Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 04)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

ضوریز نے ایک نظر تصویر کو دیکھا اور پھر اُسی شخص کو سامنے سویمنگ پول میں دیکھا جو دو تین گوری لڑکیوں کے ساتھ سویمنگ کم اور مستیاں زیادہ کر رہا تھا۔ ۔۔ ضوریز ایک خالی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا اور اپنی شہد رنگ آنکھوں سے اُسے غور غور سے دیکھنے لگا۔۔۔

Hey robert I was looking for you…

(ہائے روبرٹ میں تمہیں ہی ڈھونڈ رہی تھی)

لوسی نے اس کے ساتھ چپک کر بیھتے ہوئے کہا

I am not interested in you!

(مجھے دلچسپی نہیں تم میں)

ضوریز نے اس کے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے کہا

But why look everyone is enjoying with girls ..

(مگر کیوں دیکھو سب لڑکیوں کے ساتھ مزے کر رہے ہیں)

لوسی نے دوبارہ ضوریز کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا

I told you I am not interested so stay away from me okay…

(میں نے بتایا نہ مجھے دلچسپی نہیں اس لیئے مجھ سے دور رہو اوکے)

ضوریز نے اپنے دانت پیستے ہوئے غصے سے کہا

Oh god..u r so rude man !

(اوہ خدایا تم بہت بدتمیز ہو)

لوسی کو حقیتًا ضوریز سے ڈر لگا وہ اس کے پاس سے اٹھ گئی۔۔

ضوریز دوبارہ سے اُسی آدمی کو دیکھنے لگا۔۔۔

اب وہ آدمی ٹاول سے اپنا جسم خشک کر کے شرٹ پہن رہا تھا۔ ۔۔ شرٹ پہن کر اُس نے ایک مڑکی کے کان میں کچھ کہا تو اس لڑکی مسکرا کر اپنا سر ہلایا اور وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوٹل کے اندر چلے گئے۔ ۔۔

ضوریز نے اپنا فون نکالا اور مائیکل کو میسج کیا اور اُٹھ کر اپنے روم میں آ گیا اپنی گن پینٹ کے اندر پھسائی جو کے مائیکل نے دی تھی اور ایک چھوٹا چاقو جیب میں چھپایا اور ہاتھوں میں گلوز پہنے اپنی ہوڈ پہنی اور ہوڈ کی کیپ کو سر سے آگے کر لیا۔ ۔۔ سکیورٹی کیمرے سے بچتا ہوا اُس آدمی کے روم کے پاس پہنچ کر چہرے کو کپڑے سے چُھپایا اور چاقو پھسا کر مہارت سے دروازے کا لوک توڑ دیا۔ ۔۔

آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو وہ آدمی اُسی لڑکی کے ساتھ لپٹا ہوا تھا۔ ۔ لڑکی نے جیسے ہی ضوریز کو دیکھا تو گھبرا چیخ مارنے لگی ضوریز نے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ ۔ اپنی گن نکال کر آدمی کی طرف کی۔ ۔۔

شیشش کوئی چلاکی نہیں۔ ۔۔

Hey girl .. don’t make any noise otherwise I will kill you..!

(لڑکی شور مت کرنا ورنہ میں تمہیں مار دونگا)

لڑکی کو دھمکی دی اور اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا۔۔ اُسے ایک طرف بیٹھنے کا اشارا کیا۔ ۔ وہ لڑکی ڈر کر کانپتے ہوئے ایک طرف بیٹھ گئی۔۔

دیکھوتم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں بہت بڑی غلطی کر رہے ہو تم۔۔

آدمی کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ضوریز نے پیچھے سے اسکی گردن پکڑی اور ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھا۔ ۔۔

شیش خاموش میں کبھی غلطی نہیں کرتا بٹ ایم سوری تمہاری زندگی اتنی ہی تھی گڈ بائے۔ ۔

ضوریز نے مخصوص جگہ سے اسکی گردن کو موڑا جو کے ایک ہی جھٹکے میں ٹوٹ گئی۔ ۔ اور مضبوطی سے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا یوں وہ بنا آواز کیئے اپنی زندگی ہار گیا۔۔ ضوریز نے ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا جو منہ پر ہاتھ رکھے اپنی چیخوں کو دبا رہی تھی ۔ ضوریز اُس کے قریب آیا ۔۔۔ وہ لڑکی ڈر کر کھڑی ہو گئی ضوریز نے سرد آنکھوں سے اُسے دیکھا۔ ۔

Don’t dare to tell anyone otherwise I will kill you too.. Got it??

(کسی کو بتانے کی جُرت کی تو تمہیں بھی مار دونگا)

اُس نے ہاتھ میں چاقو پکڑ کر آہستہ مگر سخت لہجے میں کہا۔۔۔

Yeah I swear I won’t tell to anybody please leave me I am begging you…

(ہاں میں قسم کھاتی ہوں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی پلیز مجھے چھوڑ دو میں تمہاری مِنت کرتی ہوں)

اُس لڑکی نے ضوریز کے آگے ہاتھ جوڑے۔ ۔۔

Okay move… go outside quietly ..

(اچھا خاموشی سے باہر جاو)

وہ لڑکی کانپتی ٹانگوں سے ضوریز کے آگے چلنے لگی کمرے سے باہر آ کر ضوریز نے اسے اپنی آنکھوں سے جانے کا اشارا کیا وہ لڑکی خاموشی سے لفٹ کے زریعے نیچے چلی گئی جبکے ضوریز emergency exitکے راستے سے ہوتا ہوا اپنے روم کی طرف چلا گیا۔ ۔ اپنے چہرے سے نکاب اتارا اور اپنی ہوڈ اتار کر اپنے روم میں بنی کھڑکی سے نیچے پھینک دی۔ ۔ موبائل نکال کر doneکا میسج کیا اور اپنا سامان سمیٹنے لگا۔ ۔۔

تھوڑی ہی دیر میں پولیس کی گاڑیوں کی آوازیں آنے لگیں ضوریز بہت ریلکس سے انداز میں نیچے چلا گیا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صہیب مجھے عجیب سا لگ رہا ہے یوں اکیکے شوپنگ پر آنا مامی کو ہی ساتھ لے آتے۔۔

جنت نے فکرمندی سے کہا

میری ہونے والی حسین بیگم پریشان نہ ہوں آپ کی ساس صاحبہ نے ہی کہا ہے کے شادی کا جوڑا ہم دونوں ایک ساتھ جا کر لیں میں نے بہت کہا تھا آ جائیں آپ بھی مگر کہنے لگیں مجھے گھر میں بہت کام ہیں۔۔۔

صہیب نے تفصیل بتائی

اچھا۔ ۔ ٹھیک ہے مگر ہم جا کہاں رہے ہیں مجھے تو آئیڈیا بھی نہیں ہے کیسا ڈریس لوں۔ ۔ اکیلے کیسے کروں گی فیصلہ۔۔۔

اکیلی کہاں ہو تم۔ ۔ کیا میں نظر نہیں آ رہا۔۔ حد ہو گئی میرے ہوتے ہوئے تمہیں کسی اور کی کیا ضرورت۔۔ ویسے بھی تمہاری شادی کا ڈریس میں اپنی پسند سے لونگا اور میرا تم ڈیسائیڈ کرو گی۔ ۔ اوکے۔۔!

صہیب نے جواب دیا

اچھا مگر تمہیں کیا پتا شادی پر کس طرح کے لہنگے چل رہے ہیں آج کل ۔۔ اور پتا نہیں کیسی choice ہے تمہاری۔ ۔

ہاں جی choice کا خوب کہا آپ نے آپ بھی میری ہی choice ہیں۔ ۔ خیر میں یہی گاڑی پارک کر رہا ہوں یہاں بہت اچھی شوپس ہیں ۔۔۔

صہیب نے گاڑی پارک کی پھر وہ دونوں بہت سی دکانوں میں گھومتے رہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم بہت اچھا کام کر رہے ہو ضوریز مارک تم سے بہت متاثر ہو رہا ہے۔۔۔ مجھے لگتا ہے بہت جلد اب تم میری جگہ ٹائیگر بن جاو گے۔۔۔

ٹائیگر نے ضوریز کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا

مجھے کسی کی جگہ لینے کا شوق نہیں مجھے اپنی جگہ بنانی ہے۔۔

ضوریز نے سرد لہجے میں کہا

آہا ہاں۔۔ یہ اچھی بات کی تم نے مگر اب دیکھو نا میں تو بوڑھا ہو رہا ہوں بہت جلد یہ لوگ مجھے ریٹائر کر دیں گے پھر تم ہی بنو گے اس گروپ کے ٹائیگر کیونکے تم سے زیادہ اچھی ٹرینگ کسی کی نہیں ہوئی۔۔ تم بہت شارپ ہو اپنے شکار کا بہت آسانی سے شکار کر لیتے ہو ہر کسی کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہوتی۔۔

ٹائیگر نے وائن کا گلاس بھرا

I know my abilities.. Anyways

(مجھے اپنی صلاحیتوں کا پتا ہے۔ ۔ خیر) میں کچھ دن کے لیئے ریلکس ہونا چاہتا ہوں I want some break

(مجھے تھوڑی چُھٹی چاہیئے)

Sure why not.. (بلکل کیوں نہیں)

تمہارے لیئے ایک اچھی سی رنگا رنگ تقریب کا انتظام کرتے ہیں مہمان تمہاری پسند کے بلائیں گے بتاو پاکستانی چاہیئے یا گوریاں۔ ۔

ٹائیگر نے آنکھ مار کر کہا

نہیں مجھے یہ سب نہیں چاہیئے میں کسی پرسکون جگہ جانا چاہتا ہوں کسی جنگل وغیرہ میں میرا دل جانوروں کا شکار کرنے کا کر رہا ہے۔۔۔۔

ضوریز نے اُکتا کر کہا

اوہ اچھا۔ ۔۔ ویسے ضوریز تم صیح پاکستانی ہو نہ شراب پیتے ہو نہ کسی لڑکی میں دلچسپی ہے جبکے تمہاری پوری زندگی یہیں گزری ہے ۔۔اپنی زندگی انجوئے کرو یار ۔۔۔

مجھے ان سب چیزوں کا شوق نہیں مجھے صرف شکار کرنے کا شوق ہے۔۔۔

ضوریز نے سگریٹ نکال کر جلائی

ہممم ٹھیک ہے اپنی مرضی کے مالک ہو تم ۔۔ میں مارک کو بتا دونگا تمہیں چھٹی چاہیئے تم چلے جانا جہاں بھی تمہارا دل کرے۔۔

ضوریز خاموشی سے سگریٹ پینے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ویسے آنسہ یہ بہت نا انصافی کی ہے تم نے۔ ۔۔ اپنی بہن کی بیٹی چھوڑ کر نند کی بیٹی کو بہو بنا لیا ۔۔۔ میرا دل نہیں تھا شادی پر آنے کو۔۔

آنسہ کی بہن آسیہ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا

آپا ایسا نہ کہیں آپ تو جانتی ہیں صہیب جنت کو بہت چاہتا ہے اور ہم بچوں کی مرضی کے خلاف شادی کیسے کر سکتے ہیں۔ ۔ اگر میرا دوسرا بیٹا ہوتا نہ تو میں تمہاری مانو کو اپنی بہو بناتی۔۔

آنسہ کو ایک بار پھر اپنے گم شُدہ بچے کی یاد آئی

اللہ جانے تمہارا وہ بچہ کہاں ہوگا۔ ۔ آنسہ صہیب مجھے بہت پیارا تھا مگر چلو خیر جہاں نصیب لکھا ہو

آسیہ نے بات ختم کرتے ہوئے کہا

ہاں آپا یہ تو نصیبوں کی بات ہے ۔۔ آپ دل چھوٹا نہ کریں اپنی مانو کو صہیب سے بہتر رشتہ ملے گا۔۔۔

بس کر آنسہ صہیب سے بہتر ہمارے پورے خاندان میں کوئی نہیں۔ ۔ یہ صہیب ہے کہاں ویسے ۔۔۔ جب سے ہم آئیں ہیں ہمارے پاس بیٹھا ہی نہیں۔ ۔

آسیہ نے گِلا کیا

آپا وہ اپنی تیاریوں میں مصروف ہے اکیلا بچہ ہے خود کر رہا ہے سارے کام۔ ۔ کل مہندی ہے اس لیئے آج مصروف ہے۔ ۔۔

اچھا چلو ہم تو بس محبت میں آ گئے مگر یہاں فرصت ہی نہیں۔ ۔ خیر میں مانو کو کہوں کل کی تیاری کر لے۔ ۔

آسیہ مایوسی سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا چھوٹے سے گھر کو مہندی کی مناسبت سے سجھایا ہوا تھا۔ ۔ صہیب ہلکے پیلے رنگ کے کُرتے اور سفید شلوار میں تیار کھڑا تھا گلے میں ہرا دوپٹہ پہنا تھا۔ ۔ اس کی شکل سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کے وہ کتنا خوش ہے آخر اس کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو رہی تھی۔ ۔

مہندی سے پہلے نکاح کی رسم کی گئی ۔۔۔ جنت بھی پیلے اور ہرے رنگ کی فراک پہنے تیار تھی دونوں کو ایک ساتھ سجے ہوئے صوفے پر بیٹھایا گیا۔ ۔ صہیب بار بار جنت کو دیکھ رہا تھا۔ ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کے جنت کو یہاں سے لے جائے اور جی بھر کر دیکھے۔ ۔۔ صہیب کی بے چینی دیکھتے ہوئے اس کے دوست اور کزن مزاق کرنے لگے۔

بس کر دیں صہیب بھائی جنت بھابی اب آپ کی ہیں ہاتھ چھوڑ دیں کہیں نہیں بھاگیں گی یہ۔۔

صہیب کی ایک چھوٹی اور شرارتی کزن نے کہا

کیسے چھوڑ دوں اب تو یہ ہاتھ میرے ہاتھ میں ہی رہے گا۔ ۔۔

صہیب نے ایک گہری نظر جنت پر ڈالی

جنت نے شرما کر سر جُھکا لیا سب مل کر ہوٹینگ کرنے لگے۔ ۔۔ صہیب بنا شرمائے جنت کو دیکھے گیا۔ ۔

توبہ ہے جنت چلو سب رسم ہو گئیں ہیں اُٹھو گھر بھی جانا ہے۔۔۔۔۔

جنت کی تایازاد نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر کہا

ایسے کیسے جانا ہے جنت نے میں جنت کو خود چھوڑنے جاوں گا۔۔

صہیب نے جنت کا ہاتھ اور مضبوطی سے پکڑا

ارے میرے دولہے بھائی اب آپ جنت کو چھوڑنے نہیں لینے آئے گا۔۔۔

اُسی کزن نے جواب دیا

بلکل نہیں جنت اب میرے ساتھ ہی آئے گی اور میرے ساتھ ہی جائے گی ۔۔

اففف جنت تم تو گئی بیٹا۔۔۔

جنت کی کزن نے اس کے کان میں کہا جنت مسکرا دی ایک بار پھر سب شور کرنے لگے۔ ۔۔ کچھ لوگ صہیب کک محبت دیکھ کر دعائیں دینے لگے اور کچھ رشتے دار حسد میں صہیب کی بے شرمی کی برائیاں کرنے لگے۔۔

آنسہ دور کھڑی ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دی۔۔ ایک بار پھر ضوریز کو یاد کرنے لگیں اور انکی آنکھیں بھیگ گئیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز نے اپنی گن پکڑ کر خاموشی سے آگے قدم بڑھایا اور نشانہ بنا کر فائیر کیا۔ ۔۔ سامنے کھڑی ہرن ایک ہی گولی سے ڈھیر ہو گئی۔ ۔ اپنی گن گارڈ کو پکڑا کر ہرن کے پاس آیا جو اپنی آخری سانس لے رہی تھی۔ ۔۔

گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ہرن کو مرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ ۔۔ ہرن کہ سانسیں ساکت ہوئیں تو اس نے گارڈ کو ہرن کی طرف اشارا کیا اور خود اپنے کیمپ میں چلا گیا ۔۔

سگریٹ جلا کر پینے لگا ۔۔۔ اس پرسکون جگہ پر بھی اسے بے چینی ہونے لگی وہ کیمپ سے ہاہر آیا اور چاروں طرف بنے بڑے بڑے درختوں کو دیکھنے لگا۔ ۔ گہری سانس لے کر جنگل میں بنے راستے پر چلتا جنگل سے باہر آیا جہاں ایک فیملی پکنک پر آئی ہوئی تھی سامنے بیٹھ کر وہ اس فیملی کو دیکھنے باپ اپنے دو پچوں کے ساتھ فٹ بال کھیل رہا تھا دیکھنے سے وہ دونوں بچے جُڑواں لگے۔ ۔

ضوریز غور سے ان چاروں کو دیکھ رہا تھا۔ ۔ بچے باپ کے ساتھ خوب کھیل رہے تھے۔ ۔۔

ضوریز کے دل میں خیال آنے لگا کے کیا پتا اسکی بھی کوئی فیملی ہو اس کے بھی کوئی ماں باپ ہوں۔ ۔ مگر جلد ہی اس نے اپنی سوچ پر قانو پا لیا اور تلخی سے سوچا کے اگر اس کے ماں باپ کو فکر ہوتی تو وہ اُسے ضرور ڈھونتے مگر شاید انہیں فکر ہی نہیں تھی۔ ۔۔ سگریٹ کو پاوں سے مسلتے ہوئے کھڑا ہوا تو فٹ بال اس کے پاوں کے پاس آ کر رک گئی سامنے کھڑے بچے نے کہا

Hi buddy please give me foot ball?

(ہائے بڈی پلیز مجھے فٹ بال دینا)

ضوریز نے ہلکی سی کک ماری اور بال اس بچے کی طرف چلی گئی بچے نے دوبارہ شرارت کرتے ہوئے بال ضوریز کی طرف پھینکی۔ ۔۔

ضوریز کے ماتھے پر بل پڑے مگر اس نے غصے کو قابو کرتے ہوئے دوبارہ بال بچے کو دی۔ ۔ اتنی دیر میں اُس کا جڑواں بھائی ضوریز کا ہاتھ پکڑ کر بولا

Hi can you play with us ?

(ہائے کیا تم ہمارے ساتھ کھیلو گے؟ )

ضوریز نے بچے کا ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا

No sorry!

ضوریز نے بہت سلت لہجے میں جواب دیا

دونوں بچے مایوس ہو کر واپس جانے لگے ضوریز کو انکا مایوس ہونا اچھا نہیں لگا

ok listen … I will play with u but only for 10 min ok..

(اچھا سنو میں کھیلوں گا مگر صرف دس منٹ کے لیئے)

Okay come on lets start!

(اوکے چلو آو شروع کریں)

ضوریز دس منٹ سے پہلے ہی اُکتا گیا مگر پھر بھی بچوں کا دل رکھنے کے لیئے کھیلتا رہا وہ حیران ہوا کے وہ کب سے انسانوں کے جزبوں کی فکر کرنے لگا ہے۔ ۔۔ نہ جانے کیوں اسے ان دو جُڑواں بچوں میں اپنا آپ نظر آیا ۔۔۔ ٹھیک دس منٹ بعد اس نے بچوں کو کھیلنے سے روکا اور خود تیزی سے جنگل کی طرف چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی پلیززز مجھے سمجھنے کی کوشیش کریں میں صرف دس منٹ کے لیئےجنت سے اکیلے میں ملنا چاہتا ہوں۔۔۔

صہیب نے مِنت کرتے ہوئے کہا

صہیب کیوں بچوں کی طرح ضد کر رہے ہو اب کل جنت نے رخصت ہو کر یہیں آنا ہے۔۔۔ گھر میں سب مہمان ہیں کیا کہیں گے اور تمہاری دادو کو پتا لگا تو تماشا ہو جائے گا۔۔۔

آنسہ نے سمجھایا

یار امی کیسا تماشا اب تو بیوی ہے وہ میری پلیز امی آپ تو ہمیشہ ساتھ دیتی ہیں میرا۔۔۔ ترس کھائیں نہ اپنے بچے پر۔۔۔

صہیب نے آنسہ کے ہاتھ پکڑے

اچھا روکو کرتی ہوں کچھ تم میرے روم میں جاو میں جنت کو بھیجتی ہوں مگر صرف پانچ منٹ کے لیئے اس کے بعد میں روم میں آ جاونگی۔۔۔

آنسہ نے دھمکی دی

اوکے اوکے ٹھیک ہے جیسے آپ کہیں ۔۔

صہیب بے چینی سے روم میں جنت کا انتظار کرنے لگا۔

آنسہ جنت کا ہاتھ پکڑے صہیب کے روم میں آئیں۔

بس پانچ منٹ ہیں تم لوگوں کے پاس اچھا۔۔۔

آنسہ فوراً باہر چلی گئیں جب کے جنت غصے سے صہیب کو دیکھنے لگی

یہ کیا بچپنا ہے صہیب کل تمہارے پاس ہی آنا تھا تو اتنی بھی کیا جلدی پڑی ہے تمہیں مجھ سے اکیلے می۔۔

شیشش۔ ۔ چپ ہو جاو جنت ۔۔ کل تمہارا روپ الگ ہوگا آج الگ ہو۔ ۔ میں تمہیں ہر روپ میں جی بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔

صہیب جنت کے ہونٹ پر انگی رکھ کر کہا

صہیب مگر تم بھی سمجھو عجیب سا لگتا سب کیا سوچیں گے۔ ۔۔

جنت نے صہیب کی انگلی ہٹا کر کہا

کسی کے بارے میں مت سوچو بس مجھے سوچو جنت۔ ۔۔

جنت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں کو لگایا اور اسکی مہندی کی خوشبو کو آنکھیں بند کرکے محسوس کرنے لگا

جنت کا دل بری طرح سے دھڑکنے لگا

پلیززز صہیب ۔۔۔

جنت نےاپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشیش کی۔ ۔

جنت۔۔۔۔ تم کیا ہو میرے لیئے میں تمہیں الفاظوں میں نہیں بتا سکتا ۔۔ پاگل ہوں میں تمہارے لیئے پتا نہیں کیوں میں تمہارے لیئے اتنا بے قرار ہوں جبکے اب تو تم میری ہو گئی ہو۔ ۔۔

صہیب نے جنت کے ماتھے پر اپنے لب رکھے ۔۔۔

صہیب پلیز کوئی آجائے گا

جنت صہیب سے تھوڑا دور ہوئی

صہیب کی جان خود پر فخر کرو کے کوئی تمہارے لیئے اتنا پاگل ہے تمہیں کیا پتا اس صہیب نے تمہارے لیئے کتنے دل توڑے ہیں۔۔

بس بس اب پھر سے اپنی تعریفوں کے پُل باندھنا شروع مت ہو جانا۔ ۔۔

دروازہ نوک ہوا اور آنسہ اندر آئیں۔ ۔ صہیب نے جنت کا ہاتھ چھوڑا۔۔

چلو جنت بہت رات ہو گئی ہے سب نے کھانا کھا لیا ہے اب تم دونوں بھی کھا لو۔ ۔ صہیب تم تھوڑی دیر بعد باہر آنا

آنسہ جنت کا ہاتھ پکڑے اُسے باہر لے گئیں۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹائیگر کیا میری کوئی فیملی تھی؟

زندگی میں پہلی بار ضوریز نے اپنی فیملی کا پوچھا ۔۔ ٹائیگر کو ضوریز کی یہ ہی بات پسند تھی کے اس نے کبھی اپنے بارے میں نہیں پوچھا تھا مگر آج یوں اچانک یہ سوال ضوریز کے منہ سے سن کر وہ حیران ہوا۔ ۔۔

مجھے صیح طرح نہیں معلوم مگر سنا ہے تمہیں کسی سے خریدا تھا کوئی پاکستانی کپل تھا کافی پیسے دیئے تھے تمہارے لیئے مارک نے!

ٹائیگر نے آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بولا

مطلب وہ میرے ماں باپ تھے؟

ضوریز نے دوبارہ پوچھا

ہو سکتا ہے تمہارے ماں باپ ہی ہوں مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو؟

ویسے ہی خیال آ گیا۔ ۔۔ ہنہ پاکستان میں لوگ شاید اسی لیئے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں کے بیچ کر پیسے کما سکیں۔ ۔

ضوریز نے تلخی سے کہا

ہاں وہاں غربت ہی اتنی ہے۔ ۔ پچھلے ہفتے مارک نے ایک اور بچے کو خریدا ہے پاکستانی ہے وہ بھی۔۔۔ پاکستان سے لینے کا فائدہ ہے کافی ایک تو آسانی سے اسمگل ہو جاتا ہے دوسرا تمہاری طرح کافی بہادر ہوتے ہیں پاکستانی۔ ۔۔

ٹائیگر نے ضوریز کی تعریف کی

ہممم سب اپنا فائدہ ہی دیکھتے ہیں۔ ۔

ضوریز نے سرد لہجے میں کہا

یہ ہی دنیا ہے۔ ۔۔ خیر مارک تمہیں بہت جلد پاکستان بھیجنے والا ہے کسی بہت اچھے میشن پر۔ ۔

ٹائیگر نے بوتل اپنے منہ سے لگائی

پاکستان ۔۔ مگر مجھے وہاں نہیں جانا!

ضوریز نے سختی سے منع کیا

جانا پڑے گا ضوریز مارک کو منع نہیں کر سکتے اور پھر تمہیں تو شوق ہے daring کام کرنے کا؟

ٹائیگر نے سمجھایا

شوق تو ہے مگر مجھے وہ لوگ نہیں پسند یہ نہ ہو کے میں وہاں جا کر سب کو مار دوں!

ضوریز نے غصے سے اپنے ہاتھ کی مُٹھی بنائی

نہیں ضوریز اتنا غصہ مت کرو۔ ۔ چلو فل حال تو چِل کرو اہک ہفتے تک کوئی کام نہیں ہے۔ ۔

ٹائیگر نے اُسے ریلکس کیا اور دوبارا اپنی وائن پینے لگا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *