Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 23)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

Jack as u know zoraiz killed micheal he did very wrong.. Now I want you to bring him alive & kill his girl… I know only u can do this…go & find him at any cost !

(جیک تم جانتے ہو ضوریز نے مائیکل کو قتل کیا بہت غلط کیا ہے اس نے… اب تم اسے زندہ لے کر آو اور اسکی لڑکی کو مار دو ۔۔۔ میں جانتا ہوں تم ہی یہ کام کر سکتے ہو۔۔۔ جاو اور اسے ڈھونڈ کر لاو کسی بھی قیمت پر!)

مارک نے جیک کو بہت سختی سے کہا

Yes boss I will bring him alive!

(جی باس میں اسے زندہ لاونگا)

جیک نے جھک کر کہا اور چلا گیا

مارک جانتا تھا جیک ضوریز کو بہت آرام سے ڈھونڈ سکتا ہے۔ ۔ اُس نے جیک کے ساتھ اپنے دو اور آدمیوں کو تیار کیا اور پاکستان بھیج دیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز کی آنکھ جنت کی آواز سے کُھلی۔۔۔ جنت نیند میں کچھ بول رہی تھی شاید خوفزدہ تھی ضوریز نے جنت کے چہرے پاس جاکر سننے کی کوشیش کی مگر اسے جنت کے الفاظ سمجھ نہیں آئے

جنت کیا ہوا تم ٹھیک ہو۔ ۔؟

جنت کو کانپتا دیکھ کر ضوریز نے جنت کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر کہا

جنت نے گہرا سانس لے کر آنکھیں کھولیں اور اپنے اوپر جھکے ضوریز کو دیکھنے لگی۔ ۔۔

ضوریز جنت نے نیم وا آنکھوں میں کھو گیا۔۔۔

جنت کیا ہوا میری جان دیکھو میں ہوں تمہارے پاس۔۔۔

ضوریز نے سرگوشی کی۔۔ جنت ضوریز کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔ضوریز نے آنکھیں بند کر کے جنت کے ہاتھ کی خشبو محسوس کیا۔ ۔۔

آئی لو یو جنت ۔۔۔

ضوریز کی سانس بھاری ہونے لگی۔۔ ضوریز نے مزید جھک کر جنت ہونٹوں پر اپنے لب رکھے ضوریز کو اپنے اندر عجیب سا سکون محسوس ہوا ۔۔۔ جنت نے بھی آنکھیں بند کیں ۔۔۔اور سرگوشی میں کچھ بولا۔ ۔ ضوریز کو جنت کے ہونٹ ہلتے محسوس ہوئے تو اس نے چونک کر جنت کو دیکھا۔ ۔۔ جنت کسی کا نام پکار رہی تھی ضوریز نے جنت سے الگ ہو کر غور سے سنا تو جنت صہیب کا نام لے رہی تھی۔۔ ضوریز ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا اور اپنا سر تھام لیا

گہرا سانس لے کر اپنے جزنات قابو کیئے اور جنت کا کندھا زور سے ہلایا

جنت جیسے ہوش میں آئی

کک کیا ہوا صص صہیب کہاں ہے۔ ۔۔

جنت نے آنکھیں کھولتے ہی پوچھا

نہیں ہے یہاں صہیب۔۔۔ مر گیا ہے وہ۔۔۔ اب اسے بھولنے کی کوشیش کرو۔ ۔

ضوریز نے جنت کو جھنجوڑ کر کہا

تت تم میرے پاس میرے بیڈ پر کیا کر رہے رہے ہو دور ہٹو مجھ سے۔۔۔

جنت اب مکمل ہوش میں آ چکی تھی وہ غصے سے ضوریز کے سینے پر مُکے مارنے لگی۔ ۔

چلے جاو یہاں سے قاتل ہو تم ۔۔۔ نفرت کرتی ہوں تم سے۔ ۔ میرے پاس مت آو۔۔۔

وہ مسلسل ضوریز کے سینے پر ہاتھ مار رہی تھی ضوریز نے غصے سے اسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑا

اپنے ہاتھ قابو میں رکھو اور یہ بھی یاد رکھو کے میں صہیب نہیں ضوریز ہوں ضوریز۔۔۔ کیوں اسکا نام لے لے کر مجھے تکلیف دیتی ہو کیا تمہیں میں محسوس نہیں ہوتا۔۔ میری آنکھوں میں محبت نظر نہیں آتی کیوں اتنی لا پروا ہو جنت۔۔۔ جتنی جلدی ہو سکے اس حقیقت کو مان لو اب صہیب واپس نہیں آئے گا اس پہلے کے تم مجھے بھی کھو دو پلیززز مجھے قبول کر لو۔۔۔۔

آخر میں ضوریز کا لہجا بلکل ٹوٹ گیا تھا نا جانے کیوں جنت کا بار بار صہیب کو یاد کرنا اسے بہت تکلیف دیتا تھا

کیسے قبوک کر لوں۔۔۔ کیسے بھول جاوں اُسے۔ ۔۔ جب میں پیدا ہوئی تھی نا اسی نے مجھے چلنا سیکھایا تھا ضوریز۔۔ پہلا لفظ میں نے امی یا ابو نہیں بولا تھا بلکے صہیب بولا تھا۔ ۔۔ شعور آیا تو صرف وہ ہی میرے پاس تھا میری پوری دنیا ۔۔۔اور تم کہہ رہے ہو میں اسے بھول جاوں۔۔۔ نہیں تم کیا جانو محبت کیا ہوتی ہے تم نے تو کبھی انسانوں کو انسان نہیں سمجھا محبت کو کیا سمجھو گے۔۔۔۔

جنت شدت سے رونے لگی

مانتا ہوں بہت برا ہوں میں جانوروں میں رہا ہوں مگر میرے پاس بھی دل ہے جنت ۔۔ ٹھیک ہے میں نہیں جانتا محبت کیا ہے مگر جب تم میرے بجائے صہیب کو پکارتی ہو نہ میرا دل زخمی ہو جاتا ہے۔۔۔ آج جب تم میری نظروں سے دور ہوئی تو میری سانسیں اٹکنے لگیں تھیں جنت یہ خیال کے تت تم مجھ سے نفرت کرتی ہو مجھے سونے نہیں دیتا ۔۔ ہنہ تم سے نکاح کر کے بھی میں تمہارے پاس نہیں آ سکتا یہ احساس میری روح کھینچتا ہے۔ ۔۔ کسی کے بچھڑ جانے سے تو شاید انسان کو صبر آ ہی جاتا ہے مگر میں کیسے صبر کروں نہ مل جانے خوشی منا سکتا ہوں اور بچھڑنے کا خوف مجھے جینے نہیں دیتا۔ ۔۔ کیا تم اب بھی یہ ہی کہو گی مجھے محبت کا نہیں پتا۔۔۔ ہنہ محبت مل کے بھی نہ ملے اس احساس کو تم نہیں سمجھ سکتی شاید کبھی نہیں۔ ۔ میں مر بھی جاونگا تب بھی نہیں۔۔۔

ضوریز کی آواز اٹکنے لگی اسکا گلا رُندھ گیا اور وہ گہرا سانس لے کر خاموش ہو گیا

کوئی کسی کے بنا نہیں مرتا مجھے بھی یہ ہی لگتا تھا کے صہیب کے بغیر میں ایک سانس نہیں لے سکتی مگر دیکھو زبدہ ہوں اور سانس بھی لے رہی ہوں۔ ۔ بس یہ الگ بات ہے کے میرے اندر ایک قبرستان جیسا سناٹا بسنے لگا ہے اور اپنی زندگی کو اُسی قبرستان میں دفن کر دیا ہے میں نے بس سانسیں لے رہی ہوں۔ ۔۔

پلیززز جنت مجھے ایک موقع دو۔۔۔۔ میں اس قبرستان کو آباد کرنا چاہتا ہوں پلیزززز میں تمہاری محبت کو محسوس کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔

ضوریز نے جنت کو تھام کر اپنے گلے لگایا جنت اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

بس جنت پلیز چپ ہو جاو تمہارے یہ آنسو میرے دل پر گر رہے ہیں پلیزززز مت رو۔۔۔

ضوریز نے جنت کے بالوں میں اپنا چہرا چھپایا

مم مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز یہاں سے لے چلیں۔۔۔ یہاں قدم قدم پر اسکی یادیں ہیں پلیززز مجھے یہاں سے لے جائیں۔۔

جنت نے ضوریز سے الگ ہو کر کہا

اوکے ہم کل صبح ہوتے ہی یہاں سے نکل جائیں گے ہممم ابھی رات میں سفر کرنا ٹھیک نہیں۔۔۔میں نے بندوبست کر لیا ہے جگہ کا وہاں ہم سیف ہونگے شاباش اب رو مت۔ ۔ کچھ کھاو گی بھوک تو لگ رہی ہو گی میں کھانا منگواتا تم منہ ہاتھ دوھو لو۔۔۔۔

ضوریز نے جنت کے آنسوں صاف کیئے۔۔ جنت بھی خود کو سنبھالتی ہوئی اٹھی اور واشروم چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اماں آپ لوگوں کی فلائٹ بُک کروا دی ہے میں نے کل ہم لوگ بھی اسلام آباد آجائیں گے وہاں رکنا نہیں ہے بس فوراً ہی چلے جانا ہے۔۔۔ میں نے ایک جگہ کا انتظام کر لیا ہے وہ لوگ کبھی بھی ہمیں وہاں نہیں ڈھونڈ سکیں گے۔ ۔۔

ضوریز نے آنسہ کو کال کر کے اپنے پلان کا بتایا

میں فون پر آپ کو اس جگہ کا نہیں بتا سکتا اب کل ہی کال کرونگا آپ لوگ بس ایئر پورٹ پر ہمارا ویٹ کریئے گا اوکے۔ ۔ اچھا اب میں فون رکھتا ہوں گُڈ بائے۔ ۔

ضوریز نے فون بند کیا اور آنسہ کو میسج کیا جس میں اس نے ایک ایڈریس دیا تا کے وہ ایئر پورٹ سے نکل کر اس ایڈریس پر چلیں جائیں فون پر اس نے جان بوجھ کر ایئرپورٹ پر رکنے کو کہا تھا تاکے اگر فون ٹریس بھی ہو رہا ہو تو وہ مِس گائیڈ کر سکے۔ ۔

فون اوف کر کے وہ اندر روم میں آگیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنت پاوں میں درد تو نہیں ہے اب۔ ۔

ضوریز جنت کے پاس بیٹھ کر پوچھا

نہیں۔ ۔

جنت نے سر ہلا جواب دیا

ہممم شکر۔ ۔۔ کچھ کھانا ہے بھوک تو نہیں لگی؟

نہیں ۔۔۔

جنت نے مختصر جواب دیا

اچچچھا۔ ۔۔۔کہیں باہر واک کرنے چلیں ؟

ضوریز جان بوجھ کر جنت سے بات کر رہا تھا تاکے جنت اپنی سوچوں سے نکل سکے

نہیں بس مجھے سونا ہے۔۔۔

جنت نے بچوں کی طرح کہا ضوریز مسکرا دیا

اوہ اچھا ٹھیک ہے سو جاو ویسے بھی صبح صبح نکلنا ہے ہمیں اسلام آباد کے لیئے وہاں سب آرہے ہیں پھر ہم مل کر رہیں گے۔ ۔

ضوریز نے مسکرا کر کہا

مل کر ۔۔۔ اچھا ہم سب مل کر رہیں گے مگر وہ تو نہیں ہو گا نا۔ ۔۔

جنت نے اداسی سے کہا

آمممم تم سو جاو سردی تو نہیں لگ رہی۔ ۔

ضوریز کو جنت کی بات سن کر دکھ تو ہوا مگر اس نے اگنور کیا

نہیں ٹھیک ہے۔۔

جنت نے جواب دیا

ہممم گُڈ نائٹ ۔۔۔ have a good sleep

ضوریز کھڑا ہوا اور صوفے پر پڑا اپنا تکیا ٹھیک کرنے لگا

وہ مم مجھے ڈر لگ رہا ہے اکیلے۔ ۔۔

جنت نے بہت ہمت کر کے بولا

ڈر لگ رہا مگر کیوں میں ہوں نا یہاں۔ ۔

ضوریز نے مڑ کر جنت کو دیکھا

ہاں مگر وہ صوفہ بہت دور ہے اگر پھر سے وہ جانور آگیا تو میں اتنی دور سے آپ کو کیسے اٹھاونگی۔ ۔

جنت نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا

اوہ۔ ۔۔

ضوریز نے اپنے ہونٹ دانتوں میں دبا کر مسکراہٹ کو روکا

تو۔ ۔۔ میں بیڈ پر آجاوں۔۔۔ یہ کہنا چاہ رہی ہو۔ ۔۔؟

ضوریز بیڈ کے پاس آیا

نن نہیں صوفے کو یہاں قریب کھینچ لیں۔ ۔

جنت نے گھبرا کر جواب دیا

جنت اتنا بھروسا تو تمہیں مجھ پر ہونا چاہیئے۔۔۔ ٹھیک ہے خود کو تم سے دور رکھنا میرے لیئے بہت مشکل ہوتا ہے مگر میں تمہاری راضامندی کے بغیر کوئی حق نہیں جتاونگا۔ ۔۔ اور پھر اگر مجھے ایسا کچھ کرنا بھی ہوا تو میں صوفے سے اٹھ کر بھی کرسکتا ہوں تم نے کونسا یہاں بارودی سُرنگ لگائی ہوئی ہے جو میں تمہارے بیڈ تک نہیں آسکتا۔۔ تم تو مزے سے گہری نیند سو جاتی ہو اور میں بیچارا کروٹیں بدلتا رات گزار دیتا ہوں۔ ۔۔

ضوریز نے شرارت سے کہا اور اپنا تکیا اٹھا کر بیڈ پر رکھا

جی نہیں میں گہری نیند نہیں سوتی مجھے سب پتا لگتا ہے اچھا۔۔

جنت نے کمزور لہجے میں کہا وہ جانتی تھی وہ واقعی جب سوتی ہے تو گہری نیند سوتی ہے

اوہ اچھا تو کل رات میں نے تمہارے ساتھ کیا کیا تھا کچھ پتا لگا؟ ؟

ضوریز نے تنگ کیا

کک کیا تھا ۔۔۔۔؟اففف کتنے جھوٹے ہیں آپ مجھے کہتے ہیں میری مرضی کے بغیر۔ ۔۔

او ہیلو ہولڈ ڈاون سن تو لو کے کیا کیا تھا۔ ۔۔ تمہارے اوپر ٹھیک سے کمبل دیا تھا۔۔۔

ضوریز نے جنت کو بیچ میں ٹوک کر کہا

ہاں تو اب کمبل دینے سے تھوڑی میں اٹھ سکتی ہوں لیکن اگر اس سے آگے بڑھے تو پھر دیکھئے گا ۔۔۔ اس لیئے آئی وارن یو یہاں لیٹنے کی اجازت دے رہی ہوں اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کے آپ کو میرے پاس آنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ۔

جنت اب باقئدہ انگلی اٹھا کر وارن کر رہی تھی۔ ۔۔ ضوریز کے پاس بیٹھتے ہی جیسے اسکا سارا ڈر ختم ہو گیا ہو

ہاہاہاہا ابھی خود ڈر رہی تھی اور اب مجھے ڈرا رہی ہو کیا چیز ہو جنت۔ ۔۔ آہ ہا خیر اس بات کی فکر مت کرو اور پرسکون ہو کر سو جاو کل پورا دن سفر میں گزرے گا ۔۔۔

ضوریز نے تکیا ٹھیک کیا اور ایک کورنر پر لیٹ گیا

جنت بھی دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گئی۔ ۔۔

ضوریز نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور پھر آنکھوں پر رکھ کر سونے کی کوشیش کرنے لگا۔ ۔۔

کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جنت کو نیند نہ آئی جب بھی آنکھیں بند کرتی اسی جانور کی شکل اُسکے سامنے آجاتی جنت نے کروٹ بدل کر دیکھا تو اسے لگا ضوریز سو گیا ہے۔ ۔۔ جنت تھوڑا سا کھسک کر ضوریز کے قریب آئی اور آہستہ سے اسکو ہاتھ لگا کر چھوا۔ ۔۔

ہنہ کہ رہا تھا ساری رات کروٹیں بدلتا ہوں ابھی تک ایک بھی نہیں بدلی اور سو بھی گیا ڈرامے باز۔ ۔۔

جنت نے دل میں سوچا۔ ۔ پھر ضوریز کے تھوڑا اور پاس آکر اسکے کندھے پر سر رکھ لیا اور ایک ہاتھ ضوریز کے سینے پر رکھ کر آنکھیں بند کیں۔ ۔

ضوریز ہلکا سا مسکرایا اور ایک آنکھ کھول کر جنت کے سر کو دیکھا اور بنا کوئی حرکت کیئے گہرا سانس لے کر جنت کی خشبو کو محسوس کرنے لگا۔ ۔ دونوں کب نیند کی وادیوں میں اتر گئے معلوم ہی نہ ہوا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز نیند سے جاگا تو سب سے پہلے اس نے اپنی گھڑی اٹھا کر ٹائم دیکھا

اوہ نو۔۔۔ آٹھ بج گئے۔ ۔۔!

جنت اب تک اس کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی ضوریز نے اسکے بالوں پر بوسا دیا اور اسے خود سے الگ کیا

جنت اٹھ جاو ہمیں دیر ہو گئی ہے ۔۔سات بجے نکلنا تھا آٹھ بج گئے ہیں پلیززز جلدی اٹھو۔۔۔

ضوریز نے جنت کو زبردستی اٹھا کر بیٹھا دیا

یی یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔

جنت نے اپنا آپ چھوڑوایا

اٹھا رہا بس جلدی سے منہ دھو ناشتہ راستے میں کریں گے پلیز کوئی سوال مت کرنا بس اٹھو جلدی۔ ۔

ضوریز نے اب جنت کو پکڑ کر کھڑا کیا

افففف کیا بدتمیزی ہے یہ ہٹیں میرے پاس سے۔۔

جنت نے ضوریز کے ہاتھوں کو جھٹکا

اگر تم دو سیکنڈ میں واشروم نہ گئی تو میں گود میں اٹھا کر لے جاونگا ۔۔ اس لیئے ہوش میں آو اور جلدی سے تیار ہو جاو صرف پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس جاو شاباش۔

۔

ضوریز نے جنت کے گال کو چھو کر کہا ۔۔ جنت منہ بناتی ہوئی واشروم چلی گئی۔ ۔

ضوریز نے جلدی جلدی اپنے بیگ سے گن اور چاقو نکلا پھر اپنے کپڑے نکال کر شرٹ چینج کی۔ ۔۔اور ایک فون کال کرنے لگا۔۔۔

ہیلو۔ ۔ ہاں بس آپ فوراً گاڑی لے کر آجائیں ہم تیار ہیں۔ ۔

جنت واشروم سے باہر آئی اور ضوریز کو فون کرتے دیکھا

اوکے میں ساری پیمینٹ کر دونگا ۔۔ جلدی آجائیں گڈ بائے۔ ۔

ضوریز نے فون بند کیا اور جنت کو دیکھا

کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔

ضوریز نے اپنی بھنوں کو اٹھا کر پوچھا

اُس دن آپ کہہ رہے تھے روم میں سگنل نہیں آتے تو آج کیسے آئے۔ ۔۔؟؟

جنت نے سنجیدگی سے پوچھا

اوہ گاڈ۔ ۔ جنت اس بات کا جواب میں تمہیں راستے میں دے دوں پلیززز؟۔ ۔ اب میں بھی ریڈی ہو جاوں تمہیں بھوک تو نہیں لگی۔ ۔

ضوریز نے جلدی سے اپنی پینٹ ، گن اور چاقو اٹھایا

نہیں بھوک نہیں ہے مگر یہ گن اور۔ ۔

جنت کتنے سوال کرتی ہو میری جان ۔۔ ایسا کرو ابھی نوٹ کر لو ان سب سوالوں کو راستے میں انکے جواب دونگا۔۔۔

جنت کا گال تھتپا کر وہ واشروم چلا گیا

ہنہ مجھے کیا ضرورت ہے اسکے منہ لگنے کی بڑا آیا میں بہت سوال کرتی ہوں اب بات بھی نہیں کرونگی۔ ۔

جنت نے غصے سے منہ بنایا اور اپنا سامان پیک کرنے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ فُل پیمنٹ کا چیک ہے ۔۔۔

ضوریز نے ایک آدمی کو چیک دیا اور اس سے چابی لی

اوکے سر اور کسی چیز کی ضرورت ہو ہماری کمپنی کو یاد رکھیئے گا۔ ۔

اس آدمی نے چیک لیا اور ہاتھ ملا کر کہا

ضرور بہت شکریہ آپ لوگوں کی بہت اچھی سروس ہے۔۔ ۔

ضوریز نے ہاتھ ملایا اور جنت کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارا کیا

اوکے گُڈ بائے۔ ۔۔

اوکے سر خدا حافظ۔ ۔۔

اس آدمی نے ہاتھ ہلا کر کہا

ضوریز ڈرایئونگ سیٹ پر بیٹھ گیا

یی یہ گاڑی۔ ۔۔

جنت پلیزز ہمیں ابھی یہاں سے نکلنا ہے تھوڑی دیر میں سوال جواب کا سیشن شروع کریں گے۔ ۔۔

ضوریز نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی۔ ۔ جنت نے غصے میں اپنا چہرے دوسری طرف کر لیا۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز بہت تیز گاڑی چلاتا ہوا راستہ طے کر رہا تھا

جی جناب تو کیا کیا پوچھنا ہے مجھ سے۔ ۔

ضوریز نے جنت کی طرف دیکھ کر پوچھا

کچھ نہیں۔ ۔۔

جنت نے منہ بنا کر کہا

ہممم تو پہلا سوال یہ تھا کے فون کے سگنل کیوں نہیں آرہے تھے روم میں ایکچولی اُس دن میرا دل کر رہا تھا کے ہم باہر واک کرنے جائیں اس لیئے اس دن چھوٹا سا جھوٹ بولا۔ ۔

ضوریز نے مسکرا کر جواب دیا۔ ۔

ہنہ۔ ۔۔ مجھے پتا ہے آپ ایک نمبر کے جھوٹے انسان ہیں۔ ۔

جنت کو غصہ آیا

چلو شکر ہے تم مجھے دو نمبر نہیں سمجھتی۔ ۔۔

ضوریز نے مسکرا کر کہا

ہنہ۔ ۔۔

جنت منہ دوسری طرف پھیر لیا

اور جناب گن اور چاقو میں ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہوں جب ہی تو کل آپکو اس جانور سے بچا لیا۔ ۔ اور یہ گاڑی اب ہماری ہے باقی کا سفر ہم اس پر ہی طے کریں گے۔ ۔۔

کیا یہ گاڑی۔ ۔۔ اور پورا سفر اس پر کریں گے۔ ۔۔

جنت حیران ہوئی

جی ہاں کیونکے اب جہاں ہم نے جانا ہے وہاں کوئی جہاز نہیں جاتا صرف یہ گاڑی ہی جا سکتی ہے۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کو بتایا

ہم کہاں جائیں گے۔ ۔؟

جنت نے ہوچھا

شاید تم نے اس جگہ کا نام نہ سنا ہو۔ ۔ سون سکیسر ایک وادی ہے پنجاب سائیڈ پر وہاں کے ایک چھوٹے سے علاقے میں گھر لے لیا ہے۔ ۔۔ بہت خوبصورت جگہ ہے وہ۔ ۔۔

ضوریز نے بتایا

سون سکیسر۔ ۔ ہممم میں نے تو نہیں سنا۔ ۔۔

جنت نے سوچتے ہوئے کہا

ہاں وہ سیف ہے ہمارے لیئے۔ ۔ اچھا بھوک تو نہیں لگ رہی؟ میرے خیال سے تمہارے لیئے ناشتا لے آتا ہوں۔ ۔

ضوریز نے گاڑی ہلکی کی اور ایک سائیڈ پر روک دی۔ ۔۔

بس سامنے سے ناشتا لے کر آرہا ہوں۔ ۔

ضوریز نے اشارا کر کے بتایا

اوکے۔ ۔

جنت نے سر ہلایا اور ارد گرد دیکھنے لگی۔ ۔ بہت سے لوگ گرما گرم ناشتا کر رہے تھے پاس ہی ایک آبشار بہ رہی تھی جنت کو یہ جگہ بہت پیاری لگی اور وہ اس آبشار کی خوبصورتی میں کھو گئی۔ ۔۔

یہ لو گرما گرم پراٹھا۔ ۔۔یاد ہے سب سے پہلے تم نے مجھے پراٹھا بنا کر کھلایا تھا اتنا اچھا لگا تھا مجھے۔ ۔

ضوریز نے ایک پراٹھا جنت کی طرف کیا

دھوکے سے کھایا تھا۔ ۔

جنت کو بھی یاد آیا اور اس نے طنز کیا

آمم اچھا یہ آملیٹ بھی ہے ۔۔۔

ضوریز نے ایک پلیٹ جنت کی طرف کی اور خود اس آملیٹ کو پراٹھے پر رکھ کر رول بنایا۔ ۔۔

تم چلتی گاڑی میں کھا لو گی نا ایکچولی میں گاڑی روک نہیں سکتا آلریڈی بہت لیٹ ہو گئے ہیں۔ ۔۔

ضوریز نے گاڑی اسٹارٹ کی اور ساتھ ساتھ اپنا ناشتا بھی کرتا رہا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور کتنا ٹائم لگے گا۔ ۔۔

جنت نے اکتا کر پوچھا

بس تقریباً ایک گھنٹے تک ہم اسلام آباد ہونگے۔ ۔۔ ۔ امی اور ابو لوگ پہنچ گئے ہیں ۔۔۔

شکر۔ ۔۔ اتنا دل کر رہا ہے کے جلدی سے سب سے ملوں۔ ۔۔

جنت نے آنکھیں بند کر کے کہا

ہممم بہت جلد ملو گی ڈونٹ وری ۔۔

ضوریز نے مسکرا کر جنت کو ایک نظر دیکھا اور پھر اپنی نظریں سامنے کی طرف کیں۔ ۔۔

اوہ شٹ ۔۔ کون ہیں یہ لوگ۔ ۔۔

ضوریز نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی ۔۔۔ جنت نے بمشکل اپنے سر کو سامنے لگنے سے بچایا

یی کک کون ہیں ضوریز۔۔

جنت نے ڈر کر پوچھا

گاڑی کے سامنے تین آدمی شلوار کمیز پہنے ہاتھ میں گن لیئے کھڑے تھے تینوں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔۔ ایک پل کو تو ضوریز بھی ڈر گیا کہیں مارک کے بندے نہ ہوں۔۔ ضوریز نے گہرا سانس لے کر جنت کو تسلی دی۔ ۔

جنت پریشان مت ہو میں ہوں نا۔ ۔۔

چل دروازہ کھول اور اپنی جنانی کے ساتھ باہر آ۔ ۔۔

ایک آدمی نے شیشا بجا کر کہا۔ ۔ ضوریز اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر آیا۔ ۔۔

اسے بھی نکال۔ ۔۔

اس آدمی نے جنت کی طرف اشارا کیا۔۔۔

ضوریز سر ہلا کر جنت کی طرف کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔ جنت ڈر کر ضوریز کے گلے لگ گئی۔ ۔

کیا چاہیئے تم لوگوں کو کون ہو تم۔ ۔؟

ضوریز نے سختی سے پوچھا

ابھی بتاتے ہیں ۔۔۔

ایک آدمی جنت کے پاس آیا ضوریز نے جنت کو اپنے پیچھے کر لیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *