Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 12)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

جنت کہاں ہے شبیر۔ ۔

آنسہ نے شبیر کو دیکھا

اُسے میں نے صہیب کے ساتھ گھر بھیج دیا ہے۔۔

شبیر نے آنسہ کے پاس بیٹھ کر کہا

اوہ مگر کیوں۔ ۔۔ تم چلے جاتے جنت کے ساتھ اسے کیوں بھیجا۔ ۔۔

آنسہ نے پریشانی سے کہا

کیا ہو گیا بیگم۔ ۔۔ پریشان نہ ہو ابھی آجائیں گے دونوں۔۔۔ دو دن سے ایک دوسرے سے ملے بھی نہیں اور صہیب کے سر میں درد بھی تھا میں نے سوچا دونوں تھوڑا ریسٹ کر لیں گے۔ ۔ میں ہوں نہ تمہارے پاس۔ ۔۔

بشیر نے آنسہ کا ہاتھ پکڑ کر تسلی دی

یہ بات نہیں ہے بشیر آپ سمجھ نہیں رہے جنت کا اس کے ساتھ اکیلے جانا ٹھیک نہیں اگر ان دونوں کے درمیان کچھ غلط ہو گیا تو۔ ۔۔

آنسہ نے یہ سوچتے ہی آنکھیں بند کیں

کیا مطلب غلط ہو گیا۔ ۔۔ جنت صہیب کے ساتھ ہے اور صہیب خود سے زیادہ جنت کو چاہتا ہے تم کیوں پریشان ہو رہی ہو ڈاکٹر نے منع کیا ہے تم ریلکس رہو۔ ۔

جبت صہیب کے ساتھ نہیں ہے بشیر میں تمہیں کیسے سمجھاوں وہ ہمارا صہیب نہیں ہے وہ ضوریز ہے۔ ۔۔ جسے ہم نے پیدا ہوتے ہی کھو دیا تھا۔ ۔۔

بشیر ایک پل کے لیئے حیران ہوا

کک کیا مطلب کک کون ضوریز۔ ۔ تت تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔ ۔۔ وہ صہیب ہی ہے اسکی شکل

ہاں اسکی شکل صہیب جیسی ہے کیونکے ہمارے دو جُڑواں بچے تھے مگر یہ صہیب نہیں ضوریز ہے جسکا نام ہم نے زوہیب رکھنا تھا مگر اب وہ ضوریز بن کر ہماری زندگی میں آ گیا ہے۔ ۔۔

آنسہ نے بشیر کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا

کک کیا ہمارا زوہیب۔ ۔۔ وہ زوہیب ہے۔ ۔۔ اوہ میں بھی کہوں صہیب تو ایسا نہیں وہ تو اتنی باتیں کرتا ہے مجھ سے مگر اوہ خدایا ہمارا زوہیب ہمیں مل گیا ۔۔۔

بشیر کو سمجھ نہیں آتی وہ خوشی کا اظہار کیسے کرے

ہمارا زوہیب نہیں ہے اب وہ ضوریز ہے۔ ۔۔ اور ہمارا صہیب۔ ۔۔ ہمارا صہیب ضوریز کے لیئے قربان ہو گیا۔۔۔ چلا گیا ہمیں چھوڑ کر۔۔

آنسہ ایک بار پھر شدت سے رونے لگی

کک کیا کہ رہی ہو۔ ۔۔ آنسہ کہاں ہیں صہیب۔ ۔۔ تمہارا مطلب ہے کے۔ ۔۔۔ نن نہیں تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ہمارا صہیب ہمیں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا ۔۔۔

بشیر ایک دم کھڑا ہو گیا

یہ سچ ہے بشیر۔ ۔۔ صہیب اب اس دنیا میں نہیں ہے ۔۔

بشیر کو لگا اس کے سر پر کسی نے بمب پھوڑ دیا ہو

کک کیا صہیب۔ ۔۔ ہمارا صہیب چلا گیا ایسے کیسے ۔۔۔یہ کیسی آزمائش دی ہے اللہ نے ہمیں اپنی اولاد کی۔ ۔ مجھے بتاو آنسہ کیا ہوا تھا یہ ضوریز کون ہے صہیب کو کیا ہوا تھا۔ ۔

بشیر نے بیٹھتے ہوئے کہا

آنسہ آہستہ آہستہ بشیر کو ضوریز کی بتائی ہوئی تمام باتیں بتانے لگیں۔۔

یا اللہ یہ کیسا امتحان ہے۔ ۔۔ ایک بار ہم نے ایک بیٹے کو کھویا صبر کیا مگر اب دوبارا۔ ۔۔ اس سے اچھا ایک ہی دے دیتا اسطرح کی ازیت نہ دیتا بار بار۔۔۔

بشیر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے رونے لگا

بس بشیر یہ بھی اللہ کا کوئی امتحان ہو گا اس کی مرضی کے آگے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ۔۔ مگر اب مجھے جنت کی فکر ہے وہ ضوریز کو ہی صہیب سمجھ رہی ہے اسے ضوریز سے دور رکھنا ہو گا۔ ۔۔ بے شک ضوریز ہمارا خون ہے مگر اس کی تربیت کسی اور ہاتھوں نے کی ہے۔ ۔۔ وہ صہیب سے بہت مختلف ہے۔ ۔۔ سچ کہوں تو مجھے ڈر لگنے لگا ہے ضوریز سے وہ بہت پُر اسرار سا ہے پلیز تم جاو جنت کے پاس کہیں وہ جنت کو۔ ۔۔

آنسہ نے بشیر کے ہاتھ تھامے

نہیں آنسہ بے شک اسکی تربیت ہم نے نہیں کی اس میں اس کا قصور نہیں وہ تو معصوم بچہ تھا مگر خون تو ہمارا ہی ہے ۔۔۔ ہم اب اس منہ نہیں موڑ سکتے ہمیں ضوریز کو اپنانا ہوگا۔ ۔ بے شک وہ صہیب جیسا نہیں مگر ہے تو ہماری اولاد میں اب دوبارہ اسے خود سے الگ نہیں کر سکتا۔ ۔ میں نے اس کی آنکھوں میں ویرانی دیکھی ہے۔ ۔ بہت ترسا ہوا ہے وہ رشتوں کو اسے ہم اتنی محبت دینگے کے وہ ہمارا صہیب بن جائے گا۔ ۔۔

بشیر نے آنسہ کو گلے لگا کر تسلی دی۔ ۔۔

ہمیں اللہ کا شکر کرنا چاہیئے اللہ نے ایک اولاد واپس لی ہے تو دوسرے سے نواز دیا ورنہ ہم کیا کر لیتے اگر دونوں ہی ہم سے بچھڑ جاتے۔ ۔ ہمیں شکواہ نہیں شکر کرنا ہے آنسہ۔ ۔

بشیر نے آنسہ کو سمجھایا

آپ ٹھیک کہتے ہیں بشیر مگر میں کیا کروں صہیب میرا پیارا بچہ مجھ سے بچھڑ گیا ضوریز اسکی کمی کبھی پوری نہیں کر سکتا۔ ۔۔

آنسہ نے روتے ہوئے کہا

بیشک ہر کسی کی اپنی جگہ ہے۔ ۔۔ تم خود کو سنبھالو ابھی ہمیں جنت کو بھی سنبھالنا ہے اس معصوم کو پتا لگا تو وہ مر جائے گی۔ ۔۔ اسکی تو دنیا ہی صہیب سے شروع ہوتی ہے۔ ۔۔

بشیر کو جنت کی فکر ہوئی۔ ۔

ہاں مجھے بھی اب اسی کی فکر ہے تم فون کرو اسے اور ضوریز کو میرے پاس بھیج دو اور خود اس کے پاس جاو وہ عدت میں ہے ہمیں اسے ضوریز سے دور رکھنا ہے۔ ۔

آنسہ نے اپنے آنسو صاف کیئے

ہاں اسے ضوریز سے دور رکھنا ہوگا مگر یوں اچانک ہم جنت کو صہیب کا نہیں بتا سکتے۔ ۔۔ کچھ سوچنا پڑے گا ۔۔

بشیر نے سوچتے ہوئے کہا

ہاں میں نے سوچا ہے ہم کرچی چلے جائیں گے میں جنت کو سمجھا دونگی وہ بچاری تو معصوم ہے جیسا میں کہونگی وہ مان لے گی۔ ۔۔

ہاں اور جب تک اسکی عدت ختم ہو جائے تب تک ہم ضوریز کو بھی سمجھ لیں گے۔ ۔۔ پھر ہو سکتا ہے ضوریز جنت کو سنبھال لے۔ ۔

بشیر نے سوچتے ہوئے کہا

ابھی سے ایسا کچھ مت سوچو بشیر۔ ۔ ضوریز پتا نہیں کن لوگوں کے ساتھ کام کرتا ہے اب وہ پاکستان میں نہیں رہتا۔۔ میں جنت کو کسی خطرے میں نہیں ڈالوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔۔۔

آنسہ نے بشیر کی بات سے اختلاف کیا

اچھا ٹھیک ہے یہ سب بعد کی باتیں ہیں فل حال میں جنت کو فون کر لوں تم بس اپنا خیال رکھو۔ ۔

بشیر نے آنسہ کے آنسو صاف کیئے۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز کب سے جنت کو کام کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔ ۔

جنت جلدی جلدی روٹیاں بنانے میں مصروف تھی۔ ۔۔

وہاں بیٹھ کر مجھے دیکھنے کے بجائے میری ہیلپ کروا دیں تو مہربانی ہو گی۔ ۔ ۔۔

جنت نے ضوریز کی نظروں کو محسوس کیا

آں ہاں کروا دیتا ہوں ہیلپ کیا ہیلپ چاہیئے؟

ضوریز اُٹھ کر جنت کے پاس آیا

یہ دالیہ اس برتن سے نکال کر اس ڈبے میں ڈالیں اور یہ روٹیاں وہ جو سامنے رومال پڑا ہے اس میں لپیٹ دیں اور ہاں یہ سالن بھی اس ٹفن میں ڈال دیں۔۔

جنت نے جلدی جلدی ہاتھ کے اشاروں سے سب کام بتائے۔ ۔۔

کک کیا یہ سب ۔۔ یہ تو بہت مشکل کام ہیں مجھ سے گر جائے گا یہ سب۔ ۔

ضوریز نے سر کُجھایا۔ ۔ اس نے تو کبھی اپنی پلیٹ میں کھنا نہیں نکالا تھا وہ یہ سب کیسے کرتا۔۔

کیا ہو گیا کوئی قتل کرنے کو تھوڑی کہا ہے جو آپ کو اتنا مشکل لگ رہا ہے۔ ۔۔

جنت نےمسکرا کر کہا

ہاں وہ کہ دو وہ زیادہ آسان ہے میرے لیئے۔ ۔

ضوریز نے بھی مسکرا کر جواب دیا

اچھا رہنے دیں ایک چونٹی ماری نہیں جاتی اور قتل کرو گے۔ ۔۔ خیر جلدی کریں نہ مامی انتظار کر رہی ہونگی۔ ۔

تمہیں ابھی میری حقیقت پتا ہی نہیں۔ ۔۔ جس دن پتا لگی تو نہ جانے تم کیا کرو گی۔ ۔۔ ضوریز نے جنت کو دیکھتے ہوئے دل میں سوچا۔ ۔۔

جنت بار باراپنے بازو سے اپنے منہ پر آئے بالوں کو پیچھے کر رہی تھی اسکے دونوں ہاتھ آٹے سے بھرے ہوئے تھے۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کی اس ادا کو دیکھا تو اسکا دل کیا وہ جنت کے بال سمیٹ دے

لاو میں سمیٹ دوں تمارے بال۔ ۔

ضوریز نے جنت کا رخ اپنی طرف کیا اور ایک ایک کر کے جنت کے منہ پر آئے بالوں کو سمیٹنے لگا۔ ۔۔۔

سمجھ نہیں آتا تمہارے بال زیادہ حسین ہیں یا آنکھیں یا پھر۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑ دیا

یا پھر کیا۔ ۔۔؟

جنت نے آنکھیں اٹھا کر پوچھا

یا پھر تمہارے ہونٹ۔ ۔۔

ضوریز کی نظر جنت کے ہونٹوں پر ٹہر گئی

مگر تم تو کہتے تھے میں پوری کی پوری بہت حسین ہوں۔ ۔۔

جنت نے شرما کر کہا

ہاں۔ ۔۔ تم بہت حسین ہو جب ہی تو نہ چاہتے ہوئے بھی میں اتنا سوچنے لگا ہوں تمہیں۔ ۔۔ اولجھا دیا ہے تم نے مجھے ۔۔۔۔ بہکنے لگا ہوں میں۔۔۔

ضوریز بے خود سا ہوکر جنت کے بہت قریب آگیا۔ ۔

آج تو بہت رومینٹک ہو رہے ہیں ورنہ تو پاس نہیں آرہے تھے۔ ۔

جنت نے شرما کر نظریں جھکائیں۔ ۔

ضوریز نے جنت کا چہرا اوپر کیا۔ ۔ اس سے پہلے کے وہ کوئی گستاخی کرتا جنت کا فون بجنے لگا۔ ۔۔ ضوریز ایک دم ہوش میں آیا اور چند قدم دور ہو گیا۔۔

ماموں کا ہو گا میں فون سن کر آئی۔ ۔ جنت ہاتھ صاف کرکے اپنا فون سننے لگی

یہ میں کیا کر رہا تھا کیوں میں اتنا بے بس ہو رہا ہوں ایسا تو نہیں تھا میں۔ ۔۔۔ مجھے خود پر اختیار کیوں نہیں رہا۔ ۔۔ اففف یہ کیا کرنے لگا تھا میں۔ ۔ ماں نے مجھے اس سے دور رہنے کو کہا ہے اور میں۔ ۔۔ نہیں اب میں اُس کے پاس نہیں جاونگا۔ ۔۔ یہ بہت معصوم ہے کہیں کچھ غلط ہو گیا تو میں خود کو معاف نہیں کر سکوں گا۔ ۔

ضوریز دل میں سوچنے لگا

ماموں کا فون تھا کہہ رہے تھے کے آپکو ہوسپٹل بھیج دوں اور پھر وہ گھر آجائیں گے۔ ۔۔

جنت نے بتایا

ہممم ٹھیک ہے مجھے سامان دے دو میں چلا جاتا ہوں۔ ۔

ضوریز نے جنت کو دیکھے بغیر جواب دیا

ہاں مگر مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا تھا اتنا دل کر رہا ہے مامی سے ملنے کا۔ ۔۔

جنت نے اداسی سے کہا

کوئی بات نہیں ماں جلدی ٹھیک ہو کر آجائیں گی پھر مل لینا ۔۔۔

ہممم ان شاءاللہ۔ ۔۔ اچھا میں سامان پیک کر دیتی ہوں آپ ریڈی ہو جائیں۔ ۔

جنت دوبارا اپنے کام میں مصورف ہو گئی۔ ۔ ضوریز خاموشی سے روم میں چلا گیا ۔۔۔ جنت نے سب کچھ پیک کیا اور ضوریز کو بلانے کے لیئے روم آئی

ارے اسطرح کیوں بیٹھے ہیں چلیں سب سامان پیک کر دیا ہے میں نے۔ ۔۔

جنت ضوریز کے ساتھ بیٹھ گئی

ہممم ٹھیک ہے دے دو سامان۔ ۔

ضوریز جنت کو دیکھے بغیر اٹھ کر کھڑا ہو گیا

کیا ہوا پریشان کیوں ہیں۔ ۔۔ مجھ سے نظریں کیوں نہیں ملا رہے کوئی بات بری لگی ہے ؟

جنت نے ضوریز کا ہاتھ پکڑا

پلیز جنت دیر ہو رہی ہے میرا ہاتھ چھوڑو اور سامان دو۔ ۔۔

ضوریز نے ہاتھ چھوڑوایا

مجھے سمجھ نہیں آتی آپکی۔۔۔ کبھی اتنے پاس آجاتے ہیں اور پھر ایک دم اجنبی بن جاتے ہیں کیا ہو گیا ہے آپکو صہیب؟

جنت کو ضوریز کا یوں ہاتھ چھوڑوانا اچھا نہیں لگا اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں

ایسی بات نہیں ہےجنت۔ ۔ اب تم سے دور جانا میرے لیئے آسان نہیں تم پریشان مت ہو میں تو بس اس لیئے کہ رہا تھا ماں انتظار کر رہی ہونگی اور تم اپنی جلدی رونے کیوں لگتی ہو مجھے اچھا نہیں لگتا۔ ۔

ضوریز نے نرمی سے کہا

جنت ضوریز کی بات سن کر مسکرا دی

جنت میں نے اتنا خوبصورت منظر آج تک نہیں دیکھا۔ ۔ کوئی بھیگی آنکھوں سے مسکراتا اتنا حسین بھی لگتا ہے تمہیں دیکھ کر اندازہ ہوا ہے۔ ۔۔

ضوریز پھر سے جنت کے حسن میں کھونے لگا

ویسے کہاں سے سیکھ کر آئے ہیں یہ رومینٹک باتیں پہلے تو اسطرح تعریف نہیں کی۔ ۔۔

جنت ایسی ہی تھی فوراً بہل جاتی تھی صہیب کی باتوں میں

بس جب جب تمہیں دیکھتا ہوں تو دل میں خود بخود آجاتیں ہیں یہ باتیں ۔ ۔ اوہ تم پھر سے مجھے خود سے بیگانا کر رہی ہو پلیززز دیر ہو رہی ہے سامان دے دو ماں انتظار کر رہی ہونگی۔ ۔

ضوریز نے اپنا سر جھٹک کر خود کو جنت کے حسار سے نکالا اور روم سے باہر چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز ہوسپٹل پہنچ کر آنسہ کے روم میں آیا۔ ۔

یہ جنت نے چیزوں بھجوائیں ہیں۔۔ وہ آپکے لیئے کافی پریشان ہے۔ ۔

ضوریز نے سامان ٹیبل پر رکھا اور آنسہ کے پاس آگیا۔ ۔۔

اپنے باپ سے نہیں ملو گے ضوریز۔ ۔

بشیر کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ ۔

ضوریز نے بشیر کو دیکھا ۔۔۔

آ آ آپ۔ ۔۔ آپ کو پتا لگ گیا میں۔ ۔۔

ضوریز کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بشیر نے ضوریز کو گلے لگایا۔ ۔

ہاں باپ ہوں تمہارا کتنا یاد کیا تمہیں۔ ۔۔

بشیر نے روتے ہوئے کہا

ضوریز نے بھی اپنے ہاتھ بشیر کے ارد گرد لپیٹے۔ ۔۔

بابا۔ ۔۔ مم میں آپ لوگوں کے پیار کا حقدار نہیں ہو ں شاید۔ ۔۔

ضوریز نے گہرا سانس لے کر بشیر کو خود سے الگ کیا

نہیں ضوریز پیار تو ہم تم سے اس وقت سے کرتے ہیں جب تم اس دنیا میں آئے تھے بیٹا بس اب کہیں مت جانا ہمیں چھوڑ کر۔ ۔۔

بشیر نے روتے ہوئے کہا

ضوریز کی بھی آنکھیں بھیگنے لگیں اس نے دوبارا بشیر کو گلے لگا لیا

بابا مم مجھے معاف کر دیں ۔۔ مجھے معاف کر دیں پلیزز۔ ۔۔

نہیں بیٹا تمہارا کیا قصور یہ تو سب اوپر والے کی مرضی ہے۔۔

بشیر نے تسلی دی

مگر ماں مجھ سے ناراض ہیں شاید اب وہ مجھ سے پیار نہیں کرتیں۔ ۔

ضوریز نے آنسہ کو دیکھا جو خاموشی سے آنسو بہا رہی تھیں۔ ۔

کاش ماں کا دل اتنا سخت ہوتا کے وہ اپنی اولاد سے نفرت کر سکتی میں چاہ کے بھی یہ نہیں کر سکتی ضوریز یہاں آو میرے پاس ۔۔۔

آنسہ نے اپنے ہاتھ پھلائے اور ضوریز تیزی سے انکے بازوں میں سما گیا

ماں مم میں چاہ کر بھی آپ لوگوں سے نفرت نہیں کر سکا۔ ۔۔ بہت تنہا رہا ہوں میں۔۔ بہت ترسا ہوا ہوں میں اس محبت کے لیئے مجھے خود سے الگ مت کرئیے گا۔۔۔

اب ایسا نہیں ہوگا بیٹا اب یہ غلطی ہم دوبارہ نہیں کریں گے۔۔۔

بشیر بھی انکے پاس آکر ان دونوں سے لپٹ گیا اور تینوں ایک دوسرے کے آنسو صاف کرنے لگے۔ ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *