Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 14)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 14)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
ٹھیک ایک ہفتے بعد ضوریز کی فلائٹ تھی وہ صرف ایک بار جنت کو دیکھنا چاہتا تھا اپنی اس بے بسی پر وہ خود بھی حیران تھا۔ ۔۔ آخر دونوں بھائی جُڑواں تھے مگر عشق ایک ہی انسان سے ہوا۔۔
ضوریز نے صہیب کے کارڈز سے گھر کی لوکیشن دیکھی اور کراچی جانے کے لیئے رات کی سیٹ بُک کروائی۔۔۔
جنت کے لیئے ریڈ کلر کا ٹیڈی بیئر خرید نے آ گیا وہ مختلف دکانوں میں چیزوں کو صرف دیکھ رہا تھا اسکو شوپینگ کرنا بہت مشکل لگا وہ کبھی اسطرح کی شوپس پر نہیں گیا تھا۔ ۔۔ اسے جنت کے لیئے سب کچھ عام سا لگا۔ ۔۔ بہت سی دکانیں دیکھنے کے بعد آخر کار اسے ایک ٹیڈی بیئر پسند آگیا ریڈ کلر کا بڑا سا بئیر جس کے سامنے ایک بڑا سا دل بنا ہوا تھا اس پر بہت خوبصورت سا آئی لو یو مائی لائف لکھا تھا۔ ۔ ضوریز نے یہ ٹیڈی بیئر خرید لیا اور پیک کروا لیا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن شام ہوتے ہی ضوریز ائیر پورٹ کے لیئے نکل گیا۔ ۔۔ اسکے سامان میں صرف ایک گفٹ پیک تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ کراچی پہنچ گیا۔ ۔۔
گھر کے باہر کھڑا ہو کر جائزہ لینے لگا۔ ۔ دروازے کا لوک ایسا نہیں تھا کے وہ اپنے چاقو سے کھول سکتا اس نے گھوم کر گھر کر چاروں طرف سے گھر دیکھا ۔۔۔ اور پچھلی طرف بنی دیورا پر چڑھنے لگا ایک ہاتھ سے جنت کے لیئے لایا ہوا تحفہ سنبھال کر وہ دیوار پر چڑھ کر دوسری طرف کود گیا اندر ایک اور دروازہ تھا۔ ۔۔ ضوریز نے دروازہ دیکھ کر شکر کیا اور اپنا چاقو نکال کر بنا کوئی آواز کیئے لوک کھول لیا۔ ۔۔ اندر آکر گھر کا جائزہ لیا ایک طرف دو کمرے بنے تھے وہ اندازہ لگانے لگا کے جنت کا روم کونسا ہو گا۔ ۔۔ بہت ہی احتیاط سے اس نے ایک دروازہ کھولا وہاں کوئی بزگ خاتون ہلکے ہلکے خراٹے لے رہی تھیں۔ ۔ ضوریز سمجھ گیا کے یہ ہقینً دادو ہونگی وہ انہیں دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور دروازہ بند کر کے دوسرے روم کی طرف گیا۔ ۔۔
اس روم میں جنت بیڈ کے ایک طرف لیٹے گہری نیند میں سو رہی تھی اس کے ایک ہاتھ میں چھوٹا سا کُشن تھا جسے اس نے اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا۔ ۔ ضوریز کو اس کُشن سے جلن محسوس ہوئی وہ بہت خاموشی سے دروازہ بند کر کے اندر آیا ۔۔۔ جنت کے پاس بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا۔ ۔۔ بہت ہی نرمی سے جنت کے گال کو چھوا اور پھر اس کے ہاتھ سے کُشن نکال لیا۔ ۔
تم تو سلیپنگ بیوٹی ہو جنت۔ ۔۔ آئی مس یو سو مچ۔ ۔۔ کب آئے گا وہ دن جب اس کشن کی جگہ تم مجھے اپنے گلے لگاو گی۔ ۔ کیا یہ دن آئے گا بھی یا۔ ۔۔۔
ضوریز سے آگے کچھ سوچا نہ گیا اس نے اپنا سر جھٹکا اور جنت کے بلکل پاس تحفہ رکھ دیا اور اطمینان سے بیٹھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بُجھانے لگا۔ ۔۔ ۔ کافی دیر بعد اس نے گھڑی دیکھی تو چار بج رہے تھے اس کا دل کیا وہ جنت کو اپنے ہونٹوں سے چھوئے مگر اپنی خواہش پر قابو پا کر ایک گہرا سانس لیا اور بس جنت کے گال کو نرمی سے چھو کر اسی طرح خاموشی سے واپس چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اففف نو بج گئے ۔۔۔
جنت نے اُٹھ کر انگڑائی لی
یہ ڈبہ۔ ۔ یہ تو کوئی گفٹ ہے کس نے رکھا یہاں۔ ۔
جنت کی نظر اپنے پاس پڑے بڑے ڈبے میں پیک گفٹ پر گئی۔ ۔ اس کے اوپر ایک کارڈ لگا تھا جنت نے پہلے وہ کارڈ نکالا اور پڑھنے لگی۔۔
ڈئیر جنت۔ ۔۔ یہ تمہارے لیئے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔ ۔۔ یقین کرو اس تحفے کے لیئے میں نے پورا اسلام آباد گھوم لیا آئی ہوپ تمہیں پسند آئے گا۔ ۔ میں رات میں آیا تھا تمہیں جی بھر کر دیکھا اور چلا گیا۔ ۔ پلیز اگر ہو سکے تو یہ بات ماں کو مت بتانا وہ غصہ ہونگی۔ ۔ میں بھی کیا کروں اب میرا دل میرے بس میں نہیں ہے جنت ۔۔ اتنا بے بس کبھی نہیں ہوا جتنا تمہارے لیئے ہوں۔ ۔ جلد آونگا تمہارے پاس۔ ۔۔ فقط تمہارا۔ ۔۔ عاشق!
جنت نے کارڈ پڑھا مگر اسے عجیب لگا۔۔
صہیب رات کو چُھپ کر کیوں آئے اور وہ مامی کو بتانے سے کیوں منع کر رہے ہیں۔ ۔۔ اور ایسا کیسے ہو گیا کے صہیب رات میرے پاس تھے اور مجھے انکی خوشبو بھی نہیں آئی۔ ۔۔ اففف کیا سوچنے لگ گئی ۔۔ اندر تو دیکھوں ہے کیا
جنت نے خود سے کہا اور ڈبہ کھولا
واووو۔ ۔۔۔۔۔ اتنا کیوٹ ۔۔۔ اففف صہیب آپ کی چوائیس اتنی اچھی کیسے ہو گئی واقعی لگ رہا ہے آپ نے بہت ڈھونڈ کر لیا ہے یہ اففف کتنا نرم ہے یہ کیوٹ سا۔ ۔۔
جنت نے بڑے سے ٹیڈی کو اپنے گلے لگایا اور اس کے نرم نرم بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ ۔۔۔
ارے جنت بی بی اٹھ جاو آج کیا پی کر سوئی ہو۔ ۔۔
باہر سے عشرت بی بی کی آواز آئی
آرہی ہوں نانو بس اٹھ گئی ہوں۔ ۔۔
جنت نے جلدی سے اٹھ کر کارڈ دراز میں رکھا اور بیئر کو الماری میں چھپا دیا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے تھینکس بھی نہیں کہا ۔۔ ہممم پتا نہیں اسے ملا بھی ہے یا کہیں۔ ۔۔اوہ اگر ماں کو مل گیا وہ تو بہت ناراض ہونگی۔ ۔۔ i should call her
ضوریز نے سوچتے ہوئے جنت کو کال کی
ہیلو جنت۔ ۔۔ تمہیں اپنا گفٹ مل گیا ؟
ضوریز نے جلدی سے پوچھا
کیسا گفٹ؟
جنت کو ضوریز کی جلد بازی پر ہنسی آئی اس نے اپنی ہنسنی دباتے ہوئے کہا
صیح بتاو جنت کیا واقعی تمہیں کچھ نہیں ملا۔ ۔۔
ضوریز کو پریشانی ہوئی
کون دے گا مجھے کچھ۔ ۔۔کسی نے آنا تھا کیا؟
جنت نے اپنے ہونٹ دبا کر ہنسی روکی
اوہ کہیں ماں کے ہاتھ تو نہیں لگ گیا تمہارا گفٹ۔ ۔ نہیں اگر لگا ہوتا تو اب تک انکی کال مجھے آ چکی ہوتی۔۔۔ تم جھوٹ بول رہی ہو نہ جنت؟
ضوریز نے جنت کے ہلکا سا ہنسنے سے اندازہ لگایا ۔ ۔
ہاہاہا اللہ صہیب آپ کتنا ڈرنے لگے ہو مامی سے۔ ۔ مل
گیا ہے جناب مگر آپ ایسے کیسے خاموشی سے آگئے اور ہمیں پتا بھی نہیں چلا اور یہ آپ نے دروازہ کیسے کھولا اندر کیسے آئے مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔ ۔
جنت نے ایک ہی سانس میں بہت سے سوال کیئے
آرام سے جنت سانس لے لو ایک ساتھ اتنے سارے سوال۔ ۔۔ ایکچولی میں رات کو ایک دو بجے کی قریب آیا تھا مجھے سیٹ ہی اتنی رات کی ملی تھی پھر سوچا کے سب کو کیوں ڈسٹرب کروں بس پھر چھپکے سے اندر آگیا کیسے آیا یہ تمہیں کسی دن فُرصت سے بتاونگا۔ ۔۔ خیر جب تمہارے روم میں آیا تو تم سوتے ہوئے اتنی پیاری لگی کے دل ہی نہیں کیا تمہیں اٹھانے کا۔ ۔۔ بس تمہیں جی بھر کر دیکھا۔۔ تاکے ایک مہینہ گزر سکے پھر صبح کی فلائٹ تھی اس لیئےچار بجے تک نکل گیا تھا ۔۔ اب بتاو کیسا لگا گفٹ؟
ضوریز ے تفصیل سے بتایا
بہت بہت بہت پیارا لگا ۔۔ صہیب اتنا اچھا کہاں سے لیا آپ کی چوائس تو بہت اچھی ہو گئی ہے۔ ۔
جنت نے سامنے پڑے ٹیڈی بیئر کو دیکھا
بس جب سے تمہیں دیکھا ہے تب سے دل کرتا ہے اچھی سے اچھی چیز لوں تمہارے لیئے۔ ۔۔
ضوریز نے پیار سے کہا
اچھا۔ ۔ شکر ہے آپکو شوپنگ کرنا آئی ورنہ یاد ہے جب ہم شادی کی شوپنگ پر گئے تھے اففف آپکو کچھ لینا ہی نہیں آرہا تھا کتنا تھکا دیا تھا آپ نے مجھے اُس دن۔ ۔۔
جنت کو وہ دن یاد آنے لگے
آممم اوہ ہاں بس اب پریکٹس ہو گئی ہے۔ ۔اور سب ٹھیک ہے گھر میں؟
ضوریز نے بات بدلی
ہممم سب ٹھیک ہی ہیں بس مامی اب خاموش رہنے لگی ہیں پتا نہیں اتنی اداس کیوں رہتی ہیں۔ ۔ اور نانو تو ہر وقت آپ کو یاد کرتی ہیں کبھی انہیں بھی فون کر لیا کریں ۔۔۔
اوہ میں کرونگا فون آج ہی کر لونگا۔ ۔ تم پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا بس تھوڑا سا وقت اور دو مجھے۔۔۔
ہمم ویسے حیرت ہے مجھے۔ ۔۔ آپ کل میرے پاس آئے اتنی دیر میرے پاس رہے مگر مجھے پتا بھی نہیں چلا ورنہ میں آپکی خوشبو نیند میں بھی محسوس کر لیتی تھی۔۔۔
جنت نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
ہممم کیا پتا اب میری خوشبو بدل گئی ہو جس خوشبو کی تم عادی تھی وہ اب بدل گئی ہو۔ ۔۔
ضوریز نے جواب دیا
کیا مطلب مجھے سمجھ نہیں آئی؟
ارے کچھ نہیں بس اتنا زیادہ مت سوچا کرو ریلکس رہو۔ ۔۔
ضوریز نے بات بنائی
ہر کوئی مجھے یہ کیوں بولتا ہے کے زیادہ مت سوچو ہنہ۔ ۔
جنت نے برا مانا
ہاں تو سوچنے کے لیئے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اس کی تھوڑی کمی ہے نا آپ میں۔ ۔۔
ضوریز نے مسکرا کر کہا
ہنہ میں ہی سب کو بیوقوف لگتی ہوں۔ ۔مجھے نہیں کرنی آپ سے بات۔۔۔
جنت ناراض ہوئی
ہاہاہا ایسے ناراض مت ہو جنت ۔۔۔ میری جان چلی جائے گی۔۔۔
ضوریز کو جنت پر بہت پیار آیا
اللہ نہ کرے صہیب آئندہ ایسی بات مت کرنا جس دن آپ کو کچھ ہوا اس دن جنت بھی مر جائے گی۔۔۔۔
جنت ایموشنل ہوئی
ضوریز تھوڑی دیر خاموش رہا
کیا ہوا چپ کیوں ہو گئے
آں ہاں کچھ نہیں ۔۔ آمم میں فون بند کر رہا ہوں اپنا خیال رکھنا جنت اگر میں فون نہ کر سکوں تو پریشان مت ہونا بس اپنا خیال رکھنا اوکے؟
اچھا مگر پھر بھی آپ میسج ہی کر دیا کریں روز۔ ۔
جنت اداس ہوئی
ٹھیک ہے میں میسج کردیا کرونگا۔ ۔ اچھا پھر بات ہو گی ٹیک کئیر!
اوکے اللہ حافظ ٹیک کیئر۔ ۔
ضوریز نے فون بند کیا اور جنت کو سوچنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضوریز تم کب تک واپس آو گے وہاں سے؟
آنسہ ضوریز کے لندن جانے کا سن کر پریشان ہوئیں
ماں بس جیسے ہی جنت آزاد ہو گی آئی مین وہ آپ نے کیا کہا تھا جو چار مہینے گھر میں رہنا ہے۔ ۔
ضوریز وہ لفظ یاد کرنے لگا
عدت کہتے ہیں اسے ضوریز۔ ۔
آنسہ نے بتایا
جی وہی جیسے ہی وہ ختم ہو گی میں آجاونگا۔۔
ہمم وہ تو تقریباً ایک ہی مہینہ رہ گیا ہے۔ ۔۔ تم اپنے سب کام ختم کرو اور آجاو میں بہت ڈرتی ہوں اس وقت سے جب جنت کو صہیب کا پتا لگے گا میں اس بچاری کو اکیلے نہیں سنبھال سکوں گی ضوریز مجھے تمہاری ضرورت ہوگی۔۔۔
آنسہ نے اداسی سے کہا
ماں میں آپ سب کے ساتھ ہوں میں جلد آونگا بس آپ پریشان مت ہوں جنت آپ کو اداس دیکھتی ہے تو پریشان ہوتی ہے۔۔۔
ضوریز نے سمجھایا
کیا کروں ضوریز ہر پل صہیب یاد آتا ہے کہیں سکون نہیں ملتا ہر وقت وہ گھر میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ ۔۔ بہت یاد آتا ہے وہ مجھے۔ ۔۔
آنسہ رونے لگیں
ماں پلیز آپ اسطرح مت روئیں ۔۔۔ میں بھی پریشان رہوں گا۔ ۔۔ پلیز چپ ہو جائیں ماں۔ ۔۔
ضوریز بھی پریشان ہوا
اچھا تم بس اپنا خیال رکھنا تمہیں کھونے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں۔۔
آنسہ نے آنسو صاف کیئے
جی ماں آپ میرے لیئے پریشان مت ہوں میں اپنی حفاظت کر سکتا ہوں اچھا ماں آپ سب بھی اپنا خیال رکھنا مجھے اب ائیر پورٹ کے لیئے نکلنا ہے پھر بات ہو گی ۔۔
آنسہ نے ضوریز کو بہت سی دعائیں دیں اور فون بند کر
دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
welcome to london zoraiz …
(لندن میں خوش آمدید ضوریز)
جیک نے ضوریز سے ہاتھ ملا کر خوش آمدید کہا
thanks jack hru?
(شکریہ جیک کیسے ہو تم)
ضوریز مسکرا کر ملا
I am good how’s ur flight?
(میں اچھا ہوں تمہاری فلائٹ کیسی رہی)
جیک نے پوچھا
Yeah was good!
(ہاں اچھی تھی)
ضوریز نے مسکرا کر جواب دیا
Oh man u r smiling u got change ..
(تم مسکرا رہے ہو تم بدل گئے ہو)
جیک ضوریز کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوا
Yes i got change.. Anyways is mark ok?
(ہاں میں بدل گیا ہوں خیر مارک ٹھیک ہے؟ )
ضوریز نے مارک کا پوچھا
Yes he is fine..last week we got news about tigger .. he was caught by meer’s guard ahaha i feel very pity for him!
(ہاں وہ ٹھیک ہے۔۔ پچھلے ہفتے ہمیں ٹائیگر کی خبر ملی۔۔ اسے میر کے گارڈ نے پکڑ لیا ہاہاہا مجھے بہت ترس آتا ہے اس پر! )
جیک نے ٹائیگر کا زکر کیا
Ahah yes he is bastard he was trying to trap me but anyways let it go.. i am so tired i want to sleep!
(ہاہا ہاں وہ کمینا ہے ۔۔ وہ مجھے پھنسانے کی کوشیش کر رہا تھا خیر دفع کرو اسے۔ ۔ میں بہت تھک گیا ہوں سونا چاہتا ہوں! )
ضوریز نے کہا
Okay have some rest then mark will meet u.. Take care
(ٹھیک ہء تھوڑا آرام کر لو پھر مارک ملنے آئے گا)
جیک نے بتایا اور چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Hello zoraiz i am sure you had good trip in Pakistan!
(ہیلو ضوریز مجھے یقین ہے تم نے پاکستان میں اچھا وقت گزرا ہے)
مارک نے ضوریز کو اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارا کیا
Yes indeed…this was definitely my best trip !
(ہاں بیشک۔ ۔ یہ میرا سب سے اچھا سفر تھا)
ضوریز نے اقرار کیا
Good to hear this.. Anyways new year is coming ۔۔۔ as usual i will be anounced some new leaders this year.. so there is a good news for you..u have replaced tigger’s place..now you are leader for Pakistan group!
(اچھا لگا یہ سن کر۔ ۔ ۔خیر نیا سال آرہا ہے ہمیشہ کی طرح میں کچھ لیڈرز کا اعلان کرونگا۔ ۔تو تمہارے لیئے خوشخبری ہے تم نے ٹائیگر کی جگہ لے لی ہےاب تم لیڈر ہو پاکستان گروپ کے)
مارک نے خوشی سے ضوریز کو بتایا
Oh… Ammmm that’s really good.. I am glad to hear but i think i don’t deserve this!
(اوہ اممم بہت اچھا ہے۔۔ میں خوش ہوا سن کر لیکن مجھے نہیں لگتا کے میں اس قابل ہوں)
ضوریز کو گھبراہٹ ہوئی وہ تو یہ سب چھوڑنا چاہتا تھا
Nope your are my choice & the choice i make will never be wrong… !
(نہیں تم میرا انتخاب ہو اور جو انتخاب میں کروں گا کبھی غلط نہیں ہو گا)
مارک نے سختی سے کہا
Yes i know but what if i don’t want this position?
(جی میں جانتا ہوں لیکن اگر میں یہ جگہ لینا نہ چاہوں تو؟)
ضوریز نے ادب سے پوچھا
you have no any other choices.. u have to take this position .. R u getting?
(تمہارے پاس اور کوئی چارا نہیں۔ ۔۔ تمہیں یہ جگہ لینی ہو گی۔ ۔ سمجھ رہے ہو؟ )
مارک نے بہت سخت لہجے میں کہا اور کھڑا ہو گیا اس کے فیصلے پر کوئی اعتراض کرے اُسے یہ پسند نہیں تھا
Okay it’s a great honor for me!
(ٹھیک ہے یہ میرے لیئے بہت اعزاز کی بات ہے)
ضوریز نے مشکل سے مسکرا کر کہا۔۔ مارک سر ہلاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
ضوریز کو فکر ہونے لگی کے وہ کیسے اپنی آزادی کی بات مارک سے کرے۔۔۔ یہاں سے آزادی صرف ایک ہی صورت میں مل سکتی تھی وہ تھی موت اس کے علاوہ آج تک یہاں سے کوئی آزاد نہیں ہوا تھا۔ ۔۔!
