Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 09)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

کیسی لگی بریانی۔ ۔۔ اُس دن تو بلکل اچھی نہیں بنی تھی۔۔

جنت نے ضوریز کو بریانی کھاتے دیکھ کر پوچھا

ہممم بہت اچھی ہے آئی لائک دس۔ ۔۔

ضوریز نے مسکرائے بغیر جواب دیا

صہیب تم اسطرح سے بات کیوں کر رہے ہو۔ ۔۔؟

جنت کو حیرت ہوئی کے صہیب تو اسکی تعریفوں کے پُل باندھ دیتا تھا اور آج اتنی سی تعریف

آممم کیا مطلب میں نے کیا کیا ہے۔ ۔

ضوریز نے حیرت سے پوچھا کیونکے اپنی طرف سے وہ بہت اچھی اداکاری کر رہا تھا

اتنی سی تعریف۔ ۔ اس طرح بات کر رہے ہو جیسے کوئی اجنبی ہو۔ ۔ کیا ہوا طبعیت ٹھیک ہے؟

جنت نے اُٹھ کر ضوریز کے سر پر ہاتھ رکھا

اچھا نہیں مم میں ٹھیک ہوں بس کتنے دنوں سے ٹھیک سے سویا نہیں تمہاری پریشانی لگی رہی بس شاید تھکاوٹ بہت ہے اسی لیئے۔ ۔

ضوریز نے زبردستی مسکرا کر کہا اور پھر بریانی کھانے میں مصروف ہو گیا۔ ۔۔ ضوریز کو واقعی بریانی بہت اچھی لگی تھی اس لیئے وہ بہت توجہ سے کھا رہا تھا

جنت غور سے ضوریز کو دیکھنے لگی

صہیب تم نے شیو نہیں بنائی۔۔۔ ویسے تم اسطرح زیادہ ہنڈسم لگ رہے ہو۔ ۔

جنت نے ضوریز کی بڑھی ہوئی شیو دیکھ کر کہا

ہاں بس وہاں کیسے بناتا شیو۔ ۔ اور مجھے بھی اپنا یہ ہی لُک اچھا لگا ہے۔ ۔۔

ضوریز نے دل ہی دل میں شکر کیا کے اب اسے شیو نہیں بنانی پڑے گی

ہممم خیر ماموں بہت پریشان ہو رہے تھے کہہ رہے تھے میں آ رہا ہوں میں نے منع کر دیا کے تم آ گئے ہو تو اب مجھے تسلی ہو گئی ہے ویسے بھی ماموں آ جاتے تو تمہیں پتا ہے نانو نے پریشان ہو جانا تھا۔ ۔۔

ضوریز کو کچھ سمجھ نہیں آتی کے جنت کس کی بات کر رہی ہے مگر وہ پھر بھی مسکراتے ہوئے کہتا ہے

ہاں ٹھیک کیا تم نے نانو کو پریشان نہیں کرنا چاہیئے۔ ۔۔ اب میں یہیں ہوں ۔۔

ہمم مگر آپ کال کر لینا۔ ۔۔ مامی کو بھی نہیں بتایا میں نے بلاوجہ پریشان ہو جاتیں مگر مجھ سے بار بار پوچھ رہی تھیں آپ انہیں کال کر لیں تا کے انہیں تسلی ہو جائے۔۔

آآ۔ ۔اچھا کر لونگا کال بلکے میں نے کی تھی انہیں کال۔۔ انہوں نے اٹھائی نہیں میں رات میں کر لونگا۔۔۔

ضوریز کو جھوٹ بولنا قتل کرنے سے بھی زیادہ مشکل لگا

اچھا۔ ۔۔ آپ کے آنے سے پہلے ہی میری بات ہوئی تھی ان سے چلیں خیر رات کو کر لینا۔ ۔ ارے آپ نے بس کیا؟

جنت نے ضوریز کو ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے دیکھ کر کہا

یس۔ ۔۔ میں نے بہت کھا لیا اتنا کبھی نہیں کھایا۔ ۔

ضوریز نے بے دیہانی میں کہا

کیا۔ ۔۔ جھوٹ مت بولیں بریانی کی تو آپ تین چار پلیٹ کھا لیتے ہیں اور اب ایک ہی۔ ۔۔

جنت نے مسکرا کر کہا

بس وہ تھوڑا پیٹ بھی خراب ہے اس لیئے سوچ رہا ہوں زیادہ نہ کھاوں۔۔

افف کہاں پھنس گیا میں۔ ۔ ضوریز نے دل میں سوچا

اوہ پیٹ کیسے خراب ہو گیا۔ ۔ کوئی دوائی کھائی زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے چلیں۔۔۔

جنت نے فکر مندی سے کہا

نہیں بلکل نہیں بس تھوڑا سوفٹ فوڈ کھاوں گا تو ٹھیک ہو جائے گا تم پریشان مت ہو آئی ایم فائن۔ ۔۔

ضوریز نے جلدی سے بات بنائی

اچھا جیسے آپکو ٹھیک لگے۔ ۔۔ خیر اب یہ بتائیں قتل کس نے کیا کیسے ہوا کیوں ہوا۔ ۔؟؟

جنت نے اپنی گال کے نیچے ہاتھ رکھ کر معصومیت سے پوچھا

ضوریز کو جنت کا یہ سوال بہت معصومانہ لگا

اگر یہ پتا ہوتا کے قتل کس نے کیا ہے تو قتل ہوتا ہی کیوں۔۔۔ ابھی تک پتا نہیں چلا کے کس نے کیا اور کیوں کیا۔ ۔

ضوریز اب زبردستی نہیں مسکرایا بلکے وہ دل سے مسکرایا تھا

اوہ۔ ۔ مگر کون ہے وہ ظالم جو منہ اُٹھا کر قتل کیئے جا رہا ہے بھلا اسے ڈر نہیں لگتا عجیب بات ہے ۔۔۔!

نہیں اُسے ڈر نہیں لگتا شاید کسی سے بھی ڈر نہیں لگتا۔ ۔۔

ضوریز نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا

اسے اللہ سے بھی ڈر نہیں لگتا۔ ۔ جس دن اسکا کوئی بہت اپنا اسطرح قتل ہو گا نہ جب اسے احساس ہوگا۔ ۔

جنت نے افسوس سے کہا

کیا پتا اسکا کوئی بھی اپنا نہ ہو۔ ۔ وہ اس دنیا میں اکیلا ہو۔۔۔

ضوریز کا دل کیا وہ جنت کو بتائے ہر کوئی شوق سے قتل نہیں کرتا

لو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کوئی تو ہو گا جس سے اسکو پیار ہو گا جس کے لیئے وہ یہ سب کر رہا کوگا۔ ۔ وہ کوئی مفت میں تو قتل نہیں کر رہا ہوگا۔ ۔ اب وہ کسی نہ کسی کے لیئے تو پیسے کما رہا ہو گا نہ ۔ ۔

جنت نے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے کہا

ہممم ہو سکتا ہے ایسا ہو۔ ۔ خیر سوتے ہیں مجھے نیند آرہی ہے۔ ۔

ضوریز نے اور مزید سوالوں سے بچنے کے لیئے کہا

اچھا بس پانچ منٹ میں برتن سمیٹ لوں آپ روم میں جائیں۔۔

ضوریز نے سکون کا سانس لیا اور روم میں آ گیا۔ ۔ روم میں آکر اسکی نظر ڈبل بیڈ پر پڑی اور وہ پھر سے پریشان ہو گیا۔ ۔۔ میں اس کے ساتھ کیسے سو سکتا ہوں افف کس مصیبت میں پڑ گیا ہوں میں۔ ۔۔ اکتا کر اس نے ٹائیگر کو فون ملایا

عجیب مشورہ دیا ہے آپ نے مجھے۔ ۔ یہ سب بہت عجیب سا لگ رہا ہے مجھے۔۔

ضوریز فون کان سے لگائے بولا

بس میں زیادہ دن یہ نہیں کر سکتا میں اس لڑکے کو سمجھا دونگا وہ کسی کو نہیں بتائے گا میں یہ دھوکا مزید نہیں دے سکتا۔۔

ضوریز نے ٹائیگر کی بات سنے بغیر ہی فون رکھ دیا

ارے کھڑے کیوں ہیں لیٹ جاتے۔ ۔

جنت نے ضوریز کے قریب آ کر کہا۔ ۔

ہاں بس لیٹنے ہی لگا تھا۔۔

آئی مس یو سووووو مچ صہیب۔ ۔ میں آپکے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔

جنت نے ضوریز کے گلے لگ کر کہا

ضوریز تھوڑی دیر خاموش رہا۔ ۔۔

جنت مم میں بھی نہیں رہ سکتا۔۔۔

ضوریز جنت کے بالوں سے آتی خشبو میں کھونے لگا بہت مشکل سے جنت کو خود سے الگ کیا

جنت پلیز ابھی سوتے ہیں میں بہت تھکا ہوا ہوں صبح اٹھ کر بہت سی باتیں کریں گے۔۔

ضوریز نے سنبھل کر کہا

اچھا لگتا ہے بہت زیادہ ہی تھکے ہوئے ہیں چلیں ٹھیک ہے میں بھی بہت دن سے سکون کی نیند نہیں سوئی آئیں سوتے ہیں۔۔

جنت نے اسکا ہاتھ پکڑا اور بیڈ کے پاس لے آئی

کمفرٹر کھولا اور تھوڑا سائیڈ پر ہو کر لیٹ گئی۔ ۔۔

ارے کھڑے کیا سوچ رہے ہو آجاو اب کیا ہو گیا صہیب کچھ عجیب سے لگ رہے ہو کھوئے کھوئے۔ ۔۔

جنت نے تھوڑا غصے سے کہا

آں ہاں میں واشروم سے ہو کر آتا ہوں۔۔

ضوریز کو اور کچھ سمجھ نہیں آیا وہ واشروم کا بہانہ بنا کر واشروم چلا گیا۔ ۔ تھوڑی دیر خود کو سمجھایا کے یہ سب کرنا ہوگا۔ ۔ خود کو ریلکس کر کے باہر آیا اور مسکرا کر جنت سے فاصلہ رکھ کر لیٹ گیا اسکا دل اس قدر زور زور سے دھڑک رہا تھا کے جیسے باہر آ جائے گا۔۔۔

آج کتنے دن بعد میں تمہارے کندھے پر سر رکھ کر سکون سے سونگی۔ ۔

جنت نے قریب آکر ضوریز کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کیں۔ ۔۔

ضوریز نے ایک نظر سکون سے لیٹی جنت کو دیکھا

ہممم میں بھی سکون سے سونگا آج۔ ۔

ضوریز نے طنزیہ کہا

جنت تھوڑی ہی دیر میں گہری نیند سو گئی مگر ضوریز کو عجیب بے چینی ہونے لگی جنت کے سوتے ہی اس نے بہت احتیاط سے جنت کو خود سے الگ کیا۔ ۔

کتنی معصوم ہے یہ اسے پتا ہی نہیں میں کون ہوں۔ ۔۔ اففف اتنی معصوم لڑکی کو میں کیسے دھوکہ دے سکتا ہوں۔ ۔

ضوریز جنت کو دیکھ کر سوچنے لگا پھر اپنی سوچ جھٹک کر جنت سے بہت فاصلے پر ہو کر لیٹ گیا اور سونے کی کوشیش کرنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریزکی آنکھ جنت سے پہلے کھل گئی ۔۔ وہ اُٹھ کر بیٹھا اور جنت کو دیکھا۔۔ جنت کے بالوں نے اس کا آدھا چہرہ چھپا کر رکھا تھا اور وہ بے خبر سو رہی تھی۔ ۔۔ ضوریز نے جنت کے بال ہٹانے کے لیئے ہاتھ بڑھایا مگر پھر روک لیا اور گہرا سانس لے کر بیٹھ گیا موبائل کی سکرین اون کر کے ٹائم دیکھا اور واشروم چلا گیا۔ ۔۔ فریش ہو کر آیا تو جنت جاگ چکی تھی۔ ۔

گُڈ مارنگ مائے ہنڈسم۔ ۔۔

جنت نے بیڈ پر ہی کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ آگے کیئے ۔۔

گُڈ مارنگ۔ ۔ اممم میرے ہاتھ گیلے ہیں۔۔۔ میں زرا خشک کر لوں۔۔۔

ضوریز نے بہانہ بنایا اور ٹاول لینے چلا گیا

جنت بہت حیران ہوئی اور پھر منہ پھولا کر بیڈ سے نیچے اتری۔ ۔۔

کیا مسئلہ ہے اتنے نخرے کیوں کر رہے ہو جب سے آئے ہو۔ ۔۔

جنت نے غصے سے ضوریز کے ہاتھ سے ٹاول لیا

میں نے کیا کیا ہے ہاتھ صاف کر کے آ رہا تھا۔۔

ہنہ۔ ۔ میں کل سے نوٹ کر رہی ہوں تم عجیب سا بی ہیو کر رہے ہو۔ ۔۔ پہلے تو میرے پاس آنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے اور اب دور دور بھاگ رہے ہو۔ ۔

جنت کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے

ارے رو مت میں تو بس ایسا کچھ نہیں ہے جنت جیسا تم سمجھ رہی اچھا رو مت میں سوری کرتا ہوں پلیزز۔۔۔

ضوریز نے جنت کی آنکھوں کو بھیگتے دیکھا تو بے اختیار ہی کانوں کو ہاتھ لگا کر سوری کرنے لگا

اچھا بس اب اس طرح سوری کرنے کو نہیں کہا چلو ناشتہ بناتی ہوں آپ کا پسندیدہ ناشتہ۔ ۔

جنت نے ضوریز کے ہاتھوں کو پکڑ کر بولا۔ ۔۔ ضوریز نے شکر کیا کے جنت کو یقین آیا وہ سمجھ گیا کے صہیب جنت سے ہر وقت پیار بھری باتیں کرتا ہو گا مگر اسے تو ایسی کوئی باتیں نہیں آتی تھیں وہ پریشان سا ہو کر ڈائنیگ ٹیبل پر بیٹھ گیا۔ ۔۔ جنت نے ناشتے میں پراٹھے بنا کر اس کے آگے رکھے

یہ لو اپنا پسندیدہ ناشتا اور یہ cheese omelet لاسٹ ٹائم چیز نہیں تھی آپکا کتنا دل تھا یہ کھانے کا لو اب موجیں کرو۔۔

جنت نے ناشتے کی پلیٹ آگے کی

ضوریز نے آنکھیں پھاڑ کر اپنے سامنے پڑے ناشتے کو دیکھا وہ تو بس فروٹ کھاتا تھا ناشتے میں۔ ۔

مم مگر میں اتنا ہیوی ناشتہ نہیں کرتا آئی مین ابھی دل نہیں اتنا ہیوی ناشتہ کرنے کا۔ ۔

مجھے لگا تم خوش ہو گے اتنے دن بعد میرے ہاتھ کے پراٹھے کھا۔۔۔

جنت نے منہ بنا کر کہا

اچھا میں کھا لیتا ہوں۔ ۔۔ بس ویسے ہی بتایا تھا نہ پیٹ ٹھیک نہیں اس لیئے کہہ رہا تھا۔۔

ضوریز نے گہرا سانس لے کر نوالہ توڑا اور کھانے لگا

دو تین نوالے لینے کے بعد اسے ناشتہ کرنے کا مزا آنے لگا

ہممم بہت ٹیسٹی ہیں واقعی۔ ۔۔ دل کر رہا ہے کھاتا رہوں۔۔

ضوریز نے پورا پراٹھا کھایا اور پیٹ بھر کر ناشتہ کیا

اچھا بتاو لنچ میں کیا کھاو گے۔ ۔ آممم نہاری بنا لوں یا پھر حلیم؟ حلیم کے لیئے پیکٹ لے آنا پیکٹ والا جلدی بن جاتا ہے۔ ۔

جنت نے بھی اپنا ناشتہ ختم کر لیا اور اب لنچ کی فکر کرنے لگی

کیا۔ ۔۔ لنچ۔ ۔ ابھی تو تم نے ناشتہ بھی ختم نہیں کیا اور لنچ کا سوچ رہی ہو۔ ۔۔

ضوریز کو تو سوچ کر ہی کچھ ہونے لگا۔۔ اسے لگا رات تک بھوک نہیں لگے گی اتنا کھا لیا ہے مگر لنچ کا سن کر اسے کوفت ہونے لگی

ارے تو تیاری کرنی ہوتی ہے نا نہاری یا پھر حلیم اتنی جلدی تھوڑی بن جاتے ہیں اور میرا تو حلیم کھانے کا موڈ ہے تو آپ جا کر حلیم کا پیکٹ لے آنا۔ ۔۔

جنت نے ہاتھ صاف کیئے

پیکٹ کیسا پیکٹ؟ میں نہیں لا سکتا اور رہنے دو جس میں اتنا ٹائم لگے کوئی آسان سا لنچ بنا لو۔ ۔

ضوریز کے فرشتوں کو بھی نہیں پتا تھا کے حلیم کا کونسا پیکٹ ہے اور کسی صورت باہر جا کر یہ خرید کر لانے کے لیئے تیار نہیں تھا

مگر کیوں صہیب تمہیں تو یہ سب اتنا پسند ہے کبھی انکار نہیں کیا اور اب۔ ۔۔

ارے بتایا تو ہے پیٹ میں درد ہے تھوڑا احتیاط کرنے دو پلیززز۔ ۔

ضوریز نے اکتا کر کہا۔ ۔

ہنہ میری صرف شکل ملتی ہے اس سے مگر وہ کتنا مختلف ہے مجھ سے۔ ۔۔ ضوریز نے دل میں سوچا

اوہو۔ ۔۔ اچھا پھر چکن دلیا بنا لیتی ہوں ۔۔۔۔

جنت نے سوچ کر بتایا

ہمم ٹھیک ہے بنا لینا ایکچولی مجھے کسی کام سے جانا ہے میں تھوڑی دیر تک آ جاونگا۔ ۔

ضوریز اپنی جگہ سے اٹھا

کہاں جارہے ہیں اب۔ ۔۔ میں کہیں نہیں جانے دونگی اب۔ ۔

جنت نے فوراً اٹھ کر ضوریز کا بازو پکڑا

پلیززز جنت مجھے اور بھی کام ہیں بچوں کی طرح بی ہیو مت کرو۔۔ لیٹ می گو۔ ۔ میں آ جاونگا جلدی۔ ۔

ضوریز کو حقیقتاً جنت پر غصہ آیا اور اس نے سختی سے اپنا بازو چھوڑوایا۔ ۔۔

ہنہ اتنے دن بعد آئے ہو اور اتنے روڈ ہو رہے ہو۔ ۔۔۔ ٹھیک ہے جاو اور مت آنا واپس میں جا رہی ہوں واپس کراچی۔ ۔۔

جنت نے بھی غصے سے کہا

کیا۔ ۔۔ کراچی ی ی۔ ۔ اففف اچھا سوری اممم دیکھو میری بات سنو آرام سے یہاں بیٹھو۔ ۔

ضوریز کو اندازہ ہوا کے اصل گھر انکا کراچی میں ہے۔۔ ضوریز نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر اسے چئیر پر بیٹھایا

دیکھو جنت پہلے ہی بہت نقصان ہو گیا ہے میں جوب کرتا ہوں مجھے وہ کام لازمی کرنے ہیں جو میرے زمے لگائے ہیں تمہیں یہ بات سمجھنی چاہیئے۔۔ میں آلریڈی پریشان ہوں اگر تم اسطرح ناراض ہوئی تو میں اور پریشان ہونگا۔ ۔۔

ضوریز نے بہت مشکل سے اپنے لہجے کو نرم کیا

میں ناراض نہیں ہو صہیب۔ ۔۔ بس میرا دل نہیں مان رہا کے تم مجھ سے دور جاو ان چار دنوں میں جو مجھ پر گزری ہے میں بتا نہیں سکتی۔ ۔۔ بس اسی لیئے پریشان ہوں

جنت نے بھی نرمی سے کہا

ہاں میں جانتا ہوں تم پریشان ہو مگر آئی پرومس میں جلدی آ جاوں گا۔ ۔ پلیززز try to understand ۔۔

ضوریز نے پیار سے سمجھایا

اچھا ٹھیک ہے جاو مگر لنچ سے پہلے آجانا میں ویٹ کر رہی ہوں۔ ۔

جنت بلاآخر مان گئی

گُڈ گرل۔ ۔ میں لنچ تمہارے ساتھ ہی کرونگا۔ ۔۔ ٹیک کیئر۔ ۔!

ضوریز نے مسکرا کر کہا اور باہر کی طرف جانے لگا۔ ۔ جنت حیران ہوئی

مجھ سے ملے بغیر چلے جاو گے صہیب مجھے ہگ تک نہیں کیا ۔۔۔

جنت نے پیچھے سے آواز دی۔ ۔ ضوریز نے غصے سے اپنی آنکھیں بند کی اور غصہ کنٹرول کیا

میں صرف دروازہ کھولنے جا رہا تھا جنت۔۔ تم سے مل کر ہی جاوں گا۔ ۔

ضوریز پلٹ کر جنت کی طرف آیا

بہت ایموشنل ہو تم۔ ۔۔

ضوریز نے غور سے جنت کو دیکھا جو منہ بنائے کھڑی تھی۔ ۔۔ ضوریز مسکرایا

کیا ہوا ملنا نہیں ہے۔ ۔ اب ایسے کیوں کھڑی ہو؟ ؟

ضوریز نے ہاتھ آگے کیا

جنت نے ناراض ہو کر منہ دوسری طرف کر لیا۔ ۔۔ ضوریز نے سوچا وہ سوری کرے اور منائے مگر پھر اس نے سوچا۔ ۔ اچھا ہے ناراض رہے اب اسے وہی آکر منائے گا ہممم یہ ہی ٹھیک ہے۔ ۔۔

ضوریز نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور دروازہ کھول کر باہر چلا گیا۔ ۔ جنت نے پلٹ کر دیکھا تو وہ حیران رہہ گئی ۔۔صہیب کی بے رخی پر اسے جی بھر کر رونا آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو تم اس کے جُڑواں بھائی ہو۔ ۔ اور بتاو کون کون ہے تمہاری فیملی میں؟ ؟

ٹائیگر نے صہیب کے بال کو پکڑ کر پوچھا

کک کوئی نہیں ہے۔ ۔۔ تت تم لوگ کون ہو۔ ۔ اور مم میرا بب بھائی کہاں ہے مجھے ملنا ہے اس سے۔ ۔

صہیب بہت مشکل سے بولا

ہاہاہا تمہارا بھائی۔ ۔ او شہزادے تمہارا بھائی ایک بہت بڑا غنڈا ہے بہت سے لوگوں کا قتل کر چکا ہے اس کے دل میں تم لوگوں کے لیئے بہت نفرت ہے ۔۔۔ خیر پہلے میں تمہیں جان لوں بتاو کہاں سے آئے ہو اور کون ہو ورنہ۔ ۔۔

ٹائیگر نے چاقو اس کے پیٹ پر رکھ کر پوچھا

مم میں نے کہا نا کوئی نہیں ہے مجھے جان سے بھی مم مار دو گے تب بھی نہیں بتاونگا۔ ۔

صہیب نے مضبوطی سے کہا

ہممم جان سے تو میں تمہیں مار ہی دونگا۔ ۔ مگر یہ مت سمجھو کے میں تمہاری فیملی تک نہیں پہنچ سکتا اور بھی بہت سے طریقے ہیں میرے پاس۔ ۔۔ فل حال تو تمہارا بھائی تمہاری بیوی سے ساتھ مزے کر رہا ہے کل رات وہیں گزاری ہے اس نے تمہارے گھر میں تمہاری بیوی کے ساتھ۔ ۔۔۔

ٹائیگر کی بات سن کر صہیب نے تڑپ کر دیکھا اور غصے سے اٹھنے کی کوشیش کرنے لگا

بکواس کر رہے ہو تم۔ ۔ مم میرا بھائی ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔ ۔۔ تم جھوٹے ہو تت تم نے میرے بھائی سے بھی جھوٹ ہی بولے ہیں جب ہی وہ ہم سے نفرت کرنے لگا ہے۔ ۔

ہاہاہاہا بیٹھ جاو زیادہ جزباتی مت ہو۔ ۔۔ تم یقین نہ کرو بیشک مجھے فرق نہیں پڑتا مگر سچ یہ ہی ہے وہ وہاں تمہاری بیوی کا شوہر بن کر گیا ہے ۔۔ بچارا تمہارا بھائی بہت معصوم ہے ویسے۔ ۔۔ میں جو کہتا ہوں نہ چاہتے ہوئے بھی مان لیتا ہے۔ ۔ اب دیکھنا آہستہ آہستہ میں اسکا کام کیسے ختم کرونگا۔ ۔

ٹائیگر نے غصے سے اپنی گن نکالی

تم میرے بھائی کو کچھ نہیں کہو گے۔ ۔۔ تم ایک گھٹیا انسان ہو میرا بھائی تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ ۔

صہیب مشکل سے سانس لے کر بولا

ہاہاہا ہائے اب میرا ٹائم ہے تمہارے بھائی کا نہیں کب سے انتظار کر رہا تھا اس دن کا جب ضوریز صاحب پاکستان آئیں اور میں اسے مار دوں۔ ۔ ہنہ وہ پاکستان آتا ہی نہیں تھا اور وہ مارک جس کے لیئے میں کتوں کی طرح کام کیا ساری زندگی وہ ضوریز کو مجھ سے زیادہ اہمیت دینے لگا ہے جو مقام میں تیس سالوں میں نہیں لے سکا وہ اس نے تین سالوں میں لے لیا۔ ۔۔ میں نہیں چھوڑوں گا تم لوگوں کو۔ ۔

ٹائیگر نے اپنی گن لوڈ کی

آہ۔ ۔ میرے بھائی کو تم نے اغوا کروایا۔ ۔ اسکی ساری زندگی خراب کر دی۔ ۔ تم جانور ہو ۔۔

صہیب نے غصے سے کہا

ہاں میں ہوں جانور۔ ۔۔

ٹائیگر نے فائر کیا اور صہیب کے کندھے سے خون نکلنے لگا صہیب اپنا کندھا پکڑ کر درد سے تڑپنے لگا۔ ۔

ٹائیگر نے اب صہیب کے پیٹ پر فائر کیا

آہ ہ ہ۔ ۔۔ جنت۔ ۔۔

صہیب درد کی شدت سے کراہ کر رہہ گیا

کیا ہوا بہت درد ہو رہا ہے۔ ۔ تمہارا بھائی بھی اسی طرح قتل کرتا ہے سب کو۔ ۔ خیر اب اسے بھی نہیں چھوڑوں گا میں۔ ۔

تکلیف سے صہیب کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ ۔

ٹائیگر کا فون بجنے لگا ٹائیگر نے جیب سے فون نکالا تو ضوریز کا تھا اس نے ایک نظر درد سے تڑپتے صہیب پر ڈالی اور باہر نکل کر فون سننے لگا۔ ۔۔

ٹائیگر میں اب مزید یہ ڈرامہ نہیں کرسکتا میں آرہا ہوں اس لڑکے کے پاس اور میں اسے سمجھا دونگا آپ بتائیں کہاں ہیں۔ ۔؟؟

ٹائیگر ضوریز کی بات سن کر گھبرا گیا

تت تم کیوں آ رہے ہو اتنی جلدی میں نے کہا تھا دو دن وہیں رہنا پھر ۔۔۔

کیوں کیا ہوا ہے آپ اتنا گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟

ضوریز نے ٹائیگر کی بات کاٹی

ارے نن نہیں میں کہاں گھبرا رہا ہوں بس ایکسرسائز کر رہا تھا آمم میں تو اپنے روم میں ہوں۔ ۔

ٹھیک ہے میں فلیٹ میں جا رہا ہوں اس لڑکے کے پاس آپ بھی وہیں آ جائیں۔ ۔

ٹائیگر نے فون بند کیا اور جلدی سے اندر آکر صہیب کو دیکھا جو ساکت پڑا ہوا تھا۔ ۔۔

ہمم لگتا ہے مر گیا۔ ۔ اففف مجھے اب جانا چاہیئے یہاں سے کہیں ضوریز کو پتا نہ لگ جائے۔ ۔

ٹائیگر نے جلدی سے اپنا سامان سمیٹا اور وہاں سے بھاگ گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *