Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 16
Rate this Novel
Beri Piya Episode 16
Beri Piya by Hareem
عدوان اور ماہی کا نکاح عدوان کہ کولیگز کی موجودگی میں خیرو عافیت سے پایا تکمیل تک پُہنچ چُکا تھا….
ماہی اندر کمرے میں وہی برائیڈل ڈریس پہنے جو بُراق سے نکاح کہ وقت پہنا تھا اُسی میں موجود سر جھکاۓ بیٹھی تھی..اور ساتھ ہی عدوان کہ ایک کولیگ کی مسز (مدیحہ)ماہی کہ ساتھ موجود تھیں…
جو حیرت سے اُسے روتا دیکھ رہی تھی…
بات سُنو تم رو کیوں رہی ہو؟؟
ماہی جو پہلے ہی بھری بیٹھی تھی بنا لحاظ کئیے جواباً بولی…
روؤں نا تو کیا بھنگڑا ڈالوں….
ماہی کا جواب سُنتے پہلے تو وہ خجل ہوئیں پر پھر منہ پُھلاتے کہہ بیٹھی…
اتنا ہی رونا تھا تو ایسے گھر سے بھاگ کر نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی.. .ہممم پہلے تو گھر سے بھاگ کر آئ ہو اور اب رو کر دکھا رہی ہو…
ماہی جو کب سے غم و غصہ سے بھری پڑی تھی مدیحہ کہ روپ میں اُسے اپنے سامنے شزرا کھڑی دکھائ دی…
ماہی نے پہلے تو حیرت سے آنکھیں ملتے اُسے دیکھا کہ کہیں شزرا تو نہیں ہے پھر عائشہ چچی کی باتیں اُسکے کانوں میں گونجنے لگیں…
اپنے اوپر لگنے والے ایک اور الزام نے ماہی کا دماغ گھما دیا تھا غصے سے سیخ پا ہوتی ماہی اپنا لہنگا سمیٹتی بیڈ سے اُتری صوفے تک مدیحہ کہ پاس پُہنچی…
مدیحہ ابھی بھی آنکھوں میں تمسخر لئیے ماہی کو گھور رہی تھی…تبھی ماہی نے اُسے سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر اُس پر دھاوا بول دیا..
اور دونوں ہاتھوں میں اُسکے بال پکڑے مدیحہ پر حملہ آور ہوئ چلانے لگی…
تم نے مجھے گھر سے بھاگ کر آئ ہوئ لڑکی سمجھا ہوا ہے..میں تمھیں ایسی لگتی ہوں ماہی مسلسل بولتی ہوئ اُسکے بال پکڑے اُسے جھٹکے دے رہی تھی…
چھوڑو مجھے جنگلی کہیں کی چھوڑو کوئ ہے بچاو بچاو مجھے…
عدوان جو اس وقت کچن میں ہوٹل سے آیا ہوا کھانا ویٹرز سے کچن میں رکھوا رہا تھا بھاگتا ہوا اندر کمرے کی طرف بڑھا…
کیا ہوا ماہی عدوان نے بولتے ہوۓ جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولا اندر کا حشر دیکھتے ہی سُن سا ہوگیا…
یہ کیا کررہی ہو ماہی چھوڑو انہیں…
تم دور رہو ورنہ اس سے بُرا حشر تمھارا کرونگی سمجھے…
چھوڑ دو بیچاری کو حشر دیکھو کیا کردیا ہے عدوان نے بولتے ہوۓ ماہی کہ قریب آکر اُسے روکنا چاہا …
تمھاری وجہ سے آج سب کی اتنی ہمت ہوگئ ہے کہ ہر کوئ مجھ پر کیچڑ اُچھال رہا ہے…ماہی نے اس جھگڑے میں عدوان کو بھی گھسیٹا تھا…
پلیز سر مجھے چھڑوائیں میں آپ کی وجہ سے انکا لحاظ کررہی ہوں ورنہ…
کیا ورنہ ہاں عدوان نے ماہی کو پوری طرح سے مدیحہ کی طرف متوجہ دیکھ کر ماہی کو پیچھے سے آکر دبوچتے ہوۓ اُسکے ہاتھوں کو پکڑا…اورمدیحہ کو ماہی سے چھُڑوایا..
مدیحہ ہانپتی کانپتی فورًا سے دروازے کی طرف بھاگی کہ مبادا کہیں دوبارہ ماہی نا پکڑ لے…
یہ کیا طریقہ ہے ماہی گھر آۓ مہمان کہ ساتھ کوئ ایسا کرتا ہے کیا…
تو مہمان ایسے کہتے ہیں کیا ادھر آو تمھیں بتاوں کہ میں کیسے بھاگ کر آئ ہوں ماہی غصے سے دوبارہ اُسے پکڑنے کو آگے بڑھی…
تبھی عدوان نے ماہی کو بازو سے پکڑتے پیچھے کو کھینچا…
*************
عالم صاحب کو بہت سیریس ہارٹ اٹیک ہوا تھا…
زین اور عالیہ اُنہیں ہاسپٹل لے آۓ تھے…
باقی سب بھی فیصل مسجد سے وہیں پُہنچ چُکے تھے..
عالم صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی..ڈاکٹرز نے بھی کوئ خاص اُمید نہیں دلائ تھی…عالیہ i-c-u کہ باہر بیٹھی رو رو کر ہلکان ہورہی تھیں اور مہوش اُنہیں تسلی دینے میں لگی ہوئ تھی…
حوصلہ کریں بھابھی انشااللہ کچھ نہیں ہوگا. مہوش اگر اُنہیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا بنے گا میں کیسے رہونگی اُنکے بغیر ہاۓ اللہ کسی کو بھی ایسی اولاد نا دے جو باپ کو موت کہ منہ میں پُہنچا دے…
تبھی ایک ڈاکٹر اندر سے باہر آیا..اور زین جلدی سے اُن تک پُہنچا..سب ٹھیک ہے نا؟؟
اُنکی حالت اتنی بہتر نہیں ہے پر ہم اپنی کوشش کررہے ہیں…آپ سب میں سے ماہی کون ہے؟؟؟
ماہی کہ نام پر عالیہ نے آنکھیں پونچھتے ڈاکٹر کی طرف دیکھا…
اندر جو پیشنٹ ہیں وہ بار بار اُنہیں پُکار رہے ہیں بہتر ہوگا کہ آپ اُنہیں بُلا لیں..
اپنی بات مکمل کرتے چہرے پر پیشہ ورانہ مُسکراہٹ سجاۓ ڈاکٹر آگے بڑھ گیا…
اور باقی سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کہ آگے کیا کیا جاۓ…..
**************
کیا ماما تایا کو بھی آج ہی ہارٹ اٹیک کروانا تھا.. شزرا نے ڈریسنگ کہ سامنے بیٹھے اپنا میک اپ صاف کرتے ہوۓ شکوہ کیا..
آہستہ بولو کوئ سُن نا لے…
سُنتے ہیں تو سُنتے رہیں…اتنا اچھا فوٹو شوٹ ہورہا تھا کہ بیچ میں ہی سب روکنا پڑا..
اور ماما کل بارات ہوگی کہ نہیں؟؟؟اب(شزرا کو نئ ٹینشن نے گھیرا)
اللہ جانے اب یہ تو تمھارے تایا کی حالت دیکھ کر ہی کچھ کہا جا سکتا ہے ویسے ابھی کچھ دیر پہلے بات ہوئ تھی احد سے کہہ رہا تھا کہ حالت کچھ خاص بہتر نہیں ہے…
اُف میری ہی خوشی خراب کرنی تھی انہیں.. کتنا شوق تھا مجھے کہ میری بارات بھی monal میں آۓ حمزہ علی عباسی کی طرح کتنی مُشکل سے ماہی کو کہہ کر سارا انتظام تایا سے کروایا تھا وہاں پر…
ہیں یہ کب ہوا؟؟؟
ہاہاہا(شزرا نے ہنستے ہوۓ اپنا کارنامہ بتانا شروع کیا) مجھے تو پتہ تھا نا کہ شادی میری ہوگی ماہی کی نہیں سو سب کچھ اپنی پسند سے ارینج کروایا تھا..
پر ہاۓ ری قسمت…
ویسے اللہ جانے کہاں ہوگی ماہی….
دفعہ کریں اُسے اور میری بارات کا سوچیں…
ہاں.. ہاں سوچ لیں گے میں ذرا تمھاری دادی کو تسلی دے آوں…
************
تم چھوڑو مجھے ذرا مجھے اس سے نمٹنے دو پھر تمہیں بھی دیکھ لیتی ہوں…
ماہی کا غصہ کسی طور کم نہیں ہورہا تھا…
یہ پاگل ہو چُکی ہیں انہیں کسی ڈاکٹر کو دکھائیں.. مدیحہ ماہی کو مزید چڑاتے باہر چلی گئ…
عدوان نے ماہی کو ڈھیلا چھوڑ کر اپنی جان چھڑائ جو کب سے اُسکے بازووں کو نوچتی زخمی کررہی تھی…
اُف تم تو بالکل جنگلی بلی ہو عدوان نے اپنے بازو سہلاتے ہوۓ کہا…
تمھاری وجہ سے وہ لڑکی مجھے اتنی باتیں سُنا گئ تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا عدوان میں تمھیں جان سے مار ڈالونگی ماہی نے آگے بڑھتے ہوۓ اپنے ناخن عدوان کہ منہ پر مارے جو اُسے کافی زخمی کر گۓ…
عدوان کی آنکھ کہ پاس ماہی کہ نیلز لگے تھے اور اتنی زور سے لگے تھے کہ اب چہرے پر ننھے ننھے سے خون کہ قطرے اُبھر آۓ تھے…
اُف ماہی یہ کیا بدتمیزی ہے..
یہ تو ابھی ٹریلر ہے مسٹر عدوان..میں نے تمھیں مجھ سے شادی کرنے کہ فیصلے پر پچھتانے پہ مجبور نا کردیا تو میرا نام بھی تطمٰئین نہیں….
تم بالکل پاگل ہو چُکی ہو عدوان نے ماہی کو سختی سے بازووں سے پکڑتے ہوۓ کہا…آج تو تم نے ہاتھ اُٹھا لیا ہے مجھ پر پر آیندہ ایسا نا ہو…عدوان نے اُنگلی اُٹھاۓ وارن کرتے ہوۓ کہا…میرے مہمان ہیں باہر میں اُن سے نمٹ لوں تو پھر علاج کرتا ہوں تمھارا عدوان غصے سے لال ہوتا باہر نکل گیا….
*************
بیگم صاحبہ….
وہ سامنے والوں کہ گھر سے کوئ صاحب آۓ ہیں میں نے اندر ڈرائینگ روم میں بٹھا دیا ہے جی….
اچھا تم جاو میں آتی ہو…
اُف عدوان فون اُٹھاو ثانیہ صاحبہ نے ایک بار پھر سے عدوان کا نمبر ڈائل کیا جو کب سے بند جا رہا تھا…
وہ جھنجھلاتی ہوئ کمرے سے نکلتی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئیں..
(اسلام و علیکم آنٹی زین نے کھڑے ہوکر ادب سے سلام کیا)
وعلیکم السلام بیٹھو بیٹا….
وہ آنٹی کیا آپ جانتی ہیں کہ عدوان اور ماہی کہاں ہیں… وہ اصل میں… میرے بابا ہاسپٹل میں ہیں اور اُنکی حالت بہت خراب ہے اور وہ ماہی سے ملنا چاہتے ہیں…
پر بیٹا مجھے تو خود نہیں پتا میں تو خود کب سے فون ملا رہی ہوں پر اُسکا نمبر بند ہے…(ثانیہ صاحبہ نے جواب دیتے اب شرمندگی سے سرجھکاۓ معافی مانگنا چاہی)
میں تم سب سے بہت شرمندہ ہوں بیٹا مجھے بالکل بھی اس سب کہ بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا…
میں سمجھ سکتا ہوں آنٹی پلیز آپ کال کرتی رہیں جیسے ہی رابطہ ہو اُنہیں تمام صورتحال سے ضرور آگاہ کردئیے گا…
زین نے اُٹھتے ہوۓ یاددہانی کروائ….
ضرور بیٹا….
************
عدوان نے باہر آکر مہمانوں کی تمسخر اُڑاتی اور جانچ پڑتال کرتی نگاہوں کو کس طرح سے فیس کیا تھا یہ وہی جانتا تھا…
ماہی کافی دیر تک غصے میں ادھر اُدھر ٹہلتی ہوئ تھک کر بیڈ پر بیٹھی اب سو چُکی تھی اس وقت رات کہ نو بج رہے تھے…
عدوان مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلا کر رُخصت کر چُکا تھا اور اب اپنا لیپ ٹاپ کھولے اپنے آفس کہ کسی پروجیکٹ پر کام کررہا تھا…
اور ماہی کہ پاس دوبارہ اندر نہیں گیا تھا کیونکہ وہ اپنی ناراضگی اُسے دکھانا چاہتا تھا اور ساتھ یہ بھی جانتا تھا کہ اُسے
کوئ فرق بھی پڑھنے والا نہیں ہے……
بابا پلیز آپ مت جائیں بابا روک جائیں…
بابا…..بابا….
ماہی اپنے بابا کو پُکارتی اُٹھ بیٹھی تھی….
ماہی کی جیسے ہی آنکھ کھلی اُس نے خود کو ایک تاریک کمرے میں پایا کچھ دیر تک تو کچھ سمجھ ہی نا آسکی پر پھر سائیڈ ٹیبل پر کچھ ٹٹولتے ہوۓ ہاتھ مارا اور لیمپ آن کر لیا…..
اس وقت سردی میں بھی ماہی کہ پسینے چھوٹ رہے تھے…اُس نے خواب میں دیکھا تھا کہ عالم صاحب سفید کپڑے زیب تن کئیے ناک کی سیدھ میں چلتے جارہے ہیں اور ماہی اُن کہ پیچھے اُنہیں پُکارتے ہوۓ بھاگ رہی ہے پر اُن تک پُہنچ نہیں پارہی..
اُف کتنا عجیب خواب تھا…
یااللہ پلیز سب خیر رکھنا…
مجھے بابا کہ پاس جانا چایے ماہی کچھ سوچتی اپنے لہنگے کا ڈوپٹہ اپنے اردگرد پھیلا کر اوڑھتی عدوان کو ڈھونڈتی باہر کی طرف بڑھ گئ…
سامنے ہی لاونج میں عدوان دیوان پر آنکھوں پہ اپنے بازو رکھے لیٹا ہو دکھا….پہلے تو ماہی نے کچھ دیر وہیں روکے عدوان کو گھورا پر پھر خراماں خراماں چلتی عدوان تک پُہنچی اور پھر وہیں کارپٹ پر پاوں پسارے بیٹھ گئ….ماہی کہ دھپ کرکہ بیٹھنے پر عدوان نے فورا آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹاۓ ماہی کی طرف دیکھا اور دیکھتے ہی حیران ہو کر اُٹھ بیٹھا…
یوں نیچے کیوں بیٹھی ہو….
ادھر آو اوپر بیٹھو…
تم مجھ سے کتنا پیار کرتے ہو….
ہیں…یہ کیسا سوال پے؟؟؟
بتاو نا کتنا پیار کرتے ہو؟؟؟
Countless….
نہیں percentage میں بتاو 1 سے 100 تک میں…
عدوان نے حیران ہوتے ہوۓ ماہی کو دیکھا جو پہلے اُسکے منہ کا ڈیزائن خراب کرکہ اب اتنے رومینٹک سوال پوچھ کر اُسکا ایمان خراب کررہی تھی….
100%….عدوان نے مُسکراتے ہوۓ ماہی کو اُسکے مطلب کا جواب دیا…
تو پھر تم مجھے میرے گھر لے جاو میرا دل بہت گھبرا رہا ہے میں نے بہت بُرا خواب دیکھا ہے پلیز میری بات مان لو پلیز ماہی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے عدوان کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ منت کی….تم.. تم جو کہو گے میں وہ کرونگی.. میں تمھیں تنگ بھی نہیں کرونگی…اور… اور…دن میں تارے بھی نہیں دکھاونگی …
بلکہ تم دکھا لینا تارے….
پلیز عدوان پلیز مجھے میرے بابا کہ پاس لے جاو…..عدوان جو کب سے حیرت کی تصویر بنا ماہی کو سُن رہا تھا…اپنے ہاتھوں پہ ماہی کہ آنسو گرتا دیکھ عدوان ہوش میں آیا تھا…
اوکے پلیز رو مت عدوان نے ماہی کہ آنسو اپنی اُنگلیوں کی پوروں پر چُن لئیے تھے..
میں تمھیں لے جاتا ہوں پر تم پرامس کرو مل کر واپس میرے ساتھ میرے گھر چلو گی…بنا ضد کئیے…
ٹھیک ہے نا…
ماہی نے فوراً سے سر ہلاتے حامی بھری..
اوکے گُڈ گرل…
ابھی جاو کچن میں کھانا رکھا ہے پہلے وہ کھاو اور میں نے کچھ ڈریسز منگواۓ تھے اُن میں سے کچھ پہن لو پھر میں لے چلتا ہوں…
تم سچ کہہ رہے ہو نا؟؟؟
.ماہی نے تصدیق چاہی…
ہاں بالکل سچ….
اوکے میں آتی ہوں ماہی فوراً سے اوپن کچن کی طرف بڑھ گئ….
************
ماہی نے اپنا لہنگا اُتار کر عدوان کہ لاۓ ہوۓ کپڑے پہن لئیے تھے اور اب دونوں گاڑی میں بیٹھے گھر کہ راستے پر گامزن تھے….
جیسے جیسے گھر قریب آرہا تھا ماہی کا دل مزید عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا….اور وہ بار بار خود کو یقین دلا رہی تھی کہ یہ سب میرا وہم ہے جیسے ہی اُنکی گلی سٹارٹ ہوئ گاڑیوں کی لمبی قطار دکھی…
یہ اتنی گاڑیاں کیوں کھڑی ہیں یہاں..
ماہی نے عدوان سے پوچھا…(عدوان نے حیرت سے کندھے اُچکاتے ہوۓ کہا)
مجھے نہیں پتہ…
پر جیسے جیسے قریب پُہنچے تو اُنہوں نے دیکھا یہ سب گاڑیاں ماہی کہ گھر کہ باہر کھڑی تھیں اور گیٹ بھی کُھلا ہوا تھا رات کہ دس بجے اتنا رش دیکھ کر ماہی کو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا اور وہ گاڑی سے اُترتی سیدھی لوگوں کہ ہجوم سے گُزرتی اندر پُہنچی جہاں لاونج میں سب عورتیں بیٹھیں زارو قطار رو رہی تھیں….
اور سامنے ہی جنازے والی چارپائ رکھی ہوئ تھی…
ماہی اپنے دل پہ ہاتھ رکھتی آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی…ماہی کو دیکھتے وہاں بیٹھے لوگ اب خاموشی سے اُسکی طرف دیکھنے لگے…
کہ تبھی عالیہ بیگم نے رکھ کر ماہی کو تھپڑ دے مارا جس کہ لگتے اپنے دھیان میں کھڑی ماہی دو قدم دور جا گری…
اپنے باپ کو کھا گئ ڈائن…….
