Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 20

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 20

Beri Piya by Hareem

صبح عالیہ کی فلائٹ تھی…

اور وہ اس وقت اپنے ساس سُسر کہ کمرے میں بیٹھی تھیں.

عالیہ ابھی بھی وقت ہے بچے سوچ لو اور ایسے مت جاو..

یہ گھر کل بھی تمھارا تھا آج بھی تمھارا ہے.. بیشک عالم اب نہیں ہے پر تم ہمیشہ اس گھر کی اور ہماری بڑی بہو رہوگی…

ثروت صاحبہ صوفہ پہ بیٹھیں عالیہ کا سر اپنے کندھے پہ رکھے پیار سے سہلا رہی تھیں..

میں اس گھر سے ہمیشہ اپنا ہر ناطہ جوڑے رکھونگی ماں جی پر پلیز بار بار مجھے روک کر شرمندہ مت کریں کیونکہ رُکنا میرے بس میں نہیں ہے…

عالیہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ اُن سے منت کی)

اور تطمئین کہ بارے میں کیا سوچا ہے ؟؟؟

کیا تم جاتے ہوۓ ملنا چاہتی ہو اُس سے؟؟

پلیز بابا اُسکا نام مت لیں میں کبھی بھی یہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی جہاں میری ڈولی اُتری جہاں میں نے صرف خوشیاں دیکھیں مجھے اس گھر سے نکالنے کا سبب جسکی ذات بنی ہے میں اُس سے کوئ تعلق نہیں رکھنا چاہتی…

پر بیٹا…

مجھے کچھ سامان رکھنا تھا اپنا میں دیکھ لوں…

عالیہ اُنکی بات نظرانداز کرتی باہر نکل گئیں…

اور وہ ثروت کی طرف دیکھتے مستقبل کو.سوچ کر پریشان ہوگۓ…

**********

یو ہو…میں فیری کہ ساتھ سوونگا…

زارون نے خوشی کہ مارے نعرہ لگایا تھا..

اور ماہی سُکھ کا سانس بھرتی اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہوگئ تھی…

تبھی ثانیہ صاجبہ نے زارون کہ ننھے سے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا…

دادو بھی تو لونلی فیل کرتی ہیں تو کیا دادو کا بیٹا دادو کہ روم میں اُنکے پاس نہیں سوۓ گا….

اُنکی بات پر کچھ جتاتی ہوئ نظروں سے عدوان نے ماہی کو دیکھا جیسے بتانا چاہا ہو کہ بچ کہ کہاں جاوگی…

اوکے دادو میں آپکے پاس سوونگا تو آپ لونلی فیل نہیں کریں گی؟؟

بالکل نہیں…

اوکے پھرمیں آج سے روز آپکے پاس سوونگا

زارون کھانے پر توجہ دیں آپ ماہم نے چڑتے ہوۓ کہا…اُشنا کا بھی منہ لٹک گیا تھا…

********

اوۓ کہاں ہے بُراق تو تو شادی کرکے بالکل ہی بیوی کو پیارا ہوگیا ہے؟؟

ہاہاہاہا…شادی کہ بعد تو بیوی کو پیارا ہونا ہی پڑتا ہے…

اچھا سب چھوڑ یہ بتا شادی کہ بعد ماہی بھابھی میں کچھ میچیورٹی آئ…

ماہی نہیں شزرا…

نہیں یار تو نے ماہی نام ہی بتایا تھا…

عمران کہ کہنے پر بُراق نے اپنے نکاح کی ساری کہانی اُسے سُنا ڈالی تھی…

ہیں سچ میں ایسا ہوا مجھے تو لگا کسی انڈین مووی کی سٹوری سُنا رہے ہو….عمران نے حیرت سے ہنستے ہوۓ کہا

نہیں یار اُسکی وجہ سے سب کی بہت انسلٹ ہوئ پر شزرا نے بروقت شادی کہ لئیے مان کر سب کی عزت بچا لی…

واہ کیا کہنے ہیں ویسے اگر شزرا بھابھی پہلے ہی سارا معاملہ کھول دیتیں تو زیادہ بہتر طریقے سے عزت بچ جاتی…

بس یار لوگوں کہ چہروں پر اتنے نقاب ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتا کونسا اصل ہے…اتنی معصوم لڑکی اور خیر چھوڑ تو بتا وہاں کیسا ہے سب…

ویسے تو تو ہنی مون پہ ہے بتانا تو نہیں چاہتا پر یار یہاں سونیا نے ہمارے سرکل کے ہر ایک بندے کو یہ کہہ دیا ہے کہ تم اُسکے بچے کہ باپ ہو اور جلد ہی اُس سے شادی کرنے والے ہو…

کیا؟؟؟کہیں وہ پاگل تو نہیں ہوگئ.. عدوان نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ غصے سے کہا…

کاش میں اُس دن اُسکے ساتھ نا جاتا تو آج وہ میرے گلے کی ہڈی نا بنتی…

پر اب تو جو ہونا تھا ہوگیا… اب کیا کریگا…

فی الحال تو میں سوچنا بھی نہیں چاہتا آکر دیکھتا ہوں اُسے چل اب پھر بات کرونگا ٹھنڈ زیادہ ہورہی ہے یہاں…

چل ٹھیک ہے باۓ…

ہممم باۓ…

تمھارا تو کچھ کرنا ہی پڑے گا سونیا پر کیا اب بس یہی سوچنا ہے….

*************

ہیلو شزرا کیسی ہو بیٹے آواز آرہی ہے میری؟؟

جی ماما آ رہی ہے..پہلے راستے میں تھی تب سگنلز کا ایشو تھا…

اچھا تو کہاں ہو ابھی؟؟؟

ابھی تو ہم لوگ بُنی میں ہیں

(چترال کہ ایک شہر کا نام Bunni ہے)

اچھا اور بُراق کہاں ہے؟؟

پتہ نہیں کوئ کال سُننے نکلے تھے باہر تو میں نے آپکو کال ملا لی…

شزرا بے حد خوش تھی اور اُسکی خوشی اُسکی آواز سے صاف عیاں تھی…

بہت خوش لگ رہی ہے میری بیٹی؟؟

جی ماما میں بہت بہت بہت خوش ہوں پورے راستے بُراق نے کسی چھوٹے بچے کی طرح خیال رکھا تھا میرا اُف ماما میں کیا بتاوں آپکو مجھے اپنا آپ اس سفید برف کی طرح ہلکا اور پُرسکون لگ رہا ہے…شزرا نے باہر پڑی برف کی طرف دیکھتے ہوۓ خوشی سے کہا

شزرا کی باتوں نے عائشہ کو پرسکون کردیا تھا…

ماما..

بولو بیٹا..

تھینکیو سووووو مچ..ماما اگر آپ میرا ساتھ نا دیتیں تو اس وقت میری جگہ ماہی عیش کررہی ہوتی اور میں اپنے لئیے کسی اچھے رشتے کا انتظار میں بیٹھی سڑ رہی ہوتی….

جس کی قسمت میں جو خوشی ہو اُسے مل کررہتی ہے ویسے بھی ہم نے تو کچھ نہیں کیا جو کچھ بھی اُسکے ساتھ ہوا وہ سب عدوان کا قصور تھا اور اُسکی اپنی قسمت کا اور بس بھول جا اُسے اور دوبارہ یہ بات نا کرنا فون پر بھی نہیں ایویں کسی کو پتہ چل گیا کہ وہ بےقصور تھی تو پھر سب کی ہمدردیاں جاگ جائیں گی…عالیہ نے منہ بگاڑتے ہوۓ کہا

اوکے ماما براق آگۓ ہیں میں پھر بات کرونگی باۓ..

شزرا نے فوراً سے فون کاٹ دیا تھا….

جبکہ عائشہ نے بھی دل ہی دل میں ڈھیروں دعائیں دیتے فون رکھ دیا تھا…

پر کوئ تیسرا بھی تھا جو دروازہ کہ باہر سے سب سُن چُکا تھا اور اب اس راز سے واقف ہوگیا تھا….

***********

ماہی ڈرتے ڈرتے اپنے اوپر چار قُل پڑھ کر پھونکتی کمرے میں داخل ہوگئ تھی…

پر پورا کمرہ خالی تھا اور اندر باتھروم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی…

ماہی نے فوراً سے بیڈ پر چڑھ کر لیٹتے ہوۓ کمبل سر تک تان لیا تھا…

عدوان جیسے ہی باتھ روم سے ٹراوزر اور ہلکی سی بنیان پہنے ہاتھ میں تولیہ پکڑے باہر آیا ماہی کو بیڈ پر لیٹا دیکھ مسکراہٹ اُسکے ہونٹوں پہ رینگ گئ تھی…

اب عدوان شیشے کہ سامنے کھڑا تولیے سے اپنے بال رگڑتا ماہی کہ کمبل میں گم وجود پر وقتاً فوقتاً نظر ڈال رہا تھا…

عدوان جیسے ہی کمرے کی لائٹ آف کرتا بیڈ کی طرف بڑھا ماہی کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا ….

تبھی دل ہی دل میں ماہی نے آل تو جلال تو پڑھنا سٹارٹ کردیا تھا پر عدوان نے بیڈ پر لیٹتے پاس پڑے دو کُشن اُٹھا کر اپنے اور ماہی کہ درمیان میں دیوار بنا کر رکھے اور ماہی کی طرف پیٹھ موڑے آنکھیں بند کرتا لیٹ گیا تھا…

ماہی جو سختی سے آنکھیں میچے عدوان کی طرف سے کسی قسم کی پیش قدمی کہ انتطار میں تھی آہستہ سے منہ پر سے کمبل ہٹاۓ عدوان کو دیکھنے لگی….اور دو منٹ تک گھورتی ہی رہی …

پر عدوان کہ سونے کا یقین کرکے شکر کرتی وہ بھی سکون سے آنکھیں موند گئ…

**********

بھابھی جلدی کریں فلائٹ مس نا ہو جاۓ..

عائشہ نے عالیہ کو آواز لگاتے ہوۓ کہا ویسے بھی آج وہ بے حد خوش تھیں …

کیونکہ آج کہ بعد سے اس گھر پر مکمل اُنکی ہی اُجارہ داری قائم ہونے والی تھی…

عالیہ آخری بار اس گھر کو حسرت سے دیکھتیں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھیں اس گھر میں واپس آنے کا وہ فی الحال کوئ ارادہ نہیں رکھتی تھیں…

عالیہ ثروت اور عائشہ سے گلے مل کر روتی ہوئیں کارپورچ کی طرف بڑھ رہی تھیں کہ تبھی اُنکی نظر سامنے عدوان کی بالکنی کی طرف پڑی جہاں….

**********

پوری رات عدوان نے ماہی کی چلتی ٹانگیں کھاتے گُزار دی تھی..

عدوان کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا تھا کہ جن کہ پاس اگر کوئ سوۓ ہوۓ کروٹ بھی لے تو اُنکی آنکھ کھل جاتی ہے…

اور ماہی کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا تھا جو رات میں سوتے کم سائکل زیادہ چلاتے ہیں…

پوری رات عدوان نے جاگ کر گُزاری تھی اور اب صُبح کہ سات بج گۓ تھے تبھی عدوان نے ماہی کا کمبل کھینچ لیا جس پر ماہی کو کوئ فرق نہیں پڑا…

اُف کیا مصیبت ہے ماہی…

ماہی….جب عدوان کہ آواز دینے پر بھی ماہی نا اُٹھی تو عدوان نے ماہی کی ناک اپنی دونوں اُنگلیوں سے پکڑ کر دُبا دی جس پر ماہی ہاتھ پاوں چلاتی اُٹھ بیٹھی….

آآآآ… جاہل جنگلی کہیں کہ میری ناک توڑ دی تم نے ماہی نے عدوان کو غصے سے گھورتے ہوۓ اپنی ناک کو ایسے ہاتھ لگا کہ چیک کیا جیسے دیکھنا چاہ رہی ہو کہ کہیں گر تو نہیں گئ….

پوری رات مجھے سونے نہیں دیا اور پھر بھی میں ہی جاہل ہوں واہ کیا بات ہے آپکی…

شٹ اپ میں نے کچھ نہیں کیا سو گندے الزام مت لگاو…

چلو اُٹھو یہاں سے مجھے سونے دو دو گھنٹے ہی ہیں میرے پاس نو بجے آفس جانا ہے مجھے….

ہاااااا….چچچچچ… کیسے شوہر ہو صبح ہی صبح اپنی بیوی کو کمرے سے باہر نکال رہے ہو(ماہی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوۓ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا)

ایک بات بتاو ویسے کتنے سال کی ہو تم؟؟

میں اس سال کہ اگست میں پورررےےے اُنیس کی ہوجاونگی…

ماہی نے گردن اکڑاتے ہوۓ کہا…

چچچچ اُنیس سال کی ہو اور تمہیں سونا بھی نہیں آتا عدوان نے افسوس کرتے ہوۓ کہا…

تو سونے کہ لئیے کونسا سائنس لگتی ہے لیٹو آنکھیں بند کرو اور سو جاو…

ہاں تو سو جاو بغیر ہلے تم نے جو پوری رات اپنی گھوڑے جیسی ٹانگیں مجھے ماری ہیں اہسا کون کرتا ہے…

خبردار جو مجھے گھوڑے سے ملایا گدھے..

اُف ماہی پلیز اُٹھو چلو اُٹھو….عدوان نے بیڈ سے اُٹھ کر ماہی کہ پاس کھڑے ہوتے ہوۓ اُسے اُٹھنے کا کہا….

پر مجھے اور سونا ہے؟؟

دیکھو ماہی پلیز میری آج بہت امپورٹنٹ میٹنگ ہے اگر میں سویا نہیں تو میں کام کیسے کرونگا پلیز اُٹھ جاو میرے جانے کہ بعد سو جانا پلیززززز….عدوان نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ ڈالے…

نو سوری میں نہیں اُٹھ سکتی مجھے اورررر سونا ہے(ماہی اس بات پر خوش تھی کہ عدوان اُسکی وجہ سے تنگ ہورہا ہے) ….

تو انسانوں کی طرح سو نا پھر…

اوووو…ہیلو تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے کبھی گھوڑا بنا رہے ہو کبھی انسان بننے کو کہہ ریے ہو. .

کیا میں تمھیں انسان نہیں لگتی…

فی الحال تو نہیں…

ماہی نے عدوان کو غُصے سے گھورتے ہوۓ پاس پڑا پانی کا جگ اُٹھا لیا….

رُکو اب میں تمہیں انسان بن کہ دکھاتی ہوں…

نووو ماہی….

اب عدوان آگے آگے اور ماہی اُسکے پیچھے پیچھے بالکنی تک آگئ تھی…

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ بالکنی میں موجود ہوتے ہوۓ ماہی کی نظر اپنے گھر کی طرف نہیں اُٹھی تھی پر اُنکی آتی آوازوں پر اُس گھر کہ کئیں افراد کہ سر اُنکی طرف اُٹھے تھے…

***********

ماہی اور عدوان کو ہنستا ہوا ایک دوسرے کہ پیچھے بھاگتا دیکھ عالیہ غصے سے گاڑی کا دروازہ کھولتی بیٹھ گئیں تھیں..

زین سب سے ملتا فرنٹ سیٹ پر احد کہ ساتھ آ بیٹھا تھا…

جب عائشہ نے مہد کہ کندھے پر ہاتھ رکھے اُسے ہوش دلایا مہد کیا دیکھ رہے ہو جاو گاڑی میں بیٹھو..

اس وقت مہد نے عائشہ کو جن نظروں سے گھورا تھا وہ نظریں اُنکا دل دہلا گئ تھیں..

مہوش اور مہد کہ بیٹھتے ہی گاڑی گیٹ سے باہر نکل گئ تھی…

توبہ توبہ کل تک جس نکاح کو ماننے کو تیار نہیں تھی آج صبح ہی صبح کس حلیہ میں اُسی کہ پیچھے لپک رہی تھی عائشہ نے کامعں کو ہاتھ لگاتے ہوۓ کہا…

ویسے اچھا ہی فیصلہ کیا بھابھی نے ایسے ہی اس کی بے شرمیاں دیکھ کر کڑھتی رہتیں…

اندر پُہنچنے تک عائشہ جو کچھ کہہ سکتی تھیں وہ کہہ چُکی تھیں..پر اندر ہی اندر مہد کی نظریں اُنہیں ڈرا رہی تھیں..

**********

کچھ دن بعد….

ماہم آپی میں جاگنگ کہ لئیے جا رہی ہوں…

ہیں پر کیوں؟؟تم تو کبھی اتنی جلدی نہیں اُٹھتی آج یہ سورج کہاں سے نکلا ہے…

وہ رات کو مجھے بیٹھے بیٹھے خیال آیا عدوان کی عادت تھی نا جاگنگ کی سو میں جاتی ہوں کیا پتا اکیلے بات کرنے کا موقع ہی مل جاۓ…

بیٹا جی پہلے جاتا تھا اب تو جب سے میں آئ ہوں میں نے تو مشکل سے اُسے آفس کہ لئیے اُٹھتے دیکھا ہے وہ جاگنگ کیا کریگا…

آۓ ہاۓ پہلے بتا دیتیں ..

چلیں کوئ نہیں اب تو میری نیند خراب ہو ہی گئ ہے…تو چلو ایک چکر مار ہی آوں…

اُشنا ماہم کو ہاتھ ہلاتی اپنے ٹریک سوٹ کی ہوڈ سر پہ ڈالتی باہر کی طرف دوڑ گئ…

ابھی کچھ ہی دیر ہوئ تھی اُشنا کو رننگ کرتے کہ سامنے سے آتے مہد سے ٹکرا گئ…

اُف میرا شولڈر اندھے ہو کیا…

مہد کو اس وقت غصہ تو بہت آیا تھا پر اُشنا کو کئیں بار وہ عدوان کہ گھر آتا جاتا دیکھ چُکا تھا تبھی سبھاو سے بات کرتے ہوۓ کہا…

ایم رئیلی سوری آپکو لگی تو نہیں…

اٹس اوکے…

اُشنا نے اگنور کر کہ آگے بڑھ جانا چاہا کہ ساتھ ہی مہد نے بھی قدم ملا دئیے…

ہاۓ مائ نیم از مہد…

ہاۓ ایم اُشنا…

اُشنا کہ نام بتانے پر مہد نے اُسے غور سے دیکھا…جاگنگ کہ لئیے آئ وہ اُسکی زندگی کی پہلی لڑکی تھی جس نے ڈارک بلو لینز لگاۓ ہوۓ تھے وہ بھی اتنی صبج اتنا میک اپ….

اور فلر لگے بڑے بڑے ہونٹ اُسے دیکھ کر مہد کو ماہی کا میک اپ سے پاک خوبصورت چہرہ یاد آگیا تھا..

آپ شاید مجھے نا جانتی ہوں پر میں نے آپکو کئیں بار آتے جاتے دیکھا ہے عدوان کہ گھر آپکی بھابھی کا کزن ہوں میں مہد…مہد نے مسکراتے ہوۓ اُشنا کو اپنا تفصیلی تعارف کرواتے ہوۓ کہا..

میری کونسی بھابھی؟؟

اُشنا کہ حیرت سے پوچھنے پر مہد نے بتایا آپ عدوان کی بہن ہیں آئ گیس…

اوہ ہیلو میں کوئ بہن شہن نہیں ہوں میں تو اُسکی فیانسی ہوں…

واٹ؟؟؟