Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 27)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

امی۔۔ نانو اور ابو کب آئیں گے ؟

جنت نے پراٹھے کا ٹکڑا توڑا

بس جب ضوریز کہے گا میرا تو خیال ہے اب بلوا لو اُنہیں بھی اماں پریشان رہتی ہیں۔ ۔۔

ماروخ نے آنسہ کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ ضوریز خاموشی سے ناشتا کرتا رہا

ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو تم کیوں ضوریز بیٹا کیا کہتے ہو تم۔ ۔؟؟

آنسہ نے ضوریز کو پکارا

آممم جی۔ ۔۔ ٹھیک میں کل کی سیٹ کروا دیتا ہوں اُنکی ۔۔۔

ضوریز نے سر ہلا کر جواب دیا

چلو اچھا ہے اماں آئیں گیں تو تھوڑی رونق ہو گی ورنہ کتنی سنسان سی جگہ ہے یہ تو۔۔۔ یہاں کوئی اور بندہ بھی نظر نہیں آتا۔ ۔۔

بشیر نے چائے کا گھونٹ بھر کر کہا

جی ماموں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں عجیب سی جگہ ہے یہ بس پہاڑیاں ہی ہیں یہاں ہنہ۔ ۔

جنت نے منہ بنا کر طنزیہ کہا

تو آپ کو ہی پسند تھے پہاڑ اور اسطرح کی جگہ۔ ۔۔

ضوریز نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا

جی ہاں پسند تھے مگر اُس میں آپکا نام و نشان نہیں تھا یہ خواہش میری صرف صہی۔ ۔۔

ماں میں باہر جا رہا ہوں جاگنگ کرنے آپ میں سے کسی کو آنا ہو آ جائیے گا یہاں سب سیف ہے۔ ۔۔

ضوریز نے سختی سے جنت کی بات کاٹی اور کھڑا ہو گیا

ارے چائے تو پی لو اپنی۔ ۔۔

آنسہ کو محسوس ہوا کے ضوریز کو جنت کی بات اچھی نہیں لگی انہوں نے جلدی سے چائے کے کپ کی طرف اشارا کیا

نہیں ماں موڈ نہیں ہو رہا بعد میں پی لونگا ۔۔

ضوریز نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور باہر چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی اتنی بوریت ہے یہاں پر مجھے اپنا شہر بہت یاد آرہا ہے۔ ۔۔

جنت نے اداسی سے کہا

کیوں اداس ہو رہی ہو میری جان چلو آو باہر گھوم کر آتے دل بہل جائے گا۔ ۔۔

ماروخ نے جنت سے کہا

ہممم اچھا ٹھیک ہے۔ ۔۔مامی آپ چلیں گیں ہمارے ساتھ؟

جنت نے اپنا سویٹر پہنا اور شال اوڑھنے لگی

نہیں بیٹا میں زرا برتن سمیٹ لوں تم لوگ چلو۔ ۔۔

آنسہ نے برتن سمیٹتے ہوئے کہا

ہاں بھئی بھائی اور بھابی کو تھوڑا ٹائم دے دو کل رات سے بھابی میرے ساتھ ہیں۔ ۔

ماروخ نے ہنستے ہوئے کہا

آنسہ نے آنکھیں دکھائیں

او ہووو۔ ۔ یہ تو ظلم ہے ماموں کے ساتھ چلیں پھر ہم دونوں ہی چلتے ہیں۔ ۔

جنت نے بھی شرارتاً کہا اور دونوں مسکراتے ہوئےباہر چلی گئیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی آئیں وہ اُس ندی کے پاس چلتے ہیں بہت پیاری ہے۔ ۔۔

جنت نے اشارے کر کے بتایا

ضوریز جو جوگنگ کر رہا تھا جنت اور ماروخ کو دیکھ کر خاموشی سے انکے پیچھے آنے لگا

ہاں چلو ونہی چلتے ہیں۔ ۔

ماروخ اور جنت اپنی شال میں خود کو چھپائے ندی کی طرف چلنے لگیں۔ ۔۔

واوو کتناصاف پانی ہے نہ۔ ۔۔

جنت نے ندی کے پاس پہنچ کر کہا

ضوریز تھوڑے فاصلے پر رک کر جنت کو دیکھنے لگا جو اس وقت کسی اور ہی روپ میں نظر آرہی تھی جیسے اسے کوئی غم نہ ہو۔ ۔

ہاں ہے تو بہت صاف۔۔۔ یہاں کا ماحول بھی بہت صاف ہے دیکھو ہر طرف ہریالی ہے۔۔۔

ماروخ نے اردگرد لگے درختوں کو دکھ کر کہا

ہممم کیونکے یہاں ہیوی ٹریفک نہیں ہے نا اس لیئے اتنا صاف ستھرا ماحول ہے یہاں کا۔۔۔

جنت نے ایسے کہا جیسے بہت بڑی بات کی ہو

واہ کتنی عقلمند ہے میری بیوی تو۔۔۔۔ میں ایسے ہی اِنکو بےوقوف سمجھتا تھا۔ ۔۔

ضوریز نے دل میں سوچا اور اپنی مسکراہٹ دبائی

امی چاہے یہ جگہ کتنی ہی پیاری کیوں نہ ہو مگر کراچی جیسی بات نہیں ہے یہاں۔۔۔ ہے نا؟

جنت ماروخ کے ساتھ ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔ ۔ ضوریز ابھی بھی جنت کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ جنت اسطرح بیٹھی تھی کے ضوریز اسکا صرف سائیڈ سے ہی چہرا دیکھ سکتا تھا

ہاں بیٹا یہ بات تو ہے وہاں کی زندگی بہت تیز ہے پتا ہی نہیں چلتا تھا وقت کا۔۔ یہاں تو ابھی تک ایک دن نہیں گزرا۔ ۔۔

ماروخ کو بھی کراچی یاد آنے لگا

ہممم ابو اور دادو یاد آ رہے ہیں۔ ۔۔ شاید وہ دونوں آجائیں تو یہاں دل لگ جائے۔ ۔ ویسے امی آپ لوگ اس ضوریز کی ہر بات کیوں مانتے ہیں وہ جہاں کہے گا ہمیں رہنا ہو گا بھلا یہ کیا زبردستی ہوئی۔ ۔۔

جنت کو ضوریز کی برائی کرنے کا موقع ملا تو اس نے فوراً شروع کر دی۔۔

ضوریز نے اپنا نام سنا تو تصلی سے وہاں پڑے پتھر پر بیٹھ گیا اسے معلوم تھا اب جنت رکے گی نہیں۔ ۔

کیا کریں جنت اب اسی کا سہارا ہے ہمارے پاس ۔۔ بے شک ہم اسکی وجہ سے مشکل میں ہیں مگر جب اُسے کل ہم سب کے لیئے پریشان اور روتے ہوئے دیکھا تو وہ مجھے بلکل اپنے صہیب جیسا لگا وہ بھی تو ہمارا اسی طرح خیال رکھتا تھا۔ ۔

ماروخ نے ضوریز کا ساتھ دیا تو جنت کا منہ بن گیا

ہنہ جو اس نے کیا یہ اسکا فرض تھا آخر اسی کی وجہ سے ہم آج دربدر ہیں اور امی اسے کبھی صہیب سے مت ملائیے گا۔۔۔ صرف شکل ملنے کے علاوہ اور کوئی عادت اس کی صہیب جیسی نہیں ہے۔ ۔۔

جنت نے جزباتی انداز میں کہا

ضوریز نے جنت کے منہ سے اپنے لیئے یہ سب سنا تو اسکا دل کیا وہ اسے دو لگائے اور بتائے کے اپنی طرف سے فضول باتیں نہ سوچے مگر وہ خود پر قابو پاتا اسکی مزید باتیں سننے لگا۔۔۔

نہیں جنت ایسی بات نہیں بیٹا اگر ضوریز بھی ہمارے ساتھ رہتا اور اسکا بچپن ہمارے ساتھ ہی گزرتا تو وہ کبھی ایسا نہ ہوتا اپنا دل بڑا کرو جنت میں نے دیکھا وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے اسکی آنکھوں میں تمہارے لیئے تڑپ دیکھی ہے۔۔۔ بس اب اس کی محبت کو قبول کر لو۔ ۔۔۔

ماروخ نے جنت کو پیار سے سمجھایا۔ ۔

ضوریز کو ماروخ کی باتیں سن کر اچھا لگا اس کے دل میں جو ماروخ کی طرف سے شکوہ تھا وہ دور ہو گیا

ہنہ کوئی پیار ویار نہیں کرتا وہ۔۔۔ آپکو کیا پتا اتنا غصے والا ہے اگر ہلکا سا بھی کچھ کہوں نا تو فوراً ڈانٹنے لگتا ہے۔۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے اُس سے۔ ۔۔

جنت نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا

ضوریز نے جنت کی بات سنی تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی۔۔

اور پتا ہے صبح اس نے میرے ساتھ۔۔۔۔

جنت ایک دم چپ ہوئی اسے احساس ہوا کے وہ زیادہ ہی پرسنل بات نہ بول دے۔

ضوریز بھی ایک پل کے لیئے چونکا کے کہیں جنت ایسی ویسی کوئی بات نہ بتا دے مگر پھر جنت کو چپ ہوتا دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا۔۔

چندا ایسی چھوٹی باتیں میاں بیوی میں ہوتی رہتی ہیں اب دیکھو نہ جب تمارے ابو بھی غصے میں ہوتے ہیں تو مجھے ڈانٹ ہی دیتے ہیں۔ ۔۔

ماروخ نے جنت کو سمجھایا

مگر صہیب نے تو مجھے کبھی نہیں ڈانٹتا تھا چاہے میں جو مرضی کروں۔ ۔۔

جنت نے اداسی سے کہا۔ ۔

ہمم تو اب اپنے غصے پر قابو کرنا ہوگا مگر کیا کروں سیدھی طرح بات بھی تو نہیں مانتی۔ ۔۔

ضوریز نے دل میں سوچا

ہاں صہیب تو بہت ٹھنڈے مزاج کا تھا مگر ضوریز بھی اچھا بچہ ہے ۔۔ اسے سمجھنے کی کوشیش کرو۔ ۔۔

ماروخ نے دوبارا ضوریز کی سائیڈ لی

ہنہ کوئی نہیں سمجھنا مجھے اُسے۔۔ خیر میں پھول توڑ کر آتی ہوں اچھے لگ رہے ہیں۔ ۔

جنت نے ایک دم پلٹ کر ایک پودے کی طرف اشارا کر کے کہا ۔۔

ضویرز تیزی سے درخت کے پیچھے چُھپ گیا

اچھا جاو دیہان سے جانا۔۔

ماروخ نے کہا

اوکے۔ ۔۔

جنت مزے سے چلتی ہوئی پودے کی طرف آئی۔ ۔ ضوریز اس پودے کے نزدیک ایک درخت کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ ۔

جنت اپنے پاوں کو تھوڑا سا زمین سے اٹھا کر پھول توڑنے لگی اور ساتھ ساتھ سونگھ بھی رہی تھی۔ ۔۔

واو کتنے پیارے پھول ہیں۔ ۔

جنت اپنی شال کو تھوڑا کھول کر اس میں پھول جمع کرنے لگی۔

ضوریز کو جنت پھولوں کا حصہ لگی وہ بہت پیار سے جنت کو دیکھ رہا تھا۔ ۔۔

آوچ۔ ۔ افففف۔۔۔

جنت نے تھوڑا اُچھل کر ایک پھول توڑا تو اسکے ہاتھ میں کانٹا چُبا۔ ۔ ضوریز فوراً اسکے پاس آیا۔۔۔

کیا ہوا دکھاو۔ ۔؟

ضوریز نے فوراً اسکا ہاتھ پکڑا

جنت نے ایک دم چونک کر دیکھا۔ ۔

ضوریز اسکے ہاتھ کو پکڑے دیکھ رہا تھا اسے جنت کی انگلی پر ایک چھوٹا سا خون کا قطرہ نظر آیا۔ ۔۔ ضوریز نے وہاں اپنے لب رکھ کر اُس ننے سے قطرے کو اپنے ہونٹوں سے چُن لیا۔۔۔

یی یہ کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے۔ ۔

جنت ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی اسکی شال سے سارے پھول زمین پر گر گئے

کیا کر رہا ہوں تمہارے زخم پر مرحم رکھ رہا ہوں تمہاری طرح زخموں پر نمک نہیں چھڑک رہا۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کا بازو پکڑ کر اپنے قریب کیا

میں امی کو بلا لونگی آئی سمجھ۔۔۔

جنت نے اپنا بازو چھوڑوانے کی کوشیش کی

پھوپو جنت میرے ساتھ ہے آپ پریشان مت ہوئیے گا۔ ۔۔

ضوریز نے پلٹ کر زرا اونچی آواز میں کہا۔ ۔۔ ماروخ نے پہلے ہی ضوریز کو دیکھ لیا تھا وہ مسکرا کر دوبارا بیٹھ گئیں

جی تو بلاو اپنی امی کو۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کو درخت کے ساتھ لگایا

یہ کیا بدتمیزی ہے آپ کیا سمجھتے ہیں میں ڈرتی ہوں آپ سے۔۔۔۔

جنت نے ضوریز کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

جی نہیں میں یہ سمجھتا نہیں ہوں بلکے مجھے یقین ہے آپ مجھ سے اور میرے غصے سے بہت ڈرتی ہیں اور ابھی پھوپو کے سامنے پتا نہیں کیا کیا الزامات مجھ بچارے پر لگا رہی تھیں۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کے چہرے پر جھک کر کہا

جی نہیں میں الزام نہیں لگا رہی تھی سچ بتا رہی تھی سمجھے۔ ۔۔

جنت اپنے غصے میں یہ محسوس ہی نہیں کر سکی کے ضوریز اسکے بہت پاس آتا جارہا ہے

اچھا تو پھر وہ سب بھی بتانا تھا کے مجھے نیچے فرش پر لیٹا دیا تھا اور پوری رات سونے بھی نہیں دیا۔۔۔

ضوریز نے جنت کے ہاتھ میں پکڑا پھول لیا اور جنت کے بالوں میں لگایا

مم مجھے جانا ہے پلیز مجھے چھوڑیں۔ ۔

جنت کو ضوریز کی قربت سے گھبراہٹ ہونے لگی

تمہیں چھوڑ ہی تو نہیں سکتا جنت یہ سب رزک تمہارے وجہ سے ہی تو لیئے تھے۔۔۔ اور اب تم مجھ سے دور بھاگ رہی ہو۔ ۔۔

یو آر بیوٹیفل جنت۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کے ایک ایک نقش کو دیکھ کر کھوئے ہوئے لہجے میں کہا

پپ پلیززز لیٹ می گو۔ ۔۔

جنت نے اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر تر کیا

ضوریز کی نظر اس کے ہونٹوں پر بھٹکنے لگیں۔ ۔۔

ایک بار پلیززز۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کے لبوں پر دو انگلیاں رکھ کر کہا

جنت نے سر کو دائیں بائیں ہلا کر منع کیا

بس کرو جنت اب۔ ۔۔ اتنا صبر نہیں ہے مجھ میں خود کو راضی کر لو اس سب کے لیئے۔۔۔ میں زبردستی کچھ نہیں کرنا چاہتا مگر اسکا مطلب یہ نہیں کے تم ۔۔۔ خیر جاو اب۔ ۔۔

ضوریز گہرا سانس لے کر سائیڈ پر ہوا۔ ۔۔

جنت تیزی سے چلتی ہوئی ماروخ کے پاس آئی ۔۔

ضوریز نے زمین پر پڑے پھولوں کو دیکھا اور اُنہیں چُننے لگا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *