Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 16,17)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

مارک نے شاندار پارٹی کا انتظام کیا تھا دنیا بھر کے امیر لوگ اس دعوت میں شامل تھے۔۔۔ سب کے سامنے اس نے ضوریز کے لیڈر بننے کا اعلان کیا سب ہی باری باری ضوریز سے مل کر اسے مبارک باد دینے لگے۔ ۔ ضوریز کو اس سب بہت کوفت ہو رہی تھی اس کا دل کیا وہ یہاں سے ابھی بھاگ جائے مگر مجبوری۔ ۔۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سب سے مل رہا تھا۔ ۔۔ سب ہی اپنے ہاتھوں میں مہنگی مشروب پکڑے ناچنے میں مصروف ہوگئے ہر طرف میوزک کا شور تھا ضوریز کو گھبراہٹ ہونے لگی۔ ۔۔

سب نے بہت کوشیش کی کے وہ شراپ پیئے مگر اس نے سختی سے منع کر دیا۔ ۔۔ آہستہ آہستہ رات بیتنے لگی۔ ۔۔ سب ہی اپنی اپنی لڑکیوں کو لیئے رومز میں جانے لگے مارک بھی نشے میں مدحوش تھا۔ ۔۔ ضوریز نے ایک نظر سب کو دیکھا اور اپنے روم کی طرف چلا گیا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز کافی تھک گیا تھا اس نے گھڑی پر نظر ڈالی تو چار بج رہے تھے۔ ۔۔

وہاں تو ابھی صبح ہو گئی ہو گی۔ ۔

اس نے سوچا اور جنت کو فون کرنے لگا

جنت نے فون اٹھایا

ہیلو ۔۔۔۔

جنت کی نیند میں ڈوبی آواز آئی

ابھی تک سو رہی ہو میری نیندیں اڑا کر۔ ۔

ضوریز نے کہا

ہنہ پوری رات ویٹ کیا کے اب آپ کا فون آئے گا سب نے مجھے وش کیا بس میرے شوہر کو ہی میری یاد نہیں آئی۔ ۔۔ فون نہ صحیح میسج کر دیتے۔ ۔۔

جنت بہت ناراض ہوئی

میں کیا کرتا جنت چاہ کر بھی کال نہیں کر سکا ورنہ ایک پل کے لیئے بھی میں تمہیں نہیں بھولا۔۔خیر تم اگر رات میں نہیں سوئی تو آرام کرو میں بعد میں فون کر لونگا۔ ۔

ضوریز بھی لیٹ گیا

ہنہ اب جاگ گئی ہوں۔ ۔۔ اور آج میں بزی ہونگی جناب کیونکے مجھے اپنی دوستوں کے ساتھ جانا ہے ۔۔ شکر ہے مامی نے خود ہی اجازت دے دی آپ نے مامی سے کچھ کہا تھا کیا؟

جنت اٹھ کر بیٹھی اور اپنے بال سمیٹنے لگی

ہمم کہا تو تھا ۔۔۔ مگر وہ خود کہ رہی تھیں کے جنت جہاں بھی چاہے چلی جائے بس خیال رکھنا آج بہت رش ہو گا پتا نہیں کیسے کیسے کوگ ہونگے۔ ۔

ضوریز کو آنسہ کی بات یاد آئی

ارے ہاں مامی بھی یہ ہی کہ رہی تھی اس لیئے پھر ہم نے یہ پلان ماہین کے گھر رکھ لیا وہاں لنچ کریں گے سب ایک ایک ڈش بنا کر لائیں گی مزا آئے گا اتنے مہینوں بعد ملیں گے ہم سب۔ ۔۔

جنت کافی خوش تھی

ہمممم اس مزے میں مجھے مت بھول جانا۔ ۔ جیلسی فیل ہو رہی مجھے تمہاری دوستوں سے۔ ۔۔ مگر خیر تمہاری خوشی کے لیئے برداشت کر لیتا ہوں۔۔

ضوریز کو جنت کا اپنی دوستوں کے لیئے اتنا خوش ہونا پسند نہیں آیا

آپ کب سے جیلس ہونے لگے۔ ۔۔ سب کو جانتے تو ہیں ویسے بھی ماہین کے گھر پر ہے پارٹی۔ ۔ پتا تو ہے آپکو اُسکا میری وجہ سے ہی گھر میں رکھ رہی ہیں پارٹی۔ ۔

جنت نے بتایا

اچھا کیا پہنوں گی ؟ اچھا سا تیار ہو کر مجھے اپنی ایک تصویر بھیجنا۔ ۔

ضوریز کا دل کیا وہ جنت کو دیکھے

جی نہیں اتنا شوق ہے دیکھنے جا تو آکر دیکھ لینا۔۔

جنت نے نخرے دیکھائے

میں بھی آجاونگا اور پھر تمہیں کہیں نہیں جانے دونگا جتنا ملنا ہے مل لو ۔۔ جب میں آگیا تو بس صرف میرا حق ہو گا تم پر۔ ۔۔

ضوریز کافی حساس تھا۔ ۔ ۔ آخر وہ رشتوں کا ترسا ہوا تھا۔ ۔

کیا ہو گیا صہیب۔ ۔ آپ اتنے حساس کیسے ہو گئے۔ ۔۔ خیر مجھے پاستا بنانا ہے پھر تیار بھی ہونا میں بعد میں بات کروں آپ سے؟

جنت نے ٹائم دیکھ کر کہا

نہیں ابھی مجھ سے باتیں کرو جنت ۔۔ پاستا بازار سے بنا بنایا لے جانا۔ ۔

ضوریز نے ضد کی

کیا ہو گیا صہیب کبھی دو دو دن فون نہیں کرتے اور آج فون رکھ نہیں رہے آپ بہت چینج ہو گئے ہیں سمجھ سے باہر۔ ۔۔

جنت ضوریز کے روئیے سے حیران ہوئی

ہاہ۔ ۔۔۔ تم نہیں سمجھو گی جنت۔۔۔ ایک دن سمجھاونگا تمہیں فرست سے۔ ۔ خیر اگر واقعی تمہیں کام ہے تو فارغ ہو کر فون کرنا مجھے۔ ۔

اچھا ناراض تو نہ ہوں۔ ۔ دراصل پاستا بنانا ہے پھر نہانا ہے تیار ہونا ایک بجے فریا آجائے گی مجھے لینے۔ ۔۔ اور دس بجنے والے ہیں ۔۔۔ اس لیئے کہ رہی ہوں۔ ۔

جنت نے پیار سے کہا

اٹس اوکے جنت میں تم سے ناراض نہیں ہو سکتا۔ ۔ اچھا تم کام کرو اور ہاں تیار ہو کر تصویر ضرور بھیجنا میں انتظار کر رہا ہوں۔ ۔

اچھا ٹھیک ہے جناب بھیج دونگی۔ ۔ اچھا پھر بعد میں بات ہو گی۔ ۔۔ اوکے اللہ حافظ۔ ۔

جنت فون رکھنے لگی

سنو۔ ۔

ضوریز نے جلدی سے کہا

جی بولیں۔ ۔

جنت نے فون ٹھیک سے کان پر لگایا

Happy new year my life…

ضوریز کو یاد آیا کے جس بات کے لیئے فون کیا تھا وہ کہا ہی نہیں

اوہ تو خیال آگیا وش کرنے کا۔ ۔۔ آپکو بھی

Happppyyy new year my husband

اللہ کرے ایسے بہت سارے نئے سال ہماری زندگی میں آئیں۔ ۔آمین

جنت نے دل سے دعا کی

i love you Jannat i love you more than anything else…

ضوریز نے آنکھیں بند کر کے کہا

واہ کیا انگلش بولنے لگے ہو۔ ۔۔ ہاہا۔ ۔ اچھا زیادہ رومینٹک مت ہو جائیے گا رات میں باتیں کریں گے یہ والی۔ ۔ اوکے بائے۔ ۔۔

جنت نے ہنستے ہوئے کہا

اوکے گُڈبائے ٹیک کئیر۔ ۔۔

ضوریز نے بھی مسکرا کر فون بند کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنت میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں ۔۔۔ میرے پاس آو میں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں۔ ۔

ضوریز کو جنت کا دُھندلا سا عکس نظر آیا

صہیب میں یہاں ہوں تم آو میرے پاس۔۔

جنت نے ہاتھ کا اشارہ کیا

ضوریز آہستہ آہستہ جنت کے پاس آنے لگا۔ ۔ وہ جتت کے بہت پاس آگیا جنت نے آنکھیں بند کیں۔ ۔ ضوریز جنت کے ایک ایک نقش کو دیکھنے لگا۔ ۔۔

جنت تم بہت حسین ہو۔ ۔۔ اتنے کم عرصے میں تم مجھے بہت عزیز ہو گئی ہو۔ ۔

ضوریز کی نظریں جنت کی بند پلکوں سے ہوتی ہوئی اس کے کانپتے ہونٹوں پر ٹہر گئیں۔ ۔۔ ضوریز نے ہاتھ بڑھا کر جنت کے ہونٹ کو نرمی سے چھوا۔ ۔۔

ضوریز کا سانس تیز ہونے لگا اس نے جنت کے چہرے کو ٹھوری سے پکڑ کر اوپر کیا اور اس کے چہرے پر جھکنے لگا۔ ۔

صہیب۔ ۔۔ جنت آہستہ سے آواز دی

نہیں جنت میں صہیب نہیں ضوریز ہوں۔ ۔۔

ضوریز مزید جھکا

جنت نے ایک دم اپنی آنکھیں کھولیں

اور نفرت سے اپنا منہ دوسری طرف کیا

جنت پلیز مجھے قبول کرو۔۔۔

ضوریز کے لہجے میں التجا تھی

نہیں کبھی نہیں دور ہٹو مجھ سے نفرت ہے مجھے تم سے دور ہٹو۔ ۔

جنت ضوریز کو نوچنے لگی ۔۔ ضوریز جنت کو پکارتا رہا مگر جنت نے ضوریز کی ایک پکار نہیں سنی اور نفرت سے ضوریز کو نوچتی رہی۔ ۔

ضوریز جنت کو پکارتا رہا اور جنت صہیب کو۔ ۔۔ ضوریز نے تڑپ کر جنت کو پکڑنا چاہا مگر جنت نے ضوریز کا ہاتھ جھٹکا اور دور ہو گئی۔ ۔ ضوریز نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں جنت نہیں تھی ضوریز زور زور سے جنت کو پکارنے لگا۔۔۔

جنت ت ت۔ ۔۔۔

ضوریز نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔۔ ضوریز نے اپنے سینے پر ہاتھ پھیرا اتنی ٹھنڈ میں بھی وہ پسنے سے نہا گیا تھا۔ ۔۔ ضوریز نے گھڑی دیکھی اور جلدی سے جنت کو فون کرنے لگا۔ ۔۔ بار بار فون کرتا رہا مگر جنت نے نہیں اُٹھایا ۔ ۔۔

اففف جنت پلیززز پِک اپ یور فون۔ ۔۔

ضوریز نے ہمت نہ ہاری اور فون کرتا رہا

کب سے کال کر رہا ہوں جنت اٹھا کیوں نہیں رہی تھی۔۔

آخر کار جنت نے فون اُٹھا لیا

بس وہ سب سے مل رہی تھی پتا ہی نہیں چلا اب ہم واپس جا رہے ہیں نا میں فریا کے ساتھ ہوں وہ ڈراپ کر دے گی۔ ۔ خیر ہے صہیب آپ نے اتنی ساری کالز کی؟

جنت پریشان ہوئی

آں ہاں بس ایسے ہی۔ ۔۔اچھا دیہان سے جانا اور بتاو سب کیسا رہا مزا آیا۔۔

ضوریز کا دیہان ابھی تک اپنے خواب میں تھا

ہمم بہت مزا۔ ۔۔

ارے یہ کون ہے فریا ککک کون ہے یہ اسطرح گاڑی کیوں روکوا رہا ہے یہ۔ ۔

جنت کی گھبرائی ہوئی آواز ضوریز کو سنائی دی

کیا ہوا جنت ۔۔ سب ٹھیک ہے کون ہے کس کو بول رہی ہو۔ ۔

ضوریز پریشان ہوا

ہاتھ چھوڑو میرا صہیب پتا نہیں کون۔ ۔۔ چھوڑو مجھے۔ ۔۔

جنت کی آواز اب دور سے آئی

ہیلو جنت کیا ہوا ہیلو جنت۔ ۔

ضوریز کھڑا ہوا

چھوڑو میری دوست کو۔ ۔۔۔

اب جنت کی آواز کے بجائے اسکی دوست کی آواز آئی

جنت جنت کیا ہوا کون ہے تم ٹھیک ہو جنت جواب دو ۔۔۔ اففف ہیلو جنت۔ ۔ ٹاک ٹو می۔۔۔

ضوریز پریشانی سے بولا

صہیب بھائی۔ ۔

فریا کی گھبرائی ہوئی آواز آئی

کک کون ہو تم جنت کہاں ہے؟؟

ضوریز نے جلدی سے پوچھا

صہیب بھائی جنت کو کوئی آدمی زبردستی اپنے ساتھ لے گیا عجیب سا آدمی تھا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔

فریا نے بہت گھبراتے ہوئے بتایا

واٹ کون تھا اور ایسے کیسے لے گیا۔ ۔ کیسا تھا مجھے بتاو۔ ۔

پپ پتا نہیں کون تھا بہت عجیب تھا اس کے لمبے اور گھونگرالے بال تھے۔ ۔۔ اس کے ہاتھ میں گن تھی۔ ۔ میں پولیس کو بتاتی ہوں۔۔

فریا نے اپنا فون نکالا

نہیں تم کسی کو مت بتانا میں آرہا ہوں میں جنت کو کچھ نہیں ہونے دونگا۔ ۔ سمجھی تم کسی کو مت بتانا اوکے

ضوریز سمجھ گیا کے یہ ٹائیگر ہے

ضوریز نے فون بند کیا۔ ۔یقینً یہ ٹائیگر ہے۔ ۔ شِٹ مجھے اسے زندہ چھوڑنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ ۔۔ضوریز نے غصے سے ہاتھ کا مُکا بنا کر دیورا پر مارا۔ ۔۔

اوہ کیا کروں مجھے جانا ہوگا۔ ۔۔ مارک کو تو فل حال اپنا ہوش نہیں اوہ جنت میں نہیں رہ سکتا اس کے نغیر

ضوریز کو عجیب گھبراہٹ ہونے لگی کہیں ٹائیگر صہیب کی طرح جنت کو بھی نن نہیں نیور میں جنت کو کچھ نہیں ہونے دونگا۔ ۔

ضوریز نے جلدی سے دوگنے پیسے دے کر سیٹ بُک کروئی اور روانا ہو گیا۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنت کو ہوش آیا تو وہ کسی کمرے میں بند تھی۔۔

آہ۔۔۔ جنت کھڑے ہوتے ہوتے بیٹھ گئی اسے کے ہاتھ پاوں بندھے ہوئے تھے۔

کوئی ہے۔ ۔۔ مجھے یہاں سے نکالو۔ ۔۔ ہیلو کوئی ہے۔ ۔۔ امی ی نانو صہیب ب۔ ۔۔ کہاں ہیں آپ لوگ۔ ۔ صہیب آجاو میرے پاس ۔۔ جنت رونے لگی

دروازہ کھول کر ٹائیگر اندر آیا اپنی گن نکال کر ٹیبل پر رکھی اور ہنسنے لگا۔۔

جنت نے گھبرا کر اسے دیکھا اور اپنے آپ میں سمٹنے لگی

کک کون ہو تم۔ ۔۔ مم مجھے کک کیوں یہاں لائے ہو۔ ۔۔

جنت نے ہکلاتے ہوئے کہا

ہاہاہا میری بلبل تم تو بہت معصوم ہو چھوٹی سی پیاری سی جب ہی تو وہ سالا بھی تم پر فدا ہو گیا۔ ۔ کیا مست چیز ہو تم۔ ۔۔

ٹائیگر جنت نے قریب بیٹھ گیا

د د دور رہو مجھ سے۔ ۔ مم میں نن نہیں جانتی تم تمہیں کک کون ہو تم۔ ۔

جنت کا ڈر کے مارے سانس اٹکنے لگا

ہائے میری بلبل۔ ۔۔ مجھ سے زیادہ خطرناک تو وہ ضوریز ہے اس کے پاس تو تم آرام سے چلی جاتی ہو۔ ۔

ٹائیگر نے ہاتھ بڑھا کر جنت کے بال ہٹائے

دور ہٹو مم مجھ سے مم میں نہیں جانتی کک کسی ضو ضوریز کو۔ ۔۔ تت تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ ۔

جنت کھسک کر پیچھے ہوئی

ہاہاہاہاہا مجھے غلط فہمی نہیں ہوئی چڑیا۔ ۔۔ تمہیں بہت بڑا دھوکا ہوا ہے ہاہاہا خیر ایسے مزا نہیں آئے گا تمہارے دیوانے کو بھی بولا لیتے ہیں وہ خود تمہیں اپنے منہ سے بتائے گا کے وہ کون ہے۔ ۔۔ یہ سنو !

ٹائیگر نے اپنا فون نکال کر ضوریز کو ملایا اور لاوڈ اسپیکر اون کیا

ضوریز نے فوراً فون اٹھایا

you son of bi** how dare you.. I will kill you tigger trust me

(تم کت* * کے بچے تمہاری ہمت کیسے ہوئی ۔۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا)

ضوریز نے فون اٹھاتے ہی ٹائیگر کو گالیاں دینا شروع کی

ہاہاہاہاہا مجھے معلوم تھا تم اب تک کراچی آچکے ہو گے۔ ۔ ڈونٹ وری میرے پارٹنر تمہاری سو کالڈ بیوی میرے پاس محفوظ ہے آخر اتنا عرصہ ایک ساتھ کام کیا ہے ہم نے اتنا خیال تو کرونگا میں تمہارا۔ ۔ ویسے مبارک ہو میری جگہ لیڈر بن گئے تم۔ ۔۔

ٹائیگر نے جلتے ہوئے کہا جنت نے یقینی سے ضوریز کی آواز سنی جو اس وقت کہیں سے صہیب نہیں لگ رہا تھا

اوہ ٹائیگر مجھے لیڈز بننے میں کوئی دلچسپی نہیں بس اس معصوم کو چھوڑ دو ۔۔ بتاو کہاں ہو تم مم میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری جگہ نہیں لونگا بس اسے کچھ مت کہنا۔ ۔

ضوریز نے بہت مشکل سے اپنے لہجے کو نرم کیا

ہاہاہا تم کل کے بچے ہو بیٹا تم میری جگہ لے بھی نہیں سکتے۔ ۔۔ چلو خیر آجاو یہاں تمہاری بُلبل بہت ڈرپوک ہے آکر اسے اپنی حقیقت کا خود سے بتا دو ۔۔

ٹائیگر نے اپنی گن اٹھا کر اس پر پھوک ماری

مم میں آرہا ہوں تم مجھے بتاو کہا ہو۔ ۔

ضوریز نے جلدی سے کہا

ٹائیگر نے فون بند کیا اور ایڈریس بھیج دیا

اب دیکھنا یہ یہاں آئے گا اور اس کا کام تمام۔ ۔ اور ہاں تم میری بلبل آج سے تم میرے ساتھ رہو گی میری خادمہ بن کر۔ ۔

ٹائیگر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی گن جنت کی گال پر پھیری

پپ پلیززز مم مجھے جانے دو مم مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کک کیا ہو رہا ہے کک کون ہو تم خدا کک کے لیئے۔ ۔

جنت نے روتے ہوئے کہا

سب سمجھ آئے گا سب کچھ سمجھ آئے گا بس اسے یہاں آنے دو۔ ۔۔ تم انتظار کرو میں زرا اس کے استقبال کا انتظام کر لوں۔ ۔

ٹائیگر نے جنت پر تفصیلی نظر ڈالی اور اپنی گن لیئے باہر نکل گیا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز نے اپنا چاقو اور گن چھپائی اور جلدی سے ٹائیگر کی بھیجی ہوئی لوکیشن پر چلا گیا

ٹائیگر۔ ۔۔ کہاں ہو تم میں آ گیا ہوں سامنے آو۔ ۔

ضوریز ایک ٹوٹے پھوٹے گھر میں داخل ہوا

Welcome Welcome my buddy!

ٹائیگر نے تالیاں بجا کر ضوریز کو خوش آمدید کہا

جنت کہا ہے ٹائیگر۔ ۔

ضوریز نے گہرا سانس لے کر پوچھا

بتاتا ہوں اتنی جلدی کیا ہے پہلے اپنا چاقو اور گن میرے حوالے کرو۔ ۔

ٹائیگر نے اپنی گن نکال کر ضوریز کی طرف کی

اوکے میں کرتا ہوں۔۔ میں تمہیں یہاں کوئی نقصان پہنچانے نہیں آیا۔ ۔

ضوریز نے احتیاط سے اپنا چاقو اور گن نکال کر ٹائیگر کی طرف اُچھالے

اوکے گُڈ ۔۔ اب آو اندر وہ چڑیا مجھ سے ڈر رہی ہے بہت۔ ۔۔ واہ کیا چیز ہے یار جب ہی تو تمہاری بھی نیت خراب ہو گئی میں سمجھ سکتا ہوں آو دونوں بھائی مل کر اس چڑیا کا خیال رکھیں گے۔ ۔

ٹائیگر نے گن ضوریز کے سر پر رکھی اور اسے لے کر چلنے لگا۔ ۔ ضوریز نے غصے سے اپنے ہاتھ بند کرکے ٹائیگر کی بات برداشت کی اور گہرا سانس لے کر چلنے لگا

ٹائیگر نے آگے بڑھ کر اپنی ٹانگ سے دروازہ کھولا

ضوریز کی نظر نیچے بیٹھی ہوئی جنت پر پڑی

جنت۔ ۔

ضوریز تڑپ کر اسکی طرف لپکا

نہ نہ۔ ۔۔ نو۔ ۔۔ ابھی پیچھے رہو ابھی تو بہت کچھ باقی ہے۔ ۔

ٹائیگر نے جلدی سےآگے ہو کر ضوریز کے سینے پر اپنی گن رکھی

صہیب یہ کون ہے۔۔۔ صہیب مم مجھے یہاں سے لے جائیں۔ ۔

رو رو کر جنت کی آنکھیں سوجھ چکی تھیں۔ ۔ ضوریز نے جنت کو اس حال میں دیکھ کر دکھ سے آنکھیں بند کیں

ارے بلبل کتنی بار کہا ہے یہ تمہارا صہیب نہیں ہمارا ضوریز ہے۔ ۔ ضوریز بلیک گینگ کا نیو لیڈر۔ ۔۔ ایک بہت بڑا اور خطرناک قاتل۔ ۔ جس نے تمہارے صہیب کا بھی قتل کیا اور تمہیں آج تک دھوکے میں رکھا ہے کیوں ضوریز بتاو نہ اپنی سو کالڈ بیوی کو تم اس کے شوہر نہیں بلکے اس کے شوہر کے جُڑواں بھائی ہو۔ ۔۔

ٹائیگر نے گویا جنت کے سر پر بمب پھوڑا جنت پھٹی پھٹی نظروں سے ضوریز کو دیکھنے لگی

یی یہ کک کیا کہ رہا ہے صص صہیب۔۔ تت تم صہیب ہو نا یہ جھوٹ بب بول رہا ہے نا؟

جنت نے بے یقینی سے پوچھا

ضوریز نے اپنا سر جھکا کر نہیں میں ہلایا

جنت مم میں صہیب نہیں ہوں مگر میں نے صہیب کو نہیں مارا یہ جھوٹ بول رہا ہے مجھ پر یقین کرو میں تمہیں سب سچ بتاتا ہوں۔ ۔۔

ضوریز کو سمجھ نہیں آتی وہ کیسے جنت کو اپنی حقیقت کا بتائے

ہاہاہا اس نے تمہیں سچ بتانا ہوتا تو بہت پہلے بتا دیتا یہ دیکھو تمہارا صہیب۔ ۔ اس نے صہیب کو مار دیا یہ ایک قاتل ہے لندن کے بہت بڑے گینگ کا آدمی ہے یہ دیکھو تمہارا صہیب مر گیا ہے کب کا۔ ۔۔

ٹائیگر نے ایک ہاتھ سے اپنے موبائل میں لی گئیں صہیب کی خون میں لت پت لاش کی تصویر دیکھائی۔ ۔

جنت نے ایک نظر تصویر کو دیکھا اور اسے سب یاد آنے لگا۔ ۔ ضوریز کا بار بار قتل کرنے کا بتانا۔ ۔۔ اسکا بدلہ ہوا روئیہ۔ ۔ آنسہ کا اسے باہر جانے سے روکنا۔ ۔۔

صہیب۔ ۔۔

جنت نے تکلیف سے آنکھیں بند کیں

جنت پلیز سنبھالو خود کو میں نے صہیب کو نہیں مارا اس نے مارا ہے یہ گھٹیا انسان جھوٹ بول رہا ہے جنت۔ ۔۔ پلیزز سنبھالو خود کو۔۔

ضوریز نے جنت کو دیکھا جو اپنے بندھے ہوئے ہاتھوں کو دل پر رکھے گہرے سانس لے رہی تھی۔ ۔

آہ صہیب۔ ۔۔۔ میں اس بغیر کیسے زندہ۔ ۔۔ ہاہ مجھے محسوس ہی نہ ہوا آ آ آپ سس سب نن نے مم۔ ۔

جنت کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ ۔ ضوریز تڑپ کر جنت کی طرف آنے لگا ٹائیگر نے جلدی سے فائیر کیا جو سیدھا ضوریز کے بازو پر لگا۔ ۔ ضوریز نے درد سے اپنا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔

نہیں میری جان اب اس بلبل پر صرف میرا حق ہے میں رکھوں گا سے اپنے پاس ۔۔

ٹائیگر نے بے ہوش پڑی جنت کو سیدھا کیا

واہ شی از ویری پریٹی۔ ۔۔

ٹائیگر نے ہوس بھری نظروں سے جنت کو دیکھا

ضوریز نے اپنے بازو کو چھوڑا اور سامنے پڑی نوکیلی روڈ کو جلدی سے اٹھایا اپنے درد کی پرواہ کیئے بغیر ٹائیگر کے سر پر زور سے دے ماری ۔۔ٹائیگر جو جنت کے جسم کا ایکسرے کر رہا تھا اس حملے سے کراہ اٹھا درد کی شدت سے اس کی گن ہاتھ سے گر گئی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑا۔ ۔ ضوریز دیوانوں کی طرح اس روڈ سے ٹائیگر کو مارنے لگا

How dare you to touch her You bastard i will kill you…

میرے بھائی کو تم نے مارا منع بھی کیا تھا نہیں چھوڑوں گا اب تمہیں۔۔

ضوریز اپنے بازو سے نکلنے والے خون کو بھولائے ٹائیگر کے سر کو کُچل رہا تھا پورا فرش ٹائیگر کے خون سے بھر گیا۔ ۔ ٹائیگر کی ٹانگیں درد سے کانپنے لگیں۔ ۔

مجھے اسی دن تمہیں مار دینا چاہیئے تھا میرے بھائی کو ملنے سے پہلے ہی مجھ سے دور کر دیا ۔۔ نہیں چھوڑوں گا اب ۔۔

ضوریز کے سر پر خون سوار ہونے لگا ٹائیگر اب بے جان ہو گیا تھا اس کا پورا سر کھل چکا تھا ۔۔ ضوریز نے تھک کر روڈ دور پھینکی۔۔۔ اپنے بازو سے نکلتے خون کو روکا۔۔۔ پھر جنت کا خیال آنے پر ایک دم پیچھے مڑ کر جنت کو دیکھا جنت کی آنکھیں بند تھیں وہ لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا اور جنت کے پاس پنجوں کے بل بیٹھ کر اسکے ہاتھ پاوں کھولے۔ ۔

جنت۔ ۔۔ جنت پلیزز آنکھیں کھولو۔ ۔۔

ضوریز نے جنت کو اپنی بانہوں میں لیا اس کے چہرے کے پاس آکر سانس کو محسوس کیا۔ ۔ جنت کا سانس چل رہا تھا ضوریز کو اطمینان ہوا۔ ۔۔ جنت پلیززز مجھ سے دور مت جانا۔ ۔ اپنے درد کی پروا کیئے بغیر اس نے جنت کو اپنے بازوں میں اٹھا لیا۔ ۔ درد کی شدت سے ضوریز دوبارہ فرش پر بیٹھ گیا

آہ ہ ہ۔ ۔۔

ضوریز درد سے کراہ کر رہ گیا۔ ۔ ہمت کرتے ہوئے دوبارا کھڑا ہوا اور مشکل سے چلتا ہوا باہر گاڑی کی طرف آیا۔ ۔ جنت کو احتیاط سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور خود کانپتے ہاتھوں سے گاڑی چلانے لاگا۔ ۔۔

Episode 17

ضوریز جنت کو اپنے بازوں میں اٹھائے بہت مشکل سے اپنے قدم جماتا ہوا ہوسپٹل میں داخل ہوا اس کا اپنا خون بہت زیادہ بہ گیا تھا جس کی وجہ سے اسکی آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا آرہا تھا مگر وہ ہر ممکن کوشیش کر کے خود پر قابو کرتے ہوئے جنت کو اٹھائے ہوئے تھا۔ ۔

ڈاکٹر ۔ چیک ہر ہری اپ۔ ۔۔ پلیز۔ ۔۔

ضوریز نے ایک لیڈی کو لیب کوٹ پہنے دیکھا تو اسکی طرف لپکا۔ ۔۔

سب لوگ ضوریز کو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ ۔

ڈاکٹر نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور پھر ضوریز کے بازو سے بہتے خون کو دیکھ کر بولی

آیم سوری یہ پولیس کیس ہے میں اسطرح چیک نہیں کر سکتی۔۔۔

ضوریز کو شدید غصہ آیا اس نے جنت کو سامنے لگے بینچ پر لایٹایا اور واپس مُڑا

اگر ابھی میں آپکی جان لے لوں تو پولیس ضرور آئے گی مگر آپکی لاش اُٹھانے۔ ۔ سمجھی۔ ۔۔ ناو ہری اپ۔۔۔

ضوریز نے اپنی گن پینٹ کی جیب سے نکال کر غصے سے ڈاکٹر کو جنت کی طرف جانے کا اشارہ کیا

مم مگر یہ سب ہوا کیسے آ آپ۔ ۔

Just keep quite.. & check her quickly !

ضوریز نے اپنے ایک ہاتھ سے بازو کو پکڑا۔ ۔ ڈاکٹر نے جلدی سے کچھ نرسز کو بولایا ۔۔ کچھ نرسز نے جنت کو اٹھا کر اسٹریچر پر لیٹایا اور ایمرجنسی میں لے گئے۔ ۔

ضوریز بھی ہمت کرتا ہوا اٹھا اور ایک وارڈ بوائے کے پاس گیا

سنو میرے گولی لگی اسے نکالو۔ ۔۔ ۔ وہ لڑکی میری کزن ہے۔ ۔۔آہ۔ ۔۔ اسے کچھ نہیں ہونا چاہیئے۔ ۔

ضوریز گہرے گہرے سانس لے کر بولنےلگا

آپ یہاں بیٹھیں میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں۔۔۔

اس لڑکے کو ضوریز کی حالت پر ترس آیا وہ فوراً باہر گیا

ضوریز نے لیٹتے ہوئے فون نکالا اور بشیر کا نمبر ملایا

بابا۔ ۔۔ جلدی سے۔ ۔ جینرل ہوسپٹل آجائیں۔ ۔ جنت بے ہوش ہے اور مم میں آپ بس جج جلدی آجائیں۔ ۔۔ ۔

ضوریز کے ہاتھ سے موبائل گر گیا اور اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں

ڈاکٹر اسے گولی لگی ہے پلیز اسے چیک کریں۔ ۔

ضوریز کو اسی لڑکے کی آواز آئی

ہیلو کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں؟ جاو جلدی سے میرا بوکس لے کر آو۔ ۔

اب ڈاکٹر ضوریز کے اوپر جھک کر اسے ہلا رہا تھا۔ ۔ ضوریز نے اپنی بند ہوتی آنکھوں سے ڈاکٹر کو دیکھا

وہ جج جنت۔ ۔۔ اسے بب بچا

ضوریز کی آنکھیں بند ہوئیں اور اپنی بات مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ بے ہوش ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر میری بچی ٹھیک تو ہے کیا ہوا ہے اسے؟

ماروخ جلدی سے اٹھ کر ڈاکٹر کے پاس آئیں

دیکھیں آپکی بیٹی ابھی گہرے صدمے میں ہے۔ ۔ اور انکا بلڈ پریشر بھی بہت لو ہے۔ ۔ وہ ہوش میں بھی نہیں آرہیں۔ ۔ اس لیئے ابھی ہم کچھ کہ نہیں سکتے آپ دعا کریں ۔۔ویسے جو انکو یہاں لایا تھا وہ کون ہیں؟

ڈاکٹر نے بہت پروفیشنل انداز میں پوچھا

وہ میرا داماد ہے شوہر ہے اسکا۔۔۔

ماروخ ابھی تک حقیقت سے لاعلم تھیں

ہممم انکے پاس گن تھی انہوں نے ہماری ڈاکٹر کو دھمکی بھی دی تھی مارنے کی۔ ۔۔ یہ کوئی پروفیشنل طریقہ نہیں ہے مگر آپ لوگ کافی شریف لگتے ہیں اس لیئے میں نے اب تک پولیس کو خبر نہیں دی ۔۔

بہت معافی چاہتے ہیں ڈاکٹر میرا بچہ بہت چاہتا ہے جنت کو بس اسی لیئے زرا ڈر گیا تھا اسے جو سمجھ آیا ہو گا اس نے وہ کیا میں معافی مانگتا ہوں اسکی طرف سے۔ ۔

بشیر نے ڈاکٹر نے آگے اپنے ہاتھ جوڑے

نہیں اس سب کی ضرورت نہیں میں سمجھ گیا تھا جس طرح وہ اس لڑکی کی فکر کر رہا تھا مگر اس کے بازو پر گولی کیسے لگی اس بات کی تحقیق تو پولیس ہی کرے گی۔ ۔ فل حال میں نے اپنے اسٹاف کو منع کر دیا ہے پولیس کو نہ بتائیں باقی اگر آپ لوگ چاہیں تو پولیس کو اپنا بیان دے سکتے ہیں۔ ۔

ڈاکٹر نے پوچھا

نن نہیں ڈاکٹر صاحب بس ہماری تو کوئی زاتی دشمنی نہیں ہے میرا بچہ ہوش میں آجائے پھر ہی ہمیں حقیقت کا علم ہو گا آپ کے تعاون کا بہت شکریہ۔ ۔۔

بشیر نے تھوڑا جھک کر شکریہ کیا

اٹس اوکے میں چیک کرتا ہوں آپ کے بیٹے کو اب تک ہوش میں آجانا چاہیئے تھا۔۔۔۔

جی ڈاکٹر بہت مہربانی۔ ۔

ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا

بھائی یہ ڈاکٹر کیا کہ رہا تھا پولیس؟؟۔ ۔۔ اور صہیب کے ہاتھ میں گن کہاں سے آئی۔ ۔ اسے گولی لگی ہے مگر کیسے۔ ۔۔ بھائی کیا ہوا مجھے بتائیں۔ ۔

ماروخ نے بہت خیران ہو کر پوچھا

پلیزز ماروخ مجھے خود ابھی کچھ نہیں پتا۔ ۔ تم بس ابھی دعا کرو ۔۔

بشیر نے ماروخ کی مزید کوئی بات نہیں سنی اور وہاں سے چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلو ینگ میں اب کیسا فیل کر ہے ہو؟

ڈاکٹر نے تھوڑا جھک کر ضوریز کو چیک کیا

یس آئم فائین۔ ۔۔ جنت وہ کیسی ہے ۔۔؟

ضوریز نے سب سے پہلے جنت کا پوچھا

وہ اسٹیبل ہیں مگر ابھی ہوش میں نہیں آئی امید ہے کے تھوڑی دیر تک ہوش میں آجائیں گی۔ ۔ آپ کافی بہادر ہیں بہت زیادہ خون بہہ گیا تھا اس کے باوجود آپ نے ہمت نہیں ہاری بہت اچھے ٹائم پر آپ انہیں ہوسپٹل لے آئے ورنہ ہو سکتا ہے کوئی بہت بڑا نقصان ہوجاتا۔ ۔

ڈاکٹر واقعی ضوریز کی ہمت دیکھ کر متاثر ہوا تھا

ہممم کیا میں جنت سے مل سکتا ہوں؟

ضوریز نے آنکھیں بند کر کے کہا

جی ضرور مگر فل حال آپ کے ڈرپ لگی ہوئی ہے یہ ختم ہو جائے پھر آپ جا سکتے ہیں۔ ۔ بس دو دن بعد اپنی پٹی چینج کروانے آجائیے گا۔ ۔

ڈاکٹر نے بتایا۔ ۔ ضوریز نے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا

میری ماں کو بلا دیں ڈاکٹر مجھے ملنا ہے ان سے۔ ۔۔

ضوریز نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا

اوکے ۔۔ رشید جاو انکی فیملی کو بلا لاو۔ ۔۔ اوکے ینگ میں ٹیک کئیر۔ ۔

ڈاکٹر نے اپنے اسسٹینٹ کو بولا اور ضوریز کا کندھا تھپتھپا کر باہر چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں جنت کیسی ہے۔ ۔۔

ضوریز کے لہجے میں ایک درد تھا

ڈاکٹر نے ابھی بتایا ہے وہ اب ٹھیک ہے ۔۔۔ضوریز مگر یہ سب کیسے ہوا کس نے کیا مجھے بتاو۔ ۔۔

آنسہ نے پریشانی سے پوچھا

بس ماں میرے ایک دشمن نے کیا یہ سب مگر آپ فکر نہ کریں میں نے اسے ختم کر دیا۔ ۔۔

ضوریز نے اطمینان سے بتایا

کک کیا مطلب ختم کر دیا کون تھا وہ اور کیا دشمنی تھی اسکی تم سے۔۔۔

آنسہ گھبرائیں

ماں جس گینگ کا میں حصہ ہوں وہ بھی اسی گینگ کا حصہ تھا جیلس تھا وہ مجھ سے اسی نے صہیب کو۔ ۔۔

ضوریز بتاتے بتاتے ایک دم چپ ہو گیا

اس نے صہیب کو کیا۔ ۔۔؟

آنسہ نے سختی سے پوچھا

اسی نے صہیب کو قتل کیا تھا۔۔۔

ضوریز نے بہت مشکل سے بتایا

کک کیا۔ ۔۔ اوہ تت تم نے اسے قتل کر دیا۔ ۔۔ ضوریز تم نے خود ک کیوں مارا اسے تت تمہیں پولیس کو بتانا چاہیئے تھا اسی وقت۔ ۔

آنسہ نے حیریت سے کہا

ہنہ ماں یہ کوئی چھوٹا موٹا گینگ نہیں ہے ان کا پولیس کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ۔۔ آپ نہیں سمجھیں گی۔۔۔ اس کا خاتمہ تو میں اسی دن کر دیتا جس دن اس نے صہیب کو مارا تھا۔۔۔۔ مگرر مجھے ڈر تھا اگر اسے مار دیتا تو پورا گینگ میرے خلاف ہو جاتا پھر وہ خود ہی پکڑا گیا مجھے لگا وہ لوگ اسے مار دینگے مگر وہ بھاگ نلکا غلطی میری ہے مجھے اسے چھوڑنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ اس کمینے نے جنت کو سب بتا دیا افف جنت سمجھتی ہے کے میں صہیب کا قاتل ہوں اب وہ مجھ سے نفرت کرے گی ماں۔ ۔۔

ضوریز نے افسوس سے آنکھیں بند کیں

اوہ خدایا ضوریز یہ سب کیا ہو گیا۔ ۔ جس بات کا مجھے ڈر تھا وہی ہوا۔ ۔ یا اللہ۔ ۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی مجھے سیدھی طرح بتاو کیا تمہاری اور جنت کی جان خطرے میں ہے؟

آنسہ نے گھبرا کر پوچھا

ہاں شاید ۔۔۔ بلکے یقینً ٹائیگر نے جنت کی تصویریں مارک کو بھیج دی ہونگی۔ ۔۔ اففف میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے ماں مجھے پین کلر لا دیں۔۔۔

ضوریز نے اپنے ایک ہاتھ سے سر دبایا

آآ اچھا میں لا دیتی ہوں مگررر۔ ۔۔ ضوریز تمہاری بات سن کے میرا دل بیٹھ رہا ہے ۔۔۔ تم ایسے خطرناک لوگوں میں سے ہو اگر انہوں نے جنت کو کوئی۔ ۔۔

نہیں ماں جب تک میں زندہ ہوں جنت پر کوئی آنچ نہیں آنے دونگا۔۔۔۔

ضوریز نے آنسہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا

اچھا اللہ کرے خیر میں ڈاکٹر کو بلاتی ہوں کوئی پین کلر دے ۔ ۔

آنسہ باہر چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صہیب۔ ۔۔ امی ی ی۔ ۔ صص صہیب ب ب۔ ۔۔

جنت کی آنکھیں بند تھیں مگر وہ آہستہ آہستہ منہ ہی منہ میں بُڑبُڑا رہی تھی

جنت بیٹا۔۔۔۔ بھائی دیکھیں جنت کو ہوش آرہا ہے۔ ۔ جنت آنکھیں کھولو میری جان۔ ۔ تمہاری ماں تمہارے پاس ہے۔ ۔۔

ماروخ جنت پر جھک کر اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے بولنے لگی۔ ۔۔

مم میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں۔۔

بشیر تیزی سے ڈاکٹر کو بولانے گیا

تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر روم میں آیا اور جنت کو چیک کیا وہ اب بھی بار بار صہیب کو پکار رہی تھی۔ ۔۔

یہ ہوش میں آرہی ہیں آپ لوگ پلیز باہر جائیں تاکے ہم آرام سے چیک اپ کر لیں۔۔

ماروخ بار بار بے چینی سے جنت کے پاس آرہی تھی جسکی وجہ سے ڈاکٹر ٹھیک سے چیک اپ نہیں کر پا رہا تھا نرس نے نرمی سے ماروخ اور بشیر کو سمجھا کر باہر بھیجا ڈاکٹر جنت کا چیک اپ کرنے لگے۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی ی ی صہیب۔ ۔ صہیب کہاں ہے وہ ایسے مجھے چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں۔۔۔ میں نہیں جی سکتی ان کے بغیر۔ ۔

جنت رو رو کر بول رہی تھی

بس میری جان صہیب اب ٹھیک ہے اسے بولایا ہے وہ آتا ہو گا تم سے ملنے۔ ۔

ماروخ اس بات سے بے خبر کے وہ صہیب نہیں ضوریز ہے جنت کو تسلی دینے لگیں

جنت نے اپنا سر ماروخ کے سینے سے اٹھا کر سامنے دیکھا تو بشیر اور آنسہ خاموش مگر شرمندہ شرمندہ سے کھڑے تھے۔۔

امی ی ی یہ یہاں کیوں ہیں مجھے ان سے نہیں ملنا یہ دھوکے باز ہیں ۔۔ امی انہیں یہاں سے بھیج دیں۔۔

جنت بیٹا یہ کیا کہ رہی ہو یہ تمہاری مامی ہیں ایسا کیوں بول رہی ہو انکے لئیے۔ ۔۔

ماروخ کو لگا شاید دوائیوں کا اثر ہے

نہیں امی یہ میری کچھ نہیں لگتیں انہوں نے جھوٹ بولا مجھ سے ۔۔۔ کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا میں نے تو آپکو اپنی ماں سمجھا تھا۔ ۔۔

جنت شدت سے رونے لگی

بیٹا ہمیں معاف کر دو۔ ۔ مگر یقین کرو ہمارا ہم نے یہ سب تمہاری بہتری کے لیئے کیا ہم مجبور تھے۔ ۔۔

آنسہ جنت کے پاس آنے لگیں

نہیں میرے پاس مت آئیے گا مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سنی اب۔ ۔ بہت پاگل بن گئی میں اب مزید نہیں۔ ۔۔

جنت نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا

یہ کس طرح بات کر رہی ہو تم اپنی مامی سے۔ ۔۔ آخر مجھے بھی کوئی بتائے کے ہوا کیا ہے؟

ماروخ نے باری باری سب کو دیکھا

امی ی ی۔ ۔ مم میرا صص صہیب ب بب

اس سے پہلے جنت کچھ بتاتی ضوریز کمرے میں داخل ہوا

وہ دیکھو صہیب بھی آگیا شکر بیٹا تم آگئے ورنہ جنت عجیب بہکی بہکی باتیں کر رہی تھی۔ ۔

ماروخ نے ضوریز کی طرف دیکھ کر کہا

نہیں امی یہ انسان صہیب نہیں ہے۔ ۔۔ یہ اُسکا قاتل ہے۔۔ اسکا جُڑواں بھائی۔ ۔ ضوریززززز۔ ۔۔ اسکی وجہ سے آج میں اس حال میں ہوں ۔۔ کیوں آئے ہو تم یہاں نکل جاو یہاں سے۔ ۔۔

جنت زور زور سے چلانے لگی

جنت یہ کیا کہ رہی ہو۔ ۔ بب بھابی یہ صہیب نہیں ہے۔ ۔۔ کک کیا یہ ہمارا زوہیب تو نہیں۔ ۔۔ مم مجھے سچ بتائیں کیا ہو رہا یہ سب ۔۔۔

ماروخ یہ ضوریز ہے جس کا نام ہم نے زوہیب رکھا تھا مگرررر اسے کسی نے اغوا کر لیا تھا۔ ۔ اور ہمارا صہیب اب اس دنیا۔ ۔۔ اس دنیا میں نہیں ہے۔ ۔۔

بشیر نے بہت مشکل سے سچ بتایا اور آنکھوں پر ہاتھ رکھے رونے لگے

کک کیا۔ ۔ صص صہیب۔ ۔۔ اوہ آآ آپ لوگوں اتنی بڑی بب بات ہم سے چھپائی۔ ۔ مم میری بب بچی بیوہ ہو گئی اور اس معصوم کو بب بتایا تک نہیں اتنا بڑا ظلم۔ ۔۔ اوہ ایسا کک کیوں کیا۔ ۔ آپ جانتے تھے نہ جنت صہیب کے بنا جی نہیں سکتی پھر کک کیوں کیا یہ سب ب ب۔ ۔۔

ماراخ کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا اور وہ بے یقینی سے ہوچھنے لگیں

یہ سب میرے کہنے پر کیا انہوں نے۔ ۔۔ اتنے سالوں بعد جب مجھے میرے ماں باپ کا پیار ملا تو میں انہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔ ۔۔ مم مجھے لگا اگر جنت کو ابھی سب کچھ بتا دیا اچانک تو وہ سہ نہیں پائےگی۔ ۔۔ میں بہت ڈر گیا تھا آپ سب کو کھونا نہیں چاہتا تھا اس لیئے میں نے فورس کیا ماں اور بابا کو۔ ۔ میں ملزم ہوں آپ سب کا جو مرضی سزا دیں مگررر میری ماں اور بابا کو کچھ مت کہیں۔ ۔

ضوریز نے ہمت کر کے بولا

امی مجھے یہاں سے لے جائیں میں اب ان سب کے ساتھ نہیں رہ سکتی پلیزز امی مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔ ۔

جنت روتے ہوئے ماروخ کے گلے لگی

ہاں تم اب میرے ساتھ جاوگی۔ ۔ جو دھوکہ ان سب نے ہمیں دیا ہے اس کے لیئے میں کبھی معاف نہیں کرونگی۔ ۔۔ بس جنت چپ ہو جاو میری جان۔ ۔۔۔

ماروخ نے اپنے آنسو کو بہنے سے روکا اور مضبوط لہجے میں کہا

نن نہیں جنت میرے ساتھ رہے گی یہ کہیں نہیں جائے گی پلیز زز۔۔

ضوریز نے گھبرا کر کہا

شرم آنی چاہیئے تمہیں میری بیٹی کے ساتھ اس کے شوہر بن کر رہے اس سے باتیں کیں۔ ۔۔ اسے بتایا تک نہیں کے ۔۔۔ اوہ بھابی آپ تو سمجھ دار تھیں اتنے نازک رشتے کا مزاق بنایا آپ نے۔ ۔ خدا کا خوف نہیں آیا آپکو۔ ۔۔

ماروخ نے غصے سے آنسہ کو دیکھا

مجھے معاف کر دو ماروخ میں بھی قصور وار ہوں تم لوگوں کی مگررر یقین کرو یہ سب میں نے ماروخ کے لیئے کیا مجھے لگا آہستہ آہستہ اسے مینٹلی طور پر تیار کرونگی پھر بت۔ ۔

بس کر دیں مامی کیا آپ کو لگتا ہے کے اب یہ خبر سن کر میں خوش ہوں زندہ ہوں۔ ۔ کیا میں کبھی اس بات کو تسلیم کر سکتی ہوں کے صہیب زندہ نہیں ہے۔ ۔۔ سب میری غلطی ہے میری محبت میں ہی اتنی طاقت نہیں کے میں صہیب اور اس شخص میں پہچان کر پاتی ۔۔ میں ہی پاگل ہوں بہت پاگل۔ ۔

جنت اپنا سر پیٹنے لگی

جنت پلیززز اسطرح مت کرو۔۔

ضوریز تڑپ کر آگے آیا

قریب مت آنا تم میرے۔ ۔۔ تم نے نا صرف میرا اعتبار توڑا ہے بلکے مجھے اپنی ہی نظروں میں شرمندہ کر دیا۔ ۔۔ مم میں جو صہیب سے کہتی تھی کے اس کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتی کتنے مزے سے تمہارے ساتھ رہتی رہی۔ ۔ کیسے نظر ملاونگی میں صہیب سے۔۔۔ اور مامی آپ۔۔۔ ماموں آپ تو میرے سگے تھے آپ نے بھی دھوکا دیا۔ ۔ ہنہ جب اپنے ہی اسطرح اعتبار توڑ دیں تو انسان باہر والوں سے کیا شکوے کرے گا۔ ۔۔ مامی آپکو کیا لگا آپکا ایک بیٹا مرا تو آپ نے دوسرا قبول کر لیا۔ ۔ آپ ماں ہیں آپ کر سکتی ہیں مگر میں اسکی بیوی تھی۔ ۔ میرا شوہر مرا تو آپ نے اسی جیسا دوسرا شوہر لا دیا ارے آپ نے نا صرف میرا اعتبار توڑا ہے بلکے اللہ کی بھی گناہ گار ہیں آپ۔ ۔۔ بیٹے کی جگہ بیٹا مل سکتا ہے مامی شوہر کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا چاہے وہ اسکا ہم شکل ہی کیوں نہ ہو۔ ۔۔

جنت کا بول بول کر گلا بیٹھ گیا ۔۔ رونے کی وجہ سے وہ ہچکیاں لینے لگی

ان تینوں میں سے کسی کی ہمت نہیں تھی کے وہ جنت سے نظر ملا پاتے۔ ۔۔ ضوریز کو محسوس ہوا کے وہ اب کبھی بول نہیں سکے گا وہ بس نظریں جھکائے جنت کی باتیں سنتا رہا۔ ۔۔

جنت بس بیٹا لو پانی پیو ۔۔۔ بس میری جان چپ ہو جاو۔ ۔

ماروخ نے جنت کو پانی پلایا

میں تمہارے ابو کو بلاتی ہوں اب تم مزید ان کے ساتھ نہیں رہو گی۔ ۔۔ اور آپ لوگ پلیز یہاں سے چلے جائیں میری بچی کی حالت پر اب تو رحم کھا لیں۔ ۔ پلیززز۔۔

ماروخ نے تینوں کے آگے ہاتھ جوڑے

مم ماروخ تت تم ہماری بب۔۔

بس بھائی جان اور مزید مجھے کچھ نہیں سنا یہ دیکھیں میرے جوڑے ہوئے ہاتھ پلیززز یہاں سے جائیں آپ لوگ خدا کے لیئے ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں جائیں ں ں۔ ۔۔

ماروخ نے اب قدرے غصے سے کہا

چلیں بشیر ابھی شاید یہ غصے میں ہیں اور جنت کو مزید پریشان نہ کریں اس وقت آئیں آپ گھر چلیں بعد میں بات کریں گے۔ ۔

آنسہ نے بشیر کا ہاتھ پکڑا

بعد میں بھی آپ سب سے کوئی بات نہیں ہو گی بھابی۔ ۔ آج سے کوئی رشتہ نہیں ہمارا۔ ۔ اور اپنے اس بیٹے کو بھی یہاں سے لے جائیں اچھا ہی تھا جو پیدا ہوتے ہی کسی نے اٹھا لیا اسے ورنہ نہ جانے اور کتنے دکھ دیکھنے پڑتے۔ ۔۔

ماروخ نے نفرت سے کہا ۔۔۔ ضوریز نے تڑپ کر ایک نظر ماروخ کو دیکھا اور پھر ایک زخمی نظر جنت پر ڈال کر

آنسہ اور بشیر کو لیئے باہر آگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *