Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 15
Rate this Novel
Beri Piya Episode 15
Beri Piya by Hareem
یہ کیا بکواس کررہے ہو تم لڑکے؟؟؟
سردار عالم نے دہاڑتے ہوۓ عدوان سے استفسار کیا….
یہ بکواس نہیں ہے سُسر صاحب میرے پاس تمام ثبوت ہیں…
ثبوت کی بات پر ماہی نے اپنا کب کا جُھکا سر اُٹھا کر عدوان کی طرف دیکھا..
پر اس وقت عدوان کی پیٹھ ماہی کی طرف تھی جسے وہ صرف گھور کر رہ گئ….
ہاۓ ہاۓ ماہی یہ کیا کرڈالا تو نے…
اتنی محبت کرنے والے باپ کہ سر میں خاک ڈلوادی…عائشہ نے بین کرتے ہوۓ چلانا شروع کردیا تھا(پلین کہ مطابق)…
چُپ کریں بھابھی آپ ایسے الزام مت لگائیں میری بیٹی پر…مجھے پورا بھروسہ ہے میری ماہی ایسا نہیں کرسکتی…کب سے بُت بنی عالیہ نے آگے بڑھتے ہوۓ ماہی کو گلے سے لگاتے ہوۓ کہا….
یہ مسجد ہے اور اسکا احترام آپ پر لازم ہے… اور آپ سب نکاح پہ نکاح کروا کر خود تو گناہگار ہو رہے ہیں پر مجھے بھی اس سب میں شامل کررہے تھے مولوی صاحب نے بھی اس سب میں اپنا حصہ ڈالا ..
اور اس سب معاملہ کو باہر جا کر نبٹائیں چلیں باہر چلیں…
دیکھئیے مولوی صاحب میں آپکے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں آپ اس سب کہ لئیے کچھ وقت دے دیں یہ سب یقیناً کوئ غلط فہمی ہے.
اس سب کو اس چار دیواری میں ہی رہنے دیں ..یہ بات باہر جانے پرہماری بہت بدنامی.ہوگی …
سردار عالم نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ ڈالے تھے. .چلیں ٹھیک ہے پر جلدی حل کریں اس مسئلہ کو…مولوی صاحب وارننگ دیتے باہر نکل گۓ.
اُنکے نکلتے ہی زین اندر داخل ہوا جو گاڑی سے بد نکالنے گیا تھا اور اس سب سے بے خبر تھا…یہ سب کیا ہورہا ہے؟؟؟
آو آو تم بھی دیکھو اپنی بہن کہ کارنامے…
کیا بول رہی ہیں آپ چچی؟؟؟
میں نے کیا کہنا ہے یہ دیکھو یہ لڑکا کہہ رہا ہے کہ ماہی اس کی بیوی ہے توبہ توبہ کیسا دور آگیا ہے…
بس چُپ کر جاو اب کوئ نہیں بولے گا سردار بخش جو کب سے بیٹھے سب سُن رہے تھے اپنی لاٹھی تھامتے اُٹھ کھڑے ہوۓ….
ہاں برخوردار کیا ثبوت ہے تمھارے پاس؟؟؟
تمھارے رشتے کو انکار کرنے کا یہ صلہ دو گے تم ہمیں ؟؟؟ایسے سرعام ہماری عزت نیلام کروگے تم؟؟…
سردار بخش نے بھرے مجمعے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا…
جہاں ہر شخص ایسے خاموش بیٹھا تھا جیسے کسی ڈرامہ کا سین چل رہا ہو….
میں کون ہوتا ہوں آپکو بدنام کرنے والا پہلے بھی رشتہ ماہی کی رضامندی سے بھیجا تھا..
جب آپ سب نہیں مانے تب ہی ہم نے اتنا بڑا قدم اُٹھایا عدوان نے سارا ملبہ ماہی پر ڈال دیا …
تم جھوٹ بول رہے ہو الزام لگا رہے ہو مجھ پر…
ماہی ایک دم سے چیختی ہوئ اُٹھ کھڑی ہوئ تھی کیوں رسوا کررہے ہو تم مجھے ماہی نے عین عدوان کہ سامنے کھڑے ہوتے چیخ کر اپنا یقین دلانا چاہا…
ماہی تمھیں کسی سے ڈرنے یا کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے یہ سب تمھارے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے نہیں تو میں پولیس بُلا لونگا عدوان نے ماہی کو تسلی دیتے ہوۓ کہا..
اور یہ لیجئیے ہمارا نکاح نامہ عدوان نے اپنی کوٹ کی جیب سے کاغذ نکال کر سردار عالم کی طرف بڑھایا جسے فورًا سے زین نے جھپٹ لیا…
زین کو اُس کاغذ کو گھورتا دیکھ شزرا نے اپنی ماں کو ٹہوکا دیا…
جس پر وہ ایک بار پھر سے شروع ہوئیں…
ہاۓ اس لڑکی نے ہمیں کہیں کا نا چھوڑا نکاح ہی کرلیا..
تم تو چُپ کرو عائشہ…
ہیں اب بھی میں چُپ کروں مہوش دیکھ نہیں رہی تمھاری ہونے والی بہو نکاح یافتہ نکلی ہے اپنے بیٹے کی طرف دیکھو بیچارے کو کتنا گہرا صدمہ پُہنچا ہے…عائشہ نے اُنکی توجہ خاموش بیٹھے بُراق کی طرف کروائ..
زین کو ماہی کہ دستخط دیکھتے یوۓ جھٹکا لگا تھا تبھی زین کہ پیچھے کھڑے مہد نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ضروری سمجھے اور زین کہ ہاتھ سے نکاح نامہ لیتے واپس عدوان کی طرف بڑھایا…
اپنی بہن کہ سائن دیکھ تو لئیے ہیں اور کیسی تسلی چاہیے تمھیں ..
اور ویسے بھی یہ صحیح کہہ رہا ہے میں نے خود دن دہاڑے ماہی کو اسکی بانہوں میں جھولتے دیکھا ہے..کیوں صحیح کہہ رہا ہوں نا ماہی؟؟؟
مہد کہ پوچھنے پر ماہی کی آنکھوں کہ سامنے اُس دن کا منظر گھوم گیا تھا جسے یاد کرنے پر اُسکی نظریں جُھک گئ تھیں…اور ماہی کا نظریں چُرانا زین کو لہو لوہان کرگیا تھا…
پر سب کو اپنی طرف مشکوک نظروں سے دیکھتا پا کر ماہی شزرا کی طرف بڑھی تھی..
شزرا پلیز تم سب کو بتاو کہ ایسا کچھ نہیں ہے ..
میں نے کوئ نکاح نہیں کیا پلیز شزرا تم ہی بتاو کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے…ماہی نے آس بھری نظروں سے شزرا کو دیکھتے ہوۓ اُسکی منت کی تھی..
اب وہاں بیٹھے ہر شخص کی نظریں شزرا پر تھیں…
کیا تم واقعی چاہتی ہو کہ میں جو بھی جانتی ہوں وہ سب کو بتا دوں؟؟؟
ہاں میں بالکل چاہتی ہوں کہ تم جو بھی جانتی ہو سب کو بتا دو.
ماہی کہ کہنے پر شزرا نے ایک نظر وہاں بیٹھے ہر فرد پر ڈالی اور پھر عالم صاحب کہ قریب آتے گویا ہوئ…
عدوان بھائ بالکل سچ بول رہے ہیں…
شزرا کی بات پر ماہی نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے شزرا کو دیکھا…
یہ تم کیا کہہ رہی ہو شزرا؟؟؟
میں تو بالکل خاموش تھی تم ہی نے کہا کہ سب کو بتاو… شزرا نے لاپرواہی سے کندھے اُچکاتے ہوۓ کہا… تبھی کچھ یاد آتے شزرا نے اپنا فون بڑھاتے ہوۓ کہا..
یہ دیکھیں تایا ابو…شزرا نے اپنے فون کی گیلری سے اُس دن کی عدوان اور شزرا کی پکچرز دکھائیں جو اُس نے چھپ کر لی تھیں.
اورجن میں عدوان ماہی کی قدموں میں اُسکے ہاتھ تھامے بیٹھا تھا…
میں تو آپ سب کو بہت پہلے بتانا چاہتی تھی پر مجھے لگا آپ سب میرا یقین نہیں کریں گے…
شزرا کو بڑھ چڑھ کر بولتا دیکھ عدوان عش عش کر اُٹھا تھا..
پر اگر پھر بھی آپ سب کو یقین نہیں آیا تو یہ دیکھیں تائ امی شزرا نے ماہی کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ اُسکی ہتھیلی عالیہ کہ سامنے کی جہاں صاف صاف A لکھا تھا…
جسے دیکھتے ہی عالیہ نیچے بیٹھتی چلی گئیں…اور شزرا کا یہ وار قبر میں لگی آخری کیل ثابت ہوا تھا…
پر شزرا یہ تو تم نے غلطی سے لکھا تھا تم ایسا کیوں کررہی ہو میرے ساتھ؟؟
غلطی سے نہیں ماہی تمھارے کہنے پر لکھا تھا اب تو سب بات سامنے آگئ ہے اب تو جھوٹ بولنا بند کرو…
پر بابا..
خاموش اب ایک اور لفظ نہیں سُننا ہمیں عالم صاحب نے ہاتھ اُٹھاۓ ماہی کو مزید بولنے سے روکا…
اگر اتنا ہی پسند تھا یہ تمھیں تو ہمیں کہا ہوتا میں اپنے پورے خاندان سے لڑ جاتا…
پر یوں تو ہمیں رُسوا نا کرتی ماہی…
پر بابا ایسا کچھ نہیں ہے میرا یقین کریں..
آج تک یقین ہی تو کرتا آیا تھا…
پر آج وہ یقین ریزہ ریزہ کردیا تم نے…
وہاں بیٹھا ہر شخص تماشائ تھا…اور گھر کا ہر شخص اس قدر نادم تھا کہ سر اُٹھانے کی ہمت بھی نہیں رہی تھی…
تم نے تو مجھے سر اُٹھانے کہ بھی قابل نہیں چھوڑا کاش تم پیدا ہی نا ہوئ ہوتی…سردار عالم نے اپنی چھلکی آنکھوں کو صاف کرتے ہوۓ آواز میں پہلے والا دبدبا لاتے گویا ہوۓ..
جاو چلی جاو اپنے شوہر کہ ساتھ آج کہ بعد ہم سب تمھارے لئیے مر گۓ….
پر بابا میں کیسے چلی جاوں اسکے ساتھ یہ میرا شوہر نہیں ہے…
یہ سُنتے ہی کب سے خاموش سر جھکاۓ کھڑے زین نے اپنا بھاری ہاتھ اُٹھاۓ ماہی کہ منہ پر دے مارا تھاجسکے بعد ماہی کھڑی ہوئ نیچے جا گری…
کتنی ڈھیٹ ہو تم مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم ہماری وہی ماہی ہو ایک تو نکاح کرلیا اوپر سے مان بھی نہیں رہی..زین چلاتا ہوا غصے سے ایک بار پھر سے ماہی کو مارنے کہ لئیے آگے بڑھا تھا…
آرام سے سالے صاحب یہ بیوی ہے میری اور میں بالکل برداشت نہیں کرونگا کہ آپ اسے تکلیف پُہنچائیں. ..عدوان نے ماہی کہ آگے کھڑے ہوتے ہوۓ زین کو روکا..
تو اُٹھاو اپنی بیوی اور فوراً نکلو یہاں سے..
جاو نکلو یہاں سے مجھے مزید کچھ نہیں سُننا جاو چلے جاو زین نے عدوان کو دھکا دیتے ہوۓ غُصے سے کہا..
عدوان دھکا لگنے پر دو قدم دور ہوا. اور پھر آگے بڑھ کر ماہی کو اُٹھانا چاہا پر ماہی نے عدوان کہ ہاتھوں کو جھٹک دیا…اور کھڑے ہوکر فوراً سے آگے بڑھی….
بابا پلیز میرا یقین کریں میں نے کچھ غلط نہیں کیا.. مایی نے روتے ہوۓ عالم صاحب سے گُزارش کی…
ماہی کا رونا گڑگڑانا اس وقت اُنہیں کچھ بھی سُنائ نہیں دے رہا تھا…..بابا ماہی نے اب کی بار اُنکی بازو سے لپٹتے ہوۓ اُنہیں پُکارا…پر ماہی کا لمس اُنہیں ایسے محسوس ہوا جیسے کسی بچھو نے ڈنک مار دیا ہو..
تبھی اُنہوں نے ماہی کا ہاتھ جھٹکا اور روتی بلکتی منتیں کرتی ماہی کوبازو سے گھسیٹتے پرئینگ ہال سے باہر دھکیل دیا..عدوان بھی انکے پیچھے پیچھے ماہی کہ ساتھ باہر نکل آیا …
“آج سے تم ہمارے لئیے اور ہم تمھارے لئیے مر گۓ لڑکی”
اتنا کہتے ہی اُنہوں نے دھڑ سے دروازہ بند کردیا…..
ہاۓ سونیا….
جینیفر ہاتھ ہلاتی سونیا کہ آفس میں اُسکے کیبن تک پُہنچی…
ہاۓ جینیفر….سونیا نے تھکے ہوۓ انداز میں ہاۓ بولا
تم اُداس کیوں ہو…کیا تمھارا بُراق تمھاری قید سے اُڑ گیا…(جینیفر ہاتھ سے اُڑنے کا اشارہ کرتی ہنسنے لگی)
(جینیفر کی بات پر طنزاً مُسکراتے ہوۓ سونیا نے کہا) تم ٹینشن مت لو میرے پاس اُسے قابو کرنے کہ لئیے بہترین ہتھیار ہے…
کیسا ہتھیار؟؟؟
کیا تم تک خبر نہیں پُہنچی؟؟؟
کیسی خبر کیوں پہلیاں بُجھوا رہی ہو…جینیفر نے بےصبری سے کُرسی پر آگے ہو کر بیٹھتے ہوۓ سوال کیا…
میں بُراق کہ بچے کی ماں بننے والی ہوں…
سونیا نے مُسکراتے ہوۓ اعلان کیا…
کیااااا؟کیا تمھیں یقین ہے کہ یہ اُسی کا بچہ ہے؟؟؟
مجھے سو فیصد یقین ہے اور ویسے بھی ماووں کو پتہ ہوتا ہے کہ اُسکے بچے کا باپ کون ہے…سونیا نے خباثت سے آنکھ مارتے ہوۓ جینیفر کی معلومات میں اضافہ کیا…
پر میں نے تو سُنا ہے کہ وہ پاکستان میں ہے اور شاید وہ وہاں شادی کرنے گیا ہے…
تو کر لے مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے اور ویسے بھی اسلام میں چار کی اجازت ہے…
تو کیا تم واقعی شادی کرنا چاہتی ہو؟؟؟
ہاں بالکل بس اب بہت ہوگیا اور یہ روز روز کہ بریک اپ سے عاجز آچُکی ہوں اب میں شادی کرکہ دیکھنا چاہتی ہوں…
اگر شادی ہی کرنی ہے تو ڈیوڈ سے کیوں نہیں وہ پسند بھی کرتا ہے تمھیں…
نہیں یار ڈیوڈ نہیں…سونیا نے منہ بناتے ہوۓ انکار کیا…
تو بُراق کیوں؟؟؟
اُس پر دل آگیا ہے میرا اور ویسے بھی…وہ شادی مٹیریل ہے….
سونیا کی بات پر اُن دونوں نے قہقہہ لگاتے ہوۓ ایک دوسرے کہ ہاتھ پر تالی دے ماری…
***********
سردار عالم عدوان اور ماہی کہ منہ پر دروازہ بند کر چُکے تھے اور ماہی زمین پر ایسے بیٹھی ہوئ تھی جیسے کوئ انسان اپنا سب کچھ گنوا دینے کہ بعد بیٹھا ہو…
اُٹھو ماہی… عدوان نے اپنا ہاتھ پھیلاۓ ماہی سے اُٹھنے کا کہا…
ماہی….
اُٹھو ماہی…اب کی بار عدوان نے باقاعدہ ماہی کا کندھا ہلاتے ہوۓ اُس سے اُٹھنے کہ لئیے کہا..
جسے ماہی نے ان سُنا کر دیا…
عدوان نے حیرت سے ماہی کہ سامنے بیٹھتے ہوۓ اُسے دیکھا…
ماہی سر جھکاۓ آنسووں سے تر چہرہ لئیے ہچکیاں بھر رہی تھی…
اُسے اس طرح دیکھنے پر عدوان کو اپنا دل سُکڑتا ہوا محسوس ہوا تھا…
کچھ دیر ماہی کو اسی طرح دیکھنے کہ بعد عدوان نے ماہی کا ہاتھ پکڑے کھڑا کیا اور بنا کچھ کہے اُسے ساتھ لئیے مسجد کی سیڑھیاں اُترنے لگا… اور پھر راہداریوں سے گُزرتا باہر کی طرف بڑھنے لگا…
ماہی بنا چوں چراں کئیے عدوان کہ ساتھ سر جُھکاۓ ننگے پاوں گھسیٹتے چلی آرہی تھی…
عدوان نے اپنے جوتے تو باہر سے لے لئیے تھے پر ماہی کہ جوتے ٹوکن نا ہونے کہ باعث اُسے نہیں مل سکتے تھے….
تبھی کچھ سوچتے ہوۓ عدوان نے ماہی کو پاس بنی بینچ پر بٹھایا اور اُسکے قدموں میں گھٹنوں کہ بل بیٹھتے ہوۓ اُسکے سردی کی شدت سے سُرخ اور ٹھنڈے پڑے مہندی لگے پیروں کو ہاتھوں میں لئیے اپنے جوتوں میں ڈالا…
عدوان کہ جوتے تو ماہی کو بہت بڑے تھے پر اس وقت عدوان کو یہی صحیح لگا..جوتے پہنا کر عدوان نے ماہی کی طرف دیکھا وہ اب بھی پہلے کی طرح سر جُھکاۓ آنسو بہا رہی تھی پر اب فرق اتنا تھا کہ اُسکی ہچکیاں رُک چُکی تھیں..
عدوان نے کھڑے ہوکر اپنے ہاتھ جھاڑے اور ایک بار پھر سے ماہی کا ہاتھ پکڑے اُسے باہر کی طرف لانے لگا…
پارکنگ کہ پاس کھڑی اپنی گاڑی کہ پاس رُکتے عدوان نے فرنٹ ڈور کھولے ماہی کو جیسے بٹھانا چاہا ویسے ہی ماہی جھٹکے سے دو قدم دور ہٹی…
بیٹھو ماہی عدوان نے حیرت سے ماہی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو پہلے بہت آرام سے اُسکے ساتھ یہاں تک آگئ تھی پر اب ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی خواب سے جاگ گئ ہو…
میں تمھارے ساتھ کہیں نہیں جاونگی سمجھے تم…
اچھا تو بھر کہاں جاو گی…عدوان نے گاڑی کا دروازہ بند کئیے اطمینان سے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے ہوۓ پوچھا..
میں جہاں بھی جاوں تم سے مطلب…
تم جہاں بھی جاوگی میں وہاں یہ نکاح نامہ لئیے پُہنچ جاونگا اور ویسے بھی بیویوں کو تو شوہر کہ ساتھ ہی رہنا ہوتا ہے نا بھول گئ تمھارے ابا نے کیا کہا تھا…..
کیسا شوہر؟؟؟ کہاں کا شوہر؟؟؟ تم سب کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتے ہو پر میری نہیں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میں نے کوئ نکاح نہیں کیا…
اور میری بات کان کھول کر سُن لو میں کہیں نہیں جاونگی تمھارے ساتھ…
اچھا تو کہاں جائیں گی آپ؟؟؟ کیونکہ آپکے بابا تو آپکو نکال چُکے ہیں۔..
وہ اس وقت غصے میں ہیں تبھی ایسا کہہ دیا پر میں اُنہیں سمجھا لونگی…
ہاہاہاہاہاہا اور تمھیں لگتا ہے کہ یہ تمھاری فیملی تمھیں ایسا کرنے دے گی؟؟؟
تم بہت معصوم ہو ماہی تمھیں اب بھی سمجھ نہیں آرہا کہ اُن سب نے کتنے بڑے الزام لگاۓ ہیں تم پر اور کتنے آرام سے تمھیں دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا ہے…..
اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے تمھارا.. تم جو بھی کہو تمھارے ساتھ تو میں ہرگز نہیں جاونگی….ماہی نے تنفر سے کہتے آگے کو قدم بڑھاۓ…
عدوان نے کچھ دیر تو ماہی کو جاتا ہوا دیکھا پھر جلدی سے اُسکے پیچھے بھاگتے ہوۓ اُسکا بازو تھامتے ہوۓ کہا….شرافت سے گاڑی میں بیٹھو….میں نہیں بیٹھونگی…
سب دیکھ رہے ہیں ماہی ڈرامہ مت لگاؤ…
تو دیکھتے رہیں پر میں نہیں آونگی….
پارکنگ میں ایک بُزرگ جوڑا کھڑا تھا جو ان دونوں کو دیکھتے ہوۓ اُن تک پُہنچے….
جی کیا ہوا کوئ مسئلہ ہے…
انکل یہ مجھے زبردستی گاڑی میں بٹھا رہا ہے اُنکے پوچھنے پر ماہی نے فورًا شکایت لگائ…
کیوں بھئ برخوردار اُن انکل نے عدوان کہ کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا…
عدوان نے پہلے تو ماہی کو گھورا جو اُن انکل کی بیوی کہ ساتھ چپکے کھڑی تھی پھر کچھ سوچتے یوۓ گویا ہوا….انکل آپ غلط سمجھ رہے ہیں یہ بیوی ہے میری….
نہیں یہ جھوٹ بول رہا ہے…
اوہ جان اب بس بھی کرو وہ اصل میں انکل آج انکے بھائ کا نکاح تھا اُسی کہ سلسلے میں ہم یہاں آۓ تھے عدوان نے ماہی کی ڈریسنگ کہ حساب سے جھوٹ گھڑا..اور میں نے واپسی پر انہیں سب کہ ساتھ جانے نہیں دیا تو یہ ناراض پوگئ ہیں…
عدوان نے جلدی سے ساری کہانی اُن انکل کہ گوش گُزار کی…
نہیں انکل ایسا نہیں ہے…اب وہ آنٹی اور انکل مُسکرانے لگے تھے اور ماہی کی بات کو ٹوٹلی اگنور کرتے ماہی سے گویا ہوۓ…
اتنی سی بات پر تم نے اپنے ہی شوہر کو پہچاننے سے انکار کردیا…کتنی بُری بات ہے اور دیکھو کتنا پیار کرتا ہے تم سے کتنی محبت سے بُلا رہا ہے….
چلو گاڑی میں بیٹھو پر آنٹی وہ….
بالکل چُپ اور خبردار دوبارہ اپنا نکاح خراب کرنے کی کوششش کی بُری بات ہے بیٹا…
اُن آنٹی نے ماہی کو گاڑی میں بٹھا کر ہی چھوڑا… عدوان اُن دونوں کا شکریہ ادا کرتا مسکراتا ہوا گاڑی میں آبیٹھا…..
**************
بیگم صاحبہ یہ کتنے تھال تیار کروانے ہیں؟؟؟
کم سے کم چار کروالو….
ویسے بی بی جی ہمارے ہاں یہ رواج نہیں ہے نا؟؟؟
ہاں یہ چترال کا رواج ہے اب نکاح میں تو جا نہیں سکی تو سوچا کہ یہ رسم ہماری طرف سے ہو جائیگی تم ڈرائیور اور مالی جیسے ہی اُنکی گاڑیاں آکر رُکیں یہ تھال لے آنا…
(اُس دن ثانیہ صاحبہ مہندی پر جب گئ تھیں تو وہاں اُنہوں نے اس رسم کا سُنا تھا کہ چترال سائیڈ پر جب گھر والے دُلہن لاتے ہیں تو راستے میں اُنکے جتنے بھی رشتےدار اور ہمساۓ رہتے ہیں وہ منہ میٹھا کروانے کہ لئیے ٹافیوں اور چاکلیٹس سے بھرے تھال لئیے کھڑے ہوتے ہیں…اور وہ یہ تھال بارات میں شامل لوگوں کہ سامنے کرتے ہیں اور سب اُن میں سے اُٹھاتے جاتے ہیں…
ثانیہ صاحبہ کو بے صبری سے اُن سب کی واپسی کا انتظار تھا…..
***********
مہوش تنویر مجھے معاف کردو سردار عالم نے اپنی بہن اور بہنوئ کہ آگے ہاتھ جوڑے تھے…
پلیز بھائ آپ ہمیں شرمندہ مت کریں…
مہوش نے آگے بڑھ کر اُنکے ہاتھ تھام لئیے تھے. عالیہ نے روتے ہوۓ اپنے مزاجی خدا کہ جُھکے ہوۓ سر کی طرف دیکھا…تو اُنہیں اور شدت سے رونا آنے لگا…
آپ سب یہاں آۓ ہماری خوشی میں شامل ہونے کہ لئیے آپ سب کا بے حد شکریہ عالم صاحب نے سر اور نظریں جھکاۓ وہاں موجود ہر انسان کو متوجہ کرتے ہوۓ کہا…
اب یہاں کوئ نکاح نہیں ہورہا آپ سب یہاں سے جاسکتے ہیں…
وہاں موجود سب کو جانے کا کہتے اُنہوں نے تیزی سے باہر کی طرف قدم بڑھا دئیے….
باقی سب بھی جو کب سے بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھ اپنی اپنی جگہ سے اُٹھنے لگے….
شزرا کو تو اُن سب کو اُٹھتا دیکھ کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا….
تبھی سردار بخش کی آواز گونجی کوئ کہیں نہیں جاۓ گا آپ سب تشریف رکھئیے….
مہوش بچے تم اتنی دور سے آئ ہو اب دُلہن لئیے بغیر کیسے جاوگی…یہ شزرا بھی تمھارے بھائ کی بیٹی ہے اس سے نکاح پڑھوا لو…
شزرا کا سُنتے ہی مہوش کا منہ بن گیا تھا…
نہیں بابا ایسا کوئ ضروری بھی نہیں ہے…
مہوش نے اپنی طرف سے منع کرنا چاہا اور اُنکی اس بات پر عائشہ اور شزرا نے اُنہیں خونخوار نظروں سے گھورتے ہوۓ دیکھا..
تبھی کب سے خاموش تماشائ بنے بُراق نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا…
میں تیار ہوں نانا ابا…
پر بُراق؟؟؟
ممی پہلے میں نے آپکی بات مانی تھی اب آپ میری بات مان لیں…
مہوش سب کے سامنے لاجواب ہوگئیں تھی….اور آخرکار اُنہیں اس نکاح کہ لئیے حامی بھرنی پڑی تھی…
اب جس جگہ پر پہلے ماہی بیٹھی ہوئ تھی اب وہاں شزرا کو گھونگھٹ اُڑاۓ بٹھا دیا گیا تھا….
یہ واحد نکاح تھا جس میں شامل ہر فرد کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا ماسواۓ دُلہن اور اُسکی ماں کہ…
نکاح ہو چُکا تھا نکاح کہ چھوارے بھی بٹ چُکے تھے…شزرا کو اپنا آپ ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا …اور عائشہ صاحبہ کی تو خوشی کا کوئ ٹھکانا ہی نہیں تھا…وہ خوشی خوشی سب سے ملتیں مبارکباد وصول کررہی تھیں….
بُراق اور شزرا کو باہر فوٹو سیشن کہ لئیے لے جایا چُکا تھا…عالیہ کو سرجھکاۓ روتا دیکھ ثروت بیگم کو اُن پر بے تحاشا ترس آیا.
تبھی وہ کھڑی ہوتیں عائشہ تک پُہنچیں…
عائشہ…
جی ماں جی وہ مُسکراتے ہوۓ آگے بڑھیں اور خوشی سے اُن سے لپٹ گئیں…بہت مبارک ہو تمھیں خیر مُبارک ماں جی آپکو بھی آپکی پوتی کا نکاح بہت مُبارک ہو…
اچھا وہ میں سوچ رہی تھی کہ میں عالیہ اور زین کہ ساتھ نکلتی ہوں..تم اور مہوش مہمانوں کو لیکر پُہنچ جانا…پر ماں جی آپ دادی ہیں آپ کا رُکنا ضروری ہے اور بھابھی کو تو اتنا نا ہوا کہ جھوٹے منہ ہی سہی مبارکباد ہی دے دیتیں عائشہ نے تنفر سے عالیہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا…
عائشہ کیا تمھیں نظر نہیں آرہا کہ وہ اس وقت کس حال میں ہے کبھی تو موقع کی نزاکت کو سمجھا کرو میں جارہی ہوں تم سب آجانا اور تمھارے بابا شوہر اور بیٹے تو یہیں ہیں نا…
ثروت بیگم غصے سے عائشہ کو جھڑکتی یہ جا وہ جا ہوگئیں…
*************
بیگم صاحبہ….
بیگم صاحبہ….
ہاں بھئ کیا ہوگیا…
جی وہ مین گیٹ کے چوکیدار کا فون ہے جی وہ شادی والے اندر داخل ہوگۓ ہیں جی….
اوہ اچھا تو چلو وہ تھال اُٹھاو اور فوراً باہر آو..
ثانیہ صاحبہ آرڈر کرتیں گیٹ کی طرف بڑھ گئیں جہاں کچھ منٹ بعد ہی اُنکی گاڑی گلی میں اینٹر ہوتی دکھی…
ثانیہ کہ سامنے آنے پر زین نے گاڑی گیٹ کہ اندر لے جانے کہ بجاۓ وہیں باہر ہی روک دی..
جس میں سے عالیہ اُنہیں دیکھتے ہی گاڑی سے اُترتے چیل کی طرح اُنکی طرف لپکیں ثانیہ جو مبارک باد کہ لئیے آگے بڑھ رہی تھیں عالیہ کہ دھکا دیتے دو قدم دور ہوئیں …
اب آپ کونسا نیا ڈرامہ کرنے یہاں کھڑی ہیں… ثانیہ جو ابھی دھکے سے ہی نہیں سنبھلیں تھیں حیرت سے اُنہیں دیکھنے لگیں…
یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں…
اتنا انجان بننے کا ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں…
عالیہ آرام سے بات کرو بیٹے …
ابھی بھی میں آرام سے بات کروں ماں جی انکے بیٹے نے سربازار ہمارے سروں میں خاک ڈال دی ہے اور میں ہی آرام سے بات کروں عالیہ نے چلاتے ہوۓ اُنکی ملازمہ کہ ہاتھ میں پکڑے تھال پہ ہاتھ مارتے اُسے دور اُچھال دیا…
جبکہ عدوان کہ نام پر ثانیہ کا ماتھا ٹھنکا تھا…
کیا ہوا ہے ماں جی میں تو آ نہیں سکی اس لئیے رسم کہ لئہے کھڑی تھی کیا ہوا ہے کیا کیا ہے عدوان ہے؟؟؟
ہمممم ہو ہی نہیں سکتا آپکو نا پتہ ہو …
زین اپنی ماں کو اندر لے جاو ….
چلیں ماما أپ میرے ساتھ زین عالیہ صاحبہ کو اپنے ساتھ لگاۓ اندر کی طرف بڑھ گیا…
عدوان نے نکاح ہونے ہی نہیں دیا…
کیااااااا….
ہاں یہی سچ ہے وہ دونوں پہلے ہی نکاح کر چُکے تھے…..ثروت بیگم اپنی بات مکمل کرتیں اندر بڑھ گئیں جبکہ ثانیہ وہیں حیرت کا بُت بنے کھڑی رہ گئیں….
*************
تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟؟؟؟
اپنے فلیٹ پر وہاں میرے کچھ دوست جمع ہیں مولوی سمیت وہاں جاتے ہی ہم نکاح کرلیں گے….
عدوان کی بات پر کچھ دیر ماہی نے اُسے گھورا …
نکاح کی کیا ضرورت ہے تمھارے پاس ہے تو سہی نکاح نامہ ماہی نے بھنویں اُچکاتے ہوۓ کہا….
ہاں یہ بھی ہی میرے پاس تو ہے نکاح نامہ مجھے کیا ضرورت ہے بھلا میں تو تمھارے لئیے کہہ رہا تھا…
گھٹیا انسان ماہی نے عدوان کی طرف غصتمے سے دیکھتے ہوۓ کہا اور پھر آنکھیں بند کرتی اپنی سوچوں میں گُم ہوگئ…..
یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ میرے خُدا میں نے تو کبھی کسی کا بُرا نہیں چاہا کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی پھر میرے ہی ساتھ ایسا کیوں ہوا…
میرے بابا میری وجہ سے رسوا ہوگۓ….
اور شزرا اُس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا میں نے تو ہمیشہ اُسے اپنی بہن مانا پھر اُس نے مجھ پر الزام کیوں لگایا..
اور یہ شخص اس نے مجھے سب کی نظروں میں کیوں گرا دیا….
ایک چھوٹی سی شرط ہی تو لگائ تھی بس ایک ذرا سی شرارت میرے گلے کیوں پڑگئ میں کیوں ملی اس سے میں نے کیوں شزرا کی دی ہوئ شرط قبول کی کیوں…..
ماہی گاڑی کی سیٹ سے پُشت ٹکاۓ آنکھیں موندی پڑی تھی اور آنکھوں کہ کنارے سے آنسو تھے کہ بہتے ہی جا رہے تھے….
تبھی ماہی دل ہی دل میں تہیہ کرتی سیدھی ہو بیٹھی….
اور آگ ٹپکاتی آنکھوں سے عدوان کو گھورنے لگی جیسے ابھی اُسے بھسم کر دے گی…
تم مجھ سے ہی شادی کیوں کرنا چاہتے ہو..
ماہی کہ اچانک بولنے ہر عدوان نے حیرت سے اُسکی طرف دیکھا…..
کیونکہ تم مجھے پسند ہو….
پر تم مجھے پسند نہیں ہو….خیر یہ تو اب تم جھوٹ بول رہی ہو میں نے خود کہیں بار تمھاری آنکھوں میں چھپی محبت دیکھی ہے تمھیں تو میرا شُکر گُزار ہونا چاپیے کہ میں نے تمھیں زندگی بھر کی پشیمانی سے بچا لیا ہے…
ماہی کو اپنا آپ عدوان پر عیاں ہو جانا آنکھیں چُرانے پر مجبور کر گیا تھا.
تبھی ماہی چلاتے ہوۓ گویا ہوئ ایسا کچھ نہیں ہے سمجھے اور نا ہی ایسا کچھ ہوسکتا ہے یہ سب محض تمھاری خوش فہمی ہے.
اور ہاں اب تو واقعی میں بھی تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں تمھیں دن میں تارے نا دکھاۓ اور تمھاری زندگی حرام نا کی تو میرا نام بھی تطمٰئین القلب نہیں سمجھے….
اوکے تم جو بھی دکھاوگی…میں دیکھ لونگا عدوان نے ماہی کو مُسکراتے ہوۓ دیکھ کر کہا…جس پر ماہی نے منہ موڑے کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کردیا…..
************
تم ابھی تک یہاں بیٹھی رو رہی ہو جاو اندر عالم کو دیکھو تسلی دو اُسے…
مجھ میں اُنکی حالت دیکھنے کی بالکل ہمت نہیں ماں جی…عالیہ نے روتے ہوۓ اندر کمرے میں جانے سے انکار کیا…
اچھا میں دیکھتی ہوں تم اچھی سی چاۓ بھجواو..
ثروت بیگم آرڈر کرتیں اندر بڑھ گئیں اندر پورا کمرہ خالی تھا…
عالم کہاں ہو ماں جی نے پہلے تو پُکارا پھر باتھ روم میں دیکھنے کہ لئیے آگے بڑھیں پر بیڈ کی دوسری سائیڈ عالم کو گرا دیکھ اُنکی چیخ نکل گئ
عالم میرے بچےےےےےےے……..
