Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 11
Rate this Novel
Beri Piya Episode 11
Beri Piya by Hareem
اس وقت گھر کی سب خواتین مغرب کی نماز کہ بعد لاونج میں شادی کہ کارڈز لئیے بیٹھی تھیں….
کچھ دیر قبل ہی ان سب کو سردار بخش نے بھی جوائن کیا تھا..اور وہ سب مہد کو گھیرے بیٹھی تھیں …اور یہ بات اس وقت مہد سے بہتر کوئ نہیں بتا سکتا تھا کہ اپنی ہی محبوبہ کہ شادی کہ کارڈ لکھنا کیسا لگتا ہے…
میرے سسرالیوں کے کارڈ علیحدہ کردو مہد..تبھی مہد کو instructions دیتے ہوۓ مہوش بولیں بھابھی دونوں بچیاں نظر نہیں آ رہیں کیا کہیں گئ ہیں ؟؟؟
اُسی لمحے دروازہ کھولے شزرا اندر داخل ہوئ…
اوہ شزرا تو آگئ مجھے تو لگا تھا کہ یہ دونوں کہیں ساتھ میں گئ ہوئ ہیں…
عالیہ کی بات پر مسکراتے ہوۓ شزرا اپنے دادا کہ ساتھ بیٹھتے ہوۓ گویا ہوئ…
نہیں تائ امی وہ میرے ساتھ تو نہیں تھی…
ہاں البتہ ساتھ والوں کی چھت پر سے ضرور پھلانگ کر کہیں گئ ہے…ابھی ساتھ والی آنٹی بھی شکایت کر رہی تھیں کہ اپنی دُلہن کو سنبھال کر رکھو کہیں ہڈی وڈی نا توڑوا لے…
شزرا کی بات سُنتے عالیہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کہاں جا کر اپنا منہ چھپائیں…
تبھی مہوش کا قہقہہ گونجا ہاۓ….میں صدقے جاوں اپنی بچی کہ کتنی پیاری اور معصوم حرکتیں ہیں…
شزرا نے حیرت سے اُنکی طرف آنکھیں پھاڑے دیکھا…کیونکہ اُسکی آگ لگانے کی کوشش ناکام گئ تھی..واہ مہوش ویسے کہنا پڑے گا تم دُنیا کی واحد ساس ہو…
پلیز عائشہ بھابھی یہ ساس واس مت کہا کریں اور ویسے بھی بچی ہے ابھی…
چلو شزرا یہ مہد تو پتہ نہیں کب بھاگ گیا آو اور یہ کارڈز لکھو اتنے کام ہیں کرنے والے…
تبھی عالیہ جو کافی حد تک اپنی خود ساختہ شرمندگی سے باہر آگئ تھیں نے ماہی کو گھر پر بیٹھانے کا ایک حل سوچتے ہوۓ اپنی ساس سے کہا…
ماں جی وہ میں سوچ رہی تھی کیوں نا ہم ماہی کو مایوں بٹھا دیں…ہاں یہ تو اچھا ہے بھابھی اسی بہانے وہ شاید ایک جگہ ٹک بھی جاۓ عائشہ نے طنزاً کہا…
ہاں بہو کل ہی مایوں کا فنکشن رکھ لو کچھ ہلا گلا ہی ہو جائیگا…اور یہ بتاو ذرا تمھارا ہونہار ڈاکٹر بیٹا کب تک آرہا ہے؟؟آئیگا بھی یا نہیں؟؟؟یا پھر مہمانوں کی طرح پُہنچنے کا ارادہ ہے؟؟
وہ ماں جی اصل میں عائلہ اُمید سے ہے اور اُسے تو سفر منع ہے پر زین آنے والا ہے کل..
اگر آپ سب لیڈیز کہ مسئلے مسائل حل ہو چُکیں ہوں تو میں بھی کچھ کہہ لوں؟؟؟
جی بابا ضرور کہیے ہم سب سُن رہے ہیں مہوش نے مایوں کا ڈوپٹہ جس پر وہ کرن لگا رہی تھیں سائیڈ پر رکھتے ہوۓ کہا…
میں چاہتا ہوں کہ یہ پہلی شادی ہے ہماری نئ نسل میں سے.. خیر پہلی تو زین کی تھی پر اُس نے موقع ہی نہیں دیا اس لئیے یہ ہی شادی پہلی ہوئ اور چونکہ یہ شادی میری اکلوتے نواسے اور پوتی کی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ ہمارے علاقے کہ رسموں رواجوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ یہ شادی ہو…
ارےےے یہ آپکو بیٹھے بٹھاۓ کیا سوجی سردار صاحب…
میں جانتا ہوں کہ ہمارا اتنا تعلق نہیں رہا ہے اب وہاں سے پر ہم جو بھی کر لیں ہیں تو وہیں کہ نا…اور مہوش تم بُراق کو بتا دینا کہ ولیمے کہ اگلے ہی دن ماہی اور بُراق کو گاوں کہ لئیے نکلنا ہے چترال اور گلگت کا سارا انتظام کروا دیا ہے میں نے اچھا ہے بچے بھی دیکھیں کہ اُنکی جڑیں کہاں سے جُڑی ہیں…
پر بابا ہمیں تو اتنا وہاں کہ رواجوں کا نہیں پتا عالیہ اور مہوش دونوں ہی سُن کر کچھ پریشان ہوگئ تھیں…
اس سب کی فکر مت کرو میرے دوست کہ پوتے کی بیوی پچھلے سال ہی شادی ہوکر شہر آئ ہے میں اُس سے کہونگا کہ آپ سب کی مدد کردے……چلیں یہ ٹھیک ہے مہوش نے سکھ کی سانس لی…
ثروت بیگم جو اپنے شوہر کی بات سے کچھ زیادہ خوش نہیں تھیں آخرکار بول ہی پڑیں.. پر میری بھی ایک بات سُن لیں میں ماہی کو لہنگے کہ نیچے سُرخ جرابیں پہننے نہیں دونگی جیسے مجھے پہنائ گئ تھیں اُنکے منہ بنا کر کہنے پہ وہاں بیٹھے ہر شخص نے قہقہہ لگایا تھا….
***********
عدوان ماہی کو وارن کرتا ہوا پارک سے کب کا جا چُکا تھا پر ماہی وہیں زمین پر ہی اب تک بیٹھی رو رہی تھی…
میں نے تو سب صحیح کرنا چاہا تھا پر وہ گدھا کچھ سُنتا تو سہی…
اتنی بڑی بڑی آنکھیں دیکھا کہ سمجھ رہا تھا کہ میں ڈر جاونگی ہمممم…آیا بڑا ..
ماہی نے روتے ہوۓ اپنی آستین سے ناک پونچھی…
پر یہ سب کچھ کیسے صحیح ہوگا ہاۓ ماہی کہیں وہ اپنی دھمکی پر عمل ہی نا کرلے…
اُف… اُف کاش میں نے کوئ شرط نا لگائ ہوتی..بولتے بولتے ماہی نے ایک بار پھر سے رونا شروع کر دیا تھا…
اس وقت جنوری کی شدید سردی میں باہر بیٹھی ماہی کو کچھ بھی محسوس نہیں ہورہا تھا بس معلوم تھا تو یہ کہ اب پتا نہیں کیا ہونے والا ہے…
مم…میں شزرا کو جا کر بتاتی ہوں وہ ضرور کوئ نا کوئ حل نکال لے گی ماہی نے زمین سے اُٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑے اور بھاگتی ہوئ پارک کہ گیٹ کی طرف بڑھ گئ….
************
عدوان کو مسلسل چلتے ہوۓ کافی دیر ہوگئ تھی…وہ بالکل بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اس وقت کہاں جا رہا ہے اپنے اردگرد سے بے خبر جنوری کی یخ بستہ رات بھی اُسکے قدم روک نہیں پائ تھی..
کیوں اللہ جی کیوں میرے دل میں اُسکی محبت ڈال دی جو میری ہو ہی نہیں سکتی کیوں آخر کیوں ؟؟؟
آج تک اتنی لڑکیاں آئیں میری زندگی میں اور کچھ نے تو مجھ سے محبت کے دعوے بھی کئیے پر کسی کی طرف بھی میں مائل نہیں ہوسکا اور اب جب میرا دل محبت کرنے لگا ہے کسی کہ لئیے تڑپنے لگا ہے..تو اُسکا دل ہی میرا نہیں ہے…
اپنے دماغ میں ڈھیر ساری سوچیں ڈالے عدوان چلتے چلتے اچانک سے رُک گیا تھا..
اور اب گھٹنوں کہ بل بیٹھا اپنے بال کھینچتے ہوۓ ہسٹیریائ انداز میں چلانے لگا تھا..
آآآآآآ….
وہ میری ہے…..
وہ میری ہے….
آآآآآآآ….
اللہ..آآآآآ…
مجھے وہ چاہیے…ےےےےے.
سُنا آپ نے مجھے وہ چاہیےےےےےے…
عدوان نے اب چیختے چیختے اپنا ہاتھ کا مکا بناتے ہوۓ اُسے زور زور سے زمین پر مارنا شروع کر دیا تھا…
تبھی وہاں سے رات کہ گیارہ بجے گلی کا راونڈ لیتا ہوا چوکیدار پہنچا..
بابو….
او بابو کون ہو جی تُسی…
کافی دیر تک چوکیدار کہ پکارنے کہ بعد اب عدوان نے اپنا جُھکا ہوا سر اُٹھایا تھا…
کی ہویا ہے توانوں(کیا ہوا ہے آپکو)
عدوان نے اپنے سوجی ہوئ سُرخ آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے ہوۓ شخص کو گھورا تھا..
کتھے چھڈ دیواں توانوں(کہیں چھوڑ دوں آپکو) کیسی نوں بُلا دیواں(کسی کو بُلا دوں کیا)…
حیران و پریشان کھڑے چوکیدار نے حیرت سے اپنے سامنے بیٹھے ہوۓ خوبصورت مرد کو دیکھا جسے دیکھ کر ایسے لگتا تھا جیسے اُسکا کوئ بہت قریبی مر گیا ہو…
تبھی عدوان نے اپنے لڑکھڑاتے ہوۓ قدموں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی…
میں چھوڈ دیواں صاب(میں چھوڑ دوں صاب)
نن نہیں. بس یہ بتاو یہ کونسی جگہ ہے ؟؟عدوان کو تو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ آ کہاں گیا ہے..
فیز 5 ہے صاب…
اوہ اچھا جگہ کا پوچھنے کہ بعد عدوان نے بنا کوئ بات کئیے واپسی کی طرف قدم بڑھا دئیے تھے….
************
کیا واقعی وہ پریگننٹ ہے؟؟
اور کیا واقعی وہ میرا بےبی ہے؟؟؟
جس دن سے بُراق کی مُلاقات سونیا سے ہوئ تھی وہ تب سے بےحد پریشان تھا…
وہ فوراً پاکستان جانا چاہتا تھا پر موسم کی خرابی کی وجہ سے کوئ فلائٹ نہیں مل پائ تھی…
اُف کیسے ہوگئ مجھ سے اتنی بڑی غلطی کیسے؟؟
کیا کروں اب میں آخر پر کیا پتہ وہ کسی اور کا گناہ میرے سر ڈال رہی ہے…پر شاید وہ میرا ہی….
یا اللہ مجھے معاف کر دے میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر…
بُراق اپنے بیڈ پر لیٹا چھت کو گھورتے ہوۓ خود کو اپنی ہی عدالت کہ کٹہرے میں لئیے کھڑا تھا..
تبھی بُراق کہ فون پر کال آنے لگی جو اُس نے بنا دیکھے اُٹھا لی…
ہیلو…
ہاں بول…
چل ٹھیک ہے میں پیکنگ کرلیتا ہوں…
(بُراق کہ دوست کی کال تھی جس نے ُاسے صبح چھ بجے کی فلائٹ کنفرم ہونے کا بتایا تھا)
فون بند کرتے ہی بُراق خود کو زبردستی گھسیٹتا اُٹھ کھڑا ہوا اور پیکنگ کرنے لگا تبھی اُسکے بابا دروازہ knock کرتے اندر داخل ہوۓ…
تم ابھی سے پیکنگ کیوں کر رہے ہو بُراق؟؟
وہ میں صبح کی فلائٹ سے پاکستان جا رہا ہوں…
پر کیوں بیٹا ہم تو ساتھ جا رہے تھے نا نیکسٹ ویک…
وہ بابا مجھے چھٹیاں جلدی مل گئ تھیں سو میں نے سوچا وہاں جا کر ہی سب کہ ساتھ ٹائم گُزارا جاۓ…
کیا یہی بات ہے؟؟تنویر صاحب نے بُراق کی اُڑی ہوئ رنگت دیکھتے ہوۓ تفتیش کرتے ہوۓ ہوچھا…
ہاں بابا یہی بات ہے اور کیا بات ہوگی….بُراق نے مُسکراتے ہوۓ اُنہیں ٹالنا چاہا…
تم میرے بیٹے ہو بچے میں تمھارا بیٹا نہیں ہوں سمجھے سو جو بھی مسئلہ ہے فوراً مجھے بتا دو تاکہ میں تمھیں تمھاری ماں سے بچانے کی منصوبہ بندی کرسکوں ..
ہاہاہا….. بابا ریلیکس رہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے …میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ جب واپس اس کمرے میں آونگا تو سب ایسا نہیں ہوگا .
اور آپکو پتہ ہے ہمارے جانے کہ بعد میرا کمرہ renovate ہوگا اور رینوویٹ کیا یہ کمرہ تقریباً زرد ہوجائیگا کیونکہ ممی کو اپنی بہو کو خوش کرنا ہے بس بیٹا چاہے بھاڑ میں جاۓ بس اسی وجہ سے پرہشان ہوں….
ویسے یہ بات تو ہے انسان کو جو بھی چیز ناپسند ہو اُسکے لائف پارٹنر میں وہ quality ضرور ہوتی ہے….
اچھا تو ماما میں ایسی کونسی کوالٹی ہے..بُراق نے اپنے ہاتھ میں پکڑی شرٹ بیگ میں ڈالتے ہوۓ پوچھا..
ہاں تمھیں بتا دوں تاکہ تم فوراً اپنی ماں کو بتا دو.. چلو چلو پیکنگ کرو اپنی بعد میں بات کرتے ہیں وہ ٹالتے ہوۓ کمرے سے باہر چلے دئیے…
************
رات کہ ایک بجے ماہی دبے پاوں کمرے سے نکلتی شزرا کہ کمرے کا دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئ…
شزرا سر سے پیر تک رضائ میں خود کو گُم کئیے ہوۓ سو رہی تھی…
ماہی نے رضائ نیچے کرتے ہوۓ شزرا کا کندھا ہلایا…
شزرا…
شزرا…
شزرا نے آنکھیں کھولتے ہوۓ حیرانگی سے ماہی کو دیکھا..
تم اور اس وقت ماہی تم یہاں کیا کررہی ہو…
وہ شزرا مجھے تم سے بات کرنی ہے…
ہاں تو صبح بھی تو تم کرسکتی تھی…
پر ماہی کہ چہرے کی پریشانی دیکھتے شزرا اُٹھ بیٹھی ایسی بھی کیا ضروری بات ہے ماہی کہیں شام والی ڈانٹ کو تم نے دل پہ تو نہیں لے لیا…
شزرا کہ پوچھنے پہ ماہی بھی بیڈ پر چڑھتی رضائ میں گھس چُکی تھی…
آج شام کو ماہی کہ غائب ہونے پر عالیہ نے بہت اعلی قسم کی بےعزتی کی تھی جسے ہمیشہ کی طرح اُس نے چُٹکیوں میں اُڑا دیا تھا…
وہ عدوان ہے نا…
عدوان کا اس وقت اتنی رات میں کیا ذکر ماہی؟؟؟عدوان کہ نام پر شزرا کی ساری سینسز بیدار ہوگئ تھیں جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گئ تھی….
میں شام کو اُس سے ملنے گئ تھی بتایا تو تھا تمھیں…
ہاں.. ہاں…پھر کیا کہا اُس نے…
یار وہ واقعی میں مجھ سے محبت کرتا ہے وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُسکا ساتھ دوں تو وہ سب کو دیکھ لے گا…
پر تمھیں تو پتا ہے میری شادی ہے…
تو تم مجھ سے کیا چاہتی ہو وہ بتاو ؟؟؟
میں چاہتی ہوں کہ تم اُسے سمجھاو…
اچھا اور سمجھانا کیا ہے؟؟؟
یار اُس سے کہو کہ کوئ اور لڑکی ڈھونڈ لے…
ویسے بھی اس دنیا میں ایک ہی تطمئین القلب ہے جو کسی ایک کو ہی مل سکتی ہے اور وہ اتنا لکی نہیں ہے اس لئیے اُسے کہو کہ وہ میری جان چھوڑے…ماہی نے ہر بات میں اپنا بچکانا پن ضرور دیکھانا ہوتا تھا…
اوکے میں کرتی ہوں بات پر میں کانٹیکٹ کیسے کرونگی میرے پاس اُس کا نمبر نہیں ہے…
تم میرے فون سے میسنجر پر کال کرلو کیونکہ میرے پاس فون نمبر نہیں ہے اُسکا ماہی نے منہ بناتے ہوۓ کہا…
اور شزرا کو اپنا فون تھماتے اُسی کہ بیڈ پر سونے کہ لئیے لیٹ گئ….
شزرا کچھ دیر تو گٹھری بن کہ لیٹی ماہی کو گھورتی رہی پر پھر اپنی شال اور ٹوپی پہنتی اُسکا فون لیتی ٹیرس پر آگئ….
*********
عدوان جو اپنے گھر جانے کہ لئیے سُنسان سڑک پر چلتا ہوا کسی خالی کوک کہ کین کو پاوں سے ٹھوکر مارتا ہوا جا رہا تھا کہ فون بجنے پر اپنی جیکٹ کی جیب سے یہ سوچتے ہوۓ فون نکالنے لگا کی مام ہونگی پر ماہی کا نام دیکھتے ہی پہلے تو سوچا نا اُٹھاۓ پر پھر تجسس کہ مارے کہ پتا نہیں کیا کہے فون اُٹھا لیا….
ہیلو…
ہیلو…
ہیں یہ آواز تو ماہی کی نہیں ہے…
جی کون…
وہ میں شزرا بول رہی ہوں ماہی کی کزن…
اوہ تو آپ ہیں شزرا…عدوان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اُسے اتنی سُناۓ اور ایسی سُناۓ کہ وہ کانوں کو ہاتھ لگاۓ پر پھر بھی خود پر کنٹرول کئیے پوچھ ہی ڈالا…
جی فرمائیے؟؟؟
وہ عدوان ایکچولی میں نہیں جانتی کہ آپ مجھے جانتے ہیں یا نہیں پر میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں…
جی میں سُن رہا ہوں…
وہ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر آپ واقعی میں ماہی کہ لئیے سیریس ہیں تو میں آپ کی ہیلپ کرسکتی ہوں …
کیسی ہیلپ…عدوان نے حیرت سے پوچھا…
آپ کی اُس سے شادی کرنے میں ہیلپ اگر آپ چاہیں تو……
