Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 03)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 03)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
آج تو تم نے میری خواہش پوری کر دی صہیب۔ ۔ اتنی پیاری جگہ ہے۔۔ یہ تو میں نے صرف تصویروں میں دیکھا تھا مجھے نہیں معلوم تھا یہ سچ میں اتنا پیارا ہو گا۔ ۔۔
جنت اپنے سامنے سے آتی لہروں کو دیکھتی ہے جو شام میں ایک حسین منظر پیش کر رہی تھیں…
جی جناب یہ دو دریا ہے یہاں بہت رش ہوتا ہے میں نے کل ہی بوکینگ کروا لی تھی۔ ۔ خیر شادی کے بعد یہیں آیا کریں گے ٹھیک ہے۔ ۔۔
صہیب نے محبت بھری نظروں سے جنت کو دیکھ کر کہا
ہمم ٹھیک ہے ویسے یہ کھانا کب آئے گا ۔۔
جنت نے اپنے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کیا۔
آجائے گا اتنی جلدی کیا ہے۔ ۔ ایک تو یہ ہوا تمہیں بہت تنگ کر رہی ہے۔ ۔ اور مجھے بھی بہت تنگ کر رہی ہے۔ ۔۔
ہاں یار بلاوجہ بال کھلے چھوڑ لیئے بار بار آگے آ رہے ہیں ۔۔ ویسے تمہیں کیوں تنگ کر رہی ہے ہوا؟
ظاہر سی بات ہے بار بار اپنی زلفوں کو اس ادا سے پیچھے کرو گی تو تنگ تو ہوں گا ۔۔۔
صہیب نے جنت کے ایک ایک نقش کو دیکھتے ہوئے کہا
اچھا زیادہ رومینٹک ہونے کی ضرورت نہیں اسطرح مت دیکھو مجھے صہیب ۔۔
جنت نے شرم سے اپنا چہرہ نیچے جُھکا لیا
کیسے نہ دیکھوں میری جان پورا دن انتظار کرتا ہوں اس لمحے کا کے جب تمہیں دیکھ سکوں اور اب تم کہہ رہی ہو نہ دیکھوں ۔۔ سوری میں یہ نہیں کر سکتا ۔۔۔
صہیب پلیز تمہیں پتا ہے مجھے شرم آتی ہے ۔۔ تم مجھے کنفیوز کر رہے ہو۔ ۔ اگر تم نے نظریں نہیں ہٹائیں تو میں نانو کو بتا دونگی۔ ۔
ہاہاہا تو بتا دو میں کوئی ڈرتا ہوں اُن سے صاف کہہ دونگا کے میری شادی کروا دیں ان محترمہ سے ۔۔۔ ساری شرم نکال دونگا۔ ۔۔
اففف بہت برے ہو تم ۔۔۔ اوہ شکر کھانا آ گیا۔ ۔۔
اپنی طرف ویٹر کو آتے دیکھ کر جنت نے کہا
آہا۔ ۔ نا جانے کب سمجھو گی میرے جزبوں کو۔ ۔۔
صہیب نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ ۔ جنت نے آنکھیں دیکھا کر اسے چپ رہنے کا کہا۔۔۔ اور پھر دونوں کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
well done zoraiz you did wonderful job!
(بہت ہی کمال کا کام کیا ضوریز تم نے)
مارک (بوس) نے وائن سے گلاس بھرا
Thank you boss its my pleasure !
(شکریہ بوس یہ میرے لیئے فخر کی بات ہے)
Have it… (یہ لو)
مارک نے وائن کا گلاس ضوریز کی طرف بڑھایا
No thanks I don’t drink..
(نہیں شکریہ میں نہیں پیتا)
ضوریز نے انکار کیا
hmm..as u wish … well I will give you some reward for this…
(ہمم جیسے تمہاری مرضی۔ ۔ خیر میں تمہیں اسکے لیئے انعام دونگا)
مارک نے اُس گلاس سے گھونٹ بھر کر کہا
Thanks… it means a lot to me!
(یہ میرے لیئے بہت اہمیت رکھتا ہے)
Jack give him to our best weapon۔۔
(جیک ہمارا سب سے اچھا ہتھیار اسے دو)
مارک نے جیک کو اپنا سب سے بہترین ہتھیار لانے کو کہا
Ok boss
جیک فوراً سامنے پڑے ہتھیار میں سے ایک زبردست گن نکال کر لایا
Congratulations zoraiz۔۔۔ u have rewarded with one of the best weapon…
(مبارک ہو ضوریز تمہیں ایک بہترین ہتھیار سے نوزا ہے)
مارک نے ضوریز کو اپنے ہاتھوں سے وہ گن دی
Thank u boss.. (شکریہ بوس)
ضوریز نے گن کو پکڑا
U deserve..
(تم اس قابل ہو)
Hmm may I go now?
(کیا میں اب جا سکتا ہوں؟ )
ضوریز نے ادب سے پوچھا
Yes zoraiz u may.. but Tiger u stay with me I want some discussion with you..
ہاں تم جاو۔ ۔ مگر ٹائیگر تم یہاں رکو مجھے کچھ ڈسکس کرنا ہے تم سے)
مارک نے ضوریز کو جانے کا شارا کیا
Okay boss !
ضوریز تم چلے جاو جیک کے ساتھ میں آتا ہوں۔۔
ٹائیگر نے ضوریز کی طرف مُڑ کر کہا
اوکے نو پرابلم!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں روتی ہو آنسہ اب اس کے لیئے ۔۔ پچیس سال ہو گئے اسے ہم سے بچھڑے اب صبر کر لو۔ ۔۔
عشرت بی بی نے اپنی بہو کو روتے دیکھ کر کہا
کیا کروں اماں مجھے وہ بھولتا ہی نہیں ۔۔ سوچتی ہوں کیا وہ اب بھی ہمارے صہیب جیسا ہی ہو گا۔ ۔۔ اسی کی طرح پڑھ لکھ گیا ہو گا۔ ۔ کیا پتا کوئی بہت بڑا آدمی بن گیا ہو۔ ۔۔
آنسہ نے دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کیئے۔
ہائے اللہ جانے وہ بچہ اب کہاں ہو گا۔ ۔ پتہ نہیں زندہ بھی ہو گا کے نہیں۔ ۔
اللہ نہ کرے اماں۔ ۔۔ میری ممتا کہتی ہے وہ زندہ ہے اسی دنیا میں ہے میں اس کے لیئے روز دعا کرتی ہوں وہ جہاں بھی ہو خریت سے ہو بس۔ ۔۔
آمین۔ ۔ کیسی ظالم دنیا ہے نا جانے اس معصوم بچے کو کہاں لے گئی۔ ۔۔ خیر یہ صہیب اب تک نہیں آیا پتا کرو کہاں رہ گیا ہے۔ ۔۔
عشرت بی بی کو صہیب کا خیال آیا
لیں دادو آپ نے ہمیں یاد کیا ہم آ گئے۔ ۔۔
صہیب نے اندر آتے ہی عشرت بی بی کے گلے میں بازو ڈال کر کہا۔
ہاں شیطان کو یاد کیا وہ آ گیا۔ ۔ اتنی دیر کیوں کر دی آنے میں۔ ۔۔
عشرت بی بی نے اسے خود سے الگ کر کے اپنے پاس بیٹھایا۔
بس دادو آپ کو پتا تو ہے جب میں اپنی جنت کے پاس ہوتا ہوں تو دنیا بھول جاتا ہوں۔ ۔۔
صہیب نے آنکھیں بند کر کے کہا
توبہ کتنا بے شرم ہو گیا ہے۔ ۔ ابھی سے ماں اور دادو کو بھول رہا ہے وہ آ گئی تو ہمیں یاد ہی نہیں کرے گا۔ ۔۔
عشرت بی بی نے صہیب کے کان کھینچے۔
ارے دادو کان تو چھوڑیں ۔۔۔ آپ کی لاڈلی مجھے کچھ بھولنے دے گی۔ ۔ میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی آپ لوگوں کی باتیں کرتی ہے۔ ۔۔
صہیب نے اپنا کان چھوڑوایا۔
امی جی۔ ۔۔ آپ کہاں کھوئی ہوئی ہیں کسے یاد کر رہی ہیں؟ ؟
اُس نے آنسہ کی طرف دیکھ کر کہا
آں نہیں بس کہیں نہیں تمہاری باتیں سن رہی تھی۔ ۔۔
آنسہ نے مسکرا کر کہا
جھوٹ نا بول۔ ۔ آج پھر یہ تیرے جُڑواں بھائی کو یاد کر رہی تھی ہر وقت سوچتی رہتی ہے اسے۔۔۔
عشرت بی بی نے صہیب کو بتایا
اوہو۔۔۔ میری پیاری امی۔ ۔ میں ہوں نہ کیا میں اُس کی کمی پوری نہیں کرتا اداس نہ ہوں کبھی نہ کبھی وہ ضرور ملے گا مجھے آخر ہم ایک ساتھ دنیا میں آئے تھے۔۔۔ ۔۔
صہیب نے آنسہ کو گلے لگا کر کہا
ہاں بس یہ ہی دعا ہے اللہ جانے کیسا ہو گا ۔۔۔ جہاں بھی اللہ اس کی حفاظت کرے۔ ۔۔
آنسہ نے دعا دی
اپنی بیوی بچوں کے ساتھ مزے کر رہا ہوگا۔ ۔۔ ہنہ اور میں اب تک کنوارا ہوں۔ ۔ دادو آپ نے کہا تھا جب نوکری لگ جائے گی آپ پھوپو سے شادی کی تاریخ پکی کر لیں گی۔ ۔۔ اب جا کیوں نہیں رہیں۔ ۔
صہیب نے بات بدلتے ہوئے کہا
آئے ہائے آنسہ اپنے اس بچے کا بھی کچھ سوچ لے مرے جا رہا ہے شادی کو ابھی دو دن ہوئے نہیں نوکری لگے اور شادی یاد آ گئی۔ ۔۔
ہاں اماں ٹھیک ہی کہہ رہا ہے اس کی شادی کی تاریخ رکھ لیتے ہیں اب۔ ۔ تھوڑی رونق ہو گھر میں جنت کے آنے سے۔ ۔۔
آنسہ نے صہیب کا ساتھ دیا
وہ تو ٹھیک ہے مگر شادی مفت میں تھوڑی ہو جاتی ہے کچھ پیسا تو جمع کر لے یہ۔ ۔
عشرت بی بی نے کہا
ارے دادو میں جمع کر لوں گا پیسے اس کی فکر آپ نہ کریں بس کل ہی جا کر شادی کی تاریخ لے آئیں۔ ۔
صہیب نے بے صبری سے کہا
صہیب اتنی جلدی کیوں پڑی ہوئی ہے آرام سے اگلے اتوار جائیں گے تاریخ لینے۔ ۔۔
آنسہ نے صہیب کو آنکھیں دیکھائیں
امی آپ لوگوں کو میرے جزبات کی کوئی فکر نہیں۔ ۔ بس مجھے جلدی ہے میں نہیں رہ سکتا مزید جنت کے بغیر۔ ۔۔
صہیب نے بے شرمی سے اظہار کیا
توبہ توبہ یہ لڑکا زرا لحاظ نہیں کرتا چل بھاگ یہاں سے جب ہمارا دل کرے گا ہم تب جائیں گے۔ ۔
عشرت بی بی نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا
تو پھر ٹھیک ہے میں اکیلا جا کر اس سے نکاح کر کے لے آونگا۔ ۔۔
صہیب نے مزید تنگ کیا
آنسہ سن رہی ہو اپنے لاڈلے کی بےہودا باتیں ۔۔ کچھ کہتی کیوں نہیں۔ ۔۔
عشرت بی بی نے آنسہ کو غصے سے دیکھایا
اماں آپکو تنگ کر رہا ہے اور آپ بھی سمجھتی نہیں ہیں۔ ۔ اب بڑے ہو جاو صہیب مت کیا کرو اپنی دادو کو تنگ۔ ۔
ہاہاہا امی کیا کروں دادو کو غصے میں دیکھ کر مجھے بہت مزا آتا ہے۔ ۔۔
صہیب نے عشرت بی بی کا گال چوما
ابھی بتاتی ہوں تجھے مزے کیا ہوتے ہیں
عشرت بی بی نے اپنی لاٹھی اٹھا کر صہیب کو دیکھائی
صہیب ہنستے ہوئے اپنے کمرے میں بھاگ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز مارک چاہتا ہے کے اب تم بقائدہ ہمارے ساتھ سب کاموں میں involve ہو جاو۔ ۔ اس نے ایک اور مشن دیا ہے تمہیں۔ ۔
ٹائیگر نے ضوریز کو سگریٹ جلاتے ہوئے دیکھ کر کہا
ایم ریڈی۔ ۔ جو بھی کام ہے میں کر لوں گا۔ ۔۔
ضوریز نے سگریٹ کا کش لگا کر کہا
اوکے تھوڑا مشکل ہے بٹ آئی ایم شور تم کر لو گے۔ ۔۔۔ ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان کی سیاسی جماعت کا کوئی آدمی وہاں روکا ہوا ہے۔ ۔ تمہیں اسے خاموشی سے ختم کرنا ہے۔ ۔ جیسا کے تم جانتے ہو فائیو اسٹار ہے تو سکیورٹی بھی بہت ہو گی اس لیئے بہت احتیاط سے کرنا ہوگا تم ایسا کرنا۔۔۔
مجھے معلوم ہے مجھے کیا کرنا ہے آپ بس ہوٹل کا ایڈریس مجھے سینڈ کر دیں۔ ۔
ضوریز نے ٹائیگر کی بات کاٹتے ہوئے کہا
آں ہاں میں سینڈ کر دیتا ہوں ۔۔ کیا مجھے تمہارے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے؟ ؟
ٹائیگر نے پوچھا
نہیں میں کر لو گا سب خود یو ڈونٹ وری۔۔۔
ضوریز نے اپنی سگریٹ ختم کر کے اسے پاوں سے مسل کر بجھایا
گُڈ ضوریز ۔۔۔ آئی لائک یور کونفیڈینٹ۔ ۔۔۔ خیر مائیکل تمہارے ساتھ ہو گا کوئی بھی ایمرجنسی ہو گئی تو وہ ساتھ ہو ۔ ۔۔
اوکے نو پرابلم!
صہیب نے مختصر جواب دیا
اس گن کو چلا لیتے ہو؟ ؟
ٹائیگر نے اسی گن کی طرف اشارا کیا جو مارک نے دی تھی
ضوریز نے بنا کوئی جواب دیئے گن اُٹھائی اور اسے لوڈ کر کے سامنے لگے درخت کی طرف فائیر کیا۔۔۔۔ وہاں سے ایک معصوم پرندہ نیچا گر کر ختم ہوگیا۔ ۔
ہممم واو گُڈ شوٹ۔ ۔۔
ٹائیگر نے متاثر ہو کر کہا
پچیس سالوں سے یہ ہی سیکھ رہا ہوں۔ ۔
ضوریز نے ایک نظر ٹائیگر کو دیکھ کر کہا
یس بٹ تم جیسا ابھی تک کسی نے نہیں سیکھا
I must say you are very different from others!
(میں یہ ضرور کہوں گا تم دوسروں سے الگ ہو )
I know… Send me details of that hotel!
(مجھے معلوم ہے۔ ۔ مجھے اُس ہوٹل کی معلومات بیج دیں)
ضوریز نے دوبارا سگریٹ جلائی اور اندر کی طرف چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی ، ابو اور دادو میری بات سن لیں اگلے مہینے کی ہی تاریخ رکھ کر آئے گا زیادہ لیٹ ڈیٹ فکس نہیں کریئے گا۔۔۔ صہیب نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا
ارے بیٹا تم کہو تو آج ہی نکاح کر لیتے ہیں۔ ۔
عشرت بی بی نے چڑتے ہوئے کہا
جی دادو میں تیار ہوں کر لیں آج ہی۔۔
صہیب نے جھٹ جواب دیا
ہاہاہا بس اتنی جلدی نہ کرو جیسے وہ لوگ کہیں گے ویسے ہی کریں گے ہم۔ ۔ آخر لڑکی والو کی تیاریاں زیادہ ہوتی ہیں۔ ۔۔
بشیر نے صہیب کو ٹوکتے ہوئے کہا
ابو جی کیسی تیاری مجھے کچھ نہیں چاہیئے اُن سے بس میرے لیئے جنت ہی کافی ہے۔ ۔
صہیب نے بے قراری سے کہا
اچھا بابا میں کہوں گی ماروخ سے کے جلدی رکھ لے اب تم جلدی ہمیں اس کے گھر چھوڑ دو ورنہ اس نے رات کے کھانے پر روک لینا ہے۔ ۔۔
آنسہ نے صہیب کو کہا
صرف میری امی ہی مجھے سمجھتی ہیں شکریہ میری پیاری ماں اب دیکھیں دو منٹ میں وہاں پہنچ جاوں گا میں۔ ۔
صہیب نے گاڑی کی رفتار تیز کی اور کچھ ہی دیر میں سب ماروخ کے گھر میں داخل ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں آج ہی اسی ہوٹل میں جانا ہو گا۔ ۔ یہ تمہارا آئی ڈی ہے اس میں تمہارا نام روبرٹ ہے باقی تمہیں ایڈریس اور روم نمبر سینڈ کر دیا ہے ساتھ میں اُس آدمی کی تصویر بھی ہے۔ ۔۔ مائیکل وہاں پہنچ چکا ہے تم بھی نکل جاو۔ ۔۔
ٹائیگر نے ضوریز کو تفصیل بتائی
اوکے میں چلا جاوں گا۔ ۔۔
ضوریز نے اس کے ہاتھ سے اپنا آئی ڈی کارڈ لیا اور دیکھا
اس میں تو کلین شیو ہے میری۔ ۔۔
اس نے ٹائیگر کو دیکھ کر کہا
ہاں مانا کے تم اس شیو میں بہت ہنڈسم لگتے ہو مگر تمہیں کلین شیو کرنی ہو گی تھوڑے چینج لگو گے۔ ۔۔
ٹائیگر نے مسکرا کر کہا
اوکے اٹس فائین۔ ۔۔
ضوریز نے جواب دیا اور اندر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر آو جنت پاس آکر بیٹھو میرے۔ ۔۔
آنسہ نے جنت کو پاس بیٹھایا
ماشااللہ بہت اچھی لگے گی تم دونوں کی جوڑی خوش رہو تم لوگ ۔۔ یہ لو منہ میٹھا کرو!
آنسہ نے سامنے پڑی میٹھائی اٹھا کر جنت کے منہ میں ڈالی
ماروخ اور راشد بھائی مبارک ہو آپ دونوں کو بھی۔ ۔۔
آنسہ نے اُٹھ کر ماروخ کا منہ میٹھا کروایا
ارے کوئی مجھ غریب کا بھی منہ میٹھا کروا دے حد ہو گئی آج کل کے بچے کچھ سمجھتے ہی نہیں۔ ۔
عشرت بی بی نے میٹھائی کھانے کے لیئے دکھی لہجے میں کہا
جی نہیں آپ سب سے پہلے پورا لڈو کھا چکی ہیں پھر آپکی شُگر ہائی ہو جائے گی۔۔۔
ماروخ نے جواب دیا
جنت کا فون بجنے لگا
یقینً صہیب کا ہو گا اس سے صبر نہیں ہو رہا جاو جاکر بتا دو اسے تاریخ طے ہو گئی ہے۔ ۔
آنسہ نے پیار سے جنت کو کہا۔ ۔ جنت شرماتے ہوئے اپنا فون لے کر اندر چلی گئی۔۔۔
کیا مسئلہ ہے صہیب صبر نہیں ہے سب کیا سوچ رہے ہونگے فون پر فون کیوں کر رہے ہو۔ ۔۔
جنت نے فون اُٹھاتے ہی کہا
اتنی بے قدری۔ ۔۔ ایک تو دادو مجھے ساتھ لے کر نہیں آئیں اوپر سے تم بھی لفٹ نہیں کروا رہی میں یہاں تنہا آہیں بھر رہا ہوں۔ ۔
صہیب نے گہرا سانس لے کر کہا
اچھا زیادہ آہیں بھرنے کی ضرورت نہیں تاریخ طے ہو گئی ہے۔ ۔
وہی پوچھنے کے لیئے فون کیا ہے جلدی بتاو کیا تاریخ رکھی ہے؟
صہیب نے بے چینی سے پوچھا
اگلے سال اگست کی۔۔۔
جنت نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا
واٹ۔ ۔۔ نو نیور۔ ۔ اتنی لیٹ۔ ۔۔ میں آ رہا ہوں وہاں بتاتا ہوں سب کو۔ ۔۔
صہیب نے چیختے ہوئے کہا
ارے پاگل مزاق کر رہی ہوں اسی سال کی رکھی ہے جزباتی انسان۔ ۔۔
جنت نے ہنس کر کہا
افف جان نکال دی تم نے میری اچھا بتاو کون سی تاریخ رکھی ہے؟
پہلے تم مجھے یہ بتاو تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے میں تماری ہوں اور تمہاری ہی رہوں گی پھر کیوں اتنے جزباتی ہو جاتے ہو۔ ۔۔
پتہ نہیں کیوں جنت بس میں جلدی سے تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں عجیب سا ڈر لگا رہتا ہے کے کہیں تم مجھ سے دور نہ ہو جاو۔ ۔
صہیب نے سنجیدہ لہجے میں کہا
پاگل ہو کیا جنت مر سکتی ہے مگرتم سے دور نہیں ہو سکتی ہے میں تمہاری طرح ہر وقت اظہار نہیں کرتی تو اسکا مطلب یہ نہیں کے مجھے تم سے پیار نہیں ۔۔ تم سے بھی زیادہ تم سے محبت کرتی ہوں۔ ۔۔
او ہووو۔ ۔۔ جناب یہ تو شادی کے بعد پتا لگے گا کے کون کس سے زیادہ پیار کرتا ہے مگر فل حال مجھے ڈیٹ بتاو کیا رکھی ہے۔ ۔۔
صہیب نے پھر سے تاریخ پوچھی
نومبر کی دس تاریخ رکھی ہے نانو نے۔ ۔۔
جنت نے جواب دیا
ایک تو یہ تمہاری نانو کو پتا نہیں مجھ سے کیا دشمنی ہے۔ ۔ کہا تھا بس اسی مہینے کی رکھ لیں نومبر تو دو مہینے بعد ہے یار۔ ۔۔
صہیب نے احتجاج کیا
اچھا بس چپ کرو شادی کی تیاری بھی کرنی ہوتی ہے بلکل صیح تاریخ رکھی ہے نانو نے ۔۔۔۔اب فون بند کرو کھانا لگانا ہے مجھے۔ ۔۔
میرا کھانا بھجوا دینا امی کے ہاتھ بہت بھوک لگ رہی ہے۔ ۔۔
صہیب نے جلدی سے کہا
اچھا ٹھیک ہے بھیج دونگی۔ ۔۔ اللہ حافظ
جنت نے مسکرا کر فون بند کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
hi i am Robert i reserved my room!
(ہائے میں روبرٹ ہوں میں نے کمرہ بُک کروایا تھا)
ضوریز نے اپنے مخصوص انگلش انداز میں ریسپشن پر آ کر کہا
Ok sir please give me your ID?
(جی سر پلیز اپنی آئی ڈی دیں؟ )
رسیشن پر کھڑی ایک خوبصورت گوری لڑکی نے پروفیشنل انداز میں ضوریز سے کہا
Oh here it is (اوہ یہ رہی)
ضوریز نے اپنی جیب سے کارڈ نکال کر اس لڑکی کو دیا
تھوڑی دیر اس لڑکی نے سسٹم پر آئی ڈی ڈالی اور پھر کہا
Yes sir your room number is 608 kindly have a seat our staff will take you to room…
(جی سر آہکا کمرہ نمبر 608 ہے آپ پلیز تشریف رکھیں ہمارا اسٹاف آپکو روم میں لے جائے گا)
لڑکی نےمسکرا کر ضوریز سے کہا
okay i am waiting! (اوکے میں انتظار کر رہا ہوں)
ضوریز سامنے جاکر بیٹھ گیا ۔۔ ایک ویٹر اس کے لیئے کولڈرنک اور ایک وائن کا گالاس لایا۔۔۔ ضوریز نے کولڈرنک کا گلاس اُٹھایا اور آہستہ آہستہ پینے لگا۔۔۔۔ پورے ہوٹل پر ایک نظر گُھمائی۔۔۔۔ سامنے بیٹھی ایک گوری اور خوبصورت لڑکی نے مسکرا کر ضوریز کو دیکھا۔۔۔ ضوریز نے بنا مسکرائے اپنا گلاس منہ کو لگایا وہ لڑکی اُٹھ کر اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔۔۔
Hey handsome i am lucy u?
(ہائے ہنڈسم میں لوسی اور تم)
اُس نے ضوریز کی طرف ہاتھ بڑھایا
Hi Robert here!
(ہائے روبرٹ ہوں)
ضوریز نے زبردستی اسکا ہاتھ پکڑا اور پھر فوراً چھوڑ دیا
you eyes are so beautiful man!
(تمہاری آنکھیں بہت حسین ہیں)
اس لڑکی نے ضوریز کے بلکل پاس آ کر کہا
I know.. Excuse me i have to go
(مجھے معلوم ہے۔ ۔ معزرت کرتا ہوں مجھے جانا ہے)
ضوریز فوراً کھڑا ہوا اور دوبارا ریسپشن پر جا کر اپنے روم کا پوچھا۔ ۔۔ فوراً ہی اسٹاف کے ایک بندے نے آکر اسکا سامان لیا اور اسے لے کر روم میں آگیا
