Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 7

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 7

Beri Piya by Hareem

یہ تم اتنا تیار کیوں ہو رہی ہو شزرا؟؟؟عائشہ نے سر سے پیر تک شزرا کو گھورتے ہوۓ پوچھا.

وہ ماما پھوپھو آنے والی ہیں نا اس لئیے…

شزرا نے فُل بلیک کلر کی شفون کی شارٹ فراک پہنی ہوئ تھی جس پہ گولڈن سٹونز کا کام گلے بازووں اور فراک کہ گھیرے پر ہوا ہوا تھا…ساتھ ہی لائٹ میک اپ کئیے اور بالوں کی فرنچ ناٹ بناۓ شزرا کافی اچھی لگ رہی تھی…

تم نے پھوپھو کہ آنے پہ اتنی تیاری کس خوشی میں کی ہے بیٹا؟؟ جس کی ساس ہے وہ محترمہ تو پچھلے ایک گھنٹے سے غائب ہے…

ماہی کہاں گئ ہے ماما…شزرا نے اپنا ڈوپٹہ شانوں پہ پھیلاتے ہوۓ پوچھا…

مجھے کیا پتہ وہ کونسا کسی کو کچھ بتا کر جاتی ہے…

اور تم میری بات سُنو شزرا ..عائشہ نے شزرا کو تنقیدی نظروں سے گھورتے ہوۓ کہا..

ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو ..

اب کام پر لگ جاو اور ایسا کرو تمھاری دادو نے پھوپھو کہ لئیے جو اخروٹ کا حلوہ بنایا ہے نا .. تھوڑا سا حلوہ ثانیہ صاحبہ کہ گھر لے جاو. اور وہاں جا کر یہ کہنا کہ یہ حلوہ تم نے بنایا ہے..

اور میں ایسا کیوں کروں گی یہ بتانا پسند کریں گی آپ؟؟.شزرا نے آنکھیں گھماتے ہوۓ پوچھا..

تم ایسا اس لئیے کرو گی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ وہ تمھیں اپنی بہو بنانے کہ لئیے پسند کر لیں…

ماماااااا…

چلاو مت جیسا کہا ہے ویسا کرو سمجھی…

عائشہ اپنا حکم صادر کرتیں یہ جا وہ جا ہوگئیں…

***********

عالم اپنی بہن کو ائیرپورٹ لے جانے کہ لئیے تیار ہورہے تھے تبھی عالیہ نے اُنکی واسکٹ اُٹھاتے ہوۓ اُنہیں پہنائیں…

ماہی کہاں ہے.. عالیہ..

پتہ نہیں آج تو گاڑی لیکر نکلی ہے….بس جاتے ہوۓ اتنا ہی کہا کہ ایک گھنٹے تک واپس آجائیگی….چلو اچھا ہے مہوش کہ آنے تک گھر پر ہوگئ اور کھانے کا انتظام بہت اچھا کرنا..

آپ فکر ہی نہ کریں سب کچھ بہت بہترین ہوگا…عالیہ سے باتیں کرتے کرتے وہ کار پورچ تک پہنچ آۓ تھے…اچھا پھر میں چلتا ہوں… اُنکی گاڑی نکلی ہی تھی کہ بائیں سائیڈ سے سپیڈ سے آتی ہوئ ماہی کی گاڑی پورچ میں اینٹر ہوئ….

اتنی تیزی سے اندر آتی گاڑی کو دیکھ عالیہ فوراً سائیڈ پر ہوئیں..

اور ماہی کو گاڑی سے نکلتا دیکھ اُس تک پُہنچیں یہ کیا طریقہ ہے تطمئین وہ ہمیشہ غصہ میں ماہی کو اُسکے نام سے پُکارتی تھیں…

سوری ماما میں نے دیکھا نہیں…عالیہ کو ماہی کچھ اُداس اور پریشان سی لگی…کیا بات ہے ماہی سب ٹھیک ہے جی ماما سب ٹھیک ہے..تو منہ کیوں اُترا ہوا ہے تمھارا… کچھ نہیں ہوا مجھے اکیلا چھوڑ دیں آپ تنگ آگئ ہوں آپکو ہر وقت ہر بات کا جواب دیتے ماہی اُونچا اُونچا بولتی اندر کمرے میں چلی گئ… عالیہ حیرت میں گھری ماہی کو جاتا دیکھتی رہیں…..کیونکہ آج سے پہلے ماہی نے کبھی اُونچی آواز میں بات نہیں کی تھی….

************

شزرا ثانیہ صاحبہ کہ گھر حلوہ دے آئ تھی پر یہ ہرگز نہیں کہا کہ یہ میں نے بنایا ہے…

بلکہ اپنے پھوڑپن اور کاہلی کہ جھوٹ موٹ کہ بناۓ ہوۓ قصے ضرور سُنا آئ تھی…

ابھی وہ کچن کی طرف برتن رکھنے جا ہی رہی تھی کہ عالیہ نے اُسے روکا…

شزرا… جی تائ امی..

یہ جوڑا میں نے استری کروا دیا ہے جاو ماہی کو دے دو اور تھوڑا تیار بھی کردینا اچھا بیٹا..

جی تائ امی میں ابھی لے جاتی ہوں…

شزرا برتن کچن میں رکھتی ماہی کہ کمرے میں آگئ تھی جہاں ماہی اوندھے منہ بیڈ پر لیٹی ہوئ تھی…

ماہی.. ماہی…شزرا کہ آواز دینے پر بھی ماہی نے کوئ حرکت نہیں کی…صرف ایک ہنکار بھرتے ہوۓ کہا

ہمممم

تم کہاں گئ تھی ماہی…

کہیں نہیں…ماہی کو آج سے پہلے اتنا اُداس شاید ہی کسی نے دیکھا ہو..

تبھی اتنا چُپ چُپ دیکھ کر شزرا کو تشویش ہوئ..

مجھے بھی نہیں بتاو گی ماہی…

اب کی بار ماہی شزرا کو بتانے کا ارادہ کرتی اُٹھ بیٹھی..

شزرا وہ سامنے والا ہے نا..

کون سامنے والا…. اوہ وہ عدوان ؟؟؟

ہاں وہی..تو کیا ہوا اُسے؟؟؟

اُس نے مجھے ملنے کہ لئیے بُلایا تھا…

کیاااا اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں…کب بُلایا ہے شزرا نے تجسس سے پوچھا…

پہلے وہ شام پانج بجے پارک کا کہہ رہا تھا پھر صبح مجھے خیال آیا کہ تب تک پھوپھو آ چُکی ہونگی اور ماما مجھے جانے نہیں دیں گی تب میں نے اُسے کال کی اور کہا میں نہیں آسکتی تب اُس نے کہا دو بجے آفس میں لنچ بریک ہوتا ہے تب آجاو… سو میں بلیو ایریا اُسکے آفس گئ تھی. ماہی نے سر جھکاۓ بتاتے ہوۓ کہا..

تو کیا کہا کیوں بُلایا تھا اُس نے؟؟شزرا کو اپنا دل بھاگتا ہوا محسوس ہوا…

اب ماہی نے سب تفصیل سے بتانا شروع کیا…

**********

پہلے تو پوری رات مہد کی باتیں سوچتے اور یہ سوچتے کہ پتہ نہیں عدوان کیا کہنا چاہتا ہے ماہی کو نیند ہی نہیں آئ…پرایک گھنٹہ سونے کہ بعد فجر میں پھر نیند کھل گئ..

اور وہ سیدھا نماز پڑھنے کہ بعد وظائف میں مصروف دادو کی گود میں آکر سر رکھے لیٹ گئ….

کیا ہوا میرے بچے دادو نے پیار سے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوۓ پوچھا…

کچھ نہیں دادو بس نیند نہیں آئ….اچھا اتنی خوشی ہے اپنی پھوپھو کہ آنے کی…دادو نے ماہی کو چھیڑتے ہوۓ کہا..

تبھی ماہی نے حیرت سے اُٹھتے ہوۓ پوچھا اوہ آج آنا تھا نہ میرے تو دماغ سے ہی نکل گیا کتنے بجے آرہی ہیں پھوپھو شام کو پانچ بجے تک پہنچ جائیگی انشااللہ..

5بجے…اُف اب کیا کروں میں ابھی آتی ہوں دادو ماہی پیروں میں سلیپر اڑستی فورً سے کمرے میں آئ..

ابھی صبح کہ سات بج رہے تھے اور عدوان آفس جانے کہ لئیے ابھی ہی اُٹھا تھا.

تبھی اپنے بجتے ہوۓ فون کو بنا دیکھے کان سے لگا لیا…

ہیلو…

ہیلو…

ماہی کی سپیکر سے اُبھرتی آواز نے عدوان کہ حواس بحال کئیے.

ہیلو…ماہی…

جی میں ماہی..آپ نے کیسے کال کرلی عدوان کو خوشگوار حیرت نے گھیرا…

وہ مجھے آپکو بتا نا تھا کہ میری پھوپھو آرہی ہیں پیرس سے سو میں آپ سے ملنے نہیں آسکتی ایم سوری…

پر ماہی مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے اور پتہ نہیں مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ اگر آج ہی بات نہ کی تو شاید بہت دیر ہوجاۓ گی پلیز مجھ سے مل لو ماہی…

پر پھوپھو 5بجے تک پہنچ جائیگی میرا نکلنا مشکل ہوگا..

تبھی عدوان نے کچھ سوچتے ہوۓ پھر سے کہا.. کیا آپ آج دو بجے میرے آفس آسکتی ہیں؟؟

پر مجھے آپکے آفس کا نہیں پتا…میں آپکو ایڈریس سینڈ کر دیتا ہوں یہیں اسلام آباد میں ہی بلیوایریا کی طرف میرا آفس ہے. دوبجے تک لنچ بریک ہوگی ہم تب بات کر لیں گے. .

ماہی نے کچھ سوچتے ہوۓ حامی بھرتے ہوۓ کہا..اوکے میں آتی ہوں. تھینک یو سو مچ ماہی میں ویٹ کرونگا آپکا…

اب ماہی کسی کو بھی بتاۓ بغیر خود ہی گاڑی لیکر نکل آئ تھی…وہ بہت کم ہی ڈرائیو کرتی تھی کیونکہ عالم صاحب کو ماہی کی ڈرائیونگ پہ کچھ خاص بھروسہ نہیں تھا…

ماہی بہت کنفیوز ہوتی ہوئ سامنے بیٹھی سیکرٹری تک بڑھی تھی…یہ اسکا پہلا ایکسپیرینس تھا کسی بھی آفس میں جانے کا ..ماہی اپنے بابا کہ آفس بھی کبھی نہیں گئ تھی….بقول ماہی کہ offices are soooo boring

سیکرٹری کہ بتانے پر ماہی ایک گلاس ڈور کہ سامنے کھڑی ہینڈل پہ ہاتھ رکھے اب بھی سوچ میں گم تھی کہ اندر جاۓ کہ نہیں…

اور اندر عدوان ماہی کہ آنے کی اطلاع پر اپنی کُرسی سے اُٹھتا دروازے تک پہنچا ابھی ڈور کی ناب پہ ہاتھ ہی رکھا تھا…

کہ ماہی دروازہ دھکیلتے اندر داخل ہوئ..

اور اپنے سامنے کھڑے عدوان کو دیکھا جو بلیک ڈریس پینٹ پہ وائٹ شرٹ پہنے کھڑا مسکراتا ہوا ماہی کو ویلکم کر رہا تھا…

آو ماہی مجھے بہت خوشی ہورہی ہے یوں تمھیں اپنے آفس میں دیکھ کہ تبھی عدوان نے ماہی کی وائٹ شرٹ کو دیکھتے ہوۓ کہا کیا تم نے میچنگ کی ہے ماہی جو پہلے ہی کنفیوز تھی عدوان کی بات پر اور بھی نروس ہونے لگی…

مذاق کررہا ہوں آو بیٹھو عدوان نے چئیر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا..

کیا پئیوگی چاۓ یا کافی؟؟

میں یہ دونوں ہی چیزیں نہیں پیتی…ماہی کہ جواب پہ عدوان کا ریسیور کی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ رُکا…

تو پھر دودھ منگوالوں؟؟بے بی کہ لئیے عدوان نے ماہی کا مذاق بناتے ہوۓ کہا. ..مجھے دودھ بھی پسند نہیں ہے…. تو پھر تم ویٹ کرو میں لنچ کا آرڈر کر چُکا ہوں آتا ہی ہوگا.

میں لنچ کرنے نہیں آئ جو بات کرنی ہے وہ بتائیں ہوری رات ٹینشن سے نیند نہیں آئ کہ اللہ جانے آپ نے کیا کہنا ہے…ماہی نے اپنی پُرانی ٹون میں آتے ہوۓ کہا.

تو آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ میری وجہ سے آپکی نیندیں اُڑ گئ ہیں…عدوان نے میز پر کہنیاں رکھتے آگے کی طرف جھکتے ہوۓ کہا…

تبھی ماہی کو کچھ غلط بول جانے کا خیال آیا..ننن نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا..ایک تو پتہ نہیں کیوں اسکے آگے بولا نہیں جاتا مجھ سے…

تبھی پیون دروازہ ناک کرتا اندر آیا اور بائیں طرف رکھے میز پر لنچ سرو کرنے لگا.

آئیں لنچ کر لیں.

کھانا دیکھتے ہی ماہی کی بھوک چمک اُٹھی تھی کیونکہ صبح بھی ٹینشن کہ مارے کچھ کھا نہ سکی تھی..اور عدوان نے لنچ میں منگواۓ بھی برگرز اور پیزا تھے..

پر پھر بھی ماہی نے کرٹسی دیکھاتے ہوۓ انکار کیا…

نہیں مجھے بھوک نہیں ہے…

اوکے نہیں ہے تب بھی میرا ساتھ دینے کہ لئیے کھا لیں…

ماہی اب کھانا دیکھتے سب کچھ بھول چُکی تھی ویسے بھی کھانے کہ سامنے اُسے کہاں کچھ یاد رہتا تھا…

ماہی پورا برگر اور تقریباً آدھا لارج پیزا ڈھیر سارا کیچپ ڈال کر کھا چکی تھی…..

ماہی نے ٹشو سے ہاتھ اور منہ صاف کرتے ہوۓ شرمندگی سے کہتے ہوۓ عدوان کو بتا ہی دیا…

وہ میں نے صبح ناشتہ نہیں کیا تھا ورنہ میں اتنا نہیں کھاتی ماہی نے کھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا…

اٹس اوکے ویسے بھی یہ سب آپکے لئیے ہی تھا..عدوان نے مسکراتے ہوۓ کہا

اچھا اب بتا بھی دیں آپ نے کیا بات کرنی تھی …

ایک سیکنڈ عدوان نے کال کر کہ پیون کو برتن اُٹھوانے کہ لئیے بُلوایا..اور دوبارہ سے آکر اپنی چئیر پر بیٹھ گیا…

ماہی میں جو بھی بولونگا پلیز اُسکا غلط مطلب مت نکالئیے گا….عدوان کو ماہی کہ رئیکشن کا سوچ کر ہی ٹینشن ہورہی تھی..

عدوان نے اپنی چئیر سے کھڑے ہوتے اپنی ٹائ کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوۓ ماتھا مسلا….پلیز جو بھی کہنا ہے کہیں آپ کو اسطرح دیکھ کر ٹینشن ہو رہی ہے مجھے…

ماہی کہ کہتے ہی عدوان چلتے ہوۓ ماہی کی کُرسی تک آیا اور گھٹنوں کہ بل بیٹھتے ہی نہایت احتیاط سے ماہی کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے تھام لیا..

پلیز پیچھے ہٹیں کیا کررہے ہیں آپ ماہی کو اب اپنے اکیلے یونے کا احساس جاگا…

پلیز میری بات سُن لو ماہی..

میں نے جب سے تمھیں دیکھا ہے تب سے…

تب سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میری تلاش ختم ہوگئ ہے…عدوان نے ماہی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اپنی بات جاری رکھی…

تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو شاید مجھے محبت ہوگئ ہے تم سے..پیار کرنے لگا ہوں میں تم سے میں لمبے چوڑے وعدے نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی افئیر چلانے پر بیلیو کرتا ہوں تم اگر میری محبت قبول کرلو تو میں کل ہی مام کو تمھارے گھر بھیج دونگا…

ماہی جو کب سے حیرتوں میں گھری عدوان کو سُن رہی تھی…اُسکی آخری بات پر ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئ اور دروازے سے نکلتی باہر چلی گئ…اور عدوان آوازیں دیتا رہ گیا…یہ سب اتنی اچانک ہوا تھا کہ عدوان ہکا بکا ہی کھڑا رہ گیا..

***********

کیاااااا اُس نے تمھیں پرپوز کیا اور تم یونہی اُٹھ کر واپس آگئ…

ماہی کی ساری بات سُنتے شزرا نے چلاتے ہوۓ پوچھا…

تو کیا کرتی…کیا کرتی میں ہاں…

تمھاری شرط نے کہاں لا کھڑا کیا ہے مجھے شزرا..

ماہی نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑتے پھر سے پیڈ پر گرتے ہوۓ کہا.

وہ شادی کرنا چاہتا ہے بنا یہ جانے کہ اگلے مہینے میری شادی ہے…

تبھی دوبارہ سے اُٹھ کر بیٹھتے ہوۓ ماہی نے شزرا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا..

اگر تم اُسکی آنکھوں میں چُھپی اُمید دیکھ لیتی نا وہیں پتھر کی ہوجاتی ..شزرا تم نے تمھاری شرط نے مجھے کسی کہ دل کہ اُجڑنے کا سبب بنا دیا.مجھے خود پہ شرم محسوس ہو رہی کہ میں نے میں نے کسی کہ دل کو برباد کردیا…

پر تم تو کہہ رہی تھی کہ سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں تو پھر اس سے اتنی ہمدردی کیوں؟؟؟

کہیں تمھیں بھی محبت تو نہیں ہوگئ؟؟؟

نہیں ایسا نہیں ہے مجھے کسی سے محبت نہیں ہے سُنا تم نے نہیں ہے مجھے کسی سے بھی محبت ماہی اُونچا اُونچا بولتی باتھ روم میں گُھس گئ اور خود کو لاک کرلیا…

لگتا ہے یہ شرط میں اپنا آپ ہی ہار بیٹھی ہے چلو اچھا ہے مجھے اپنے لئیے اتنی محنت نہیں کرنا پڑےگی.. شزرا کندھے اُچکاتی کھڑی ہوگئ..

ماہی تمھارے کپڑے باہر رکھے ہیں تیار ہوکر باہر آجاو پھوپھو آنے والی ہیں…

*********

مہوش کو عالم صاحب لے آۓ تھے…

اور اب ثروت اُنہیں خود سے لگاۓ آنسو بہا رہی تھیں…

اب بس بھی کردیں ثروت بیگم اپنے ساتھ ساتھ بچی کو بھی رُلا رہی ہیں کب سے.

کیا کروں سردار صاحب دو سال بعد ملی ہے اپنی مامتا کو ٹھنڈک تو پہنچا لینے دیں…

اچھا چلیں اندر آکر بیٹھیں تو کب سے کھڑی ہیں طبعیت ہی نا خراب کر لیجئیےگا اپنی…

السلام وعلیکم …پھوپھو شزرا آتے ہی گلے لگ گئ… جیتی رہو بھئ اور سب سے مل لیا میری بہو کہاں ہے….

وہ تو کسی کی محبت میں بیٹھی رو رہی ہے..مہوش کہ پوچھنے پہ شزرا نے دل میں کہا…

تبھی ماہی ڈیپ ریڈ کلر کہ کُرتے پاجامہ میں آتی دکھی کھلے بالوں میں ماہی کافی اچھی لگ رہی تھی….او میری بیٹی آگئ مہوش ماہی کو دیکھتے ہی اُٹھ کھڑی ہوئیں.. اُنکے پیار سے گلے لگانے پر ماہی کی آنکھیں پھر سے بھیگ گئ تھیں…

کیا ہوا میرے بچے یہ آنسو سنبھال کہ رکھو اپنی رُخصتی پہ بہانا..مہوش نے ماہی کو چُپ کرواتے ہوۓ کہا…

عالیہ جو صبح دن والے ماہی کہ رئیکشن پہ پریشان تھیں ماہی کو روتا ہوا دیکھ کرمزید حیرت میں گھر گئیں کیونکہ بے وجہ چیخنا اور یوں رونا ماہی کی عادت نہیں تھی..اس سے پہلے ماہی کچھ کہتی وہ مہوش کو وہان سے ہٹانے کا سوچنے لگیں …

چلو مہوش تمھیں کمرہ دکھا دوں چل کر فریش ہوجاو عالیہ مہوش کو کہتی لے گئیں..

اور ماہی شزرا کو ترچھی نظروں سے دیکھتی دوبارہ سے اپنے کمرے میں جانے کہ لیئے بڑھ گئ…

*********

کیا ہوا ہے عدوان ایسے کیوں باہر بیٹھے ہو اور یہ سگریٹ کیوں پی رہے ہو تم سب خیر تو ہے…

کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے مام …

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ اپنی جلدبازی میں خراب کردیا ہے…کیا ہوا بیٹا آفس میں کچھ ہوا ہے کیا؟؟؟

نہیں مام آفس میں کچھ نہیں ہوا…

پھر کچھ تو بتاو پہیلیاں کیوں بجھوا رہے ہو.

تبھی عدوان نے سب بتانا شروع کیا..

اُس دن ہمارے گھر میلاد میں جو سامنے والوں کہ گھر سے لڑکی آئ تھی نا..

پر سامنے والوں کہ گھر سے تو دو لڑکیاں آئ تھیں تم کس کی بات کررہے ہو؟؟

اُسکی جو بہت معصوم سی تھی پیچ کلر کا ڈریس پہنا ہو تھا…ماہی نام تھا جسکا .

اوہ اچھا اچھا وہ …کیا ہوا اُسے؟؟

مجھے محبت ہوگئ ہے اُس سے ..

ہیں ایک مہینہ ہوا ہے ہمیں یہاں آۓ اور تمھیں محبت بھی ہوگئ…

کہاں تو لڑکیاں تمھارے اردگرد گھومتی تھیں تب بھی تمھیں محبت تو دور کی بات کوئ اچھی بھی نہیں لگی اور اب محبت ہوگئ واہ کیا کہنے ہیں آپکے…

مام میں سیریس ہوں ..

میں نے پرپوز کیا ہے اُسے آج پر وہ بنا کچھ کہے اُٹھ کر چلی گئ..

تم نے پرپوز ہی کر ڈالا…

ہاں عدوان نے سر جھکاتے ہوۓ کہا…

بیٹا یہ پاکستان ہے مانا یہ علاقہ بہت پوش ہے کافی ماڈرن اور آزاد خیال لوگ رہتے ہیں پر وہ لوگ ایسے نہیں ہیں میں اُنکے گھر گئ تھی اُنکے گھر کا ماحول کافی روایتی تھا…کیا پتہ اُسے یہ سب اچھا نا لگا ہو…

ہاں شاید ایسا ہی ہو عدوان نے اپنے دل کو تسلی دیتے ہوۓ کہا…

کیا تمھیں واقعی محبت ہے اُس سے…

ہاں مام

کیا تم شیور ہو؟؟

مام آپ کیا کوئیز شو کھیل رہی ہیں مجھے واقعی میں محبت ہوگئ ہے…

اوکے تو پھر میں تمھارا رشتہ لے جاتی ہوں وہاں…

کیاااااا