Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 10,11)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 10,11)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
ضوریز نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا تو صہیب کا جسم خون سے بھرا ہوا تھا۔ ۔
اوہ گاڈ۔۔۔ شٹ۔۔۔ آنکھیں کھولو پلیز
Look at me hey boy open ur eyes..
(میری طرف دیکھو لڑکے اپنی آنکھیں کھولو)
ضوریز پاگلوں کی طرح صہیب کے سر کو اپنی گود میں رکھ کراس کے چہرے کو تھپتھپانے لگا
صہیب نے بہت مشکل سے آنکھیں کھولیں
آہ ہ ہ زوہیب۔ ۔۔ تت تم مم میرے بھ بھائی ہووو۔ ۔۔ تت تمہارا سس ساتھی تت تمہیں مم مارنا چاہتا ہے۔ ۔ پپ پلیز چھوڑ دو سب آہ بب بھاگ جاو زوہیب۔ ۔ آہ۔۔
تم فکرمت کرو تمہیں کچھ نہیں ہو گا پلیز آنکھیں کھو لو میرے ساتھ رہو میں تمہیں ہوسپٹل لے کر جاتا ہوں۔۔
ضوریز صہیب کو اُٹھانے کی کوشیش کرنے لگا
نن نہیں مم میرے بھائی۔ ۔ آہ اب فائدہ نہیں بس مجھ سے وعدہ کرووو۔ ۔۔ تت تم جن جنت کو خوش رکھو گے۔ ۔ وہ پپ پاگل جی نہیں سس سکتی میرے بنا۔ ۔ آہ تم اسے سنبھال لینا۔ ۔ اور ہاں امی ابو دا دادو۔ ۔ سس سب تم تمہیں بب بہت یاد کرتے ہیں زوہیب ان سب کا خیال رکھنا کاش تت تمہیں بتا سکتا کے۔ ۔ مم میں نے تم تمہیں کتنا مس کک کیا۔ ۔ آہ جنت جنت کو کہ کہنا۔ ۔ ۔کہ جنت۔ ۔۔
صہیب نے آخری سانس میں جنت کہا اور اس کا جسم ڈھیلا ہو کر ضوریز کے بازوں میں گر گیا
ضوریز بے یقینی سے صہیب کو دیکھتا رہا ہاتھ بڑھا کر صہیب کی آنکھیں بند کیں اور پھر اسکا سر اپنےسینے سے لگا لیا
یہ کیا کیا ٹائیگر۔ ۔۔
I will kill you tigger i will kill you…
ابھی تو میں نے بھائی کا لفظ سنا ہی تھا اور تم نے۔ ۔۔ آہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔ اب تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ ۔
ضوریز نے صہیب کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پھر اسے اُٹھا کر دفنانے کی تیاری کرنے لگا۔ ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ فوراً ٹائیگر کو مار دے مگر فل حال اس نے اپنے غصے پر قابو کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا کیا مامی آپ لوگ آ گئے صہیب بہت بدل سا گیا ہے صبح سے گھر نہیں آیا میں نے کہا تھا آپکو فون بھی کرے اس نے فون بھی نہیں کیا اب بھی میرا فون نہیں اُٹھا رہا۔ ۔ پتا نہیں مجھے لگتا ہے جیسے کوئی پریشانی ہے اسے اور وہ ہم سے شئر نہیں کر پا رہا۔ ۔
جنت نے آنسہ سے ملتے ہوئےکہا۔ ۔
بس بچے مجھ سے تم لوگ چھپاتے رہے پہلے ہی بتا دیتے میں سب چھوڑ کر آ جاتی۔۔۔ صہیب تمہیں پریشان نہیں دیکھ سکتا اس لیئے بتایا نہیں ہو گا مگر کم از کم تم مجھے بتاتی میں اس سے بات کرتی۔ ۔۔ بس کل رات عجیب گھبراہٹ ہو رہی تھی اتنے دن سے صہیب نے بات نہیں کی میں نے بشیر سے کہا ابھی سیٹ کروائیں اور اسلام آباد چلیں شکر سیٹ مل گئی اب بس پریشان مت ہو ہم آ گئے ہیں پوچھتے ہیں صہیب سے کے کیا پریشانی ہے۔۔۔۔
آنسہ نے جنت کو گلے لگا کر تسلی دی
آئیے آپ لوگ بیٹھیں اب پتا نہیں کب آئے گا وہ۔ ۔ کہ رہا تھا لنچ پر آئے گا وعدہ بھی کیا مگر اب تو رات ہو گئی ہے نہ جانے کہاں ہے۔ ۔ نانو کیسی ہیں ؟
ہاں نانو ٹھیک ہیں تمہاری۔ ۔۔ انکو تمہاری امی کے ہاں چھوڑا ہے پریشان ہو رہی تھی کہہ رہی تھی میں نے بھی جانا ہے ساتھ بہت مشکل سے سمجھایا اور منایا ہے انہیں۔ ۔ اللہ میرا بچہ ٹھیک ہو عحیب گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔۔
آنسہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا
پریشان مت ہو بیگم ۔۔ ٹھیک ہو گا ہمارا بچہ بس کوئی اوفس کی پریشانی ہو گی۔ ۔ جاو جنت بیٹا پانی لے کر آو اپنی مامی کے لیئے مجھے پتا تھا تمہاری طبعیت خراب ہو جائے گی جب ہی چھپایا تھا تم سے۔۔۔
جنت فوراً پانی لائی اور آنسہ کو پلا کر انہیں تسلی دینے لگی۔ ۔۔
بیل بجنے کی آواز آئی تو جنت بھاگ کر دروازہ کھولنے گئی۔ ۔۔
سامنے ضوریز کھڑا تھا
اوہ شکر آپ آگئے صہیب آپ نے اتنی دیر کر دی شکر آپ ٹھیک ہیں مجھے اتنے عجیب خیالات آ ریے تھے۔۔۔
جنت ضوریز کے گلے لگ گئی ضوریز میں ہمت ہی نہیں تھی کے وہ آگے قدم بڑھائے۔ ۔۔
کیا ہوا صہیب اس طرح کیوں کھڑے ہو جنت اُسے اندر آنے دو بیٹا۔۔
بشیر نے پیچھے سے آواز لگائی جنت فوراً ضوریز سے الگ ہوئی۔ ۔ ضوریز نے اُؐلجھ کر بشیر کو دیکھا ۔۔۔
ڈر گئے تھے ہم لوگ ۔۔ تمہاری ماں کا دل بیٹھے جا رہاتھا اسی لیئے اسے لے کر آنا پڑا ورنہ بیمار ہو جاتی تم بھی تو فون نہیں اٹھا رہے تھے۔ ۔
بشیر نے ضوریز کو گلے لگایا اور ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئے
آنسہ نے کانپتے ہاتھو سے ضوریز کے چہرہ پکڑا
میرا بچہ کیوں تڑپا رہا ہے اپنے ماں باپ کو شکر اللہ کا تم ٹھیک ہو میری جان۔ ۔
آنسہ نے ضوریز کے بے جان وجود کو گلے لگایا ضوریز حیران پریشان سا کھڑا رہا ۔۔ جیسے ہی آنسہ گلے لگیں اسے لگا جیسے پہلی بار اس کے دل کو سکون ملا ہو۔ ۔۔
ضوریز نے گھبرا کر آنسہ کو خود سے الگ کیا اور گہرے سانس لینے لگا۔ ۔۔
پپ پانی پینا ہے مجھے۔ ۔۔
ضوریز نے گہرے سانس لیتے ہوئے جنت سے کہا۔ ۔ بشیر نے ضوریز کو صوفے پر بیٹھایا جنت نے ضوریز کو پانی پلایا
کیا ہوا صہیب تم ٹھیک تو ہو۔ ۔۔ چلو ہوسپٹل چلیں تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے چلو ۔۔
جنت نے ضوریز کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانا چاہا
نن نہیں میں ٹھیک ہوں بلکل ٹھیک ہوں۔ ۔۔ بس ویسے ہی تم پریشان مت ہو۔۔۔
ضوریز نے خود کو سنمبھالا۔ ۔
بیٹا بتاو ہمیں۔ ۔۔ کیا پریشانی ہے کوئی اوفس کی طرف سے مسئلہ ہوا ہے آخر ایسی کیا بات ہے جو تم اتنے خاموش اور پریشان ہو۔۔۔
ہاں۔ ۔ وہ کک کچھ بھی تو نہیں ہوا بس وہ ہاں اوفس کا مسئلہ ہے اسکی پریشانی ہے بس اسی لیئے وہاں سارا دن مصروف ہوتا ہوں۔ ۔
ضوریز نے بات بنائی
دفع کرو اوفس کو بھاڑ میں گیا اوفس بس چھوڑو اگر اتنے مسئلے ہیں کوئی اور نوکری مل جائے گی اپنی حالت دیکھو کیا ہو رہی ہے۔ ۔
آنسہ نے ایک بار پھر اسکا ماتھا چوما۔ ۔۔
میرا بچہ چلو آو کمرے میں جا کر تھوڑا آرام کرو۔ ۔
ہاں صہیب میں نے دلیہ بھی بنایا ہے آپ کے لیئے تھوڑا سا کھا لو پھر آرام کر لینا۔۔
جنت نے پیار سے کہا
دلیہ کیوں کیا پیٹ خراب ہے اسکا؟؟
آنسہ نے چونک کر پوچھا
جی مامی پیٹ میں درد تھا انکے اس لیئے دلیہ بنا لیا میں نے۔۔
جنت نے آنسہ سے کہا
اوہو تو کو دوائی دیتی۔۔
ضوریز آنسہ کے چہرے کو یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ ۔۔
کیا یہ میری ماں ہے۔ ۔ کیا یہ مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں۔ ۔ نہیں یہ سب مجھ سے نہیں صہیب سے محبت کرتے ہیں مجھ سے محبت کرتے تو اسطرح مجھے خود سے الگ نہ کرتے۔ ۔۔ ہنہ اگر انہیں پتا لگے میں صہیب نہیں تو شاید مجھے پھر سے کسی کے ہاتھ بیچ دیں۔۔۔
ضوریز دل ہی دل میں سوچنے لگا
بیٹا کیا سوچ رہے ہو چلو شاباش کچھ کھا لو ہمم اب ہم آگئے ہیں پریشان مت ہونا۔ ۔ تمہاری دادو تو بہت غصہ کر رہی تھی کے تمہیں اتنی دور کیوں بھیج دیا بہت مشکل سے سمجھا کر تمہاری پھوپو کے گھر چھوڑ کر ہم یہاں آئے ہیں۔ ۔
آنسہ نے ضوریز کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے کھڑا کیا
ضوریز خاموشی سے اٹھ کر روم میں آ گیا۔ ۔
تھوڑی دیر میں جنت دلیہ لے کر روم میں آگئی
لاو میں اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہوں آپ کو۔ ۔۔
نہیں میں خود کھا کوں گا۔۔
ضوریز نے بہت سخت لہجے میں کہا جنت نے اس کی سرخ انگارہ آنکھوں میں دیکھا تو ڈر گئی۔ ۔ صہیب کی آنکھوں میں تو ہمیشہ پیار اور نرمی رہتی تھی مگر ان آنکھوں میں وحشت تھی قرب تھا۔۔۔۔ ویران تھیں یہ آنکھیں۔ ۔
کک کیا ہوا صہیب تم پہلے تو کبھی اتنے پریشان نہیں ہوئے کیا مجھ سے شیئر نہیں کروگے۔ ۔۔ پلیزز صہیب مجھے خوف آ رہا ہے تم سے ۔۔ ایسے کیوں کر رہے ہو تم۔ ۔۔
جنت کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے
ضوریز نے سر اٹھا کر جنت کو دیکھا۔ ۔۔ اسے صہیب کے جملے یاد آنے لگے جب وہ مرتے ہوئے بھی جنت کی فکر کر رہا تھا۔ ۔۔ ضوریز نے تڑپ کر آنکھیں بند کیں اور اپنے آپ کو سنبھالا۔ ۔
جنت۔ ۔۔ کیا تم صرف آج رات مجھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔ میں تھوڑی دیر تنہا رہنا چاہتا ہوں۔۔ صبح سب کچھ بتا دونگا بس تم پریشان مت ہو۔ ۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا تم رو رہی ہو۔۔۔
ضوریز نے جنت کے آنسو صاف کیئے
مجھے پتا ہے آپ مجھے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے اس لیئے بول رہی ہوں جلدی ٹھیک ہو جاو اسطرح روڈ ہو گے تو میں بہت رونگی۔ ۔
جنت روتے میں مسکرا دی ضوریز نے اسکی مسکراہٹ دیکھی تو ایک پل کو سب کچھ بھول گیا
تم کتنا پیارا مسکراتی ہو۔ ۔
ضوریز نے بے خودی میں کہا
آپ پہلے بھی بہت بار بتا چکے ہیں اچھا اب دلیہ کھاو نہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ ۔۔
جنت نے چمچ بھر کر ضوریز کی طرف کیا
جنت مم میں خود کھا لونگا پلیززز۔۔۔
ضوریز نے اس کے ہاتھ سے چمچ لیا اور کھانے لگا جبکے اسکا بلکل دل نہیں تھا وہ کچھ کھائے مگر جنت کی خاطر وہ کھانے لگا تھوڑا سا کھا کر پلیٹ پیچھے کی۔۔
بس مجھے اتنی ہی بھوک ہے پلیزز تم بھی کھانا کھا لو۔۔۔
ضوریز نے جنت سے کہا
میں تو مامی اور ماموں کے ساتھ کھاوں گی بس گرم کر رہی ہوں آپ آرام کر لیں میں انہیں بتا دونگی آپکی طبعیت صیح نہیں۔ ۔ پھر صبح بات کر لینا ان سے ٹھیک ہے اب آرام کرو۔ ۔
جنت نے پیار سے ضوریز کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور برتن اٹھا کر باہر چلی گئی۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹائیگر نے اسے کیوں مارا۔ ۔۔ اگر ٹائیگر نے مارک کو بتا دیا تو۔ ۔ نہیں مجھے ٹائیگر سے پہلے ہی مارک کو بتا دینا چاہیئے ورنہ وہ مجھے غلط سمجھے گا۔ ۔
اففف کیوں بار بار صہیب کی شکل میرےسامنے آرہی ہے۔ ۔۔ میں تو کبھی اس کے ساتھ رہا ہی نہیں تو مجھے اتنا دکھ کیوں ہو رہا۔ ۔۔
صہیب نے یہ کیوں کہا کے سب لوگ مجھے یاد کرتے ہیں۔ ۔ مگر انہوں نے تو صرف صہیب کو یاد کیا ہے صرف اسی کے لیئے محبت ہے۔ ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کس بات پر یقین کروں ٹائیگر کی بات پر ۔۔ صہیب کی بات پر یا ان سب پر جنہوں نے ایک بار بھی میرا نہیں پوچھا ہنہ سب کو صہیب کی فکر افف میرا س پھٹ جائے گا۔ ۔۔
ضوریز نے سوچوں سےتنگ آکر اپنا سر تھاما۔ ۔۔ اپنی سگریٹ ڈھونڈنے لگا مگر سگریٹ اس کے پاس نہیں تھی گہرے گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کیا پھر اپنا فون نکال کر جیک کو کال کی
Hello jack are you free I wanna talk with you??
(ہیلو جیک تم فارغ ہو مجھے تم سے بات کرنی ہے؟ ؟)
Yes zoraiz sure are you okay ?
(ہاں ضوریز کیوں نہیں کیا تم ٹھیک ہو؟ )
No I am not okay.. Tigger killed that boy ..
(نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں۔ ۔ ٹائیگر نے اس لڑکے کو مار دیا)
Oh he is such a creep man !
اوہ وہ ایک کمینہ آدمی ہے!
جیک کو بھی افسوس ہوا
Yes he is.. But that boy was innocent he didn’t do anything … anyways…I want a favour from you!
(ہاں وہ ہے۔ ۔ مگر وہ لڑکا تو معصوم تھا اس نے کچھ نہیں کیا تھا خیر۔ ۔۔ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے! )
Yess sure tell me? (ہاں ضرور بتاو مجھے؟ )
Plz tell to mark I am not going to betray him I am still working on his mission once I kill 3rd man i will come back.. make him clear I am still with his gang plz don’t listen to tigger he is a big liar he deceived me don’t trust on him just trust me…. can you do this?
(پلیز مارک کو بتاو میں اسے دھوکا نہیں دینے والا میں ابھی بھی اس کے مشن پر کام کر رہا ہوں ایک بار تیسرے آدمی کو مار دوں میں واپس آجاونگا ۔۔ اسے سمجھا دو میں ابھی بھی اس گینگ کے ساتھ ہوں۔ ۔ پلیز ٹائیگر کی بات مت سنے وہ بہت بڑا جھوٹا ہے اس نے مجھے دھوکا دیا اس پہ ارعتبار نہیں کرے ۔۔ بس مجھ پر یقین کرے۔ ۔ کیا تم یہ کر سکتے ہو؟
Don’t worry zoraiz mark trusts you.. He knows about his tricks.. But you must know if you deceive mark then he will not let you live… you should be honest to mark otherwise you will be responsible for any loss!
(پریشان مت ہو ضوریز مارک کو یقین ہے تم پر۔ ۔ وہ اسکی چالیں جانتا ہے لیکن تمہیں بھی پتہ ہونا چاہیئے اگر تم نے مارک کو دھوکا دیا تو وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔ ۔ تمہیں مارک کے ساتھ ایمانداری سے کام کرنا ہوگا ورنہ کسی بھی نقصان کے زمہ دار تم خود ہو گے! )
جیک نے ضوریز کو حقیقت سے آگاہ کیا
Yes I know… amm I will not betray him trust me !
(ہاں میں جانتا ہوں امم میں اسے دھوکہ نہیں دونگا یقین کرو)
Ok then don’t worry zoriaz & take care of ur self!
اوکے پھر تم پریشان مت ہو اور اپنا خیال رکھو! )
Okay take care!
(اوکے اپنا خیال رکھنا! )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صہیب میرے بچے اُٹھ جاو اب کیسی طبعیت ہے ؟
آنسہ نے ضوریز کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا
جی۔ ۔ میں ٹھیک ہوں آپ یہاں۔ ۔
ضوریز ایک دم گھبرا کر اٹھ گیا
رات کو جنت نے بتایا تھا کے تم بہت پریشان تھے آرام کرنا چاہتے تھے اس لیئے ہم نے تمہیں رات میں تنگ نہیں کیا اب بتاو کیا بات ہے اتنا پریشان کیوں ہو؟؟
آنسہ نے پوچھا
آں۔ ۔۔ نہیں تو بس اوفس کی طرف سے پریشان ہوں۔ ۔ آمممم وہ کچھ چیکس کا مسئلہ ہو گیا مطلب پیسے کا مسئلہ ہو گیا تھا تو وہ لوگ تنگ کر رہے تھے مگر اب ٹھیک ہے۔۔ بس اسی لیئے زیادہ وقت اوفس میں ہی تھا۔ ۔
ضوریز کو سمجھ نہیں آئی کے وہ بہانا بنائے بس کچھ بھی بول دیا
اوہ اللہ خیر کرے یہ اوفس والے اتنا پریشان کر رہے ہیں تو چھوڑ دو یہ نوکری اللہ اور دے گا۔ ۔۔ میں تو بہت ڈر گئی تھی میں اپنا ایک بچہ کھو چکی ہوں تمہیں کھونے کی ہمت نہیں مجھ میں صہیب۔ ۔
آنسہ نے ضوریز کے چہرے پر ہاتھ رکھے
ضوریز ایک دم چونکا
ایک ک بچہ آپ نے کیوں کھویا۔ ۔۔ ہنہ آپ کو اسے اپنے پاس رکھنا چاہیئے تھا نا۔ ۔۔
ضوریز نے دکھ سے کہا
تم جانتے تو ہو صہیب ہم نے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔ ۔ پورا پاکستان چھان مارا مگر اللہ جانے کہاں گیا وہ بس اب تو صبر کرنے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔۔۔
صرف پاکستان میں کیوں ڈھونڈا پوری دنیا میں ڈھونڈنا چاہیئے تھا نہ۔ ۔۔
ضوریز نے پوچھا
تم تو ایسے بول رہے ہو صہیب جیسے کچھ جانتے ہی نہیں۔ ۔ بیٹا میں آج بھی اپنے رب سے دعائیں مانگتی ہوں کے میرا بچہ میرے پاس آجائے تو اسے میں بتاوں اسکی ماں اسے ایک پل کے لیئے بھی نہیں بھولی۔ ۔۔
ضوریز کو لگا ہے اگر اس نے ایک لفظ بھی بولا تو اس کے آنسو نکل پڑیں گے۔۔ اس نے آنسوں اپنے اندر گرائے
مم ماں۔۔۔ آہ
ضوریز نے روتی ہوئی آنسہ کے ہاتھ تھامے۔ ۔۔
آنسہ ایک پل کو حیران ہوئیں۔ ۔
ماں ں۔ ۔ آ آپ۔۔۔ آپ لوگوں نے مجھے خود سے دور کک کیوں کیا۔ ۔۔
ضویز بہت مشکل سے بولا اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی رونے لگا
آنسہ ایک دم حیران ہو گیئں وہ آنکھیں پھاڑے روتے ہوئے ضوریز کو دیکھنے لگیں۔
تت تو کک کیا تم صہیب نہیں تم نہیں تت تم میرے بچے تم زوہیب ہو؟ ۔ ۔۔
آنسہ نے حیران ہو کر کہا
جی۔ ۔۔ میں ہی وہ بد نصیب ہوں۔ ۔۔ آہ میں ہی کیوں۔ ۔۔ آپکو پتا ہے میں آج تک آپ لوگوں سے نفرت کرتے آیا ہوں۔ ۔۔ مگر آپ ماں کیا میں آپ کے گلے لگ جاوں ؟
ضوریز نے فوراً آنسہ کو اپنے سینے سے لگایا اور آنکھیں بند کیں۔ ۔ ماں کی خشبو اپنے اندر اتارنے لگا۔ ۔۔ اس کا دل پرسکون ہونے لگا آنسہ بھی اس کے گلے گل کر رونے لگیں۔۔
ایک دم آنسہ نے ضوریز کو خود سے الگ کیا
صہیب کہاں ہے ؟ اگر تم زوہیب ہو تو میرا وہ بچہ کہاں ہے؟
آنسہ نے چونک کر پوچھا
ضوریز کا دل کیا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے مگر وہ کچھ کہہ نہیں سکا وہ کیسے بتاتا کے انکو نوازا تو دو بیٹوں سے تھا مگر قسمت نے اُن دونوں کو کبھی ایک نہیں ہونے دیا۔ ۔
وہ الفاظ ڈھونڈنے لگا کے کیسے وہ اپنی ماں کو آگاہ کر سکے کے آج بھی اسکا ایک بیٹا کھو گیا ہے ۔۔!
Episode 11
بتاو زوہیب میرا بیٹا کہاں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔ ۔۔
آنسہ نے اپنے ہاتھ ضوریز کے ہاتھ سے چھوڑوائے
کیا جب میں آپ سے بچھڑا تھا تب بھی آپکا دل گھبرایا تھا۔ ۔
ضوریز نے حسرت سے پوچھا
ہاں زوہیب تم پچھڑے تھے تو کتنے ہی دن میں تمہیں محسوس کرتی رہی تھی بیٹا۔ ۔ مگر نہ جانے تم کون سی دنیا میں گم ہو گئے تھے۔ ۔ ۔
آنسہ اپنے ماضی میں کھو گئیں
ہم سب بہت خوش تھے زوہیب تین سال بعد اللہ نے خوشی دی ایک ساتھ دو بیٹے مگر پھر نہ جانے ہم سے ایسی کیا غلطی ہو گئی کے اللہ نے اتنی بڑی سزا دی ۔۔ کوئی تمہیں ہوسپٹل سے ہی اٹھا کر لے گیا۔ ۔ کتنا ڈھونڈا ہم سب نے تمہیں مگررر۔ ۔۔ نہ جانے وہ لوگ تمہیں کہاں لے گئے تھے تمہیں پتا ہے میرا دل کہتا تھا تم ایک دن ہمیں ضرور ملو گے۔ ۔۔ سب کہتے تھے کے تم زندہ نہیں ہو گے مار دیا ہو گا کسی نے مگر میرا دل نہیں مانتا تھا ۔۔۔ !
آنسہ نے پوری کہانی ایسے بتائی جیسے کل کی بات ہو۔ ۔
ضوریز جو انکی باتیں ایک ٹرانس میں سن رہا تھا
کتنی عجیب بات ہے ماں مجھے لگتا تھا اگر کبھی آپ لوگوں سے ملا تو سب کو جان سے مار دونگا مگررر اب ایسا لگتا ہے جیسے میں آپ لوگوں کے بنا جی نہیں سکتا ماں۔ ۔۔ میں بہت تھک گیا ہوں اکیلا رہ رہ کر۔۔۔ مجھے خود میں چُھپا لیں مجھے اس دنیا میں نہیں جانا ماں مجھے بچا لیں۔ ۔۔
ضوریز کسی بچے کی طرح آنسہ کے لگے لگ کر سسکنے لگا
میرا بچہ میرا شہزادہ اب میں تجھے کہیں نہیں جانے دونگی کسی میں اتنی ہمت نہیں کے ایک ماں سے بچہ چھین سکے بس زوہیب رو مت بیٹا ہم سب ہیں تیرے اپنے تجھے اتنا پیار دینگے کے تم سب بھول جاو گے ۔۔۔
آنسہ نے ضوریز کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر چوما
ماں۔ ۔۔ اب آپ لوگ مجھے کبھی خود سے الگ نہیں کریں گے نہ؟
ضوریز نے بہت آس سے پوچھا
نہیں میری جان اب تمہیں کبھی خود سے دور نہیں کرونگی ۔۔۔
آنسہ نے ضوریز کو گلے لگایا
صہیب تم سے ملے گا تو دیکھنا خوشی سے پاگل ہو جائے گا ہمیشہ کہتا تھا کے جب بھی مجھے میرا بھائی ملا تو میں اسے کبھی خود سے الگ نہیں کرونگا اسے چھپا کر رکھوں گا۔ ۔ پاگل بہت یاد کرتا ہے تمہیں۔ ۔ وہ ہے کہاں۔ ۔
آنسہ کو صہیب کی یاد آئی تو انہوں نے دوبارا پوچھا
ضوریز نے تڑپ کر آنسہ کے سینے سے سر اٹھایا۔ ۔۔
صص صہیب۔ ۔ میرا بب بھائی۔ ۔ مم میں اس سے مل چکا ہوں۔ ۔۔ اُس نے اپنا سب کچھ مجھے سونپ دیا ہے ماں وہ ۔۔۔ مم میں بہت برا ہوں میں اسے بچا نن نہیں سکا یہ میں نے کیا کر دیا۔ ۔
ضوریز نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔ آنسہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا
کک کیا مطلب زوہیب تم کیا کہنا چاہ رہے ہو بیٹا اب میں تم دونوں کو نہیں کھو سکتی پلیز بتاو صہیب کہاں ہے؟
ماں وہ۔ ۔ مم مجھے جس نے اغواہ کیا تھا اُس نے صہیب کو۔ ۔ میں بچا نہیں سکا اسے ۔۔
ضوریز پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ۔۔
آنسہ کو سکتہ ہو گیا
ماں پل پلیززز مجھے غلط مت سمجھنا مم میں نے کچھ نہیں کیا ماں آپ ٹھیک ہیں پل پلیززز ابھی کسی کو کچھ مت بتانا ۔۔۔ آپ مجھے صہیب سمجھ لیں ۔۔۔۔
ضوریز نے آنسہ کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیا
آنسہ نے ایک زور دار تھپڑ ضوریز کو مارا
تم نے مار دیا میرے بچے کو۔ ۔۔ یہ کیا کہہ رہے تم کون ہو تم کیا بن گئے ہو۔ ۔۔ مجھے بتاو زوہیب میرا دل پھٹ رہا ہے۔ ۔
میں زوہیب نہیں ضوریز ہوں۔ ۔۔ میں آپکو سب کچھ نہیں بتا سکتا بس اتنا جان لیں میں عام لوگوں کی طرح زندگی نہیں گزار سکتا۔ ۔۔ مجھے زوہیب ملا تو میرے بندے نے اسے قید کر لیا مجھے لگا وہ اسے کچھ نہیں کہے گا مگر کل جب میں وہاں گیا تو۔ ۔۔ وہ مر گیا ماں وہ مر گیا۔ ۔
ضوریز نے روتے ہوئے کہا
کک کیا۔ ۔۔ صص صہیب۔ ۔۔ میرا بچہ۔ ۔۔ نن نہیں وہ تو ہماری زندگی ہے وہ کیسے مر سکتا تم جھوٹ بول رہے ہو پلیزز کہ دو یہ جھوٹ..
آنسہ کی سانس اکھڑنے لگی۔ ۔
نہیں ماں یہ سچ ہے پلیز خود کو سنبھالیں میں اسے نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔ اسے بے دردی سے مار دونگا میں بدلہ لوگا اس سے پلیز ماں مجھے سمجھنے کی کوشیش کریں مجھے آپ سب کی بہت ضرورت ہے۔۔
ضوریز نے آنسہ کے ہاتھوں کو دوبارا پکڑنا چاہا
نہیں مجھے ہاتھ مت لگاو تم میری اولاد نہیں ہو سکتے تم۔ ۔ تمہاری وجہ سے صہیب۔ ۔ میرا بچہ وہ تمہارا خون تھا ایک بار بھی نہ سوچا تم نے۔ ۔میں نے کبھی خدا اسے سطرح تمہیں نہیں مانگا تھا کے وہ ایک چھین لے اور ایک دے دے۔ ۔ مگر دوبارا اس نے ایسا کیوں کیا ہائے میں نہیں رہ سکتی صہیب کے بغیر تم ظالم ہو تم صہیب کبھی نہیں بن سکتے۔ ۔۔!
آنسہ اپنا ہوش کھونے لگیں
ضوریز کو آنسہ کے لفظوں نے زخمی کر دیا۔ ۔۔۔ وہ سر جھکا کر چپ چاپ آنسو بہانے لگا۔ ۔۔
کہاں ہے میرا بچہ ظالم انسان تم نے آخری بار دیکھنے بھی نہ دیا۔ ۔۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی۔ ۔ ہاں نہ تم صہیب ہو اور نہ ہی زوہیب ۔۔ تم ضوریز صرف ضوریز۔ ۔
آنسہ نے غصے سے ضوریز کا گربان پکڑا۔ ۔
پلیزز ماں مم میں بہت مجبور ہوں پلیززز مجھے معاف کر دیں۔ ۔!
ضوریز نے اپنے ہاتھ جوڑے ۔۔ آنسہ کا سانس روکنے لگا وہ دل پر ہاتھ رکھے گہرے سانس لینے لگیں
ماں کک کیا ہوا آپ کو پلیز۔ ۔ اوہ جنت۔ ۔۔ کوئی ہے ماں سنبھالیں خود کو آئی نیڈ یو۔ ۔۔!
ضوریز زور زور سے چیخنے لگا۔ ۔۔
جنت اور بشیر شور سن کر اندر آئے
مامی آنکھیں کھولیں کیا ہوا ہے انہیں صہیب یہ تو تمہارے پاس بلکل ٹھیک آئیں تھیں میں نے سوچا ناشتہ بنا لوں جلدی سے مگر کیا ہوا ہے مامی کو تم بتا کیوں نہیں رہے۔ ۔۔؟
ضوریز گھبرا کر جنت کو دیکھنے لگا
میں ایمبولنس کو فون کرتا ہوں جنت بیٹا تم پانی پلاو جلدی۔ ۔۔ اور صہیب تم اسطرح کیوں بیٹھے ہو۔ ۔ اپنی ماں کو اُٹھا کر باہر لے لاو۔ ۔
بشیر نے گم سم بیٹھے ضوریز سے کہا
ہمممم
ضوریز چونک کر اٹھا اور آنسہ کے کمزور سے وجود کو اٹھا کر باہر صوفے پر لیٹا دیا۔۔۔ اور خود پاس بیٹھ کر انکا ماتھا چوما۔۔
کاش میں نہ ہی آتا آپ لوگوں کی زندگی میں۔ ۔۔
ضوریز نے خود سے کہا
یہ لو صہیب مامی پر چھینٹے مارو شاید ہوش میں آجائیں۔ ۔
جنت نے ضوریز کی طرف پانی کا گلاس کیا
تت تم کر لو یہ سب مجھے نہیں آتا۔ ۔
ضوریز سر جھکا کر سائیڈ پر ہو گیا۔ ۔ جنت حیران ہوئی مگر فل حال زیادہ ضروری آنسہ کی حالت تھی۔ ۔ اس نے چھینٹے مارے مگر آنسہ کو ہوش نہیں آیا۔ ۔۔
چلو صہیب اپنی امی کو اُٹھاو ایمبولنس آ گئی ہے۔ ۔
بشیر نے ضوریز سے کہا
ضوریز نے آنسہ کو گود میں اُٹھایا اور باہر لے گیا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Hello mark I want to tell you something very urgent!
(ہیلو مارک مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے فوراً)
ٹائیگر نے موقع ملتے ہی مارک کو فون کیا
Yes i am listening!
(میں سن رہا ہو)
Mark your favorite boy Zoraiz deceived us…he killed an innocent boy & then he went to his family .. He is also trying to kill me.. Mark i wanna come back…
(مارک تمہارا پسندیدہ لڑکا ضوریز نے ہمیں دھوکا دیا۔ ۔ اس نے ایک معصوم لڑکے کو مار دیا اور اپنی فیملی کے پاس چلا گیا۔ ۔ وہ مجھے بھی مارنے کی کوشیش کر رہا ہے مارک میں واپس آنا چاہتا ہوں۔ ۔)
ٹائیگر نے بہت میٹھے لہجے میں کہا
hmm i already know everything tigger… I am not a kid i am your boss… You will not return until mission is complete & remember our eyes are on you & zoraiz.. Okay!
(ہمم میں پہلے سے ہی سب جانتا ہوں ٹائیگر۔ ۔ میں بچہ نہیں ہوں تمہارا باس ہوں۔ ۔جب تک مشن مکمل نہیں ہو جاتا تم واپس نہیں آو گے اور ہاں یاد رکھنا ہماری نظریں تم پر اور ضوریز پر ہیں)
مارک نے ٹائیگر کی بات سنے بغیر فون رکھ دیا۔ ۔۔
ہنہ کمینا تیس سال میں نے خدمت کی ہے اور یہ میری بات بھی نہیں سنتا۔ ۔ اب میں ضوریز کو نہیں چھوڑوں گا۔ ۔
ٹائیگر نے نفرت سے کہا اور اپنا سامان سمیٹ کر اپنی خفیہ جگہ چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے !
ایک لیڈی ڈاکٹر نے بشیر کے پاس آکر کہا
شکر اللہ کا۔ ۔ کیا ہوا تھا ڈاکٹر یوں اچانک وہ تو بلکل ٹھیک تھی ۔ ۔۔
بشیر نے پریشانی سے پوچھا
جی لگتا ہے جیسے کوئی بہت بری خبر سنی ہے انہوں نے وہ شاک میں ہیں اب تک۔ ۔۔ ہم نے پوچھنے کی کوشیش کی ہے پر وہ بتا نہیں رہیں کیا پتا آپ سے شیئر کر لیں ۔۔ انکا خیال رکھیں مزید کوئی ٹینشن نہ ہو!
ڈاکٹر تسلی دے کر چلی گئی
ضوریز اور جنت بھی بشیر کے پاس کھڑے تھے
صہیب بتاو وہ تو تم سے باتیں کر رہی تھیں ایسی کیا بات بتائی تم نے کے وہ شاک میں ہیں؟
بشیر نے ضوریز سے پوچھا
میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔ ۔۔ مجھےخود نہیں پتا وہ اچانک بے ہوش ہو گئیں۔ ۔۔
ضوریز نے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے کہا
ماموں چھوڑیں نہ اب یہ سب اندر چلیں مامی کے پاس یہ باتیں بعد میں بھی ہو جائیں گیں۔ ۔
جنت کی بات سن کر تینوں اندر روم میں چلے گئے
مامی اب کیسا فیل کر رہی ہیں آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا!
جنت نے آنسہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا
ہاں بیگم میں تو تمہیں جوان سمجھتا تھا اور تم تو بیمار ہو گئی۔ ۔۔
بشیر نے ہنستے ہوئے کہا
جنت بھی ہنسنے لگی
کوئی نہیں مامی ابھی بھی جوان ہیں کہیں سے میری ساس نہیں لگتی دیکھیں بلکل بڑی بہن لگ رہی ہیں۔ ۔۔کیوں صہیب؟
جنت نے ضوریز کو پکارا مگر وہ متوجہ نہیں ہوا
صہیب۔ ۔ میں آپ سے بات کر رہی ہوں کہاں کھوئے ہوئے ہیں؟
جنت نے تھوڑی اونچی آواز میں کہا
آں ہاں کک کیا کہ رہی تھی تم!
ضوریز نے چونک کر کہا
میں کہ رہی تھی کے مامی میری بڑی بہن لگتی ہیں نہ؟
جنت نے دوبارا پوچھا
ہمم صیح کہ رہی ہو۔ ۔۔!
ضوریز نے ہاں میں ہاں ملائی
آنسہ نے زخمی نظر ضوریز پر ڈالی اور منہ موڑ لیا
ماں آپ ٹھیک ہو جائیں سب پریشان ہیں آپ کے لیئے۔ ۔۔
ضوریز ہمت کر کے آنسہ کے پاس آیا
یہ تم کب سے مامی کو امی کے بجائے ماں بولنے لگے؟
جنت نے ضوریز کے پاس آکر آہستہ سے پوچھا
ضوریز نے ایک نظر جنت کو دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ ۔
مجھے صہیب سے بات کرنی ہے اکیلے میں پلیز بشیر آپ لوگ جائیں۔ ۔
آنسہ نے مشکل سے کہا
بشیر نے حیرت سے آنسہ کو دیکھا اور جنت کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا دونوں روم سے باہر چلے گئے۔ ۔
ضوریز تم یہاں سے کب جاو گے؟
آنسہ نے سخت لہجے میں پوچھا
مم ماں آپ ایسا کیوں کہ رہی ہیں آپ تو میرے ملنے کی دعا کرتی تھیں۔ ۔
ضوریز نے حیران ہو کر کہا
مگر میں نے کبھی اسطرح ملنے کی دعا نہیں کی تھی کے میرا ایک بچہ جائے اور دوسرا آجائے۔ ۔ اور تم کبھی صہیب نہیں بن سکتے اس جیسا کوئی نہیں وہ تو بہت محبت کرنے والا تھا اور تم نے اسے مار دیا ۔۔ !
آنسہ نے روتے ہوئے کہا
میں کیا کرتا ماں۔ ۔ میرے پاس آپ نہیں تھیں جو مجھے پیار کرنا سکھاتی میں تو بچپن سے ہی دیرندوں میں رہا ہوں میں کہاں سے سیکھتا یہ سب مجھے معاف کر دیں اس میں میرا قصور نہیں ہے مگر میں پھر بھی آپ کے پاوں پڑتا ہوں۔ ۔۔پلیززز۔ ۔۔جنت سے کچھ نہیں کہیئے گا وہ بہت معصوم ہے وہ مر جائے گی یہ سن کر ۔۔۔
ضوریز نے جھک کر آنسہ کے پاوں پکڑے
کبھی نہ کبھی تو اس بد نصیب کو پتا لگے گا ہی کیسے معاف کروں میں ضوریز میرے دل کا ٹکڑا کاٹ دیا ہے تم نے۔ ۔
ماں اگر ایک ٹکڑا کاٹا ہے تو دوسرا بھی تو آپ کے پاس آ گیا ہے نہ۔ ۔۔ پلیز ماں ابھی کسی سے کچھ مت کہیں آہستہ آہستہ میں خود اسے اس حقیقت کا بتا دونگا یوں اچانک پتہ لگا تو۔ ۔۔
ضوریز خاموش ہوا
تمہیں اسکی اتنی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جنت اب عدت میں ہے تمہیں اس سے دور رہنا ہو گا سمجھے۔ ۔
عدت مطلب۔۔۔؟؟ اور اگر میں دور رہا تو اسے شک ہو گا۔
تو تمہیں عدت کا بھی نہیں پتا۔۔۔ تمہیں اب چار ماہ دس دن اسکے پاس نہیں جانا اسے دیکھنا بھی مت۔ ۔ میں اسے کوئی بہانہ بنا کر کراچی لے جاونگی !
کراچی۔ ۔۔ اچھا ٹھیک ہے مگر جو بھی ہو پلیز اسے بتائیے گا نہیں ۔۔۔ آپ فکر نہ کریں میں اسے خود سے دور رکھوں گا بس آپ ٹھیک ہو جائیں جلدی سے ۔۔ میں آپکو اسطرح نہیں دیکھ سکتا۔۔
ضوریز نے بے بسی سے کہا
کاش ضوریز تم مجھے اسطرح نہ ملے ہوتے۔ ۔ خیر تم سے بھی کیا گلا کروں شاید میری قسمت میں ہی یہ لکھا ہے۔ ۔
آنسہ نے روتے ہوئے کہا
ایکسکیوزمی سر ۔۔۔ ڈاکٹر آئی ہیں چیک اپ کے لیئے۔ ۔۔
ایک نرس نے اندر آکر کر کہا
یس شور۔ ۔ ماں اپنا خیال رکھیں میں بے شک صہیب جیسا نہیں مگر آپکا بیٹا ضرور ہوں۔ ۔۔گڈ بائے۔ ۔!
ضوریز نے جھک کر آنسہ کے کان میں کہا اور سر پر بوسہ لے کر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں گھر جا رہا ہوں سر میں بہت درد ہے میرے۔ ۔۔
ضوریز نے اپنا سر دبا کر کہا
اوہ کیا ہوا زیادہ درد ہے تو دوائی لے لو یہاں سے۔ ۔
جنت نے پریشانی سے پوچھا
نہیں اتنا زیادہ نہیں ہے بس نیند پوری نہیں ہوئی شاید اس لئیے۔ ۔۔ آپ لوگوں کو کچھ چاہیئے تو بتا دیں میں لا دونگا۔۔۔
ارے نہیں بیٹا میں ہوں یہاں کچھ ضرورت پڑی تو میں خود لے لونگا جنت ایسا کرو تم بھی صہیب کے ساتھ چلی جاو۔ ۔ اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا۔ ۔
بشیر نے جنت کو دیکھ کر کہا
جی ماموں میں بھی یہ ہی سوچ رہی تھی پھر میں مامی کے لیئے کچھ بنا کر بھی لے آونگی ۔۔ آپ بس مامی کا خیال رکھئیے گا۔ ۔۔!
جنت نے جواب دیا
نن نہیں تم یہں رہو میں ٹھیک ہوں تم ماں کے پاس رہو انکا خیال رکھو۔ ۔
نہیں بیٹا تمہاری امی کے پاس میں ہوں تم لوگ جاو شاباش۔ ۔ ویسے بھی یہاں زیادہ لوگ نہیں رک سکتے تم دونوں تھوڑا ریسٹ کر کے آجانا۔ ۔۔
بشیر نے زبردستی جنت کو ضوریز کے ساتھ بھیج دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت نے ضوریز کے سامنے ناشتہ رکھا
صبح میں ناشتہ ہی بنا رہی تھی کے اچانک مامی بیمار ہو گئیں کیا ہوا تھا صہیب آپ بتا کیوں نہیں رہے۔ ۔
جنت نے ناشتہ کرتے ہوئے پوچھا
کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ ۔ بس جنت مجھے بھوک نہیں ہے مجھے سونا ہے پلیز مجھے ڈسٹرب مت کرنا۔ ۔۔
ضوریز اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا
اس طرح کیوں بات کر رہے ہو مجھ سے صہیب ایسا کیوں لگ رہا ہے مجھے کے آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو ادھر دیکھو میری طرف۔ ۔۔
جنت نے ضوریز کا چہرہ پکڑ کر اپنی طرف کیا
کیا مسئلہ ہے جنت تم ایک بات کے اتنا پیچھے کیوں پڑ جاتی ہو ایک بار میں بات تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی۔ ۔
ضوریز نے غصے سے جنت کو جنجھوڑ کر کہا
صص صہیب آپ اسطرح۔۔۔ مجھے آپ سے ڈر لگ رہا ہے آپ نے تو کبھی مجھ سے اسطرح بات نہیں کی۔۔ آپ اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں مجھے۔ ۔۔
جنت نے ڈر کر ایک قدم پیچھے کیا
ضوریز نے گہرا سانس لے کر خود کو سنبھالا
دیکھو جنت میں تمہارا صہیب ہی ہوں۔ ۔ مجھے اجنبی مت سمجھو بس میں زرا پریشان ہوں وقت آنے پر سب بتا دونگا پلیز سمجھنے کی کوشیش کرو۔ ۔
ضوریز نے مشکل سے اپنے لہجے کو نرم کیا
اچھا کیسے یقین کروں میں۔ ۔۔امم یہ بتاو میں آپکو کس رنگ میں سب سے اچھی لگتی ہوں۔ ۔۔
جنت نے معصومیت سے پوچھا
لال رنگ میں۔ ۔ ریڈ کلر کی ساڑھی اور ریڈ لپ سٹک میں تم بہت اچھی لگتی ہو۔ ۔۔
ضوریز کو یاد آیا کے ایک بار اس نے صہیب کو جنت سے بات کرتے سنا تھا
اوہ شکر آپ کو یہ تو یاد ہے ورنہ میں سمجھی سب بھول رہے ہیں آپ ۔۔۔اب یقین آگیا مجھے۔ ۔ اچھا روکیں میں لپ سٹک لگا کر آتی ہوں۔ ۔
جنت فوراً بہل گئی
نن نہیں مت لگاو کچھ۔ ۔۔ بنا لپ سٹک کے ہی تمہارے ہونٹ مجھے الجھا دیتے ہیں۔۔۔۔
ضوریز نے جنت کے ہونٹوں کو دیکھا اور پھر نظر پھیر لی ۔۔
یہ کیا بات ہوئی پہلے تو کبھی آپ نے مجھے منع نہیں کیا آج کیوں۔ ۔۔
جنت نے منہ بنایا
سمجھنے کی کوشیش کرو جنت اگر تم اسطرح تیار ہو گی تو میں اپنی نیند کیسے پوری کرونگا پلیز میرے سر میں درد ہے اگر میں نہ سویا تو اور زیادہ درد ہوگا۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کو پیار سے بہلایا
اوہ اچھا ٹھیک ہے آپ سو جائیں جب تک میں مامی کے لیئے کچھ بنا لیتی ہوں۔ ۔۔
تھینک یو جنت تم واقعی ایک بہت معصوم اور پیاری لڑکی ہو۔ ۔ میں نے آج تک تم جیسی لڑکی نہیں دیکھی۔ ۔
ضوریز نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا
ہممم مجھے پتا ہے میں بہت پیاری بہت اچھی اور معصوم ہوں جب ہی تو آپ میرے دیوانے ہیں۔۔
جنت نے ضوریز کا ہاتھ پکڑا
دیوانہ۔ ۔۔ ہاں مجھے بھی یہ لگتا ہے تم مجھے اپنا دیوانہ بنا لو گی۔ ۔۔
ضوریز نے خود سے کہا
کیا کہہ رہے ہو اونچا بولو نہ۔ ۔۔
جنت ضوریز کے تھوڑا قریب آئی
کچھ نہیں پلیزز۔ ۔ جنت اب مجھے سونے دو ۔۔ لیٹ می گو پلیز۔ ۔
ضوریز نے ہوش میں آکر اپنا بازو جنت کے ہاتھ سے چھوڑوایا اور تیزی سے روم میں چلا گیا۔
