Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 14
Rate this Novel
Beri Piya Episode 14
Beri Piya by Hareem
آج ماہی کی مہندی کا دن تھا…
صبح سے ہی سب تیاریوں میں مصروف تھے.ہر طرف افرا تفری کا عالم تھا…پنجاب سے لیکر چترال تک ہر جگہ سے آۓ عزیز و اقارب گھر پر جمع تھے..پورے گھر کو اندر اور باہر سے نہایت ہی نفاست سے مہندی کہ فنکشن کی مطابقت سے گیندے کہ پھولوں سے سجایا گیا تھا..
مہندی کے فنکشن کا انتظام باہر لان میں کیا گیا تھا..اور پورے لان کو بہت خوبصورتی سے چھوٹی چھوٹی لائیٹوں اور پھولوں سے سجایا ہوا تھا…
ہر طرف ہڑبونگ مچی ہوئ تھی کسی کو مہمانوں کہ انتظام کی فکر تھی اور کسی کو اپنی تیاری کی پڑی ہوئ تھی…
اس سب میں صرف ایک ماہی تھی جو منہ لٹکاۓ اپنی مہندی کا نہایت خوبصورت ہرے رنگ کا جوڑا جس پر گولڈن دبکے کا کام کیا گیا تھا پہنے ساتھ ہی خوبصورت نگوں سے بھرا کھسہ پہنے موتیے اور کہیں کہیں پیلے پھولوں سے مزین جیولری پہنے سر سے پیر تک تیار ہوئ بیڈ پر بیٹھی پاؤں جھُلا رہی تھی..
تبھی عالیہ اور مہوش اندر داخل ہوئیں.
ماشااللہ ماشااللہ ماں صدقے کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بہو مہوش نے ماہی کو گلے لگاتے ہوۓ بہت پیار سے کہا….ساتھ کھڑی عالیہ نے آنکھوں میں آنسو بھرے ماہی کا چہرہ اوپر کرتے ہوۓ پوچھا..اتنی اُداس شکل کیوں بنائ ہوئ ہے میری پیاری سی بیٹی نے ہاں؟؟ماہی نے اُنہیں دیکھتے ہوۓ منہ بسورا..
اُسے اتنا اُداس دیکھ عالیہ نے ماہی کو گلے لگاتے ہوۓ کہنا شروع کیا…
بیٹیاں تو پرائ ہوتی ہیں سب کو ہی جانا ہوتا ہے ..رونا نہیں شاباش عالیہ نے ماہی کی کمر سہلاتے ہوۓ ہر طرح سے تسلی دیتے ہوۓ کہا..
تبھی ماہی نے اُن سے دور ہوکر کھڑے ہوتے ہوۓ کہا”میں اس لئیے نہیں رو رہی ہوں ماما””
تو پھر؟؟؟
وہ ماما میں مٹھائ نہیں کھاونگی..آپ کچھ اور ارینج کریں…
ماہی کہ اپنا مسئلہ بتانے پر عالیہ کا دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ لیں..
پر تبھی مہوش جو کب سے خاموش کھڑی تھیں مسکراتے ہوۓ ماہی تک پُہنچیں..
بس اتنی سی فرمائش؟؟اچھا چلو بتاو پھر کیا کھاو گی؟؟
آپ میرے لئیے چاکلیٹس رکھوالیں.
اوکے رکھوالیں گے…
پر مہوش چاکلیٹ کون رکھتا ہے سب کیا کہیں گے؟؟عالیہ کو لوگوں کی فکر ہوئ
سب جو چاہیں اُنہیں کہنے دو تم میری بیٹی کی خواہش مدنظر رکھو ہم سب چاکلیٹ ہی کھلائیں گے ٹھیک ہے اب تو خوش ہو نا؟؟؟..
مہوش کہ پوچھنے پر ماہی یوہو کا نعرہ لگاتی ہوئ اُن سے لپٹ گئ..
************
بُراق کل شام ہی پُہنچا تھا اور جب سے اسلام آباد پُہنچا تھا تب سے شزرا کسی نا کسی بہانے سے بُراق کہ آگے پیچھے پھر رہی تھی. ابھی بھی دروازہ کھولے اندر داخل ہوئ…
بُراق یہ لو تمھارے کپڑے شزرا نے سفید رنگ کا کاٹن کا جوڑا بُراق کی طرف بڑھایا..
شکر تم لے آئ میں کب سے ویٹ کررہا تھا بُراق نے آگے بڑھتے ہوۓ شزرا سے ہینگر لے لیا.
اور اپنے کپڑے ہینگر سے نکالنے لگا
شزرا کو وہیں کھڑا دیکھ بُراق نے آئ برو اُچکاتے ہوۓ پوچھا کوئ کام ہے کیا؟؟
نہیں تو (شزرا نے کندھے اُچکاۓ)…
اچھا تو جاو مجھے چینج کرنا ہے…
اتنی جلدی ہے تمھیں؟؟
تو کیا نہیں ہونی چاہیے؟؟بُراق نے دوبدو جواب دیا تھا..
بالکل ہونی چاہیے…(شزرا نے مُسکراتے ہوۓ سر جھٹکا) اچھا سب چھوڑو یہ بتاو میں کیسی لگ رہی ہوں…
شزرا نے بُراق کہ بالکل سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ سوال کیا…
بُراق نے حیرت سے سامنے کھڑی سر سے پیر تک سجی سنوری شزرا کو دیکھتے ہوۓ ابھی کچھ کہنا ہی چاہا کہ ..
تبھی مہوش صاحبہ نے اندر داخل ہوتے بُراق کو پکارا…
شزرا ایک دم سے بوکھلاتی ہوئ پیچھے کو ہٹی اور مہوش کو دیکھتی ہوئ باہر نکل گئ..
یہ یہاں کیا کررہی تھی..کچھ نہیں ممی میرے کپڑے لیکر آئ تھی اوہ اچھا میں کب سے ڈھونڈ رہی تھی اور یہ لیکر پُہنچ بھی گئ …
بُراق اس سے دور رہو مجھے اسجا ہر وقت تمھارے آس پاس ہونا بالکل بھی پسند نہیں ہے…
ممی آپ بھی نا وہ کزن ہے اور دوست بھی تبھی خیال رکھتی ہے اور کطھ نہیں…
اچھا اُسے چھوڑو اور فوراً تیار ہوکر نیچے آو.
جی آپ چلیں میں دس منٹ میں آیا…
***********
Heeyyy mom you are looking gorgeous عدوان نے ثانیہ صاحبہ کا گال چومتے ہوۓ تعریف کی…
چل ہٹ ماں کو مسکے لگا رہا ہے…
ہاہا نہیں آپ وقعی میں بہت حسین ہیں اچھا جا کہاں رہی ہیں؟؟؟
عدوان نے اُنکے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ پوچھا…
جبکہ ڈریسنگ کہ سامنے بیٹھی ثانیہ نے عدوان کہ پوچھنے پر کچھ خجل ہوتے ہوۓ کہا”وہ سامنے مہندی ہے نا آج وہاں”
اوہ اچھا میری طرف سے بھی مبارک دی جئیے گا…
عدوان کہ اس طرح نارمل بی ہیو کرنے پر ثانیہ کو خطرے کی بو آنے لگی تھی..
ایسے کیا دیکھ رہی ہیں مام؟؟
کچھ نہیں ویسے تم کچھ دنوں سے بہت خوش لگ رہے ہو..
خوش تو میں ہوں پر آپکو ابھی نہیں بتا سکتا مام عدوان نے اُنکے پاس سے اُٹھتے ہوۓ کہا..
اور دروازہ کھولے کمرے سے باہر نکل گیا…
جبکہ ثانیہ صاحبہ نہایت پریشانی کہ عالم میں اُسے جاتا دیکھنے لگیں اُنکے لئیے عدوان کا نارمل behaviour خاصا پریشان کُن تھا….
**********
ماہی کو پھولوں کی بنی چادر کے نیچے شزرا اور باقی کزنز لئیے آگے بڑھ رہی تھیں وہیں سٹیج پر ماہی کہ لئیے کھڑے بُراق کو اپنے دل رُکتا ہوا محسوس ہوا تھا..
اس وقت ماہی کی معصوم سی مُسکراہٹ نے ہر چیز کو مانند کردیا تھا..
ماہی کہ سٹیج کہ قریب پُہنچنے پر بُراق نے اپنا ہاتھ ماہی کی جانب بڑھایا جسے ماہی نے بلا جھجھک تھامتے ہوۓ سٹیج پر قدم رکھا..
ماہی کا بُراق کہ ہاتھ کو تھامنا جہاں شزرا کو جلا گیا تھا وہیں اپنے ٹیرس پر کھڑے عدوان نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ زمین پہ پھینکا اور اُسے ایسے مسلا جیسے پیر کہ نیچے سگریٹ نہیں بُراق ہو…
ماہی کہ بیٹھنے پر رسمیں شُروع کر دی گئ تھیں ہر کسی نے چاکلیٹ کھلائ اور مہندی اور تیل لگایا اس کہ بعد سب نے اپنے اپنے ڈانس جنکی ریہرسل کی جارہی تھی وہ کرنا شُروع کئیے.
ماہی نے بھی سٹیج پہ بیٹھے بیٹھے ہلنا شُروع کردیا…وہ اس وقت سٹیج پر اکیلی بیٹھی تھی بُراق کو باقی کزنز اپنے ساتھ لے گۓ تھے جہاں مردوں کا انتظام تھا…
ماہی کو ایسے ہلتا دیکھ عالیہ کو ٹینشن ہونے لگی کہ کہیں یہ ناچتے ہوۓ نیچے نا اُتر آۓ..تبھی وہ جلدی سے ماہی تک پُہنچیں..
کل تمھارا نکاح ہے ماہی خبردار جو یہاں سے ہلی—
ورنہ میں بھول جاونگی کہ تم دلہن ہو سمجھی—عالیہ صاحبہ نے ماہی کو سختی سے سمجھاتےہوے کہا–
پلیز امی آج تو نا ڈانٹیں ماہی نے معصومیت سے منہ بناتے ہوے کہا– جس کو دیکھو منہ اٹھا کر ناچ رہا ہے اور جس کی شادی ہے اسے ہی ہلنامنع ہے ہممممممم-
ماہی کا بس نہیں چل رہا تھا سب چھوڑ چھاڑ کہ ناچنے لگے–
تبھی عالیہ نے دانت پیستے ماہی کو گھورکر دیکھتے ہوے کہا آج کہ دن تو اپنی چونچ بند رکھ لو ماہی–
اچھا تو پھر اتنی سردی میں مجھے کیوں بٹھایا ہے جب میرا کوئ کام ہی نہیں ہے تو….تمھیں سردی لگ رہی ہے اچھا رُکو میں شزرا کو بھیجتی ہوں تمھیں اندر لے جائیگی…
اس کے بعد جب تک رسمیں اور ناچ گانا چلتا رہا عدوان نے تب تک اپنے ٹیرس پہ کھڑے ہوکر دیکھتے ہوۓ خود کو اذیت میں مبتلا رکھا….
***********
عالیہ کہ کہنے پر شزرا نے بھی فوراً سے ماہی کو اُٹھنے میں مدد دی اور اندر لے گئ ویسے بھی اب یہ سب شزرا کہ لئیے بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا…
ماہی نے کمرے میں پُہنچتے ہی اپنا گوٹے سے بھرا ڈوپٹہ اُتار کر سائیڈ پر رکھا اور پھر اپنے پھولوں کہ پہنے آویزے اُتارنے لگی…
شزرا جو دروازے سے ٹیک لگاۓ ماہی کو گھور رہی تھی اب خود کو نارمل کرتی ماہی سے پوچھنے لگی…
ماہی اُس دن ہوٹل میں عدوان ملا تھا شاید ایسا کچھ تم بتا رہی تھی نا پر بات مکمل نہیں ہوسکی تھی..شزرا نے ماہی سے اُس دن کی صورتحال پوچھنے کہ لئیے تاویل گھڑی..
ہاں وہ اُس دن (شزرا نے اپنے گجرے اُتارتے ہوۓ لاپرواہی سے بتانا شروع کیا…)وہ بابا سے ملا اپنا انٹرو دیا اور مجھے گھورتا ہوا ہوٹل سے باہر چلا گیا…
بسسسس…
ہاں بس ایسا ہی ہوا تھا کیوں کچھ اور ہونا تھا کیا..
نہیں بس مجھے ڈر تھا کہ کہیں اُس نے تمھارے اور اپنے بارے میں تایا سے کچھ نا بول دیا ہو..
نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا.
چلو تم جب تک ریلیکس ہوجاو میں تمہیں مہندی لگانے کہ لئیے جو لڑکی بُلوائ ہے اُسے بھیج دیتی ہوں شزرا نے مزید ماہی کی کوئ بات سُنے باہر کو قدم بڑھا دئیے….
**************
عدوان نے سارا فنکسشن دیکھنے کہ بعد اپنے کمرے میں آتے ہی لاکر سے نکاح نامہ نکالا اور غور سے دیکھنے لگا کہ کہیں کوئ کمی تو نہیں رہ گئ… ہر طرح سے تسلی کرلینے کہ بعد عدوان نے شزرا کو کال ملائ…
شزرا نے جو اس وقت ماہی کہ ہی ساتھ بیٹھی مہندی لگوا رہی تھی عدوان کی کال آتے دیکھ فوراً سے موبائل اُٹھاۓ ایکسکیوز کرتی ماہی کہ ٹیرس پہ آتے ہی کال پک کی…
ہیلو….
ماہی کیسی ہے(عدوان نے شزرا کہ ہیلو پر بےتابی سے پوچھا)
بالکل ٹھیک ہے مہندی لگوارہی ہے..
اور تم کل کہ لئیے تیار ہونا شزرا؟؟؟.
میں تو بالکل تیار ہوں…
تم بتاو سب کچھ complete ہے نا؟؟؟
تم اپنی تیاری پر توجہ دو میری ٹینشن نا لو میں تو ویسے بھی ہر کام پرفیکٹ کرتا ہوں…
شزرا نے فون کو کان سے ہٹاتے ہوۓ گھور کر دیکھا جیسے عدوان سامنے ہو…ہمممم گھمنڈی…اور کوئ بات ؟؟؟
ہاں ایک کام کردو ماہی کہ ہاتھ پر A ضرور لکھوا دینا….
ممیں میں کیسے اور ویسے بھی بُراق کا نام تو B سے آتا ہے میں A کیسے لکھوادوں…
اب یہ تو تمھیں سوچنا ہے نا….
چلو باۓ…
عدوان فون رکھتے ماہی کہ آج کہ روپ کو آنکھوں میں سجاۓ آنکھیں بند کئیے لیٹ گیا…
**********
عالیہ….
جی رات کہ دو بجے عالیہ کاموں سے فارغ ہوتیں لیٹنے کہ لئیے اپنے کمرے میں آئ تھیں کہ سردار عالم کہ پُکارنے پر اُنکی طرف کروٹ لئیے پوچھنے لگیں….
ایک بات مجھے پریشان کررہی ہے….
اللہ خیر کرے کونسی بات…
مجھے ماہی کہ چہرے پر وہ خوشی نہیں دکھتی جیسی خوشی ایسے موقعوں پر عموماً لڑکیوں کہ چہروں سے چھلکتی ہے…
وہ خوش تو ہے نا؟؟؟
اُف سردار صاحب آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا…
ایسا ویسا کچھ نہیں ہے آپ بےفکر رہیں…
اور اپنی بیٹی سے قطعاً کوئ شرمانے لجانے کی اُمید مت رکھیں…
ہاہاہا میں جانتا ہوں وہ شروع سے اپنے احساسات چھپانے میں ماہر ہے….
ایسا ویسا کچھ نہیں ہے اصل میں تو اُسکے پاس لڑکیوں والے جذبات ہیں ہی نہیں دوسری لڑکیاں تو اپنی مہندی کہ وقت سر نہیں اُٹھاتی اور آپکی بیٹی کو سٹیج پہ بیٹھے مسز فرید کہ بیٹے سے یہ پوچھنا یاد تھا کہ وہ اُسکی بال واپس کرنے کیوں نہیں آیا …
میرا تو دل چاہ رہا تھا وہیں دوہتڑ لگاوں پر اتنے لوگوں کا احساس کرلیا میں نے….
ہاہاہاہا عالیہ کی بات پر کافی دیر تک عالم صاحب ہنستے ہی رہے.
میں بہت مس کرونگا ماہی کو….
عالم صاحب نے آنسو بھری آنکھوں سے مسکراتے ہوۓ کہا….
ہاں ہاں وہ بھی کرلینا ابھی سو جائیں صبح جلدی اُٹھنا ہے اور بہت کام ہیں عالیہ اُنہیں وارن کرتیں کروٹ لیتے سونے لگیں….
پر عالم یہ جانتے تھے کہ اپنے احساسات کو چھپانے میں ماہی اپنی ماں پر گئ ہے….
***********
مہندی والی لڑکیاں شزرا اور ماہی کو مہندی لگاتیں اب باہر جاکر گھر آۓ مہمانوں کو مہندی لگانے جا چُکی تھیں…
رات کہ دو بجے ماہی نیند میں ہچکولے لیتی مہندی سوکھنے کہ چکر میں اب تک بیٹھی ہوئ تھی…. تبھی شزرا مہندی کی کون پکڑے ماہی تک پُہنچی…
ماہی….
ہممممم….ماہی وہ بُراق مجھ سے کہہ رہا تھا کہ میں تمھارے ہاتھ پر اُسکے نام کا پہلا لفظ ضرور لکھواوں وہ مہندی والی تو چلی گئ آو میں لکھ دوں…
کیااا نہیں یار یہ سب مجھے بہت چیپ لگتا ہے…
اس میں چیپ والی کیا بات ہے تمھارا ہونے والا شوہر ہے ایسی ڈیمانڈ کرسکتا ہے لاو میں لکھوں..
پر شزرا اوہ ہو پر ور کو گولی مارو شزرا نے ماہی کا ہاتھ پکڑے اُس پر A لکھ دیا…
شزرا B لکھنا تھا.. .
اوہ سوری سوری اُف یہ کیا کردیا میں نے…شزرا نے بھولے پن کی ایکٹنگ کرتے پریشان ہوتے ہوۓ کہا…
اب کیا ہوگا مٹاو اسے..
میں مٹا بھی دوں رنگ تو آگیا ہوگا اور ویسے بھی کون تمھاری مہندی کو اتنا غور سے دیکھے گا.. سو ریلیکس رہو اور سو جاو مجھے بھی نیند آرہی ہے گڈ نائٹ شزرا اپنا کام کرتی بنا ماہی کی طرف دھیان دئیے یہ جا وہ جا ہوگئ…
اور ماہی اپنے ہاتھ پر لکھے A کو بیٹھے گھورنے لگی…
کچھ دیر تک پریشان ہونے کہ بعد ماہی ہر چیز پر سر جھٹکتی سونے کہ لئیے لیٹ گئ ویسے بھی زیادہ دیر تک پریشان ہونا ماہی کہ بس کی بات نہیں تھی…
************
ماہی۰۰۰۰۰۰ اُف خدا کوئ کہہ سکتا ہے کہ اس لڑکی کا نکاح ہے ۰۰نیچے لڑکیاں سرخی پوڈر کی دوکان کھولے بیٹھی ہیں اور جسکی جنج(بارات) دروازے پہ کھڑی ہے اُسکے خراٹے ہی ختم نہیں ہورہے …
اٹھ جا ماہی اب کی بار دادو نے دُہائ دی تھی۰۰۰۰
کیا ہوگیا دادو۰۰۰ ماہی آنکھیں ملتی اٹھ بیٹھی
یہ دیکھ یہ بیچاری بچی کب سے کھڑی ہوئ ہے کہ کب یہ پوستی دلہن اُٹھے اور یہ اُسکا منہ سر کرے….
پر دادو مجھے کہاں ضرورت ہے بھلا اس سب کی ویسے بھی میرے لیے تو شاعر نے کیا خوب کہا ہے۰۰۰۰
# خوبصورتی بھی کیا چیز ہوتی ہے…
ماشاءاللہ یقین سا آجاتا ہے خود کو دیکھ دیکھ کر…..#
ماہی نے صبح ہی صبح اپنی ہی ہانکی تھی…
اچھا چل باتھ روم سے ہو آ پھر کچھ کھا لے اور مہندی دکھا کیسا رنگ آیا ہے..
دادو کو اپنے ہاتھ دکھاتے ہوۓ ماہی کو رات والا بلنڈر یاد آیا جس کے یاد آتے ہی ماہی نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں…
نہیں دادو میں سب سے پہلے اپنی مہندی بُراق کو دکھاونگی…
ہاااا بےشرم دادو نے اپنی ہنای روکتے ماہی کو پیار کیا اچھا چل ٹھیک ہے پر اُٹھ جا…
اچھا ٹھیک ہے دادو پر پہلے اچھا سا ناشتہ بھجوا دیں…ماہی دادو کو کہتی باتھ روم میں گُھس گئ…
************
ماہی کہ نکاح کا انتظام شاہ فیصل مسجد میں کیا گیا تھا… ماہی کو تیار ہونے کہ بعد وہاں پُہنچنا تھا….
اس لئیے ماہی کو پہلے ہی لے جایا گیا تھا….اب گھر پر پھوپھو اور اُنکی طرف کہ رشتے دار موجود تھے ساتھ ہی ثروت بیگم اور سردار بخش بھی اپنے اکلوتے نواسے کی سہرا بندی کہ لئیے وہیں پر تھے….سردار بخش کچھ نالاں تھے کیونکہ ثروت نے رسموں رواجوں کہ وقت اُنکی ایک نہیں چلنے دی تھی اُنہیں ہر بات سے اختلاف تھا ….
سہرہ بندی کی رسم شروع ہوچُکی تھی بُراق کی پھوپھو نے سہرا پہنایا تھا…
اور اسکے بعد تقریباً ہر کسی نے بُراق کو ہار ڈالے تھے…
بُراق کہ لئیے یہ سب کچھ بالکل نیا تھا سو وہ بہت انجواۓ کررہا تھا…
جب سب ہار پہنا چُکے تب سردار بخش نے اُنکی دائمی خوشیوں کی دُعا کروائ..
چلو بھئ دیر ہورہی ہے اور کوئ رسم تو نہیں رہتی نا مہوش نے آگے بڑھتے ہوۓ بُراق کو کھڑے ہونے میں مدد دی جو پیسے والے ہاروں میں بالکل چُھپ گیا تھا….
ممی یہ سب پہنے رکھنا ہے کیا ؟؟؟
نہیں بیٹا سب اُتار دو بس یہ ایک پھولوں والا ہار ڈالے رکھو….
اب سب لانج سے نکلتے گیٹ سے باہر آنے لگے..اور جیسے ہی گھر کہ افراد باہر آۓ باہر بجتے بینڈ باجوں نے نئ دُھن سے استقبال کیا اور گاڑی کہ ساتھ ساتھ چلنے لگے…
کچھ دور جاکر بینڈ والوں نے اپنی راہ لی کیونکہ بارات نے مسجد جانا تھا اس لئیے اُنہیں ساتھ نہیں لے جایا گیا…
**********
بارات کی گاڑیاں رُکتی دیکھ کر شزرا کہ پسینے چھوٹنے لگے تھے کیونکہ آنے والی قیامت کہ بارے میں صرف وہی باخبر تھی…تبھی عائشہ بیگم نے شزرا کہ کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا شزرا ایک بار پھر سوچ لو یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہی ہو….
ماما ڈرائیں تو مت دیکھنا کچھ نہیں ہوگا بس آپ اپنا کام صحیح سے کرئیگا یہ سب آپکی بیٹی کہ بہتر مستقبل کا معاملہ ہے…
ہاۓ عائشہ بارات آگئ تم نے بتایا ہی نہیں عالیہ عائشہ سے شکوہ کرتیں أگے بڑھیں جہاں سب اپنی گاڑیوں سے اُتر رہے تھے…
چلیں آئیں سب نکاح کہ لئیے دیر ہورہی ہے…
سردار عالم سب کو لئیے اندر کی طرف بڑھ گۓ جہاں کہ پرئینگ ہال میں تمام انتظام تھا..
**************
عدوان سوٹڈ بوٹڈ خوشبووں میں نہایا ہوا اپنے کف لنکس لگاتا جلدی جلدی سیڑھیاں اُترتا نیچے آیا….
عدوان کہاں جا رہے ہو؟؟؟
وہ مام میری میٹنگ ہے آج باہر سے کوئ delegation آرہا ہے نا آپ کہیں جا رہی ہیں۔..
ہاں وہ نکاح ہے نا آج وہیں کی تیاری ہے…
(اُف اب انہیں کیسے روکوں عدوان نے اپنے فون پر شزرا کا میسیج دیکھتے ہوۓ سوچا)
آپ اپنے بیٹے کہ محبت کہ جنازے میں کیسے جا سکتی ہیں مام؟؟؟
پر بیٹا تم تو سب بھول کر آگے بڑھ چُکے ہو ہاں میں أگے بڑھ چُکا ہوں پر آپ بار بار مجھے یاد کروادیتی ہیں کیا آپ کا جانا ضروری ہے؟؟
نہیں بیٹا میں تو بس اس لئیے جا رہی تھی کہ وہ لوگ یہ نا سوچیں کہ رشتہ ناملنے پر ہم نے کوئ بیر ہی پال لیا ہے….
تبھی عدوان نے مزید ایموشنل کرنے کہ لئیے کہا…أپ کہ لئیے لوگ اپنی اولاد سے بڑھ کر کب سے ہوگۓ.
نہیں بیٹا تم سے بڑھ کر کچھ کیسے ہوسکتا ہے چلو میں نہیں جاتی خوش؟؟؟
اُنکو صوفے پہ بیٹھا جیولری اُتارتے دیکھ عدوان نے سُکھ کا سانس لیا…
تھینک یو مام…عدوان نے آگے بڑھ کر اُنکے ہاتھوں پہ پیار کرتے کہا. .اچھا مجھے دیر ہورہی ہے…
باۓ…
***********
ہر طرف خوشی کا سماں تھا…
شاہ فیملی فیصل مسجد میں موجود تھی..
کیونکہ آج سب کی ہر دل عزیز تطمٰئین القلب (عرف ماہی) کا نکاح تھا.
لڑکے والے اور لڑکی والے دونوں پُہنچ چُکے تھے..
مسجد کے پرئینگ ہال کہ درمیان میں سفید جالی دار پردہ لٹکایا گیا تھا جس کے ایک جانب دُلہن اور دُلہن والے..
جبکہ دوسری سائیڈ پر دُلہا اور دُلہا والے موجود تھے.. سب مولوی صاحب کا انتظار کر رہے تھے..
تب ہی مولوی صاحب تشریف لے آۓ..اور ہر طرف کھڑے ہوۓ لوگ خاموشی سے اپنی اپنی سائیڈ پر آ کر بیٹھنے لگے..
سردار بخش نے نکاح شروع کرنے کا عندیہ دیا..
بسمہ اللہ……….(سے شروع کرتے ہوۓ مولوی صاحب نے نکاح پر کچھ احادیث اور قرآنی آیات سے نکاح کی افادیت پہ روشنی ڈالی)
اور پھر نکاح پڑھانا شروع کیا…
تطمٰئین القلب ولد سردار عالم کیا آپکو سردار محمد بُراق ولد سردار محمد تنویر سے بعوض پچاس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت نکاح قبول ہے؟؟
سب کی نظریں ماہی کی طرف اُٹھیں جو اس وقت کوپر کلر کا لہنگا پہنے اپنی ماما کی شادی کی جیولری میں کوئ حسین پری لگ رہی تھی .
تطمٰئین نے سر جھکاۓ اقرار میں سر ہلایا..
جی قبول ہے…
آپکو قبول ہے؟؟
جی قبول ہے…
تبھی ایک آواز گونجی یہ نکاح نہیں ہوسکتا..وہاں بیٹھے سب افراد کہ سر اس آواز کی جانب گھومے…. سردار عالم کو بھی عدوان کوو دیکھ کر جھٹکا لگا کیونکہ اس دن عدوان کا بار بار ماہی کو گھورنا اور ماہی کا نظریں چُرانا اُنہیں کچھ عجیب لگا تھا…
عدوان کی آواز ماہی نے پہچان لی تھی اور اب وہ دل ہی دل میں ڈرتی سب کچھ صحیح ہونے کی دُعائیں مانگنے لگی…
کیا بدتمیزی ہے یہ عدوان…
آپ لوگ یہ نکاح نہیں کرواسکتے..
عدوان نے سردار عالم کی طرف تمسخر اُڑاتی نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ کہا..
سردار عالم اپنی جگہ سے اُٹھتے ہوۓ عدوان تک پہنچے اور غُرا کر کہا تم کون ہوتے ہو میری بیٹی کہ نکاح میں بولنے والے؟؟؟
میں اسکا شوہر ہوں…
کیاااا…
یہ الفاظ ایک قیامت کی طرح وہاں بیٹھے لوگوں کو دہلا گۓ تھے…..
