Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 19)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

کون ہو تم کن لوگوں سے تعلق ہے تمہارا مجھے سب کچھ تفصیل سے بتاو۔ ۔۔

راشد نے بہت سنجیدگی سے پوچھا

میں ضوریز ہوں۔۔۔ ایک خطرناک گینگ کا حصہ تھا۔ ۔۔ زندگی کے پچیس سال ان لوگوں نے مجھے ٹرین کیا ہے میں نے آج تک پتا نہیں کتنے لوگوں کاقتل کیا ہوگا۔ ۔ مارک ہم سب کا لیڈر ہے وہ جو بھی کہتا تھا مجھے وہ سب کرنا پڑتا تھا اس لیئے میں نہ چاہتے ہوئے بھی اب تک کرتا رہا بہت ہی کم عرصے میں وہ مجھ سے بہت متاثر ہو گیا اسی سال کے شروع میں اس نے مجھے پاکستان کے گروپ کا لیڈر بنا دیا تھا اس لیئے ٹائیگر جو مجھ سے پہلے لیڈر تھا مجھ سے جلنے لگا خیر بہت لمبی کہانی ہے مگر مختصر یہ کے ٹائیگر نے ہی صہیب کو۔۔۔ مار دیا ۔۔۔۔ اور اسی نے جنت کو اغوا کیا۔ ۔۔ اُسی دن میں نے ٹائیگر کو جان سے مار دیا ٹائیگر ایک بہت ہی گھٹیا انسان تھا وہ ہر وقت مارک کے سامنے اپنی جگہ بنانے میں لگا رہتا تھا مجھے یقین ہے اس نے جنت کو اغوا کرنے سے پہلے ہی مارک کو میرا اور جنت کا بتا دیا ہو گا وہ جان گیا تھا کے اب میرے لیئے میری فیملی بہت ضروری ہو گئی ہے ۔۔ ویسے بھی مارک کے لیئے یہ سب پتا کروانا مشکل نہیں ہے۔ ۔۔ میرے یہاں اچانک آجانے پر وہ بہت غصے میں ہوگا۔۔ ۔۔ میں جانتا ہوں وہ مجھے نقصان نہیں پہنچائے گا کیونکے اس کے پاس میری کمزوری آ گئی ہے وہ مجھے تنگ کرنا چاہتا ہے تاکے میں خود واپس چلا جاوں اور پھر وہ مجھے نہ زندوں میں چھوڑے گا نہ ہی مُردوں میں۔ ۔۔ اگر اسکا انتقام مجھے مار لینے سے پورا ہو جاتا تو میں کب کا خود کو اس حوالے کر چکا ہوتا۔ ۔ میں اس جگہ کے ہر اصول کو جانتا ہوں۔۔۔ مارک کو پتا ہے کے میں نے جنت کی خاطر ٹائیگر کو مارا ہے اس لیئے میں جنت کے لئے کوئی رزک نہیں لینا چاہتا ۔۔۔۔ آپ پلیز سمجھائیں پھوپو کو بس کچھ عرصہ جنت میرے حوالے کر دیں ایک بار میں اُنکے چُنگل سے نکل جاوں پھر جو سزا آپ لوگ دینا چاہیں۔ ۔۔

ضوریز اپنے ہاتھوں کو آپس میں پھسائے کہنے لگا

ہمممم تم محبت کرتے ہو جنت سے؟

تھوری دیر غور کرنے کے بعد راشد نے پوچھا

جج جی۔ ۔۔ بہت زیادہ۔ ۔۔

ضوریز نے نظریں جُھکا کر کہا

جنت کو ہم اسطرح تمہارے حوالے نہیں کر سکتے۔ ۔۔ تم دونوں کے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں کے تم جنت کے پاس رہ سکو۔ ۔۔

راشد نے سوچتے ہوئے کہا

تت تو بنا دیں ایسا رشتہ۔ ۔

ضوریز جھجکتے ہوئے بولا

یہ اتنا آسان نہیں جنت کو تم نے بہت ہرٹ کیا خیر کسی طرح میں اسے منا بھی لوں تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کے وہ لوگ دوبارا تم لوگوں پر کوئی حملہ نہیں کریں گے؟اور ان کے چنگل سے کیسے نکلو گے تم اور کتنا وقت لگے گا ان سب میں؟ ؟

راشد نے ایک ساتھ سب سوال کیئے

آپ صحیح کہ رہے ہیں اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں مگر آپ نے آج دیکھ ہی لیا ہو گا کے میں انکا مقابلہ کر سکتا ہوں انہوں نے ہی تو مجھے ٹرین کیا ہے مگر میں پھر بھی کوئی رزک نہیں لونگا ایک بار جنت مان جائے تو میں اسے کسی اور جگہ لے جاونگا کسی ایسی جگہ جہاں ان لوگوں کا آنا آسان نہ ہو مجھ پر ایک بار بھروسہ کریں میں خود مر سکتا ہوں مگرر جنت کو مزید کوئی نقصان پہنچنے نہیں دونگا۔ ۔۔ اور یہ بھی ٹھیک ہے انکے چُنگل سے نکلنا آسان نہیں مگر کچھ عرصہ ہمیں انکی نظروں سے دور رہنا ہے کم از کم ایک سال پھر اس کے بعد مجھے امید ہے ہم سب ایک نارمل زندگی گزارنے لگے گے۔۔۔

ضوریز کے لہجے میں ایک اعتماد تھا راشد کو ضوریز کی باتیں کافی حد تک ٹھیک لگیں مگر اصل مسئلہ جنت کومنانا تھا وہ تھوڑی دیر تک خاموشی سے سوچتے رہے

ہممم ٹھیک ہے تمہاری بات پر بھروسہ کر رہا ہوں اور ویسے بھی دوسرا کوئی اوپشن نہیں ہمارے پاس۔ ۔۔ ویسے یہ سب مصیبت بھی تمہاری وجہ سے ہی جنت پر آئی ہے اب تم ہی اسے اس مصیبت سے نکالو گے۔ ۔۔میں نہیں جانتا کے جنت تمہارے ساتھ کبھی خوش رہے گی یا نہیں مگر جنت کو کچھ عرصے تک تمہارے حوالے کرنے لے لیئے تیار ہوں اس کے بعد جنت کا جو فیصلہ ہو گا وہ تمہیں ماننا ہوگا۔ ۔۔

راشد نے ایک فیصلہ کیا

جج جی جیسے ہی مسئلہ ٹلے گا میں وعدہ کرتا آپ لوگوں کا جو مرضی فیصلہ ہو گا مجھے قبول ہوگا۔ ۔۔

ضوریز کو تھوڑا اطمینان ہوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ آپ کیا کہ رہے ہیں جنت کے ابو۔ ۔۔ دیکھا نہیں آپ نے وہ کتنا خطرناک ہے اس نے کس طرح ان دو آدمیوں کو مار ڈالا ایسے جیسے وہ شروع سے ہی یہ کام کرتا آیا ہو۔ ۔۔۔

ماروخ نے جب راشد کی بات سنی تو فوراً انکار کیا

یہ ہی دیکھ کر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ ۔۔ جب وہ جنت کے لیئے دو دن سے خاموشی سے اسکا خیال رکھ رہا ہے اور پھر جسطرح ان دونوں آدمیوں کو جنت کے پاس آنے سے پہلے ہی ختم کر دیا ۔۔ خود سوچو اگر وہ نہ ہوتا تو پتا نہیں ابھی ہم زندہ بھی ہوتے یا نہیں۔ ۔۔ وہ ہماری جنت کا خیال خود سے بڑھ کر رکھے گا ماروخ۔ ۔۔ میں نے اسکی آنکھوں میں جو محبت جنت کے لیئے دیکھی ہے اس پر مجھے اعتبار آگیا ہے۔ ۔۔

مم مگر آپ پولیس کو کیوں نہیں بتارہے۔ ۔۔ الٹا اس مسئلے میں پڑ رہے ہیں ۔۔۔

ماروخ نے کمزور لہجے میں کہا

ماروخ بچوں جیسی بات مت کرو خود سوچو یہاں کی پولیس تو کسی عام سے مجرم کو نہیں پکڑ سکتی تو اتنے بڑے گینگ کے خلاف کیا کر سکے گی الٹا انکا ساتھ دے گی اور پھر۔ ۔۔ بہرحال میں تم سے پوچھ نہیں رہا تمہیں بتا رہا ہوں کے تمہیں میرا ساتھ دینا ہے مجھ پر بھروسا رکھو میں باپ ہوں اسکا غلط فیصلہ نہیں کرونگا۔ ۔ ضوریز کہ رہا ہے وہ کچھ دن کے لیئے جنت کو لے کر کہیں ایسی جگہ چلا جائے گا جہاں وہ لوگ اس تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ۔۔ میرے خیال سے جنت کی زندگی بچانے کے لیئے ہمیں اسکی شادی ضوریز سے کرنی ہو گی۔ ۔۔ میری بات سمجھو اس وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لو آج دو آدمی آئے تھے کل چار آ گئے تو کیا ہو گا میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنی جان کہاں ہے اب کے ان لوگوں سے لڑ سکوں اور اب یہاں اس شہر میں رہنا ٹھیک نہیں ۔۔۔ اس وقت سب سے زیادہ ضروری جنت کی زندگی ہے ہمارے لیئے اس کے لیئے یہ کڑوا گھونٹ ہمیں پینا ہو گا۔ ۔۔۔تم سمجھ رہی ہو نہ ماروخ۔ ۔

راشد نے ماروخ کا ہاتھ پکڑ کر سمجھایا

کچھ سمجھ نہیں آرہا ایک طرف کھائی ہے تو دوسری طرف کنواں۔ ۔۔ اس بات کا بھی تو کوئی بھروسہ نہیں کے ضوریز ان سب سے بچ کر نکل جائے گا آخر کب تک وہ چُھپتا پھرے گا۔ ۔۔ اسطرح کیسے زندگی گزارے گی ہماری جنت۔ ۔۔

ماروخ کا دل اب بھی نہیں مان رہا تھا

تم ماں ہو تمہارے دل میں بہت سے اندیشے ہونگے۔ ۔۔ دیکھو ماروخ جب تک ضوریز ان لوگوں سے خود کو چھپا سکتا ہے وہ چھپ کر رہیں گے ایک بار وہ لوگ پیچھا چھوڑ دیں تو ہو سکتا ہم سب پھر سے ایک ساتھ رہ سکیں۔ ۔۔ فل حال بشیر بھائی کے چلو ضوریز لینے آیا ہے یہاں پر ہمارا رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ ۔۔

جنت نہیں مانے گی میں جانتی ہوں وہ صہیب کے علاوہ کسی کو قبول نہیں کرے گی۔ ۔۔خیر میں جنت کو تیار کرتی ہوں آپ ضوریز سے بولیں ہمارا انتظار کرے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کہیں نہیں جاونگی اپنے گھر سے امی آپ لوگوں کو جانا ہے تو جائیں میں اُس گھر میں کبھی نہیں جاونگی جہاں اب صہیب نہیں بلکے اسکے قاتل رہتے ہیں۔۔

جنت نے چیخ کر بولا۔۔ اسکی آواز باہر کھڑے ضوریز کو بھی گئی۔ ۔

جنت میری جان بات کو سمجھنے کی کوشیش کرو ان لوگوں کو پتا لگ گیا ہے یہاں کا وہ دوبارہ بھی آ سکتے ہیں پلیززز جنت ضد مت کرو۔ ۔۔

ماروخ نے تھک کر سمجھایا

میں نے کہ دیا نہ نہیں جانا تو بس نہیں جانا چاہے کوئی مجھے مار ہی کیوں نہ دے ویسے بھی ابھی بھی میں کونسا زندہ ہوں اس اچھا مر ہی جاوں۔ ۔۔

جنت نے اونچی آواز میں کہا ضوریز کو جنت کی بات سن کر بہت غصہ آیا اور وہ تیزی سے جنت کے روم میں آیا

شٹ اپ اوکے۔ ۔۔ تمہیں سمجھ نہیں آرہی بات کی یہاں تم سب کی جان خطرے میں ہے یہ وقت ان فضول باتوں کا نہیں ہے سمجھی سیدھی طرح گھر چلو۔ ۔۔

ضوریز جنت کے بہت پاس آیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھ کر غصے سے بولا۔۔۔ جنت ڈر کر ایک قدم پیچھے ہوئی

آہ آیم سوری۔ ۔ اففف پلیز ٹائم ضائع مت کرو۔ ۔۔ صرف اپنی جان کی فکر مت کرو اپنے ماں باپ کا بھی سوچو۔ ۔۔۔

ضوریز نے گہرا سانس بھر کر اپنے غصے کو دباتے ہوئے نرمی سے کہا

ڈر کے مارے جنت کی آواز گلے میں ہی پھس گئی وہ بس خاموشی سے ادھر اُدھر دیکھنے لگی ضوریز اب تک جنت کو ہی دیکھ رہا تھا

یہ چلے گی ہمارے ساتھ بیٹا تم بس گاڑی اسٹارٹ کرو ہم آ رہے ہیں۔۔۔

راشد نے ضوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

ہممم میں ویٹ کر رہا ہوں انکل پلیز جلدی آ جائیں۔ ۔

ضوریز نے ایک نظر ڈری ہوئی جنت پر ڈالی اور باہر بکل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا تمہیں لگ رہا ہے ضوریز۔ ۔۔

بشیر نے ساری بات سن کر کہا

میں جانتا ہوں بابا آسان نہیں ہے مگر ناممکن بھی نہیں ہے میرے پاس اور کوئی اوپشن بھی تو نہیں۔ ۔ جنت اور میرا یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے جہاں تک میں جانتا ہوں مارک کو جب اسے یہ پتا لگا کے میں نے اس کے دو اور آدمیوں کو مار دیا ہے تو وہ میرے لیئے اور خطرناک بندوں کو بھیجے گا۔ ۔ فل حال اس کے بندے یہاں نہیں آسکتے وہ بندوں کو ایک ساتھ نہیں بھیج سکتا ایک ہفتے بعد ہی اس کے آدمی دوبارہ یہاں آئیں گے ۔۔ اس لیئے میں چاہتا ہوں اس ایک ہفتے میں سب انتظامات کر لوں۔ ۔۔ ہو سکے تو آج رات کو ہی میرا نکاح کر دیں جنت سے۔ ۔۔ میں جنت کو مری وغیرہ لے کر چلا جاونگا۔ ۔ بس دو تین دن لگے گے اس کے بعد کسی چھوٹے سے علاقے میں انتظام کر لونگا پھر آپ لوگوں کو بھی وہاں بلا لونگا ۔۔۔۔ جب تک میں یہاں آپ لوگوں کے لیئے کوئی گھر کرائے پر لے رہا ہوں آپ وہاں خاموشی سے رہیئے گا میرا مطلب ہے زیادہ باہر مت جایئے گا پلیززز ۔۔۔

ضوریز نے اپنا پلان بتایا

تو کیا ہم یہ شہر چھوڑ دیں گے یہ گھر میری نوکری یو ں اچانک اور پھر اتنے پیسے۔ ۔

بشیر حیران ہوا

بابا آپ پیسوں کی فکر نہ کریں میرے پاس بہت پیسے ہیں بس فل حال آپ لوگ جنت کو راضی کر لیں یقین کریں جنت کا خود سے بڑھ کر خیال رکھوں گا۔ ۔۔

ضوریز نے بشیر کی بات کاٹ کر کہا

ٹھیک ہے ہم سب جنت سے بات کریں گے اچھی بچی ہے زیادہ دیر انکار نہیں کرے گی ہمیں۔ ۔

بشیر نے ضوریز کو تسلی دی اور باہر آگئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی نہیں آپ سب نے سوچ بھی کیسے لیا کے میں اس شخص سے شادی کروں گی جس نے صہیب کی جان لی ہے۔ ۔

جنت نے جیسے ہی راشد کی بات سنی تو ایک دم غصے سے کھڑی ہو گئی ۔۔

بیٹا ایسا نہیں ہے ضوریز نے اسے نہیں مارا وہ تو اس کے۔۔۔

بس مامی آپ اس کی سائیڈ مت لیں۔ ۔۔ آپکو کونسا اتنا نقصان ہوا ہے ایک بیٹا گیا تو دوسرا بیٹا مل گیا وہ بھی بلکل اُسکا ہم شکل۔ ۔۔

جنت نے بدتمیزی سے کہا

یہ کس طرح بات کر رہی جنت تم اپنی مامی سے غصہ اپنی جگہ مگر بڑوں سے کیسے بات کرتے ہیں یہ مت بھولو۔ ۔۔

راشد نے جنت کو ڈانٹا

کوئی بات نہیں راشد بھائی حق بنتا ہے اسکا ہم پر غصہ کرے چلائے مگر بس ہماری نیت پر شک نہ کرے ہم نے جو بھی کیا صرف اسکے لیئے کیا ۔۔۔

آنسہ نے افسوس سے کہا

آیم سوری ابو۔ ۔ میں بدتمیزی نہیں کرنا چاہتی مگرآپ لوگ بھی تو سوچیں میں یہ سب نہیں کر سکتی صہیب میری روح میں بستا ہے میں اسکے علاوہ کسی کے لیئے سوچ بھی نہیں سکتی چاہے وہ اسکا ہمشکل بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ ۔ پلیزز ابو مجھے مجبور نہ کریں یہ کام میرے بس میں نہیں ہے۔ ۔۔

جنت نے روتے ہوئے راشد کے ہاتھ پکڑے

میری جان میری بچی میں جانتا ہوں یہ سب بہت مشکل ہے تمہارے لیئے مگر ہم سب کے لیئے یہ ہی بہتر ہے اب ماضی پر پچھتانے کے بجائے آگے کا سوچنا ہے جنت۔۔۔ وہ لوگ ہمارے گھر تک پہنچ گئے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کے ہم سے زیادہ ضوریز تمہاری حفاظت کر سکتا ہے و ہ جانتا ہے ان لوگوں کو ۔۔ کیسے اور کہاں رہنا وہ سب انتظام کر چکا ہے میری بچی اب ہم مزید وقت ضائع نہیں کر سکتے اپنے باپ پر بھروسہ رکھو۔ ۔۔

راشد نے جنت کو اپنے گلے لگا کر پیار سے سمجھایا

تو ٹھیک ہے آپ سب بھی ہمارے ساتھ چلیں میں اس کے ساتھ اکیلے کہیں نہیں جاونگی ۔۔۔

جنت نے آنسو صاف کر کے فیصلہ کن انداز میں کہا

نہیں چندہ ایسا نہیں ہو سکتا ہم سب کا ایک ساتھ اکھٹے رہنا بھی ٹھیک نہیں۔ ۔ تم دونوں کو الگ رہنا ہے ہم لوگ چند دن بعد آ جائیں گے ضوریز جگہ کا انتظام کررہا ہے وہاں بس چند دنوں کی بات ہے۔۔۔ ۔

بشیر نے جنت کے سر پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا

تو ٹھیک جب وہ انتظام کر لے گا ہم سب تب ہی یہاں سے جائیں گے مگر ایک ساتھ ۔۔۔۔ میں اسکے ساتھ اکیلی کہیں نہیں جاونگی مجھے ڈر لگاتا ہے اس انسان سے۔ ۔۔

ضوریز جو روم میں آرہا تھا جنت کی بات سن کر باہر ہی رک گیا اور مسکرا دیا

ارے نہیں بیٹا اس سے ڈرو مت وہ تو تم سے بہت محبت کرنے لگا ہے۔ ۔۔ بس تم نکاح کر لو اس سے۔ ۔۔

آنسہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا

ایسے کیسے نکاح کر لوں میں اُس سے ۔۔۔۔ میرا دل نہیں مان رہا۔ ۔۔

جنت نے اپنے بہتے آنسووں کو صاف کیا

جنت میری جان اپنے ماں باپ پر بھروسہ رکھو اس وقت بہت مجبور ہو کر ہم سب یہ کہہ رہے ہیں یہ دیکھو رحم کھاو ہم پر میں تمہارے لیئے پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔ ۔۔

ماروخ نے تنگ آکر اس کے سامنے ہاتھ جوڑے

امی پلیز ہاتھ مت جوڑیں ۔۔ ٹھیک ہے میں آپ لوگوں کے کہنے پر نکاح کر رہی ہوں مگر میری بھی ایک شرط ہے۔ ۔۔

جنت نے ماروخ کے ہاتھوں کو پکڑ کر کہا

ہمیں تمہاری ہر شرط منظور ہے۔۔۔

آنسہ نے کہا

جیسے ہی یہ معاملہ ٹھیک ہوا میں اس نکاح سے آزاد ہو جاونگی پھر میں آپ لوگوں کی کوئی بات نہیں مانوں گی مجھ سے وعدہ کریں آپ لوگ بھی مجھے مجبور نہیں کریں گے۔ ۔۔

جنت نے مضبوط لہجے میں کہا سب لوگ یہ سن کر خاموش ہوئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ۔

باہر کھڑے ضوریز کی بھی دھڑکن ایک پل کے لیئے مدھم ہوئی

ٹھیک ہے آج آخری بار تمہیں مجبور کر رہے ہیں اسکے بعد تم جو فیصلہ کرو ہم سب اس میں تمہارے ساتھ ہونگے۔ ۔۔

بشیر نے آخر کار خاموشی کو توڑ کر وعدہ کیا۔ ۔۔

اور ہاں آپ اپنے اس بیٹے کو بھی بتا دیں مجھ سے کسی بھی قسم کا تعلق نہ بنائے اگر کسی بھی قسم کی کوئی زبردستی اس نے کی تو میں اسکی جان لے لونگی۔ ۔

جنت نے آنسہ کی طرف دیکھ کر غصے سے کہا

باہر کھرڑا ضوریز بے اختیار مسکرایا۔ ۔

واہ ابھی کہ رہی تھی کے مجھ سے ڈرتی ہے اور اب میری جان لینے کی بات کر رہی ہے۔ ۔ امیزنگ۔۔ قربان جاوں تم پر جنت صاحبہ۔۔۔ ایک بار شادی ہو جائے اتنی محبت دونگا کے سب کو بھول جاوگی۔ ۔

ضوریز نے دل میں سوچا اور سر جھٹک کر انتظامات کرنے کےلیئے گھر سے باہر چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز بیٹا میری بات سنو جنت بہت ڈری ہوئی ہے تم سے ماروخ نے بھی گِلا کیا ہے کے تم نے آج جنت کو کافی ڈانٹا ہے۔ ۔۔ جنت کا دل بہت چھوٹا ہے اکلوتی رہی ہے ساری زندگی ہم نے آج تک اس سے سختی سے بات نہیں کی اس لیئے تم بھی زرا خیال رکھنا اس بات کا۔۔۔

آنسہ نے ضوریز کو اپنے ساتھ بیٹھا کر کہا

ماں میں کیا کروں پچیس سالوں کی ٹرینگ ہے مجھے پچیس دن تو دیں اپنی یہ عادتیں بدلنے کے لیئے۔۔۔ ویسے بھی جنت کو دیکھتا ہوں تو غصہ خوبخود جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے بس آج وہ اپنے مرنے کی باتیں کر رہی تھی مجھ سے کنٹرول نہیں ہوا۔ ۔۔۔ مگر آئندہ نہیں کرونگا۔ ۔ اچھا یہ جنت کا ڈریس لایا ہوں اور مولوی صاحب بھی آنے والے ہونگے آپ پلیز اسے تیار کر دیں رات میں ہمیں نکلنا ہے ۔۔۔

ضوریز نے ہاتھ میں پکڑا شوپنگ بیگ آنسہ کو دیا

یہ سب کیوں لے آئے تمہیں پتا ہے جنت نہیں پہنے گی پھر بھی بلاوجہ خرچا کیا خیر یہ سب چھوڑو یہ بتاو کہاں روکو گے تم لوگ کیا پلان ہے تمہارا؟

ماں پلان یہ ہے کے ہم ابھی سیدھا مری جائیں گے وہاں پی سی ہوٹل میں میں نے بوکیبگ کروا لی ہے بس دو یا تین دن وہاں رہیں گے میں نے دو تین لوگوں سے بات کی کے کسی بھی چھوٹے سے شہر میں کوئی مکان کا انتظام کر دیں جیسے ہی انتظام ہو گا آپ لوگوں کو بلا لونگا میں۔۔۔۔ جب تک آپ لوگوں کے لیئے میں نے کینٹ میں رینٹ پر گھر لے لیا ہے بس آپ سب وہاں شفٹ ہو جانا اور ہاں ایک اور بات پلیز یہ جگہ کے نام فون پر مت لیجئے گا ہو سکتا ہے مارک وہاں سے کال ٹریک کر رہا ہو ہماری۔۔۔ اسلیئے جو بھی کام ہو میسج کرئیے گا۔ ۔۔

ضوریز نے تفصیل سے سمجھایا

اوہ پتا نہیں یہ سب کیسے ہو گا اللہ ہم سب کو اپنے امان میں رکھے ۔۔۔ تمہاری دادو کو کیا بتاوں کب سے بلا رہی ہیں میری ہمت نہیں ہو رہی جا کر سب سچ بتاوں۔۔۔۔

آنسہ نے پریشانی سے کہا

ماں دادو کو میں بتاتا ہوں سب کچھ میرا دل کر رہا ہے ان سے ضوریز بن کر پیار لوں آپ انکی فکر نہ کریں آپ سب سے زیادہ بہادر ہیں دادو۔ ۔۔

ضوریز نے آنسہ کو گلے لگا کر تسلی دی

اچھا اب ان محترما کو تیار کر دیں پھر دو بجے کی فلائٹ ہے ہماری۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دادو کیا ہوا رو کیوں رہی ہیں۔ ۔؟؟

ضوریز عشرت کے پاس ان سے بات کرنے آیا مگر انہیں روتا دیکھ کر پریشان ہوگیا

تو اور کیا کروں ۔۔ تم سب نے مجھ بوڑھی کو ایک کونے میں ڈال دیا ہے مجال ہے کوئی مجھے بھی کچھ بتا دے سب ایک کمرے میں گھس کر ناجانے کیا کُھسر پُھسر کر رہے ہیں مگر کسی کو میرا خیال نہیں۔ ۔۔

عشرت بی نی نے اپنے دوپٹے سے اپنی ناک پونچی

ارے میری پیاری دادو اسطرح روئیں مت میں ہوں میں آپ کو بتاتا ہوں سب کچھ کے کیا ہو رہا ہے۔ ۔۔ دراصل میری اوررر جنت کی شادی ہو رہی ہے۔ ۔۔

ضوریز یہ بول کر چپ ہوا

اچھا۔ ۔۔۔

عشرت بی بی نے لمبا سا اچھا کہا

ہیں ں ں ں ۔۔۔ کیا کہا تمہاری اور جنت کی شادی باولے ہوئے ہو کیا دوبارا سے شادی کروگے وہ بھی جنت سے ہی اتنا ہی شوق ہو رہا ہے تو کم از کم لڑکی ہی بدل لو۔ ۔۔

عادت کے مطابق عشرت اپنی ہی بات پر دوپٹا منہ پر رکھے ہنسنے لگیں

ہاہاہاہا دادو آپ بھی نہ۔ ۔۔ جنت سے ہی شادی کرنی ہے مجھے اور یہ میری پہلی شادی ہے۔ ۔۔

ضوریز نے آہستہ سے بتایا

کک کیا مطلب ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تم دونوں کی شادی ہوئے۔ ۔۔

اچھا دادو پہلے یہ بتائیں آپکو کبھی زوہیب کی یاد آئی جو پیدا ہوتے ہی آپ لوگوں سے بچھڑ گیا تھا۔ ۔۔

ضوریز نے بات بدلی

لو وہ کبھی بھولا ہی نہیں مجھے ایسا لگتا ہے وہ ابھی بھی ہمارے آس پاس ہو۔ ۔۔

عشرت بی بی نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا

ہممم صحیح لگتا ہے آپکو وہ آپ کے سامنے ہے بلکل پاس۔ ۔۔

ضوریز نے عشرت کا ہاتھ پکڑ کر کہا

کیا مطلب کہاں ہے کیا وہ مل گیا تمہیں؟ ؟

جی دادو وہ میں ہی ہوں آپ کے سامنے۔ ۔۔

ضوریز نے انکا ہاتھ چوم کر کہا

ہائے سچ چ چ۔ ۔۔ تت تم ہمارے زوہیب۔ ۔۔ اوہ جب ہی سوچوں اتنے بدلے بدلے کیوں ہو ۔۔ میرے اللہ تم دونوں تو ہو بہو ایک ہی شکل کے ہو میرا بچہ ادھر آ۔ ۔۔

عشرت نے ضوریز کو ایک دم اپنے گلے لگا لیا اور رونے لگیں۔ ۔ ضوریز نے دل سے شکر ادا کیا کے اسے یہ خوبصورت رشتہ بھی نصیب ہوا

مم مگر تت تمہاری شش شادی جنت سے۔ ۔۔۔ صص صہیب کہاں ہے۔ ۔۔

عشرت بی بی کو ایک دم خیال آیا اور انہوں نے ضوریز کو خود سے الگ کیا

دادو۔ ۔۔۔۔۔ آپ یہ سمجھ لیں کے۔ ۔۔۔ اللہ نے صہیب کی جگہ مم مجھے بھیج دیا۔ ۔۔

ضوریز نے بہت مشکل سے بتایا

کک کیا صص صہیب۔ ۔۔۔۔ ہائے میرا بچہ۔ ۔۔ کک کہاں مجھے سیدھی طرح بتاو ۔۔۔

عشرت بی بی کے ہاتھ ٹھنڈے ہونے لگے

صہیب اب اس دنیا میں نہیں ہے دادو مگرر مم میں آپ لوگوں کا صہیب بن کر دیکھاونگا پلیزز دادو اسطرح پریشان مت ہوں۔ ۔

ضوریز نے انہیں اپنے گلے لگایا

اوہ میرے اللہ۔ ۔۔ تو بادشاہ جیسے تیری مرضی۔ ۔۔۔

عشرت نے گہرا سانس لے کر کہا اور ضوریز کے گلے لگ کر رونے لگیں۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنت نے ضوریز کا لایا کوا ڈریس پہنے سے انکار کر دیا اور سادہ سے کپڑوں میں بنا کسی میک اپ کے نکاح پڑھوا دیا گیا۔ ۔۔۔

جنت بہت دیر تک اکیلے روم میں بند ہو کر روتی رہی جب کے ضوریز کے دل کو عجیب سا سکون ملا جیسے اس نے دنیا فتاح کر لی ہو۔ ۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں سب لوگ جنت اور ضوریز کو رخصت کرنے لگے

بیٹا ہمیں بتاتے رہنے جہاں بھی جاو۔۔۔ عجیب دل گھبرا رہا ہے اللہ تم لوگوں کو اپنے امان میں رکھے۔ ۔۔

آنسہ روتے ہوئے صوریز کے گلے لگیں

ماں بس روئیں مت دعا کریں ہمارے لیئے۔ ۔۔

ضوریز نے انکا ماتھا چوما

اور بابا میرا فون بند رہے گا میں بس مخصوص وقت پر ہی اپنا فون اون کرونگا آپکو کوئی بات کرنی ہو تو ڈائریکٹ پی سی ہوٹل کی لائن لینڈ نمبر پر کل کر لیجئے گا۔ ۔۔

ضوریز نے بشیر کے گلے لگتے ہوئے کہا

ٹھیک ہے بیٹا ہم احتیاط کریں گے۔ ۔

آمم پھوپو آپ پریشان مت ہوں جنت اب میری زمہ داری ہے میں اسے ایک خراش بھی لگنے نہیں دونگا۔ ۔۔

ضوریز نے ماروخ کو دیکھا جو جنت کو گلے لگائے رو رہی تھیں۔ ۔۔

میری بچی بہت معصوم ہے ضوریز اس کا خیال رکھنا اسے اکیلا مت چھوڑنا بس۔ ۔۔

ماروخ نے روتے ہوئے کہا

جی آپ فکر نہ کریں کبھی اکیلا نہیں چھوڑونگا۔ ۔۔

ضوریز نے پیار سے جنت کی طرف دیکھا

اچھا دیر ہو رہی ہے ہمیں آممم بابا آپ لوگ صبح ہوتے ہی اُسی ڈریس پر چلے جائیے گا ۔ ۔۔ جنت چلیں پلیززز۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کی طرف دیکھ کر کہا

جنت نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر بھاگ کر آنسہ کے گلے لگ گئی۔ ۔۔

آیم سوری مامی میں نے بہت بدتمیزی کی آپ کے ساتھ۔ ۔۔

نہیں میری جان تم نے جو کیا وہ سب فطری عمل تھا بس اب اپنا خیال رکھنا ہمارے لیئے ہممم چلو شاباش اتنا رو مت۔ ۔۔

آنسہ نے جنت کا ماتھا چوما۔ ۔۔ وہ دونوں سب سے باری باری مل کر اپنے سفر پر روانا ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *