Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 20)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

جنت اور ضوریز کے پاس اپنے اپنے چھوٹے سے ٹرالی بیگز تھے جنہیں ضوریز نے لگیج میں دینے کے بجائے ہینڈ کیری کر لیا تھا تاکے وہ جتنی جلدی ہو سکے اپنی منزل کی پر پہنچ جائے۔۔

اس وقت دونوں ویٹینگ ایئریا میں موجود تھے۔۔۔۔ جنت ضوریز سے چند سیٹ چھوڑ کر بیٹھی تھی ضوریز کو جنت کی اس حرکت پر غصہ تو بہت آیا مگر اس نے ضبط کیا۔۔۔ اس کے باوجود ضوریز جنت کو مسلسل اپنی نظروں میں رکھے ہوئے تھا۔ ۔۔

جنت اپنی ہی دنیا میں گم تھی ہر تھوڑی دیر بعد وہ اپنی انگلی سے آنکھیں صاف کرتی جیسے وہ اپنے آنسووں کو بہنے سے روک رہی ہو۔ ۔۔ چند منٹ گزرے تھے کے جنت کے ساتھ ایک درمیانی عمر کا آدمی آکر بیٹھ گیا ۔۔ اور جنت کو مخاطب کرنے لگا ۔۔ کافی دور ہونے کی وجہ سے ضوریز کو ان دونوں کی آواز سنائی نہیں دی مگر اس سے یہ برداشت نہ ہوا وہ تیزی سے اٹھ کر جنت کے سر پہنچا۔ ۔

Can u get up from here !

اپنے لہجے کو مشکل سے نرم رکھتے ہوئے ضوریز نے اس آدمی سے کہا

Ammm excuse me u have any problem ?

اس آدمی نے کندھے اُچکا کر پوچھا

Yes she is my wife so plz stay away!

ضوریز نے اب قدرے سخت لہجے میں کہا۔ ۔ آدمی نے ضوریز کی آنکھوں میں دیکھا تو ڈر گیا

آہم۔ ۔۔ اوکے فائن بھائی میں تو ایسے ہی بیٹھ گیا مجھے لگا کوئی پریشانی ہے انکو۔ ۔ ایم سوری۔ ۔۔

وہ آدمی گڑبڑا کر اٹھا اور وہاں سے چلا گیا

ضوریز اُسی طرح کھڑا رہا اور جنت کے جُھکے سر کو دیکھنے لگا۔ ۔۔

کیا دوسروں کو شو کروانا ضروری ہے کے آپ بہت دکھی ہیں اور آپ پر ظلم ہو رہا ہے۔ ۔۔

ضوریز نے طنزیہ انداز میں کہا

ہنہ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ ۔۔

جنت نے منہ دوسری طرف پھیرا

اففف جنت پلیززز سمجھنے کی کوشیش کریں اگر اسطرح بار بار روئیں گی تو لوگ تمہاری طرف متوجہ ہونگے اور لوگوں کو شک بھی ہو سکتا ہے۔ ۔۔

ضوریز اُسی جگہ پر بیٹھا جہاں وہ آدمی بیٹھا تھا۔ ۔

تو کیا اب میں اپنی مرضی سے بیٹھ بھی نہیں سکتی۔ ۔۔

جنت حیران ہوئی کے ضوریز کو کیسے چلا اس کے رونے کا

میں یہ نہیں کہ رہا۔۔۔ وہاں ہوٹل میں پہنچ کر جتنا مرضی رونا ہو رو لینا مگر فل حال پلیزز کنٹرول ہاں۔ ۔

سچ تو یہ تھا کے ضوریز سے جنت کے آنسو برداشت نہیں ہو رہے تھے وہ کسی بھی طرح اسے چپ کروانا چاہتا تھا۔۔

جنت خاموش رہی۔ ۔۔

چلو آناونسمینٹ ہو رہی ہے ۔۔۔

ضوریز کھڑا ہوا

جنت بھی کھڑی ہوئی اپنا دوپٹا سر پر ٹھیک کیا اور شال کو اچھے لپیٹا۔ ۔۔ اپنے بیگ کا ہینڈل پکڑے ضوریز کے پیچھے چلنے لگی۔ ۔۔

جہاز میں سوار ہونے کے لیئے جہاز کےساتھ سیڑھیاں لگ گئیں تھیں باری باری مسافر جہاز کی طرف جانے لگے ۔۔۔جہاز کا شور کانوں کو پھاڑ رہا تھا۔ ۔۔ جنت بھی اپنا بیگ گھسیٹتے ہوئے ضوریز کے ساتھ قدم ملانے کی کوشیش کرنے لگی۔ ۔۔ ضوریز نے مڑ کر جنت کو دیکھا تو اس کے پاس آیا ۔۔

ؐلاو بیگ مجھے دے دو آگے سیڑھیاں ہیں۔ ۔

ضوریز کافی زور سے سے بولا اس کے باوجود جہاز کے شور کی وجہ سے جنت نے بہت مشکل سے ضوریز سنا

نہیں تھینک یو میں خود کر سکتی ہوں۔۔۔

جنت نے بھی اونچی آواز میں جواب دیا

ضوریز جنت کی پوری بات تو نہ سن سکا مگر اس چہرے کے تاصورات سے سمجھ گیا ۔۔ ضوریز نے کندھے اچکائے گویا کہ رہا ہو as u wish…

سیڑھی کے پاس پہنچ کر ضوریز نے اپنے بیگ کا ہینڈل بند کیا اور پٹے کی مدد سے بیگ کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور چُھپکے سےجنت کو دیکھا جو اب بیگ کو ہاتھ میں اٹھائے کھڑی تھی یوں تو بیگ چھوٹا سا تھا اور زیادہ وزن بھی نہیں تھا مگر جہاز کی ایک سیڑھی دوسری سیڑھی سے قدرے فاصلے پر تھی ایک بار تو جنت نے ہمت کر کے بیگ اٹھایا اور ایک سیڑھی چڑھ گئی۔ ۔ ضوریز اس سے دو سیڑھی آگے تھا اور بار بار مڑ کر جنت کو دیکھ رہا تھا جو ایک ہی سیڑھی چڑھ کر تھک گئی تھی ضوریز کو بے ساختہ ہنسی آئی اس نے منہ آگے کر کر اپنے ہونٹ دانتوں میں دبائے۔ ۔

ہنہ مصیبت جب صہیب کے ساتھ آئی تھی جب تو سیڑھی نہیں تھی اففف جب صہیب ہوتا تھا سب کتنا اچھا لگتا تھا ۔۔

جنت کا دل کیا وہ رو دے۔ ۔

میم لائیے میں مدر کر دوں آپکی ۔۔

ایک بہت ہی خوش شکل اسمارٹ سے آدمی نے مسکرا کر جنت کو اوفر کی ۔۔ جنت نے خاموشی سے وہ بیگ چھوڑ دیا۔۔۔

ابھی وہ لڑکا بیگ اٹھانے ہی لگا تھا کے ضوریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔

بھائی آپ اپنی فیملی کی مدد کر لیں پلیزز۔۔۔۔ ۔

ضوریز نے بہت اونچی آواز میں کہا

جج جی وہ ان سے۔ ۔۔

وہ آدمی گڑبڑا کر بولا

میں شوہر ہوں انکا آئی کین ہیلپ ہر آپ پلیز اپنی بیوی کا خیال کریں۔ ۔۔

ضوریز نےسختی سے کہا اور ایک سرد نظر جنت پر ڈالی ۔۔وہ آدمی اپنی بیوی کی طرف چلا گیا جو ایک ہاتھ میں بچہ اٹھائے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ۔

ضوریز نے اپنے دوسرے ہاتھ میں جنت کا بیگ اٹھایا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ ۔۔

جنت بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چلنے لگی۔۔

ہیلو سر ویلکم۔ ۔۔

اندر قدم رکھتے ہی دو خوبصورت ایئرہوسٹس نے ضوریز اور جنت کو مسکرا کر ویلکم کیا۔ ۔

ضوریز بھی جواباً مسکرایا ۔۔

سر یور سیٹ نمبر پلیز۔ ۔

ایک ایئرہوسٹس نے پوچھا

25A &25B

ضوریز نے بتایا

اوکے سر پلیز دس سائیڈ۔۔

ایئر ہوسٹس نے ایک طرف اشارہ کر کے بتایا

تھینک یو۔ ۔۔

ضوریز باری باری سب سیٹس پر لکھے نمبرز دیکھتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ ۔

یہ ہیں ہماری سیٹ۔ ۔۔ونڈو سیٹ پر بیٹھو گی یا اس والی پر۔۔۔

ضوریز نے بیگز رکھتے ہوئے جنت سے پوچھا

جنت کو وہ وقت یاد آنے لگا جب صہیب کے ساتھ چند ماہ پہلے وہ پہلی بار جہاز میں بیٹھی تھی۔ ۔۔

(صہیب دیکھو مجھے ونڈو سیٹ پر بیٹھنا ہے ان انکل کو ہٹاو یہاں سے ۔۔۔

جنت نے صہیب کے کان میں کہا اور اشارہ کیا جہاں ایک انکل پہلے سے ہی ونڈو سیٹ پر بیٹھے تھے۔ ۔

یار کیا بچوں والی باتیں کر رہی ہو سب ایک جیسی ہیں پلیزز یہیں بیٹھ جاو۔۔

نہیں میں نے پہلے ہی تمہیں بتا دیا تھا مجھے ونڈو سیٹ پر بیٹھنا ہے۔ ۔

جنت نے منہ بنا کر کہا

اچھا رکو ایک منٹ۔ ۔۔

سر کیسے ہیں آپ۔ ۔۔

صہیب نے اس شخص سے جھک کر سلام کیا

میں ٹھیک ہوں۔ ۔

اس آدمی نے بنا مسکرائے جواب دیا

آممم سر اگر برا نہ مانیں تو یہ سیٹ ہمیں دے دیں آپ باہر والی سیٹ پر بیٹھ جائیں پلیزز۔ ۔

صہیب نے مِنت کی

نہیں میں اسی پر بیٹھوں گا۔۔

اس آدمی نے سختی سے منع کیا

اوکے سر جیسے آپکی مرضی میں تو اس لیئے کہہ رہا تھا اگر آپکو واشروم وغیرہ جانا ہوا تو میری وائف آپکو جگہ نہیں دے گی وہ ایک بار بیٹھ جائے تو اٹھتی نہیں ہے ۔۔

صہیب نے کندھے اچکا کر کہا

کیوں نہیں اٹھتی یہ کوئی بدماشی ہے۔۔۔۔

اس آدمی نے اور سختی سے کہا

نہیں سر بدماشی نہیں اس کے ساتھ مسئلہ ہے پاوں میں وہ بار بار اٹھ نہیں سکتی اسی لیئے میں کہہ رہا تھا۔۔۔

صہیب نے مسکرا کر کہا

جنت نے بھی فوراً اپنی ٹانگ پکڑی جیسے واقعی کوئی مسئلہ ہو۔۔ آدمی نے ایک نظر جنت کو دیکھا

اچھا ٹھیک ہے آجاو۔ ۔۔)

ہیلو۔ ۔۔ کہاں کھو گئی میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے پلیز جلدی بیٹھ جاو پیچھے اور لوگ بھی ہیں۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کو کندھوں سے پکڑ کر ہلایا جنت جیسے ایک دم ہوش میں آئی

آں ہاں کہیں بھی۔ ۔ آمم نہیں اسی سیٹ پر بیٹھوں گی۔ ۔

جنت نے باہر والی سیٹ کی طرف اشارا کر کے کہا

ضوریز نے محسوس کیا کے جنت کی آنکھیں بھیگنے لگیں ہیں وہ ایک گہرا سانس لے کر بیٹھ گیا۔ ۔ جنت بھی اس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی

سب کچھ اسی طرح ہے صہیب بس تم نہیں ہو۔ ۔۔ تمہارے ساتھ ہر سفر کتنا اچھا لگتا تھا۔ ۔۔

جنت نے اپنی آنکھوں کے کنارے صاف کیئے

تھوڑی ہی دیر میں جہاز رینگنے لگا

جب میں نے کہا تھا کے بیگ مجھے دے دو تو پھر کسی اور سے مدد لینے کی کیا ضرورت تھی۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کا دیہان بٹانے کے لیئے بات شروع کی

میری مرضی۔ ۔۔

جنت نے مختصر سا جواب دیا

ٹھیک ہے مگر مجھے یہ پسند نہیں کے تم کسی سے اسطرح مدد لو وہ بھی میرے ہوتے ہوئے۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کو دیکھ کر کہا

آپ کی پسندسے مجھے کوئی غرض نہیں اور پلیز مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ ۔۔

جنت نے دوٹوک انداز میں کہا

جہاز اب کافی تیز چلنے لگا جنت نے ڈر کے مارے آنکھیں اور ہاتھ بند کیئے۔ ۔۔

ضوریز نے مسکرا کر جنت کو دیکھا اور پھر اس کے بند ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ ۔۔

جیسے ہی جہاز نے اپنے ٹائیر زمین کی دہلیز سے اٹھائے۔۔۔۔جنت نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ ضوریز کے ہاتھ سے چھوڑوایا

مجھے ہاتھ مت لگائیں۔ ۔۔

جنت نے غصے سے کہا

میں تو بس تمہارا ڈر کم کر رہا تھا۔ ۔

ضوریز نے نرمی سے کہا

ہنہ ڈر۔ ۔۔ مجھے اب کسی چیز کا کوئی ڈر نہیں سمجھے آپ اپنی حد میں رہیں۔ ۔

جنت نے انگلی اٹھا کر وارن کیا

جناب میں نے تو سنا ہے آپ مجھ سے بہت ڈرتی ہیں۔ ۔۔ اور جہاں تک حد کی بات ہے تو اب ہمارے بیچ کوئی حد نہیں آفٹرآل وی آر میرڈ ناو۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کی طرف جھک کر کہا

ہنہ مجھے آپ کے منہ نہیں لگنا پلیز خاموش رہیں۔ ۔۔

جنت نے منہ دوسری طرف کر لیا

ضوریز جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا تاکے وہ صہیب کو یاد کر کر کے نا روئے۔

۔

منہ اس طرف کر لینے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی جنت۔ ۔

ضوریز نے جنت کے قریب آکر کہا

جنت خاموش رہی۔ ۔۔

اچھا اب میں چپ رہوں گا پلیز ۔۔۔ اُسطرف مت دیکھو وہاں عجیب سے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔ ۔

ضوریز کو مجبوراً یہ کہنا پڑا تاکے وہ جنت کا چہرہ دیکھ سکے

جنت کو احساس ہوا کے ضوریز صہیب کی نسبت زیادہ حساس ہے جنت نے سر جھٹکا اور سامنے دیکھنے لگی۔ ۔

پیاس تو نہیں لگ رہی۔ ۔

ضوریز نے تھوڑی دیر بعد پوچھا ۔۔

جنت نے سر نہیں میں ہلا کر جواب دیا منہ سے کچھ نہیں بولی

بھوک تو لگ رہی ہوگی تم نے گھر میں بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ ۔ بس ابھی کچھ نہ کچھ کھانے کو دیں گے یہ لوگ۔ ۔۔

ضوریز اپنی عادت کے بر خلاف لمبی لمبی باتیں کر رہا تھا تاکے جنت کا دیہان بٹا سکے

ابھی آپ نے کہا تھا آپ چپ رہیں گے۔ ۔

جنت نے ضوریز کے الفاظ لُٹائے

اوہ سوری میں تو بس۔ ۔

ضوریز خاموش ہو گیا

تھوڑی دیر میں ایئر ہوسٹس بڑی سی ٹرالی کِھسکائے سب کو ایک ٹرے تھمانے لگی۔ ۔

جنت کے پاس آکر اسکی ٹرے اسکی طرف بڑھائی

تھینک یو مجھے نہیں چاہیئے۔ ۔

جنت نے منع کیا

کیوں نہیں چاہیئے پلیز آپ دے دیں۔۔۔

ضویز نے فوراً ہاتھ بڑھا کر جنت کے سامنے بنا چھوٹا سا ٹیبل کھولا ایئر ہوسٹس نے مسکرا کر باری باری دونوں کے ٹیبل پر ٹرے رکھی۔ ۔

میں نے کہا تھا مجھے کچھ نہیں کھانا۔۔۔۔

جنت کو ضوریز پر بہت غصہ آیا

کیوں نہیں کھانا کل دوپہر سے تم نے کچھ نہیں کھایا پلیزز تھوڑا بہت کھا لو۔ ۔

ضوریز کو جنت کی فکر ہونے لگی ۔۔وہ اسکی ٹرے کی پیکینگ کھولنے لگا

مجھے کچھ نہیں کھانا آئی سمجھ۔ ۔۔

جنت نےسختی سے منع کیا

ضوریز نے ٹرے کھول کر اس میں سے سینڈوچ نکالا اور جنت کی طرف بڑھایا

پلیززز تھوڑا بہت کھا لو۔۔۔۔

ضوریز نے مِنت کی

نہیں۔ ۔۔

جنت نے جیسے اسکی ہر بات نہ ماننے کی قسم اٹھا رکھی تھی

افففف جنت اگر تم نے سینڈوچ نہیں کھایا تو میں ایئرہوسٹس کو بولا کر بولوں گا کے وہ تمہیں زبردستی کھلائے اور یقین کرو وہ ایسا ہی کرے گی اس لیئے تماشا مت بناو اور یہ کھا لو۔ ۔

ضوریز نے سختی سے کہا

جنت نے منہ دوسری طرف کر لیا

اوکے فائن۔ ۔۔ آممم ایکس کیوزمی۔ ۔۔

ضوریز نے واقعی آیئرہوسٹس کو آواز دی

یی یہ کیا بدتمیزی ہے۔ ۔۔

جنت نےحیران ہو کر ضوریز کو دیکھا

تو اور میں کیا کروں میری بات تو آپ نے ماننی نہیں ہے شاید اسکی مان لیں۔ ۔

ضوریز نے جنت کی طرف دیکھا

جنت نے غصے سے سیڈوچ پکڑا۔ ۔

جی سر آپ نے بولایا

آیئرہوسٹس نے مڑ کر پوچھا

نو تھینک یو۔ ۔۔

ضوریز نے مسکرا کر کہا اور پھر اپنا سینڈوچ کھول کر کھانے لگا بھوک تو اسے بھی بہت لگی تھی وہ بھی دوپہر کا بھوکا تھا۔ ۔

کھانے سے فارغ ہو کر تھوڑی ہی دیر میں جہاز اسلام آباد کی زمیں کو چھونے لگا جنت کا دل زور زور سے کانپ رہا تھا اسے قدم قدم پر صہیب کی یاد آرہی تھی اسے لگتا تھا جیسے صہیب مسکراتا ہوا اس کے ساتھ چل رہا ہے مگر جب وہ گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھتی تو وہاں ضوریز ہوتا سنجیدہ سا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایئرپورٹ سے باہر آکر ضوریز نے کسی کو کال کی چند سیکنڈ بعد ہی ایک آدمی کان کو فون لگائے ضوریز کے سامنے آیا۔ ۔

ضوریز صاحب؟

اس آدمی نے پوچھا

یس اینڈ یو مجید؟

ضوریز نے بھی پوچھا

جی میں ہی مجید ہوں آئیے سر گاڑی سامنے ہی ہے۔ ۔

اس آدمی نے دونوں بیگز پکڑے اور گاڑی کی طرف چلنے لگا

ہم لوگ یہاں سے سیدھا مری جائیں گے اگر تمہیں کچھ کھانا ہے تو بتا تو۔ ۔۔؟

ضوریز نے جنت سے آہستہ آواز میں کہا

نہیں ۔۔

جنت نےمختصر جواب دیا

اوکے۔ ۔۔

دنوں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ۔

سفر بہت خاموشی سے گزرنے لگا۔ ۔ کراچی کی نسبت اسلام آباد کا موسم بہت سرد تھا جنت کو تو ویسے بھی سردی بہت لگتی تھی ۔۔ اس نے اچھی طرح اپنے گرد شال لپیٹی اور باہر دیکھنے لگی۔ ۔۔ تھکاوٹ کی وجہ سے جنت بار بار اونگ رہی تھی جیسے ہی اسکی آنکھ لگتی اسکا سر جھٹکا کھا کر نیچے ہوتا اور وہ ایک دم اٹھ جاتی۔ ۔۔ ضوریز بظاہر تو اپنے موبائل فون پر مصروف تھا مگر اسکا سارا دیہان جنت پر تھا۔ ۔۔

جیسے ہی جنت کی آنکھیں بند ہوئیں ضوریز نے خاموشی سے اپنا ہاتھ جنت کے سر کے نیچے رکھا اب جنت کا سر ضوریز کے ہاتھ پر تھا جسکی وجہ سے جنت کی آنکھ نہیں کھولی اور وہ گہری نیند میں چلی گئی۔ ۔۔ ضوریز جنت کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا اور اسی طرح ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگا۔ ۔۔۔

چند گھنٹے گزرے تھے کے گاڑی مری کے اندرونی حصے میں داخل ہو گئی ۔۔ گاڑی کو بہت جھٹکے لگنے لگے جنت کی آنکھ ان جھٹکوں سے کھل گئی ۔۔ ضوریز نے مسکرا کر جنت کو دیکھا جو نیند سے بھری آنکھوں کو کھولنے کی کوشیش کر رہی تھی۔ ۔ ضوریز نے اپنا ہاتھ اس کے سر سے ہٹایا۔ ۔ ایک ہی پوزیشن میں بازو کو رکھنے کی وجہ سے اسکے بازو میں تھوڑا درد ہوا اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اپنے بازو کو دبایا۔۔

بس تھوڑی دیر اور پھر ہم اپنے ہوٹل پہنچ جائیں گے ہممم۔ ۔

ضوریز نے پیار سے جنت کو دیکھا

جنت نے آنکھیں رگڑ کر کر نیند بھگائی اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ ۔۔

یہ لیں سر ہم پی سی پہنچ گئے آپ کو جب گاڑی کی ضرورت ہو مجھے یاد کر لیجئے گا۔ ۔۔

تھوری دیر بعد ڈرائیور نے ضوریز سے کہا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ ۔۔

جنت اور ضوریز بھی باہر نکلے۔ ۔۔ جنت کو سردی کی وجہ سے ایک دم جھرجری سی آئی اس نے اپنے دونوں ہاتھ لپیٹے اور مڑ کر ضوریز کو دیکھا جو ڈرائیور سے دونوں بیگز لے رہا تھا۔ ۔ جنت تھوڑا سا چل کر آگے گئی تو اسے سامنے ہی بڑا اور خوبصورت سا ہوٹل نظر آیا۔ ۔۔

اوہ یہ تو پی سی ہے۔ ۔ آہ صہیب تم نے کہا تھا تم مجھے ایک بار یہاں ضرور لے کر آو گے چاہے تمہیں اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے اور واقعی میں یہاں آگئی اور تم۔ ۔۔۔

جنت پھر سے صہیب کے خیالوں میں کھونے لگی

چلیں اندر یہاں بہت سردی ہے۔ ۔۔

ضوریز کی آواز نے جنت کو خیالوں سے نکالا

ہممم ۔۔۔

جنت نے اپنے آنسو روکے اور ضوریز کے پیچھے چلنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *