں ڈال دیا۔۔

جنت اپنا سر گھٹنوں پر رکھے رونے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Where is that man? (وہ آدمی کہاں ہے؟ )

ضوریز نے جیک سے پوچھا

He is safe.. We took him to other place !

(وہ محفوظ ہے ہم اُسے کسی اور جگہ لے گئے تھے)

جیک نے مختصر بتایا۔ ۔

I am very confused jack.. I don’t know what’s going on..

(میں بہت اُلجھن میں ہوں جیک۔ ۔ سمجھ نہیں آ رہا کے ہو کیا رہا ہے۔ ۔)

ضوریز نے پریشانی سے اپنے بالوں کو نوچا

Don’t worry zoraiz everything will be fine.. I think tigger is right at this time.. We must keep that boy for some days…

(پریشان مت ہو ضوریز سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ۔ میرے خیال سے ٹائیگر اس بار صیح ہے۔۔ ہمیں لازمی اس لڑکے کو کچھ دن کے لیئے اپنے پاس رکھنا چاہیئے)

Okay but his wife is calling him again & again.. What should I say to her ..

(اوکے مگر اس کی بیوی بار بار کال کر رہی ہے اُسے ۔۔ میں کیا کہوں اس کو۔ ۔)

Oh man don’t worry u both are identical twins.. She would not recognize you.. I mean u can pretend like that guy infront of her.. Just make her fool..!

(اوہ یار پریشان مت ہو تم دونوں ایک سے ہو۔ ۔ وہ لڑکی تمہیں پہچان نہیں پائے گی میرا مطلب ہے تم اس کے سامنے اس لڑکے جیسے بن جاو اس لڑکی کو بیوقوف بناو)

Oh jack u just took words from my mouth …I was also thinking the same !

(تم نے میرے منہ کی بات کہ دی جیک۔ ۔ میں بھی یہ ہی سوچ رہا تھا) ضوریز پریشان مت ہو یہ ہی حل ہے ویسے بھی یہاں کی انتظامیہ سب سے رومز خالی کروا رہی ہے۔ ۔ تم جب تک اس کی بیوی کو اسی طرح بہلاتے رہو۔ ۔ اگر زیادہ مسئلہ ہوا تو ایک چکر گھر لگا لینا اور میرا نہیں خیال وہ پہچان سکے گی ۔۔۔ تم دونوں کی شکل بلکل ایک سی ہے بس شیو کا فرق وہ تو ویسے بھی ایک دن میں آ جاتی ہے۔ ۔

ٹائیگر نے جلدی جلدی منصوبہ بنایا۔ ۔

ہممم ٹھیک ہے مگر اس لڑکے کو کچھ کہنا مت میرا مطلب ہے کے ہم اسے مارنے نہیں آئے تھے یہاں۔ ۔اسے زندہ رکھنا۔۔

ارے ڈونٹ وری ڈئیر میں خود اُسکا خیال رکھوں گا۔۔

ٹائیگر نے ضوریز کو تسلی دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پورا دن گزر گیا صہیب نے ایک بار بھی فون نہیں اٹھایا۔ ۔۔ کیا کروں مجھے ماموں کو بتانا چاہیئے۔ ۔۔

کچھ سوچ کر جنت نے بشیر کو فون کیا

ماموں مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں۔ ۔ صہیب نے صرف ایک بار بات کی ہے اور کہہ رہے تھے کسی کو نہ بتاوں کچھ دن تک وہ خود آ جائیں گے ۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔

جنت نے ساری بات بشیر کو بتائی

اوہ خدا خیر کرے بیٹا تم پریشان نہ ہو اگر صہیب نے کہا ہے وہ ٹھیک ہے تو وہ ٹھیک ہو گا تم بس دعا کرو میں بھی کوشیش کرتا ہوں چھٹی لے کر آ جاوں تمہارے پاس۔ ۔ اگر تمہاری مامی کو بتایا تو اُنکی طبعیت خراب ہو جائے گی ۔ ۔ تم بتاو تمہارے پاس کھانے کا سامان ہے نا پیسے ہیں کے نہیں؟

بشیر نے فکر مندی سے پوچھا

جی ماموں کل ہی واپسی پر ہم نے ساری سبزیاں اور چیزیں لی تھیں۔۔۔ کھانے کی تو سب ہے اور پیسے بھی ہیں۔ ۔ بس آپ میرے نمبر پر بیلنس بھیج دیں میں صہیب کو کال کرتی ہوں ایک بار پھر۔۔۔

ہاں بیٹا بس تم اس سے فون پر رابطہ رکھو سب ٹھیک ہو جائے گا اللہ بہتر کرے گا۔۔۔

اوکے ماموں نانو اور مامی کا خیال رکھئیے گا۔۔!

جنت نے روتے ہوئے فون بند کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا دن بھی جنت کا اسی پریشانی میں گزر گیا وہ ہر دس منٹ بعد صہیب کوفون اور یسج کرتی مگر صہیب کے نمبر سے صر ف دو بار جواب آیا کے وہ ٹھیک ہے اور جلد واپس آ جائے گا۔ ۔

ٹائیگر جیک اور ضوریز کسی اور ہوٹل میں شفٹ ہو گئے ۔۔ صہیب کو ٹائیگر نے ایک فلیٹ میں قید کرلیا جو آبادی سے تھوڑا ہٹ کر بنا تھا۔ ۔۔ وہ روز صہیب کو ایک وقت کا کھانا دیتا اور پھر نیند کا انجکشن لگا کر چلا جاتا ۔۔ ضوریز نے صہیب کے بارے میں کچھ پوچھا نہیں بس اسے تسلی تھی کے وہ زندہ ہے مگر کس حال میں ہے اس بات کی اسے پرواہ نہیں تھی۔ ۔۔ روز کی طرح جنت کی پھر سے کال آنے لگی ضوریز نے اکتا کر یس کا بٹن پریس کیا

ہیلو۔ ۔۔

صہیب ۔۔ کہاں ہو تم۔ ۔ میں ترس گئی ہوں تمہیں دیکھنے کو۔ ۔ چار دن ہو گئے ہیں اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہے پھر تم کہاں پھس گئے ہو۔ ۔ مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے اگر تم نہیں آئے تو میں خود اس ہوٹل میں آ جاونگی اب مجھے کچھ نہیں سننا۔۔!

جنت ہچکیاں لے کر رونے لگی وہ اتنی شدت سے روئی کے ضوریز بھی گھبرا گیا

پل پلیززز don’t cry۔ ۔ اممم اچھا میں کل آ جاونگا بس پلیز اب رو مت اور تم باہر مت نکلنا میں خود آجاونگا اور اب مجھے بار بار فون مت کرو۔ ۔ ٹیک کیئر۔۔!

ضوریز نے جنت کی بات سنے بغیر فون بند کیا اور سوچ میں پڑ گیا۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا خیال ہے اُس لڑکے کو چھوڑ دو ورنہ اسکی بیوی ہوٹل چلی جائے گی اور اسے سب پتا لگ جائے گا۔ ۔!

ضوریز نے ٹائیگر سے کہا

تم پاگل ہو ضوریز۔ ۔ اُس لڑکے کو چھوڑنے کا مطلب ہے اپنے لیئے خود مصیبتوں کو دعوت دینا۔ ۔۔ جتنا شریف وہ لڑکا ہے نہ وہ جاتے ساتھ ہی پولیس کو بتائے گا کے وہ قتل ہم نے کیئے ہیں۔ ۔ پھر یہ بات مارک کو پتا لگے گی شاید یہاں کی پولیس سے بچ جائیں مگر مارک ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ ۔۔ وہ اپنے کام میں غلطی برداشت نہیں کرتا۔ ۔ میں نے تمہیں کہا بھی تھا یہ کام رات کے اندھیرے میں کرو مگر تم نے میری بات نہیں مانی۔ ۔۔اور اب پھر تم میری بات نہ مان کر غلطی کر رہے ہو۔ ۔۔

ٹائیگر نے ضوریز کو سمجھایا

تو کیا کروں۔ ۔۔ وہ لڑکی دن میں سو بار فون کرتی ہے۔ ۔۔ اس بار کہہ رہی تھی کی وہ خود ہوٹل آ جائے گی۔ ۔ وہ تو شکر ہے اس لڑکی کو یہاں کا زیادہ نہیں پتا اس لیئے آسانی سے بیوقوف بن رہی ہے مگر اب اسے بھی شک ہونے لگا ہے۔ ۔۔ بتاو کیا کروں میں۔ ۔

ضوریز نے ہاتھ کا مُکا بنا کر سامنے پڑی میز پر مارا

ریلکس مائی ڈئیر۔ ۔۔ دیکھو کل تم چلے جاو اُس لڑکے کی جگہ۔ ۔۔ تم دونوں بلکل ایک سے لگتے ہو۔ ۔ اگر تم دونوں ایک ساتھ میرے سامنے نہ آتے تو یقینً میں بھی دھوکہ کھا جاتا۔ ۔بس ایک دو دن کی بات ہے پھر دیکھتے ہیں آگے کیا کرنا ہے۔ ۔

ٹائیگر نے ضوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی

تم سمجھ نہیں رہے ہو ٹائیگر میں اس لڑکی کا شوہر بن کر وہاں جاوں اس کے ساتھ رہوں۔ ۔۔ یہ بہت غلط ہے میرا دل نہیں مان رہا۔ ۔

ضوریز کو کسی لڑکی کے ساتھ رہنے کا سوچ کر ہی الجھن سی محسوس ہو رہی تھی وہ شروع سے ہی اکیلا رہنے کا عادی تھا۔ ۔

اوہ۔ ۔ ضوریز تم اتنے reserve کیوں ہو.. اچھا ہے اس لڑکی کے ساتھ رہو مزے کرو۔ ۔۔

ٹائیگر نے آنکھ مار کر کہا

اپنی بکواس بند کرو۔ ۔۔ ٹھیک ہے میں ایک دو دن کر لیتا ہوں مگر اس مسئلے کا حل نکالنا ہو گا جلد ہی۔۔۔

ضوریز کو ٹائیگر کی مزے لینے والی بات پر شدید غصہ آیا تھا مگر وہ پی گیا

ہممم مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی آخر اس لڑکے کو مار کیوں نہیں دیتے کہاں تو تم کہتے تھے تمہارے گھر کا کوئی بندہ نظر آیا تو تم اسے ختم کر دوگے۔ ۔ اب کیا ہمدردی محسوس ہو رہی ہے اس سے۔ ۔۔ یہ مت بھولو ضوریز تمہارے اسی جُڑواں بھائی کی وجہ سے ہی تمہارے ماں باپ نے تمہیں بیچ دیا تھا اور اب تم اس کے ساتھ اتنی رحم دلی کر رہے ہو میں ہوتا تو کب کا مار چکا ہوتا۔ ۔ ختم کرو اس کا قصہ اور اسکی بیوی کے ساتھ دو دن مزے کرو اور۔ ۔

ٹائیگر ضوریز کا برین واش کرنے لگا ضوریز نے اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسکے منہ پر مُکا مارا۔ ۔

میں نے کہا نا اپنی بکواس بند رکھو سمجھ نہیں آرہی۔ ۔۔ مجھے کسی سے کوئی ہمدردی نہیں میں اپنے اصولوں پر چلتا ہوں اسے مارنا نہ ہی میرے پلان میں ہے اور نہ ہی مجھے ضرورت ہےسمجھے اب اگر تم نے کوئی الٹی بات کی تو تمہیں مارنا میری مجبوری بن جائے گی۔ ۔۔ got it

ضوریز نے اسکا گربان ایک جھٹکے سے چھوڑا اور باہر نکل گیا

ہنہ تو اس لڑکے کے لیئے میرا گربان پکڑا مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔ ۔۔ اب نہیں چھوڑوں گا میں اُسے ضوریز اس لڑکے کا زندہ رہنا ویسے بھی ٹھیک نہیں۔ ۔۔

ٹائیگر کے دل میں صہیب کے لیئے نفرت جاگی وہ اپنے منہ سے نکلتا خون صاف کرنے لگا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jack why are u leaving so early…

(جیک تم اتنی جلدی کیوں جا رہے ہو۔ ۔)

ضوریز نے جیک کو سامان پیک کرتے دیکھا

I have to go zoraiz mark called me for some urgent work .. But don’t worry i will come again okay!

(مجھے جانا ہو گا ضوریز مارک نے کسی ضروری کام سے بلایا ہے مگر پریشان مت ہو میں دوبارا آجاونگا)

جیک نے ضوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔

ضوریز نے جیک کو ٹائیگرکی بات بتائی

Hmmm i think tigger is right at this time. U know mark is very possessive for his work he won’t accept any mistake so u should do as tigger said….

(ہمم میرے خیال سے ٹائیگر صیح کہ رہا ہے۔ ۔ تم جانتے ہو مارک اپنے کام کے لیئے بہت حساس ہے وہ کوئی غلطی نہیں مانے گا۔ ۔ اس لیئے جو ٹائیگر کہے وہی کرو)

جیک نے بھی ضوریز کو سمجھایا

Hmm ok fine have a safe flight take care!

(ہمم ٹھیک ہے خیریت سے جاو)

ضوریز نے جیک سے ہاتھ ملایا اور چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ہوتے ہی ضوریز صہیب کا فون ان لوک کر کے اس کی تصویریں دیکھنے لگا۔ ۔ پوری گیلری میں جنت کی تصوریں تھیں۔ ۔۔۔

ضوریز کو ایک ویڈیو نظر آئی اسے نے اوپن کی تو جنت ہاتھ پھلائے آنکھیں بند کیئے گول گول گھوم رہی تھی۔ ۔ اور پھر آنکھیں کھول کر ہنسنے لگی۔ ۔۔

ضوریز جنت کی خوبصورت ہسنی میں کھو گیا اس کے بھی لب خود بخود مسکرانے لگے۔ ۔ ویڈیو ختم ہونے پر وہ ایک دم ہوش میں آیا اور خود کو ملامت کرنے لگا۔ ۔۔ اس کا دل کیا وہ اپنے ماں باپ کو دیکھے مگر پھر اس کی ہمت نہیں ہوئی ایک عجیب سی نفرت اسے محسوس ہوئی

ہنہ۔ ۔ اگر آج میرے ماں باپ مجھے کسی کے ہاتھ بیچتے نہیں تو میں بھی شاید اس کی طرح خوش ہوتا۔ ۔۔

ضوریز نے نفرت سے سوچا اور موبائل رکھ کر سگریٹ پینے لگا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح ضوریز نے صہیب جیسا ڈریس پہنا اور تیار ہو گیا۔ ۔۔

واہ بلکل نہیں لگ رہا تم ضوریز ہو۔ ۔۔ بس یہ شیو بھی بنا لیتے تو بلکل ویسے لگو گے۔ ۔۔!

ٹائیگر نے ایک نظر ضوریز کو دیکھا

ضوریز نے کوئی جواب نہ دیا

خیر نہ بھی بناو پانچ دن میں اتنی شیو تو بڑھ ہی جاتی ہے ۔۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔ ۔!

ٹائیگر نے خود ہی اپنی بات کا جواب دیا

میں نے اسکے گھر کی لوکیشن دیکھ لی ہے میں جا رہا ہوں کوئی مسئلہ ہو بتا دینا۔ ۔

ضوریز نے کہا اور باہر چلا گیا

اوکے مائی ڈئیر آرام سے جاو اور آرام سے آو۔ ۔۔

ٹائیگر نے پیچھے سے زور سے کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صہیب آپ کہاں چلے گئے تھے مجھے لگا میں پوری دنیا میں اکیلی رہہ گئی ہوں ۔۔ میں نہیں رہہ سکتی آپ کے بنا آپ جانتے ہیں پھر کیوں کیا ایسا میرے ساتھ۔ ۔۔

جنت صہیب کے گلے لگے ہچکیوں سے رونے لگی یہ جانے بغیر کے وہ جس کے گلے سے لگی ہوئی یے وہ صہیب نہیں ضوریز ہے۔ ۔۔ ضوریز کو سمجھ نہیں آتا وہ کیسا react کرے۔ ۔۔ وہ اپنا ہاتھ کبھی گلے لگی جنت کے کندھے پر ریکھنے لگتا ہے مگر پھر ہٹا لیتا ہے۔ ۔۔

کیا ہوا صہیب مجھ سے مل کر آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟ ؟ اسطرح کیوں کھڑے ہیں۔ ۔ میں کتنے دن سے آپ کا انتظار کر رہی تھی کتنی دعائیں مانگی میں نے اللہ سے شکر ہے آپ بلکل ٹھیک ہیں۔ ۔

جنت نے ضوریز کے سینے سے اپنا سر اٹھا کر شکوہ کیا ۔ ۔۔

اممم نہیں مجھے خود یقین نہیں آرہا میں تمہارے پاس ہوں اس لیئے شاید۔ ۔۔ اممم بس حالات ایسے ہو گئے تھے کے میں تمہیں کچھ انفورم نہیں کر سکا۔ ۔۔

اس نے جنت کو خود سے الگ کیا

ابھی چھوڑیں ان باتوں کو میں یہ سب بعد میں پوچھوں گی ابھی آپ یہاں آئیں میں آپ کو جی بھر کر دیکھ تو لوں۔ ۔۔ کتنا ترس گئی میری آنکھیں آپ کو دیکھنے کے لیئے ۔۔ آپ نے مجھے مس کیا صہیب؟

وہ ضوریز کو صوفے پر بیٹھا کر خود اُسکا ہاتھ پکڑ کر سامنے بیٹھ گئی

ہاں میں نے بھی بہت مس کیا۔ ۔

جنت نے ضورکز کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگایا اور چومنے لگی۔ ۔۔

جنت میں بہت تھک گیا ہوں اور بھوک بھی لگی ہے تم کہہ رہی تھی میری پسند کا کھانا بنایا ہے۔ ۔۔ پہلے کھانا کھا لیتے ہیں۔۔۔۔

اِس پہلے کے جنت اس کے ہاتھ کو چومتی ضوریز نے گھبرا کر اپنا ہاتھ جنت کے ہاتھ سے چھوڑوایا ۔ ۔

ضوریز کو عجیب سا لگا تھا اُسکو جنت کا یوں اظہارِ محبت کرنا اب وہ اُسے بتا بھی نہیں سکتا تھا کے وہ صیہب نہیں ضوریز ہے۔ ۔۔

اچھا آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگاتی ہوں پھر آپ آرام کر لینا۔ ۔۔

جنت کو ضوریز کا رویہ کچھ عجیب لگتا ہے مگر وہ اپنا وحم سمجھ کر جھٹھکتی ہے۔ ۔۔

آپ روم میں جائیں میں کچن میں جارہی ہوں۔ ۔

روم ہے کہاں یہ بات ضوریز کو معلوم نہیں تھی۔ ۔

کچن میں بھی چلی جانا پہلے میرے ساتھ روم میں چلو اور اپنی مرضی کے کپڑے دو میں وہ پہنوں گا۔ ۔

واقعی آپ میری پسند کے کپڑے پہنیں گے۔ ۔ آپکو تو میرے چوائس پسند ہی نہیں۔ ۔

بس آج دل کر رہا تمہاری پسند کے پہنوں۔۔

اچھا بہت بدل کر آئیں ہیں۔ آپ۔ ۔۔ چلیں آئیں میں اپنی پسند کا ڈریس نکال کر دیتی ہوں۔ ۔

جنت نے ضوریز کا ہاتھ پکڑا اور روم کی طرف لے گئی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *