Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Do Roop Muhabbat Ke (Episode 18)

Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan

اب کیا ہو گا ضوریز جنت تو کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں۔ ۔۔ تمہاری دادو کو پتا لگا تو وہ یہ خبر برداشت نہیں کر سکیں گی۔ ۔۔ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔

آنسہ بہت پریشان تھیں۔ وہ کافی دیر سے چُپ بیٹھے ضوریز کے سامنے بولے جارہی تھیں۔ ۔

ضوریز میں تم سے بات کر رہی ہوں بیٹا کچھ بولو اسطرح چپ کیوں ہو مجھے تمہاری خاموشی بہت خوف زدہ کر رہی ہے۔ ۔۔۔

تنگ آکر آنسہ نے ضوریز کا کندھا ہلایا

ہاں۔ ۔۔ کک کیا کہ رہی ہیں آپ ۔۔میں نے سنا نہیں۔ ۔

ضوریز نے چونکتے ہوئے کہا

اوہ خدایا کہاں کھوئے ہوئے ہو یہ وقت سوچنے کا نہیں کچھ کرنے کا ہے۔ ۔۔ کیسے منائیں گے ہم ان لوگوں کو تمہارے ابو اتنے پریشان ہیں اور تم نہ جانے کن سوچو میں گم ہو۔ ۔

آنسہ نے اکتا کر کہا

ماں میں بھی یہ ہی سوچ رہا ہوں۔ ۔ اِس وقت مجھے سب سے زیادہ پریشانی جنت کی ہے۔ ۔ یقینً ٹائیگر نے مارک کو جنت کی تصویر بھیج دی ہو گی۔ ۔ اور اب مارک مجھے اور جنت کو تلاش کر رہا ہوگا میں جانتا ہوں مارک کو۔۔۔ وہ غداری برداشت نہیں کرتا اسے پتا لگ گیا ہو گا کے میں نے ٹائیگر کو مار دیا ہے اففف اب مجھے جنت کی فکر ہے۔ ۔ میں جاتا ہوں آج بات کرتا ہوں جنت کی مدر سے۔ ۔۔ میں انکے پاوں پڑ جاونگا ہو سکتا ہے وہ مان جائیں۔ ۔

ضوریز نے ماروخ کے لیئے پھوپو کا لفظ استعمال نہیں کیا جسے آنسہ نے محسوس کیا

بیٹا وہ صرف جنت کی مدر نہیں تمہاری پھوپو بھی ہے جب تم پیدا ہوئے تھے نا سب سے زیادہ وہ ہی خوش ہوئی تھی صہیب سے پہلے تمہیں گود میں اٹھایا تھا کیونکے تم نے صہیب سے پہلے آنکھیں کھول لی تھیں۔ ۔ تمہیں دیکھ کر کہنے لگی کے یہ بہت شرارتی اور بدماش نکلے گا جب کے صہیب ایک شریف بچہ بنے گا۔ ۔ ہمیں کیا پتا تھا یہ بات حقیقت ہو جائے گی۔ ۔

آنسہ جیسے کھو سی گئیں

ماں اگر وہ میرا مطلب ہے پھوپو کو زرا سا بھی مجھ سے پیار ہوتا تو وہ یہ نہ کہتی کے اچھا ہوا میں پیدا ہوتے ہی اغوا ہو گیا۔ ۔۔ انکے الفاظوں نے مجھے بہت تکلیف دی ہے ماں۔ ۔

ضوریز کا گلا رندھ گیا

ایسا مت سوچو بیٹا وہ تم سے محبت کرتی ہے بس اس وقت بہت غصے میں ہے اور اس کا حق ہے غصہ کرنا آخر ہم نے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے دھوکے میں رکھا۔۔۔۔

آنسہ نے ضوریز کے سر پر ہاتھ پھیرا

میں جا رہا ہوں ماں انکے پاس میں انکی مٙنتیں کرونگا۔۔۔ جنت کی زندگی بچانے کے لیئے میں کچھ بھی کرونگا ۔۔ کچھ بھی۔ ۔

ضوریز نے آنسہ کا ہاتھ چوما اور باہر چلا گیا۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہائے میرے بچے یاد آگئی تجھے اپنی دادو کی ہیں ں ں۔ ۔۔۔ کتنا بولا سب کو صہیب سے بات کروا دو مگر مجال ہے جو کوئی میری بات سنے۔ ۔۔ ادھر آ میرے گلے لگ ۔۔

عشرت بی بی نے ضوریز کو دیکھتے ہی اپنے بازو آگے پھیلائے۔ ۔

آممم آ آپ وہ مم میں سوری میں آپ سے بات نہیں کر سکا۔ ۔۔

ضوریز ہچکچاتا ہوا انکے گلے لگ گیا

ہیں تو کب سے اپنی دادو کو سوری کرنے لگا۔ ۔ اللہ جانے کیسی نظر لگ گئی میرے دونوں بچوں کو وہ جنت کل سے ہسپتال سے آکر خاموش پڑی ہوئی ہے کچھ بولتی ہی نہیں اور یہ تیرے بازو پر جس نے گولی ماری اللہ غارت کرے اسے۔ ۔۔ میرے بچے کیا لڑائی ہوئی ہے تم دونوں میں۔ ۔ کوئی کچھ بتاتا ہی نہیں مجھے۔۔ سب بس خاموش رہتے ہیں۔ ۔۔ تم ہی بتاو صہیب میرے بچے کیا ہوا ہے؟؟

دد دادو۔ ۔ وہ کک کچھ بھی نہیں ہوا بس وہ ناراض ہے مجھ سے میں منانے آیا ہوں میں اسے۔ ۔ ہمیں کچھ نہیں ہوا بس کچھ چور آئے تھے انہوں فائیر کر دیا اب میں ٹھیک ہوں دادو آپ بتائیں کیسی ہیں۔ ۔

ضوریز نے انہیں خود سے الگ کیا اور دیکھنے لگا ۔۔ جُھڑیوں زدہ چہرے پر محبت اور پریشانی صاف نظر آرہی تھی ۔۔۔

ہائے میں کیا بتاوں بس بچے ٹھیک رہیں تو ہم بوڑھے بھی خوش رہتے ہیں۔ ۔ بس تم آس پاس نظر نہیں آتے تو دل کو سکون نہیں ملتا پچھلے کتنے ہی مہینوں سے تمہیں دیکھا نہیں۔ ۔۔ نہ ہی تجھے اس بوڑھی دادو کا خیال آیا ۔۔۔۔ بس روز تمہاری ماں سے پوچھ لیتی تھی تمہارا مگر تجھے تو شاید میری یاد ہی نہیں آئی۔ ۔۔

عشرت بی بی نے آنسو صاف کیئے

نہیں دادو ایسی بات نہیں ہے۔ ۔۔ مجھے پتا ہوتا ہے کے اتنی پیاری سی دادو میرا انتظار کر ہی ہیں تو میں سب چھوڑ چھاڑ کر کب کا آ جاتا ۔۔ بس کچھ مجبوریاں تھیں مگر اب میں آ گیا ہوں آپ اداس نہ ہوں پلیزز۔ ۔۔

ضوریز نے انکے کمزور ہاتھوں کو پکڑ کر باری باری چوما۔ ۔

تم۔ ۔ تم یہاں کیا کر رہے ۔۔۔۔ مم میرا مطلب یوں اچانک آئے ہو خیریت ہے ؟

ماروخ اپنے کمرے سے باہر آئیں تو ضوریز کا آنا انہیں اچھا نہیں لگا۔ ۔۔ مگر اپنے لہجے پر قابو پا کر وہ عشرت بی بی کے سامنے نارمل انداز میں بات کرنے لگیں

کیوں پھوپو کیا میں نہیں آسکتا۔ ۔ میری دادو یہاں ہیں مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کے اتنی پیاری سی میری دادو میرا انتظار کر رہی ہیں۔ ۔

ضوریز نے عشرت بی بی کو کندھوں سے پکڑ کر گلے لگایا

کیا ہو گیا ماروخ بچہ اتنے دن بعد گھر آیا اس کے لیئے کھانے کا پوچھنے کے بجائے پتہ نہیں کیا کیا پوچھنے لگی۔ ۔۔ یاد ہے تجھے تم لوگوں کی شادی ہونے سے پہلے کیسے تمہارے آتے ہی کھانا رکھ دیتی تھی۔ ۔۔ اور اب دیکھو پکی ساس بن گئی ہے ۔۔۔

عشرت بی بی اپنا دوپٹا منہ پر رکھے اپنی ہی بات پر ہنسنے لگیں ضوریز بھی انکی بات پر کُھل کر مسکرایا

بس اماں اب ایسا بھی نہیں ابھی کونسا کوئی کھانے کا وقت ہے میں چائے بناتی ہوں۔ ۔

ماروخ کو ضوریز کو مسکراتا دیکھ جی بھر کر غصہ آیا

ارے نہیں آپ یہ زحمت مت کریں ۔۔ مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ ۔ پلیززز

ضوریز نے ماروخ کو روکا

ضروری بات۔ ۔۔۔ مگر مجھے تم سے کوئی ضروری اور غیر ضروری بات نہیں کرنی۔ ۔۔

ماروخ نے بہت آہستہ مگر سختی سے کہا

پلیزز صرف ایک بار ۔۔ ایک بار سن لیں مم میں دوبارا آپکو فورس نہیں کرونگا۔۔۔

ضوریز نے بھی آہستہ آواز میں کہا

ہائے کیا باتیں کر رہے تم لوگ۔ ۔۔کیا بات ہے صہیب کوئی کام ہے تجھے؟ ؟

عشرت بی بی کو ان دونوں کی باتیں سمجھ نہیں آئیں انہوں نے دونوں کے چہروں سے اندازہ لگایا

جی دادو مجھے ان سے کام ہے مگر یہ میری بات ہی نہیں سن رہیں۔ ۔

ضوریز نے مسکرا کر عشرت بی بی سے کہا

ہائے ماروخ کیا ہو گیا ہے تم دونوں ماں بیٹی کو ۔۔۔ بجائے کے بچی کو سمجھا کر گھر بھیجو تم خود ہی ناراض ہو گئی حد ہو گئی بھئی۔ ۔۔

عشرت بی بی نے غصے سے کہا

نہیں اماں ایسی بات نہیں میں تو بس۔ ۔ اچھا خیر تم اندر کمرے میں آجاو وہیں بات کر لیں گے۔۔

ماروخ نے ضوریز کو آنکھیں دیکھائیں۔ ۔۔ضوریز نے اٹھ کر عشرت کے ماتھے پر بوسہ دیا

دادو میں اب آپ سے ملنے آتا رہوں گا اور اگر نہ بھی آسکا تو یہ مت سمجھئے گا کے مجھے آپکی فکر نہیں۔ ۔ بس کچھ مجبوری ہو جاتی ہے۔ ۔ اچھا اب آپ نے اداس نہیں ہونا اوکے؟

اس نے عشرت بی بی کو گلے لگایا

ہاں میں جانتی ہوں بس کیا کروں تم لوگوں کو دیکھے بغیر سکون نہیں ملتا بس فون پر ہی بات کر لیا کر اچھا۔ ۔ چل اب اپنی پھوپو کی بات سن لے ۔۔ اللہ تم لوگوں کو اپنی امان میں رکھے۔ ۔

عشرت نے ضوریز کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔ ضوریز ماروخ کے پیچھے چلتا ہوا روم میں آگیا

کہو کیا بات کرنی ہے ۔۔؟

ماروخ نے کھڑے کھڑے پوچھا

پلیز آرام سے اور تسلی سے بیٹھ کر میری بات سنیں۔ ۔

ضوریز نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی سامنے بیٹھ گیا

جلدی بات کرو ورنہ جنت اٹھ جائے گی اور ۔۔۔ خیر جلدی کہو۔ ۔۔

ماروخ نے بیٹھتے ہوئے کہا

پپ پھوپووو۔ ۔ میں آپکو پھوپو کہ سکتا ہوں۔ ۔۔ ہنہ ویسے آپ میری بھی پھوپو ہی ہیں ۔۔ میں اس رشتے سے اتنا واقف نہیں ہوں۔ ۔ مگر امی نے بتایا کے جب میں۔ ۔ میرا مطلب ہے جب ہم پیدا ہوئے تو سب سے زیادہ آپ خوش تھیں۔ ۔۔ مجھے گود میں اٹھا کر آپ نے کہا تھا کے میں بدماش ہوں اور صہیب شریف ۔۔ اور جب میں گم ہو گیا تھا تو سب سے زیادہ آپ روئی تھیں۔ ۔۔ پھوپو اب آپ میرے ملنے پر خوش کیوں نہیں۔ ۔۔ میں اب بھی آپ لوگوں کا خون ہوں۔ ۔ مانتا ہوں کے میں نے دھوکا دیا مگر میری نیت غلط نہیں تھی۔ ۔۔۔۔

ضوریز نے گہرا سانس لیا

پھوپو۔ ۔۔ صہیب نے ہاہ۔ ۔ صہیب نے آخری سانس میرے ہاتھوں میں لیا اس وقت اس نے آپ سب کی زمیداری مجھے سونپی تھی خاص طور پر اس نے جنت کا کہا تھا اس نے بتایا تھا جنت اسکے بغیر جی نہیں سکے گی۔ ۔۔ اس کی آنکھوں میں جو التجا تھی میں وہ سمجھ گیا تھا مگر۔ ۔۔

ضوریز کا گلا رندھ گیا وہ تھوڑی دیر خاموش رہا

مگر یہ سب میں نے کسی غلط نیت سے نہیں کیا۔ ۔۔ میں نے سوچا تھا کے یوں اچانک جنت کو پتا لگا تو وہ برداشت نہیں کر پائے گی مجھے لگا کچھ دن اسے خود سے دور رکھوں گا تو وہ صہیب کے بغیر جینے کی عادی ہو جائے گی۔ ۔ ہنہ مگر مجھے کیا معلوم تھا اسے دور کرنے کے بجائے میں خود اس کے اتنا پاس آگیا۔ ۔۔ پھوپو میں جنت کے بنا نہیں رہ سکتا پلیززز جنت کو گھر بھیج دیں میں اسکا خیال رکھنا چاہتا ہوں مجھے ڈر ہے کہیں جنت کو کوئ۔ ۔۔

جنت کا خیال ہم رکھ سکتے ہیں ضوریز۔ ۔۔ جنت تمہاری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔ ۔ تم نے یہ سوچا بھی کیسے کے جنت صہیب کی جگہ تمہیں دے دے گی۔ ۔ ہاں جب تم دونوں پیدا ہوئے میں بہت خوش تھی مگر میں اس بچے کے لیئے خوش تھی جو معصوم تھا تمہاری طرح مجرم نہیں تھا۔ ۔۔ پلیزز اب ہمارا پیچھا چھوڑ دو اور جنت فکر مت کرو ۔۔ ابھی اس کے ماں باپ زندہ ہیں خیال رکھ سکتے ہیں اسکا۔ ۔

ماروخ جو اتنی دیر سے ضبط کیئے بیٹھی تھی پھٹ پڑی

پھوپو پلیززز سمجھنے کی کوشیش کریں یہ آپ لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے ایک بار مجھ پر اعتبار کریں میں وہ سب چھوڑ کر آ چکا ہوں۔۔۔ میں جنت کو بہت خوش رکھو گا۔۔۔

ضوریز نے التجا کی

یہ نا ممکن ہے آخر تمہیں سمجھ کیوں نہیں آ رہی ی۔ ۔

آپکو سمجھ کیوں نہیں آرہی۔ ۔۔

ضوریز غصے سے کھڑا ہوا

اوہ۔ ۔ آیم سوری آپ سمجھنے کی کوشیش کریں میں جنت کو اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔۔ میں نہیں چاہتا اسے کوئی بھی نقصان پہنچے میں پریشان ہوں اس کے لیئے۔ ۔۔

ضوریز نے نرم لہجے میں سمجھایا

تم ایک کام کیوں نہیں کرتے تم واپس وہیں چلے جاو ہم سمجھیں گے کے تم دوبارہ سے اغوا ہو گئے اسطرح ہم سب سکون میں آ جائیں گے۔ ۔

ماروخ نے ضوریز کے سامنے کھڑے ہو کر کہا

پھوپو۔ ۔ اتنی نفرت مت کریں مجھ سے میں بے بس ہوں جنت بہت عزیز ہو گئی ہے مجھے۔ ۔۔ میں اس کے بنا نہیں رہہ سکتا پلیززز۔۔۔

پلیززز ضوریز چلے جاو یہاں سے۔ ۔۔

ماروخ نے ہاتھ جوڑ دیئے اور رونے لگیں

ضوریز کو بہت دکھ ہوا۔ ۔ اس نے ایک نظر ماروخ کے جوڑے ہوئے ہاتھوں پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔

میں تم سے نفرت نہیں کر سکتی مگر میری بچی مجھے زیادہ عزیز ہے ضوریز وہ اب تمہیں قبول نہیں کر پائے گی کاش تم ہمیں اسطرح نہ ملے ہوتے تو میں بتاتی کے تمہارے ملنے پر میں کتنی خوش ہوں۔۔

ماروخ نے دل میں سوچا اور کتنی ہی دیر وہ وہاں بیٹھ کر روتی رہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ نہیں مانی ماں۔ ۔۔ مجھے تو لگتا وہ مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔ ۔

ضوریز نے ٹوٹے لہجے میں کہا

ایسی بات نہیں ہے میں جانتی ہوں اسے اتنی جلدی اور آسانی سے غصہ نہِیں اترتا اس کا۔ ۔۔ تم پریشان مت ہو میں اور تمہارے ابو جائیں گے اس سے بات کرنے۔ ۔

آنسہ نے پیار سے ضوریز کے چہرے پر ہاتھ رکھا

میں جانتی ہوں ضوریز تم جنت سے بہت محبت کرنے لگے ہو۔ ۔ جس طرح تم ہوسپٹل میں اس کے لیئے تڑپ رہے تھے وہ دیکھ کر مجھے لگا صہیب کی روح تم میں آگئی ہے وہ بھی جنت کو اتنا ہی چاہتا تھا کبھی اگر جنت کو ہلکا سا بخار بھی ہو جاتا پورا پورا دن اس کے پاس رہتا جب تک وہ ٹھیک نہ ہو جاتی۔ ۔۔ بہت جلد تمہاری پھوپو بھی اس بات کو تسلیم کر لیں گی کے تم صہیب نہ صحیح مگر تمہاری محبت صہیب سے کم نہیں ہے۔ ۔۔

آئی وش۔ ۔ انہیں اس بات کا جلدی اندازہ ہو جائے۔ ۔ بہت تھک گیا ہوں ماں آپ کی گود میں سر رکھ لوں۔ ۔

ضوریز نے آنسہ کا ہاتھ پکڑ کر التجا کی

ہاں میری جان آو اپنی ماں کی گود میں سو جاو ۔۔۔

ضوریز نے آنسہ کی گود میں سر رکھا آنسہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں ۔۔ ضوریز نے پُرسکون ہو کر آنکھیں موند لیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضوریز رات ہوتے ہی جنت کے گھر کے سامنے چھپ کر بیٹھ گیا وہ پچھلے دو دن سے اسی طرح خاموشی سے پوری پوری رات جنت کے گھر کے باہر بیٹھا اسکا خیال رکھتا اسے ڈر تھا کے جنت کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔۔۔

وہ مسلسل جنت کے گھر کی طرف نظریں جمائے ہوئے بیٹھا تھا تھک کر اس نے اپنی گردن کو دائیں بائیں طرف موڑا ایک دم اسکی نظر دیوار کی طرف پڑی وہاں اُسے دو سائے نظر آئے۔۔۔اندھیرے میں اُسے ایسا لگا کے وہ دیوار کودنے لگے ہیں وہ بھی فوراً کھڑا ہوا اور آہستہ سے چلتا ہوا انکے قریب آیا۔ ۔۔ تھوڑا غور کیا تو وہ دو آدمی تھے دونوں کے چہروں پر نقاب تھا۔ ۔۔ ایک آدمی نے ٹارچ جلائی تو ضوریز فوراً چھپ گیا۔ ۔۔ اب دوسرا آدمی دیوار پر چڑ رہا تھا۔۔

ضوریز نے ہلکا سا آگے ہو کر دوبارہ دیکھا تو اس کے بازو پر ایک خاص ٹیٹو بنا ہوا تھا ۔۔۔

اوہ یہ تو مائیکل ہے۔ ۔۔

ضوریز کو یاد آیا مائیکل کے بازو پر بھی یہ ہی ٹیٹو بنا ہوا تھا

ہنہ تو میرا خیال صحیح ثابت ہوا یقینً مارک نے اسے جنت کو مارنے کے لیئے بھیجا ہے۔ ۔۔

ضوریز نے دل میں سوچا اسے مارک پر شدید غصہ آیا

جیسے ہی وہ دونوں اندر ٹاپ گئے ضوریز بھی جلدی سے دوسری طرف سے کود گیا۔ ۔۔ ضوریز کی نظریں مسلسل دونوں پر تھیں وہ بہت احتیاط سے دونوں کا پیچھا کر رہا تھا۔ ۔ مائیکل نے اپنے آدمی کو اشارا کیا وہ آدمی سر ہلا کر وہیں کھڑا ہو گیا اور ارد گرد دیکھنے لگا۔ ۔۔ مائیکل نے ایک روم کا دروازہ بہت آہستہ سے کھول کر دیکھا۔ ۔۔ اور پھر مُڑ کر اس بندے کی طرف دائیں بائیں سر ہلایا گویا یہ بتایا ہو کے یہاں وہ نہیں جس کی اُنہیں تلاش ہے۔ ۔۔ پھر مائیکل دوسرے روم کی طرف گیا ضوریز کا دل زور سے دھڑکا کیونکے وہ روم جنت کا تھا۔ ۔ جیسے ہی مائیکل نے دروازہ کھولا تو اس نے آدمی کو انگھوٹا دیکھایا جیسے بتایا ہو کے جنت مل گئی۔ ۔۔ اب باہر کھڑا آدمی باہر کی رکھوالی کر رہا تھا ضوریز نے مزید ٹائیم ضائع کیئے بغیر اپنا چاقو نکالا اور بہت احتیاط سے چلتا ہوا اس آدمی کے پاس آیا اس سے پہلے کے آدمی ضوریز کا سایا دیکھ کر پلٹتا ضوریز نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے چاقو سے اس کی شہ رگ کاٹ دی وہ آدمی تڑپنے لگا ضوریز کو جلدی تھی ضوریز نے اسکی گردن کو جھٹکا دیا اور یوں وہ آدمی ایک سکینڈ میں خاموشی سے ایک طرف لڑھک گیا

مائیکل کو ہلکے سے کسی کے گرنے کی آواز آئی تو اس نے فوراً باہر دیکھا اور وہ سمجھ گیا مائیکل نے تیزی سے جنت کو اٹھا کر کھڑا کیا۔ ۔۔

Zoraiz i know you are here … Don’t do this i swear i will kill her….

(ضوریز میں جانتا ہوں تم یہاں ہو۔ ۔۔ یہ مت کرو میں قسم کھاتا ہوں اِسے مار دونگا)

جنت جو کے نیند میں تھی ایک جھٹکے سے اٹھ گئی اب اسکی گردن مائیکل کے ہاتھ میں تھی مائیکل نے اس کے سر پر گن رکھ دی۔۔

جنت کو لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو اس نے مکلمل آنکھیں کھول کر ایک نظر مائیکل کو اپنے اتنے پاس دیکھا تو وہ ہوش میں آئی اس سے پہلے کے وہ چیخ مارتی مائیکل نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔

ضوریز مائیکل کے سامنے آگیا اور بہت غصے سے مائیکل کو دیکھنے لگا

Don’t touch her micheal otherwise i will kill you …..

(اِسے ہاتھ مت لگاو مائیکل ورنہ میں تمہیں مار دونگا۔ ۔۔)

ضوریز نے مائیکل کے ہاتھ کو دیکھا جو جنت کے منہ پر تھا اور جنت کا سانس گُھٹ رہا تھا

Hahaha as u killed tigger haan but u know what zoraiz… now mark will not let u live sorry buddy i have to kill her i am slave of the order….!

(ہاہاہا جیسے تم نے ٹائیگر کو مارا ہاں۔ ۔۔لیکن تمہیں پتا ہے ضوریز اب مارک تمہیں زندہ نہیں رہنے دے گا۔ ۔ سوری بڈی مجھے اسے مارنا ہوگا میں تو حکم کا غلام ہوں)

مائیکل نے اپنی بات مکمل کر کے جنت کو دیکھا ہی تھا کے ضوریز نے اپنے ہاتھ میں پکڑے چاقو کو آگے کی طرف گُھومایا اور سیدھا مائیکل کی گردن کی طرف مارا ضوریز کا نشانہ بہت اچھا لگا اور چاقو چند ہی سیکنڈ میں مائیکل کی گردن کے اندر کُھب گیا مائیکل اس حملے کے لیئے تیار نہ تھا اس نے جنت کے منہ سے ہاتھ ہٹایا اور اپنی گردن پر ہاتھ رکھا جہاں چاقو پھسا ہوا تھا۔ ۔

ضوریز جلدی سے مائیکل کے پاس آیا اور اس کی گردن کو پکڑ کر موڑ دیا ۔۔ خوف کے مارے جنت کی آواز اس کے گلے میں ہی پھس گئی وہ منہ پر ہاتھ رکھے گہرے سانس لینے لگی۔ ۔ ضوریز نے مائیکل کو ختم کر کے جنت کو دیکھا اور اسکی طرف آیا

جنت ریلکس کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دونگا۔۔۔

ضوریز اس کے قریب آنے لگا

نن نہیں۔ ۔۔ پپ پاس مت آنا۔ ۔۔

جنت کے منہ سے گھٹی ہوئی آواز نکلی

اچھا میں پاس نہیں آتا مگر تم گہرا سانس لو میری طرف دیکھو جنت سب ٹھیک ہے ہممم ریلکس پلیز ٹھیک سے سانس لو۔ ۔۔

جنت کا سانس اکھڑ رہا تھا اور اسکا چہرہ بھی لال ہو گیا تھا وہ نیچے گرے ہوئے مائیکل کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔۔ ضوریز کے اپنے بازو سے بھی خون نکلنے لگا اس کے بازو پر بندھی پٹی لال ہو گئی مگر اُسے صرف جنت کی فکر تھی۔ ۔۔

پلیزز جنت بی ریلکس گہرا سانس لو پلیززز۔۔۔

جنت ابھی تک ہچکیاں لے رہی تھی

امی ی۔ ۔۔ امی کو بلاو مجھے تت تم سے ڈر لگ رہا ہے۔ ۔۔

جنت ضوریز سے بری طرح خوفزدہ ہو گئی اپنے سامنے اتنا خون اس نے پہلی بار دیکھا تھا

ضوریز ایک بار پھر اس کے پاس آنے لگا جنت نے ڈر کر ایک چیخ ماری

امی ی ی ی۔ ۔۔۔!

ماروخ اور راشد بھاگتے ہوئے کمرے میں آئے اور دو آدمیوں کو اسطرح دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ۔۔

یی یہ کک کیا ہے کک کون ہیں یہ ہمارے گھر کیسے آئے اور تت تم۔ ۔۔

راشد نے گھبرا کر ضوریز سے پوچھا جبکے ماروخ نے جنت کو گلے لگایا جو گلے لگتے ہی شدت سے رونے لگی

میں بتاتا ہوں آپ لوگوں کو سب کچھ مگر پہلے مجھے انہیں کہیں ٹھکانے لگانا ہوگا۔ ۔

ضوریز نے مائیکل کو دیکھا اور پھر اردگرد دیکھا ایک ٹاول پڑا نظر آیا۔ ۔ ضوریز نے وہ اٹھا کر گیلا کیا اور مائیکل کا خون صاف کیا ۔۔۔

مجھے ایک کپڑا چاہیئے پلیزز جلدی ی۔ ۔۔

ضوریز یہ سب اتنی مہارت سے کر رہا تحھا جیسے اسکا روز کا کام ہو

آں ہاں وہ میں دیتا ہوں۔ ۔

راشد سمجھ گیا تھا کے لاشوں کو اب جلد ٹھکانے لگانا ہوگا

انہوں نے ضوریز کو ایک کپڑا لا کر دیا ضوریز نے مائیکل کے گلے سے چاقو نکالا۔۔۔ راشد اور ماروخ نے یہ دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کیں۔ ۔ ضوریز نے اپنا چاقو صاف کیا اور مائیکل کے گلے سے نکلتے خون کو روکنے کے لیئے وہ کپڑا اسکی گردن پر لپیٹ دیا پھر مائیکل کو گھسیٹ کر باہر لایا۔ ۔۔

آپ میری مدد کریں گے ۔۔۔

مائیکل کافی بھاری تھا ضوریز نے راشد کو بولایا ۔۔ راشد نے تھوڑا سا سہارا دے کر مائیکل کو اس کے کندھے پر ڈالنے میں مدد کی۔ ۔ ضوریز چلتا ہوا باہر گیا اور تھوڑا دور جاکر ایک طرف مائیکل کو پھینک دیا اور اسکی گردن سے کپڑا اتار کر اندر آگیا۔ ۔۔ اِسی طرح اس نے دوسرے آدمی کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ ۔ اچھی طرح ان دونوں کا خون صاف کیا جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔۔

جنت اب کافی سنبھل چکی تھی مگر ابھی بھی وہ ضوریز کی طرف دیکھنے سے ڈر رہی تھی

یہ سب کیا تھا کون تھے یہ لوگ۔ ۔۔

راشد نے ضوریز سے پوچھا۔ ۔

یہ مارک کے آدمی تھے۔ ۔ مارک اب میرا اور جنت کا دشمن بن گیا ہے وہ مجھ سے انتقام لے گا میں نے اسے جنت کی وجہ سے دھوکا دیا ہے اب وہ۔ ۔۔۔ مگر آپ پریشان نہ ہوں میں جنت کو کچھ نہیں ہونے دونگا۔ ۔۔

ضوریز نے ایک نظر جنت پر ڈالی

راشد اور ماروخ ضوریز کی یہ بات سن کر گھبرا گئے۔ ۔

تت تمہارا مطلب ہے کے یہ جنت کو مارنے آئے تھے اوہ خدایا اگر میری بچی کو کچھ ہو جاتا تو۔ ۔

ماروخ نے پریشانی سے کہا

اسی لیئے کہ رہا تھا میں آپکو کے جنت کو گھر بھیج دیں میں جنت کے پاس رہونگا مجھے تسلی رہے گی وہ تو شکر ہے میں دو دن سے آپ کے گھر کے باہر بیٹھ کر آنے جانے والے لوگوں پر نظر رکھ رہا تھا ورنہ۔۔۔

تم ایک کام کیوں نہیں کرتے تم خود کو انکے حوالے کر دو دوبارہ سے انکے پاس چلے جاو اسطرح ہم سب سکون میں آجائیں گے۔ ۔۔

جنت نے ضوریز کی بات کاٹی اور نفرت سے کہا

جج جنت۔ ۔۔ یقین کرو اگر اسطرح یہ سب ٹھیک ہو جاتا تو میں کب کا خود کو ان کے حوالے کر چکا ہوتا۔ ۔ میں نے اس کے آدمی کو مارا ہے اور وہ جان گئے ہیں کے یہ سب میں نے تمہارے لیئے کیا تھا۔ ۔ اس لیئے پلیز آپ سب مجھے سمجھنے کی کوشیش کریں میں اب جنت کو اس طرح اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ ۔۔۔

ضوریز کو جنت کی بات سن کر بہت دکھ ہوا مگر وہ پھر بھی ڈھیٹ بن کر سب کو سمجھانے لگا

مجھے کوئی بات نہیں سنی تمہاری تم ایک دھوکے باز انسان ۔۔۔

جنت بیٹا ایک منٹ آپ چپ کرو ماروخ جنت کو اپنے روم میں لے جاو اور اسے ریلکس کرو۔ ۔مجھے ضوریز سے کچھ بات کرنی ہے۔ ۔۔

راشد نے جنت کی بات کاٹ کر کہا

اب ابو مگر یہ قاتل۔ ۔۔

جنت بیٹا پلیزز اپنے باپ پر بھروسہ کرو۔ ۔۔

راشد نے جنت کو خاموش کروایا اور اسے گلے لگا کر تسلی دی۔ ۔۔

ماروخ جاو اسے روم میں لے جاو۔ ۔

ماروخ جنت کو پکڑ کر باہر کے گئیں۔ ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *