Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 26

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 26

Beri Piya by Hareem

شزرا نے اپنے دل میں آۓ پلین کو عملی جامہ پہنانے کہ لئیے عالیہ کو کال ملا دی….

جو دوسری ہی بیل پر اُٹھا لی گئ…

ہیلو تائ امی…

ہیلو شزرا بچے کیسی ہو…بڑے دن بعد یاد آئ اپنی تائ کی؟؟؟

عالیہ کی آواز سُنتے ہی شزرا نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شوع کردیا…

جس پر عالیہ بوکھلاۓ ہوۓ آوازیں دیتی پوچھنے لگیں…

شزرا بیٹا کیا ہوا؟؟؟

کیوں رورہی ہو؟؟؟

اماں بابا تو ٹھیک ہیں نا…

بچے کچھ تو بولو…

تائ امی… مجھے معاف کردیں پلیز….

پر ہوا کیا ہے کچھ بتاو تو کیوں میرا دل دہلا رہی ہو…

تائ امی…وہ ماہی…

اللہ خیر کیا ہوا ماہی کو وہ ٹھیک ہے نا؟؟

تائ امی وہ…وہ ماہی بے قصور ہے…

اُس دن ماہی بالکل سچ کہہ رہی تھی …

کیا؟؟؟ کیا کہہ رہی ہو شزرا؟؟؟

میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں تائ امی ماہی صحیح کہہ رہی تھی وہ تو جانتی ہی نہیں تھی عدوان کو وہی پیچھے پڑا ہوا تھا اُسکے..(شزرا نے روتے ہوۓ مزید کہا)

اُس…اُس نے مجھے بھی وہ سب کہنے ہر مجبور کیا تھا تائ امی ورنہ میں کبھی بھی ماہی کہ ساتھ اتنا بڑا ظلم نا ہونے دیتی…

آپ تو جانتی ہیں ماہی مجھے ہمیشہ سے کتنی عزیز رہی ہے…

ہیلو…ہیلو تائ امی آپ سُن رہی ہیں نا…

عالیہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھتی زمین پہ بیٹھی شزرا کی رام کہانی سُن رہی تھیں…

وہ ابھی تک اُنہی الفاظ میں اُلجھی ہوئ تھیں کہ ماہی بے قصور ہے…

تائ امی پلیز ماہی کو یہاں سے آکر لے جائیں وہ بہت مُصیبت میں ہے تائ امی…

شزرا نے روتے روتے جتنا کچھ کہہ سکتی تھی کہہ ڈالا تھا…

اور اب فون بند کرتی نخوت سے اپنے جھوٹے آنسو اُنگلی کی پور پہ چُنتی جھٹکنے لگی…

ہممم…اگر میں خوش نہیں ہوں تو خوشی پر تمہارا بھی کوئ حق نہیں ہے مس تطمئین القلب…

************

عالیہ شزرا کی باتوں کی تاب نا لاتے ہوۓ ایک طرف لُڑھک گئ تھیں…

ابھی اس حالت میں اُنہیں پڑے دس منٹ ہی ہوۓ تھے کہ زین اپنی بیوی اور نومولود بیٹے کہ ساتھ اپنی ماں کو آوازیں دیتا ہوا اندر داخل ہوا…

ماما…

ماما کہاں ہیں آپ دیکھیں آپکا پوتا آگیا ہے…

عالیہ کو آوازیں دیتے ہوۓ جیسے ہی اُنکے کمرے میں زین نے قدم رکھے عالیہ کو ایسے نیچے گرا دیکھ اُسکے قدموں تلے سے زمین کھسک گئ تھی…

تبھی وہ بھاگتا ہوا اُن تک پُہنچا…

ماما کیا ہو آپکو؟؟

ماہا ایمبولینس کو کال کرو جلدی…

زین ماہا کو تنقید کرتا عالیہ بیگم کا سر اپنی گود میں رکھتے اُنکا چہرہ تھپتھپانے لگا…

ماما اُٹھیں اُٹھیں ماما ہوش کریں…

************

آج اتوار کا دن تھا..

عدوان گود میں اپنا لیپ ٹاپ لئیے بیٹھا آفس کہ کام میں مصروف تھا…

جبکہ ماہی ٹی وی دیکھتے دیکھتے ہی کاوچ پہ پیٹھے ہوۓ اُونگھ رہی تھی…

کہ ایک دم چیختے ہوۓ اُٹھ بیٹھی..

عدوان بھی فوراً سے اُس تک پُہنچا…

کیا ہوا ماہی ؟؟

عدوان کو اپنے پاس کھڑا دیکھ ماہی نے شُکر کرتے ہوۓ کہا…

اُف شُکر ہے یہ خواب تھا ماہی نے سُکھ کا سانس بھرتے عدوان کہ ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا اور غٹاغٹ پینے لگی…

کیا ہوا ماہی ایسا بھی کیا دیکھ لیا خواب میں؟؟؟

ماہی اپنا خواب یاد کرتے پھر سے رونے لگی…

تمہیں یاد ہے نا عدوان جس دن میں نے بابا کو خواب میں دیکھا تھا اُس دن وہ اس دنیا سے چلے گۓ تھے..

ہمم یاد ہے مجھے عدوان نے ماہی سے گلاس لیتے ہوۓ کہا..

آج میں نے ماما کو دیکھا وہ ٹھیک نہیں ہیں.. میرا دل بھی بہت عجیب ہورہا ہے عدوان ایسے لگ رہا ہے..جج..جیسے کچھ بُرا ہونے والا ہے…

ریلیکس ماہی خواب آتے رہتے ہیں لازمی نہیں کہ ہر بار کا خواب سچ ہو…تم خوامخواہ ٹینشن لے رہی ہو…

عدوان نے ماہی کو تسلی دیتے ہوۓ کہا….

عدوان کہ خوامخواہ کہنے پہ ماہی نے عدوان کو غُصہ سے گھورا…

تم نہیں سمجھ سکتے میری فیلنگز میں نے اپنا باپ کھویا ہے اپنی وجہ سے اور اب اپنی ماں کو کھونے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں ماہی نے روتے ہوۓ عدوان سے شکوہ کیا….

ماہی کی بات سُنتے عدوان نے شرمندہ ہوتے ہوۓ کہنا شروع کیا…

میں جانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا ہے…

مجھے ہر بار لگتا ہے کہ میں نے تمہیں اُس سب trauma سے نکال لیا ہے پر پھر تمہیں دیکھتا ہوں تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے تم آج بھی وہیں کھڑی ہو….

عدوان نے ماہی کہ ہاتھوں کو پکڑتے ہوۓ مزید کہنا شروع کیا…

مجھے معاف کردو ماہی پلیز سب بھول کر أگے بڑھو میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا i swear میں کبھی کوئ بھی تکلیف تم تک آنے نہیں دونگا پلیز…

ماہی نے آہستگی سے اپنے ہاتھ عدوان کہ ہاتھوں کہ بیچ سے نکالے…

اور اُٹھتے ہوۓ چُپ چاپ سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئ…

جبکہ عدوان کو اُسکا ایسے اگنور کرکے چلے جانا بہت ہرٹ کر گیا تھا…..

اور وہ یونہی بند دروازے کو دیکھنے لگا جس میں سے ماہی نماز کہ سٹائل میں ڈوپٹہ اُوڑھے گیلا چہرہ لئیے نمودار ہوئ…

ماہی کہ چہرے پہ پڑے گیلے قطرے عدوان کو بہکا گۓ تھے…

ابھی ماہی جاۓنماز پر کھڑی ہی ہوئ تھی کہ عدوان کی بات کا جواب دینے کہ لئیے مُڑی…

عدوان…

ہممم (عدوان ہڑبڑاتا ہوا سیدھا ہو بیٹھا)

اس سب معاملے میں تم جتنے بھی قصوروار ہو پر اس سب میں مجھے اپنا وجود برابر کا شریک لگتا ہے…

(ماہی نے نظریں جھکاۓ اعتراف کیا)

تمھیں پتہ ہے جب انسان اللہ کی بنائ ہوئ حدود سے تجاوز کرتا ہے نا تو وہ ایسے ہی برباد ہوجاتا ہے میری طرح…

(ماہی نے کہتے ہوۓ ایک سسکی بھری پر یہ بات عدوان کہ اوپر سے گزر گئ تھی)

ماہی نے روتے اٹکتے ہوۓ مزید کہا…

جج…جس دن…میں خود کو معاف کرنے میں کامیاب ہوگئ نا…اُس…. اُس دن میں تمہیں بھی معاف کردونگی…

آنسووں سے تر چہرہ لئیے ماہی اپنی بات مکمل کرتی اپنی نماز پڑھنے لگی…

جبکہ عدوان گومگو کی حالت میں گھرا اُسے دیکھنے لگا…

*************

عالیہ کہ ہارٹ اٹیک کی خبر اگلے دن سردار ہاوس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئ تھی…

اور اب سب پریشانی کی حالت میں بیٹھے ہوۓ تھے…

کہ تبھی عائشہ نے اپنی زبان سے زہر اُنڈیلنا ضروری سمجھا…

ہک ہا….اللہ ایسی بیٹی تو دُشمن کو بھی نا دے توبہ توبہ…

ابھی عمر ہی کیا تھ عالیہ کی بس بیٹی کا لگایا غم ہی نہیں چھوڑ رہا اُسے…

مہوش جو عالیہ کہ لئیے آنسو بہا رہی تھیں اُن سے مزید رہا نا گیا تو بول پڑیں…

بھابھی اب اس سب میں اُس بیچاری کا کیا قصور…

مہوش کا ماہی کو بیچاری کہنا اُنہیں مزید تپا گیا تھا…

ایک تو ویسے حد ہے وہ لڑکی چاہے آپ سب کی عزت کا جنازہ کیوں نا نکال دے رہے گی وہ بیچاری ہی ہممم…

بس عائشہ بہت ہوا اگر ہمارے غم میں ہمارا ساتھ نہیں دے سکتی تو یوں نمک بھی مت چھڑکو…

ثروت بیگم سے مزید نا رہا گیا تو بول اُٹھیں…

ہاں بس آپ سب کو تو سچ برداشت ہی نہیں ہے…

اور ویسے بھی آجکل تو نیکی کا زمانہ ہی نہیں رہا….

پر ایک بات میں کہے دیتی ہوں(اُٹھتے اُٹھتے بھی اپنی کہنا وہ نہیں بھولی تھیں)

احد کی شادی کی دو ہفتے کہ بعد کی ڈیٹ ہے اور شادی اُسی دن ہوگی…..

وہ تنفر سے اپنی بات مکمل کرتیں یہ جا وہ جا ہوگئیں….دیکھ رہی ہیں آپ اپنی بھانجی کی حرکتیں کوئ جئیے یا مرے اُنہیں کوئ پرواہ نہیں ہے..

آپ چھوڑیں اُسے سردار صاحب اور زین کو فون لگائیں ہوش آیا عالیہ کو کہ نہیں…

ہاں ملاتا ہوں…

************

بُراق کو DNA ٹیسٹ کرواۓ ایک ہفتہ ہوگیا تھا…

پر اُس میں ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ رپورٹس لینے جاۓ سونیا کو تو وہ منع کر چُکا تھا کہ تم نہیں میں خود رپورٹس کلیکٹ کرنے جاونگا…

پر اب آنے والے نتائج کو سوچتے ہوۓ وہ بہت پریشان تھا…

ساتھ ہی شزرا سے بھی کوئ بات نہیں ہو پا رہی تھی وہ ناراض تھی اور براق کی کال اٹینڈ کرنے کی بھی روادار نہیں تھی….

براق خود اتنا اُلجھا ہوا تھا کہ شزرا کی ناراضگی کو بھی سیریس نہیں لے پارہا تھا…

اُسے صرف اس بات کی پریشانی تھی کہ اگر وہ بچہ واقعی میں میرا ہوا تو پھر کیا ہوگا…

ابھی وہ اسی سوچ میں تھا کہ فون کی میسج ٹون پہ الرٹ ہوتا فون چیک کرنے لگا جس میں سونیا رپورٹس کی بابت پوچھ رہی تھی….

میسیج دیکھتے ہی ہمت کرتے وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور رپورٹس لینے چل دیا…

*************

شزرا یہ تو نے کیا کردیا…

آج ایک ہفتے بعد ٰعالیہ کی حالت کی بہتری کا سنتے شزرا نے اپنی ماں کو ڈرتے ڈرتے اُس دن عالیہ سے ہونے والی بات کہ متعلق مطلع کیا…

یہ کیا کردیا ہاۓ اب کیا ہوگا…

ماما وہ…

خبردار ایک لفظ منہ سے مت نکالنا…

تو میں کیا کرتی ماما ماہی کو دیکھتے ہی میرا خون کھولنے لگا تھا..

تو…بس مجھے جو سمجھ آیا وہ کردیا…

جو سمجھ آیا وہ کردیا کی بچی اب جو سب کہ سامنے اصلیت آجاۓ گی اُسکا کیا؟؟؟

ہاں تو آجاۓ اور وہ ماہی کو آ کر لے جائیں…

اُف میرے خدا اس لڑکی کو عقل دے…

یہ جتنا تم آسان سمجھ رہی ہو نا اتنا یہ سب یے نہیں اگت وہ بے قصور ثابت ہوئ تو سارا ملبہ تجھ پہ گریگا بیوقوف…

مم…مجھ پہ کیوں…

تو بیٹا جی اگر عالیہ نے تم سے کوئ سوال نہیں کیا تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ باقی بھی کوئ تم سے کچھ نہیں پوچھے گا..

اور ذرا یہ تو بتاو جب سب تم سے کہیں گے کہ تب کیوں نہیں بتایا…

اور تب تو تم اُسکے گنہگار ہونے کہ ثبوت پیش کررہی تھی تو تب کیا کہوگی,؟؟؟؟

ممم…میں کہہ دونگی…کہ.. کہ اُس عدوان نے مجھ مجبور کردیا تھا…

اچھا کیسے اور کیوں کیا مجبور وہ بتاو اور تمھیں کیوں لگتا ہے کہ یہ بات کُھلنے پہ عدوان سے بازپرس نہیں ہوگی ؟؟؟

اگر اُس نے تمھاری اصلیت کھول دی تب تب کیا ہوگا شزرا.

ہاۓ ماما یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں..

بس یہی تو خصوصیت ہے میری اولاد کی کہ سوچتی ہی نہیں ہے ہاۓ کتنی مشکل سے سب میرے ہاتھ میں أیا…

اور کیسی کیسی باتیں نہیں کیں سب کو میں نے اب کیا ہوگا جب میری ہی بیٹی اس سبیں ملوث نکلے گی عائشہ نے تو باقاعدہ اپنا سر ہی پیٹ ڈالا تھا ..

پلیز ماما کچھ کریں…

ہاں تو اب میں ہی سوچوں گی تم سے تو کوئ امید رہی ہی نہیں مجھے…

وہ وہیں بیٹھی آگے کا لائحہ عمل ترتیب دینے لگیں

****************

عدوان جیسے ہی آفس سے تھکا ہارا گھر پُہنچا لاونج میں ماہی کو تیار دیکھ خوش فہم سا ہوگیا..

واہ آج تو لوگ بڑے تیار بیٹھے ہیں…

تھینک گاڈ آپ آگۓ…ماہی عدوان کو دیکھتے ہی جلدینسے اُس تک پُہنچی…

ہممم تو اتنا تیار ہوکر میرا انتظار ہو رہا ہے؟؟

ماہی نے عدوان کہ ہاتھ سے اُسکا لیپ ٹاپ بیگ پکڑے سائیڈ پہ رکھا…

اور بنا کوئ جواب دئیے بولی… چلو چلیں…

ہیں پر کہاں؟؟؟

ارے تم چلو تو میں بتاتی ہوں..

میں بہت تھکا ہوا ہوں ماہی…

ہاں تو آکر آرام کرلینا …

ویسے بھی.کونسا کھیتی باڑی کرکہ آۓ ہو…ماہی عدوان کا ہاتھ پکڑے گاڑی کہ پاس لے آئ اور خود دروازاہ کھولتی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ…

اوکے جانا کہاں ہے؟؟؟

عدوان نے گاڑی باہر نکالتے ہوۓ پوچھا…

کراچی کمپنی…

واٹ وہاں کیا لینا ہے تمہیں؟؟؟

لینا کچھ نہیں ہے…

پھر؟؟؟

مجھے وہاں کی چاٹ کھانی ہے…

تم ایک چاٹ کہ لئیے مجھے اتنی دور لے جارہی ہو ڈرائیور سے منگوا لیتی…

عدوان کو بس ایک چاٹ کہ لئیے جانا کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا…

محبت کہ دعوے تو بڑے بڑے کرتے ہو اور ایک چاٹ کہ لئیے اتنی باتیں سُنا رہے ہو…

ماہی کہ منہ بنانے پر عدوان سوری کرتا ہوا چُپ چاپ ڈرائیو کرنے لگا کیونکہ بات اب محبت پر آگئ تھی…

عدوان کو لگا تھا کہ کوئ سپیشل جگہ ہوگی پر ایک چھوٹی سی چاٹ کی دوکان دیکھ کر اُسے جھٹکا لگا تھا…

تم یہاں سے لوگی…

ہاں اس میں اتنی حیران ہونے والی کونسی بات ہے…

ماہی عدوان کہ گاڑی روکتے ہی دوکان کی طرف بڑھ گئ اور اب ٹوکن لئیے لائن میں لگی ہوئ تھی…

اور عدوان حیران ہوتا ہوا اس ہجوم کو دیکھ رہا تھا جو وہاں چاٹ کہ لئیے جمع تھا…

*************

عالیہ کو ہوش آۓ کافی دن بیت گۓ تھے پر ناہی وہ کچھ بولیں تھیں اور نا ہی زین نے کچھ پوچھا تھا…

ابھی وہ ہاسپٹل میں ہی ایڈمٹ تھیں…

اور زین اس وقت انہیں سوپ پلا رہا تھا کہ تبھی وہ اسکا ہاتھ روکے کہنے لگیں…

زین…

جی ماما…

مجھے پاکستان جانا ہے…

پر کیوں ماما آپ تو جانا نہیں چاہتی تھیں واپس کوئ بات ہوئ ہے تو مجھ بتائیں…

نہیں..کوئ بات نہیں…ہوئ…

پر پلیز مجھے واپس بھجوا دو…

ماما آپکی اکیلے جانے والی حالت نہیں ہے اور مجھے اتنی جلدی دوبارہ چھٹی نہیں ملے گی…پر میں جانا چاہتی ہوں زین …

پلیز مجھے میری ماہی کہ پاس لے جاو…

اچھا روئیں تو مت آپ جیسا کہیں گی میں ویسا ہی کرونگا پر پلیز آپ کچھ وقت دیں مجھے…

پر زیادہ وقت نہیں ہے بیٹا جلدی کرنا جو بھی کرنا ہے…

اوکے ماما…..

زین عالیہ کو حوصلہ دیتا ہوا انہیں سوپ پلانے لگا…

************

براق ہاتھ میں رپورٹس تھامے اس وقت سونیا کہ سامنے صوفے پہ بیٹھا پیر ہلا رہا تھا….

تو مسٹر براق آپکو آگیا یقین؟؟

سونیا کہ مُسکرا کر پوچھنے پر براق نے اُسے خونخوار نظروں سے گھورا…

ہاں یہ میرا ہی بچہ ہے..براق نے دانت پیستے ہوۓ کہا…

میں نے تو پہلے ہی کہا تھا..پر چلو شکر تمہیں یقین تو آیا اب بتاو آگے کیا کرنا ہے ؟؟؟

کیا تم مجھ سے شادی کرنے کا سوچ رہے ہو؟؟؟

یہ تو تمھاری بھول ہے ایسا تو نہیں ہوگا…

براق کی بات پر سونیا کا چہرہ مرجھا گیا تھا…

اوکے…تو پھر…

تم ابارٹ کروا لو…

ہیلو مسٹر اٹس ٹو لیٹ…

سونیا کی بات پر براق کہ چھکے چھوٹ گۓ تھے…اُسے تو لگا تھا ابارشن ہوگا اور بات یہیں ختم ہوجاۓ گی…

تم شادی کرلو مجھ سے براق میں ہمارا بچہ ہم سب ساتھ رہیں گے…

میں میرڈ ہوں اور اگر نا بھی ہوتا تب بھی کم سے کم تم سے شادی نہیں کرتا…

براق کہ حقارت سے کہنے پہ سونیا کو بہت غصہ آیا…

اوکے تو میں یہ بچہ پیدا کرتے ہی تمھارے حوالے کردونگی پھر اپنی نیک سیرت بیوی کو بتانا کہ تم خود کتنے پارسا ہو…

سونیا نے براق کو مزید تپاتے ہوۓ کہا…

کس پر وہ بالکل چُپ ہوگیا…یہ تو واقعی نہیں سوچا تھا کہ سب سے کیا کہے گا…

پر پھر کچھ فیصلہ کرتے ہوۓ گویا ہوا..

تو ٹھیک ہے تم یہ بچہ پیدا کرکہ مجھ دے دو پر ایک بات یاد رکھنا پھر کوئ تعلق نہیں ہوگا تمھارا اُس سے اور مجھ سے سمجھی…..

*************

ماما پھر کیا سوچا آپ نے…

عائشہ کو کب سے ایک ہی طرح سے بیٹھا دیکھ شزرا نے پوچھا..

ہاں سوچ لیا…

پر کیا ماما؟؟؟

ایک دو دن میں تمھارے ڈاکومنٹس آجائیں گے تو تم براق کہ پاس چلی جاو…

پر میں ناراض ہوں اُس سے ایسے کیسے چلی جاوں؟؟

جانا تو پڑیگا نہیں تو جو کیچڑ ماہی پہ ملا تھا اُسی سے اپنا دامن بھرنے کہ لئیے تیار رہو…

نن.نہیں ماما پلیز ایسا تو نا کہیں…

تو پھر میری مانو یہاں سے چلی جاو

باقی یہاں میں سب سنبھال لونگی…

پر احد کی شادی…

اُسکی شادی سے زیادہ ضروری فی الوقت تمھاری شادی بچانا ہے شزرا…