Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 26)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 26)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
کافی رات گزر جانے کے بعد بھی ضوریز کو فرش پر نیند نہیں آئی وہ کوفت سے اٹھا اور مزے سے سوتی ہوئی جنت کو دیکھنے لگا۔…
ہنہ کتنے مزے سے سو رہی زرا سا بھی خیال نہیں ہے میرا محترما کو۔ ۔۔ آہا یہ ہی سوچ لیتی اتنا تھکا ہوا ہوں خیر کبھی اپنا بھی وقت آئے گا جنت بی بی جب آپ بھی ہمارے لیئے کروٹیں بدلا کریں گیں۔ ۔۔
ضوریز جنت کے بالوں کو چھوتا ہوا سوچنے لگا۔ ۔۔ کافی دیر آنکھوں کی پیاس بجھائی اور جیکٹ سے سگریٹ کا پیک نکال کر کمرے سے باہر آگیا۔۔۔۔ صہن کے اُس حصے میں بیٹھ کر سگریٹ پینے لگا جہاں پودے لگے تھے۔ ۔۔
کیا ہوا ضوریز تم سوئے نہیں بیٹا؟
آنسہ جو شاید کچن سے پانی لینے آئی تھی ضوریز کو دیکھ کر اس کے پاس آئی
نہیں ماں بس نیند نہیں آرہی تھی آپ بھی جاگ رہی ہیں اب تک؟
ضوریز نے سگریٹ کو پھینک کر پاوں سے بجھایا
میں تو بس پانی لینے آئی تھی مگر تم سگریٹ کیوں پیتے ہو ضوریز چھوڑ دو یہ سب بیٹا۔ ۔۔
آنسہ نے ضوریز کے ساتھ بیٹھ کر کہا
اب بہت کم پیتا ہوں ماں بس جب کبھی بہت زیادہ ضرورت ہو تب ہی پیتا ہوں۔ ۔
ضویز نے اپنے سامنے لگے ایک پودے کا پتا توڑا
اچھا تو تمہیں کیا ضرورت پڑ گئی آدھی رات کو سگریٹ پینے کی؟
نہیں بس ویسے ہی سر میں درد تھا اور نیند بھی نہیں آرہی تھی اسی لیئے پینے لگا۔ ۔۔
ضوریز نے صفائی پیش کی
بیٹا سر میں درد ہے تو آرام کرو اتنی سردی میں کیوں بیٹھ گئے ہو چلو اٹھو جنت بھی اکیلی ہے۔ ۔۔
آنسہ نے ضوریز کا ہاتھ پکڑا
اچھا ماں چلا جاتا ہوں کمرے میں ویسے بھی جنت کومیرے ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ ۔۔
ضوریز نے اداسی سے کہا
ایسا کیوں کہہ رہے ہو جنت نے کچھ کہا ہے کیا۔ ۔۔؟؟
وہ کیا کہہ سکتی ہے اسکا چہرہ صاف بتاتا ہے کے وہ مجھ سے تنگ ہے۔ ۔۔ ماں کیا جنت کبھی مجھ سے بھی اتنا ہی پیار کرے گی جتنا وہ صہیب سے کرتی ہے؟
ضوریز نے ایک امید سے پوچھا
یہ تو میں نہیں جانتی بیٹا وہ تم سے کتنا پیار کرے گی مگر وہ تمہارے پیار کو قبول ضرور کر لے گی میں جانتی ہوں اُسے۔۔۔ وہ محبتوں سے زیادہ دیر منہ نہیں موڑ سکتی ۔۔۔
آنسہ نے تسلی دی
پتا نہیں ماں کب کرے گی۔۔۔ وہ نہیں جانتی کے مجھے کتنی ضرورت ہے اسکی۔ ۔۔ ہنہ جب کبھی وہ مجھے دیکھتی بھی ہے نا تو یہ سوچ کر دیکھتی ہے کے میں صہیب تو نہیں۔۔۔ پھر اسکا خیال ٹوٹتا ہے تو مجھے صہیب کا قاتل سمجھ کر نفرت سے نظریں پھیر لیتی ہے مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے جب وہ ایسا کرتی ہے۔ ۔۔
ضوریز اپنے ہاتھوں کو دیکھتا ہوا افسردگی سے بولا
ظاہر ہے بیٹا اس بچاری کی دنیا اجڑی ہے اسے ٹائم لگے گا ٹھیک ہونے میں بس تم اسے پیار سے سمجھایا کرو غصہ مت ہوا کرو دیکھنا ان شاءاللہ وہ بہت جلد تم سے محبت کرنے لگے گی۔ ۔ ۔
آنسہ نے ضوریز کو سمجھایا
کیا کروں ماں جب وہ فضول کی بحث شروع کردیتی ہے نا مجھے غصہ آجاتا اور پتا نہیں مجھ سے کنٹرول نہیں ہوت۔۔۔
یہ جنت کی آواز ہے؟ ؟
آنسہ نے ضوریز کو ہاتھ کے اشارے سے روکا
اوہ جی لگتا ہے ڈر گئی ہے میں دیکھتا ہوں۔۔۔
ضوریز بھاگتا ہوا اپنے روم میں آیا آنسہ بھی اس کے پیچھے جلدی سے روم کی طرف گئیں
کیا ہوا جنت میری جان۔۔
ضوریز نے آتے ہی خوفزدہ سی جنت کو اپنے سینے سے لگایا
وو۔ ۔ وہ ہ ہ ات اتنا بب بڑا جج جانور۔ ۔۔ آ آپ نے کہا تت تھا آپ مم میری رکھوالی کک کریں گے جج جھوٹے ہیں آپ مکار ہیں۔ ۔۔
جنت کو اتنی سردی میں بھی پسینے آرہے تھے وہ شاید خواب میں بری طرح ڈر گئی تھی
ارے نہیں جنت بیٹا یہ تو بس ابھی باہر گیا تھا کوئی نہیں ہے یہاں دیکھو ۔۔۔
آنسہ نے جنت کے کندھے پر ہاتھ پھیرا
وہ تھا اسکی آنکھیں ۔۔۔ وہ بب بہت پاس آ گیا تھا مم میرے۔ ۔۔
جنت نے آنسہ کو دیکھ کر کہا
یہ سب کیا ہے ضوریز اتنا کیوں ڈر رہی ہے یہ؟
آنسہ نے ضوریز سے پوچھا
ماں وہ مری میں یہ راستہ بھول گئی تھی اور کسی جنگل کی طرف چلی گئی تھی وہاں کوئی جنگلی جانور آ گیا تھا مگر میں نے اس جانور کو مار دیا تھا۔ ۔ تھوڑے دن لگے گے اِسے یہ سب بھولنے میں۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بتایا
اوہ میرے خدایا۔ ۔ کتنے ایڈونچرز کر کے آئے ہو تم لوگ۔ ۔۔ اسے پانی پلاو ابھی تک ڈر رہی ہے۔ ۔۔
آنسہ نے جنت کو کانپتے ہوئے دیکھا تو اپنے ہاتھ میں پکڑی بوتل ضوریز کو دی
جنت یہ لو پانی پیو ہممم۔۔۔ میں ہوں تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کو خود سے الگ کیا اور پانی کی بوتل اس کے منہ کو لگائی جنت ٹہر ٹہر کر پانی کے گھونٹ بھرنے لگی
ایسا کرو تم یہ پانی اپنے پاس رکھو اور اِسے سولانے کی کوشیش کرو اور ہاں خود بھی سو جاو۔ ۔۔
آنسہ نے کھڑے ہو کر کہا
مگر ماں یہ پانی آپ اپنے لیئے لائی تھیں۔ ۔۔
ضوریز نے بوتل بند کی
تو کیا ہوا میں کچن سے اور لے لونگی۔ ۔۔ چلو شاباش سو جاو تم لوگ اب۔۔۔
آنسہ واپس جانے کے لیئے پلٹی مگر ایک دم رک کر نیچے پڑے تکیے کو دیکھنے لگیں۔ ۔۔
ضوریز تم نیچے فرش پر سو رہے تھے کیا؟
آنسہ نے ضوریز کی طرف پلٹ کر حیرانگی سے کہا
آمممم جج جی وہ آپ جانتی تو ہیں۔ ۔۔
ضوریز نے ایک نظر جنت پر ڈالی جو اب نیند سے اونگ رہی تھی
اوہ جب ہی تو تمہیں نیند نہیں آرہی تھی اتنی سردی میں تم فرش پر سو گئے سر درد تو ہو گا ہی۔ ۔ اففف جنت سے مجھے یہ امید نہیں تھی۔ ۔۔
آنسہ نے افسوس سے جنت کو دیکھ کر سر ہلایا
ارے نہیں ماں میں خود اپنی مرضی سے سویا تھا میں نہیں چاہتا جنت بے آرام ہو اسی لیئے۔۔۔۔ خیر آپ پریشان نہ ہوں میں بیڈ پر ہی لیٹ رہا ہوں۔ ۔۔
ضوریز نے بات بنائی مگر آنسہ کو سمجھ آگئی تھی۔ ۔ وہ سر ہلاتی ہوئی روم سے باہر چلی گئیں۔
ضوریز نے جنت کو ایک طرف لیٹایا اور دروازہ لوک کر کے خود بھی اس کی طرف کروٹ لے کر لیٹ گیا اور سونے کی کوشیش کرنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت کی آنکھ کُھلی تو ضوریز کو اتنا قریب دیکھ کر فوراً اٹھ گئی۔ ۔۔
ہنہ کتنا چلاک ہے۔۔۔ میرے سوتے ہی میرے ساتھ آ کر لیٹ گیا۔ ۔ اففف اللہ جنت تمہاری نیند بھی کیا چیز ہے کچھ پتا نہیں چلتا کے کون آکر لیٹا ہے۔ ۔۔
جنت نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے سوچا
اٹھو یہاں سے دور ہٹ کر لیٹیں ۔۔۔
جنت ضوریز کو دھکا لگا کر خود سے دور کرنے لگی۔ ۔ مگر نازک سی جنت سے ضوریز ایک انچ بھی نہ ہل سکا
اوہووو پتا نہیں کیا کھاتے ہیں اٹھیں یہاں سے۔۔۔
جنت نے اب ضوریز کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا۔ ۔ ضوریز نے بہت مشکل سے اپنی آنکھوں کو کھول کر جنت کو دیکھا
جنت کیا مسئلہ ہے یار ابھی آنکھ لگی تھی میری۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کا ہاتھ پکڑا
مجھے نہیں پتا کچھ بھی۔۔۔ میں آپکو اپنے اتنے پاس برداشت نہیں کر سکتی شرافت سے پیچھے ہو جائیں ورنہ میں جاوں امی کے پاس۔ ۔۔
جنت نے اب انگلی اٹھا کر دھمکی دی
مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ہاں۔ ۔ خود ہی رات میں ڈر کر میرے سینے سے لگی سو گئی تھی اور اب۔۔۔ اففف جنت خاموشی سے لیٹ جاو اب تماشہ مت بناو۔ ۔۔ ۔
ضوریز نے جنت کے ہاتھ کو ایک جھٹکا دیا اور وہ ضوریز کے اوپر گر گئی
جاہل بدتمیززز۔ ۔۔ یہ کیا طریقہ ہے چھوڑو مجھے میں مامی کو بتا دونگی۔ ۔۔
جنت اپنا ہاتھ چھوڑوانے لگی۔ ۔ ضوریز کروٹ لے کر جنت کے اوپر جھکا
بس بڑی ہو جاو اب کبھی مامی اور کبھی امی۔ ۔۔ خود بھی اپنے لیئے کچھ کرنا سیکھو سمجھی۔ ۔ اور اب ایک لفظ بھی تم نے کہا تو میں تمہیں اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دونگا اور اب کسی جانور سے بچانے نہیں آونگا۔ ۔
ضوریز کا نیند سے برا حال تھا وہ اپنے غصے پر کنٹرول نہ کر سکا اور بہت سختی سے جنت کے دونوں ہاتھ پکڑے اس کے اوپر جھکا ہوا تھا۔ ۔ جنت تو گویا سانس لینا ہی بھول گئی اور وہ اپنی آنکھیں حیرت سے پھلائے ضوریز کو دیکھنے لگی
مم مجھے باہر جانا ہے میری نیند پوری ہو گئی ہے۔ ۔
جنت نے خوفزدہ ہو کر کہا
ابھی صرف سات بجے ہیں جنت سب سو رہے رہیں پلیززز مجھے بس تھوری سی نیند پوری کرنے دو میں کل سے ایک منٹ بھی نہیں سویا ہوں میری جان۔ ۔۔
ضوریز کو جنت پر ترس آیا وہ اب تھوڑا نرمی سے بولا مگر ابھی بھی وہ جنت کے اوپر ہی تھا
او اوکے مم مگر میرے اوپر سے ہٹیں۔ ۔
جنت نے مشکل سے کہا
ضوریز نے جنت کے لال پڑتے چہرے کو دیکھا۔ ۔۔
اچھا اور اگر نہ ہٹوں اوپر سےتو۔ ۔۔ ۔؟
ضوریز جنت کے اور قریب ہو گیا۔۔ جنت نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کیں
اففف رات میں تمہاری خوشبو پاگل کرتی ہے اور دن میں تمہاری یہ ادائیں۔ ۔ بتاو کیسے سو سکونگا اب میں۔ ۔ ۔
ضوریز نے جھک کر نرمی سے جنت کے بند ہونٹوں کو چوما جنت تو گویا سانس ہی رک گیا
بس جنت بی بی اب تیار ہو جاو یہ فاصلے سمیٹنے کے لیئے ۔۔۔
ضوریز نے جنت کے ہونٹوں کو انگلی سے چھوا اور سیدھا ہو کر لیٹ گیا۔
او ہیلو زندہ ہو جاو۔۔۔۔ میں دور ہو گیا ہوں۔ ۔۔
ضوریز نے مسکرا کر جنت کو دیکھا جو اب تک خاموشی سے آنکھیں بند کیئے لیٹی تھی۔۔
اب کس کافر کو نیند آئے گی بہت ظالم ہو مجھے اٹھا کر خود آنکھیں بند کر لیں۔ ۔
ضوریز نے دوبارا جنت کی طرف کروٹ لی
اجازت ہے آپکے پاس آنے کی ؟؟
ضوریز نے اب جنت کا کندھا ہلا کر کہا
جنت نے ایک دم آنکھیں کھولیں اور ضوریز سے دور ہو کر بیٹھ گئی
گھٹیا انسان ہیں آپ۔ ۔۔ کہیں سے صہیب کے جُڑواں بھائی نہیں لگتے نفرت کرتی ہوں آپ سے۔ ۔۔
جنت نے دانت پیس کر کہا
صہیب نہیں ہوں میں سمجھی۔ ۔۔ اب اگر مجھے صہیب سے ملایا تو۔ ۔۔
ضوریز نے غصے سے اٹھ کر کہا
افففف صبح ہی صبح کیا بحث شروع کر دی ہے جنت۔ ۔۔
ضوریز نے اپنا سر تھاما
پلیززز اب میرے سامنے صہیب کو اسطرح یاد مت کرنا جنت۔۔
ضوریز نے نرمی سے کہا
کرونگی یاد آپ کون ہوتے ہو مجھ سے صہیب کی یادیں چیھنے والے۔ ۔
جنت کے آنسو بہنے لگے
میں تم سے اسکی یادیں نہیں چھین رہا میری جان مجھے تکلیف ہوتی ہے جب تم مجھے اس سے کمپیئر کرتی ہو۔ ۔ اچھا پلیز جنت رو مت ۔۔۔ ٹھیک میں تمہارے پاس نہیں سوتا بلکے میں باہر چلا جاتا ہوں تم رونا بند کرو۔ ۔۔
ضوریز نے پیار سے کہا
جنت پلیزز چپ ہو جاو میں تمہیں اسطرح روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا مزاق کر رہا تھا میں آئیندہ تمہارے قریب نہیں آونگا سوری یار۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کے آنسو صاف کیئے
میں باہر جا رہا ہوں تھوڑی دیر تک ناشتا لینے جاونگا شہر تم نے چلنا ہو تو ریڈی ہو جانا ہممم۔۔۔ جب تک تم آرام کر لو۔ ۔
ضویرز نے جنت کا گال تھپتھپایا اور اپنی جیکٹ لے کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ ۔۔
جنت چاہتی تھی کے وہ اسے روک لے مگر وہ روک نہ سکی اور اُسی طرح بیٹھ کر خیالوں میں گم ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا آپ بھی میرے ساتھ چلیں ناشتہ لینے شہر بھی دیکھ لیجئے گا۔ ۔۔؟
ضوریز نے گاڑی کی چابی ہاتھ میں پکڑ کر کہا
ہاں چلو چلتے ہیں۔۔ آنسہ اندر سے میری ٹوپی اور چادر لے آو بہت سردی ہے باہر۔ ۔
بشیر نے اپنے ہاتھ ملتے ہوئے کہا
جنت بیٹا تم بھی چلی جاو اپنے ماموں کے ساتھ۔۔۔
آنسہ نے خاموش بیٹھی جنت کو دیکھ کر کہا
نن نہیں مامی میں بس ٹھیک ہوں گھر پر ہی۔۔۔
جنت نے انکار کیا
آجاو جنت اپنی مرضی سے ناشتے کا سامان لے لینا تھوڑا فریش بھی ہو جاوگی۔۔
بشیر نے بھی جنت کو کہا
رہنے دیں بابا اگر اسکا موڈ نہیں ہے تو کیوں فورس کر رہے ہیں آپ لوگ۔ ۔۔
ضوریز نے کوفت سے کہا
جنت نے ضوریز کو دیکھا جو شکل سے ہی ناراض ناراض سا لگ رہا تھا اسکی لال ہوتی آنکھیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کے اسکی نیند ابھی بھی ادھوری ہے۔۔۔ جنت کو یہ سوچ کر تھوڑی شرمندگی ہوئی
چلو ٹھیک ہے جیسی اس کی مرضی ۔۔
بشیر نے آنسہ کے ہاتھ سے اپنی ٹوپی اور چادر لی
رکیں چلتی ہوں میں بھی۔ ۔ بس شال لے کر آئی۔ ۔۔
جنت نے بشیر کو روکا اور خود کمرے میں چلی گئی۔ ۔ بشیر ضوریز کو دیکھ کر مسکرا دیا
چلیں۔ ۔
جنت نے شال اوڑھتے ہوئے کہا
ماں اندر سے لوک کر لیں ہم ابھی آتے ہیں کوئی مسئلہ ہو کال کر دیجئے گا۔۔۔
ضوریز نے آنسہ سے کہا اور باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز اور بشیر ایک ہوٹل کے پاس کھڑے ہو کر ناشتہ بنوانے لگے جبکے جنت اسکے ساتھ بنی دکان پر برسلیٹ دیکھنے لگی
باجی صرف دو سو روپے کا ہے ہاتھ کا بنا ہوا ہے آپ پر بوت پیارا لگے گا۔ ۔۔
دوکاندار نے جنت سے کہا
ہممم شکریہ۔ ۔
جنت نے مسکرا کر کہا اور برسلیٹ واپس رکھ دیا
کیا ہوا اچھا لگ رہا ہے تو لے لو۔ ۔؟
ضوریز نے جنت کے پیچھے کھڑے ہو کر کہا
نہیں بس ٹھیک ہے۔ ۔
جنت نے چونک کر کہا
بھائی یہ برسلیٹ دے دو۔ ۔
ضوریز نے دکاندار سے کہا
مجھے نہیں چاہیئے سمجھ آئی آپکو۔ ۔
جنت نے غصے سے کہا
باجی لے لو بوت سستا ہے۔۔۔ بھائی پیار سے دے رہا ہے۔ ۔۔
دکاندار برسلیٹ پیک کرنے لگا
ہنہ میں نہیں پہنوں گی یہ ۔۔ مجھے نہیں چاہیئے۔ ۔
جنت نے آہستہ آواز میں ضوریز سے کہا
ضوریز نے دکاندار کو پیسے دیئے اور برسلیٹ لے لیا
یہ لو حنت پہن لو پیارا لگے گا۔۔۔
ضوریز نے برسلیٹ نکال کر جنت کی طرف کیا
نہیں چاہیئے مجھے آپ سے کوئی بھی چیززز۔ ۔۔
جنت نے غصے سے برسلیٹ کو ہاتھ مارا اور وہ نیچے گر گیا
جنت don’t create scene okay اپنے غصے کو زرا قابو میں رکھا کرو۔ ۔
ضوریز نے غصے سے نیچے گرے ہوئے برسلیٹ کو پاوں سے دور کیا اور بشیر کی طرف چلا گیا
جنت نے بھی برسلیٹ کو ایک نظر دیکھا اور اگنور کر کے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ ۔۔
ضوریز اور بشیر بھی ناشتہ لے کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔
