Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 28)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

جنت گھر آتے ہی غصے سے اپنے روم میں چلی گئی

جبکے ضوریز ماروخ کے ساتھ صہن میں ہی بیٹھ گیا

تھینک یو پھوپو آپ نے مجھے ڈیفینڈ کیا مجھے بہت اچھا لگا۔ ۔۔

ضوریز پہلی بار ماروخ سے خود ہم کلام ہوا تھا

نہیں بیٹا یہ میرا فرض تھا۔ ۔ اب تم صرف میرے بھتیجے ہی نہیں داماد بھی ہو۔ ۔۔ ویسے بھی جسطرح تم نے جنت کا خیال رکھا ہے وہ سب دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا ہے کے یقینً تم سے بہتر جنت کا کوئی خیال نہیں رکھ سکتا۔۔۔ وہ ابھی ام میچور ہے اسے وقت لگے گا تمہیں سمجھنے میں۔ ۔

ماروخ نے ضوریز کو سمجھایا

جی پچھلے دو تین ہفتوں سے اسے وقت ہی دے رہا ہوں مگر آپ پریشان مت ہوں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ۔

ضوریز نے ماروخ کا ہاتھ تھام کر کہا

ان شاءاللہ بیٹا۔۔ بس یہ ڈر ہے کے کہیں جنت تم سے الگ ہونے کا مطالبہ نہ کر دے ۔۔۔

ماروخ نے فکرمندی سے کہا

آپ فکر نہ کریں میں اسے خود سے الگ کبھی نہیں کرونگا چاہے وہ جو مرضی کہے۔ ۔۔

ضوریز نے مضبوط لہجے میں کہا

کیا باتیں ہو رہی ہیں پھوپو بھتیجا میں۔ ۔؟

آنسہ نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا

بس ویسے ہی جنت کی باتیں کر رہے تھے۔ ۔۔

ماروخ نے مسکرا کر بتایا

اچھا جنت ہے کہاں؟

آنسہ نے پوچھا

اپنے روم میں ہے ۔۔

ضوریز نے بتایا

ہیں۔ ۔۔ اپنے روم میں کیا کر رہی ہے اسے اکیلا نہ چھوڑا کرو کہیں رو نہ رہی ہو۔ ۔۔

آنسہ نے فکر مندی سے کہا

نہیں ماں رو نہیں رہی ہو گی مجھ پر غصہ کر رہی ہو گی ۔۔

ضوری نے مسکرا کر بتایا

کیوں تم نے اسے کیا کہا ہے؟

آنسہ نے پوچھا

آہا۔ ۔ فل حال تو کچھ نہیں کہا آپ کی لاڈلی کو ۔۔

ضوریز نے گہرا سانس لے کر بتایا

خیر اپنی دادو اور پھوپا کی سیٹ کروا دی؟

آنسہ نے بات بدلی

جی کروا دی ہے اور ایئرپورٹ سے آگے کے لیئے پرائیوٹ گاڑی بھی کروا دی ہے دادو آرام سے سفر کر لیں گی اور میرے خیال سے کل شام تک پہنچ جائیں گے دونوں۔ ۔

ضوریز نے تفصیل بتائی

چلو یہ تو بہت اچھا ہو گیا۔ ۔۔

ماروخ نے کہا

اچھا اب بتاو کھانے کا کیا کرنا ہے۔ ۔ روز روز باہر سے تو نہیں کھا سکتے ایسا کرتے ہیں ہفتے بھر کی سبزیاں وغیرہ لے آتے ہیں۔ ۔۔

آنسہ نے ضوریز سے کہا

جی ٹھیک ہے چلتے ہیں بازار وہاں سے لے آئیں گے ۔۔۔ آممم پھوپو جنت کو بھی کہیں ہمارے ساتھ چلے ۔۔۔

ضوریز نے ماروخ کی طرف دیکھ کر کہا

ہاں میں بولتی ہوں اسے۔ ۔

ماروخ اٹھ کر جنت کے پاس روم میں چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز بہت سخت بور ہو رہا تھا آنسہ، ماروخ اور جنت مختلف سبزیوں کی دکان پر رک رک کر سبزیاں لے رہی تھیں اور اسے سخت کوفت ہو رہی تھی۔ ۔ جنت کو محسوس ہو گیا تھا کے ضوریز بور ہو رہا اس لیئے وہ جان بوجھ کر ماروخ اور آنسہ کو ہر ایسی سبزی بتاتی جو ملنا مشکل تھی۔ ۔۔

اففف ماں کیا ہو گیا صرف ایک ہفتے کا سامان لینا ہے اور آپ لوگ اتنا وقت لگا رہے ہیں۔ ۔۔

ضوریز نے آخر بول ہی دیا

کیا ہو گیا ضوریز دیکھ نہیں رہے کہیں بھی اچھی سبزی نہیں ہے ایسی سبزی لے لی دو دن میں خراب ہو جائے گی۔ ۔۔ ان کاموں میں وقت تو لگتا ہی ہے۔۔۔

آنسہ نے ضوریز کو سمجھایا

مگر ماں۔ ۔۔

مامی وہ دیکھں وہاں پر تھوڑی فریش سبزیاں نظر آرہی ہیں وہاں چلیں۔ ۔۔

جنت نے آنسہ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ۔ ضوریز کی بات اس کے منہ میں ہی رہہ گئی

ہاں چلو وہاں دیکھ لیتے ہیں۔ ۔ ضوریز تم یہاں کہیں بیٹھ جاو آرام سے اوکے۔ ۔۔

آنسہ نے پلٹ کر ضوریز کو کہا اور آگے بڑھ گئیں۔ ۔

جنت نے پلٹ کر ضوریز کو دیکھا اور اپنی مسکراہٹ دبائی۔ ۔۔

ضوریز نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا ۔۔

کر لو جو کرنا ہے تم بس انہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جایا کرو۔ ۔۔

ہنہ مجھے کیا ضرورت ہے خوش ہونے کی اور آپکا ساتھ کسی کو خوشی دے سکتا ہے ۔۔۔ چھوڑو مجھے۔ ۔۔

جنت نے بازو چھوڑوایا اور چلی گئی

ضوریز بالوں پر ہاتھ پھیرتا اُسی شوپ پر آگیا جہاں سے صبح بریسلٹ لیا تھا اور وہاں سے بلکل ویسا ہی بریسلٹ خرید کر گاڑی میں بیٹھ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم لوگوں نے اتنا ٹائم لگا دیا ایک ہفتے کا سامان لینے گئے تھے یا ایک مہینے کا۔ ۔۔

بشیر کب سے ان سب کا انتظار کر رہا تھا

اوہ کیا بتاوں کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا بس لے لیا تھوڑا بہت۔ ۔

آنسہ نے تھکے ہوئے انداز میں بتایا

پتا نہیں بابا سب دکانوں پر ایک جیسی چیزیں تھیں مگر پھر بھی یہ سب ہر دکان دیکھ رہی تھیں۔ ۔۔

ضوریز نے کوفت سے کہا

ہاہاہا بیٹا تم تو ان سے بھی زیادہ تھکے ہو ئے لگ رہے ہو اب سیکھ لو یہاں پاکستان میں تو یہ ہی سب کرنا ہوتا ہے۔ ۔۔

بشیر نے ہنس کر کہا

نو آئی کانٹ ڈو دس۔۔۔ نکالتا ہوں کوئی حل اسکا بھی۔ ۔۔

ضوریز نے کہا اور روم میں چلا گیا۔۔ جبکے جنت ضوریز کو اسطرح دیکھ کر بہت خوش ہوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی کھانا کھا کر ہم سب باہر ندی کے پاس بیٹھیں گےاور وہاں بیٹھ کر چائے پیئے گے۔ ۔۔

ضوریز نے نوالہ توڑ کر سالن سے لگایا

پاگل ہو اتنی سردی ہے باہر۔ ۔

بشیر نے پانی کا گلاس بھرتے ہوئے کہا

میں نے انتظام کر لیا ہے بابا شام میں لکڑیاں کاٹ لیں تھیں ان میں آگ لگا لیں گے سردی نہیں لگے گی اس وقت وہ منظر دیکھنے والا ہے آسمان پر بہت پیارے ستارے ہیں فُل چمکتے ہوئے۔ ۔

ضوریز نے آخر میں جنت کی طرف دیکھ کر کہا

ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو وہاں بیٹھ کر آسمان دیکھنے کا اپنا ہی مزا ہے اور ندی تو بہت پیاری ہے۔ ۔ بھابی آپ دونوں نہیں گئے چلیں کھانا ختم کر لیں پھر چلتے ہیں۔ ۔

ماروخ نے ضوریز کا ساتھ دیا

میں تو نہیں جاونگی مجھے نیند آرہی ہے۔ ۔

جنت نے منہ بنا کر کہا

ٹھیک ہے تم اکیلی رہہ لینا گھر پر۔۔ ویسے یہاں پر اتنے بڑے جانور نہیں ہوتے جیسے مری میں ہوتے ہیں۔۔۔۔

ضوریز نے بظاہر نارمل سے انداز میں کہا مگر دل ہی دل میں وہ مسکرا رہا تھا

میں اکیلے کیوں رہونگی ماموں آپ تو نہیں جا رہے نہ آپکو بھی تو نیند آرہی ہو گی۔ ۔

جنت نے نوالہ منہ میں ڈال کر کہا

مجھے کہاں نیند آئے گی سارا دن تو سوتا رہا ہوں۔ ۔۔

بشیر نے ہنس کر کہا

مامی آپ مت جائیں آپ تھک بھی گئی ہیں۔ ۔۔

اب جنت آنسہ کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔ ضوریز جنت کو دیکھ کر مسکرا دیا

تم بھی چلو بیٹا۔۔۔۔ زیادہ دیر نہیں بیٹھیں گے ۔۔۔

آنسہ نے جنت کو سمجھایا

میں نے تو کھا لیا بس۔ ۔۔ میں چائے رکھتی ہوں جب تک۔ ۔

ماروخ کھڑی ہوئی۔ ۔ جنت نے ماروخ کو دیکھ کر منہ پھولا لیا

چلو جنت اگر کھانا کھا لیا ہے تو میرے ساتھ ہیلپ کروا دو۔۔۔

جنت کی خالی پلیٹ دیکھ کر ماروخ نے کہا

اچھا آرہی ہوں۔ ۔۔

جنت نے منہ بنا کر کہا ۔۔

ضوریز نے کھانا ختم کیا اور کھڑا ہو گیا

اچھا میں جب تک لکڑیاں جلاتا ہوں آپ سب ونہیں آجائے گا چائے لے کر۔ ۔۔

ضوریز یہ کہ کر باہر کی طرف چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز نے ندی سے تھوڑا ہٹ کر لکڑیاں جلائیں۔ ۔ پاس ہی ندی تھی۔۔ آسمان پر چمکتے چاند ستاروں کی روشنی اردگرد پھیلی ہوئی تھی تھوڑے تھوڑے وقفے سے درخت پر لگے پتے ہوا سے ہل کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے۔۔۔ سب آگ کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھے تھے۔۔۔۔

ضوریز کے بلکل سامنے جنت بیٹھی تھی جو لا پروائی سے چائے پی رہی تھی اور ضوریز مسلسل اُسے ہی دیکھ رہا تھا

واہ سبحان اللہ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے آسمان۔۔۔

آنسہ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا

ٹھیک کہ رہی ہیں بیگم میں یہ ہی سوچ رہا تھا یہاں پر کتنی اچھی روشنی ہو رہی ہے چاند ستاروں کی اور کراچی میں تو یہ خوبصورتی کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ ۔

بشیر نے ہاں میں ہاں ملائی

جی ماموں کیونکے وہاں ضرورت نہیں ہے اس روشنی کی وہاں تو اسٹریٹ لائٹس بہت ہیں ۔۔ ویسے بھی کراچی تو ہے بھی روشنی کا شہر۔ ۔۔

جنت نے اترا کر کہا

نہیں بیٹا جو خوبصورتی اللہ کی بنائی گئی چیزوں میں ہے وہ کسی اور میں نہیں ۔۔۔ بیشک کراچی روشنی کا شہر ہے مگر دیکھو یہ والی روشنی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ۔۔

بشیر نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا

ہممم کہہ تو آپ ٹھیک رہے ہیں ۔۔

جنت نے بھی آسمان کو دیکھا

ارے ضوریز کوئی گانا ہی سنا دو سنا ہے ایسے ماحول میں گانا گایا جاتا ہے۔ ۔۔

ماروخ نے شرارت سے کہا

پھوپو مجھے آپ لوگوں کے گانے نہیں آتے آئی مین اردو گانے کبھی سنے ہی نہیں۔ ۔

ضوریز نے ٹالنا چاہا

تو ہمیں خیر سے انگلش سمجھ آتی ہے وہی سنا دو اسی بہانے پتا لگے تمہاری آواز کیسی ہے۔۔۔۔۔

ماروخ نے ہنس کر کہا

ہاں ضوریز چلو سنا دو گانا ۔۔

آنسہ نے چائے ختم کر کے کپ سائیڈ پر رکھا۔ ۔۔

جنت ضوریز سے انجان بنے کی کوشیش میں بلاوجہ دائیں بائیں دیکھنے لگی۔ ۔

ہاں ہاں سنا دو وہ کہتے ہیں نہ رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے۔ ۔۔ چلو بھئی سنا دو جو بھی آتا ہے۔ ۔

بشیر نے بھی ضوریز سے کہا

اوکے آہممم ۔۔۔۔ جنت یہ تمہارے لیئے ہے سونگ پلیز توجہ فرمائیں۔ ۔

ضوریز نے جنت کو مخاطب کیا جو یہ ظاہر کر رہی تھی کے وہ یہ سب سن ہی نہیں رہی۔ ۔۔ اس سے پہلے جنت جواب دیتی ضوریز نے گانا شروع کر دیا

If I had to live my life without you near me

The days would all be empty

The nights would seem so long

With you I see forever, oh, so clearly

I might have been in love before

But it never felt this strong

Our dreams are young and we both know

They’ll take us where we want to go

Hold me now, touch me now

I don’t want to live without you

Nothing’s gonna change my love for you

You oughta know by now how much I love you

One thing you can be sure of

I’ll never ask for more than your love

Nothing’s gonna change my love for you

You oughta know by now how much I love you

The world may change my whole life through

But nothing’s gonna change my love for you

ضوریز نے اپنی خوبصورت آواز کا سحر بکھیر کر منظر کو اور حسین بنا دیا جنت بھی اسکی آواز میں کھو گئی۔۔۔۔

ضوریز بس جنت پر نظریں جمائے گاتا رہا وہ ایک ایک لفظ دل سے گا رہا تھا۔ ۔۔

If the road ahead is not so easy

Our love will lead the way for us

Like a guiding star

I’ll be there for you if you should need me

You don’t have to change a thing

I love you just the way you are

So come with me and share the view

I’ll help you see forever too

Hold me now, touch me now

I don’t want to live without you

Nothing’s gonna change my love for you

You oughta know by now how much I love you

One thing you can be sure of

I’ll never ask for more than your love

Nothing’s gonna change my love for you

You oughta know by now how much I love you

One thing you can be sure of

I’ll never ask for more than your love…

ضوریز جب خاموش ہوا تو سب سے پہلے بشیر نے تالیاں بجا کر داد دی

امیزینگ۔ ۔۔ زبردست ضوریز تم تو بہت اچھا گا لیتے ہو۔ ۔۔

بشیر نے ضوریز کا کندھا تھپتھپایا

تھینکس بابا۔۔۔

ضوریز مسکرایا

واقعی کمال گایا ہے اور دل سے گایا ہے۔ ۔

ماروخ نے بھی داد دی اور جنت کو دیکھا جو خاموش بیٹھی تھی۔ ۔

بھئی یہ تو جنت بتائے گی کیسا لگا گانا۔ ۔۔۔گایا تو اُس نے جنت کے لیئے ہے نا۔ ۔۔

آنسہ نے مسکرا کر جنت کا ہاتھ پکڑا

جی اچھا تھا۔ ۔۔

جنت کو بھی ماننا پڑا

آپ کو اچھا لگا بس پھر تو سمجھیں اس گانے کے پیسے وصول ہو گئے۔ ۔۔

ضوریز نے مسکرا کر کہا سب ہنسنے لگے

چلو کافی رات ہو گئ ہے سونے چلیں۔ ۔

آنسہ نے کہا

جی چلتے ہیں گھر۔ ۔۔ جنت بیٹا اٹھو برتن سمیٹو۔ ۔۔

ماروخ نے جنت سے کہا جنت سر ہلا کر برتن سمیٹنے لگی

آمم بابا میں گھر جا رہا ہوں۔ ۔۔ آپ لکڑیاں بجھا کر آجائیے گا۔ ۔

ضوریز نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور جلدی سے کھڑا ہو کر گھر کی طرف چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنت آج خاموشی سے کمرے میں آگئی مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی حیران رہ گئی

یی یہ پھول تو ونہی گر گئے تھے یہ یہاں کیسے ۔۔۔

بیڈ کی سائیڈز پر پھول پھلائے ہوئے تھے اور درمیان کی جگہ خالی تھی

ہنہ یقینً یہ اس ہیرو نے رکھے ہونگے ۔۔۔

جنت نے دل میں سوچا ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کے سب پھولوں کو بیڈ سے نیچے پھینک دے۔۔۔ ضوریز دروازہ کھول کر روم میں داخل ہوا جنت نے پلٹ کر ضوریز کو دیکھا

کیا ہے یہ سب کچھ۔۔۔ کیا سمجھتے ہیں آپ ان سب سے میں امپریس ہو جاونگی۔ ۔۔

جنت نے ضوریز کے سامنے کھڑے ہو کر کہا

نہیں یہ تمہیں امپریس کرنے کے لیئے نہیں سجائے بلکے ہماری آج کی رات کو اور حسین بنانے کے لیئے سجائے ہیں۔ ۔

ضوریز نے آگے بڑھ کر جنت کو پکڑا اور دیوار سے لگا دیا

شٹ اپ اوکے اور چھوڑیں مجھے ورنہ شور مچا دونگی میں۔ ۔

جنت نے ہمیشہ کی طرح دھمکی دی

ہاں تو مچاو شور منا تھوڑی کیا ہے۔ ۔۔ سب کو بتا کر آیا ہوں کے جنت رات میں سوتے ہوئے ایک جانور سے ڈر جاتی ہے اگر جنت کے شور مچانے کی آواز آئے تو سمجھ جائیں وہ جانور اسے ڈرا رہا ہے۔ ۔۔

ضوریز جنت کے چہرے کے بہت پاس آیا اور اسکے ایک نقش پر ہاتھ پھیرنے لگا

دور ہٹیں مجھ سے بہت گھٹیا قسم کے انسان ہیں آپ ایک دم چیپ۔ ۔۔

جنت نے ضوریز کو دھکا دیا جسکا کوئی فائدہ نہیں ہوا

ہممم کوئی بات نہیں اب جیسا بھی ہوں تمہارا ہی ہوں میں نے صبح کہا تھا نا جنت کے اب خود کو اس سب کے لیئے تیار کر لو۔ ۔۔ میں اب روز کروٹیں بدل بدل کر راتیں نہیں گزار سکتا۔۔۔

ضوریز نے بھوجل لہجے میں کہا

مجھے آپ کی راتوں سے کوئی غرض نہیں آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے سمجھے۔۔۔ اگر آپ نے ایسی کوئی کوشیش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔

جنت نے ضوریز کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرنا چاہا۔ ۔

کبھی کبھی زبردستی کرنی پڑتی ہے پیار میں۔ ۔ اگر محبوب تم جیسا کم عقل ہو تو اُسکے ساتھ یہ ہی کرنا پڑتا ہے۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کا ہاتھ پکڑ کر اس میں بریسلٹ پہنایا۔ ۔۔

اب ضد مت کرو جنت مجھے قبول کر لو۔ ۔۔

ضوریز جنت کے ہاتھ کو چوم کر اُنہیں اپنے چہرے پر پھیرنے لگا

ہنہ نہیں کرنا مجھے آپکو قبول بلکل اچھے نہیں لگتے آپ مجھے۔ ۔

جنت نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھوڑایا

ضوریز نے غصے سے جنت کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر دیوار پر لگایا جنت کی آنکھیں حیرانی سے پھیل گئیں۔ ۔۔

یی کیا کر رہے ہیں پلیززز مجھے چھوڑو۔۔۔۔

جنت گھبرا کر اپنا سر ہلانے لگی

ضوریز سب فاصلے مٹا کر جنت کے چہرے پر جھک گیا یہاں تک کے جنت کو اپنی گال پر اسکے ہونٹ محسوس ہوئے ۔۔۔

بے بسی سے جنت کا ایک آنسو اسکی آنکھ سے پھسل کر گال پر بہہ گیا۔ ۔ جسے ضوریز نے اپنے ہونٹوں سے چُن لیا۔ ۔۔۔

جنت بس یہ تمہارے آنسوں ہی میری کمزوری ہے۔ ۔۔ حقیقت سے آنکھیں مت موڑو جنت ۔۔۔ کب قدر ہو گی تمہیں میری جب میرے ساتھ کوئی حادثہ ہو گا اور پھر جب میں دور ہو جاونگا۔۔۔؟ تم میری محبت کا یقین کر لو جنت۔۔۔۔ تمہیں اسی طرح مجھے قبول کرنا ہو گا۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں اتنی محبت دونگا کے خود کو خوش نصیب لڑکی سمجھو گی۔ ۔

ضوریز نے جنت کے ماتھے پر بوسہ دیا اور گہرا سانس لے کر دور ہو گیا۔ ۔۔

بس رونا مت اب۔ ۔۔ جاو آرام سے لیٹ جاو اور سو جاو بے فکر ہو کر۔۔ میں بس پانچ منٹ میں آتا ہوں۔۔۔

ضوریز نے سگریٹ نکال کر دکھائی اور باہر چلا گیا

جنت نے ایک گہرا سانس لیا اور بیڈ پر بیٹھ کر پھولوں کو نرمی سے چھونے لگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *