Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 25)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 25)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
I am sorry zoraiz you have to go with me!
(سوری ضوریز تمہیں میرے ساتھ جانا ہوگا)
جیک نے ضوریز کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
plz jack don.. Don’t do this i am begging you..
(پلیز جیک ایسا مم مت کرو میں منت کرتا ہوں تمہاری)
ضوریز نے ہاتھ جوڑ کر کہا
I am helpless i have to do this
(میں مجبور ہوں مجھے یہ سب کرنا ہو گا)
جیک نے بہت سنجیدگی سے کہا اور تھوڑا پیچھے ہو کر اپنی گن کا رخ بشیر کی طرف کر دیا
Plz jack u trained me like a son plz don’t kill my family i can’t leave them
(پلیز جیک تم نے مجھے بچوں کی طرح ٹرین کیا ہے پلیز میری فیملی کو مت مارو میں انہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا)
ضوریز نے گھبرا کر کہا اسکا دماغ مفلوج ہو چکا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیسے اس صورتحال سے نکلے
I am sorry zoraiz i can only pity on u becuase i am helpless… I have to kill them it’s mark order!
(سوری ضوریز میں تم پر صرف ترس کھا سکتا ہوں کیونکے میں بے بس ہوں مجھے انہیں مارنا ہوگا یہ مارک کا حکم ہے)
جیک نے افسوس سے کہا اور اپنی گن لوڈ کی اور پھر فضا میں گولیوں کی آواز گونجی۔ ۔۔
نن نو۔ ۔۔
ضوریز ایک دم تڑپ کر آگے ہوا جنت نے ایک چیخ کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔ فضا میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ ۔ ضوریز نے زمین پر گرے وجود پر نظر ڈالی اور حیرت سے جیک کو دیکھا۔ ۔
Jackk…
Oh Thank you…!
ضوریز نے ایک گہرا سانس لے کر کہا گویا اسے کسی نے زندگی کی نوید سنا دی ہو۔ ۔ جنت اور آنسہ نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ دونوں آدمی خون میں لت پت نیچے زمین پر گرے پڑے تھے ۔۔۔جنت ڈر کر ماروخ کے گلے لگ گئی۔ ۔۔
Zoraiz i can feel you i have also lost my loved one… Anyways i can handle mark now don’t look back for atleast 2 years u getting me ?
(ضوریز میں تمہیں محسوس کر سکتا ہوں میں نے بھی اپنے ایک پیارے کو کھویا ہے بہرحال میں مارک کو سنبھال لونگا تم واپس مڑ کر مت دیکھنا کم از کم دو سال تک تم سمجھ رہے ہو نا؟)
جیک نے اپنی گن کو کندھے پر لٹیکایا اور ضوریز کے پاس آیا
yes i know.. I can’t pay u back for your kindness..
(میں جانتا ہوں۔ ۔ میں تمہاری اس مہربانی کا بدلہ نہیں دے سکوں گا)
ضوریز کی آنکھوں سے تشکر کے آنسوں بہنے لگے
it’s okay now u people should leave this place
(کوئی بات نہیں اب تم لوگوں کو اس جگہ سے جانا چاہیئے)
جیک نے مسکرا کر کہا۔ ۔ ضوریز بھی جواباً مسکرایا اور جنت کی طرف جانے لگا پھر ایک دم رک کر واپس مُڑا اور جیک کے گلے لگ گیا
oh i can’t tell you that how much thankful i am to you!
(اوہ جیک میں تمہیں بتا نہیں سکتا کے میں تمہارا کتنا شکرگزار ہوں)
ضوریز جیک سے الگ ہوا اور اپنی آنکھوں کے کنارے صاف کیئے
Oh come on man don’t be so emotional…. go with your family they are waiting for u & take care zoraiz!
(اوہ کم اون اتنے جزباتی مت ہو اپنی فیملی کے پاس جاو وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور اپنا خیال رکھنا ضوریز)
جیک نے ضوریز سے ہاتھ ملایا
Take care of yourself too!
(اپنا بھی خیال رکھنا رکھنا !)
ضوریز نے مسکرا کر کہا اور اسکا ہاتھ چھوڑ کر اس طرف آیا جہاں وہ چاروں کھڑے تھے
چلیں۔ ۔۔ یہ سب آپ لوگوں کی کسی دعا کا نتیجا ہے۔ ۔۔
ضوریز نے چاروں کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔ وہ سب سر ہلاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے لگے۔۔
ضوریز بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کی ایک نظر مارک پر ڈال کر اسے ہاتھ ہلایا اور آگے بڑھ گیا۔ ۔۔
گاڑی میں کسی کی ہمت نہ ہوئی کے ضوریز سے پوچھتے یہ کون تھا اور یہ سب کیا تھا سب ہی اپنی جگہ پر ڈرے ہوئے تھے اور خاموش تھے ضوریز بھی اپنے لب آپس میں سختی سے بھینچے ہوئے خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئیے یہ ہے وہ جگہ۔۔ آج سے ہم یہاں رہیں گے اور یہ ہمارا گھر ہے۔ ۔۔
ضوریز نے تھوڑے فاصلے پر بنے گھر کی طرف اشارا کرتے ہوئے کہا
یہ تو بہت خوبصورت جگہ ہے ۔۔۔ مگر اتنا عرصہ اس پہاڑی علاقے میں ہم کیسے رہیں گے ہم تو کراچی جیسے شہر میں رہنے کے عادی ہیں۔ ۔
بشیر نے اپنے سامنے کھڑی بڑی سی پہاڑی کو دیکھا
میں جانتا ہوں بابا یہاں کا موسم یہاں کا رہن سہن حتہ کے یہاں پر چیز وہاں سے مختلف ہے مگر آپ فکر مت کریں بس کچھ ہی عرصے کی بات ہے مجھے یقین ہے جیک مارک کو اس بات کی یقین دہانی کروائے گا کے اس نے مجھے مار دیا ہے اب ہمیں زیادہ عرصہ یہاں رہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بس ایک یا دو سال گزار لیں پلیزز۔ ۔۔
ضوریز نے نرمی سے سمجھایا
ہنہ گناہ کسی اور کے سزائیں ہم کاٹیں۔ ۔۔
جنت نے طنزیہ کہا
خیر آیئے گھر دیکھتے ہیں۔ ۔۔
ضوریز نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور اسکی بات کو اگنور کر کے کہا
ہاں گھر کے اندر چلو ویسے بھی یہاں بہت سردی ہے۔ ۔
آنسہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
ضوریز اور بشیر نے گاڑی سے سامان نکالا اور گھر کی طرف چلنے لگے۔ ۔۔ ۔
جنت نے نظر گھوما کر گھر کو دیکھا۔ ۔
گھر چھوٹا مگر خوبصورت تھا گھر کے تینوں طرف پودے تھے اور ہر طرف ہریالی تھی جنت نے اپنے پاوں کو اونچا کر کے دور تک نظر گھومائی وہاں کوئی اور گھر نظر نہیں آیا مگر اسے ایک خوبصورت سی ندی دیکھائی دی ۔۔۔
جنت اندر چلو۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کو پکارا
جنت نے چونک کر ضوریز کو دیکھا اور سر ہلا کر اندر چلی گئی۔ ۔۔ گھر اندر سے ایک ہٹ کی طرح بنا ہوا تھا۔ ۔۔ جنت آہستہ آہستہ گھر کے ہر کونے کو دیکھ رہی تھی ۔۔ گھر کے درمیان میں چھوٹا سا صہن تھا۔۔۔ صہن کے ایک طرف بہت سے پودے لگے ہوئے تھے جنت ان پودوں کے پاس کھڑے ہو کر انکی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگی۔ ۔۔
ارے واہ یہاں تو سارا سامان بھی موجود ہے کچن کا بھی سارا سامان ہے۔ ۔ کیا یہاں پہلے بھی کوئی رہتا تھا ؟
آنسہ جو ہر کمرے میں جا جا کر دیکھ رہی تھی باہر آکر ضوریز سے پوچھا
جی ماں یہاں پر لوگ آتے جاتے رہتے ہیں یہ گھر بہت مشکل سے ملا ہے مجھے یہاں پر آبادی نہ ہونے کے برابر ہے مگر آپ لوگ پریشان مت ہونا گاڑی ہے ہمارے پاس تقریباً آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر شہر ہے وہاں سے سب مل جاتا ہے ایک ایک چیز۔ ۔۔
ضوریز نے تفصیل سے بتایا اور اپنا بیگ کُھولنے لگا
بھابی گھر تو اچھا ہے مگر یہ جگہ اتنی ویران سی ہے مجھے تو خوف آرہا ہے۔ ۔۔
ماروخ جو کب سے ارد گرد دیکھ رہی تھی آنسہ کے پاس آکر کہا
ارے ماروخ ہم سب ہیں نہ ایک دوسرے کے لیئے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے اندر آو اور کمرے دیکھو کتنے اچھے سیٹ کیئے ہوئے ہیں۔ ۔۔
آنسہ نے ماروخ کا ہاتھ پکڑا اور اندر لے گئیں۔ ۔
ضوریز نے مُڑ کر جنت کو دیکھا اور اس کے پاس آکر کھڑا ہو گیا
کیا ہوا اتنی خاموش کیوں ہو کیسی لگی یہ جگہ؟
ضوریز نے جنت کے چہرے کو دیکھ کر کہا۔ ۔۔ جنت نے چہرہ موڑ کر ضویرز کو دیکھا
کہاں سے کہاں لے آئیں ہیں آپ ہمیں۔ ۔۔ اُسکی یادوں سے اتنی دور ہنہ کبھی معاف نہیں کرونگی آپکو۔ ۔
جنت نے دکھ سے کہا اور اندر چلی گئی۔ ۔ ضوریز ایک گہرا سانس لے کر رہ گیا
بیٹا کھانے پینے کا انتظام کرو پھر آرام کرتے ہیں شام ہوگئی ہے میرے تو سر میں درد ہونے لگا ہے۔۔۔
بشیر نے ضوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
جی میں شہر سے کھانا لے کر آتا ہوں آپ لوگ جب تک فریش ہو جائیں۔ ۔
ضوریز نے کمرے کے اندر جھانک کر ایک نظر جنت کو دیکھا اور باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا ضوریز اب تمہارا شوہر ہے تمہیں اس کے ساتھ ایک کمرے میں رہنا چاہیئے۔ ۔۔
آنسہ نے نرمی سے جنت سے کہا
میں نے کہہ دیا نہ مجھے انکے ساتھ نہیں رہنا میں اپنی امی کے ساتھ سوونگی ویسے بھی امی اکیلے نہیں سو سکتیں۔۔۔
جنت نے اب سختی سے۔۔
بیٹا تمہاری مامی سو جائیں گی ماروخ کے ساتھ تم پریشان مت ہو۔ ۔
بشیر نے بھی جنت کو سمجھایا
نہیں ماموں پلیززز مجھے فورس مت کریں مجھے نہیں رہنا آپکے اس بیٹے کے ساتھ۔۔۔
اب جنت نے کافی بدتمیزی سے کہا
تمیز سے بات کرو جنت۔ ۔ کافی دیر سے تمہاری یہ فضول سی بحث سن رہا ہوں اب بس تم میرے ساتھ ایک روم میں رہو گی ۔۔ ماں آپ پھوپو کے ساتھ سو جائیں ویسے بھی کچھ دنوں تک میں انکل اور دادو کو لے آونگا۔ ۔۔ اب آپ لوگ اپنے کمروں میں جا کر آرام کریں۔۔۔
ضوریز نے سختی سے کہا اور کھڑا ہو گیا۔ ۔ ماروخ بھی خاموش رہی اور جنت کے پاس سے اٹھ کر کمرے میں جانے لگی۔۔۔
امی میں آپ کے ساتھ سوونگی بس مجھے کسی کی کوئی بات نہیں سنی۔ ۔
جنت نے جلدی سے اٹھ کر ماروخ کا ہاتھ پکڑا
بیٹا میری جان اب ضوریز تمہارا شوہر ہے اسکی بات مانو وہ تمہارا خیال رکھتا ہے چلو شاباش۔۔۔ میری فکر مت کرو۔ ۔۔
ماروخ نے پیار سے جنت کو سمجھایا اور اپنا ہاتھ چھوڑوایا
امی ی ی مگر آپ لوگوں نے کہا تھا۔ ۔
جنت میرے ساتھ آو ۔۔۔
ضوریز نے جنت کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسکا ہاتھ سختی سے پکڑا۔ ۔ ضوریز پورے دن کا تھکا ہوا تھا اسکا دل کر رہا تھا وہ جنت کو اٹھا کر روم میں لے جائے مگر جنت کا فضول بحث کرنا اس کے غصے کو ہوا دے رہا تھا
چھوڑو میرا ہاتھ میں نے کہا نا مجھے آپ کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہنا ۔۔۔
جنت اپنا ہاتھ چھوڑوانے لگی۔۔ مگر ضوریز کی گرفت اور مضبوط ہوئی
جنت تم۔ ۔۔
ضوریز آرام سے بات کرو اس طرح غصے سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ ۔
بشیر نے ضوریز کو ٹوکا
اففف بابا آپ ہی سمجھائیں اسے میں بہت تھکا ہوا ہوں مجھ میں اب ہمت نہیں کے میں منتیں کروں۔ ۔ تین دن اسکے ساتھ رہا ہوں پوچھیں اس سے کچھ غلط کیا میں نے ۔۔ اب پتا نہیں کس بات کے نخرے دکھا رہی ہے۔ ۔
ضوریز نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا
جنت بیٹا جب تک راشد نہیں آجاتا تب تک تم میری بات مان لو پلیز ضد مت کرو ۔۔۔
بشیر نے پیار سے کہا اور جنت کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ۔۔
جنت نے ایک خفا سی نظر ضوریز پر ڈالی اور پاوں پٹختی ہوئی ضوریز کے روم میں چلی گئی۔ ۔۔
تھینک ہو بابا ورنہ پتا نہیں مجھے کتنی دیر کھپنا پڑتا۔ ۔۔
ضوریز نے بشیر کی طرف مسکرا کر دیکھا
ہاہاہا بس زیادہ غصہ مت کیا کرو پیار سے سمجھایا کرو اسے مان جاتی ہے۔۔۔
کیا بتاوں بابا میری تو وہ پیار کی بات سنتی ہی نہیں۔ ۔
ضوریز نے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا
اچھا اب جاو آرام کرو اور میری بیٹی کو تنگ مت کرنا۔ ۔۔
بشیر نے ضوریز کے کندھوں کو تھپتھپا کر کہا
ہاہاہا میں کہاں تنگ کرتا ہوں آپکی بیٹی کو وہ تنگ کرتی ہے مجھے اور بہت زیادہ تنگ کرنے لگی ہے مجھے ۔۔ خیر گُڈ نائیٹ بابا۔ ۔۔
ضوریز نے بشیر کو گلے لگایا اور اپنے روم کی طرف چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز نے روم میں آتے ہی جنت پر نظر ڈالی اور دروازہ لوک کر کے اس کے پاس آنے لگا
یہاں صوفہ کیوں نہیں ہے۔ ۔۔
جنت نے ضوریز کو ہاتھ کے اشارے سے روکا
ہاں نہیں ہے تو۔ ۔۔؟
ضوریز اسکی پروا کیئے بغیر مزے سے چلتا ہوا اس کے پاس آکر بیٹھ گیا
دور رہیں۔ ۔۔ اور میں ایک بیڈ پر آپکے ساتھ نہیں سو سکتی سمجھے آپ۔ ۔۔
جنت اب بیڈ سے کھڑی ہو گئی
اوہ جنت پلیز ناٹ اگین۔ ۔ میں بہت تھک گیا ہوں کچھ ترس کھاو مجھ پر صبح سے ڈرائیو کر رہا ہوں پلیززز۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کی منت کی
نہیں میں نے ماموں کی بات اس لیئے مان لی کے میں انکی بات ٹال نہیں سکتی مگر اب میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کے آپ میرے اتنے پاس سوئیں۔ ۔۔
جنت مُڑ کر دروازے کی طرف جانے لگی
اوکے جنت ٹھیک ہے تم اوپر سو جاو میں نیچے سو جاونگا اب پلیز اس بحث کو ختم کرو میرے سر میں درد ہونے لگا ہے۔ ۔۔
ضوریز نے تھک کر کہا اور تکیا اوٹھا کر نیچے فرش پر رکھ کر لیٹ گیا۔ ۔
جنت نے اسے اس طرح بنا کسی چادر کے لیٹے دیکھا تو اسے احساس ہوا کے اتنی سردی میں وہ فرش پر ایسے کیسے سوئے گا۔ ۔۔ تھوڑی دیر وہ بیڈ پر بیٹھے انگلیاں چھٹخاتی رہی۔۔۔
آممم یہ چادر لے لیں نیچے بچھا لیں سردی بہت ہے۔ ۔۔
جنت ہمت کر کے بولی
آپکو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے مس جنت آپ آرام سے سو جائیں بس جب ڈر لگے بتا دیجئے گا آپکی رکھوالی کے لیئے اٹھ جاونگا۔ ۔
ضوریز نےطنزیہ کہا اور آنکھوں پر ہاتھ رکھے سونے کی کوشیش کرنے لگا
ہنہ مجھے کیا جیسے مرضی رہے۔ ۔ اچھا ہے خود ہی مجھے نکال دے گا اپنے کمرے سے۔ ۔۔
جنت منہ ہی منہ میں بُڑبڑا کر لیٹ گئی۔ ۔ ضوریز جو آج تک فرش پر نہیں سویا تھا کروٹیں بدلنے لگا۔
