Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 05,06)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 05,06)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
دلہن بنی جنت کوئی آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی۔ ۔
صہیب کی محبت نے اسے اور نکھار دیا تھا۔ ۔آنسہ آسیہ اور عشرت جنت کو لے کر صہیب کے کمرے میں داخل ہوئیں جنت نے ایک نظر اُٹھا کر کمرے کو دیکھا یوں تو وہ بہت بار اس کمرے میں آ چکی تھی مگر آج وہ جس رشتے سے آئی تھی اس کا احساس ہی الگ تھا۔ ۔۔ پورا کمرہ گلاب کے پھولوں اور پتیوں سے سجا ہوا تھا۔ ۔ جنت کو اپنی قسمت پر رشک آیا۔۔
آو بیٹا آرام سے بیڈ پر بیٹھ جاو ریلکس ہو کر۔ ۔ انسان تھک جاتا ہے شادی کی رسموں میں۔ ۔۔
آنسہ نے جنت کو بیڈ پر بیٹھایا۔
ہاں بھئی ایک تو یہ تصوریں بنانے والے آج کل جان نہیں چھوڑتے ہنہ انسان کو چاہیئے سادگی سے شادی کرے۔ ۔
آسیہ نے طنز کرتے ہوئےکہا
ہائے بس کرو آسیہ بی بی تمہارے بیٹے کہ شادی میں گئی نہیں تھی مگر اس کی دھوم یہاں کراچی تک آئی تھی توبہ تم نے تو ہر رسم کی اپنے بیٹے کی باری میں سادگی یاد نہ آئی ہمارا تو اکلوتا بیٹا ہے ہم تو سارے ارمان پورے کریں گے۔ ۔
عشرت بی بی جنت کے پاس آکر بیٹھیں۔
ارے اماں میرا یہ مطلب نہیں تھا آپ تو بس ہر بات برا مان جاتی ہیں۔۔۔
آسیہ نے سچ سنا تو گھبرا کر کہا
اچھا چھوریں نہ آپ دونوں کیا بچی کے سامنے ایسی باتیں کر رہی ہیں دیکھیں اماں ماشاءاللہ میری بہو کتنی پیاری لگ رہی ہے اللہ نظرِ بد سے بچائے۔ ۔۔
آنسہ نے جُھک کر جنت کے سر پر بوسہ دیا
ارے میری بہن اتنے مہنگے پارلر سے تو ہم جیسے بھی تیار ہو جائیں حسین لگے گے۔ ۔آج کل حسین بننا کونسا مشکل کام ہے۔۔۔
آسیہ نے ایک بار پھر اپنی عادت کے مطابق اعتراض کیا۔ ۔
بس کرو بی بی تمہاری مانو بھی ضد کر کے جنت کے ساتھ ہی تیار ہونے گئی تھی اس پر تو ایسا روپ نہ آیا بلکے وہ تو مجھے اور عجیب لگ رہی تھی۔ ۔
عشرت بی بی اپنے ہی منہ پر چادر رکھ کر ہسنے لگیں۔ ۔
آنسہ اور جنت نے بھی اپنی مسکراہٹ مشکل سے چُھپائی
ہنہ سب پتہ ہے مجھے آپ کو تو ویسے ہی ہم لوگ پسند نہیں میں تو بس بہن کی محبت میں شادی میں آگئی ورنہ مجھے کوئی شوق تھوڑی تھا زلیل ہونے کا۔ ۔۔
آسیہ غصے سے بول کر باہر چلی گئی
اماں ناراض کر دیا نا آپ نے آپا کو۔ ۔ آپ بھی موقع تو دیکھ لیا کریں۔۔۔
آنسہ نے فکرمندی سے کہا
ارے چھوڑا بہو اس کی عادت ہے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی۔۔۔ اصل میں اسکو اس بات کا غم کھا رہا ہے کے ہم نے صہیب کی شادی اسکی مانو سے کیوں نہیں کی۔ ۔ بھلا ہماری جنت کے ساتھ اس مانو کا کیا مقابلہ۔ ۔۔
عشرت نے پیار سے جنت کے سر پر ہاتھ رکھا
ہاں ہماری جنت تو ماشاءاللہ جنت جیسی پیاری ہے۔ ۔ بس اللہ مانو کے بھی اچھے نصیب کھولے۔۔۔
آسیہ نے دعا دی
اففف بہت مشکل سے بچ کر آیا ہوں امی۔۔ کیسے رشتے دار ہیں آپ کے مجھے میری دلہن کے پاس آنے ہی نہیں دے رہے تھے۔ ۔
صہیب سائیڈ سے جھانک کر جنت کو دیکھنے کی کوشیش کرنے لگا
ہاں میاں شکر تم بچ کر آ گئے ورنہ تو انہوں نے تمہیں شہید کر دینا تھا۔ ۔
ہا ہا ہا دادو بلکل ٹھیک کہا آپ نے۔ ۔ اچھا آپ لوگوں کی باتیں ختم ہو گئی ہوں تو میں بھی اپنی بیگم سے دو چار پیار کی باتیں کر لوں۔ ۔۔
صہیب نے عشرت کے ساتھ بیٹھ کر سر جھکائے بیٹھی جنت کو حسرت سے دیکھا
اچھا بس زیادہ تنگ نہ کرنا بچی کو۔ ۔
آسیہ نے عشرت بی بی کو سہارا دے کر اُٹھاتے ہوئے کہا۔ ۔۔
میں کہاں تنگ کرتا ہوں یہ محترمہ مجھے تنگ کرتی ہیں۔ ۔۔
صہیب عشرت بی بی کے اُٹھتے ہی جنت کے قریب کھسک کر بیٹھ گیا۔ ۔
ہائے ماشاءاللہ کتنے پیارے لگ رہے ہیں دونوں ایک ساتھ۔۔ اللہ ہمیشہ خوش رکھے۔ ۔
عشرت بی بی نے فوراً اپنے چھوٹے سے پرس سے دو نوٹ نکالے اور دونوں کے سر پر گُھمائے۔
آمین اللہ بری نظر سے بچائے چلیں اماں دونوں کو آرام کرنے دیں !
آنسہ نے عشرت بی بی کا ہاتھ پکڑا اور باہر لے گئیں۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمم تو بیگم اتنی خاموش کیوں ہیں آپ خیریت ہے؟ ؟
صہیب نے محسوس کیا کے جنت کافی دیر سے چپ بیٹھی ہے اس نے جنت کا ٹھنڈا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔ جنت نے ایک نظر اُٹھا کر صہیب کو دیکھا۔ ۔
اوہ تو جنت صاحبہ گھبرا رہی ہیں یا شرما رہی ہیں۔ ۔ میری جان مجھے تم سے امید نہیں تھی کے تم مجھ سے شرماو گی ہممم۔ ۔
جنت کے جھکے سر کو اپنے ہاتھ سے اوپر کیا
تو جنت کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں
ارے جنت کیا تم رونے کی کوشیش کر رہی ہو۔ ۔
صہیب نے فوراً پریشان ہو کر جنت کو اپنے گلے لگایا
کیوں رو رہی ہو جنت پلیززز مجھے تکلیف دیتے ہیں تمہارے آنسو۔ ۔۔۔
صہیب نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے
یہ خوشی کے آنسو ہیں صہیب ۔۔ میں دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی ہوں ۔۔ ۔ میں بہت خوش ہوں۔۔۔
جنت صہیب کے گلے لگ گئی
صہیب نے بھی جنت کو زور سے گلے لگایا اور آنکھیں بند کر لیںں
ہاں جنت میں بھی بہت خوش ہوں تم نہیں جانتی میں نے کتنا انتظار کیا ہے اس پل کا۔ ۔۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کے میں کب سے تم محبت کر رہا ہوں شاید تب سے جب تم پیدا ہوئی اور پھوپو نے آکر تمہیں مری گود میں دیا تھا ۔۔۔
صہیب نے جنت کو خود سے الگ کیا اور اپنی جیب سے ایک ڈبیہ نکالی
یہ دیکھو تمہاری منہ دکھائی۔۔۔
صہیب نے ایک گولڈ کی چین نکال کر اس کے سامنے کی جس پر بہت خوبصورتی سے جنت اور صہیب کا نام لکھا تھا۔
واو صہیب یہ تو بہت پیاری ہے ہم دونوں کے نام کتنے پیارے لگ رہے ہیں۔ ۔ لاو دو میں پہن لوں ۔۔کبھی اسے خود سے الگ نہیں کرونگی۔۔۔
جنت نے اپنا ہاتھ آگے کیا
تمہیں کیوں دوں پاگل۔ ۔ میں خود پہناو گا اپنے ہاتھوں سے۔۔۔
صہیب نے چین کا لوک کھولا اور آگے بڑھ کر جنت کو چین پہنانے لگا۔ ۔۔ جنت پہلی بار صہیب کے اتنے قریب تھی۔ ۔ صہیب نے چین پہنا کر جنت کو دیکھا جو آنکھیں بند کیئے صہیب کو محسوس کر رہی تھی صہیب نے اسکی لرزتی پلکوں پر اپنے لب رکھے ۔۔ احساسِ تشکر سے صہیب کی آنکھیں بھیگ گئیں اور اس نے جنت کے وجود کو خود میں سما لیا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا سوچ رہے ہو ضوریز ؟
ٹائیگر نے گم صم بیٹھے ضوریز کو دیکھا
کچھ نہیں بس سوچ رہا ہوں مارک کو کیسے منع کروں کے مجھے پاکستان نہیں جانا ۔۔
آخر کیوں نہیں جانا کس بات کا ڈر ہے تمہیں وہاں۔ ۔
ٹائیگر نے پوچھا
میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ ۔ بس مجھے پاکستان پسند نہیں ۔۔ مجھے لگے گا کے یہاں پر رہنے والا ہر ایک شخص میرا باپ ہے اور میں غصے میں سب کو مار دونگا۔۔۔
ضوریز نے غصے سے کہا
ایسا کچھ نہیں ہو گا ضوریز پتا نہیں اب تمہارے ماں باپ کہاں ہونگے۔ ۔ ہونگے بھی کے نہیں ویسے بھی تم نے یہاں زیادہ اچھی زندگی گزاری ہے ہر ایک چیز ہے تمہارے پاس وہاں ہوتے تو یہ سب عیاشی نہ ہوتی وہاں تو ایک وقت کا کھانا نہیں ملتا۔ ۔ خیر تم کون سا ہمیشہ کے لیئے وہاں جاو گے صرف تین ماہ کا مِشن ہے۔ ۔ تمہارے علاوا یہ کام اور کوئی کر بھی نہیں سکتا۔ ۔ بس تین آدمیوں کا کام تمام کرنا ہے اور پھر واپس۔ ۔
ٹائیگر نے تصلی دی
ہنہ عیاشی۔ ۔۔ واقعی بہت عیاشی والی زندگی دی ہے آپ لوگوں نے۔۔
ضوریز نے تلخی سے کہا
دیکھو ضوریز میں مانتا ہوں یوں اس طرح ساری زندگی اکیلے گزارنا آسان نہیں کبھی کبھی انسان تھک جاتا ہےلیکن یہ بھی سوچو کے جن لوگوں نے ہمیں ان کے ہاتھ چند پیسوں کی خاطر بیچ دیا ان کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے انسان یہیں رہے۔ ۔ اور پھر تم جانتے ہو اس گینگ میں ہر کوئی نہیں رہہ پاتا۔ ۔ کتنے ہی لوگ خواہش کرتے ہیں کے اس گینگ کا حصہ بنیں مگر یہاں وہی رہتا ہے جو تمہاری طرح بہادر اور دل سے کام کرتا ہو۔ ۔۔ اچھا اب اُٹھو مارک سے پلان ڈسکس کرنے جانا ہے اس نے بلایا ہے آج ۔۔ اگلے ہفتے ہی تمہیں اسلام آباد کے لیئے نکلنا ہے۔۔۔
ٹائیگر نے ایک بار پھر ضوریز کی برین واشنگ کی
آپ چلے جائیں اور مجھے بتا دیجئے گا ۔۔
ضوریز نے کھڑے ہو کر کہا گویا وہ اور کوئی بات نہیں کرنا چاہتا
اچھا چلو میں ہی پوچھ لونگا اب تم ریلکس کرو۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صہیب اٹھ جاو یار سب کیا سوچیں گے ابھی تک پڑے سو رہے ہیں ہم۔ ۔
جنت نے صہیب کو جنجھوڑ کر اٹھایا
ارے میری جان چھوڑ دو اب دوسروں کی فکر کرنا صرف میری فکر کرو۔ ۔ یہاں آو میرے پاس۔۔۔
صہیب نے لیٹے لیٹے فرمائیش کی
جی نہیں اب آپ اُٹھ جائیں شرافت سے اور مزید کوئی مستی نہیں ورنہ میں باہر جا کر نانو کو بلا لونگی۔ ۔
جنت نے دھکی دی۔ ۔ صہہب نے آگے بڑھ کر تیزی سے جنت کا ہاتھ کھینچا اور اسے اپنے اوپر گرا لیا
کیا دھمکیاں دیتی رہتی ہو اپنی نانو کی مجھے۔ ۔ تمہیں لگتا ہے میں ڈرتا ہوں ان سے ۔۔
صہیب جنت کے بالوں کی خوشبو کو سوھنگنے لگا
جی ہاں آپ صرف نانو سے ہی ڈرتے ہیں ۔۔۔
جنت نے اپنا آپ چھوڑانا چاہا
جی نہیں آپکی سوچ ہے میں کسی سے نہیں ڈرتا اور آپکی نانو سے تو بلکل ۔۔
ابھی صہیب کی بات مکلمل نہیں ہوئی تھی کے دروازہ بجنے لگا
صہیب اُٹھ جاو ۔۔۔ اب کیا تم لوگوں نے ساری زندگی کی نیندیں آج ہی پوری کرنی ہیں۔۔۔
باہر سے عشرت بی بی کی آوازیں آنے لگیں
اوہ نو دادو تو فارم میں آگئی ہیں چلو ہٹو میں جلدی سے فریش ہو جاوں ورنہ انہوں نے دروازہ توڑ دینا ہے۔ ۔۔
صہیب نے جنت کے سر پر بوسہ دیا اور جلدی سے اُٹھ گیا جب کے جنت زور سے ہسنے لگی
ہاہاہا افف ابھی تو کہہ رہے تھے ڈرتے نہیں اب اپنی شکل دیکھو ڈرپوک۔۔۔۔
جنت نے مزاق اُڑایا
ڈرتا نہیں ہوں خیال کرتا ہو ں انکا عزت کرتا ہوں ورنہ آپکا شوہر کسی سے نہیں ڈرتا سمجھی۔ ۔
صہیب آہستہ آہستہ جنت کے ہونٹوں پر جھکنے لگا ۔۔ دوبارا دروازہ بجنے کی آواز آئی
افف دادو آرہے ہیں یار آپ بس رومینس کے درمیان آجاتی ہیں۔ ۔
صہیب نے ہوش میں آتے ہوئے کہا جبکے جنت نے خود کو ایک نظر آئنے میں دیکھا اور دروازہ کھولنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز مارک نے تمہاری سیٹ کروادی ہے next monday
کی ۔۔ وہاں پر sarena hotel میں تمہارا روم بوک ہے بہت اچھا ہوٹل ہے وہ خوب انجوائے کرنا وہاں۔۔۔
آخر میں ٹائیگر نے آنکھ ماری
کونسے سے آدمی ہیں اور کب ختم کرنا ہے یہ بتائیں۔۔۔
ضوریز نے ٹائیگر کی بات کو اگنور کیا
بس تین آدمی ہیں مزے کی بات یہ ہے کے دو ایک ہی پارٹی کے ہیں انہیں تو تم ایک آسانی سے ختم کر لو گے مگر تیسرا آدمی وزیر ہے وہاں کا اسے مارنے کے لیئے تمہیں بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا ۔۔ مارک نے کہا ہے تم جو مرضی ہتھیار چاہو بتا دو وہ پاکستان بھجوا دے گا۔ ۔ باقی ان تینوں کی تصاویر اور لوکیشن تمہیں سینڈ کر دی جائے گی۔ ۔ کب اور کہاں مارنا ہے یہ بھی بتا دینگے۔ ۔
ٹائیگر نے تفصیل سے بتایا
اگر اتبی جلدی نہیں انہیں مارنے کی تو مجھے کیوں اتنی جلدی بھیج رہے ہیں۔ ۔۔
ضوریز نے اُکتا کر کہا
ارے میرے شیر وہاں جاو تھوڑا سروے کرو پاکستان یہاں جیسا نہیں ہے وہاں تو ہم سے بڑے بدماش گھوم رہے ہونگے۔ ۔ اور وہاں کانفرنس ہے جو میں نے دو آدمی ایک ہی پارٹی کے بتائیں ہیں وہ اسی کانفرنس میں ہونگے۔ ۔ اور وزیر کو ابھی ختم نہیں کرنا اس کے لیئے جب مارک کہے۔ ۔۔ کم از کم تین مہینے لگ جائیں گے تمہیں وہاں ۔۔۔
What…Three months this is too much ..
(کیا تین مہینے یہ تو بہت زیادہ ہیں)
ضوریز نے حیران ہو کر کہا
میں اتنے دن وہاں نہیں رہونگا۔ ۔۔ جب وزیر کو مارنا ہوگا میں دوبارہ چلا جاوں گا آپ پوچھ لیں مارک سے اگر وہ مانتا ہے تو ٹھیک ورنہ میں خود مارک سے بات کرونگا۔۔
ضوریز نے غصے سے کہا
اچھا میں کر لوں گا بات فل حال تم تیاری کرو جانے کی دیکھ لو کوئی گن یا کچھ بھی چاہیئے ابھی بتا دو تاکے میں ارینج کروا دوں۔۔
ہمم اوکے بتا دونگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم امی جان ۔۔ جنت کہاں ہے۔ ۔
صہیب نے اوفس سے آتے ساتھ ہی جنت کا پوچھا
اندر ہے میں بلاتی ہوں
آنسہ نے جنت کو بلایا
جنت خوبصورت سا ڈریس پہنے اورہلکے سے میک اپ میں باہر آئی۔
ماشاء اللہ۔۔ بیگم! جان لینے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔ رحم کھایا کرو مجھ غریب پر۔ ۔۔
صہیب نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا جبکے جنت کا چہرہ لال ہو گیا کیونکے آنسہ بھی ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی۔ ۔
صہیب کبھی سریس ہو جایا کریں۔ ۔ ہمیں دعوت پر جانا ہے اس لیئے تیار ہوئی ہوں اور آپ کے کپڑے نکال دیئے ہیں۔۔
جنت نے صہیب کو آنکھیں دکھائیں۔ ۔
ہاں صہیب ٹائم سے چلے جاو اور یہ اوفس والوں نے اچانک کیوں بلا لیا تمہیں ابھی چار دن ہی تو ہوئے ہیں شادی کو۔ ۔
آنسہ نے پوچھا
بس امی نئی نئی جوب ہے بات تو سنی پڑتی ہے ایکچولی میٹنگ کے لیئے بلایا تھا ۔۔ کہہ رہے تھے دو تین مہینے کے لیئے اسلام آباد بھیج رہے ہیں مجھے کوئی کانفرنس ہے وہ اٹینڈ کرنی ہے۔ ۔ میں نے کہا ہے اپنے بوس کو کے میری ابھی شادی ہوئی ہے میں نے چُھٹی لی ہوئی ہے میں نہیں جا سکتا۔ ۔ کہہ رہے تھے جانا تو پڑے گا مجبوری ہے اب سمجھ نہیں آرہی کیا کروں نئی جوب ہے منع کرونگا تو برا ایمپریشن پڑے گا اور جنت کو چھوڑ کر جانے کا دل نہیں۔ ۔
صہیب نے اپنی ٹائی اتاری
اوہ صہیب آپ پریشان نہ ہوں جوب فل حال زیادہ ضروری ہے ہم نے تو ویسے بھی ساتھ ہی رہنا ہے دو مہینے کی بات ہے آپ منع مت کرنا۔۔۔۔
جنت نے دل پر پتھر رکھ کر کہا تاکے صہیب اس کے لیئے پریشان نہ ہو۔ ۔
ہاں بھئی تم تو ویسے ہی بہانے ڈھونڈتی ہو مجھ سے دور جانے کے تمہیں کیا فرق پڑے گا میں تو نہیں رہہ سکتا تمہارے بغیر۔۔
صہیب نے پاس آکر جنت کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
تو بیٹا اسے بھی ساتھ لے جاو نہ۔ ۔ بولو اوفس والوں کو کے بیوی کو بھی ساتھ لے کر جاو گے اچھا ہے اوفس کا کام بھی کر لینا اور گھوم بھی لینا وہاں سے آگے مری ناران کاغان چلے جانا۔ ۔
آنسہ نے مشورہ دیا
ارے میری پیاری امی جان آپ نے تو مسئلہ ہی حل کر دیا۔ ۔ یو آر گریٹ۔ ۔۔
صہیب نے فوراً آنسہ کو گلے لگا کر انکا ماتھا چوما
میں کل ہی بات کرتا ہوں بوس سے اب اتنا تو انہیں ماننا پڑے گا۔ ۔۔ کیوں جنت بی بی آپکو تو اعتراض نہیں ہے؟
صہیب نے جنت کو دیکھ کر پوچھا
مجھے کیوں ہوگا اعتراض پتا نہیں کیوں آپکو لگتا ہے میں آپ سے دور جانے کے بہانے ڈھونڈتی ہوں جب کے ایسا نہیں ہے۔۔
جنت کی سوئی صہیب کی پچھلی بات پر اٹکی ہوئی تھی
ارے میری زندگی میں مزاق کر رہا تھا مجھے پتا ہے تم تو میرے پاس آنے کے بہانے ڈھونڈتی ہو۔۔۔
صہیب آگے بڑھ کر جنت کو گلے لگانے لگا۔۔۔ جنت نے روک دیا ۔۔
اچھا زیادہ فری نہ ہو تیار ہو جائیں لیٹ ہو رہے ہیں
جنت ایک نظر آنسہ کو دیکھا جو دونوں کو پیار بھری نظر سے دیکھ رہی تھیں ۔۔ آنسہ نے آگے بڑھ کر دونوں کو ایک ساتھ گلے لگایا۔ ۔۔
اللہ تم لوگوں کو ہمیشہ ایک ساتھ خوش رکھے۔ ۔
دونوں نے آنسہ کی گال کو چوما۔ ۔
دوسری طرف ضوریز تنہا بیٹھا سگریٹ پر سگریٹ پی رہا تھا۔ ۔۔ اور گنز چیک کر رہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو ضوریز سب تیاری ہے تمہاری ۔۔ کوئی بھی مسئلہ ہو
just give a ring!
ٹائیگر خود ضوریز کو airport چھوڑنے آیا تھا
ہمم اوکے۔ ۔
ضوریز نے ملتصر جواب دیا
اوکے پھر انجوئے کرنا اور اپنا خیال کرنا ٹیک کئیر۔ ۔
ٹائیگر نے زبردستی ضوریز کو گلے لگایا جن ضوریز نے اسے آہستہ سے گُڈ بائے کہا اور اپنا چھوٹا سا بیگ لے کر آگے بڑھ گیا۔ ۔۔
Episode 06
جنت گرم کپڑے رکھ لینا اسلام آباد میں تو شاید اتنی ٹھنڈ نہ ہو مگر مری گئے تو وہاں بہت ٹھنڈ ہو گی۔ ۔
صہیب جنت کے ساتھ پیکنگ کروا رہا تھا
ہم صرف مری نہیں ناران کاغان بھی جائیں گے صہیب مجھے اتنا شوق ہے نا وہاں جانے کا۔ ۔
جنت نے آنکھیں بند کر کے کہا جیسے تصور میں وہ وہاں پنچ گئی ہو
میری جان تم کہو تو تمہیں چاند پر بھی لے جاوں گا۔ ۔
صہیب نے جنت کو پکڑ کر خود کے قریب کیا۔
چاند تو میرے پاس ہے بس چاند کے ساتھ جانا ہے ہر جگہ اب۔ ۔
جنت نے صہیب کی ناک دبائی
ہممم تو میں تمہارا چاند ہوں اور تم میری چاندنی ہو آئی لو یو سو مچ میری پیاری بیوی۔ ۔
صہیب نے زور سے جنت کو گلے لگایا۔ ۔
ارے آرام سے آپ تو اسطرح گلے لگاتے ہیں کے میری ہڈیاں ہی ٹوٹ جائیں۔ ۔
جنت نے صہیب کے حسار کو توڑا
آئے ہائے ظالم لڑکی کبھی رومینس کو نہ سمجھنا۔۔۔
صہیب نے منہ بنایا
اب ہر وقت رومینس نہیں کرتے جناب تھوڑا کام بھی کر لیں۔ ۔۔
ہممم کیا بتاوں یہ زندگی تو بہت کم لگتی ہے مجھے تمہارے ساتھ رومینس کرنے کے لیئے ۔۔۔
دیکھتے ہیں۔ ۔ جب شادی پورانی ہو گئی نہ مجھ سے پیچھا چھوڑواتے پھرو گے ہنہ سب ایسے ہی کرتے ہیں۔ ۔
جنت نے بھی منہ بنا کر کہا
اچھا تو میں تمہیں سب جیسا لگتا ہوں۔ ۔۔
صہیب نے جنت کا بازو پکڑ کر کھینچا
نہیں آپ سب سے اسپیشل ہیں سب سے الگ میں تو بس مزاق کر رہی تھی۔ ۔ ۔
جنت نے اپنا سر صہیب کے کندھے پر رکھا
قسم سے جنت دل کرتا ہے بس تم اسی طرح میرے کندھے پر سر رکھ کر کھڑی رہو اور زندگی یوں ہی گزر جائے۔۔۔
صہیب نے جنت کے گرد بازو باندھے اور آنکھیں بند کیں۔
اچھا اسی طرح کھڑے رہےتو پیکینگ کون کرے گا ۔۔۔
جنت نے سر اٹھا کر کہا
ہمم کریں گے میڈم آپ کے غلام ہیں ابھی ہو جائے گی پوری پیکنگ۔ ۔
وہ دونوں مسکرا دوبارا سے پیکنگ میں مصروف ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز نے جیسے ہی پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا تو اسے پہلی بار ایسا لگا کے جیسے اس کے سینے میں دل دھڑکا ہو۔ ۔ ائیرپورٹ سے نکل کر وہ باہر آیا تو ایک گارڈ کی یونیفارم میں آدمی اسکا نام بورڈ پر لکھ کر کھڑا تھا اس نے اس کے پاس آکر اسے ہائے کیا اور اس کو اپنا سامان دیا ۔۔ وہ آدمی فوراً اسکا سامان پکڑ کر گاڑی کی طرف لے گیا ۔۔
ہوٹل کے روم میں پہنچ کر سب سے پہلے اس نے ٹائیگر کو کال کی
Hello I reached at hotel!
That’s good !
کیسا محسوس کر رہے ہو؟
ٹائیگر نے پوچھا
ہمم بس ٹھیک۔ ۔
ضوریز نے مختصر سا جواب دیا
اچھا ہم بھی آ رہےہیں اگلے ہفتے میں اور جیک۔۔
ٹائیگر نے اطلاع دی
مگر کیوں؟؟
ضوریز نے پوچھا
مارک نے کہا ہے اسے لگتا ہے تمہیں ہماری سپورٹ کی ضرورت پڑے گی۔ ۔
مگر مجھے آپ لوگوں کی ضرورت نہیں میں یہ سب اکیلے کر سکتا ہوں۔ ۔
آئی نو ڈئیر۔ ۔مگر تم پہلی بار پاکستان آئے ہو یہاں کے دھوکے الگ لیول کے ہوتے ہیں ویسے بھی میرا خود بھی دل ہے کے آخری بار پاکستان کا چکر لگا ہی لوں اس کے بعد تو مارک نے مجھے رٹائیر کر دینا ہے۔ ۔
ہنہ اگر آپ لوگوں نے آنا ہی تھا تو پھر مجھے کیوں بھیجا۔۔۔
ضوریز کو بہت غصی آیا تھا اسے پسند نہیں تھا کے اسکے کام میں کوئی اسکی مدد کرے وہ اپنی مرضی سے اپنا کام کرتا تھا
غصہ مت ہو ضوریز۔ ۔ میں تمہارے کام میں انٹرفیئر نہیں کرونگا یوں سمجھنا کے ہم تمہارے ساتھ ہیں ہی نہیں۔ ۔ چلو اب میں فون رکھتا ہوں ٹکٹ بنوانا ہے مجھے۔ ۔
ٹائیگر نے ضوریز کے مزید سوالوں سے بچنے کے لیئے فون بند کر دیا۔ ۔۔ جبکے ضوریز سمجھ گیا کے ان لوگوں کو ضوریز پر اعتبار نہیں جب ہی ٹائیگر اس کے پیچھے آ رہا ہے۔ ۔۔
ہنہ سمجھتے ہیں میں بھاگ جاوں گا۔ ۔ کس کے لیئے بھاگوں گا میں یہاں میرا ہے ہی کون۔ ۔
ضوریز نے تلخی سے سوچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ لوگ بھی ساتھ ہی چلتے نہ ہمارے اتنا مزا آتا ۔۔
جنت نے آنسہ کے گلے لگ کر اداسی سے کہا
نہیں میری بچی تمہاری نانو سے اب سفر کہاں ہوتا ہے اور میں ان کے بغیر کہیں نہیں جاتی ۔۔۔ بس تم دونوں خوب انجوائے کرنا اور اپنی تصویریں بھجتے رہنا ۔۔۔
آنسہ نے جنت کا ماتھا چوما
جی وہ تو میں بھیجوں گی مگر آپ لوگ بہت یاد آئیں گے مجھے۔ ۔
جنت عشرت بی بی کے گلے لگ گئی۔۔
یاد تم لوگ بھی ہمیں بہت آو گے بس جلدی آ جانا تم لوگ واپس دل اداس ہو جائے گا میرا۔ ۔
عشرت بی بی نے آنکھوں سے آنسو صاف کیئے
ارے یہ کیا ہو رہا ہے دادو آپ رو کیوں رہی ہیں اسطرح کریں گی تو ہم نہیں جارہے۔ ۔۔
صہیب نے فوراً عشرت بی بی کو اپنے گلے لگایا
نہیں اس لیئے نہیں رو رہی بس ویسے ہی تھوڑی اداسی تو ہوتی ہے نا۔ ۔
بس ہم لوگ جلدی آجائیں گے اور روز فون کرونگا میں ٹھیک ہے اداس نہیں ہونا آپ لوگوں نے۔ ۔۔
صہیب نے آنسہ کو بھی گلے لگایا باری باری دونوں کے سر پر بوسہ دیا۔ ۔
امی دادو آپ لوگوں نے بلکل رونا نہیں ہے میری یاد میں۔۔ آپ لوگ روئی نہ تو میں کہیں بھی ہوا مجھے پتا لگ جائے گا پھر میں ناراض ہو جاوں گا آپ دونوں سے اس لیئے وعدہ کریں روئیں گی نہیں؟
صہیب نے دونوں کو دیکھ کر پوچھا
اچھا نہیں روئیں گے میری شہزادے اپنا اور جنت کا بہت خیال رکھنا خیر سے جاو اور خیر سے آو۔۔۔
جنت اور صہیب ایک بار پھر دونوں سے گلے ملے
چلو بھئی صہیب میں سنبھال لونگا دونوں کو تم لیٹ نا ہو جانا۔۔۔
بشیر نے صہیب سے کہا
جی ابو چلیں ۔۔ اچھا امی اور دادو اپنا خیال رکھیئے گا اللہ حافظ۔۔!
دونوں نے اللہ حافظ کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو دیکھنے لگا کچھ آدمی پینٹ کوٹ میں ملبوس اپنے اوفس کی باتیں کر رہے تھے کچھ نوجوان بلاوجہ لڑکیوں کے آگے پیچھے گھوم رہے تھے۔۔ ضوریز نے اکتا کر اپنا فون نکالا اور فون چیک کرنے لگا ۔۔
ایک آدمی ضوریز کے پاس آکر بیٹھا۔۔
اکیلے آئے ہیں آپ؟ ؟
بیٹھتے ساتھ ہی اس آدمی نے پوچھا
جی!
ضوریز نے مختصر جواب دیا اور موبائل جیب میں ڈالا
ہمم اوفس کے کام سے آئے ہو؟
جی!
اچھا اچھا کہاں سے ہو ۔۔ دیکھنے سے تو کراچی کے لگتے ہو۔۔۔
اُس آدمی نے ضوریز کو غور سے دیکھا
جی نہیں !
ضوریز نے اکتا کر جواب دیا۔ ۔
اچھا تو فیلملی کہاں ہوتی ہے ؟
میری کوئی فیملی نہیں ہے۔۔
ضوریز نے سامنے بیٹھی ایک فیملی کو دیکھ کر کہا
اوہ اچھا اکیلے ہو۔ ۔۔ میں بھی اکیلا ہی ہوں مگر فیملی کے ہوتے ہوئے ایسی فیملی کا فائدہ کیا جو اس عمر میں ساتھ چھوڑ دے۔۔
اُس آدمی نے دکھ سے کہا
ضوریز نے پہلی بار اس آدمی کی طرف دیکھا جو پچاس کے لگ بھگ تھا
کیوں آپکی فیملی نے آپ کو اس عمر میں اکیلا کیوں کیا؟
بسس جب ساری جائیداد سب بچوں کے نام کر دی تو سب کے رویئے ہی بدل گئے ساری زندگی بہت کمایا ۔۔۔ اور اب سوچا ریلکس کروں بچوں کے ساتھ وقت گزاروں تو سب کہتے ہیں ہم مصروف ہیں جب ہی اکیلا آگیا یہاں !
ہنہ یہاں سب پیسے کے ہی لالچی ہیں کوئی اپنی اولاد بیچ دیتا ہے اور کوئی اپنا باپ۔ ۔
ضوریز نے تلخی سے سوچا مگر کچھ کہا نہیں
کیا ہوا تم اتنے چپ کیوں ہو۔ ۔
اُس آدمی نے ضوریز سے پو چھا
ہممم کچھ نہیں بس مجھے کام ہے ضروری سوری میں آپ کو وقت نہیں دے سکتا۔ ۔
ضوریز نے وہاں سے جانے کا بہانا کیا اور کھڑا ہو گیا
ہاں جاو بیٹا اس عمر میں بہت کام ہوتے ہیں پھر ملاقات ہو گی!
ضوریز نے ایک نظر اسے دیکھا اور اندر کی طرف چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واو تمہارے اوفس والوں نے ہمیں ریسٹ ہاوس تو بہت اچھا دیا ہے۔ ۔
جنت نے پورے گھر میں چکر لگا کر کہا
جی جناب ملٹی نیشنل کمپنی ہے اچھا ہی دے گی۔ ۔ خیر میرا ٹاول نکال دو یار میں نہا لوں ۔۔
صہیب نے جوتے اتار کر کہا
یہ کیا آتے ساتھ ہی نہانا ابھی صبح تو نہائے تھے۔ ۔ پہلے کھانے کا انتظام کرو مجھے بھوک لگ رہی ہے بہت۔ ۔
جنت نے صہیب کے پاس بیٹھ کر کہا
اففف ہووو۔ ۔ تم بھی تو بھوکی ہو پوری۔ ۔ جہاز میں کھایا تو تھا اتنا کچھ۔۔
صہیب نے چھیڑا
وہ کھانا تھا بھلا ہنہ احسان کیا انہوں نے تو کھانا دے کر۔ ۔ اچھا جاو نہ۔۔ نیچے کیفے ہے وہاں سے کچھ لے آو۔ ۔
جنت نے مِنت کی
اچھا میری جان لے آتا ہوں جب تک تم میرا ٹاول اور کپڑے نکال دو مجھے اپنے بوس کے پاس جانا ہے پھر۔ ۔
صہیب دوبارا جوتے پہنے لگا
ہیں ں ں۔ ۔آتے ساتھ ہی بوس کے پاس۔۔ یہ کیا بات ہوئی تھوڑا ریلکس ہو جاو آرام کرو۔ ۔۔
نہیں چندا ان کا فون آیا تھا میں آل ریڈی ایک دن لیٹ آیا ہوں یہاں بس میں دو گھنٹے میں واپس آ جاوں گا تم جب تک آرام کرنا پھر رات کا کھانا ایک ساتھ کسی اچھی جگہ پر کھائیں گے۔ ۔۔
صہیب نے اسے پیار سے گلے لگا کر سمجھایا
اچھا ٹھیک ہے مگر جلدی آ جانا اسطرح اکیلے ڈر لگے گا مجھے۔۔۔
جنت نے منہ بنا کر کہا
ڈرنے کی کیا بات ہے۔۔ یہاں فُل سکیورٹی ہے آتے ہوئے دیکھا نہیں تم نے۔ ۔ اچھا اب میں کچھ کھانے کو لے آوں۔ ۔۔
سنو۔ ۔ بریانی مت لانا میری دوستیں بتا رہی تھیں اسلام آباد والوں کو بریانی بنانی نہیں آتی۔ ۔
جنت نے پیچھے سے آواز لگائی
کیا ایک تو تمہاری دوستیں۔ ۔۔ یہاں کے لوگ بھی پاکستانی ہی ہیں۔۔ سارے پاکستانی کھانے بنانے آتے ہیں انہیں۔ ۔ فکر نہ کرو اچھی چیز لاونگا۔۔
صہیب نے مُڑ کر جواب دیا اور دروازہ لوک کر کے باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلدی آجانا صہیب میں بور ہوتی رہوں گی۔۔
جنت نے صہیب کو کوٹ پہناتے ہوئے کہا
اوکے میری جان جیسے ہی میٹنگ ختم ہو گی میں اُڑ کر تمہارے پاس پہنچ جاوگا۔۔
صہیب بال بنانے لگا
ویسے میٹینگ ہے کہاں مجھے بھی ساتھ ہی لے جاتے
جنت نے پوچھا
میٹنگ سرینہ ہوٹل میں ہے یار بہت مہنگا ہے میرا سارا انتظام تو اوفس کی طرف سے ونہی تھا انہوں نے کہا تھا اگر اکیلے رہنا چاہو تو یہاں روم مل سکتا ہے شئرینگ پہ مگر فیملی کے ساتھ رہنا ہے تو خود پے کرنا۔۔ میں نے سوچا اتنا بجٹ کہاں میرے پاس اور پھر ان شاءاللہ ہم نے آگے بھی گھومنے جانا اس لیئے بس پیسے لے لیئے اور یہ بجٹ میں پڑا تو لے لیا پھر دو مہینے رہنا ہے ہوٹل میں کہاں مزا آتا ہے یہاں سب کچھ ہے کیچن وغیرہ بھی ۔۔۔ مل کے انجوائے کریں گے۔۔۔
صہیب نے تفصیل بتائی
ہممم کہ تو تم صیح رہے ہو مگر تمہیں بار بار وہاں جانا ہوگا میں یہاں اکیلی۔۔
جنت کو اپنے اکیلے پن سے خوف آ رہا تھا
جنت کیوں بچوں کی طرح ڈر رہی ہو یہ کراچی نہیں ہے سب سیف ہے یہاں اور پھر فون ہے تمہارے پاس جب ڈر لگے کسی کو بھی فون کر لینا۔۔ اسطرح کی باتیں کرو گی تو میں وہاں پریشان رہوگا تمہارت لیئے۔۔۔
صہیب نے اسے گلے لگایا
اچھا نہیں کرتی ایسی باتیں بس جلدی آنا پھر ڈنر باہر کریں گے۔۔
اوکے سویٹ ہارٹ جلدی آجاوں گا اپنا خیال رکھنا مجھے مس یو کے میسج کرتی رہنا۔۔۔
صہیب نےاس کے ماتھے پر بوسہ دیا
اچھا میں مس یو کے میسج کرتی رہوں آپ خود تو ریپلائے کرتے نہیں ہیں۔۔
جنت نے منہ بنایا
تمہیں کیا پتا تمہارا یہ میسج دیکھ کر میرا دل کرتا ہے سب چھوڑ کے تمہارے پاس آجاوں۔۔۔ اچھا چلو دروازہ لوک کر لو ہممم۔ ۔ اللہ حافظ!
صہیب نے ایک بار پھر جنت کو گلے لگایا اور باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز کو بھوک لگی تو وہ ہوٹل میں بنے کیفے میں آگیا۔۔۔ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر اپنے لیئے سینڈوچ اور کافی کا اوڈر دیا۔۔۔
اوڈر کا ویٹ کرتے ہوئے اس نے آس پاس کے لوگوں پر نظر گُھمائی کہیں کچھ لڑکیاں بیٹھیں زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور کہیں کچھ لڑکے انہیں دیکھنے میں مصروف تھے ایک لڑکی ضوریز کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور ہاتھ ہلایا۔۔ ضوریز نے ایک سرد نظر ڈالی اور اپنے سامنے دیکھنے لگا جہاں تین آدمی پینٹ کورٹ میں بیٹھے کچھ ڈسکس کر رہے تھے اتنی ہی دیر میں ایک شخص آکر ان سے ملنے لگا اور اسی ٹیبل پر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
سر آپکا اوڈر۔۔
ویٹر نے ضوریز سے کہا
ہمم تھینک یو!
ویٹر کے جانے کے بعد ضوریز نے سینڈوچ اٹھا کر کھانا شروع کیا اور غور سے سامنے دیکھنے لگا۔۔ ضوریز کو آنے والا نیا شخص کہیں دیکھا ہوا لگا۔۔ چونکے وہ اس کا صرف سائیڈ پوز دیکھ سکتا تھا اس لیئے ضوریز اسکا پورا چہرہ دیکھ نہیں سکا تھا۔۔۔
اس شخص کے ہاتھ میں پین تھا جو وہ بات کرتے ہوئے گُھما رہا تھا۔۔ اچانک اس کے ہاتھ سے پین گرا اور وہ اسے اٹھانے کے لیئے سائیڈ پر جھُکا۔۔ اب اسکا چہرہ بلکل ضوریز کے سامنے تھا ضوریز جو اسی کو غور سے دیکھ رہا تھا اب اسکا پورا چہرہ دیکھ کر چونک گیا۔۔۔
اِس کی شکل تو میرے جیسی ہے۔۔
ضوریز نے دل میں سوچا
وہ کلین شیو تھا جبکے ضوریز کے چہرے پر ہلکی بڑھی ہوئی شیو تھی اس کے علاوہ ایک ایک نقش ضوریز جیسا تھا یہاں تک کے دانت بھی ضوریز بہت حیران ہوا کے کسی کی شکل اتنی سیم بھی ہو سکتی ہے۔۔۔
صہیب اس بات سے انجان کے اسکا بھائی سامنے بیٹھا اسے دیکھ رہا ہے اپنی میٹنگ میں مصروف رہا
ضوریز کو عجیب سی الجھن ہوئی اسکا دل کیا وہ اس سے پوچھے کے وہ کون ہے مگر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا۔۔
اپنی کافی ختم کر کے وہ اُٹھا اور ایک بار پھر صہیب کو دیکھ کر کیفے سے باہر چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صہیب میٹنگ سے فارغ ہو کر ویٹنگ ائیریا میں بیٹھ کر اوفس کی گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
کیسے ہو بیٹا؟ تم نے شیو کیوں بنوالی اچھی لگتی ہے تم پر ۔۔
جو آدمی کل ضوریز سے ملا تھا وہ صہیب کے پاس آکر بیٹھا
جی میں سمجھا نہیں۔۔ کیا آپ مجھے جانتے ہیں۔۔
صہیب نے مسکرا کر کہا
جانتا تو نہیں ہوں بس کل تم سے ملاقات ہوئی تھی۔۔ لگتا ہے تم بھول گئے۔۔
معاف کیجئے گا مجھے شاید یاد نہیں آرہا۔۔ کل کہاں ہوئی ہماری ملاقات۔۔؟
صہیب نے پوچھا
یہیں تو ہوئی تھی باہر لان میں ۔۔۔ چلو خیر اس عمر میں کام بہت ہوتے ہیں بھول گئے ہو گے۔۔
نہیں انکل میں بھولتا نہیں ہوں انسانوں کو۔ ۔۔ مگر میں تو آج ہی آیا ہوں اس ہوٹل میں آپکو شاید کو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔
صہیب نے اس آدمی کی آنکھوں پر لگے موٹے چمشمے کو دیکھا۔۔
اچھا مگر مجھے تو ایسا لگ رہا ہے وہ تم ہی تھے بس تمہاری کلین شیو ہے۔۔۔ ہاں شاید مجھے دھوکا بھی ہو سکتا ہے کیونکے وہ تم تو ہر بات پر مسکرا کے جواب دے رہے وہ تو بہت تلخ تھا جیسے اسے مسکرانا نہیں آتا۔ ۔
اُس آدمی نے ایسے کہا جیسے خود کو بتایا ہو۔ ۔۔ وہ مزید بولا
مگر اسکی آنکھیں بلکل تمہاری طرح کی خوبصورت تھی جیسا رنگ تمہاری آنکھوں کا ہے بلکل ویسا ہی اسکا تھا۔ ۔
اوہ میری گاڑی آگئی بہت معافی چاہتا ہوں۔۔ میں آپ سے مزید بات کرتا مگر میری بیگم میرا ویٹ کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ پھر ملاقات ہو گی۔۔
صہیب نے اس آدمی کی آخری بات پر غور نہ کیا اس کا دل اس وقت جلد سے جلد جنت کے پاس جانے کا تھا شاید وہ سن لیتا تو وہ جان جاتا کے وہ اپنے بھائی کے کتنا قریب ہے۔ ۔۔
صہیب نےمسکرا کر جھک کر اس آدمی سے ہاتھ ملایا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔
ہاں یہ وہ بچہ ہو ہی نہیں سکتا مگر دونوں کی شکل ایک جیسی ہے بس تربیت کا فرق لگتا ہے۔ ۔۔ اللہ کی شان ہے سب۔ ۔
صہیب کے جانے بعد وہ آدمی خود سے بولا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں رہ گئے تھے صہیب آٹھ بج گئے ہیں ۔۔۔
جنت نے دروازہ کھولتے ساتھ ہی کہا
بس یار جان ہی نہیں چھوڑ رہے تھے اوفس والے تم بتاو ریسٹ کیا؟
صہیب نے اپنا لیپ ٹوپ والا بیگ بیڈ پر رکھا اور جنت کو گلے لگایا
نہیں بس سب سے فون پر بات کی نانو اداس ہو تہی تھی آپکو بہت یاد کر رہی ہیں بات کر لینا آپ بھی۔ ۔
جنت نے جواب دیا
ہمم اب تو سو گئی ہونگی وہ۔ اچھا یہ بتاو کہاں جانا ہے ڈنر کرنے؟
مجھے کیا پتا یہاں کونسی اچھی جگہ ہے کہاں کا کھانا اچھا ہو گا۔ ۔ بس اچھی سی جگہ لے جائیں۔ ۔۔
اچھا چلو پھر جلدی سے تیار ہو جاو میں تمہیں یہاں کے سب سے خوبصورت ریسٹورنٹ لے کر جاونگا مگر پلیز جلدی ریڈی ہونا یہاں سے تھوڑا دور ہے وہ۔ ۔۔
صہیب نے جنت خود سے الگ کیا
اچھا میں نے کپڑے ہریس کر لیئے تھے بس دس منٹ میں ریڈی ہو جاونگی مگر جائیں گے کہا آئی مین نام تو بتائیں۔ ۔
جنت نے اپنے کپڑے اٹھا کر کہا
مونال ریسٹورنٹ جا رہے ہیں یہاں کا سب سے خوبصورت ہوٹل ہے اور کھانا بھی بہت اچھا ہے۔ ۔
صہیب نے بتایا
کولاچی سے بھی زیادہ پیارا ہے؟
جنت نے معصومیت سے پوچھا
ہاں اس سے بھی زیادہ پیارا۔ ۔۔
صہیب کو جنت کی معصومیت پر بہت پیار آیا
تم اتنی پیاری کیوں ہو۔ ۔ دل ہی نہیں بھرتا تم سے پیار کر کر کے۔ ۔
اس نے جنت کے دونوں گالوں پر بوسہ دیا
او ہووو۔ ۔۔ ابھی منہ دھویا تھا۔۔۔
جنت نے صہیب کع تنگ کرنے کے لیئے اپنے دونوں گال صاف کیئے
اچھا تو اب ایسا کرو گی تم ۔۔۔ ٹھیک ہے آئیندہ ہاتھ بھی نہیں لگاو گا۔ ۔
صہیب نےناراض ہو کر کہا
ہاہاہا مزاق کر رہی تھی ڈئیر اچھا ویٹ میں جینج کر کے آتی ہوں۔ ۔
جنت نے بھی صہیب کی گال پر بوسہ دیا اور کپڑے چینج کرنے چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز لان میں بیٹھا کتنی ہی دیر سے صہیب کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔
ہیلو ڈیئر !
ٹائیگر نے پیچھے سے آکر ضوریز نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جوش سے ملا
ہائے!
ضوریز نے کھڑے ہو کر ٹائیگر اور جیک سے ہاتھ ملایا
Hi Zoraiz how r u?
جیک نے مسکر کر پوچھا
Yes i am good thanks !
ضوریز نے دونوں کو بیٹھنے کا اشارا کیا
یہاں اکیلے اکیلے بیٹھ کر کیا سوچا جا رہا تھا؟
ٹائیگر نے پوچھا
کچھ خاص نہیں تم لوگ کب پہنچے؟
بسس ابھی پہنچے ہیں سیدھا تمہارے پاس ہی آئے ہیں۔ ۔
ٹائیگر نے بتایا
اچھا۔ ۔
تھوڑی دیر خاموشی رہی
مجھے ایک بات پوچھنی ہے ٹائیگر
تھوڑی دیر بعد ضوریز نے ٹائیگر سے کہا
ہاں پوچھو؟
آممم کیا ایک ہی شکل لے دو لوگ ہو سکتے ہیں بلکل ایک جیسے؟
ضوریز نے سوچتے ہوئے پوچھا
نہیں۔۔ بلکل ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں ہاں اگر کوئی جُڑواں ہوں تو شکل ایک جیسی ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن اگر کوئی رشتہ نہ ہو تو تھوڑی بہت شکل ایک جیسی ہو سکتی ہے مگر بلکل ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔ ۔ ویسے تم کیوں پوچھ رہے ہو؟
ٹائیگر نے جواب دیا
ویسے ہی پوچھ رہا ہوں۔ ۔ آممم جُڑواں مطلب میں سمجھا نہیں؟ ؟
ضوریز نے پھر سوال کیا
جُڑواں مطلب۔ ۔۔ twins جیسے دونوں بھائی یا بہن ایک ساتھ پیدا ہوں تو شکل ایک جیسی ہوتی ہے اکثر بچوں کی۔ ۔۔
ٹائیگر نے بتایا
twins brother….
تو کیا وہ میرا۔ ۔۔ نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ہنہ شاید میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہا ہوں۔ ۔۔
ضوریز نے دل میں سوچا
کیا ہوا تم نے کسے دیکھ لیا ؟؟ کون ایک حیسا دیکھ لیا؟
ٹائیگر نے ضوریز کو سوچ میں گم دیکھا تو پوچھنے لگا
نہیں ایسے ہی بس سوال آیا پوچھ لیا ۔۔ خیر
Jack how was your flight?
(جیک تمہاری فلائیٹ کیسی رہی؟)
ضوریز نے خاموش بیٹھے جیک سے پوچھا اور پھر وہ دونوں باتیں کرنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واو صہیب اٹس بیوٹیفل۔ ۔۔ کتنا خوبصورت ویو ہے یہاں کا۔ ۔ دیکھو پورا سلام آباد نظر آرہا ہے یہاں سے۔ ۔۔
جنت نے سامنے دیکھتے ہوئے
میرے لیئے تو تمہارے چہرے سے زیادہ خوبصورت کوئی ویو نہیں ۔۔۔
صہیب نے جنت کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں میں اتارا
صہیب مجھے گھر میں دیکھ لینا وہاں دیکھو کتنا پیارا لگ رہا ہے سب۔ ۔۔
جنت نے صہیب کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر سامنے کہ طرف موڑا
ہاں یار ہے تو واقعی پیارا مگر یہ موسم اور یہ نظارا مجھے بہکا رہا ہے۔ ۔ سمجھ نہیں آرہا سب کے سامنے اپنی فیلنگ کا اظہار کیسے کروں۔ ۔۔
صہیب نے جنت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
صہیب کوئی شرارت مت کرنا اتنے سارے لوگ ہیں یہاں۔ ۔
جنت نے شرما کر کہا
یہ ہی مجبوری ہے۔۔ پتا نہیں یہ مویز میں ساری دنیا کہاں غائب ہو جاتی ہے اور ہیرو ہیروئن ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے فُل انجوائے کرتے ہیں۔ ۔۔
صہیب نے گہرا سانس لے کر جنت کو دیکھ کر کہا
ہاں کیونکے وہ مویز ہوتی ہیں وہاں سب ایکٹنگ کر رہے ہوتے یہ حقیقت ہے اس لیئے اب آپ کچھ کھانے کے لیئے اوڈر کر دیں ۔۔۔
جنت نے کہا
ہاں چلو آو کچھ اوڈر کر دیں بتاو کیا منگوائیں؟
صہیب نے ٹیبل پر پڑا منیو اٹھایا اور دونوں اوڈو کرنے لگے۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سامنے جو دو آدمی بیٹھے ہیں ان میں سے جس نے کیپ پہنی ہوئی ہے اسے آج رات ختم کرنا ہے۔ ۔!
ٹائیگر نے سامنے بیٹھے آدمیوں کی طرف دیکھ کر ضوریز سے آہستہ آواز میں کہا
مگر آپ نے کہا تھا ایک ساتھ مارنا ہے؟
ضوریز نے سوال کیا
ہاں پہلے یہ ہی پلان تھا مگر ان دونوں کو ایک ساتھ مارنے کا فائدہ نہیں پہلے اسے ختم کریں گے تاکے شک دوسرے آدمی پر جائے کیونکے بظاہر تو یہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے ہیں مگر اندر سے ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ ۔۔
ٹائیگر نے تفصیل بتائی۔
خیر i dont care جو بھی پلان ہو۔ ۔ مجھے کنفرم میسج کر دیں جس کو بھی پہلے ختم کرنا ہے !
ضوریز نے اکتا کر کہا
ایک تو تم بہت جلدی غصہ ہو جاتے ہو۔ ۔ اپنے غصے کو کنٹرول کرنا سیکھو ضوریز اسطرح تو مسئلہ ہو جاتا ہے !
ٹائیگر کو ضوریز کا انداز پسند نہیں آتا
میں جیسا ہوں ویسا ہی ٹھیک ہوں مجھے کچھ مت سیکھائیں۔ ۔۔!
ضوریز نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلا گیا
ہنہ بہت اکڑ ہے اس میں اگر اتنا قابل نہ ہوتا تو میں کب کا اسے مار چکا ہوتا۔ ۔۔
ٹائیگر ضوریز کے لیئے دل ہی دل میں سوچتا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلان کے مطابق ضوریز بہت خاموشی سے اس آدمی کے روم تک آیا۔ ۔۔اس نے منہ پر اسطرح کپڑا لپیٹا ہوا تھا کے اسکی صرف آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں
اپنے مخصوص چاقو کو لوک میں پھسایا اور ہلکی سی آواز سے لوک کھل گیا۔ ۔ اندر آکر کمرے کا جائزہ لیا۔ ۔۔ آس پاس شراب کی بوتلیں بکھری پڑی تھیں اور وہ آدمی بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا خراٹے لے رہا تھا۔ ۔۔ ضوریز آگے بڑھا اور اسے سیدھا کیا۔ ۔ وہ آدمی نشے میں تھا آرام سے سیھا ہو گیا ۔۔ ضوریز نے پاس پڑا تکیا اُٹھایا اور اس کے منہ پر رکھ کر اسکا سانس بند کرنے لگا وہ آدمی تڑپ کر اپنے ہاتھ پاوں مارنے لگا مگر ضوریز کی پکڑ بہت مضبوط تھی ۔۔ تھوڑی ہے دیر میں وہ آدمی ساکت ہو گیا۔ ۔ ضوریز نے تکیا ہٹایا اور اسے پھر سے الٹا کیا ایک نظر کمرے پر ڈالی اور اسی طرح خاموشی سے اپنے روم کی طرف چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صہیب مجھے لگتا ہے میں یہ سب خواب دیکھ رہی ہوں کتنی خوش نصیب ہوں نہ میں۔۔۔ میں نے جسے چاہا اسے پا لیا۔ ۔۔
جنت نے صہیب کے کندھے سر رکھ کر بولا
ہاں میری جان ہم دونوں جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہیں کبھی کبھی تو مجھے بھی لگتا ہے کے یہ سب خواب ہے مگر بس یہ خواب کبھی نہ ٹوٹے۔ ۔۔
صہیب نے جنت کے گرد اپنا بازو پھیلایا
ہممم ان شاءاللہ۔ ۔۔ ویسے ہم مری کب جائیں گے؟
جنت نے سر اٹھا کر پوچھا
بس اسی ویک اینڈ پر چلیں گے یہاں سے چار گھنٹے دور ہے صرف۔ ۔۔ دو دن بہت ہیں وہاں کے لیئے۔ ۔۔پھر اگلے ہفتے تو کانفرنس میں مصروف ہو جاونگا۔ ۔۔
صہیب نے بتایا
اچھا دو دن بعد ہی تو ہے ہفتہ ہم جمعے کی رات میں ہی نکل جائیں گے؟
جنت نے خوش ہو کر کہا
نہیں میرہ جان رات کا سفر نہیں کرنا صبح صبح نکل جائیں گے ٹھیک ہے۔ ۔۔
صہیب نے کروٹ کے کر جنت کو اپنے اور قریب کیا
ہمم ٹھیک ہے مجھے برف باری دیکھنی ہے وہاں۔۔
دیکھ لینا مگر فل حال مجھے دیکھو۔۔ کیا کہہ رہی ہیں میری آنکھیں۔ ۔ ابھی ہم مری گئے بھی نہیں تمہارا یہ حال ہے جب چلے گئے مجھے بلکل بھول جاو گی۔ ۔۔
صہیب نے گِلا کیا
ہاہاہا ایک تو آپ فوراً ایموشنل ہو جاتے ہیں۔ ۔۔ آپ ہی کو دیکھ رہی ہوں مگررر ابھی مجھے بہت نیند آ رہی ہے سو جائیں شاباش۔ ۔
جنت نے صہیب کو چھیڑتے ہوئے کہا
کیا کہا نیند آرہی ابھی بھگاتا ہوں تماری نیند ۔۔۔
صہیب نے جنت کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیئے اور اسے تنگ کرنے لگا۔ ۔۔
دوسری طرف ضوریز اپنا کام مکمل کر کے اپنے بیڈ پر بیٹھا ایک بار پھر صہیب کو سوچنے لگا۔ ۔۔ بار بار وہ سوچتا کے کیا وہ میرا بھائی ہو سکتا ہے مگر پھر خود ہی اپنی سوچ کو جھٹک دیتا!
