Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 22

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 22

Beri Piya by Hareem

ماہی سے ہونے والی بحث کہ بعد عدوان کمرے سے ہوتا ہوا باہر لان میں بیٹھے سب افراد کو اگنور کرتا ہوا گاڑی گیٹ سے نکالتا جا چُکا تھا….

اُشنا نے اتنے غصے سے جاتے ہوۓ عدوان کو دیکھ کر مُسکراتی نظروں سے ماہم کو کچھ باآور کروانا چاہا جس پر ماہم کندھے اُچکاتی زارون کو کھانا کھلانے لگی…

ماہی ویسے ہی بیٹھے روتے ہوئ اب بالکنی میں کھڑی حسرت سے اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی…

پہلے تو اُسے اپنی ماما کبھی لان یا چھت پر دکھ جاتی تھیں پر کچھ دنوں سے ماہی کو وہ نظر نہیں آئ تھیں…جسکی وجہ سے ماہی اور بھی اُداس تھی پر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس گھر کیا اس ملک سے ہی جا چُکی ہیں…

آج بہت دنوں بعد پھر سے ماہی اپنا ضبط کھو چُکی تھی…(وہ بظاہر خود کو نارمل شو کرتی تھی پر اندر سے وہ کس ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی…وہ کسی پر بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی…)

ماما کہاں ہیں آپ ؟؟؟

آپ سے ملنا نا صحیح آپکو دیکھ لینا بھی میرے لئیے بہت تھا پر اب تو لگتا ہے کہ جیسے آپ نے مجھے مزید سزا دینے کی قسم کھا لی ہے…

ماہی نے وہیں بالکنی میں بیٹھتے ہوۓ آنکھیں موند لی تھیں….

************

سو جاو شزرا ہمیں صُبح جلدی نکلنا ہے یہاں سے…

واو رئیلی…شزرا نے خوشی سے اپنا موبائل سائیڈ پر رکھتے ہوۓ براق سے کہا…

ویسے تمھارا رویہ یہاں پر جتنا روکھا رہا سب کہ ساتھ وہ مجھے اچھا نہیں لگا شزرا…

اب میں نے بھلا ایسا بھی کیا کردیا ؟؟

اگر مجھے یہاں کسی کی کوئ بات سمجھ ہی نہیں آتی تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟؟

جو بڑی آنٹیز ہیں اُنہیں اُردو نہیں آتی باقی تو سب کو آتی ہے اُن سے کونسا تم بات کرلیتی ہو…

اوہ پلیز براق میں نے کونسا یہاں دوبارہ آنا ہے جو ان سے رشتےداریاں گانٹھتی رہوں..

شزرا نے ایک ادا سے اپنے بال جھٹکتے ہوۓ براق سے کہا…جس پر وہ افسوس سے اُسے دیکھتا جیکٹ اُتارتے لیٹنے لگا…

اچھا یہ تو بتاو اب کہاں جائینگے؟؟

ولی مراد سے بات ہوئ ہے میری وہ صُبح ہمیں کیلاش لے جائیگا.. وہاں بمبور اور بمبیر (نراق نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا)شاید یہی کہا تھا یہ حگہیں ہیں اُنکے بعد ہم لوگ گلگت کہ لئیے روانہ ہونگے…

ہممم…اور وہاں ہمارا سٹے ریسٹ ہاوس میں ہوگا یا کسی کہ گھر پہ؟؟؟

جو بات شزرا کو بےچین کر رہی تھی وہ بات آخرکار اُس نے پوچھ ہی لی تھی….

ریسٹ ہاوس میں …

تھینک گاڈ شزرا نے لیٹتے ہوۓ شکر کیا…

(ویسے تو بُراق شزرا کا بےحد خیال رکھ رہا تھا پر شزرا کا ہر کسی کو اپنے سامنے ویلیو نا دینا ہر بات پر نخرے کرنا اور سب کو بےوجہ کا ایٹیٹیوڈ دیکھانا بُراق کو کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا…ایسے معاملات میں براق کو وہ ماہی یاد آجاتی تھی جو ایک چڑیا کہ لئیے بھی فکرمند ہوجاتی تھی…پر یہ ماہی نہیں شزرا تھی…جسکا احساس جلد ہی براق کو ہونے والا تھا)

*************

عدوان کو مسلسل گاڑی چلاتے ہوۓ دو گھنٹے سے بھی زائد کا وقت ہو چُکا تھا…

بے وجہ گاڑی چلاتے ہوۓ وہ راولپنڈی کراس کرتا موٹروے پہ نکل آیا تھا…

عدوان کو بار بار ماہی کا خود پر جھپٹنا یاد آ رہا تھا جو اُسے مزید غصہ دلا رہا تھا….

ماہی کہ بارے میں سوچتے ہوۓ عدوان نے غصے سے اپنے ہاتھ کا مُکا بناۓ اُسے سٹئیرنگ پہ مارنا شروع کردیا تھا…اور ساتھ ہی ساتھ چلاتے ہوۓ کہنا شروع کیا…

تم سمجھتی کیوں نہیں ہو…کیوں نہیں سمجھتی تم….

آآآآ….کیوں نہیں سمجھتی کہ میں نے تمہیں برباد نہیں کیا برباد ہونے سے بچایا ہے ڈیم اٹ….

تمہیں کیوں نظر نہیں آتی میری محبت…تم کیوں ابھی بھی اُنکے لئیے ٹڑپتی ہو جنہوں نے تم پہ بھروسہ نہیں کیا…تمہیں تکلیف دی..تمہارے خلاف پلاننگ کی…

کیوں آخر کیوں نہیں دیکھتیں تمھاری آنکھیں میرے دل میں پنپتی میری محبت کو …

سٹئیرنگ پہ مسلسل ہاتھ مارنے سے عدوان کا ہاتھ شدید درد کرنے لگا تھا تبھی عدوان نے گاڑی روڈ کی سائیڈ پر روک دی تھی…

اور اپنا سر سٹئیرنگ پہ ٹکاۓ کسی ہارے ہوۓ جواری کی طرح ڈھے گیا …

ابھی کچھ ہی دیر ہوئ تھی عدوان کو ایسے پڑے ہوۓ کہ پھر…

عدوان نے بُڑبُڑاتے ہوۓ کہا…

میں تمہیں احساس دلاونگا اپنی محبت کا تمہیں یقین کرنا ہوگا سمجھی…

اس کہ لئیے چاہے مجھے سختی ہی کیوں نا کرنی پڑے…

بس اب بہت ہوا ماہی اب یہ چوہے بلی کا کھیل ختم کرنا ہی ہوگا…

عدوان نے دل ہی دل میں تہیہ کرتے ہوۓ غصہ سے گاڑی گھماتے واپسی کہ راستے پہ ڈال دی تھی..

وہ آج بھی غلطی پر تھا پر اُسے اپنی غلطی دکھائ ہی نہیں دے رہی تھی.. وہ آج بھی اپنی محبت کہ پیچھے دوڑ رہا تھا اور اپنے ہی محبوب کہ احساسات روند رہا تھا…

************

سردار ہاوس میں اس وقت سب ناشتے کی میز پر موجود تھے…

تبھی عائشہ نے سب کو دیکھتے ہوۓ گلا کھنکھارتے بات کا آغاز کیا…

بابا وہ کل ہانیہ کی ماں کا فون آیا تھا…

تو وہ شادی کی ڈیٹ کا پوچھ رہی تھیں..عائشہ نے تھوڑا جھجھکتے ہوۓ بات کا آغاز کیا…

کیااااا!!! پاگل تو نہیں ہوگئ نجمہ جو ابھی سے شادی کا کہہ رہی ہے ابھی تو مشکل سے مہینہ ہوا ہے میرے بیٹے کو گۓ انہیں شادیانے بجانے کی پڑ گئ ہے توبہ حد ہے…

(اپںی ساس کو غصہ سے پھنکارتے دیکھ عائشہ نے اپنی صفائ دینا شروع کی)

ماں جی وہ تو پوچھ رہی تھی میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا عائشہ اس وقت بات چھیڑ کر ہی پچھتائ تھیں…

اس میں اتنا غصہ ہونے والی کونسی بات ہے بیگم… ہم ایک دو روز تک چلتے ہیں پروگرام بنا لو…

اتنی آرام سے سردار بخش کو پلان بناتا دیکھ ثروت نے حیرت سے اُنہیں دیکھا تھا..

ایسے کیا دیکھ رہی ہو جانے والا چلا گیا اب زندگی رُک تو نہیں سکتی نا.. بچوں کی خوشیوں کو بھی تو دیکھنا ہے..

پر سردار صاحب ابھی دن ہی کتنے ہوۓ ہیں… آپ رونا تو بند کریں ثروت کب تک سب روتے رہیں گے؟؟..

ہم سب کو نارمل روٹین کی طرف آنے کی بہت ضرورت ہے ..اور ابھی مہوش بھی یہیں ہے اور شزرا کہ بھی کاغذات بننے میں وقت درکار ہے…

تو اچھا ہی ہے شادی کہ ہنگامے میں اور کسی نۓ فرد کہ آنے سے گھر میں کچھ رونق آجاۓ گی…

سردار بخش کہ کہنے پر احد نے حیرت سے اپنی ماں کو دیکھا…

ماما أپ نے دادا کو نہیں بتایا کیا؟؟

کیا بات ہے کوئ مسئلہ ہے کیا؟؟

دادا وہ میں نے اور ہانیہ نے شادی کہ بعد الگ گھر میں شفٹ ہونے کا سوچا ہے…

کیا مگر کیوں یہ اتنا بڑا گھر تم دونوں کو چھوٹا پڑ رہا ہے کیا…

نہیں دادا وہ اصل میں ہانیہ کا ارادہ شادی کہ بعد جاب کرنے کا ہے تو اس لئیے ہم نے سوچا کہ…

بس احد ابھی تم اتنے بڑے نہیں ہوۓ کہ ایسے فیصلے کرتے پھرو…جاب کرنا چاہتی ہے تو بیشک کرے لیکین رہنا یہیں ہوگا کم سے کم جب تک میں زندہ ہوں اس آشیانے کو بکھرنے نہیں دونگا…

سردار بخش اپنی بات مکمل کرتے جا چُکے تھے اور عائشہ نے سکون کی سانس خارج کی تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اُنکی بات پتھر پر لکیر ہوتی ہے…

**********

عدوان رات کو دیر سے گھر پُہنچا تھا…کیونکہ ہاتھ کی بڑھتی ہوئ تکلیف اُسے رات کو ہاسپٹل کا چکر لگانے پر مجبور کرگئ تھی. رات کو واپس آنے کہ بعد وہ اپنے کمرے میں جانے کہ بجاۓ اپنی سٹڈی میں ہی جا کر سوگیا تھا…

جبکہ ماہی رات کو روتے روتے بہت دیر سے سوئ تھی…اُسے عدوان کا خیال ہی نہیں آیا تھا کہ وہ گھر ہے بھی کہ نہیں….

گُڈ مارننگ …

گُڈ مارننگ عدوان کہاں ہے اُٹھا نہیں ہے کیا ؟؟

عدوان کا سُنتے ماہی کو أخر اُسکا خیال آہی گیا تھا…

وہ ممی… (اس سے پہلے کہ ماہی جواب دیتی نک سک سے تیار عدوان گُڈ مارننگ کہتا ڈائننگ کی کُرسی گھسیٹتا بیٹھ گیا…)

یہ ہاتھ پہ کیا ہوا ہے عدوان…. عدوان کہ بیٹھتے ہی سب سے پہلے اُشنا نے عدوان کہ ہاتھ کا نوٹس لیا….

اور اب عدوان کا ہاتھ پکڑے فکرمندی سے پوچھنے لگی تھی…

عدوان نے اپنا ہاتھ اُشنا کہ ہاتھ سے کھینچا اور ماہی کی طرف متوجہ ہوا..

ماہی جاو چاۓ لیکر آو…

عدوان کہ آرڈر پر ماہی نے حیرت سے عدوان کی طرف دیکھا…

ہیلو تم سے کہہ رہا ہوں جاو چاۓ لاو…

ماہی حیرت سے اُٹھتی کچن کی طرف بڑھ گئ…

عدوان بیٹے چوٹ کیسے لگی…

کچھ نہیں مام بس معمولی سا فریکچر ہے …

پر ہوا کیسے….

ماہی نے ٹھک کر کہ چاۓ عدوان کی سامنے رکھی…آدھی سے زیادہ چاۓ وہ ساسر میں گراتی ہوئ لائ تھی…

یہ… یہ کیا ہے ایسے لاتے ہیں چاۓ؟؟

جاو دوبارہ لاو…

کیااا…. کیوں سُنائ نہیں دیا؟؟.

عدوان کہ چلانے پر ماہی أنکھوں میں آنسو بھرے دوبارہ سے کچن کی طرف چل دی…

اُشنا اور ثانیہ صاحبہ حیرت سے منہ کھولے عدوان کو دیکھ رہی تھیں…

(آملیٹ کی پلیٹ اپنے پاس کھسکاتے ہوۓ عدوان نے پوچھا)

مام بھابھی اور زارون کہاں ہیں…

وہ ایک دو سکولز دیکھنے گئ ہے زارون کہ ایڈمیشن کہ لئیے پر پہلے تم بتاو یہ کیسا رویہ اپنا لیا تم نے بہو کہ ساتھ…

کچھ نہیں مام بس چیزوں کو اُنکی جگہ پر لانے کی کوشش کررہا ہوں…

عدوان نے مام کو جواب دیتے ہوۓ کچن کی طرف دیکھا جہاں ماہی تقریباً رینگتے ہوۓ(سُست انداز میں)چاۓ کا کپ پکڑے آرہی تھی…

لے بھی آو یہ چاۓ آج ہی پینی ہے مجھے….

ماہی نے عدوان کہ طنز پر اسکو کو خونخوار نظروں سے گھورا تھا..

*************

کچھ دن بعد…

ہیلو براق؟؟

ہاں ہیلو عمران میری آواز آرہی ہے…

(کل رات سے عمران کی کالز آرہی تھیں پر براق کی بات نہیں ہو پارہی تھی سگنلز کہ وجہ سے)

شزرا اور براق اس وقت گلگت کی عطاآباد جھیل پر موجود تھے…یہ ایک خوبصورت جھیل ہے جو پہاڑوں کہ دامن میں واقع ہے …جسکا پانی بےحد صاف ہوتا ہے…

شزرا جھیل میں رکھے ایک بڑے پتھر پر بیٹھی ہوئ تھی جبکہ براق فون سُننے کہ لئیے ایک طرف ہوگیا تھا…

ہاں اب آرہی ہے آواز…

اوکے چل پھر یہیں کھڑا رہتا ہوں..

براق مجھے کچھ بتانا تھا تجھے…

ہاں بول سن رہا ہوں…

یار وہ سونیا نے…

اُف اب کیا کردیا اُس بچ نے؟؟

یار اُس نے اپنی اور تیری کافی کلووز والی پکچرز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی ہیں..

واٹ؟؟؟

ہاں یار اور یہاں ہمارے سرکل میں سب تمھارے اور سونیا کی ہریگنینسی پر full on gossips کر رہے ہیں…

اُف یہ کیا کردیا اُس نے…

براق کہ صحیح معنوں میں ہاتھوں کہ طوطے اُڑ گۓ تھے…

یار میری مان تو واپس آ اور اس معاملے کو آرام سے حل کر…

ہممم چل دیکھتے ہیں…

بُراق آو بھی کہاں رہ گۓ؟؟ہاں آیا.. .

اچھا چل پھر بات کرتا ہوں اور تھینکس یار…

تھینکس کو چھوڑ اور اس معاملے کو نمٹا..

اوکے باۓ….

بُراق کال کاٹتا گہری سوچ میں ڈوبا خراماں خراماں چلتا شزرا کی طرف بڑھنے لگا…

**********

عدوان کہ ہاتھ میں بہت تکلیف تھی… جتنی زور سے اُس نے اپنا ہاتھ سٹئیرنگ پہ مارا تھا اُس سے اُسکے ہاتھ کی ہڈی فریکچر ہوگئ تھی…

جسکی وجہ سے وہ اپنی میٹنگز اٹینڈ کرتا گھر جلدی آگیا تھا اور اب کمرے میں بیٹھا ماہی کو زچ کرنے میں مشغول تھا…

مجھے ریموٹ پکڑا دو…

خود لے لو چوٹ ہاتھ میں لگی ہے پاوں میں نہیں…

ماہی میں کیا کہہ رہا ہوں جو کہہ رہا ہوں وہ کرو سمجھی…

عدوان کہ چلانے پر ماہی سہم گئ تھی…

اور فوراً سے ریموٹ پکڑاتی کمرے سے باہر جانے لگی…

میں نے تمہیں باہر جانے کا نہیں کہا…

تو اب کیا میں کمرے میں بھی تمہاری مرضی سے آوں جاونگی…

ماہی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پاس پڑا کرسٹل ڈیکوریشن پیس اُٹھا کر عدوان کہ سر پہ مار دے…

چُپ چاپ بیٹھی رہو اور جیسے کہوں ویسے کرو ویسے بھی تمہیں تو کچھ آتا نہیں ہے مجھے ہی سب سکھانا ہوگا…

عدوان معنی خیزی سے کہتا ماہی کا ہاتھ پکڑے اُسے زبردستی اپنے پاس بٹھانے میں کامیاب ہو چُکا تھا…

ویسے کیسی وائف ہو تم شوہر بیمار ہے اور خدمت کرنے کہ بجاۓ دور بھاگ رہی ہو اٹس ناٹ فیر مائ پرنسز…

زیادہ چپکو نہیں سمجھے…ماہی نے اُنگلی اُٹھاتے عدوان کو وارن کیا…

میں نے جتنی آزادی دینے تھی وہ دے کر دیکھ لی ہے اب اور نہیں سمجھی..

عدوان نے ماہی کہ کندھے پہ ہاتھ رکھے اُسے خود سے قریب کیا اس سے پہلے کہ وہ کوئ گُستاخی کرتا…

اُشنا دروازہ کھولے اندر داخل ہوئ…

اوہ i am sorry..

سامنے کا منظر دیکھتے ہی اُشنا کہ دل پہ آری چل گئ تھی…

یہ کیا بدتمیزی ہے اُشنا ایسے کسی کہ کمرے میں آتے ہیں کیا…

اوہ سوری عدوان مجھے نہیں پتا تھا کہ تم روم میں ہوگے وہ اصل میں مجھے ماہی سے کچھ کام تھا…

ماہی جو خجل ہوتی ایک طرف کھڑی تھی حیرت سے اُشنا کو دیکھنے لگی…

وہ اصل میں مجھے کچھ شاپنگ کرنی تھی…

اور یہاں کا پتہ نہیں ہے مجھے سو اگر ماہی تم ہیلپ کردو تو…

اس سے پہلے کہ ماہی کوئ جواب دیتی عدوان بول پڑا…

اسے کیا پتہ شاپنگ کا اور یہ تو باہر ہی نہیں جاتی….

ماہی واقعی میں جس دن سے اس گھر میں آئ تھی باہر نہیں گئ تھی پر عدوان کی حرکت یاد کرتے ماہی کو یہاں سے بھاگنا ہی بہتر لگا…

وہ اُشنا میں چلتی ہوں تمھارے ساتھ…

ماہی کہ مان جانے پر عدوان نے اُسے حیرت سے دیکھا تھا…

Are u sure…

ماہی کہ تم باہر جانا چاہتی ہو؟؟؟

وووہ…وہ عدوان مجھے بھی کچھ چیزیں چاہیں تھیں اوکے جاو پھر پر ڈرائیور کو ساتھ لے جانا…

(ماہی کا باہر جانا عدوان کو بہتر چینج لگا تھا)

عدوان کہ کہنے کی دیر تھی کہ ماہی چینج کرنے باتھروم کی طرف بڑھ گئ…

اور اُشنا اُنکے بیڈروم سے باہر نکلتے ہوۓ مہد کو ڈن کا میسیج سینڈ کرنا نہیں بھولی تھی …..