Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 9

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 9

Beri Piya by Hareem

اور بُراق پاکستان کب جا رہے ہو؟؟مجھے اپنی فیملی کہ لئیے کچھ گفٹس بھجوانے ہیں کیا تم لے جاو گے؟؟

(بُراق اس وقت ایک کیفے میں اپنے دوست عمران کہ ساتھ موجود تھا جو پاکستان میں راولپنڈی سے تھا)

بس یار کچھ ہی دنوں میں نکلونگا…اور جو بھی دینا ہو دے دینا پر وہاں میں تمھارا گھر نہیں ڈھونڈتا رہنا چاہتا اپنے بھائ کو ایڈریس دے دینا میرے نانا کہ گھر کا..

اوکے …اوکے تو لے کہ جا رہا ہے یہ ہی بہت ہے.پر یار ایک بات بتا کیا تو واقعی شادی کررہا ہے؟؟؟؟.

کتنی دفعہ پوچھے گا جب سے آیا ہے یہی پوچھے جا رہا ہے ہاں…ہاں میں اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کررہا ہوں سو تو کرلے یقین بُراق نے مُسکراتے ہوۓ کہا اور پھر کافی پینے لگا…

پر یار وہ سونیا… اُسکا کیا ہوگا؟؟

اُسکا کیا ہونا ہے اُسے کوئ اور مل جاۓ گا وہ کونسا کسی کہ ساتھ سیریس ہوتی ہے ویسے بھی اُسکا تو وہ حال ہے یہ نہیں تو وہ سہی وہ نہیں تو کوئ اور سہی ہاہاہاہاہا بُراق نے ہنستے ہوۓ عمران کہ ہاتھ پہ ہاتھ مارا…

اوہ وہ دیکھ شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر…

ہیں کیا بول رہا ہے تو؟؟؟

وہ دیکھ سونیا اور آ بھی یہیں رہی ہے…

اوۓ تو نے تو نہیں بتایا کہ میں یہاں ہوں..بُراق نے آنکھیں دکھاتے ہوۓ عمران سے پوچھا..

نہیں یار میں کیوں بتاونگا وہ تو خود ہی ہر جگہ تیری خوشبو سونگھتی پُہنچ جاتی ہے.عمران نے اپنی جیکٹ پہنتے ہوۓ کہا..

تو کہاں جا رہا ہے مجھے اس بلا کہ ساتھ چھوڑ کہ؟؟؟

اچھا ڈیٹیں مارتے ہوۓ بلا نہیں لگتی تھی تجھے …اوہ…اچھا چل تو کافی سونیا کہ ساتھ انجواۓ کر میں چلا.. اوۓ رُک کہاں جا رہا ہے مجھے چھوڑ کہ بُراق اُسے روکتا ہی رہ گیا اور وہ ہاتھ ہلاتا یہ جا وہ جا ہوگیا…

*************

اوہ اچ.. اچھا تو آپ ماہی کی ہونے والی ساس ہیں؟؟

نہیں نہیں…ساس نہیں مجھے پھوپھو ہی رہنے دیں ساس نہیں بننا چاہتی میں…مہوش نے مسکرا کر کہا..

اب تو عالیہ بھابھی بھی آگئ ہیں ثانیہ بہن اب تو بتا دیں آپ یہ مٹھائ کہ ٹوکرے کیوں لائی ہیں عائشہ جن سے صبر نہیں ہورہا تھا آخرکار پوچھ بیٹھی تھیں…

اور ثانیہ کو تو اپنے ہاتھ پیر پھولتے ہوۓ محسوس ہو رہے تھے اُف کیا کہوں ان سے سب کو اپنی طرف متوجہ دیکھتے ہوۓ اُنہیں کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہیں…

وہ میں… میں اپنے بیٹے بُراق کہ لئیے…

جی کہیے ہم سُن رہے ہیں…عائشہ نے خوشی سے آگے ہو کر بیٹھتے ہوۓ کہا…

وہ اُس دن میلاد والے دن… میں وہ دراصل پلیز آپ سب مجھے غلط مت سمجھیے گا..

اُنہیں پریشان ہوتا دیکھ عالیہ نے اُنکے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا…

پلیز آپ اتنی پریشان نہ ہوں جو بات بھی ہے کہہ دیں..

وہ اصل میں مجھے آپکی بیٹی ماہی بہت پسند ہے تبھی میں اُسکا رشتہ لیکر آئ تھی…

پر پلیز مجھے غلط مت سمجھیں مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کمیٹڈ ہے..

اس سے پہلے ثانیہ نے کبھی اتنی شرمندگی محسوس نہیں کی تھی جتنی وہ آج کر رہی تھیں نظریں اُٹھانا بھی دوبھر لگنے لگا تھا..

عائشہ کا تو ماہی کا سُنتے ہی حیرت سے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا..

ادھر آو ثانیہ بیٹا میرے پاس بیٹھو باقی سب تو بے یقینی کی حالت میں گھرے بیٹھے تھے. .اور عائشہ کا تو شرمندگی کہ مارے اتنا بُرا حال تھا کہ بس نہیں چل رہا تھا زمین پھٹے اور وہ اُس میں سماء جائیں..آج پہلی بار اُنہیں اپنی کی جانے والی جلدبازی پر افسوس ہوا تھا..

ثانیہ سر جھکاۓ ثروت بیگم کہ پاس آکر بیٹھ گئ تھیں مجھے پتہ ہوتا ماں جی تو میں ایسے نا آتی…

خیر ہے بیٹا کوئ بات نہیں غلط فہمیاں تو ہی جاتی ہیں..اور ویسے بھی رشتے تو آسمانوں پر بنتے ہیں جس کا جیسا جوڑ بن جاۓ ہمیں اُس ہی پہ راضی ہونا جاہیے ہے نا بیٹا…

ثروت بیگم کا پاتھ اپنے سر پہ محسوس کرتے ہی اُنہیں اپنا آپ کسی بوجھ کہ نیچے سے نکلتا ہوا محسوس ہوا..

چلیں پھر ٹھیک ہے جو مٹھائ میں لائ ہوں وہ آپ لوگ ماہی کی ڈیٹ فکس ہونے کی خوشی میں رکھ لیں کیونکہ میں واپس نہیں لے جاونگی…

ہاہاہا ہاں کیوں نہیں ثانیہ نے ہنستے ہوۓ کہا اور ماحول میں موجودہ کثافت کو کم کرنا چاہا…

پر وہاں موجود عائشہ کو ایسا لگا جیسے ایک بار پھر سے اُن کے ارمانوں کے درمیان ماہی آگئ ہو. اُن کو مزید یہاں بیٹھنا مشکل لگنے لگا تبھی وہ یہاں سے اُٹھنے کہ لئیے پر تولنے لگیں…اور چاۓ کی ٹرے اُٹھاتی اُٹھ کھڑی ہوئیں..

میں دوبارہ چاۓ لیکر آتی ہوں ویسے بھی گرمیوں میں وہ مم..میرا مطلب ہے سردیوں میں ٹھنڈی چاۓ ہی اچھی لگتی ہے…اُفِ پتہ نہیں میں کیا کہہ رہی ہوں میں چاۓ کا کہتی ہوں…

عالیہ اور مہوش کو اُنکی اس قدر بوکھلاہٹ دیکھ کر اُن سے ہمدردی ہوئ تھی..

تبھی وہ جلدی سے ٹرے اُٹھاۓ باہر نکل گئیں..شزرا بھی دُکھ سے اپنی ماں کو دیکھتی اُن کے پیچھے چل دی…باقی خواتین اب شاپنگ کا موضوع زیرِ بحث لاۓ اُس میں اس قدر مشغول تھیں کہ کسی نے بھی شزرا کہ اُٹھنے کا نوٹس نہیں لیا تھا…

***********

ماہی اپنے اردگرد سے بے خبر اپنے کمرے میں بیڈ پر چوکڑی مارے ہوۓ چاٹ کی پلیٹ پکڑے اور اُس میں ڈھیر ساری ہری مرچیں,اور چاٹ مصالحہ ڈالے جو ماہی نے چاٹ والے سے ایکسٹرا ساتھ میں لیا تھا مرچوں سے بھرپور چاٹ کھاتی ہوئ سوں سوں کررہی تھی..

اور ساتھ ہی فیس بُک پر بھی لگی ہوئ تھی تبھی عدوان کی ایک پوسٹ اُسکی نظروں کہ سامنے سے گُزری…

ہیں…ہیں…یہ کیا لکھا ہوا ہے ماہی پھر سے پڑھنے لگی…

کوئی ایسا جادو ٹونا کر ___

مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو__

یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔

میں شمع، وہ پروانہ ہو__

زرا دیکھ کے چال ستاروں کی

کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا

کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ

جو کر دے بخت سکندر سا

کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر

کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے

کوئی ایسا دے تعویز مجھے

وہ مجھ پر عاشق ہو جائے

کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔

مری راہ میں پھول گلاب آئیں

کوئی پانی پھوک کے دے ایسا

وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔

کوئی ایسا کالا جادو کر

جو جگمگ کر دے میرے دن

وہ کہے ناشاد جلدی آ

اب جیا نہ جائے تیرے بن

کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے

جس رہ سے وہ دلدار ملے۔

کوئی تسبیح دم درود بتا ۔

جسے پڑھوں تو میرا یار ملے

کوئی قابو کر بے قابو جن۔

کوئی سانپ نکال پٹاری سے

کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا

کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔

کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔

وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔

کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔

وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔

کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔

اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں ۔

جو مرضی میرے یار کی ہے۔

اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں۔

کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔

جو اشک بہا دے سجدوں میں۔

اور جیسے تیرا دعوی ہے

محبوب ہو میرے قدموں میں ۔

پر عامل رک، اک بات کہوں۔

یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟

محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔

مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔

اور عامل سن یہ کام بدل۔

یہ کام بہت نقصان کا ہے۔

سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں

جو مالک کل جہان کا ہے _____…

لگتا ہے بیچارے کہ دماغ پر اثر ہوگیا ہے اپنی محبت کہ ناکام ہونے پہ تبھی مرزا غالب بن گیا ہے ماہی کو عدوان پہ ترس آیا تھا…

تبھی ماہی نے کچھ سوچتے ہوۓ عدوان کو میسنجر پہ آڈیو کال ملائ.

دوسری طرف ماہی کا نام دیکھتے ہی عدوان نے بےقراری سے فون اُٹھایا اور کانفرس ہال سے باہر نکل کر ماہی کا نام دیکھتے ہوۓ فون کان سے لگایا..

ہیلو ماہی کیسی ہو..

میں بالکل ٹھیک ہوں وہ…میں…سوں سوں کرتے ہوۓ ماہی نے کہا اُسے اس وقت بھی بہت مرچیں لگ رہی تھیں..

وہ کیا …

سب ٹھیک تو ہے نا ماہی؟؟

وہ میں نے آپکو کہنا تھا…ماہی کو اس وقت فون ملانے پر افسوس ہوا کیوں کہ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ سوں سوں کرے یا بات..

پلیز کہہ دو جو بھی کہنا ہے..عدوان کہ لہجے سے جھلکتی بےتابی نے ماہی کہ دل کو تھمنے پہ مجبور کیا تھا…پر ہمیشہ کی لاپرواہ ماہی نے اپنے ہی دل کی حالت پر توجہ نہیں دی تھی….میں ملنا چاہتی ہوں آپ سے…ماہی نے ہچکچاتے ہوۓ کہہ ہی دیا تھا…

کیااااا…واقعی اچھا بتاو کہاں ملنا ہے؟؟؟عدوان کو تو اس وقت اپنا آپ ہواوں میں محسوس ہورہا تھا..

وہی گھر کہ پاس والے پارک میں کل شام کو. ..اوکے ٹھیک ہے میں آجاوں گا تمھیں انکار کرنے کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا پر پلیز رو تو مت ماہی کی سوں سوں کو عدوان اُسکا رونا سمجھ گیا تھا…

نہیں میں تو.. ایک بار پھر سے ماہی نے سوں کیا… اچھا ماہی پلیز رونا بند کرو میں ضرور آونگا کل شام کو ٹھیک ہے ابھی مجھے کانفرنس روم میں واپس جانا ہے اوکے اپنا خیال رکھنا باۓ….عدوان اپنی ہی کہتا عجلت میں فون رکھ گیا تھا…

ہیں یہ پاگل تو نہیں ہے ماہی نے موبائل کو گھورتے ہوۓ کہا…

میں کیوں رونے لگی میں روونگی وہ بھی اس لنگور کہ لئیے ہممم آیا بڑا ٹام کروز..ماہی بڑبڑاتی ہوئ پھر سے اپنی چاٹ کی طرف متوجہ ہوگئ تھی…

*********

ماما آپ وہاں سے اتنی بوکھلاتی ہوئیں کیوں اُٹھ آئ ہیں…

تو کیا کرتی وہاں بیٹھ کہ اپنا خون جلاتی رہتی…عائشہ نے روتے ہوۓ مزید کہا…

تمھیں نہیں پتا شزرا کہ میری کتنی بےعزتی ہوئ ہے کتنے فخر سے فون کرکے بھابھی سے کہا تھا فوراً آئیں شزرا کا رشتہ آیا ہے….

آپ کو کیا ضرورت تھی اتنی جلدی بنا سب کچھ جانے بات پھیلانے کی…اس بات پر تو شزرا کو بھی اپنی سُبکی محسوس ہوئ تھی.مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ ماہی کہ لئیے بھی آسکتی ہیں پتا نہیں کیا دکھتا ہے سب کو اس جھلی میں جسے نا اُٹھنے بیٹھنے کی تمیز ہے اور نا ہی پہننے اُوڑھنے کی…

اچھا چھوڑیں امی آپ سب اور آکر باہر بیٹھیں سب کیا سوچیں گے کہ آپ اندر کیوں آکر بیٹھ گئ ہیں…

جس نے جو بھی سوچنا ہے سوچے مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا یہ ماہی تو میری جان کو جونک کی طرح چمٹ گئ ہے..

میری بیٹی کہ لئیے بھی یہ بہترین رشتہ آسکتا تھا پر یہ ماہی آگئ بیچ میں اور اُدھر میرا بیٹا مجنوں بنا پھر رہا ہے۔.

ہاۓ ماہی تجھے اللہ پوچھے…

اور ہاں میں لیٹنے لگی ہوں شزرا کوئ پوچھے تو کہہ دینا میری طبیعت خراب ہے عائشہ نے اپنے اوپر رضائ ڈالتے ہوۓ پھر سے ماہی کی شان میں قصیدے پڑھنے شروع کر دئیے تھے…

اور شزرا تاسف سے اُنہیں دیکھتی دروازہ بند کرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ…

************

عدوان کو آج گھر آتے ہوۓ دیر ہوگئ تھی پر جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا اپنے انتظار میں لاونج میں بیٹھی ثانیہ صاحبہ کو دیکھتا اُن تک آیا..

مام…

مام…

ہممم ثانیہ صاحبہ عدوان کہ پکارنے پہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئیں اتنی دیر کیوں کردی آج تم نے بیٹا..

وہ مام میں کچھ دوستوں کی طرف چلا گیا تھا آپ بتائیں کیسا رہا آپکا دن…

عدوان کہ پوچھنے پر وہ سوچنے لگیں کہ اُسے آج کا وقعہ سُنائیں کہ نہیں…

تبھی عدوان بول پڑا آج میں بہت خوش ہوں مام…

اچھا کیا وجہ ہے خوشی کی ہمیں بھی تو پتہ چلے…وہ. مام ماہی کی کال آئ تھی وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے…عدوان نے بے حد خوشی سے بتایا

اچھا مگر کیوں؟؟؟کیا تمھیں بتایا ہے کہ کیوں ملنا چاہتی ہے وہ…

نہیں مام اب یہ تو کل شام ہی کو پتہ چلے گا.

کیا کروں اسے بتاوں کہ آج رشتہ لیکر گئ تھی اور وہاں پر کیا ہوا…

کیا ہوا آپ کیوں بار بار کھو جاتی ہیں سب ٹھیک تو ہے نا مام؟؟؟

ہاں ٹھیک ہے سب جاو تم تھک گۓ ہوگے..

اوکے میں جارہا ہوں آپ بھی سو جائیں ہاں میں بھی جا رہی ہوں..اوکے گڈنائٹ عدوان اُنکا ماتھا چومتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا…

ثانیہ صاحبہ وہیں بیٹھے سوچنے لگیں وہ کیوں ملنا چاہتی ہے؟؟

پتہ نہیں کیا کہے گی؟؟؟

چلو اچھا ہے مل کر اگر وہ خود ہی طریقہ سے عدوان کو سمجھا دے تو ہی صحیح ہے کہیں میرے کچھ کہنے پہ بھڑک ہی نا جاۓ وہ ہاں یہ صحیح ہے میں کچھ نہیں کہونگی .. عدوان کہ بارے میں سوچتیں اب وہ اپنے کمرے کیطرف بڑھ گئیں…

***********

بُراق تم شادی کررہے ہو؟؟؟

سونیا نے چلاتے ہوۓ ٹوٹی پھوٹی اردو میں پوچھا.

سونیا کہ والد پاکستانی جبکہ ماں فرینچ تھی..اور اُنکی وہی ٹیپیکل کہانی تھی محبت ہوگئ شادی بھی ہوگئ پر سال بعد ہی طلاق ہوگئ اور سونیا اپنی ماں کہ ساتھ رہنے لگی… سونیا کا کام بواۓ فرینڈز بنانا اور اُنہیں آۓ دن بدلنا تھا..اور آجکل اُسکا دل بُری طرح سے بُراق پہ آیا ہوا تھا…

ہاں صحیح سُنا ہے تم نے..

تم شادی نہیں کرسکتے بُراق…سونیا نے دانت پیستے ہوۓ کہا…

اور میں یہ شادی کیوں نہیں کرسکتا یہ بتانا پسند کریں گی آپ…بُراق نے کُرسی سے ٹیک لگا کر پیچھے بیٹھتے ہوۓ پوچھا…

because i am pregnant…