Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 24

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 24

Beri Piya by Hareem

براق اور شزرا اس وقت گاڑی میں موجود واپسی کی راہ پر گامزن تھے…

اور اُنکی گاڑی اس وقت پہاڑوں پر بنی چھوٹی اور تنگ سڑکوں سے گُزر رہی تھی…ارد گرد کہ پہاڑ برف کی سفید چادر اُوڑھے ایک شان سے سر اُٹھاۓ کھڑے تھے….

گاڑی کہ اندر ہیٹنگ سسٹم آن ہونے کی وجہ سے موسم کی سختی محسوس نہیں ہورہی تھی…

تبھی بُراق کی آنکھ کُھلی وہ کافی دیر سے سو رہا تھا…اُٹھتے ہی اُسکی نظر گاڑی کہ شیشے سے نظر ٹکاۓ سوئ ہوئ شزرا پر گئ….

شزرا کو دیکھتے ہی اُسے اپنے روئیے کی بدصورتی کا شدت سے احساس ہوا تبھی بُراق نے سیٹ پر کھسک کر بیٹھتے ہوۓ ونڈو سے لگے شزرا کہ سر کو پیار سے اپنے کندھے پر منتقل کیا..

اور اپنی انگلیوں کی پوروں سے اُسکے بال سہلانے لگا…

ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ براق نے کچھ یاد آتے ہوۓ اپنی پاکٹ سے فون نکالا…

جسے دیکھتے ہی اُسکے ماتھے پر بل پڑگئے… اوہ 27 مسڈ کالز پتہ نہیں ممی کو اتنی کونسی ایمرجنسی ہوگئ ہے… بُراق نے اپنا فون پکڑے کال بیک کی…

ہیلو…

ہیلو بُراق کیا ہوا ؟؟؟

فون کیوں نہیں اُٹھارہے تھے؟؟؟

کب سے فون کر رہی ہوں(مہوش نے چھوٹتے ہی بُراق پر سوالوں کی بوچھاڑ کردی)…

میرا فون سائلنٹ پر تھا..ممی سب خیر تو ہے؟؟براق کی آواز پر شزرا کی آنکھ کھل گئ تھی…

وہ تو تم بتاو کہ سب خیر ہے کہ نہیں کیوں واپس آرہے ہو تم ؟؟

تم لوگ تو ایک مہینے کہ لئیے گۓ تھے نا پھر واپسی کی وجہ؟؟؟

ممی آپکو کیسے پتہ چلا…براق نے حیران ہوتے ہوۓ سوال داغا..اور ساتھ ہی مہوش سے پوچھتے ہوۓ براق نے شزرا کو گھورا جو بات کو سمجھتی ادھر ادھر دیکھنے لگی تھی…

مجھے تمہاری ساس نے بتایا اور کون بتاۓ گا بھلا….

ممی میرے آفس میں کچھ ضروری کام ہے جسکے لئیے مجھے جانا پڑ رہا ہے…

براق بتا تو مہوش کو رہا تھا پر جیسے وہ دانت پیس رہا تھا اُسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ان دانتوں کہ بیچ شزرا ہو…

اور یہاں جو تمھاری ممانی نے باتیں سُنا سُنا کہ اور اپنی بیٹی پہ ہوۓ ظلموں کا رونا روتے روتے میری جان عذاب کر دی ہے اُسکا کیا؟؟؟..

شزرا پہ اور ظلم مہوش کی بات دُہراتے ہوۓ براق نے حیرت سے شزرا کی طرف دیکھا..

جس پر وہ پشیمانی سے بغلیں جھانکنے لگی…

اوکے ممی میں وہاں پہنچ کر بات کرتا ہوں آپ سے…..براق نے فون رکھتے ہوۓ شزرا کو خونخوار نظروں سے گھورا…..

************

اُشنا نے جیسے ہی اپنے فون پر عدوان کی کال آتے دیکھی تو تھوڑی دیر تک تو وہ سوچتی رہی کہ کال اُٹھاۓ یا نہیں…

پر پھر چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ سجاۓ کال اٹینڈ کرتے ہوۓ بولی…

ہیلو عدوان…

ہاں ہیلو شزرا کہاں ہو تم لوگ ڈھائ گھنٹے ہوگۓ ہیں تم لوگوں کو کیا آج ہی پورا بازار خریدنا ہے ؟؟؟..

عدوان ماہی کہ بغیر کافی بور ہورہا تھا سو بےچینی سے ماہی کا پوچھنے لگا. .

اور ماہی کہاں ہے ..

وو…وہ عدوان ماہی تو…

ماہی تو کیا سب ٹھیک ہے نا اُشنا؟؟؟

(اُشنا کہ ہکلانے پر عدوان کو گھبراہٹ ہوئ..)

وہ عدوان ماہی یہاں آئ تو میرے ہی ساتھ تھی پر یہاں کوئ کزن مل گیا ہے اُسکا سو وہ تو اُسکے ساتھ فوڈ کورٹ میں ہے…

کونسا کزن کیسا کزن اور تم لوگ ہو کس طرف؟؟

عدوان نے جلدی سے بستر سے نکل کر کھڑے ہوتے ہوۓ اُشنا سے استفسار کیا

مجھے کیا پتہ کونسا کزن ہے میں کونسا کسی کو جانتی ہوں…(اُشنا نے عدوان کی فکر سے بھری آواز کو انجواۓ کرتے ہوۓ اپنے سامنے لگے کپڑوں کو دیکھتے ہوۓ کہا)

کیا تم مجھے بتاو گی کہ تم ہو کہاں؟؟

(عدوان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اُڑتا ہوا وہاں پُہنچ جاۓ اور اپنی ماہی کو ان سب سے دور لے جاۓ)

وہ ہم بحریہ ٹاون کی طرف آۓ ہیں…

واٹ وہاں کیوں یہاں سب کچھ ختم ہوگیا تھا جو اتنی دور چلے گۓ تھے تم؟؟؟

مجھے کیا پتہ مجھ پر کیوں چلا رپے ہو ماہی نے کہا یہ giga mall بیسٹ ہے تو…

عدوان نے ماہی کہ منہ سے مال کا نام سُنتے ہی اپنے ہاتھ کی پرواہ کئیے بنا باہر کی جانب دوڑ لگا دی..

کار پورچ میں پُہنچتے ہی عدوان نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور تقریباً گاڑی بھگاتے ہوۓ روڈ پر ڈال دی….

اس وقت رات کہ آٹھ بج رہے تھے…

اور اسلام آباد کی سڑکیں ویسے بھی اتنی رش والی نہیں ہوتیں سو عدوان کی گاڑی اس وقت بھاگتی ہوئ اپنی راہ پر گامزن تھی…

رہ رہ کہ عدوان کو بس یہی خیال ستا رہا تھا کہ کہیں ماہی اپنے اُس کزن کو اپنا یقین دلوانے میں کامیاب نا ہوجاۓ اور اُسکے ساتھ کہیں چلی نا جاۓ…

یہ سب خیال کسی سانپ کی طرح عداوان کو ڈس رہے تھے…

تبھی طیش میں آتے ہوۓ اپنا زخمی ہاتھ ہی عدوان نے سٹئیرنگ پہ مارا جس کی وجہ سے درد کی ایک شدید لہر پورے بدن میں دوڑ گئ…

تم کہیں نہیں جاسکتی ماہی کہیں نہیں…

عدوان نے چلاتے ہوۓ مزید گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی….

*************

مہد میری ماما کہاں ہیں؟؟؟

ماہی کو مہد کی کسی بات سے کوئ سروکار نہیں تھا وہ صرف اور صرف اپنی ماں کہ بارے میں جاننے کہ لئیے انٹرسٹڈ تھی…

تائ امی تو زین بھائ کہ ساتھ امریکہ چلی گئ ہیں…

کیاااا ماہی نے تقریباً اپنی جگہ سے اُچھلتے ہوۓ حیرت سے مہد کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا…

ککک…کب…..کب گئ ہیں ماما؟؟؟

اور مجھ سے ملی بھی نہیں مجھے کسی نے بتایا بھی نہیں…

ماہی نے روتے ہوۓ شکوہ کیا…

وہ کیسے بتاتیں تمہیں جانتی تو ہو گھر پر سب تمھاری خفیہ شادی کی وجہ سے تم سے نالاں ہیں…

میں کتنی دفعہ کہوں میں نے کوئ خفیہ ووفیہ شادی نہیں کی….

اگر نکاح نہیں کیا تو عدوان کہ ساتھ کیوں ہو؟؟؟

اب تو کرلیا ہے تب نہیں کیا تھا سچ میں میرا یقین کرو…

اوکے…اوکے ریلییکس…

اور اگر تم مائنڈ نا کرو تو کیا ساری بات مجھے کلئیر کر کہ بتا سکتی ہو؟؟؟

مہد کو دیکھتے ہوۓ ماہی نے ٹشو سے اپنی ناک صاف کی اور شروع سے لے کر اب تک جو کچھ ہوا سب تفصیل سے بتانے لگی…..

************

شزرا میں نے تم سے کہا تھا نا کہ ابھی کسی کو کچھ مت بتانا…

بُراق نے اپنی لال آنکھیں شزرا پر گاڑتے ہوۓ اُس سے سوال کیا…

وو..وہ براق ماما کی کال آگئ تھی…

جھوٹ مت بولو تمہیں کوئ کال نہیں آئ تھی میں سو رہا تھا مرا نہیں تھا کہ فون کی بیل پر نا جاگتا….

سیدھا سیدھا کہو کہ تم مظلومیت کا ڈھول پیٹنا چاہتی ہو…

اور ذرا یہ تو بتاو ایسے کونسے ظم کئیے ہیں تم پر میں نے جو لوگوں کو قصے سُناۓ جا رہے ہیں ہاں…

براق میں نے…(شزرا نے منمناتے ہ

Shut up shazra just shut up you really disappointed me…

مجھے زہر لگتے ہیں وہ لوگ جو ادھر کی باتیں اُدھر کرتے ہیں…اور وہ بھی اس قدر جھوٹ کی ملاوٹ کرکے…

تُف ہے تم پر…

بُراق کی نظروں میں اپنا بنا بنایا امیج خراب ہوتا دیکھ شزرا کہ دل کو پتنگے لگ گۓ تھے..اور بُراق کوئ بھی صفائ کا موقع دئیے بغیر گاڑی کا دروازہ کھولے فرنٹ سیٹ پر منتقل ہوگیا تھا…

شزرا بے بسی سے آنسو بہاتی پچھلی سیٹ پر بیٹھی اپنا قصور تلاشنے لگی…

***********,

ماہی نے مہد کو شزرا کی شرط سے لیکر عدوان کا اپنی محبت کہ لئیے گڑگڑانا سب کچھ مہد کہ سامنے کھول کر رکھ دیا تھا…

مہد جسے پہلے ہی شزرا اور اپنی ماں کہ اس سب میں ملوث ہونے کا شک تھا ماہی کی باتوں سے اُسکے شک پر مہر لگ چُکی تھی…

اور ماہی کہ کردار کہ حوالے سے جو میل اُسکے دل میں آگئ تھی اب وہ بھی کافی حد تک چھٹ چُکی تھی…

ماہی نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ مزید کہنا شروع کیا…

مجھے کسی کہ روئیے کا اتنا دکھ نہیں ہے میں جانتی ہوں جس طرح سے ثبوت دکھاۓ گۓ اُس سب پر اس طرح سے انکا یقین کرنا بنتا تھا….

پر شزرا کا سب کچھ جانتے ہوۓ بھی کسی کو کچھ نا بتانا اور اُلٹا مجھے ہی قصوروار ٹھہرانا مجھے بہت بُرا لگا…

ماہی کہ اُداس ہوکر سر جھکانے پر مہد نے ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس ماہی کی طرف بڑھایا جسے ماہی نے تھام لیا اور گھونٹ بھرنے لگی….چلو اپنی چاٹ کھاو مجھے پتہ ہے تمہیں بہت پسند ہے…

مہد نے ماہی کی توجہ سامنے پڑی چاٹ اور گول گپوں کی طرف کروائ…

نہیں مہد پہلے ہی بہت دیر ہوگئ ہے اور یہ اُشنا بھی ابھی تک نہیں آئ….

ہاں تو آجائیگی اور ویسے بھی اتنی بڑی جگہ ہے تم کہاں ڈھونڈتی رہوگی…

ہاں یہ بھی ہے ماہی پھر سے بیٹھتے ہوۓ بولی…

اگر تم بُرا نا مناو تو میں ایک بات کہوں…

ہاں کہو ماہی نے حیرت سے مہد کی طرف دیکھتے ہوۓ اجازت دی جس پر مہد نے مزید ماہی کو عدوان سے بد گمان کرتے ہوۓ کہنا شروع کیا…

کیا تم نے کبھی سوچا ہے؟؟

کہ عدوان نے جو اتنا کچھ کرسکتا ہے بنا نکاح کہ نکاح نامہ لا سکتا ہے کیا وہ شزرا کو ڈرا دھمکا کہ تمھارے خلاف استعمال نہیں کرسکتا؟؟

ماہی کو اپنی طرف حیرت سے تکتا ہوا دیکھ کر مہد نے مزید کہنا شروع کیا…

یہ بھی تو دیکھو ماہی مہد نے اپنا ہاتھ ماہی کہ ہاتھ پہ دھر دیا جسے حیرت سے بیٹھی بیوقوف ماہی نے محسوس ہی نہیں کیا…

جو عدوان اتنا کچھ کرسکتا ہے اس کہ لئیے ایک لڑکی کو اپنے مقصد کہ لئیے یوز کرنا کونسا مشکل ہوگا…

ہاں تم صحیح کہہ رہے ہو تب میں نے سوچا ہی نہیں تب مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا تھا..

میں بھی کہوں بھلا میری بہنوں جیسی کزن میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتی ہے…

مہد نے مسکراتے ہوۓ ماہی کو دیکھا جو آج بھی پہلے کی طرح معصوم تھی فوراً سے باتوں میں آجانے والی….

*********

عدوان بھاگتا ہوا مال میں اینٹر ہوا اور پاگلوں کی طرح ماہی کو ڈھونڈتا ہوا آگے بڑھنے لگا…

عدوان نے دو گھنٹہ کا سفر ایک گھنٹہ میں طے کیا تھا راستہ میں کتنے ہی سگنلز توڑے دو جگہ چلان بھی کروایا پر گاڑی کی سپیڈ کم نہیں کی…

عدوان جیسے ہی فوڈ کورٹ کی طرف پُہنچا سامنے ہی مہد اور ماہی کو بیٹھے دیکھا…

اور اُنہیں دیکھتے ہی جس بات نے عدوان کا خون کھولا دیا وہ ماہی کہ ہاتھ پہ دھرا مہد کا ہاتھ تھا…

اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے عدوان آگے بڑھتا ہوا ماہی کہ سر پہ جا کھڑا ہوا….

مہد جو عدوان کو دیکھتے ہی سیدھا ہو بیٹھا تھا اسکے اس طرح بیٹھنے ہر ماہی نے اُسکی نظروں کا تعقب کرتے ہوۓ اپنے پیچھے دیکھا اور عین اپنے پیچھے کھڑے عدوان کو دیکھتے ہی وہ ڈر کہ مارے اُچھل پڑی..

**************

سردار ہاوس میں رات کا کھانا کھانے کہ بعد سب بڑے اپنے قہوے کی پیالیاں ہاتھ میں لئیے لاونج میں بیٹھے ہوۓ تھے…

کہ تبھی سردار بخش نے گلا کھنکھارتے ہوۓ سب کو متوجہ کرتے ہوۓ کہا…

آپ سب خواتین اپنی تیاری رکھیں ہم کل احد کہ سُسرال شادی کی ڈیٹ رکھنے جائینگے…

سوچ لیں سردار صاحب ابھی بھی وقت ہے لوگ کیا کہیں گے کہ ابھی میت اُٹھی ہے اور یہاں شادیانے بجنے لگ گۓ ہیں…

أپ لوگوں کی پرواہ کرنا چھوڑیں اور اپنے بچوں کی پرواہ کریں….

اپنی بات رد ہوتی دیکھ ثروت بیگم منہ پھلاۓ اپنی پیالی منہ سے لگاۓ قہوہ پینے لگیں…

ڈیٹ کیا رکھنی ہے بابا؟؟

یہی اپریل کا اینڈ…

کیا اتنی جلدی کیسے ہوگا سب…

بہت ٹائم ہے سب ہوجائیگا… عائشہ کی بات ٹالتے سردار بخش نے فوراً مہوش کی طرف مُڑتے ہوۓ کہا…

مہوش بچے تم عالیہ کو ابھی سے فون کردو کیا پتہ شادی کا سُن کر آجاۓ…ویسے بھی وہ بڑی بہو ہے اچھا نہیں لگتا کہ وہ ایسے موقع پر نا ہو..

عالیہ کہ آنے کا سُنتے ہی عائشہ کا منہ بن گیا تھا ابھی تو اُنہوں نے اپنی حکومت کہ مزے لینے شروع کئیے تھے…

اور ہاں برخوردار(ریاست صاحب)کیسا جارہا ہے عالم کا بزنس…

عالم کہ بزنس کا سُنتے ہی ریاست صاحب کا قہوہ اُنکے گلے میں اٹک گیا تھا تبھی کھانستے ہوۓ بولے…

جج…جی. بابا بہت اچھا…

ہممم جتنا بھی پرافٹ ہو وہ 40% ماہی کہ اکاونٹ میں جمع کروانا…

ماہی کہاں سے آگئ بابا بیچ میں یاد نہیں ہے کیا کیسے ہم سب کی عزت اُچھال کر گئ ہے وہ…

ہماری عزت اتنی حقیر نہیں کہ ذرا سی بچی اُسے اُچھالتی پھرے…

اور ایک بات یاد رکھو وہ عالم کی لاڈلی تھی چاہے وہ کچھ بھی کرتی وہ زیادہ دیر اُس سے ناراض نہیں رہ سکتا تھا…

اور ویسے بھی یہ بچی کا حق ہے…

زین نے تو منع کردیا تھا تو اس لئیے 60% عالیہ کہ اکاونٹ میں جبکہ باقی کا 40 ماہی کہ اکاونٹ میں ڈلوا دو….

گستاخی معاف بابا… پر آپ میرے بچوں کہ ساتھ زیادتی کررہے ہیں جان وہ ماریں اور پھل دوسرے آرام سے بیٹھ کر کھائیں بھلا یہ کیا بات ہوی…

عائشہ غصہ سے آگ بگولا ہوتیں بولنے لگی تھیں…

جنکا مال ہے اُنکا حق ہے بہو اور اتنا مسئلہ تھا تو تبھی زین کو بول دینا تھا وہ کوئ اور حل ڈھونڈ لیتا ویسے بھی مہینے کہ 20 لاکھ تنخواہ پہلے بھی تمھارے بیٹے کو ملتی تھی اور یہ معمولی رقم نہیں ہے…..

عائشہ کو جواب دیتے وہ اب ریاست سے بولے…یتیموں اور بیواوں کا حق کھانے والے غاصب ہوتے ہیں…

وہ اپنے بیٹے کو وارن کرتے اپنی لاٹھی پر زور ڈال کر اُٹھتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گۓ….

************

عدوان کو دیکھتے ہوۓ ماہی ڈر گئ تھی…

تبھی عدوان کی سرد سی آواز گونجی..

اُٹھو ماہی….

عدوان کی بات سُنتے ماہی کہ رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگۓ تھے…

تبھی مہد بیچ میں بول اُٹھا…

میں تمھاری اصلیت جان گیا ہوں مسٹر عدوان…

اوہ واو بہت خوشی ہوئ مجھے یہ جان کر اپنی ماں اور بہن کی اصلیت جانتے ہو یا وہ میں بتاوں؟؟؟

(عدوان نے مہد کی طرف دیکھتے ہوۓ تمسخر اُڑاتے ہوۓ کہا…

جس پر مہد چُپ ہوگیا تھا…

مسز عدوان آپ اُٹھ رہی ہیں یا آپکو اُٹھا کر لے جاوں…

ماہی جو پہلے ہی عدوان کی غصے بھری آنکھیں دیکھ کر ڈری بیٹھی تھی عدوان کی بات سُنتے ہی کھڑی ہوگئ…

تبھی عدوان نے ماہی کو کھڑا ہوتا دیکھ اُسکا وہی ہاتھ جس پر کچھ دیر قبل مہد کا ہاتھ تھا اتنی مضبوطی سے تھاما کہ ماہی کو اپنی اُنگلیاں چٹختی ہوئ محسوس ہوئیں…

جس پر ماہی کی آنکھوں میں أنسو بھر گۓ اور وہ اس بات پر یقین کرنے لگی کہ واقعی یہ شخص کچھ بھی کرسکتا ہے…

عدوان نے ماہی کو لیکر آگے بڑھنا چاہا پر مہد کہ پاس رکتا ہوا وارن کرنا نہیں بھولا ….

” آج کہ بعد اگر میں نے تمہیں اپنی بیوی کہ آس پاس بھی دیکھا تو اچھا نہیں ہوگا مہد”