Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 19
Rate this Novel
Beri Piya Episode 19
Beri Piya by Hareem
کیاااا…..کب کی تم نے شادی عدوان ؟؟؟
ماہم نے ایسے حیران ہوتے ہوۓ پوچھا جیسے وہ کچھ جانتی ہی نا ہو….
دوسری طرف اُشنا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ماہی کو نظروں ہی نظروں میں نگل لے…
بس بھابھی مجھے ماہی کو دیکھتے ہی اتنی طوفانی محبت ہوگئ تھی کہ میں نے سوچا کہ مزید وقت ضائع نا کیا جاۓ….
عدوان نے اس وقت اس بات کو مذاق کا رنگ دینا چاہا تھا…
پر پھر بھی ایسی کیا رازداری کہ بھائ بھابھی کو ہی نہیں بتایا اور شادی کرلی؟؟
ماہم نے حیرت سے ماہی کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا…
جو اس وقت اتنے سکون سے بیٹھی آملیٹ پہ کیچپ ڈالے کھا رہی تھی جیسے اس سب سے ضروری اس وقت کچھ ہو ہی نا….
کیا ماہم تم نے بھی آتے ہی عدالت لگا لی ہے…تم ہی تو ہر وقت کہتی تھی کہ عدوان کی شادی کروادیں کب کریگا عمر ہوگئ ہے شادی کی اب کر لی ہے تو بھی تمہیں اعتراض ہے….
پر ممی جی پر ور سب چھوڑو جب قسمت میں لکھی تھی تب ہوگئ…
اب سب بھول کر اپنے دیور کو مبارکباد دو…
ثانیہ کی بات پر ماہم بناوٹی خوشی سے ماہی او عدوان کو مباکباد دینے لگی تھی جس پر ماہی نے تو کچھ خاص رسپانس نہیں دیا تھا البتہ عدوان نے خوشی خوشی مباکباد وصول کی تھی…
اُشنا کہ لئیے مزید یہ فیملی ڈرامہ دیکھنا مشکل ہوگیا تھا تبھی وہ ایکسکیوز کرتی اپنے کمرے کا پوچھتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئ تھی…..
**********
کیا ہوا ثروت بیگم ایسے کیوں بیٹھی ہیں باہر بھی نہیں آئیں؟؟
میں نے شزرا اور بُراق سے یہیں مل لیا تھا اس لئیے نہیں آئ…(شزرا اور بُراق آج فجر کہ وقت ہنی مون کہ لئیے ناردرن ایریاز کی طرف نکلے تھے)
کیا ہوا آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے؟؟؟
ہاں ٹھیک ہے…..
اُداس سی ثروت کی طرف دیکھتے ہوۓ سردار بخش نے اُنہیں سمجھانے کا فیصلہ کرتے اُنکے پاس بیٹھ گۓ…
آپ کب تک ایسے سب سے کٹی کٹی رہیں گی ہماے اور بھی بچے ہیں جنہیں ہماری ضرورت ہے…
پر سردار صاحب میرا عالم….
مم..ممیرا عالم وہ کیوں چلا گیا مجھے چھوڑ کر اتنی جلدی چلا گیا یہ تو ہمارے جانے کا وقت تھا وہ کیوں چلا گیا….
اُنہوں نے روتے ہوۓ اپنا دل ہلکا کیا…
بس ثروت ایسے مت رو جانے والوں کہ پیچھے صبر کرتے ہیں شکوہ نہیں وہ جس کی امانت تھا جس نے دیا تھا اُسی نے واپس لے لیا…
آپ ایسا شکوہ کرکہ اللہ کو ناراض مت کریں..ہماری باقی اولادیں بھی ہیں جنہیں ہماری ضرورت ہے…
نہیں سردار صاحب وہ عالم ہی تھا جسے ہر بات کہ لئیے ہمارے مشورے کی ضرورت تھی ہماری دعاوں کی ضرورت تھی…
اب یہاں کوئ ایسا نہیں ہے… پتا نہیں کیوں مجھے تو لگتا ہے کہ اس گھر کی بنیادیں ہی ہل گئ ہیں اور جلد ہی یہ گھر بھی ڈھے جائیگا…
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ اللہ نا کرے کہ ایسا کچھ ہو (سردار صاحب نے دہلتے ہوۓ ثروت کو ایسا بولنے سے روکنا چاہا)…
ایسا مت بولیں ہم انکے بڑے ہیں ہمیں ہی اُنہیں صحیح غلط کا بتانا ہے اُنہیں گرنے سے بچانا ہے…
اور اب میں آپکو دوبارہ ایسے اکیلا بیٹھے روتا نا دیکھوں چلیں اُٹھیں شاباش اور باہر چلیں…
بخش صاحب اُنہیں سہارا دیتے باہر کی طرف بڑھ گۓ….
*************
ماہم اُشنا کہ پیچھے اُسکے کمرے میں آگئ تھی…
یہ کیا بدتمیزی ہے اُشنا تمھیں بھی عدوان کو مبارک دینی چاہیے تھی..کیا سوچتے ہونگے سب…
جسکو جو سوچنا ہے سوچتا رہے…اور میں کس بات کی مبارک دوں اُسے میرا دل اُجاڑنے کی…
آہستہ بولو کوئ سُن لے گا کیوں خود کو دوسروں کی نظروں میں حقیر بنا رہی ہو…
تو آپ کیا چاہتی ہیں پھولوں کہ ہار ڈالوں اُسے…
آپی دیکھیں کیا کمی ہے مجھ میں اور وہ عام سی لڑکی کہ پیچھے دیوانہ بنا ہوا ہے…
خیر اب عام بھی نہیں ہے کافی پیاری ہے…
ماہم کو اُشنا کا ماہی کو عام کہنا پسند نہیں آیا تھا…
آآآپپی….اُشنا حیرت سے گویا ہوئ…
منہ بند کرو صحیح کہہ رہی ہوں میں کتنی دفعہ کہا تھا اپنی ڈریسنگ پر توجہ دو اور دو دو کلو کا میک اپ مت چڑھاو اپنے منہ پر عدوان کو پسند نہیں ہے تب تو ایک نہیں سُنی میری اور اب رو رہی ہو…
اُشنا نے ماہم کی باتوں پر مزید رونا شروع کردیا تھا…
اچھا اب رونا بند کرو اور میری بات سُنو…
اُشنا نے تیزی سے آنسو صاف کئے اور ماہم کی طرف متوجہ ہوئ…
تم اپنا بی ہیویر بالکل نارمل رکھو اور کچھ دن تک چُپ چاپ رہ کر سب observe کرو پھر دیکھتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے…
پر آپی…
اُشنا اگر تم نے میری بات نا مانی تو مجھ سے کوئ اُمید مت رکھنا…
اوکے آپی…. اُشنا نے اب ماہم کہ مشوروں پر چلنے کی ٹھان لی تھی..
**********
ماہی بیٹے آپ نے ناشتہ کرلیا؟؟؟
جی آنٹی…
اوکے تو پھر میرے ساتھ آو مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے…
ماہی سر جھکاۓ اُنکے ساتھ چل دی جبکہ عدوان حیرت سے ماہی کو جاتا دیکھنے لگا…
ثانیہ کہ کمرے میں آتے ماہی نے کمرے پر نظر دوڑائ یہ وہی کمرہ تھا جہاں آنے کہ بعد ماہی کو لایا گیا تھا…
آو ماہی کھڑی کیوں ہو بچے بیٹھو اُنہوں نے کمرے میں رکھی روم چئیر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا…
جس پر خانوشی سے ماہی ٹک گئ…
دیکھو بیٹا میں جانتی ہوں کہ میرے بیٹے نے بہت ناانصافی کی ہے تمھارے ساتھ اُسے بالکل بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا..
میں نے بہت ڈانٹا بھی تھا اُسے…اور اگر مجھے پہلے کچھ بھی پتا ہوتا تو میں تمھارے ساتھ ایسا نا ہانے دیتی بچے۔
میں یہ تو نہیں کہونگی کہ تم معاف کردو اُسے کیونکہ میں جانتی ہوں یہ اتنا آسان نہیں ہے …(ماہی سر جھکاۓ اُنکی بات سُنتی اپنے آنسو بہا رہی تھی)
پر بیٹا اب جو بھی ہے جیسا بھی ہے وہ تمھارا شوہر ہے اُسے ایک موقع ضرور دو…
جی آنٹی…ماہی کہ اتنا آرام سے مان جانے پر اُنہیں جھٹکا لگا تھا….
کیا تم واقعی میں اُسے ایک موقع دو گی؟؟
جی آنٹی…ماہی کی اتنی تابعداری پر اُنہوں نے فرطَ جذبات سے اُسے گلے لگا لیا تھا….
اوہ بیٹا تم کتنی پیاری ہو…
ماہی کا اتنا positive behaviour دیکھتے ہوۓ اُنہوں نے اگلی بات بھی کہہ دی…
وہ بب… بیٹا میں سوچ رہی تھی کہ دیکھو مجھے غلط مت سمجھنا….
ماہی کہ ہاتھ پکڑے اُنہوں نے لجاجت سے کہنا شروع کیا…
دیکھو پہلے کی بات اور تھی اب میری بڑی بہو بھی آگئ ہے اور اُسکی بہن بھی ہے ساتھ اگر تم الگ کمرے میں رہوگی تو وہ کیا سوچیں گی اگر تم مائنڈ نا کرو تو تمھارا سامان عدوان کہ کمرے میں شفٹ کروادوں…
ثانیہ نے ڈرتے ہوۓ بات کہی تھی کہ کہیں ماہی بُرا نا مان جاۓ اور اب وہ ماہی کی طرف ایک آس سے دیکھتی کھڑی ہوئ تھیں…
جیسا آپ کو صحیح لگے مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہے….
ثانیہ حیرت سے کھڑی ماہی کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ کیا یہ وہی لڑکی ہے جو کچھ دن پہلے یہاں آئ تھی…
تبھی سر جھٹکتیں وہ اپنی الماری کی طرف بڑھ گئیں اور کچھ جیولری باکسز اُٹھاۓ ماہی کی طرف بڑھیں یہ لو یہ کچھ جیولری ہے جو میں نے عدوان کی دُلہن کہ لئیے بنوائ تھی….
ماہی کو باکسز دئیے وہ ماہی کو پیار سے دیکھنے لگیں…اگر تم مجھے ماما کہو گی تو مجھ اچھا لگے گا…
اوکے ممی جی (ماہی نے مُسکراتے ہوۓ ایک اور بات بہت آسانی سے مان لی تھی…اس وقت ماہی کہ ذہن میں کیا چلا رہا تھا اور وہ کیا سوچ رہی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی )
**********
آج اتوار کا دن تھا اور عدوان اپنی بالکنی میں کھڑا کسی سے فون پر بات کرہا تھا تبھی گھر کا ملازم راجو دروازہ ناک کئیے ہینگر میں لٹکے کپڑے اُٹھاۓ اندر داخل ہوا…
یہ کس کا سامان ہے راجا؟؟؟
جی چھوٹی بھابھی کا…
کون چھوٹی بھابھی؟؟؟
بھائ وہ بڑی بیگم صاحبہ کا حکم تھا جی کہ ماہی بھابھی کا سامان آپ کے کمرے میں شفٹ کردیا جاۓ؟؟؟
واٹ عدوان کو سُن کہ جھٹکا لگا تھا…
کیا مام نے ماہی سے پوچھا ہے کہ…. ابھی لفظ عدوان کہ منہ میں ہی تھے کہ جیولری باکس اُٹھاۓ ماہی اندر داخل ہوئ….
کیا آپکے کمرے میں یہی الماری ہے….(ماہی کو اتنے مالکانہ حقوق کہ ساتھ کھڑا دیکھ عدوان بےہوش ہونے کو تھا)
نہیں یہاں یہ ہے باقی الماریاں تو باتھ روم میں ہیں…
اوکے….تبھی ماہی نے آگے بڑھتے ہوۓ کمرے والی الماری کھولی جہاں عدوان کہ بہت سے کپڑے لٹکے ہوۓ تھے…
ماہی نے بنا عدوان سے پوچھے ساری چیزیں نکال کر بیڈ پر ڈھیر کر دیں…
(اور راجو کی طرف دیکھے اُس سے پوچھنے لگی)…کیا نام ہے آپکا؟؟؟
ماہی نے سامنے کھڑے ملازم کو دیکھتے ہوۓ پوچھا….
راجو…راجا جو چاہیں کہہ لیں بی بی جی….اوکے راجو میرا سارا سامان یہاں الماری میں لگا دو…راجو کو ہدایات دیتی ماہی اب عدوان کی طرف مُڑی…..
عدوان…(عدوان نے حیرت سے آنکھیں پٹپٹاتی ماہی کو دیکھا جو صبح سے ایک کہ بعد ایک شاک دینے پر تُلی ہوئ تھی.)
جی کہیے ماہی صاحبہ عدوان نے کورنش بجا لاتے ہوۓ ماہی سے پوچھا…
آپ اپنا سامان اُٹھائیں اور اندر والی الماریوں میں ایڈجسٹ کر لیں…
ماہی کی بات پر عدوان نے جکم نامہ سُنتے ہوۓ کہا… ہاں راجو کر دیگا ابھی…
نہیں اُسے بہت کام ہے ابھی آپ خود رکھ لیں ماہی آرڈر کرتی باہر نکل گئ…
اور عدوان حیران سا کھڑا اُسے جاتا دیکھنے لگا…
یہ اچانک سے کیا ہوگیا ہے اسے کہیں میں کوئ خواب تو نہیں دیکھ رہا؟؟
نہیں عدوان بھائ یہ کوئ خواب نہیں ہے بھابھی آپکو ہی آرڈر دے کر گئ ہیں…
راجو کہ ہنسنے پر عدوان خجل سا ہوگیا…
تو کیا ہوا میری بیوی ہے کہہ سکتی ہے ایسے..
ویسے بھائ آپ نے تو کبھی اپنی شرٹ الماری سے خود نہیں نکالی یہ سب کیسے رکھیں گے ؟؟
لائیں میں سیٹ کرکے رکھ آتا ہوں راجو نے آفر دی تھی…
نہیں یار پہلی بار تو کوئ کام کہا ہے اُس نے سو میں فیل نہیں ہونا چاہتا عدوان کپڑے اُٹھاتا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا اور جیسے ہی سب کپڑے ہینگ کرگے باہر آیا تو سامنے ہی ماہی کو کاوچ پر بیٹھے بنانا شیک کا گلاس لئیے بیٹھے دیکھا…
سو پھر سے اپنی جیکٹس اُٹھاۓ باتھروم کی طرف بڑھ گیا….
عدوان کو جاتا دیکھ ماہی نے سپ لیتے ہوۓ سوچا…
ابھی تو شروعات ہیں مسٹر عدوان تمھیں میں نے پچھتانے پر مجبور نا کردیا تو میرا نام بھی ماہی نہیں ہمممم…..
************
اے بات سُنو….
جی بی بی ….
تم ہی ہو نا جس سے میری فون پر بات ہوئ تھی..
( گھر میں تین ملازمہ تھیں اس وقت اور ماہم یہ جاننا چاہتی تھی کہ اُس دن فون پر بات کس سے ہوئ تھی…)
ننن..نن…نہیں جی میری بات نہیں ہوئ تھی جی…
ملازمہ کا ہکلانا ماہم جیسی زیرک نگاہ رکھنے والی سے چھپ نہیں پایا تھا…
اوہ تو وہ تم نہیں تھی تبھی ماہم نے اپنے والٹ میں سے کچھ نوٹ نکالے…
اچھا تو تم نے نہیں بتایا تھا میں تو اتنی خوشی کی خبر بتانے پر اُسے مٹھائ کہ پیسے دینا چاہتی تھی تبھی اُسے ڈھونڈ رہی ہوں چلو میں کسی اور سے پوچھ لیتی ہوں جیسے ہی ماہم مڑی وہ ملازمہ فورا سامنے آگئ…
نہیں جی وہ میں نے ہی بتایا تھا جی اور میرا نام سُکھاں ہے..
اوہ تو پہلے کیوں جھوٹ بولا کہیں پیسوں کہ لئیے تو نہیں کہہ رہی…
نہیں جی قسم لے لیں.میں نے ہی بتایا تھا جی….
تو پہلے کیوں جھوٹ بولا؟؟؟
وہ جی سب نے ساری بات چھپا جو لی تھی آپ سے تبھی مجھے لگا کہ کہیں کوئ بات نا آجاۓ مجھ پر جی…
اچھا تو پھر میرے کمرے میں آو بہت ضروری کام ہے تم سے ماہم اُسے اپنے پیچھے آنے کا کہتی آگے بڑھ گئ….
ماہم کہ لالچ دینے پر سکھاں نے سب بتا دیا تھا کہ کیسے عدوان نے شادی رکوائ اور ماہی کہ باپ کی ڈیتھ ہوئ اور یہاں آکر ماہی کا کیسا رویہ رہا سب…..
ہمممم تو ماہی الگ کمرے میں رہتی ہے کیا؟؟؟
جی پہلے رہ رہی تھیں پر آج ہی اُنکا سامان شفٹ ہوا ہے صاب کہ کمرے میں..
یہ سب سُن کر اُشنا نے خوش ہوتے ہوۓ دس ہزار روپے سکھاں کہ ہاتھ پے رکھ دئیے تھے…
واہ آپی اتنی ہاٹ خبریں تو آپکی ساس نے گول ہی کر لیں…ہمممم تو اس سب کا مطلب یہ ہے کہ ماہی عدوان کو پسند نہیں کرتی…
بظاہر تو ایسا ہی لگ رہا ہے…
اوکے تو چلو پھر کام پر لگ جاو اور ماہی کہ اتنے کان بھرو کہ وہ عدوان کی کوئ بات سمجھ ہی نا پاۓ….
اوکے باس اُشنا نے کھڑے ہوتے ہوۓ ماہم کو سیلوٹ مارا جس پر دونوں ہنسنے لگیں….
*************
بھابھی میں نے آپکا سارا سامان رکھ دیا ہے اور کوئ کام ہے تو بتائیں…
نہیں تم جاو اور کوئ کام ہوا تو میں عدوان کو بول دونگی…
ماہی نے اپنے جوتے اُٹھاۓ اندر کی طر ف بڑھتے عدوان کو دیکھتے ہوۓ کہا..
جس پر راجو عدوان کو دیکھ کر دانت نکالتا باہر چل دیا…
اب ماہی وہیں الماری کھولے کھڑی تھی جو کچھ دیر قبل راجو سیٹ کر کہ گیا تھا…
تبھی عدوان اپنی الماری میں چیزیں رکھ کر باہر آتا ماہی کو دیکھتے ہوۓ عین اُسکے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا….
اور اپنے دونوں ہاتھ ماہی کہ گرد باندھتے اپنی ٹھوڑی ماہی کہ کندھے پر جما دی…
عدوان کہ ایسا کرنے پر ماہی کو اپنا دل پسلیاں توڑ کر باہر نکلتا محسوس ہوا…
تو مسز عدوان اتنی تبدیلی کی وجہ جان سکتا ہوں میں…
یہ پہلا موقع تھا جب ماہی کو اپنی زبان ہلاتے ہوۓ دقت محسوس ہوئ…
پر پھر ہمت کرتے ہوۓ خود کو عدوان سے چھوڑواتے ہوۓ پیچھے ہٹی…
اور خود کو نارمل کرنے لگی……
عدوان ماہی کو حیرانگی سے دیکھتا کھڑا تھا تبھی ماہی نے اچانک سے آگے بڑھتے ہوۓ عدوان کو اُسکی شرٹ سے پکڑتے ہوۓ کہا….تمہیں کیا لگا میں ایسے ہی چُپ چاپ آنسو بھاتی رہونگی نہیں مسٹر عدوان میں تمھارا جینا حرام کردونگی….
ہاہاہاہا اچھا وہ کیسے عدوان نے ماہی کو بازووں سے پکڑتے مزید اپنے قریب کرتے ہوۓ پوچھا….
ایک بات میری سُن لو مجھ سے دور رہنا نہیں تو اچھا نہیں ہوگا..ماہی نے اُنگلی اُٹھاۓ عدوان کو وارن کرتے ہوۓ کہا…
جسکا کوئ اثر عدوان پر نہیں ہوا تھا….
اچھا یہ تو بتاو جینا حرام کیسے کروگی عدوان نے مزید فری ہوتے ہوۓ کہا…
جس پر ماہی غصے سے خود کو چھڑواتی دور ہوئ…
تمھارے کمرے میں رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم مجھ سے ایسے فری ہو سمجھے …
میں یہاں تمھاری بیوی بن کر نہیں تمھاری بربادی بن کر آئ ہوں اور کیسے یہ تمھیں آنے والا وقت بتاۓ گا.
ماہی کی آنکھوں میں دکھتا چیلنج عدوان کو پہلے والی ماہی کی جھلک دکھا گیا تھا….
***********
رات کا کھانا سب نہایت خوشگوار موڈ میں کھا رہے تھے تبھی زارون نے ماہی کو متوجہ کرتے ہوۓ کہا…
فیری آپ یہاں کس روم میں رہتی ہیں…
زارون کہ سوال پہ ماہی نے منہ میں بریانی کا چمچ رکھتے ہوۓ عدوان کی طرف دیکھا…
جس پر عدوان نے ماہی کی مشکل آسان کرتے ہوۓ زارون کو جواب دیا…
یہ جو آپکی فیری ہیں نا زارون وہ میری وائف ہیں اور جو وائف ہوتی ہیں وہ ہسبنڈ کے ساتھ اُنکے روم میں رہتی ہیں…
ماہی نے عدوان کہ جواب پر اُسے گھورا تھا کہ کوئ بھی جواب دے دیتا اتنا ایکسپلین کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟
اوہ اچھا…تو دادو مجھے بھی وائف لادیں میں بہت لونلی فیل کرتا ہوں…
زارون کی بات پر سب نے قہقہ لگایا تھا…
نہیں بیٹا ابھی آپ بہت چھوٹے ہو جب چاچو جتنے ہوگے تب وائف ملے گی…
اوہ…دادو کہ جواب پر زارون کا منہ لٹک گیا تھا…
its ok zaroon…
آپ ہمارے ساتھ ہمارے روم میں آ جاو ایسے آپ لونلی فیل نہیں کرو گے….
ماہی کہ کہنے پر جہاں عدوان کہ گلہ میں کھانا اٹکا تھا وہیں اُشنا کا دل بھنگڑا کرنے کا چاہا تھا…..
