Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 4

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 4

Beri Piya by Hareem

عالم دیکھ لیں آپ یہ سب آپکی ہی ڈھیل کا نتیجہ ہے..ہر وقت اپنی من مانی کرتی رہتی ہے… بالکل ہی آوٹ آف کنٹرول ہورہی ہے. ابھی بھی وقت ہے کچھ سمجھائیں اُسے…..

ایسا بھی کیا کردیا میری شہزادی نے… عالم نے مسکراتے ہوۓ پوچھا..

اُنکی مسکراہٹ عالیہ کو مزید تپا گئ تھی..تبھی اُنہوں نے اپنے سُسر کی جانب دیکھا جنہوں نے بات جاری رکھنے کا اشارہ دیا…

باقی سب بیٹھے شام کی چاۓ پی رہے تھے..

پہلے اُس نے کہا وہ یونی نہیں جائیگی گھر پہ رہ کر گھرداری سیکھے گی…

اور آج جب اُسے بُلایا کہ آکر کافی بنانا سیکھ لو…تو وہ ٹکا سا جواب دیتی بچوں کہ ساتھ پارک میں کھیلنے چلی گئ…

اوہ ہو یہ تو بہت بُرا کیا اُس نے….

عالم صاجب کو کبھی بھی ماہی کی کی جانے والی شکایتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا..بقول اُنکے سب کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے انجواۓ کرنی چاہیے..

تبھی ماہی دھڑام سے لاونج کا دروازہ کھولتے ہوۓ اندر داخل ہوئ..

اُسے دیکھتے ہی عالم صاحب اُس تک پُہنچے تھے…

ماہی کہ بال کیچڑ سے لتھڑے ہوۓ تھے کپڑوں پر بھی جگہ جگہ کیچڑ لگا ہوا تھا..آنکھیں رونے سے جبکہ ناک سردی کہ باعث سُرخ ہورہی تھی…

کیا ہوا بیٹا یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے اب سب اُٹھ کر ماہی تک پُہنچے تھے…سب کے پوچھنے پر پھر سے ماہی کو رونا آنے لگا تھا…

بابا وہ….(ماہی نے روتے ہوۓ بتانا شروع کیا)

میں پارک میں کرکٹ کھیلنے گئ تھی.. وہاں بچوں نے مجھے اپنے ساتھ کھلانے سے منع کر دیا…..ماہی نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ تفصیل بتانی شروع کی…

اور اُنہوں نے منع کیوں کیا..شزرا کہ پوچھنے پر ماہی نے اُسکی طرف دیکھا..اور تبھی اُسے سامنے والا لڑکا اور شرط یاد آئ…اور یہ سوچتے ہوۓ کہ وہ شرط ہارنے والی ہے ایک بار پھر سے بھاں بھاں کر کہ رونے لگی….

رونا تو بند کرو بچے کہیں چوٹ آئ ہے تو بتاو…

نہیں دادا چوٹ نہیں آئ..

تو یہ گری کیسی ہو…

وہ…

دادا..ماہی نے آستین سے ناک پونچھا….

وہ تو میں نے آتے ہوۓ شارٹ کٹ کہ چکر میں کیاری سے گُزرنا چاہا تو کیاری گیلی ہونے کی وجہ سے میرا پیر پھسل گیا..

عالیہ جو بھاگتی ہوئ دودھ میں ہلدی ڈال لائ تھیں..ماہی کا کارنامہ سنتے ہی گلاس ٹیبل پہ پٹختے ہوۓ بیٹھ گئیں..

دیکھ رہے ہیں اس لڑکی کہ کارنامے آپ سب..اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتیں سردار عالم نے اُنکی بات کاٹتے ہوۓ شزرا سے کہا جاو شزرا ماہی کو اُسکے روم میں لے جاو …

شزرا ماہی کی جانب بڑھی اور ہاتھ سے پکڑتے ہوۓ اندر لے جانے لگی….

عالیہ نے خونخوار نظروں سے ماہی اور پھر اپنے شوہر کو دیکھا اور غصے سے اُٹھتیں اندر چلی گئیں….

—————

عدوان سب ٹھیک ہے ؟؟؟

جی مام سب ٹھیک ہے..

تو کھانے میں کونسا لطیفے پکے ہیں جو تم کب سے مسکرا رہے ہو.

ہاہاہا عدوان کہ جناتی قہقہہ پر ثانیہ بیگم نے دہلتے ہوۓ دل پہ ہاتھ رکھا..

آپ بہت فنی ہیں مام…

جب سے کھانے کی میز پر آۓ ہو دانت تمھارے بند نہیں ہو رہے اور فنی میں ہوں واہ بیٹا واہ…

ویسے بتانا پسند کرو گے کہ وجہ کیا ہے….

بس آج ایسی لڑکی دیکھی جو کچھ کچھ میری آئیڈیل کہ قریب ہے….

کیا واقعی تمھارے آئیڈیل جیسا عجوبہ اس دنیا میں موجود ہے سٹرینج….

دفعتاً ثانیہ بیگم کہ فون پر حماد کی کال آنے لگی اور وہ اپنا موبائل پکڑے باہر لان کی طرف چل دئیں…

عدوان نے اُنہیں اُٹھتے ہوے دیکھا تو خود بھی کھانا چھوڑے اپنے کمرے میں جا پُہنچا اور موبائل اُٹھاۓ ٹیرس پہ رکھی کُرسی پہ بیٹھتے ہوۓ اُس لڑکی کو جسے بچے ماہی آپی کہہ کر جھگڑ رہے تھے…فیس بُک پہ سرچ کرنے لگا…

**********

ماہی نہا دھو کر ہیٹر آن کئیے رضائ میں دُبکی بیٹھی ہوئ تھی..

تبھی شزرا اپنا اور ماہی کا کھانا ٹرالی پہ گھسیٹتے ہوۓ اندر پہنچی…

کیا پکا ہے جلدی لے آو مجھے بہت بھوک لگی ہے..

کھانے کہ معاملے میں بھی ماہی کی چوائس کافی عجیب سی تھی..اور جتنا وہ کھاتی تھی اُتنا اُسے لگتا نہیں تھا ورنہ تو شاید وہ عدنان سمیع کو بھی پیچھے چھوڑ جاتی..

ہر چیز میں ڈھیروں مرچیں بھر کر کھانا چاۓ وہ کچھ بھی ہو ماہی کو بے حد پسند تھا….

ماہی نے اپنی پلیٹ اُٹھائ اور اُس میں اپنی فیورٹ بریانی ڈالی…اور بریانی کہ اوپر بھر کر چلی گارلک ساس ڈالا..اور سلاد میں سے ہری مرچیں چُن کر اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھانے لگی….شزرا نے ماہی کو پُرسوچ نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا. ..

پیرس میں کیا بنے گا تمھارا میں نے تو سُنا ہے انگریز بالکل پھیکا کھانا کھاتے ہیں اور تمھیں یاد ہے لاسٹ ٹائم جب پھوپھو آئ تھیں تو بتا رہی تھیں کہ بُراق کو بالکل بھی مرچیں پسند نہیں ہیں اور اُسکو تو سُنا ہے کھانے میں پسند بھی صرف soups ہیں تم کیسے گُزارا کروگی مرچوں کہ بغیر شزرا نے اُسکی پلیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا..

ہر انسان کی اپنی چوائس ہے اُسے نا ہوں پسند میں یہاں سے اپنے لئیے ہر طرح کی مرچیں لے جاوں گی…

کیونکہ میں نے سُنا ہے انگریزوں کی طرح اُنکی مرچیں بھی پھیکی ہوتی ہیں..

ماہی ہنستے ہوۓ پھر سے کھانا کھانے لگی…

پر شزرا کو آج ہی شاید سارے سوال یاد آرہے تھے..

ماہی…..

ہممممم

ایک بات پوچھوں…

تم کب سے بات کرنے سے پہلے اجازت لینے لگی…ماہی نے حیرت سے پوچھا…

نہیں یہ بات ہی کچھ ایسی تھی میں نے سوچا تم کہیں مائنڈ نہ کر جاو اس لئیے سوچا پہلے کنفرم کر لوں….

ماہی نے اپنی پلیٹ گود میں رکھتے ہوۓ شزرا کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا…

تمھیں پتہ ہے مجھے آج تک بہن کی کمی محسوس کیوں نہیں ہوئ؟؟؟

کیوں نہیں ہوئ..

کیونکہ تم جو ہو…

شزرا کو کچھ دیر کہ لئیے اپنی سوچ پر پشیمانی ہوئ پر پھر سر جھٹکتے ہوۓ سوال کر ہی ڈالا….

آج کل سب لڑکیاں اپنے منگیتروں سے بات کرتی ہیں پر تم بُراق سے بات کیوں نہیں کرتی؟؟کیا وہ تمھیں پسند نہیں ہے ؟؟؟

ماہی نے چاولوں سے بھرا چمچ منہ مین ڈالا اُسے اچھی طرح چبا کر ختم کیا اور پلیٹ واپس ٹرالی میں رکھی..کانچ کا چھوٹا سا باول اُٹھایا اُسے ٹرائفل سے بھرا اور پھر سے بیڈ پر چوکڑی مار کر بیٹھ گئ…

شزرا جو کب سے اپنے جواب کہ انتظار میں تھی حیرت سے ماہی کو دیکھتے ہوۓ کہا میں نے کچھ پوچھا تھا ماہی…..

*************

مہوش صاحبہ نے جلدی جلدی کھانا ٹیبل پر لگاتے ہوۓ بُراق کو آواز دی اور تنویر (اپنے شوہر) کہ سامنے پلیٹ رکھتے ہوۓ کہا…

وہ آرہا ہے آپ اُس سے بات کر لیں…

تبھی بُراق سیڑھیاں اُترتا پُہنچا…

راز رات کہ سات بجے کھانا کھالینا اس گھر کہ اصولوں میں سے ایک اُصول تھا.

بُراق نے اپنا سوپ کا باؤل اُٹھایا اور جلدی جلدی کھانے لگا….

تنویر صاحب نے بُراق کو کھانا کھاتے ہوۓ ہوۓ دیکھا اور گلہ کھنکھارتے ہوۓ بولے..

بُراق…

جی ڈیڈ…

تم دُبئ کب جا رہے ہو ؟؟؟

نیکسٹ ویک…

اوکے اپنی ماما کو بھی لے جاو…

ہیں پر کیوں…

وہ اپنی ہونے والی بہو کی کچھ شاپنگ کرنا چاہتی ہیں تم بھی ساتھ ہو گے تو اچھا رہیگا…

ڈیڈ اتنی جلدی کیا ہے…

ہمیں جلدی ہے ..اُنہوں نے جلدی لفظ پر زور دیتے ہوۓ کہا..

تمھاری مام اکیلی ہوتی ہیں اور اب تو طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی کوئ تو اپنا ہو اُنکے پاس….

اوکے ٹھیک ہے جیسے آپ کو بہتر لگے…بُراق سرینڈر کتا ہوا اپنا کوٹ اُٹھاۓ خدا حافظ کرتا باہر چلا گیا…

یہ دُبئ والی کیا بات کی آپ نے ؟؟؟

کیا کرتا کہیں سے تو بات شروع کرنی تھی اس لئیے کہہ دیا بس…

اچھا آپ ایسے کریں پہلے فون پر ڈیٹ رکھ لیں اُسکی مناسبت سے ٹکٹ کروا لیں اور مجھے پہلے بھیج دئیں میں ساری شاپنگ وہیں سے ماہی کی پسند کی کرونگی باقی یہاں آکر وہ جو مرضی لیتی رہے…

ٹھیک ہے میں سب دیکھ لونگا آپ ریلیلکس رہیں….

************

میں نے سوچا تم نے ایک لمبی بات چھیڑ ہی دی ہے تو کیوں نا آرام سے ٹرائفل کھاتے کھاتے بتاوں…

جی ضرور…شزرا نے کندھے اُچکاتے ہوۓ کہا…

تمھیں پتہ ہے میں جس وویمن شیلٹر میں جاتی ہوں ہر سنڈے وہاں پر جتنی بھی آج کل کی ڈائیورس ہوئ لڑکیاں ہیں اُن میں سے میجورٹی کا مسئلہ ہی یہ ہے….

کیا مطلب؟؟؟

وہاں پہ ہر لڑکی کا تقریباً ایشو یہ ہے کہ پہلے

لڑکا پسند آیا گھر والوں کی منتیں کر کہ یا پھر لڑ جھگڑ کہ منگنی کروائ اور پورے سال دو سال اتنی باتیں کیں کہ شادی کہ بعد جھگڑنے کہ سوا کچھ بچا ہی نہیں.. اور یہ جو منگیتر حضرات ہوتے ہیں پہلے تو محبت میں بڑے بڑے دعوے کر لیتے ہیں اور شادی کہ بعد جیسے ہی پیار کا بھوت اُترنے لگتا ہے وہ اپنی کہی باتیں بھول جاتے ہیں. اور یہیں سے فساد شروع ہوتا ہے….

شزرا آنکھیں پھاڑے ماہی کو دیکھ رہی تھی

ویسے تمھاری شکل دیکھ کر لگتا ہے تمھیں سمجھ نہیں آئ میری بات کی.. ماہی نے مُسکرا کر شزرا کو دیکھتے ہاۓ کہا..

سو تمھارے لئیۓ آسان لفظوں میں کہہ دیتی ہوں.

میں بُراق سے باتیں کر کہ خود کو ہواوں میں اُڑتا محسوس نہیں کرنا چاہتی میں نہیں چاہتی کہ ابھی سے بہت سی اُمیدیں باندھ لوں اور بعد میں اگر سب کچھ پلیننگ کہ بعد نہ ہو تو روتی رہوں کہ یہ تو پہلے اہسا نہیں تھا بدل گیا ہے وغیرہ وغیرہ….

میں چاہتی ہوں مجھے اُسکی ہر بات نئ لگے.. اور رہا سوال انڈر سٹینڈنگ کا وہ تو ہو ہی جاتی ہے.

ماہی نے لاپرواہی سے کہا..

یہ اتنی بڑوں والی باتیں تمھیں کیسے آگئیں ماہی.

ہاہاہاہاہاہا..

اگر مجھے کارٹونز پسند ہیں اور بچوں کے ساتھ کھیلنا پسند ہے تو اس سب کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ میرے ارد گرد کیا ہورہا ہے…

ایک تو تمھارے کمرے میں بیٹھ کر کم چکر آرہے تھے کہ تمھاری باتوں نے میرا سر مزید گھما دیا ہے…..

ویسے شرط یاد ہے نا….شزرا نے برتن رکھ کر ٹرالی لے جاتے ہوۓ پوچھا؟؟؟

بالکل یاد ہے…

***********

عدوان رات کو کمرے میں بیٹھا ماہی کی فیس بُک اور انسٹا کی آئ ڈی چھان رہا تھا..آئ ڈی ڈھونڈنے میں زیادہ دقت نہیں ہوئ تھی اُسے …

پورے ٹائم لائن پہ ماہی کی عجیب قسم کی پکچرز تھیں…

کہیں کرکٹ کھیلتے ہوۓ بچوں کہ ساتھ

اور کہیں دیواروں اور درختوں پہ بیٹھی ہوئ پکچرز..

اور کافی پکچرز کسی شلٹر ہوم کی بھی تھیں…

عدوان کو اس سب سے جو بات ماہی کہ متعلق واضح ہوئ تھی وہ یہ تھی کہ ماہی کو سوشل ورک کا بہت شوق تھا.. اور اپنے بابا سے بہت محبت تھی.. کیونکہ کافی پکچرز اُنکی ماہی کہ ساتھ تھیں…اور ہر تصویر پر میرے بابا….پیارے بابا ٹائپ ہی کچھ لکھا ہوا تھا…

یہ آدمی جو ماہی کہ ساتھ ہے کہیں دیکھا دیکھا لگ رہا ہے…کہاں دیکھا تھا اُف یاد کیوں نہیں آ رہا….

یہ سوچتے سوچتے عدوان ایک پکچر پر ٹھٹھکا تھا جہاں وہ ایک پیلے رنگ کہ کمرے میں بیٹھی ہوئ تھی…

اور گود میں sponge bob پکڑا ہو تھا…

اور نیچے مائ روم مائ ڈین کا ہیش ٹیگ تھا..

یہ تو بہت ہی عجیب مخلوق ہے…

شاید ہی اس سے پہلے اس کلر کا روم میں نے کسی کا دیکھا ہو..

تبھی عدوان نے کچھ سوچتے ہوۓ ماہی کو فرینڈ ریکویسٹ بھیح دی …..

************

ماہی جو ابھی تکیہ صحیح کئیے لیٹنے والی تھی فون کی بلنک ہوتی لائٹ دیکھ کر فون کی طرف متوجہ ہوئ….

یہ کس کی فرینڈ ریکوئیسٹ آ گئ…

ہیں یہ تو وہی سامنے والا گدھا ہے….

عدوان شاہ….اوہ تو یہ نام ہے…

ہممممم چلو جب بندھا خود ہی پھنسنا چاہ رہا ہو تو کیا کر سکتے ہیں….

کچھ سوچتے ہوۓ ماہی نے فرینڈ ریکویسٹ اپروو نہیں کی…

ہاۓ کیا سوچے گا اُسکی ریکویسٹ کہ انتظار میں بیٹھی ہوئ تھی…

نہیں نہیں ابھی نہیں صبح اپروو کرلونگی….

یااللہ جی دیکھ لیں اور پلیز ناراض مت ہونا وہ خود ہی پہچھے پڑ رہا ہے میں نے کوئ اشارہ تک نہیں کیا…..ماہی اپنی معافیاں مانگتی آنکھیں بند کر چُکی تھی تبھی ایک بار پھر بُڑبُڑائی

گُڈ نائٹ مسٹر عدوان شاہ….