Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 29)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 29)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
ضوریز بیٹا کہاں جا رہے ہو۔ ۔۔
ضوریز کو جیکٹ پہنتا دیکھ کر آنسہ نے پوچھا
بس ایسے ہی جوگنگ کرنے جا رہا ہوں۔ ۔ کوئی کام ہے آپکو؟
ضوریز نے رک کر پوچھا
نہیں کام تو کوئی نہیں ہے جنت کو بھی اپنے ساتھ لے جاو آج صبح سے ہی مجھے اداس لگ رہی ہے۔۔۔
آنسہ نے جنت کی طرف دیکھ کر کہا جو اُن سے کافی فاصلے پر گم سم سی بیٹھی تھی۔۔۔
اوہ کیوں ماں یہ اداس کیوں ہے؟
ضوریز نے چونک کر جنت کو دیکھا
تمہیں نہیں پتا صہیب اور تمہاری سالگرہ کا دن قریب آ رہا ہے ہر سال ہم صہیب کو سرپرائز دیتے تھے ۔۔ وہی سوچ کر اداس ہو گی ۔۔
آنسہ نے اداسی سے کہا
کک کیا میرا اور صہیب کا۔ ۔۔ میں کب پیدا ہوا تھا ماں؟
ضوریز کو آج تک خیال ہی نہ آیا کے وہ اپنی پیدائش کا پوچھتا
تم دونوں 24 فروری کو پیدا ہوئے تھے۔ ۔۔ تمہارے جانے کے بعد بہت سالوں تک میں نے صہیب کی سالگرہ بھی نہیں کی تھی پھر جب وہ تھوڑا بڑا ہوا تب خود ضد کرتا تھا ہمیشہ دو کیک آتے تھے ایک تمہارا اور ایک صہیب کا ۔۔۔ مگر قسمت دیکھو اب بھی کیک دو ہونگے مگر کاٹنے والا ایک ہو گا۔ ۔
آنسہ دکھی ہو گئی
ماں آپ پریشان نہ ہوں میں ہو نا۔۔ ویسے ابھی تو تین دن ہیں سالگرہ میں کچھ پلان کرتے ہیں یہ میری پہلی سالگرہ ہو گی۔۔۔ میں چاہتا ہوں آپ لوگ اداس نہ ہوں بس۔ ۔
ضوریز نے آنسہ کو پکڑ کر گلے لگایا
ہاں میری جان تمہاری پہلی سالگرہ ہو گی۔۔۔ جاو اب جنت کو بھی ساتھ لے جاو۔ ۔
آنسہ نے ضوریز کا گال چوم کر کہا
ماں وہ میری بات نہیں مانے گی اور میں نہیں چاہتا اس وقت میں اس پر غصہ کروں آپ ہی کہہ دیں اسے آپ کی بات مان لے گی۔ ۔
ہاہا اچھا تو ابھی سے اپنی بیوی سے ڈرنے لگے ہو۔ ۔ ۔
آنسہ نے ہنس کر کہا
ہاں تو شیر بھی صرف اپنی بیوی سے ہی ڈرتا ہے۔ ۔
ضوریز نے بھی مسکر کر کہا
اچھا روکو میں اسے بولتی ہوں۔ ۔۔
آنسہ جنت کے پاس گئی۔۔ ضوریز ان دونوں کو دور سے دیکھنے لگا پہلے تو جنت منع کرتی رہی پھر پتا نہیں آنسہ نے ایسا کیا کہا کے جنت اپنی شال خود پر لپیٹتی ہوئی جوتا پہن کر ضوریز کے پاس آگئی۔ ۔
چلیئے۔ ۔
بہت ہی اُکھڑے ہوئے لہجے میں جنت نے کہا
جی ضرور ۔۔۔
ضوریز نے جنت پر ایک بھرپور نظر ڈالی اور آنسہ کو ہاتھ ہلاتا ہوا باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تمہیں ہائیکنگ آتی ہے؟
ضوریز نے جنت کے ساتھ ٹہلتے ہوئے پوچھا
جنت نے منہ سے جواب دینے کے بجائے سر کو دائیں بائیں ہلا کر جواب دیا
ہممم ویسے اتنی مشکل نہیں ہوتی۔ ۔۔ وہ جو پہاڑ نظر آرہا ہے وہ دیکھو مجھے لگتا ہے اس پر آرام سے ہائیکنگ ہو جائے گی۔ ۔
ضوریز نے ہاتھ سے اشارا کیا
جنت نے بس سرسری سی نظر ڈالی اور خاموش رہی۔ ۔۔
آممم میں نے بہت کی ہے ہائیکنگ ۔۔۔
ضوریز نے جنت کے چہرے کو دیکھا
کیا ہوا جنت اتنی چپ کیوں ہو؟
اب ضوریز نے جنت کو پکڑ کر اپنی طرف گُھومایا
کچھ نہیں پلیزز مجھے چھوڑ دیں۔ ۔
جنت نے آہستہ آواز میں کہا
ہر وقت چھوڑنے کی بات مت کیا کرو جنت ۔۔۔ اچھا بتاو کیا ہوا ہے اسطرح چپ مت رہو؟
ضوریز ابھی بھی جنت کے دونوں بازو تھامے ہوئے تھا
کچھ نہیں ہوا۔۔۔ مجھے کیا ہونا دیکھ لیں زندہ ہوں اچھی بھلی ہوں۔ ۔۔
جنت نے کوفت سے کہا اور اپنے بازو چھوڑوائے
صہیب یاد آرہا ہے؟
ضوریز نے نا چاہتے ہوئے بھی صہیب کا پوچھ لیا
وہ مجھے کبھی بھولا ہی نہیں ہے۔ ۔۔
جنت نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
ہمم ماں نے بتایا ہے مجھے کے ہماری سالگرہ ہے تین دن بعد۔ ۔۔ آممم کیا تم میرے لیئے خوش نہیں ہو سکتی۔ ۔۔
ضوریز نے ایک امید سے پوچھا
جو دکھ صہیب کو کھونے کا ہے وہ کسی بھی خوشی سے پورا نہیں ہو سکتا۔ ۔۔
جنت نے دو ٹوک انداز میں کہا
ضوریز کو نا چاہتے ہوئے بھی صہیب سے جلن محسوس ہوئی۔ ۔
واہ شوہر میں ہوں آپکا اور یاد تم کسی اور کو کرتی رہتی ہو میں نے تو سنا تھا یہاں کی لڑکیاں اپنے شوہرں کی وفادار ہوتی ہیں صرف اُن ہی سے مجبت کرتی ہیں۔ ۔
ضوریز نے جنت کو پکڑ کر اپنے قریب کیا ۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ سخت ہو گیا
میں نے آپ سے خوشی سے شادی نہیں کی تھی مجبوری سے کی تھی سمجھے آپ ۔۔۔ آپ کا کوئی حق نہیں ہے کے آپ مجھ سے زبردستی کریں اور نہ ہی آپ مجھ سے اسطرح بات کر سکتے ہیں ۔۔
اس بار جنت ڈرنے کے بجائے اونچی آواز میں بولی
آہستہ آواز میں بات کرو جنت۔۔۔ مجھے پسند نہیں ہے کے کوئی مجھ سے اسطرح بدتمیزی کرے۔ ۔۔
ضوریز نے دانت پیستے ہوئے کہا
کیوں پسند نہیں ہے۔ ۔۔بہت بڑی چیز ہیں آپ۔ ۔۔۔ آپکو کیا لگتا ہے ہر بار آپ مجھے ڈرائیں گے میں ڈر جاونگی پاگل سمجھا ہوا ہے کیا آپ نے مجھے۔ ۔
جنت نے اور زیادہ بدتمیزی کی۔ ۔
اففف جنت میں نہیں چاہتا کے اس وقت تم پر غصہ کروں جب میں پیار اور تمیز سے بات کر رہا ہوں تو تم بھی آرام سے بات کرو۔ ۔
ضوریز نے گہرا سانس لے کر خود کو ریلکس کیا
کیسے کروں میں آپ سے پیار سے بات جب مجھے آپ سے پیار ہے ہی نہیں آپ کیا سمجھتے ہیں آپکی شکل صہیب جیسی ہے تو میں اسے بھول کر آپ سے محبت کرنے لگوں گی۔ ۔ ہر گز نہیں آپکی شکل بے شک اس جیسی ہو مگر آپ صہیب کے جوتے کے برابر بھی نہیں ہیں۔ ۔
جنت نے چیخ کر کہا
شٹ اپ جنت آگے بکواس کی تو۔ ۔۔
تو کیا ہاں کیا کریں گے ماریں گے مجھے قتل کر دیں گے جیسے صہیب کو مار دیا اچھا ہے مار دیں مجھے بھی۔۔۔ نہیں جی پا رہی اسکے بغیر ۔۔۔
جنت کی آواز کانپنے لگی۔۔۔ ضوریز نے اپنے غصے کو کنٹرول کیا اور جنت کے قریب آیا
پلیززز جنت ایسا مت کہو میں نے قتل نہیں کیا میری جان کیسے یقین دلاوں تمہیں۔ ۔
ضویز نے تھک کر کہا
بس پلیزز رو مت ۔۔۔ اچھا یہاں بیٹھو ۔۔
ضوریز نے جنت کو پکڑ کر ایک پتھر پر بیٹھایا
اب بتاو مجھے کیسے یقین آئے گا تمہیں مجھ پر ۔۔۔ میں ایسا کیا کروں کے تمہارے دل سے میرے لیئے یہ بدگمانی ختم ہو جائے ؟
ضوریز گٹنوں کے بل بیٹھ کر جنت سے پوچھنے لگا
کچھ نہ کریں آپ بس مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔ ۔۔ مجھے آپکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
جنت نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
مگر مجھے تمہاری ضرورت ہے جنت۔ ۔۔ اپنا سب کچھ تمہارے لیئے چھوڑ کر آیا ہوں۔ ۔۔ جی نہیں سکتا میں تمہارے بغیر ایسا مت کہو پلیزز۔ ۔
ضوریز نے نرمی سے جنت کا ہاتھ پکڑا
پلیززز میرے بس میں نہیں ہے آپ سے محبت کرنا میں نے اپنا سب کچھ صہیب کے نام کیا تھا اب میرا پاس کچھ نہیں بچا کے آپ کو دے سکوں۔ ۔
جنت نے اپنا ہاتھ چھوڑوا کر کہا
ٹھیک ہے میں اب تمہیں فورس نہیں کرونگا تم جیسے چاہو رہو۔ ۔ ہنہ میرے ساتھ روم میں نہیں رہنا چاہتی تو ٹھیک ہے آج دادو آ رہی ہیں تم ان کے ساتھ رہہ لینا مگر میں تمہیں خود سے الگ نہیں کر سکتا۔ ۔۔
ضوریز جنت کے پاس سے اٹھ گیا
خیر چلو گھر چلیں اٹھو۔ ۔۔
ضوریز نے آہستہ سے کہا جنت بھی کھڑی ہوئی اور چلنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا پریشان ہو؟
بشیر نے خاموش بیٹھے ہوئے ضوریز سے پوچھا
آں۔ ۔ہاں نہیں پریشان تو نہیں ہوں بس ویسے ہی۔۔۔
ضوریز نے چونک کر کہا
کوئی تو بات ہے ضوریز جو اسطرح گم سم بیٹھے ہو۔۔۔۔
بس بابا دل کر رہا سب کچھ چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلا جاوں جہاں سے واپس نہ آ سکوں۔ ۔
ضوریز نے مایوسی سے کہا
کیوں کیا ہوا بیٹا کسی نے کچھ کہا ہے۔ ۔؟
بشیر نے پریشانی سے پوچھا
مجھے کون کچھ کہے گا۔ ۔۔ بس جس کے لیئے سب کر رہا ہوں وہ مجھ سے اتنی بدگمان ہے کے خود سے نفرت ہونے لگی ہے۔ ۔۔
ضوریز نے سر جھکا کر کہا
اوہ تم جنت کی بات کر رہے ہو۔ ۔۔ اُس کی بات پر پریشان مت ہو بس صہیب کی سالگرہ کی وجہ سے ڈسٹرب ہے تم خود سوچو ضوریز۔۔۔ صہیب نہ صرف اسکی بچپن کی محبت تھا بلکے شوہر بھی تھا اس کے چلے جانے دکھ وہ اتنی جلدی کیسے بھول سکتی ہے۔ ۔۔
بشیر نے سمجھایا
تو بابا میرے آنے کی خوشی۔ ۔ میری محبت میری قربانی میرے جزبات اس کے لیئے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ۔۔ میں بھی تو اب اسکا شوہر ہوں۔۔۔۔وہ اِس نکاح کا ہی کوئی بھرم رکھ لے ۔۔۔
ضوریز نے دکھی لہجے میں کہا
اتنے مایوس مت ہو ضوریز جنت کو تھوڑا وقت دو۔۔ اسے تمہاری محبت کا احساس ضرور ہو گا۔ ۔
بشیر نے ضوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی
ہنہ کتنا وقت دوں بابا پچھلے سات مہینے سے میں جنت سے یکطرفہ محبت کر رہا ہوں۔ ۔ میں مانتا ہوں اُسکے لیئے یہ سب اتنی جلدی ایکسپٹ کرنا آسان نہیں ہے۔ ۔۔ مگر میں بھی مجبور ہوں مجھے ایسا کیوں لگتا ہے جیسے روز روز جنت مجھ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ۔۔۔ بابا میں جنت کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہہ سکتا آپ اُسے سمجھائیں اسے بتائیں کے مم میں کتنی محبت کرتا ہوں اُس سے۔۔۔۔
ضوریز کی آواز بھاری ہو گئی
میں جانتا ہوں ضوریز تم کتنی محبت کرتے ہو تمہیں اپنے منہ سے بتانے کی ضرورت نہیں تمہاری آنکھوں میں ہی نظر آجاتی ہے یہ محبت۔ ۔۔ بس صبر کرو اور بھروسہ رکھو۔۔۔۔
ان شاءاللہ بہت جلد اللہ جنت کے دل میں تمہاری محبت کو جگا دے گا ہمممم۔ ۔۔۔
بشیر نے تصلی دی ضوریز سر ہلا کر خاموش ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نانو میں نے آپکو بہت مس کیا۔ ۔۔
سب ہی عشرت بی بی اور راشد کا استقبال کرنے دروازے سے باہر آئے۔ ۔۔
اچھا اچھا سب پتا ہے مجھ کو۔۔۔ کتنا یاد کیا ایک فون تک کیا نہیں جاتا تم سے۔ ۔
عشرت نے جنت کے سر پو بوسہ دے کر کہا
ایسی بات نہیں ہے نانو وہ آپ کے لاڈلے نے میرا فون بند کروا دیا ہے۔۔۔ ورنہ آپ پوچھ لیں امی سے ہر وقت آپکا پوچھتی تھی۔ ۔
اچھا بھئی اب ہمیں بھی اماں سے ملنے دو۔ ۔۔
آنسہ نے جنت کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
جی مل لیں۔۔۔اممم ابو کہاں ہیں۔ ۔
جنت عشرت بی بی سے الگ ہوئی اور راشد کو دیکھنے لگی جو بشیر اور ضوریز کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ ۔
ابو مجھ سے بھی مل لیں۔ ۔۔
جنت نے راشد کے پاس آکر کہا
ارے ہماری بیٹی کو یاد آگئی۔ ۔
راشد نے اپنے بازو پھیلا کر جنت کو گلے لگایا
مجھے تو آپ لوگوں کی روز یاد آتی تھی۔۔
جنت گلے لگتے ہی رونے لگی
رونا مت میری جان مجھے بھی روز تمہاری یاد آتی تھی دیکھو ہم اڑ کر آگئے ۔۔۔
راشد نے جنت کو خود سے الگ کیا اور جنت کے آنسو صاف کیئے
چلیں انکل اندر چلتے ہیں ۔۔۔
ضوریز نے ایک نظر روتی ہوئی جنت کو دیکھا اور اندر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا تو بہت مزے کا بنا ہے واقعی۔ ۔
راشد نے آخری نوالہ لے کر پلیٹ صاف کرتے ہوئے کہا
ہاں بھئی آپکو تو پسند آئے گا آخر آپکی بیگم کے ہاتھ کا جو بنا ہوا ہے۔ ۔۔
آنسہ نے چھیڑتے ہوئے کہا
ارے واہ بہت مس کیا میں نے اس کھانے کو ۔۔۔
راشد نے ماروخ کو دیکھا اور سب مسکرانے لگے
ابو یہ کھا کر بتائیں میں نے خود بنایا ہے کسٹرڈ۔ ۔
جنت نے کسٹرڈ کا باول راشد کی طرف کیا
ارے واہ آج تو عید ہو گئی جنت کے ہاتھ کا میٹھا۔ ۔۔
راشد نے کسٹرڈ ڈالا
ہممم بہت مزے کا ہے جنت زبردست۔ ۔
راشد نے پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی کہا
تھینک یو ابو۔ ۔
جنت نے خوش ہو کر کہا ضوریز خاموشی سے بیٹھا جنت کو دیکھتا رہا
ارے مجھے بھی چھکا دو یہ میٹھا۔ ۔
عشرت نے آنسہ کو ہاتھ مار کر کہا
نہیں اماں آپکو میٹھا منع ہے آپ بس ہمیں کھاتا ہوا دیکھ کر گزرا کریں۔ ۔
آنسہ نے کسٹرڈ اٹھا کر اپنے پاس رکھا
آئے ہائے دیکھ رہے ہو بشیر تمہاری بیوی اب مجھے میٹھا بھی کھانے نہیں دیتی۔ ۔۔
عشرت نے بشیر سے کہا
ہاں تو ٹھیک کہہ رہی ہیں نہ میری بیگم۔۔۔ پوری زندگی آپ نے میٹھا کھا کھا کر شوگر کروا لی ہے۔۔۔ اب آپ بس دیکھ کر گزرا کریں۔ ۔
بشیر نے بھی عشرت بی بی کو تنگ کیا
لو بھئی سب ہی اپنی اپنی بیگم کے مرید ہو گئے ہیں بس ہمارے والا ہی ہمیں اکیلا چھوڑ گیا یہ سب سننے کے لیئے۔ ۔۔
عشرت بی بی نے اپنا دوپٹا اپنی آنکھوں پر رکھ کر کہا
نانو اتنی اور ایکٹینگ نہ کریں سب مزاق کر رہے ہیں میں نے آپکے لیئے الگ سے بنایا ہے میٹھا۔۔۔اس میں میں نے میٹھا نہیں ڈالا۔ ۔
جنت نے ایک چھوٹا سا باول عشرت کو دیا
ہیں ں ں۔ ۔ کم عقل میٹھے کے بغیر میٹھا بھی بنتا ہے کیا۔۔۔۔
عشرت بی بی نے فوراً اپنا دوپٹا ہٹا کر دیکھا
ہاہاہاہا نانو مزاق کر رہی ہوں۔ ۔۔
سب ہی عشرت کے ساتھ ہنسی مزاق میں لگ گئے کسی کا دیہان خاموش بیٹھے ضوریز کی طرف نہ گیا۔ ۔۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے یہ ضوریز کہاں ہے؟ ؟
چائے پیتے ہوئے ماروخ کو خیال آیا
ہاں اپنے کمرے میں ہو گا۔۔
آنسہ نے چائے کا گھونٹ لیا
کیوں اس نے چائے نہیں پینی کیا۔ ۔ جاو جنت اُسے بلا کر لاو۔ ۔
ماروخ نے جنت سے کہا جو راشد سے باتیں کرنے میں مصروف تھی
اوہو رہنے دیں نہ امی اُس نے پینی ہو گی خود ہی آجائے گا۔ ۔۔
جنت نے اُکتا کر کہا
اونہوں۔ ۔۔ بری بات جنت بیٹا اسطرح منع نہیں کرتے جاو شاباش بولا کر لاو اُسے۔۔۔
راشد نے جنت کو ٹوک کر کہا جنت منہ بناتی ہوئی روم میں چلی گئی۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا تھا۔ ۔ جنت اندر آئی تو اسے لگا شاید سو رہا ہے۔۔۔ وہ خاموشی سے چلتی ہوئی بیڈ کے پاس آئی اور ضوریز کو دیکھا پھر کندھے اُچکا کر مُڑنے لگی کے اُسے ضوریز کی آواز آئی
کیا ہوا کوئی کام ہے؟
ضوریز کے یوں اچانک بولنے پر جنت اُچھل کر پلٹی
آ آپ سو رہے تھے کیا؟
جنت نے چونک کر پوچھا
ہنہ اتنی مہربان کہاں ہوتی ہے نیند جو اتنی آسانی سے آجائے خیر کیا ہوا۔ ۔۔ آپکو میری یاد کیسے آگئی۔ ۔؟
ضوریز اٹھ کر بیٹھا
مجھے نہیں آئی یاد ۔۔۔ وہ امی بولا رہی ہیں کے آکر چائے پی لیں۔۔۔
جنت نے لاپروائی سے کہا اور واپس پلٹ کر جانے لگی
دل رکھنے کے لیئے ہی کہہ دیتی کے تم نے میری کمی محسوس کی ہے جب ہی مجھے لینے آئی ہو۔ ۔
ضوریز نے افسوس سے کہا
میں جھوٹ بول کر کسی کا دل نہیں رکھنا چاہتی۔ ۔
جنت نے پلٹ کر جواب دیا
میں کسی میں شمار نہیں ہوتا جنت میں تمہارا ہوں۔ ۔ تمہارا شوہر۔ ۔۔
ضوریز ایک ایک لفظ چُبا کر کہا
اپنے جملے کو تھوڑا درست کر لیں آپ میرے شوہر نہیں زبردستی کے شوہر ہیں۔ ۔۔
جنت بھی اُسی طرح جواب دیا
کیا زبردستی کی ہے میں نے تمہارے ساتھ ہاں بولو۔ ۔۔ ہر رات تو تم مجھ سے دور ہو کر سوتی ہو اب تک تمہاری ہی مانتا آرہا ہوں پھر بھی تم مجھ سے خوش نہیں ہوتی۔ ۔
ضوریز غصے سے کھڑا ہوا
تو میں نے کہا ہے یہ سب کریں ۔۔۔ میں نے مجبور نہیں کیا آپکو یہ سب کرنے کے لیئے۔۔۔ مجھ پر روب مت جمایا کریں۔ ۔
جنت نے انگلی اٹھا کر کہا
اونچی آواز میں بات مت کیا کرو مجھ سے سمجھی۔ ۔
ضوریز نے جنت کی انگلی پکڑ کر نیچے کی
اور میں دیکھ رہا ہوں آج جب سے تمہارے ابو آئیں ہیں تم کچھ زیادہ ہی مجھ سے زبان چلانے لگی ہو۔ ۔۔
جی ہاں اب ایسے ہی جواب دیا کرونگی میں اگر اتنی تکلیف ہو رہی ہے نہ میری زبان سے تو مجھے چھوڑ دیں۔ ۔ طلاق دے دیں مجھے۔ ۔۔
جنت نے سوچے سمجھے بغیر غصے سے کہا
شٹ اپ یو ۔۔۔
ضوریز نے ایک زور دار تھپڑ جنت کے منہ پر مارا۔ ۔۔ جنت کو ضوریز سے اس کی توقع نہیں تھی وہ لڑکھڑا کر گرنے لگی ضوریز نے فوراً اسے تھام لیا۔ ۔۔ جنت نے غصے سے ضوریز کے ہاتھوں کو جھٹکا۔ ۔
چھوڑو مجھے آئی ہیٹ یو ۔۔تم نے مجھے مارا۔ ۔ امی ی ی۔ ۔۔
جنت نے ضوریز سے دور ہو کر روتے ہوئے کہا
ضوریز کو جنت کی گال پر اپنے ہاتھوں کا نشان دیکھ کر خود پر بہت غصہ آیا اور وہ جنت کے پاس آکر اسے گلے لگانے لگا
اوہ آئم سوری جنت تم نے بات بھی تو ایسی کی تھی پلیزز رو مت۔۔۔ لو تم بھی مجھے تھپڑ مار لو بیشک سو تھپڑ مار لو مگر رو مت۔ ۔
ضوریز بار بار اُسے اپنے قریب کر رہا تھا اور جنت اس کے ہاتھ جھٹک رہی تھی اور زور زور سے آئی ہیٹ یو بول رہی تھی
کیا ہو گیا ضوریز کیا ہوا ہے جنت کو ۔۔۔؟
آنسہ اور ماروخ شاید بھاگ کر روم میں آئیں تھیں اس لیئے اُن کے سانس پھولے ہوئے تھے
امی اس نے مم مجھے تھپڑ مارا بہت زور سے یہ دیکھیں۔ ۔
جنت نے اپنا ہاتھ گال سے ہٹا کر کہا
یہ کیا ہے ضوریز تم نے جنت پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔
بشیر اور راشد بھی آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوئے بشیر نے ضوریز کو غصے سے دیکھ کر کہا
وہ بابا مجھے غصہ آگیا تھا۔ ۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں اٹھایا۔۔
ضوریز واقعی شرمندہ تھا
غصہ آگیا تھا تمہیں۔۔۔ یہ تمہارا وہ گینگ نہیں ہے کے جب تمہیں غصہ آیا تم کسی کو بھی مارنا شروع کر دو گے یہ تمہارا گھر ہے یہاں برداشت کرنا ہوتا ہے۔ ۔۔۔
راشد نے غصے سے کہا۔۔۔ ضوریز نے دکھ سے اُسکو دیکھا
جنت نے بات بہت غلط کی تھی انکل اگر یہ اس طرح کی بات کرے گی تو میں ایسا ہی کرونگا ۔۔۔ میں کبھی اسے خود سے الگ نہیں کر سکتا۔ ۔
ضوریز نے سر جھکا کر کہا
مگر مجھے اب اسکے ساتھ نہیں رہنا ابو۔ ۔ اسکی ایک ادا بھی صہیب جیسی نہیں ہے وہ ہیرا تھا تو یہ کوئلہ ہے۔۔۔ بہت سوچا اور بہت نوٹ کیا کے شاید کوئی ایک عادت کوئی ایک ادا اسکی صہیب سے ملتی ہو مگر نہیں ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ۔
جنت نے ماروخ سے الگ ہو کر ضوریز کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
میں صہیب نہیں ہوں جنت۔ ۔۔ میں ضوریز ہوں۔۔۔ میری محبت کو صہیب کی محبت سے کمپئیر نہ کیا کرو۔ ۔۔
ضوریز نے غصے سے جنت کا بازو پکڑ کر کہا
ہاں تم دونوں کی محبت کا کوئی کمپئیریزن ہو بھی نہیں سکتا۔ ۔ چھوڑو مجھے۔ ۔۔
جنت نے اپنا بازو چھوڑوایا
ابو مجھے طلاق چاہیئے اِس سے۔ ۔۔آپ سب نے وعدہ کیا تھا نہ مجھ سے کے میں جو کہوں گی آپ لوگ مانیں گے تو اب سب کو میرا فیصلہ ماننا ہوگا۔ ۔
جنت نے پلٹ کر سب کو دیکھا۔ ۔۔ آنسہ نڈھال سی ہو کر بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ ۔
جنت بیٹا ابھی تم غصے میں ہو آرام سے بیٹھ کر۔۔
نہیں ماموں اب میں فیصلہ کرونگی بہت ہو گیا۔۔۔ میں کوئی کھولانا نہیں ہوں کے پہلے آپ سب نے میرے شوہر کی موت کی خبر مجھ سے چھپائی پھر اسکو آخری بار دیکھنے بھی نہیں دیا ۔۔۔
جنت ضوریز کی طرف پلٹی
اور پھر اِسکی خاطر آپ سب کو دربدر ہونا پڑا۔۔ مجھے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اس سے شادی کرنی پڑی پھر آپ سب کو چھوڑ کر مجھے اسکے ساتھ خوروں کی طرح اکیلے رہنا پڑا اور اب یہاں پوری دنیا سے کٹ کر رہہ رہے ہیں ہم ۔۔۔کیا قصور ہے میرا میری زندگی تو ویسے ہی صہیب کے جانے سے رک گئی تھی اور اب تو لگتا ہے جیسے کسی مسلسل ازیت میں ہوں میں ۔۔۔
جنت بولتے بولتے تھک کر خاموش ہوئی اور رونے لگی
تھوڑی دیر تک جنت کی ہچکیوں کی آواز کمرے میں گونجتی رہی۔۔ ضوریز نے بہت ضبط کر کے روتی ہوئی جنت کو دیکھا
جنت مجھے اپنے ہاتھوں سے مار دو مگر میں تمہیں خود سے الگ نہیں کرونگا یہ یاد رکھنا۔ ۔
ضوریز نے بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کی اور کمرے سے باہر چلا گیا
