Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 13)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 13)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
میں آپکو ماں بولا کروں یا امی؟
ضوریز نے آنسہ کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا
تمہارا جو دل کرے ہمیں وہ بول کر بلاو۔ ۔ اور تمہارا ماں کہنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ ۔۔
آنسہ نے ضوریز کے بالوں پر ہاتھ پھیرا
تھینک یو ماں ۔۔ مجھے بھی ماں کہنا اور بابا کہنا بہت اچھا لگ رہا ہے۔ ۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے میں کبھی آپ لوگوں سے بچھڑا ہی نہیں ۔۔۔
ضوریز نے آنسہ کے ہاتھ پر بوسہ لیا
ہاں اولاد دور بھی ہو تو ماں کو ہر وقت انکی موجودگی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ ۔ مجھے ابھی بھی لگتا ہے میرا صہیب آئے گا اور شور مچاتا ہوا کہے گا امی امی کہاں ہیں آپ اور میرے گلے لگ لجائے گا۔ ۔۔
آنسہ صہیب کو یاد کر کے رونے لگیں
ماں کیسا تھا صہیب اسکی نیچر کیسی تھی وہ تو بہت اچھا ہوگا جب ہی تو آپ سب کا اتنا لاڈلا ہے۔ ۔
ضوریز کو صہیب پر رشک ہوا
ہاں وہ بہت اچھا تھا اتنا کے شاید اس جیسا کوئی نہ ہو۔ ۔۔ گھر کی رونق اسی سے تھی۔ ۔۔ تم سے بہت پیار کرتا تھا کہتا تھا جب بھی مجھے میرا بھائی ملا تو میں لوگوں کو بیوقوف بناونگا ہر کسی کو یہ ہی بتاتا تھا کے میرا ایک بھائی ہے اور ایک دن وہ مجھے ضرور ملے گا۔ ۔ مگر۔ ۔
آنسہ اپنی بات مکمل نہیں کرسکیں اور رونے لگیں
ضوریز کو بھی لگا وہ کچھ بولا تو رو دے گا اس نے اپنے آنسو اپنے اندر ہی گرائے اور آنسہ کو چپ کروانے لگا۔۔
ماں پلیز روئیں مت میں اس جیسا تو نہیں بن سکتا لیکن میں کوشیش کرونگا آپ لوگوں کو اُتنی ہی محبت دوں اُتنا ہی خیال رکھوں۔ ۔ ہاں مگر میں کسی جگہ کی رونق نہیں بن سکتا کیوں کے میں تو خود اندر سے بہت ویران ہوں۔ ۔۔ کاش میرے بس میں ہوتا تو میں صہیب کو واپس لے آتا۔ ۔۔
ضوریز نے افسُرداگی سے کہا
بس بیٹا ہر کسی کی اپنی جگہ ہوتی ہے۔ ۔ خیر تم اپنے بارے میں بتاو کہاں رہے کون لوگ تمہیں لے گئے تھے اور اب کہاں رہتے ہو۔ ۔؟
آنسہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا
آممم میں ۔۔ ایم سوری ماں میں آپ کو اپنے بارے میں سب کچھ تو نہیں بتا سکتا ۔۔ بس اتنا جان لیں جب آنکھ کھولی تو خود کو ایسے لوگوں کے درمیان پایا جن سے مجھے خوف آتا تھا پھر آہستہ آہستہ انہوں نے مجھے بھی اپنے جیسا بنا دیا۔ ۔۔ خیر میں لندن میں رہتا ہوں۔۔۔ یہاں کسی کام سے بھیجا گیا تھا مجھے ابھی وہ کام پورا کرنا ہے۔ ۔۔ بس میں اس زیادہ آپکو اپنے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ ۔۔
ضوریز نے مختصراً بتایا
کیوں نہیں بتا سکتے اب ہم سے کیا چُھپانا بیٹا ہم تمہارے ماں باپ ہیں تمہارا ہی ساتھ دیں گے تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے بتاو مجھے سب کچھ اپنے بارے میں۔۔؟
آنسہ نے اصرار کیا
ماں بات میرے نقصان کی نہیں ہے مجھے اپنے نقصان کا بلکل ڈر نہیں لگتا بس آپ لوگوں کے نقصان سے ڈرتا ہوں اب میں یہ رشتے کھونا نہیں چاہتا۔ ۔ میں وقت آنے پر آپ کو سب کچھ بتاوں گا۔ ۔ آئی پرومس۔ ۔
ضوریز نے آنسہ کا ہاتھ دبایا
مگرر ضوریزز۔ ۔
پلیز ماں میں نے کہا نا میں بتا دونگا فل حال مجبور ہوں۔ ۔۔ آپ میرے لیئے پریشان مت ہوں میں آپ لوگوں کے پاس واپس ضرور آونگا۔ ۔
ضوریز نے پیار سے آنسہ کو گلے لگایا
ہاں بھئی تم لوگوں کی باتیں ابھی تک ختم نہیں ہوئیں ۔۔ چلو بیگم ڈاکٹر نے چُھٹی دے دی ہے تمہیں۔ ۔۔ ضوریز میں نے ٹیکسی منگوا لی ہے تم یہ سامان اٹھاو میں تمہاری امی کو لے کر آتا ہوں۔۔
بشیر نے روم میں آکر کہا
جی بابا ۔۔۔۔ چلیں ماں اٹھیں ہمت کریں جنت بھی بے قرار ہے آپ سے ملنے کے لیئے۔ ۔
ضوریز کو جنت کا خیال آیا اس نے مسکرا کر کہا
اوہ ہاں جنت نے تو رو رو کر اپنا برا حال کر لیا ہوگا وہ بچاری اکیلی ہے وہاں۔ ۔
آنسہ نے اُٹھتے ہوئے کہا
ضوریز بیٹا وہ عدت میں ہے اس بات کا خیال رکھنا تمہیں اس کے پاس نہیں جانا بلکے کوشیش کرو کے اسے دیکھو بھی مت ۔۔۔ وہ تمہارے پاس آنے کی کوشیش کرے گی مگر تمہیں اسے خود سے دور رکھنا ہے میں بھی اسے سمجھا دونگی ۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا میری بات؟ ؟
آنسہ ایک بار پھر ضوریز کو یاد دلایا
جج جی ماں مم میں کوشیش کرونگا اسے دور رکھوں اور اسے دیکھوں نہیں آپ پریشان مت ہوں۔ ۔۔ چلیں بابا باہر چلتے ہیں۔ ۔
ضوریز کو لگا جنت کو نہ دیکھنا اس کے لیئے آسان نہیں مگر پھر بھی اس نے آنسہ کو تسلی دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں رہ گئے تھے آپ لوگ نہ کوئی میرا فون اٹھا رہا تھا نہ ہی کوئی میرے پاس آیا میں اکیلے ڈر رہی تھی مامی مجھے فکر ہو رہی تھی آپکی۔ ۔
جنت کب سے آنسہ کے گلے لگ کر روئے جارہی تھی
بیٹا بتایا تو ہے ڈاکٹر نے کہا چھٹی ہو جائے گی اس لیئے ہم نے سوچا اب گھر آکر ہی تمہیں سر پرائیز دیں۔ ۔۔
آنسہ نے جنت کے سر پر پیار کیا
آپکو کیا ہوا تھا مامی ایسی کیا بات ہوگئی تھی کے آپ بے ہوش ہو گئیں؟ ؟
جنت نے سر اٹھا کر پوچھا
بس میری جان کوئی بات تھی میں تمہیں وقت آنے پر بتاونگی یہ بتاو میری بچی نے کچھ کھایا ہے؟
آنسہ نے بات بدلی
جی کھا لیا تھا کھانا آپ لوگ بتائیں کیا بناوں کیا کھائیں گے آپ لوگ ؟ اور یہ صہیب اندر کیوں نہیں آئے کہاں گئے ہیں وہ؟
جنت نے پوچھا
وہ ہماری سیٹ کروانے گیا ہے ہم کل صبح ہی کراچی جا رہے ہیں۔ ۔ تم بھی ہمارے ساتھ جاوگی۔۔
آنسہ نے بتایا
اچھا صہیب بھی چلیں گے ہمارے ساتھ ؟
نہیں وہ یہیں رہے گا اس کے اوفس کا کام ہے دو تین مہینے بعد وہ بھی آجائے گا ٹھیک ہے۔ ۔۔
دو تین مہینے ۔۔ مامی مم میں اتنی دیر ان کے بغیر ۔۔ میں نہیں جاونگی۔ ۔
جنت نے ادسی سے کہا
جنت بیٹا کیا ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتی تین مہینے۔ ۔۔ اور پھر وہ جلدی آجائے گا ہم سب بھی تو اداس ہو تے ہیں تم لوگوں کے بغیر کیا ہمارا دل نہیں؟
بشیر نے جنت کو ایموشنل کیا
مامو ایسی بات نہیں ہے میں تو خود آپ لوگوں کو مس کرتی ہوں بس صہیب یہاں اکیلے ہونگے مجھے پریشانی ہوگی۔۔
جنت نے پریشانی سے کہا
وہ یہاں اکیلا نہیں ہوگا اسکا دوست ہے وہ اسکے ساتھ رہے گا۔ ۔تم فکر مت کرو بس اپنا سامان پیک کرو اور رات کے کھانے کا چھوڑو کچھ بازار سے منگوا لینا ۔۔۔ ہم تھوڑا آرام کر لیں بہت تھک گئی ہوں میں۔۔
آنسہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئیں
اچھا ٹھیک ہے آپ لوگ آرام کریں میں سامان پیک کر لیتی ہوں۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز گھر کے باہر کھڑا ہو کر بیل بجانے ہی لگا کے اسے خیال آیا سب آرام کر رہے ہونگے اس نے اپنا مخوصوص چاقو نکالا اور دروازے کا لوک کھول کر اندر آگیا۔ ۔۔ گھر میں خاموشی تھی گویا سب سو رہے تھے وہ خاموشی سے چل کر روم میں گیا۔ ۔
جنت خود کو کمفرٹر میں چھپائے گہری نیند سو رہی تھی۔ ۔۔ضوریز آہستہ سے چل کر اس کے پاس آکر بیٹھ گیا اور اُسے دیکھنے لگا۔ ۔۔
جنت تم کتنی پیاری ہو۔ ۔ دل کرتا ہے تمہیں دیکھتا رہوں مگر ماں نے منع کیا ہے کیسے بتاوں انہیں کے تم اب میرے دل میں بسنے لگی ہو۔ ۔۔ کاش جنت تم بھی مجھ سے اتنی محبت کرو جتنی صہیب سے کرتی ہو۔ ۔ میں نہیں جانتا وہ تم سے کتنا پیار کرتا ہوگا مگر میں۔ ۔ میں تمہیں بہت چاہنے لگا ہوں۔ ۔ تمہارا یہ چہرہ میری آنکھوں میں چپک سا گیا ہے۔ ۔۔
ضوریز دل ہی دل میں جنت سے باتیں کرنے لگا
ضوریز نے ہاتھ بڑھا کر جنت کے چہرے پر آئے بال ہٹائے۔ ۔۔ضوریز جنت کے نقوش میں گم ہونے لگا۔۔
ضوریز باہر آو۔ ۔۔
آنسہ نے ضوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آہستہ مگر سخت لہجے میں کہا ضوریز ایک دم چونک کر سیدھا ہوا اور آنسہ کے پیچھے چلتا باہر آگیا۔ ۔
میں نے منع کیا تھا تمہیں کے جنت کے پاس مت جانا اسے دیکھنا بھی مت مگر تم تو اسے اتنی فرصت سے دیکھ رہے تھے ۔۔ کیوں دیکھ رہے تھے تم اسے اسطرح وہ تمہاری کچھ نہیں لگتی ضوریز۔ ۔۔
آنسہ کو حقیقتً ضوریز پر بہت غصہ آیا تھا
مم میں تو بس۔۔۔ ماں مجھے غلط مت سمجھیں میں اسے بری نظر سے نہیں دیکھ رہا تھا۔ ۔
ضوریز نے گھبرا کر کہا
ہنہ اچھی نہ بری تم کسی بھی نظر سے اسے نہیں دیکھو گے ضوریز۔ ۔۔ جو قیامت اس پر ٹوٹ گئی ہے میں نہیں چاہتی کے جزبات میں آکر میں اسے سب بتا دوں ۔۔ دور رہو اس سے سمجھے۔ ۔
آنسہ نے انگلی اٹھا کرضوریز کو کہا
ماں ۔۔ مجھے وہ اچھی لگنے لگی ہے میرا دل کرتا ہے میں اسے دیکھوں۔ ۔ میں اب اسے دیکھے بنا نہیں رہ سکتا ماں۔ ۔
ضوریز نے بے بسی سے کہا
شٹ اپ ضوریز ۔۔ صہیب کی جان بستی تھی جنت میں۔ ۔ جنت کے دل میں آج بھی صہیب زندہ ہے اس حوالے سے جنت مجھے بہت عزیز ہے شاید تم سے بھی زیادہ۔۔۔ اس لیئے میں نہیں چاہتی کے تم جنت کے پاس بھی آو اور اسے کوئی نقصان پہنچے۔ ۔ ضوریز یہ دیکھو میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں میری بات مانو اور مزید پریشان مت کرو ہمیں۔ ۔۔
آنسہ نے ضوریز کے آگے ہاتھ جوڑے ۔۔ دکھ کی شدت سے ضوریز سے کچھ بولا ہی نہیں گیا
مم ماں۔ ۔۔۔ ایم سس سوری۔ ۔ میں۔ ۔ اففف میں آپ لوگوں کو پریشان نہیں کرونگا ۔۔ مجھ سے اتنی بدگمان مت ہوں۔ ۔
ضوریز کے آنسو بہنے لگے۔ ۔
ایم سوری بچے نا جانے غصے میں کیا کیا بول گئی بس میری بات کو سمجھو جو میں کہ رہی ہوں بس وہ کرو۔ ۔۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں بہت محبت کرتی ہوں مگر جنت کا دل بہت چھوٹا ہے اسے کیسے سنبھالنا یہ تم نہیں جانتے۔ ۔۔ تم سمجھ رہے ہو نا؟
آنسہ کو احساس ہوا کے وہ جزبات میں آکر کچھ زیادہ ہی بول گئیں ہیں۔ ۔۔ اب انہوں نے نرم لہجے میں کہا
جی ماں میں سمجھ رہا ہوں اب آپکو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ ۔ یہ میں نے آپ لوگوں کی سیٹ بُک کروا دی ہیں کل صبح دس بجے کی فلائٹ ہے۔ ۔ میں جا رہا ہو رات باہر ہی رہوں گا صبح آجاونگا آپ لوگوں کو ڈراپ کرنے باقی جنت کو کیسے ہینڈل کرنا ہے آپ دیکھ لینا میں صہیب کا فون آپکو دے دیتا ہوں اسے بول دیجئے گا کے میں گھر بھول گیا۔۔۔
ضوریز نے ٹکٹ اور موبائل فون آنسہ کو دیا
ہمم ٹھیک ہے ضوریز بیٹا اپنا خیال رکھنا۔ ۔ ہم تم سے محبت کرتے ہیں تمہارے جو بھی کام ہیں وہ مکمل کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے پاس آجاو جلد۔ ۔ ہم انتظار کر رہے ہیں تمہارا جب تم اپنی دادو سے ملے گے تو دیکھناتم کتنا خوش ہو گے۔ ۔۔
آنسہ نے ضوریز کا ماتھا چوما
جی ضرور آپ آرام کریں میں جارہا ہوں کل ملاقات ہو گی اپنا خیال رکھیئے گا گُڈ بائے!
ضوریز نے آنسہ کا ہاتھ چوما اور چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامی ضوریز کھانے پر نہیں آئیں گے کیا؟
جنت نے تیسری بار آنسہ سے پوچھا
کیا ہو گیا جنت بار بار ایک ہی بات پوچھ رہی ہو بیٹا وہ صبح آئے گا بہت مصروف ہے۔۔۔ پہلے ہی میری وجہ سے اسکے کام کا اتنا لوس ہوا ہے تمہارے پاس ہم ہیں نہ تم اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو۔ ۔
آنسہ ناراض ہوئیں
نن نہیں مامی ایسی بات بس کچھ عجیب لگ رہا ہے صہیب اتنے بدلے بدلے لگ رہے ہیں کیا آپکو وہ بدلے ہوئے نہیں لگے؟
جنت نے پوچھا
بلکل نہیں ویسا ہی ہے ہوسپٹل میں مجھ سے اتنی باتیں کی اور بتایا کے تم لوگوں نے مری میں کتنا انجوئے کیا۔ ۔۔ بس مصروف بہت ہے آج ۔۔۔اس لیئے تمہیں لگ رہا ہے اچھا اب جلدی سے کھانا ختم کرو پھر پیکینگ بھی کرنی ہے
آنسہ نے جنت کا دیہان بٹایا
اوکے مامی میں سب پیک کر دونگی آپ ٹینشن نہ لیں۔۔۔
جنت عادتًا فوراً بہل گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ لوگ خیال رکھیئے گا اپنا۔ ۔ میں مس کرونگا آپ سب کو۔۔۔
ضوریز نے روتی ہوئی جنت کو دیکھ کر کہا
صہیب آپ جلدی آیئے گا میرا دل نہیں لگے گا آپ کے بغیر۔ ۔۔
بس رو مت جنت اور بیٹا اپنی چادر آگے کرو۔ ۔ اچھا بیٹا ہم تمہارا انتظار کریں گے۔ ۔ اپنا خیال رکھنا۔ ۔۔
آنسہ نے جنت کی چادر اچھی طرح آگے کی اور ضوریز کا ماتھا چوما
ضوریز نے بھی جُھک کر آنسہ کا ماتھا چوما۔ ۔۔
دور کھڑا کوئی اِنکی تصویریں بنانے میں مصروف تھا وہ ضوریز کی ایک ایک حرکت کی تصویر بنا رہا تھا۔ ۔۔
اچھا بابا پہنچ کر بتا دیجئے گا ۔۔ اپنا خیا ل رکھیئے گا۔ ۔
ضوریز بشیر کے گلے لگا
جنت بھیگی آنکھوں سے ضوریز کو دیکھتی رہی۔ ۔۔ ضوریز نے چُھپکے سے ایک نظر جنت پر ڈالی اور سب کو الوداع کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ کیا محبتیں بانٹی جا رہی ہیں ضوریز صاحب۔ ۔ اب یہ تصویریں مارک کو بھیجوں گا۔ ۔ اور وہ خود نہ صرف تمہیں بلکے تمہارے خاندان کو مار دے گا ہاہاہا ۔۔۔ تو یہ جنت ہے یہ بلبل تو بہت حسین ہے۔ ۔۔ اسے میں اپنے پاس لے آونگا ویسے بھی اس عمر میں مجھے بہت ضرورت ہے کسی کی جو میرا خیال رکھ سکے ہاہاہا۔ ۔۔ ضوریز اب تم گئے ۔۔ ہاہاہا ٹائیگر سے مقابلہ کر رہے تھے نا اب پتا لگے گا تمہیں مجھ سے مقابلہ کرنے کا انجام۔ ۔۔
ٹائیگر نے باری باری سب تصویریں مارک کو بھیج دی سوائے جنت کی تصویروں کے۔ ۔۔ تصویروں کے ساتھ میسج میں لکھ دیا کے ضوریز اب ہمارے کسی کام کا نہیں رہا اس کی وجہ سے مسئلہ ہو سکتا ہے وہ اپنی فیملی کا خیال کرنے لگا ہے اسکی توجہ اپنے کام کی طرف نہیں ہے مجھے حکم دیں میں کیا کروں۔ ۔۔
میسج لکھ کر مارک کو سینڈ کیا اور ایک مکرو ہنسی ہنستا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
zoraiz has met with his family without informing us.. This is not goos for us… Now he is not trustworthy for us any more.. cheema i want u to keep an eye on zoraiz if he will meet with his family next time just kill his family u got it?
(ضوریز نے اپنی فیملی سے ملاقات کی ہم سے پوچھے بغیر۔ ۔ یہ اچھا نہیں ہمارے لیئے۔ ۔ اب وہ ہمارے لیئے قابلِ اعتبار نہیں رہا چیما میں چاہتا ہوں تم اس پر نظر رکھو اگر وہ دوبارا اپنی فیملی سے ملا تو اسکے خاندان کو ختم کر دو سمجھ گئے؟ )
مارک نے چیما سے کہا مارک اکثر چیما سے کام لیتا تھا اور اس کام کی بھاری قیمت دیتا تھا
Yes mark i got u.. Don’t u worry i will follow him just send me some advance money !
(ہاں مارک میں سمجھ گیا۔ ۔ فکر مت کرو میں اسکا پیچھا کرونگا بس میرے اکاونٹ میں کچھ رقم بھیج دو)
چیما ہمیشہ کام سے پہلے کچھ رقم مارک سے لیتا
Advance is already transferred in ur account
Okay take care!
(ایڈوانس تمہارے اکاونٹ میں ڈال ہے دیا ہے اوکے خیال رکھنا)
مارک نے فون بند کیا۔
مارک کو ہمشہ ہماری یاد جب ہی آتی ہے جب کوئی اپنا بندہ مروانا ہو یا پھر اپنے لیئے کوئی بندہ چاہیئے ہو۔ ۔۔
چیما نے اپنے ساتھی سے کہا
اب کسے مروانا ہے اُس نے؟
چیمے کے آدمی نے پوچھا
یاد ہے وہ بچاری عورت کیا نام تھا اسکا ہاں ذاہدہ اور اسکا شوہر تھا زاہد۔ ۔ ان دونوں سے میں نے ایک بچہ اغوا کروایا تھا۔ ۔ وہ بچہ تو اب بڑا ہو گیا ہے مگر اسکی بد قسمتی کے وہ اپنی فیملی سے مل گیا۔ ۔ اب مارک صاحب کو ہماری یاد آئی ہے کے اگر وہ کوئی غداری کرے تو اسے اور اسکی فیملی کو مار دو۔ ۔۔ یہ اس نے تصویریں بھیجی ہیں اس کی اور اس کے گھر والوں کی تم سب اس لڑکے پر نظر رکھو اگر زرا سا بھی اس پر شک ہو اسے مار دینا۔ ۔۔ ویسے یہ کافی خاص لڑکا تھا مارک کااکثر میں نے سنا تھا کے مارک اسکی تعریف کرتا ہے خیر جب تک کوئی وفاداری کرتا ہے مارک اسے نوازتا ہے جو نہ کرے وہ پھر بچ نہیں پاتا۔ ۔۔ او گدھوں تم لوگوں کو سمجھ بھی آ رہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔ ۔۔
چیمے نے اپنے سامنے بیٹھے آدمی کو اونگھتے دیکھا تو اسے لات مار کر پوچھا
جی جی آقا سب سمجھ آ رہی ہے آپ حکم کریں بس ہم آج سے ہی اس پر نظر رکھیں گے۔ ۔
ہممم شاباش اب جاو اپنا کام کرو۔ ۔۔
چیما نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو جانے کا کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب لوگ ٹھیک ہیں ماں؟
ضوریز نے آنسہ کو فون کیا
ہاں ہم سب ٹھیک ہیں بس تمہاری دادو بہت یاد کر رہی ہیں صہیب کو۔ ۔ سمجھ نہیں آتی آخر اسطرح کب تک ہم یہ بات ان سب سے چھپاتے رہیں گے۔ ۔
آنسہ افسرداہ ہوئیں
ماں میں جانتا ہوں آپ کے لیئے یہ سب بہت مشکل ہے بس مجھے تھوڑا سا وقت اور دیں میں اپنا ایک کام کر لوں پھر بات کرونگا اپنے باس سے کے مجھے اسکے ساتھ مزید کام نہیں کرنا آپ دعا کریئے گا وہ مان جائے۔ ۔
ضوریز بھی پریشان ہوا
اللہ کرے مان جائے اور اگر نہ بھی مانا تم بس سب چھوڑ کر یہاں آجانا ہمارے پاس۔۔۔
ماں یہ سب چھوڑنا اتنا آسان نہیں۔۔ خیر جنت ٹھیک ہے؟
ضوریز کے دل کی بات زبان پر آگئی
ہممم ٹھیک ہے تمہیں فون کر رہی تھی بار بار میں نے سمجھایا کے تم مصروف ہو تو جا کر سوئی ہے ابھی۔ ۔ بس جتنا ہو سکے اسے اگنور کرو۔ ۔۔ میں چاہتی ہوں تم اسے صہیب کے بغیر جینے کی عادت ڈال دو۔ ۔ سوچا تو یہ ہی ہے جب وہ اتنا عرصہ صہیب کے بغیر رہے گی تو اسکی جدائی کی خبر بھی سہ جائے گی۔ ۔
آنسہ نے سوچتے ہوئے کہا
ماں ۔۔۔ کک کیا ایسا نہیں ہو سکتا کے جنت اور مم میں۔ ۔۔
ضوریز نے بات ادھوری چھوڑ دی
نہیں ضوریز جس دن اسے پتا لگا کے تمہاری وجہ سے ہی اس نے صہیب کو کھویا ہے وہ تمہیں دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گی۔ ۔۔ میں تمہیں کوئی سُہانے خواب نہیں دیکھنا چاہتی۔ ۔۔ جنت بہت معصوم ہے یوں سمجھو کچھ حد تک بیوقوف بھی مگر میں اسکی بیوقوفی کا فائدہ ہرگز نہیں اٹھاونگی۔ ۔۔ میں جانتی ہوں وہ صہیب کے علاوہ کسی کو بھی اپنی زندگی میں شامل نہیں کرے گی اب وہ چاہے اسکا جڑواں بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ ۔۔
آنسہ نے ضوریز کو حقیقت بتائی
ہممم یہ وقت پر چھوڑ دیتے ہیں ماں ہو سکتا ہے جیسا آپ سوچ رہی ہیں ویسا نہ ہو۔ ۔ خیر اس بات کی فکر آپ مت کریں کے میری وجہ سے جنت کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔۔ میں بعد میں بات کرونگا آپ سے آپ آرام کریں ٹیک کئیر۔۔
ضوریز کا دل آنسہ کی باتوں سے اداس ہوا!
اوکے بیٹا اللہ حافظ۔۔۔!
ضوریز نے فون بند کیا ۔۔ سامنے دیکھا ایک آدمی بہت غور سے اسے دیکھ رہا تھا ضوریز نے اسے دیکھا تو وہ گھبرا کر وہاں سے چلا گیا۔ ۔۔ ضوریز کو اس پر شک ہوا مگر پھر اپنا وحم سمجھ کر جھٹک دیا اور اپنے اگلے مشن کی تیاری کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Hello jack where were you ? I was calling you buddy?
(ہیلو جیک تم کہاں تھے میں کال کر رہا تھا)
ضوریز نے شکر کیا کے جیک نے اسکا فون اٹھا لیا
Sorry zoraiz i was very occupied actually i was in America from last 4 days anyways tell me about u.. R u fine where is tigger?
(سوری ضوریز میں بہت مصروف تھا دراصل میں امریکہ میں تھا پچھلے چار دن سے۔ ۔ خیر تم اپنا بتاو ٹھیک ہو ٹائیگر کہاں ہے؟ )
جیک نے پوچھا
Yes i am absolutely fine i don’t know about tigger he was disappeared but i will find him soon.. Anyhow i am going to kill that 3rd man he is coming next week in Islamabad… I will follow him plz tell this to mark.. I am on my mission now!
(ہاں میں بلکل ٹھیک ہوں ٹائیگر پتا نہیں کہاں ہے وہ غائب ہو گیا تھا لیکن میں اسے ڈھونڈ لونگا جلد ہی۔ ۔ بہرحال میں اس تیسرے آدمی کو مارنے جارہا ہوں وہ اگلے ہفتے اسلام آباد آرہا ہے میں اسکی خبر لے رہا ہوں پلیز یہ مارک کو بتا دو میں اب اپنے مشن پہ ہوں! )
Hmm that’s good zoraiz i will tell this to mark don’t worry just focus on ur mission!
(ہممم یہ اچھی بات ہے میں مارک کو بتا دونگا تم پریشان مت ہو اپنے مشن پر دیہان دو! )
Okay thanks jack i have to shift in hotel i will call u later good bye!
(شکریہ جیک۔ ۔ مجھے ہوٹل شفٹ ہونا ہے بعد میں بات ہوگی گڈبائے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاڑ چیما صاب وہ لڑکا تو میڑ جعفڑ کو ماڑنے کی تیاڑی کڑرہا ہے میں دو دن سے اسکا پیچھا کر ڑہا ہوں اوڑ یہ کام ماڑک نے ہی اسے دیا ہے۔ ۔۔
چیما کے لاص آدمی نے اپنی خراب اردو میں ضوریز کی خبر دی
اچھا پھر مارک کیوں مروانا چاہ رہا ہے اس بچارے کو۔ ۔ چلو خیر میں مارک کو بتا دونگا تم لوگ اپنا کام جاری رکھو اسکا پیچھا کرنا مت چھوڑنا ۔۔۔
جو تمہاڑا حکم ۔ ۔۔
آدمی نے کان صاف کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز اُسی ہوٹل میں شفٹ ہو گیا جس میں میر جعفر رہ رہا تھا اس کے ارد گرد بہت سکیورٹی تھی اسی وجہ سے ضوریز کو اسے مارنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ ۔۔
ٹائیگر بھی بہت احتیاط سے ضوریز کا پیچھا کرتا رہتا اور اسکے خلاف ثبوط اکھٹے کرتا تاکے مارک ضوریز کو خود سزا دے۔ ۔۔
ضوریز کا سارا دیہان میر کر مارنے پر تھا۔ ۔۔وہ پچھلے دو ہفتوں سے موقع کی تلاش میں تھا مگرسکیورٹی کی وجہ سے محتاط تھا ۔۔۔
ضوریز نے بہت سوچ سمجھ کر ایک پلان بنایا۔ ۔۔
میر روزانہ سویمنگ کرنے کلب میں جاتا۔ ۔ ضوریز بھی ایک دن اس کے پیچھے کلب گیا۔ ۔ میر نے سویمنگ سوٹ پہنا اور سویمنگ کرنے لگا۔ ۔ ضوریز نے اسے غور سے دیکھا وہ بہت مہارت سے سویمنگ کر رہا تھا۔ ۔اس کے لیئے ایک سویمنگ پول خاص طور پر خالی کروایا گیا تھا وہ اکیلا ہی سویمنگ کرنے میں مصروف تھا۔ ۔
ضوریز گارڈز سے نظر بچا کر سومینگ کے آخری حصے کی طرف گیا ۔۔ میر اپنی سویمنگ کے مزے لے رہا تھا کبھی سر نیچے کر کے پول میں غائب ہو جاتا کبھی الٹا ہو کر تہرنے لگتا۔ ۔ ضوریز احتیاط سے سویمنگ پول کے اندر اسطرح گیا کے دیکھنے والوں کو پتا نہیں چلا ضوریز اپنی سانس روک کر پورا سویمنگ پول کے اندر چھپ گیا میر سویمنگ کرتے ہوئے اپنے کرتب بھی کر رہا تھا۔ ۔۔۔۔ میر جیسے ہی پورا اندر ہوا ضوریز نے اسے پکڑ کر اسکے منہ اور ناک پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ۔۔ میر تڑپنے لگا اور کچھ ہی سکینڈ میں اسکی سانس بند ہونے لگی جیسے ہی میر بے جان ہوا ضوریز نے اسکو ایک رسی کی مدد سے پول کے آخری حصے میں بنی سیڑھی کے ساتھ باندھ دیا۔ ۔ اسطرح میر مرنے کے باوجود بھی اوپر نہ آسکا۔ ۔۔
ضوریز نے اپنا کام کیا اور بہت احتیاط سے پول سے نکل گیا۔ ۔
ٹائیگر جو کب سے ضوریز کو ہی پلاش کر رہا تھا اسے پول سے نکلتا دیکھ کر سمجھ گیا کے اس نے میر کا کام کر دیا ہے۔ ۔ ٹائیگر چاہتا تھا کے ضوریز میر کو نہ مارے اگر ضوریز نے میر کو مار دیا تو مارک دوبارا ضوریز پر اعتبار کرنے لگے گا اور وہ یہ نہیں چاہتا تھا۔ ۔۔
ضوریز تیزی سے ساتھ بنے دوسرے سویمنگ پول میں چلا گیا اور اطمینان سے سویمنگ کرنے لگا۔ ۔۔ ٹائیگر کو ضوریز پر بہت غصہ آیا ٹائیگر ایک گارڈ کے پاس گیا اور بولا۔ ۔
میں نے اس لڑکے کو اس سویمنگ پول سے نکلتے دیکھا ہے۔ ۔۔ مجھے لگتا ہے اس نے تمہارے باس کو کوئی نقصان پہنچایا ہے دیکھو کہاں ہے وہ۔ ۔۔
ضوریز کی نظر جیسے ہی ٹائیگر پر پڑی وہ سمجھ گیا کے ٹائیگر اس کے خلاف بول رہا ہے۔ ۔ ضوریز فوراً باہر نکلا اور کپڑے بدل کر اپنی گن اپنے پاس رکھی۔ ۔۔
ایک گارڈ نے چھلانگ لگا کر سویمنگ پول میں دیکھا تو میر کا مردہ جسم بندھا ہوا تھا۔ ۔۔
دوسرے گارڈ نے ٹائیگر کو پکڑا
بتا کون ہے تو کس کا آدمی ہے۔ ۔۔
ارے میں تو نیکی کر رہا ہوں وہ آدمی ارے کہاں گیا وہ۔ ۔ شٹ بھاگ گیا۔ ۔۔ تم لوگوں کو گارڈ کس نے رکھا ہے بھاگ گیا وہ آدمی جس نے اسے مارا ہے۔۔۔
ٹائیگر نے اپنا آپ چھوڑوانا چاہا
اچھا تجھے سب پتا ہے اب چل ہمارے ساتھ سنو اسے پکڑ کر گاڑی میں ڈالو ہم میر کو ہوسپٹل لے کر جا رہے ہیں جلدی کرو اور ہاں یہاں سے کوئی باہر نہیں جائے گا سب کو بند کر دو یہیں۔ ۔
ایک گارڈ نے چلا کر بولا۔ ۔ دو گارڈز ٹائیگر کو مارتے ہوئے باہر لے جانے لگے۔ ۔۔
ارے تم لوگ پاگل ہو میں نے ہی بتایا ہے اور مجھے ہی مار رہے چھوڑو مجھے تم جانتے نہیں میں کون ہوں۔ ۔
ٹائیگر مار سے بچنے کے لیئے اپنے ہاتھ آگے کر رہاتھا
ہاں بیٹا یہ ہی جاننا ہے کے تو کون ہے چلو اسے اڈے پر لے کر چلو یہ بھاگنے نہ پائے۔ ۔۔
ضوریز جو بہت آسانی سے سویمنگ کی دیوار پھلانگ کر اس کے اوپر بنی چھت پر چھپا تھا۔ ۔ ٹائیگر کو پیٹتے دیکھ کر مسکرا دیا اور چھت کے سائیڈ پر بنے پائپ سے لٹک کر پچھلی طرف اتر گیا۔ ۔۔
موبائل نکال کر جیک کو ڈن کا میسج کیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No doubt he did good job…
(بے شک اس نے بہت اچھا کام کیا)
مارک کو جیسے ہی ضوریز کا پتا لگا اس نے کھلے دل سے اسکی تعریف کی
Yes surely he did.. Now what next ?
(واقعی اس نے اچھا کام کیا ۔۔ اب آگے کیا کرنا ہے)
جیک نے مارک سے پوچھا
Book a seat for zoraiz i want him back
(ضوریز کی سیٹ کروا دو میں اسے واپس لانا چاہتا ہوں)
مارک ضوریز کو کھونا نہیں چاہتا تھا
okay & what about tigger?
اوکے اور ٹائیگر کا کیا کرنا ہے؟ )
جیک نے پوچھا
Hahaha let him enjoy some desi beating.
(ہاہاہا اسے دیسی مار سے لطف اندوز ہونے دو)
Ahaha okay boss !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامی آخر کب تک آپ مجھے صہیب سے دور رکھیں گی۔ ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیوں کر رہی ہیں آپ یہ سب۔ ۔ میری دوستیں کہتی ہیں آپ میری اور صہیب کی محبت سے جلنے لگیں ہیں جب ہی یہ پابندی لگا دی ہے آپ نے۔ ۔
جنت جو تین ہفتوں سے بہت خاموشی کے ساتھ آنسہ کی بات مان رہی تھی آج پھٹ پڑی
جنت بیٹا تم اتنی جلدی کیوں سب کی باتوں میں آ جاتی ہو کیا تمہیں اپنی مامی پر بھروسہ نہیں ہے؟
آنسہ نے دکھ سے پوچھا
ہے آپ پر بھروسا جب ہی تو مان رہی ہوں آپکی بات مگر آپ خود سوچیں بلاوجہ آپ مجھے صہیب سے بات نہیں کرنے دیتں۔ ۔۔ نہ ہی وہ ایک بار بھی کراچی آیا ہے آخر ایسی بھی کیا غلطی ہو گئی صہیب سے جو آپ سب اس سے بات تک نہیں کرنے دیتے۔ ۔۔
جنت نے تنگ آکر کہا
میری جان ادھر آو میرے پاس۔ ۔
آنسہ نے جنت کو اپنے ساتھ بیٹھایا
میں نے تمہیں کبھی اپنی بہو نہیں سمجھا جنت بیٹی سے بڑھ کر پیار کیا ہے۔۔ جتنا پیار مجھے صہیب سے ہے اتنا ہی تم سے ہے۔ ۔ میرے پیار پر شک مت کرو جنت بس کچھ ایسی مجبوری ہے کے فل حال تم صہیب سے بات نہیں کر سکتی اپنی مامی پر بھروسہ کرو جنت کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں؟
آنسہ نے بہت پیار سے پوچھا
مامی میں نے بھی آپکو ہمیشہ ماما جیسا سمجھا ہے میں تو آپ سب سے بہت پیار کرتی ہوں بس مجھے ادسی ہوتی ہے صہیب کے بنا… میرا دل کرتا ہے اسے دیکھنے کو اسے فون کرو تو بات ہی نہیں کرتا۔ ۔ کہتا ہے آپ نے منع کیا ہے۔ ۔ بس ایک بار مجھے وجہ بتا دیں میں خود کبھی صہیب کو فون نہیں کرونگی۔ ۔۔
جنت نے دوبارا پوچھا
اچھا ٹھیک ہے بہت جلد میں تمہیں وجہ بھی بتا دونگی بس تم زیادہ سوچا مت کرو۔۔۔ میری بچی میں کبھی تمہارا برا نہیں سوچوں گی بس یہ یاد رکھنا۔۔۔
آنسہ نے جنت کا ماتھا چوما
جی مامی مجھے پتا ہے ۔۔۔اچھا بتائیں کھانے میں کیا بناوں؟ ۔
جنت کا دل بہل گیا اور وہ کھانے کا پوچھنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیک سے بات کر کے ضوریز کو لگا اسکا یہاں سے جانا بہت مشکل ہے اسکا بہت دل کیا کے وہ جنت سے بات کرے۔ ۔۔
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے جنت کو فون کیا
جنت کا فون بجا تو اس نے ایک نظر نمبر کو دیکھا۔ ۔۔
اوہ صہیب آج مجھے خود فون کر رہے ہیں۔ ۔
جنت دل ہی دل میں خوش ہوئی۔ ۔۔ جنت نے خاموشی سے فون اٹھایا اور اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بات کرنے لگی۔۔
آج میری یاد کیسے آگئی آپکو ؟
جنت نے روٹھے ہوئے لہجے میں کہا
میں تمہیں بھولا ہی کب تھا جنت۔ ۔ ہاں مگر آج بہت شدت سے تمہاری یاد آئی کے خود کو روک نہیں سکا۔ ۔
ضوریز نے آنکھیں بند کیں
یہ سب کیا ہے صہیب اب آپ سب چھوڑ کر کراچی آ جائیں اور جو بھی مسئلہ ہے آپ لوگوں کے درمیان اس کا حل نکالیں میں مزید آپ کے بنا نہیں رہ سکتی۔ ۔
جنت کا لہجہ بھیگنے لگا
کیا بتاوں جنت میں یہ کام اسطرح اتنی اچانک چھوڑ کر نہیں آسکتا۔ ۔
ضوریز بھی بے بس تھا
ایسا بھی کیا کام دے دیا ہے آپ کو اوفس والوں نے زرا مجھے بھی بتائیں۔ ۔
جنت نے اکتا کر پوچھا
اچھا بتاوں کیا کام دیا ہے تم یقین کر لو گی؟ ۔
ضوریز جنت کو اپنے سامنے تصور کرنے لگا
جی بتائیں ایسا بھی کیا کام ہے بھلا؟
جنت نے آہستہ آواز میں پوچھا
ہممم جنت بی بی اگر میں یہ کہوں کے کسی کا قتل کرنا تھا اس میں مصروف تھا تو یقین کر لوگی؟
ضوریز نے جنت کے چہرے کو تصور کیا اور مسکرانے لگا
جی کر لونگی۔۔۔ یقینً کسی لال بیگ یا پھر چھپکلی کے قتل کی تیاری کر رہے ہو گے آپ اور وہ بھی مار نہیں سکتے ۔۔
جنت نے مزاق اڑیا
ہاہاہا ایسا بلکل نہیں ہے جناب۔ ۔۔ یاد ہے وہ جو ہوٹل میں دو قتل ہوئے تھے۔ ۔۔ جس کا سن کر تم اتنی پریشان ہو گئی تھی ڈر گئی تھی؟
ضوریز نے جنت سے پوچھا
آمم جی یاد ہے اچھی طرح ہنہ اس دن کے بعد سے ہی تو یہ سب مصیبتیں آئیں ہیں۔ ۔۔
ہاں تو وہ قتل میں نے ہی کیئے تھے جنت۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کو بتایا
اچھا بس زیادہ لمبی لمبی مت چھوڑو ۔۔ ایک بار لال بیگ مارنے کو کہا تھاوہ تو آپ سے مارا نہیں گیا اور انسانوں کو ماریں گے اچھا اب یہ فضول باتیں چھوڑیں اور بتائیں کب آ رہے ہیں میرے پاس۔ ۔۔
جنت نے ضوریز کی باتوں کو مزاق میں اڑایا۔ ۔
دل تو کر رہا ہے ابھی آجاوں مگر مجبوری ہے خیر مجھے تم سے کہنا تھا کے میرا وٹس اپ کا نمبر بدل گیا ہے میں تمہیں وہ سینڈ کر دونگا اب اسی پر رابطا کرنا۔۔
ضوریز نے آخر کار اپنا پرسنل نمبر جنت کو دیا
نمبر کیوں بدل لیا صہیب؟
جنت حیران ہوئی
بس ویسے ہی یہ سم زیادہ ٹھیک تھی خیر تم اپنا خیال رکھنا اور رونا مت۔ ۔ مجھے معلوم ہو جاتا ہے تم جب بھی روتی ہو!
ضوریز کو لگا جنت ابھی بھی رو رہی ہے
آپ آجائیں ایک بار مجھ سے مل لیں پھر وعدہ میں کبھی نہیں رونگی۔ ۔
جنت نے اپنے آنسو صاف کیئے
پکا وعدہ پھر نہیں رو گی؟
ضوریز نے پوچھا
جی پکا وعدہ۔ ۔۔
ہمم تو پھر آنا پڑے گا ایک بار ۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے میں آونگا کسی دن سرپرائز دونگا تمہیں ۔۔ بتاو کیا لاوں تمہارے لیئے یہاں سے؟
ضوریز نے نہ چاہتے ہوئے بھی جنت سے وعدہ کر لیا
سچ میں شدت سے انتظار کر رہی ہوں صہیب میں۔۔۔
جنت بہت خوش ہوئی
ششش آہستہ بولو پلیز یہ بات کسی کو بتانا مت ماں کو بھی نہیں۔ ۔۔ میں سرپرائز دونگا اوکے؟
ضوریز نے جنت کو بہلایا
اچھا ٹھیک ۔۔ اوہ ہاں آپ پوچھ رہے تھے مجھے کیا چاہیئے۔ ۔۔ اممم ایسا کریں بہت بڑا سا ٹیڈی بئیر لے آنا مگر ریڈ کلر کا ہونا چاہیئے۔ ۔۔
جنت نے فرمائیش کی
اوکے میری۔ ۔۔
ضوریز میری جان کہتا کہتا روک گیا۔ ۔
اوکے میری جنت میں فون بند کر رہاہوں اپنا بہت خیال رکھنا۔ ۔ !
ضوریز نے گہرا سانس لے کر فون بند کر دیا اور سوچنے لگا کے وہ کیسے کراچی جائے۔ ۔
