Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 01)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 01)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
بیٹا بیٹھ جاو آرام سے کیوں پورے ہسپتال میں چکر کاٹ رہے ہو۔ ۔
شبیر کتنی ہی دیر سے بےچینی سے ایک چھوٹے سے ہوسپٹل میں چکر لگا رہا تھا
اماں میں کیا کروں بے چینی ہو رہی ہے یہ ڈاکٹر ابھی تک باہر کیوں نہیں آئی بھلا اتنا وقت لگتا ہے بچہ پیدا ہونے میں۔۔
ہاں تو ماشاءاللہ سے جُڑواں بچے ہیں ٹائم تو لگے گا تمارے اسطرح چکر کاٹنے سے جلدی نہیں ہو جائے گا ادھر آکر بیٹھ جا میرے پاس۔ ۔۔
وہ اپنی ساتھ والی سیٹ پر اشارہ کر کے کہتی ہیں
اچھا اماں بیٹھ جاوں گا آپ دعا کریں نہ سب ٹھیک ہو۔۔
ہاں میں تو دعا ہی کر رہی ہوں سب ٹھیک ہو گا۔ ۔ وہ دیکھ ڈاکٹرنی آ گئی باہر
شبیر فوراً ڈاکٹر کے پاس چلا گیا
مبارک ہو جُڑواں بیٹے ہوئے ہیں
لیڈی ڈاکٹر نے بشیر کو خوشی سے بتایا
اوہ شکر اللہ کا۔ ۔ میری بیوی کیسی ہے ڈاکٹر؟
اس نے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا پھر آنسہ کا پوچھا
یس شی از فائن بٹ ابھی ہم نے اُنہیں اپنیObservation
میں رکھا ہے بچے بھی ٹھیک ہیں آپ انہیں دیکھ سکتے ہیں نرس زرا چیک کر لے بچوں کوپھر آپ تھوڑی دیر میں مل لیجئے گا۔ ۔
لیڈی ڈاکٹر تفصیل سے بتاتی ہے
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحبہ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ ۔
عشرت بی بی( بشیر کی والدہ) ڈاکٹر کو دعا دیتی ہیں
ڈاکٹر مسکرا کو وہاں سے چلی جاتی ہے۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے بشیر بھائی یہ دونوں تو بلکل ایک جیسے ہیں شکل دیکھیں !
ماروخ (شبیر کی بہن) دونوں کو گود میں اٹھائے بولتی ہے
ہاں ماشاءاللہ بلکل ایک سے ہیں مگر دونوں کی حرکتیں ایک سی نہیں اس کو دیکھو فوراً آنکھیں کھول لیں اور یہ بچارا سیدھا اب تک آنکھیں نہیں کھولیں۔ ۔
شبیر باری باری دونوں کی طرف اشارا کرتے بولتا ہے
صیح کہ رہے ہیں یہ صاحب بہت تیز لگ رہے ہیں اور یہ بہت شریف۔ ۔اس کی آنکھیں دیکھیں کتنا پیارا رنگ ہے اسکی آنکھوں کا بلکل شہد جیسا۔ ۔ اللہ کرے اسکا بھی ایسا ہی ہو۔ ۔
وہ دونوں کو غور غور سے دیکھ کر تبصرہ کرتی ہے
ارے ماروخ دونوں ہی جُڑواں ہیں ایک سی ہونگی نہ آنکھیں۔ ۔۔ لاو مجھے بھی دو مجھے بھی گود میں لینا ہے
آنسہ بہت مشکل سے بولتی ہیں
نہیں بھابی آپ کو ڈاکٹر نے ابھی ہلنے سے منع کیا ہے ٹانکے ہل جائیں گے میں آپ کے پاس لیٹا دیتی ہوں بس۔۔
آنسہ اپنا سر ہاں میں ہلاتی ہے۔
ا
چھا تم آنسہ کا خیال رکھنا میں زرا میٹھائی لے آوں یہاں بھی سب مانگ رہے ہیں۔۔
شبیر یہ بتا کر باہر نکل جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے بی بی آرام نا بیجا کب سے ادھر ادھر کے چکر لگا رہی ہے۔ ۔
اُسی ہوسپٹل کی ایک کام والی جو کب سے اس نقاب پوش عورت کو بےچینی سے چکر لگاتے دیکھ رہی تھی اونچی آواز میں کہتی ہے
میں اپنے شوہر کا انتظار کر رہی ہوں پانچ منٹ کا کہہ کر گیا تھا ابھی تک نہیں آیا۔ ۔
تو آ جائے گا بندے ایداں ہی کر دے نے بیجا اِتھے۔ ۔
اُسے مجبوراً ایک سیٹ پر بیٹھنا ہی پڑتا ہے۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچوں کو زرا پکڑا دیں انکو چیک اپ کے لیئے لے کر جانا ہے۔۔۔
ایک نرس اندر آکر کہتی ہے
کیسا چیک اپ ہونا ہے اب؟
ماروخ نے بچوں کو اٹھا کر نرس کو دیتے ہوئے سوال کیا
میڈم کچھ انجکشن لگانے ہوتے ہیں اور بھی کچھ ٹیسٹ رہتے ہیں۔ ۔
نرس دونوں کو احتیاط سے پکڑتی ہے
میں بھی چلتی ہوں آپ کے ساتھ۔ ۔
ماروخ نے چپل پہنتے ہوکہا
میڈم آپ کیا کرو گی جا کر اندر تو کسی کو جانے نہیں دیتے۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے دیہان سے پکڑیئے گا بچوں کو۔ ۔
ماروخ نرس کو دیکھ کر کہتی ہے
پریشان نہ ہوں یہ ہمارا روز کا کام ہے۔ ۔
نرس دونوں کو پکڑے باہر چلی جاتی ہے۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ دونوں کتنے پیارے ہیں بلکل ایک جیسے۔ ۔۔
ڈاکٹر دونوں کے گال کو چھو کر کہتی ہے
یہ اس بچے نے آنکھیں کیوں نہیں کھولی اس کو دیکھو کیسے چاروں طرف دیکھ رہا ہے۔ ۔۔
ڈاکٹر نے دلچسپی سے کہا
ہاں جی یہ والا بہت تیز لگ رہا ہے اور یہ شریف سا۔ ۔۔
نرس نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔ ۔۔
اچھا انہیں باری باری میرے روم میں لے آنا
ڈاکٹر اپناسامان اٹھاتے ہوئے وہاں سے چلی جاتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نقاب پوش عورت کتنی ہی دیر سے اِس موقع کی تلاش میں تھی کے نرس باہر نکلے اور وہ اندر جا کر اپنا کام کرے۔ ۔۔
وہ اٹھ کر اِدھر اُدھر دیکھتی ہوئی احتیاط سے اندر جاتی ہے۔ ۔۔ سب ہی بچوں پر پنک ریبن بندھا ہوتا ہے جس کا مطلب لڑکی ہے۔ ۔ صرف ایک بچہ جس کے ہاتھ پر نیلے رنگ کا ریبن ہوتا ہے جس کا مطلب کے وہ لڑکا ہے ۔۔
اس سے پہلے کے وہ بچے کو اُٹھاتی ایک کام والی بولتی ہے
بی بی تم اندر کیا کر رہی ہو یہاں آنا منع ہے چلو باہر جاو۔۔
میں خالا ہوں اسکی ڈاکٹرنی نے کہا ہے بچے کو لے کر آوں میں پوچھ کر آئی ہوں اُن سے۔۔۔
اس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے کہا
اچھا فیر کھڑی کی سوچ رہی آں۔ ۔ جاو جا کر لے جاو ڈاکٹرنی اینی فارغ نہیں ہوندی۔ ۔
نقاب پوش نے فوراً بچے کو اٹھایا اور باہر نکل گئی۔ ۔ ادھر اُدھر دیکھا تو سامنے ہی اسکا ساتھی کھڑا نظر آیا ۔۔ تیزی سے چلتی اس کے پاس پہنچی۔ ۔
ایک کام والی نے دیکھ لیا ہے جتنی جلدی ہو سکے نکلو یہاں سے۔۔۔
بچے کو آدمی کے ہاتھ میں دیا اور خود باتھ روم میں جاکر اپنی نقاب والی چادر اتار کر بیگ میں رکھی اور دوسرا دوپٹا نکالا اور جلدی جلدی پہن کر باہر آئی۔۔ تیزی سے ہوسپٹل سے نکل کر باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ ۔ فون پر نمبر ملایا اور موبائل کان پر پر لگا لیا
جی سر کام ہو گیا ہم پہنچ رہے ہیں بس دس منٹ لگے گے۔ ۔
فون بند کر کے اپنے بیگ میں ڈالا اور ایک نظر سوئے ہوئے بچے پر ڈالی جسے نیند کا انجیکشن لگا کر بے سولایا ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے کیسے کو ئی ہمارا بچہ لے گیا ہمیں ہر حال میں ہمارا بچہ چاہیئے ۔۔ ورنہ پورے ہوسپٹل کو آگ لگا دونگا۔ ۔
پچھلے ایک گھنٹے سے بچہ نہیں ملتا تو پشیر پاگل ہونے کو تھا آخر تین سال بعد اللہ نے یہ دن دیکھایا تھا اور ابھی ٹھیک سے خوشی بھی نہیں منائی تھی کے بچہ ہی غائب ہو گیا۔ ۔۔
ماروخ آنسہ کو سنبھالے کھڑی تھی جبکے عشرت بی بی ایک بچے کو اپنے گلے سے لگائے رونے میں مصروف تھیں۔ ۔۔
ہوسپٹل کی انتظامیہ ہر جگہ بچے کو تلاش کر لیتی ہے مگر وہ نہیں ملتا۔ ۔۔ بشیر کے دوستوں نے پولیس کو بھی خبر کر دی تھی۔ ۔۔سب ہی لوگ اپنے بچوں پکڑے بیٹھ جاتے ہیں۔ ۔۔
تھوڑی دیر پہلے جو جُڑواں بچوں کی پیدائش پر خوش ہوتے میٹھیاں کھا رہے تھے اب دکھ سے اس کے لیئے دعا کرنے لگتے ہیں۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین آدمی اپنا چہرا چھپائے کھڑے تھے ان میں سے ایک نے بچے کو اپنی گود میں لیا
سر بہت مشکل کام تھا یہ ایک تو کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا تھا وہاں یہ ایک ہی پیدا ہوا تھا اور پھر ایک ملازمہ نے بھی دیکھ لیا تھا بچہ اُٹھاتے۔ ۔۔
بچے کو نقاب پوش آدمی کے حوالے کرتے ہوئے کہا
ہم جانتے ہیں اسی لیئے پیسے بھی تمہاری سوچ سے زیادہ دیئے ہیں یہ لو پورے آٹھ لاکھ ہیں۔ ۔
ایک آدمی نے نوٹوں کی گھٹیاں دیتے ہوئے کہا
عورت اور مرد کی آنکھیں پیسوں کی لالچ میں چمکنے لگیں۔ ۔ فوراً پیسوں کی گھٹیاں پکڑ کر اپنے بیگ میں ٹھوسنے لگے۔ ۔
یہ بات اگر کسی کو بھی پتا لگی تو انجام تم لوگ جانتے ہو۔ ۔۔۔
ان میں سے ایک لمبا چوڑا نقاب پوش آدمی آگے آکر اپنی گن کو لہراتے ہوئے کہنے لگا
جج جی سر آآ ہممم جانتے ہیں۔ ۔۔ اپپ اپنی جان دے دیں گے۔ ۔۔ پرر بتت بتائیں گے نن نہیں کسی کو!
آدمی نے گن سے ڈرتے ہوئے کہا
ہممم گڈ اب جاو تم دونوں یہاں سےدوبارا نظر نہ آو ۔۔
اوکے سر
دونوں تیزی سے سارے پیسے لے کر وہاں سے چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتے بعد۔ ۔۔
بشیر میرا بچہ مجھے خواب میں آتا ہے۔ ۔۔ جیسے وہ مجھے بلا رہا ہو خدا کے لیئے اسے لے آو۔ ۔
آنسہ ابھی تک اپنے بچے کے غم سے نہیں نکل پائی تھی
کیا کروں میں آنسہ ہر جگہ ڈھونڈ لیا ہے پولیس نے پتا نہیں کہاں گیا ہمارا بچہ ۔۔ بس صبر کرو اب سمجھو اللہ نے ایک ہی بچہ دیا تھا ہمیں۔ ۔۔
کیسے سمجھ لوں یہ بشیر نا جانے اس معصوم کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہوگا۔ ۔۔
بس کرو آنسہ تمہاری طبعیت خراب ہو جائے گی اس معصوم کی خاطر ہی خود سنبھال لو۔ ۔۔
وہ اپنے دوسرے نچے کی طرف اشارا کر کے کہتا ہے
آنسہ روتے ہوئے اپنے بچے کو اُٹھا کر گود میں لے لیتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر بچے کا پاسپورٹ بن گیا ہے آج شام کی فلائیٹ سے وہ آپ کے پاس پہنچ جائے گا میں نے سارا انتظام کر لیا ہے۔ ۔۔
اپنے مخصوص انداز میں بات کرتا یہ آدمی بہت پرفیشنل لگ رہا تھا۔ ۔۔مگر اس کا تعلق ایک بہت ہی خطرناک گینگ سے تھا۔ ۔۔
yes sir i know everything they will be there by tomorrow morning…
(جی سر میں سب جانتا ہوں یہ لوگ کل صبح تک وہاں ہونگے)
تھوڑی دیر بعد وہ اوکے کہہ کر فون بند کر دیتا ہے اور بچے کو ایک جوڑے کو پکڑا دیتا ہے جو کے اس بچے کے نقلی ماں باپ بنے ہوئے تھے۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کر آنسہ جو ہونا تھا ہو گیا اللہ کو یہ ہی منظور تھا کیوں سوچ سوچ کر اپنی طبعیت خراب کرتی ہے دیکھ اس معصوم کو ایسا ہی تھا وہ بھی شکر کر اللہ کا یہ ایک تیرے پاس ہے۔ ۔۔
عشرت بی بی گود میں اپنے پوتے کو اٹھائے اپنی بہو کو سمجھاتی ہیں۔ ۔۔
ہاں اماں میں بھی اِسے سمجھا سمجھا کے تھک گیا ہوں مگر یہ سنتی ہی نہیں۔ ۔
بشیر بھی بھی آنسہ کو سمجھاتا ہے
میں کیا کروں بشیر میری ممتا کو سکون نہیں ملتا ایسا لگتا ہے کوئی میرا حصہ کاٹ کر لے گیا ہو۔ ۔ اب اتنی جلدی تو یہ زخم نہیں بھرے گا نا۔ ۔۔
ٹھیک کہتی آنسہ تو مگر دیکھ اس بچے کو۔ ۔۔ سنبھال خود کو۔ ۔ اس معصوم کا تو نام بھی نہیں رکھا تم لوگوں نے بشیر بتا کیا نام رکھنا ہے۔ ۔
اماں سوچا تھا اسکا نام صُہیب اور اُسکا زوہیب رکھوں گا مگر وہ تو نا جانے کہاں چلا گیا۔ ۔
بشیر دکھ سے کہتا ہے۔ ۔
تو بس ٹھیک ہے اس کا نام صہیب ہے آج سے چل آنسہ اٹھ بچے کو فیڈ کروا کہیں اسے بھی کھو نہ دینا۔ ۔۔
عشرت بی بی صہیب کو آنسہ کی گود میں دیتی ہیں۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو سر یہ آپکی امانت۔ ۔
دونوں میاں بیوی بچے کو ایک آدمی کے حوالے کرتے ہیں۔ ۔
Very beautiful child…. here is your money take it…(بہت خوبصورت بچہ ہے۔۔ تم لوگوں کا پیسہ یہ رہا )
وہ آدمی بچے کو لے کر ایک بیگ کی طرف اشارا کرتا ہے۔ ۔
Okay thank you sir may we go now?
(اوکے شکریہ سر کیا اب ہم جا سکتے ہیں؟ )
پیسوں کا بیگ تھام کر اُس آدمی سے پوچھا۔ ۔
Yes sure good bye! (ہاں ضرور گڈ بائے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو آدمی بچے کو لندن کے ایک رو پوش ایریا میں بنے ایک مہل نما گھر میں لے آتے ہیں ۔۔ اس گینگ کا بوس ٹائیگر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بچے کو دیکھتا ہے
Hmm he is beautiful so give him to jack
(یہ خوبصورت ہے اِسے جیک کو دے دو)
اور اسے کہہ دینا اس بچے کو ایک روبوٹ کی طرح ٹرین کر دے۔ ۔۔
ٹائگر سگریٹ کو دھواں چھوڑتے ہوئے کہتا ہے۔ ۔۔۔
اوکے سر!
وہ آدمی بچے کو گود میں اٹھاتا ہے
hey listen اس کا نام کیا ہے؟
ٹائیگر اس آدمی کو روکتے ہوئے کہتا ہے
سر ابھی تک تو کوئی نام نہیں رکھا۔ ۔۔
آدمی نے جواب دیا
ہممم اس کا نام ضوریز رکھ دو اور اس کے سارے لیگل ڈکیومینٹ بنوا لو۔ ۔
اوکے سر۔ ۔
وہ آدمی بچے کو لیئے باہر چلا جاتا ہے۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی بلیک گینگ(the black gang) ایک بہت خطرناک گینگ تھا جس کی دہشت پوری دنیا میں تھی۔ ۔ دنیا میں کسی بھی ملک کے بڑے آدمیوں کو اپنا کوئی بھی کام نکلوانا ہوتا وہ اسی گینگ سے رابطہ کرتا ۔ ۔۔ اس گینگ میں مختلف ملکوں کے لوگ شامل تھے کچھ اپنی مرضی سے شامل ہوتے ہیں اور کچھ کو اسی طرح اغوا کر کے شامل کیا گیا تھا۔ ۔۔ ٹائیگر کا تعلق بھی پاکستان سے تھا اس لیئے وہ پاکستان میں کی جانے والی تمام ایکٹیوٹیز کو دیکھتا تھا۔۔۔۔ ٹائیگر کو اپنی جگہ کسی پاکستانی بچے کو ٹرین کرنا تھا کیونکے ٹائیگر کی عمر اب بڑھتی جا رہی تھی اس لیئے اس نے پاکستان سے ہی بچے کو اغوا کر لیا تاکے کوئی چاہ کر بھی بچے کو ڈھونڈ نہ سکے۔ ۔۔ یہ اس گینگ کا روز کا کام تھا دوسرے ملکوں کے بچوں کو اسمگل کرنا اور ٹرین کرنا۔ ۔۔
ضوریز کو بھی وہاں کے سب سے بہترین ٹرینر کے حوالے کر دیا گیا اور یوں ضوریز بھی بلیک گینگ کا حصہ بن گیا۔۔
