Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan NovelR50614 Do Roop Muhabbat Ke (Episode 24)
Rate this Novel
Do Roop Muhabbat Ke (Episode 24)
Do Roop Muhabbat Ke by Maria Awan
ضوریز نے جنت کو اپنے پیچھے چھپا لیا
دور رہہ کر بات کرو۔ ۔ جو چاہیئے بتا دو ۔۔۔
ضوریز نے سختی سے کہا
ہاہاہا تیری بیوی چاہیئے دے گا۔ ۔
ان میں سے ایک آدمی نے زور زور سے ہنس کر کہا۔ ۔ باقی سب بھی ہسنے لگے۔۔ ضوریز نے غصے سے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔ ۔
تم لوگوں کو شاید سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔
ضوریز نے دانت پیستے ہوئے کہا
او اچھا۔ ۔۔ تو اب تُو ہمیں سمجھائے گا۔۔۔ چل لڑکی جو سونا پہنا ہے اتار کر دے۔ ۔۔
اب وہ آدمی آگےبڑھ کر جنت کی طرف آنے لگا
میں نے کہا نا دور رہہ کر بات کرو ورنہ۔ ۔۔
ضوریز نے اس آدمی کا ہاتھ پکڑ لیا
اوئے ہاتھ چھوڑ اس کا ورنہ اس بندوق کی گولی سے تیرا دماغ کھول دونگا۔ ۔
پیچھے کھڑے آدمی نے اپنی گن ضوریز کے سامنے کی
ضوریز نے اُس آدمی کا ہاتھ چھوڑا اور جنت کی طرف پلٹا
جنت تم زرا نیچے ہو کر بیٹھ جاو بس کھڑی مت ہونا۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کے کان میں سرگوشی
کیا بول رہا ہے ثالے۔ ۔۔ابھی بتاتا ہوں تجھے۔۔۔
ایک آدمی نے اپنی گن لوڈ کی۔ ۔۔ ضوریز نے اس کے آگے کھڑے آدمی کو کک ماری جس کا دیہان اپنے ساتھی پر تھا وہ ایک دم لڑکھڑا کر سائیڈ پر گرا اور اسکی بندوق ہاتھ سے گر گئی۔ ۔ جس آدمی نے بندوق لوڈ کی تھی اس نے ضوریز کی طرف فائیر کیا مگر ضوریز تیزی سے نیچے جُھکا اور پلٹ کر اسے گردن سے پکڑ لیا ۔۔ ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے گرا ہوا بندہ بندوق اٹھاتا ضوریز نے اس کی گن پاوں سے دور کی اور جسکی گردن پکڑی ہوئی تھی اسکی گن چھین کر اس کے سر پر رکھی۔ ۔۔
نیچے کرو تم اپنی گن۔ ۔
ضوریز نے تیسرے آدمی کو سختی سے کہا ۔۔ ۔ جو پہلے ہی ضوریز کی تیزی دیکھ کر ڈرا ہوا تھا۔۔۔
اور تم دونوں۔۔۔۔یہاں کھڑے ہو جاو جلدی۔ ۔۔
ضوریز نے ان دونوں کو اشارا کیا۔ ۔ جنت گھٹنوں کے بل بیٹھی آنکھیں پھاڑے ضوریز کو دیکھ رہی تھی
کون ہو تم سچ سچ بتاو ورنہ تمہارے دماغ کے دو حصے کر دونگا۔ ۔
ضوریز اپنے بازو سے اس کی گردن دبائی
بب بتاتا ہوں مم میری سس سانس۔ ۔۔۔
اس آدمی کا سانس اٹکنے لگا
بھائی ہم تو چھوٹے سے ڈاکو ہیں آتے جاتے لوگوں سے پیسے اور سونا لے لیتے ہیں۔ ۔۔ ہمیں چھوڑ دو ہمیں نہیں پتا تھا کے تم تو ہم سے بھی اوپر ہو ہمیں معاف کر دو۔ ۔۔
اس کے سامنے کھڑے آدمی نے ہاتھ جوڑے
جنت کو لگا ضوریز اس آدمی کو مار ہی دے گا وہ ہمت کرتے ہوئے کھڑی ہوئی
ضض ضوریز یی یہ مر جائے گا چھوڑ دو پپ پلیززز۔ ۔۔
جنت ضوریز کے قریب آئی
ضوریز نے چہرہ موڑ کر جنت کو دیکھا اور اس آدمی کو چھوڑ دیا۔ ۔۔
صرف اس کی وجہ سے چھوڑ رہا تم لوگوں کو ورنہ جو حرکت تم لوگوں نے کی اس کے لیئے تو میں تم لوگوں کی نسلیں ختم کر دیتا۔ ۔۔
ضوریز نے انگلی اٹھا کر غصے سے کہا
بب بہت شکریہ بب بھابی جی۔۔۔
ایک آدمی نے جنت سے کہا
ٹھیک ہے جاو اب اور ہاں میری شکل بھولنا مت اگر دوبارا ایسی حرکت کی نہ تو۔ ۔۔ خیر دفع ہو جاو اب یہاں سے۔ ۔۔
وہ تینو سر ہلاتے ہوئے وہاں سے بھاگ نکلے
چلو جنت گاڑی میں بیٹھو۔ ۔
ضوریز نے جنت کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی میں بیٹھایا اور پھر خود گھوم کر ڈرائیونگسیٹ پر بیٹھ گیا
ہنہ پہلے ہی دیر ہو رہی تھی۔۔۔
ضوریز اپنے منہ میں بُڑنُڑایا
ایک بات پوچھوں۔ ۔؟؟
جنت نے ڈرتے ہوئے پوچھا
جی جناب دس باتیں پوچھیئے۔ ۔؟
ضوریز نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے جنت کو دیکھا
آپ نے ایک ساتھ تین آدمیوں کو مارا۔۔۔ ایسا کیسے یہ تو میں نے بس فلموں میں دیکھا۔ ۔۔
جنت نے معصومیت سے کہا
ہاہاہا جنت بی بی اتنی معصوم کیوں ہو میری جان۔۔۔ میں یہ کام پچھلے دس سالوں سے کر رہا ہوں۔۔۔ اتنے رش میں بھی میں خاموشی سے قتل کر دیتا تھا کسی کو پتا بھی نہیں چلتا تھا۔ ۔بہت سے بڑے غنڈوں کو مارا ہے میں نے۔ ۔ یہ ہی ٹرینگ تو لی ہے میں نے بچپن سے۔ ۔۔
ضوریز ہنس کر بولا
ہنہ یہ کوئی فخر کرنے کی بات نہیں ہے جو اتنا ہنس کر بتا رہے ہیں خدا کا خوف کریں آج آپ مار رہیں کل کوئی آپکے اپنوں کو بھی مار سکتا ہے بلکے صہیب بھی آپکے کیئے گئے گناہوں کی وجہ سے ہم میں نہیں۔ ۔
جنت آخر میں جزباتی ہو گئی
اوہ پلیززز جنت بار بار مجھے صہیب کا قاتل مت کہو جتنا مجھے صہیب کی موت کا دکھ ہے نا میں تم سے بیان نہیں کر سکتا مانتا ہوں کے میں نے بہت غلط تھا مگر میں کیا کرتا اس وقت میرے پاس اور کوئی اوپشن نہیں تھا۔ ۔ اور یقین کرو جس دن تم بھٹک کر کسی خطرناک راستے چلی گئی تھی اس دن مجھے اپنے کیئے گئے سب مرڈرز پر بہت افسوس ہوا تھا اسی دن میں نے فیصلہ کیا تھا اب یہ کام نہیں کرونگا۔ ۔۔
ضوریز نے تفصیل سے جواب دیا تاکے جنت آئیندہ اس کے لیئے غلط نہ سوچے
اچھا جھوٹ مت بولیں آج اگر میں نہ روکتی تو آپ اُن چوروں کو مار دیتے۔ ۔
جنت نے طنزیہ کہا
ایسی بات نہیں ہے جنت۔ ۔۔ ہاں مجھے ان پر بہت غصہ آیا تھا دل تو کر رہا تھا انکی بوٹیاں کر دوں لیکن اگر تم نہ بھی کہتی تو میں انہیں جان سے نا مارتا۔۔ ہاں مگر میرا ارادہ انہیں سبق سکھانے کا ضرور تھا۔ ۔۔
ہنہ دوسروں کو سبق سکھائیں گے پہلے خود تو ٹھیک ہو جائیں۔ ۔۔
جنت نے آہستہ آواز میں کہا مگر ضوریز نے سن لیا پر وہ خاموش رہا۔۔
آگے کا سفر خاموشی سے گزرا۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو جنت اترو ۔۔۔!
ضوریز نے ایک تنگ سی گلی میں گاڑی روکی
یہاں کیوں اتر رہیں ہم اس جگہ رہیں گے۔ ۔۔
جنت کو گلی کیی
حالت دیکھ کر عجیب لگا
نہیں یار ہر بات پر سوال کرنا ضروری ہوتا ہے بس اترو تم۔ ۔۔
ضوریز نے اُکتا کر کہا
ہنہ بدتمیز۔ ۔
جنت غصے سے اتر گئی۔ ۔ ضوریز اسکی شکل دیکھ کر مسکرا دیا
بھئی یہاں ایک گھر میں بابا لوگ ہیں انہیں پِک کرنے آیا ہوں پھر آگے چلیں گے۔ ۔۔
ضوریز نے پیار سے جنت کا ہاتھ پکڑا
ہنہ اب بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔
جنت نے اپنا ہاتھ چُھڑوایا
آئے ہائے اتنی جلدی بس ناراض ہو جاتی ہو خیر پلیز جلدی چلو۔ ۔۔
ضوریز نے دوبارہ جنت کا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے چلنے لگا ۔۔ ایک پرانے سے مکان کے آگے کھڑا ہو کر دروازے کو بجانے لگا۔۔۔
کک کون ہے۔ ۔۔؟
اندر سے آواز آئی
بابا میں ہوں ضوریز دروازہ کھول دیں۔۔
ضوریز نے آہستہ سے جواب دیا
اوہ شکر خدا کا تم لوگ آ گئے کب سے انتظار کر رہے ہیں۔ ۔۔
بشیر نے دروازہ کھولتے ہی ضوریز کو گلے لگایا
جنت بیٹا کیسی ہو سفر ٹھیک رہا۔ ۔۔؟
بشیر نے دوسرے ہاتھ سے جنت کو اپنے گلے لگایا
جی ماموں بس ٹھیک ہی رہا پر راستے میں ہمیں۔ ۔۔
جنت پلیزز یہ باتیں بعد میں بتا دینا بابا جلدی سے آجائیں آپ سب لوگ ہمیں فوراً نکلنا ہے۔ ۔۔
ضوریز نے جنت کی بات کاٹی
ہنہ میں آپ سے بات نہیں کر رہی سمجھ آئی بلا وجہ ہے میری ہر بات کے بیچ میں مت بولا کریں۔ ۔۔
جنت کو اب صحیح معنوں میں غصہ آیا اور اب وہ اپنے ماموں کے سامنے ایک شیرنی کی طرح بولی
اوہ اتنا غصہ۔ ۔۔ سوری یار ابھی ٹائم بہت کم ہے بابا پلیزز آپ ہی سمجھائیں۔ ۔۔
ضوریز کو احساس تھا کے وہ بار بار جنت کو ٹوک رہا ہے مگر اس کی مجبوری تھی
اچھا اب تم لوگ لڑو مت اندر تو آجاو۔ ۔۔
بشیر نے دونوں کو راستہ دے کر اندر بلایا
میرا بچہ اتنی دیر لگا دی عجیب عحیب سے وحم آرہے تھے مجھے شکر ہے اللہ کا ۔۔۔
آنسہ نے جیسے ہی ضوریز کو دیکھا فوراً گلے لگایا جنت بھی تیزی سے ماروخ کے گلے لگ گئی۔ ۔
ماں بس تھوڑی دیر ہوگئی اب آپ سب لوگ جلدی سے میرے ساتھ چلیں ہمیں ابھی نکلنا ہے۔ ۔
ضوریز نے ایک نظر ماروخ کو دیکھا مگر ان سے ملا نہیں
ارے ایک منٹ مجھے میری بچی سے تو مل لینے دو۔ ۔
آنسہ نے جنت کو اپنے پاس بلایا جنت خاموشی سے انکے گلے لگ گئی۔ ۔۔
نانو اور ابو کہاں ہیں وہ نظر نہیں آرہے۔ ۔۔؟
جنت نے اپنا سر آنسہ کے سینے سے اٹھا کر پوچھا
وہ تمہاری نانوں کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اس لیئے وہ راشد کے دوست کے ہاں ہی رک گئیں۔ ۔ راشد نے کہا وہ لوگ بعد میں آجائیں گے ۔۔۔
بشیر نے جواب دیا
کک کیا کیا ہوا ہے نانو کو؟
جنت نے گھبرا کر پوچھا
بس وہ ہی ٹانگوں اور کمر میں درد ضوریز نے بتایا تھا گاڑی میں سفر کرنا ہے پھر اسی نے مشورہ دیا تھا کے اماں جی کو وہیں چھوڑ آئیں یہ بعد میں اُنہیں جہاز میں لے آئے گا۔ ۔۔
بشیر نے ضوریز کی طرف دیکھ کر کہا
ہاں پریشان مت ہو جنت وہ دونوں سیف ہیں میں انہیں لے آونگا ابھی پلیزز آپ لوگ یہاں سے چلیں۔ ۔۔
ضوریز نے سامنے پڑا بیگ اٹھایا اور باہر کی طرف چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا کہاں جا رہے ہیں ہم اور کتنا راستہ ہے؟
آنسہ نے اپنی سیٹ سے تھوڑا آگے کھسک کر پوچھا
اماں بس چند گھنٹے اور امم تقریباً تین گھنٹے تک ہم اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ ۔۔
ضوریز نے بیک مرر سے آنسہ کو دیکھا
اچھا ان شاءاللہ کہا کرو ہر بات پہ۔ ۔
آنسہ نے گہرا سانس لیا
ہنہ انہیں خود پر بہت اعتماد ہیں مامی یہ ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتے۔ ۔
جنت کا غصہ اب تک کم نہیں ہوا تھا
ارے جتنا مرضی اعتماد ہو اللہ کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ ۔۔
ضوریز نے مرر کو تھوڑا ہلا کر جنت پر فوکس کیا اور اسے دیکھ کر مسکرایا
آپ بھی نا پتا نہیں کسے یہ باتیں بتا رہی ہیں آپ کو بتاوں ابھی راستے میں کیا ہوا ہمارے ساتھ۔ ۔۔۔؟
جنت کا کب سے دل کر رہا تھا کے وہ یہ بات بتائے۔ ۔۔
ہاں بتاو کیا ہوا۔ ۔؟
ماروخ نے پوچھا
امی ہمارے راستے میں چور آگئے تھے اور یہ ایسے ان سے لڑ رہا تھا جیسے کسی فلم کا ہیرو ہو وہ تو میں نے روک دیا ورنہ یہ تو ان آدمیوں کو مار ہی دیتا ۔۔۔
جنت نے آہستہ آواز میں بتایا مگر ضوریز کا پورا دیہان جنت کی طرف تھا اس لیئے اسے سب سنائی دے رہا تھا۔ ۔
اللہ خیر چور۔۔۔ تم لوگ تو ٹھیک ہو نا جنت ؟؟
آنسہ نے پریشانی سے پوچھا
نہیں مامی میں تو ٹھیک پر وہ لوگ ٹھیک نہیں اس نے بہت مارا انہیں۔ ۔۔
جنت نے منہ بنایا
شکر اللہ کا ۔۔۔
آنسہ نے جنت کا ماتھا چوما
کیا چور آپ کے جاننے والے تھے جو اب تک انکی فکر ہو رہی ہے۔ ۔۔؟؟
ضوریز نے مسکرا کر پوچھا
ہنہ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ ۔
جنت نے منہ دوسری طرف کر لیا ۔۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی ہو گئی۔ ۔۔
ضوریز بہت ہی دیہان سے گاڑی چلا رہا تھا اب راستہ کافی سنسان تھا شاید کوئی گاوں تھا آس پاس ہرے بھرے کھیت تھے شام ہونے کی وجہ سے لوگ بھی نہیں تھے۔ ۔۔
جنت اور آنسہ آنکھیں بند کیئے بیٹھ گئیں ماروخ تسبیح کر رہی تھیں۔ ۔ بشیر آس پاس دیکھ رہے تھے۔ ۔۔
صاف اور سیدھی روڈ پر گاڑی چل رہی تھے کے اچانک ضوریز کو بہت سے پتھر نظر آئے۔ ۔۔
بابا وہ سامنے کچھ رکھا ہوا ہے کیا۔ ۔
ضوریز اسٹیرنگ پر زور دے کر تھوڑا آگے ہوا
ارے ہاں بیٹا بریک لگاو پتھر ہیں یہ تو بہت زیادہ ۔۔۔
بشیر نے جلدی سے کہا
اوہ۔ ۔۔
ضوریز نے ایک دم بریک لگائی سب اپنی جگہ سے ہل گئے۔ ۔۔
یا اللہ خیر یہ اتنے بڑے پتھر یہاں کس نے رکھے۔ ۔۔
آنسہ نے دل تھام کر کہا
ماں آپ سب اندر ہی رہیئے گا میں دیکھتا ہوں۔ ۔
ضوریز نے اپنے گن نکالی اور باہر نکلا
hello my friend….!
ضوریز کے بلکل سامنے جیک اپنی جدید قسم کی گن لیئے کھڑا تھا
Jaackkkk you…. !
حیرت کے مارے ضوریز کے ہاتھ کانپ گئے مگر اس نے فوراً ہی گن دوبارا مضبوطی سے پکڑ لی وہ جانتا تھا وہ اکیلا جیک کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔
Jackkk what do u want …?
ضوریز کے لہجے میں پریشانی تھی۔ ۔
Your family dear!
جیک نے کہا ۔۔ اس سے پہلے کے ضوریز کچھ کہتا جیک کے دو آدمی ضوریز کو خبر ہوئے بغیر ہی گاڑی سے سب کو نکال لائے۔ ۔۔ دونوں آدمیوں نے اپنی گنز کا روخ انکی طرف کر دیا ۔۔ خوف کے مارے سب نے آنکھیں بند کر لیں۔ ۔۔
ضوریز کو بھی اندازہ ہو گیا اب اس کا بچنا مشکل ہے ۔۔۔ ضوریز کے ہاتھوں سے اسکی گن چھوٹ کر زمیں پر گر گئی۔ ۔ اسے جنت کے الفاظ یاد آنے لگے جب وہ کہ رہی تھی تمہارا اپنا بھی قتل ہو سکتا ہے۔ ۔۔ضوریز نے تکلیف سے آنکھیں بند کیں۔ ۔۔ جیک نے اپنی گن لوڈ کی اور ضوریز کے پاس آیا۔ ۔۔
ضوریز نے اپنی بھیگی آنکھیں کھول کر جیک کو دیکھا
