Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 25

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 25

Beri Piya by Hareem

عدوان غصہ میں بپھرا ہوا ماہی کا ہاتھ پکڑے مال سے باہر نکل آیا…

جبکہ ماہی سر جھکاۓ عدوان کہ ساتھ گھسیٹتی ہوئ آگے بڑھ رہی تھی…

پارکنگ میں پُہنچتے ہی عدوان نے ماہی کہ لئیے دروازہ کھولا اور اُسکے بیٹھتے ہی دوسری طرف سے گھوم کر آتے ہوۓ گاڑی کا دروازہ کھولے بیٹھ گیا…

ابھی گاڑی سٹارٹ ہی کی تھی کہ کچھ یاد آتے عدوان ماہی کی طرف جُھکا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے سیٹ بیلٹ کھینچی…

عدوان کہ اس طرح سے قریب آنے پر ماہی آنکھیں بند کئیے سانس روکے اپنی جگہ پر جم گئ تھی…

پر جیسے ہی عدوان کہ ہاتھ اپنے پیٹ پر محسوس کئیے تو حیرت سے سیٹ بیلٹ لگاتے عدوان کو دیکھنے لگی….

(ماہی کو لگا تھا کہ اس وقت وہ جس قدر غصہ میں تھا شاید اُسے مارنے والا ہے…)

عدوان چُپ چاپ سیٹ بیلٹ لگاتا ایک جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھاتا بلکہ اُڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا…..

***********

مہد کا فون آنے پر اُشنا نے اُسے اپنی لوکیشن بتائ اور اب مہد اُسے ڈھونڈتا ہوا ایک شو سٹور پر آپُہنچا….

کیا ہوا بات ہوگئ ماہی سے؟؟؟

ہے کہاں وہ آئ نہیں تمھارے ساتھ؟؟؟

وہ چلی گئ؟؟؟

ہیں کس کہ ساتھ؟؟

عدوان پُہنچ آیا تھا اور بہت غُصے میں اُسے یہاں سے لے گیا…

ویسے ایک سیکنڈ تم نے تو کہا تھا کہ کسی کو نہیں پتہ کہ تم ماہی کو یہاں لا رہی ہو پھر وہ یہاں کیسے پُہنچا؟؟

مہد کہ حیرت سے پوچھنے پر اُشنا نے مُسکراتے ہوۓ کہا…

میں نے بتایا اُسے…

مگر کیوں؟؟؟

اُسکا فون آگیا تھا سو بتا دیا اور مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ یہاں پُہنچ جاۓ گا…

ویسے اچھا ہی ہے خود ہی آکر دیکھ گیا اب زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی…

اُشنا نے مسکراتے ہوۓ پوچھا

ویسے ایک بات بتاو تمہاری بات ہوئ ماہی سے…

ہاں تقریباً ہوہی گئ سمجھو….

اور اب چلو تم بھی نکلو اور گھر پُہنچو جتنے غصے میں وہ اُسے یہاں سے لیکر گیا ہے نا مجھے تو ٹینشن ہورہی ہے…

اوہ ریلیکس مین اور ویسے بھی ابھی شاپنگ رہتی ہے میری …

پر اُشنا؟؟

تمھارا کام کردیا ہے میں نے سو کاونٹر پر آو اور بل پے کرو…

اُشنا مہد کو آرڈر کرتی کاونٹر کی طرف بڑھ گئ….

***********

عدوان کی گاڑی اس وقت زمین پر کم اور ہوا میں زیادہ اُڑ رہی تھی…

اور ماہی ڈر کہ مارے دُبکی بیٹھی تھی…

آہستہ چلاو تم نے مجھے مارنا ہے کیا؟؟

ہاں دل تو میرا یہی چا رہا ہے کہ یہ گاڑی یہیں کہیں ٹھوک دوں…

عدوان کہ بولنے پر ماہی نے اُسے حیرت سے دیکھا کہ کیا یہ واقعی سچ کہہ رہا ہے؟؟؟

پر عدوان کہ چہرے کی سنجیدگی دیکھتے مزید ڈر گئ…

گاڑی آہستہ چلاو عدوان مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں غصہ کس بات پر ہے؟؟

سیریسلی….سیریسلی ماہی تمھیں نہیں پتہ کہ مجھے غصہ کیوں ہے؟؟؟

واو پتہ نہیں تم واقعی اتنی معصوم ہو یا بنتی ہو…عفوان نے پھنکارتے ہوۓ ماہی سے کہا…

عدوان کی بات سُنتے ہی ماہی نے اپنا سارا ڈر اور خوف سائیڈ پر رکھتے کہنا شروع کیا. .

اگر تو تمہیں میرا مہد سے ملنا اور بات کرنا پسند نہیں آیا تو یہ میرا مسئلہ نہیں ہے….

اور ویسے بھی مجھے تمھارے سے کوئ مطلب ہے ہی نہیں…

اور میں کیوں تمھاری پسند نا پسند کا خیال رکھتی پھروں تم ہو کون زبردستی کہ شوہر…

عدوان نے گردن موڑے غصے اور حیرت کی ملی جُلی کیفیت لئہے ماہی کو گھورا…

میں جانتا ہوں تمہیں مجھ سے یا مجھ سے جڑی کسی بھی چیز سے کوئ مطلب نہیں ہے..

پر بیوقوف لڑکی آنکھیں کھولو جس پر تم اعتبار کرکے مدد کی امید کہ لئیے آس لگاۓ بیٹھی ہو نا وہ بالکل بھی اس قابل نہیں ہے…

جیسے اُسکی بہن نے تمہیں ڈسا ہے نا وہ بھی ویسا ہی کرئیگا…

(عدوان نے تقریباً چیختے ہوۓ کہا اور ساتھ ہی گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھا دی)

وہ جو بھی کرے وہ تمھارا مسئلہ نہیں ہے…اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں اپنی ساری زندگی ایک ایسے انسان کہ ساتھ گُزار دونگی جس نے مجھے میرے اپنوں کی نظروں میں گرایا …تو یہ بھول ہے تمھاری….

ہممم اپنے …جیسے اپنے تمھارے ہیں نا ایسے اپنے نا ہوں تو ہی بہتر ہے…

عدوان نے ماہی کو کہتے ہوۓ سٹئیرنگ کو اتنے زور سے تھاما کہ اُسکے بازووں کی رگیں ایسے اُبھری ہوئ تھیں کہ جیسے ابھی پھٹ جائیں گی…

وہ سب کم سے کم تم سے تو اچھے ہیں

عدوان کہ غصے سے سُرخ ہوتے چہرے کو دیکھتے ہوۓ ماہی نے ایک اور پتہ پھینکا…

اور ویسے بھی تم سے نجات حاصل کرنے کہ لئیے میں کسی پر بھی بھروسہ کرنے کو تیار ہوں….ماہی کی آخری بات سُنتے ہی عدوان نے گاڑی کی سپیڈ ہلکی کرتے ہوۓ گاڑی بالکل ہی روک دی..

یہ I-9 کا ایریا تھا جہاں اس وقت ہیوی ٹریفک گُزرتی ہے باقی اس وقت شاذونادر ہی کسی گاڑی کا گُزر ہوتا ہے…

ٹھیک ہے تمہیں نجات چاہیے نا مجھ سے اتنا ہی میں بُرا ہوں اور وہ تمھاری فیملی وہ بلڈی سب دودھ کہ دُھلے ہوۓ ہیں…

اور وہ جو شرط تم نے لگائ تھی اُس میں بھی سب میرا ہی قصور تھا ٹھیک میں ہی غُط ہوں نا….

تو چلو اُترو گاڑی سے اور جاو جہاں جانا ہے…

عدوان کی آواز پر ماہی کو یقین ہی نہیں آیا کہ وہ ایسا بھی کہہ سکتا ہے….تبھی حیرت سے دیکھنے لگی…

ایسے کیا دیکھ رہی ہو اُترو اور جاو…

جاو نا جاتی کیوں نہیں…

مم…ممیں…کہاں جاوں یہاں تو کوئ گاڑی ہی نہیں گُزرتی اس وقت …

یہ میرا مسئلہ نہیں ہے جاو تم اُترو…

ع..عع..عدوان پلیز مجھے گھر تک لفٹ دے دو…

ماہی کہ روہانسے ہوکر کہنے پر عدوان کا دل چاہا کہ اس بیوقوف کو خود میں بھینچ لے اور بچا لے اس سازشی دُنیا سے…پر پھر سر جھٹکتے گویا ہوا…

اوہ رئیلی گھر وہی گھر جہاں سے اُس وقت تمہیں دھکے پڑے جب تمھارا بھائ اور ماں بھی وہاں موجود تھے اب تو وہاں کوئ ہے بھی نہیں اب کون رکھے گا تمہیں…

شزرا یا تمھاری وہ چچی؟؟

عدوان کی بات پر ماہی کہ آنسو گالوں پر پھسلنے لگے تھے…

اور ماہی کہ آنسووں پر ہمیشہ کی طرح عدوان کا دل پسیج گیا تھا…

اچھا رو نہیں بتاو کہاں چھوڑ دوں تمہیں…

عدوان نے اب کی بار آرام سے پوچھا…

وہ مطمئین تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اُسکے پاس کوئ جگہ نہیں ہے جانے کی…

ماہی نے شوں شوں کرتے ہوۓ عدوان کو دیکھا…

میرا کوئ نہیں ہے تم نے مجھ سے میرے اپنے چھین لئیے ہیں…

اوہ شش شش بس رو نہیں میں ہوں نا تمھارا اپنا اتنا پیار کرتا ہوں اتنا خیال رکھتا ہوں تمھارا پر پھر بھی تم ہرٹ کرتی ہو مجھے…

عدوان نے ماہی کہ آنسو صاف کرتے ماہی کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ پیار سے کہا…

تم یقین کرو میرا میں سب ٹھیک کردونگا…

سب کو منا لونگا… پر پلیز مجھ سے دور جانے کی بات مت کرو….

ماہی جسکا عدوان کی بات سے زیادہ دھیان اپنی بہتی ہوئ ناک کی طرف تھا عدوان کہ بازو سے سر اُٹھاۓ پوچھ بیٹھی…

تم بہت محبت کرتے ہو نا مجھ سے…

ہاں بہت زیادہ…عدوان نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا…

تو میں تمھاری شرٹ سے ناک پونچھ لوں؟؟

واٹ؟؟؟عدوان کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا…

پھر کچھ سنبھلتے ہوۓ کہا اب اتنی بھی نہیں کرتا..

عدوان نے مُسکراتے ہوۓ نیچے سے ٹشو باکس اُٹھا کر ماہی کو دیا جو آتے ہوۓ اوور سپیڈنگ کہ باعث نیچے گر گیا تھا…

عدوان نے ماہی کو ٹشو نکالتے دیکھ اطمینان سے گاڑی گھر کی طرف بڑھا دی…..

*************

صُبح کہ چار بجے بُراق اور شزرا گھر پُہنچ چُکے تھے… براق تو آتے ہی ریسٹ کرنے چل دیا…

جبکہ شزرا اپنے روم میں عائشہ کہ کندھے پہ سر دھرے آنسو بہا رہی تھی…

کیا ہوگیا ہے شزرا کیوں نیر بہا رہی ہو…..

کیا بتاوں ماما آپکو کیسے ڈرائیور کہ سامنے آپکے داماد نے میری انسلٹ کی…

پر پہلے تو تم بڑی تعریفیں کررہی تھی کہ براق بہت اچھا ہے اور میں بہت لکی ہوں فلاں فلاں اب اچانک کیا ہوگیا…

ماما پہلے سب صحیح تھا پر پتہ نہیں اچانک سے غصہ کرنے لگ گیا… اور تو اور اُسے اپنے آگے کوئ نظر ہی نہیں آتا…

مجھ دیکھیں کتنی خوبصورت ہوں میں..

اتنی اچھی بیوی ملی ہے اور اُسے کوئ قدر ہی نہیں…

شزرا نے روتے ہوۓ شکوے کئیے…

اچھا چلو کام کی وجہ سے پریشان ہوگا ایسے چھوٹی چھوٹی باتیں دل پر لوگی تو سب کیسے چلے گا؟؟

اور ویسے بھی تمہیں ہی وہ بہت پسند تھا اب کرو گزارا …

پر ماما …

اچھا رونا تو بند کرو کرتی ہوں میں براق سے بات اور چلو اُٹھو ناشتہ کرو پھر ریسٹ کرنا تھک گئ ہوگی…

براق کہاں ہے؟؟؟وہ گیسٹ روم میں ہے دیکھیں ماما مجھے منا بھی نہیں رہا کوئ فکر ہی نہیں ہے اُسے میری…

آۓ ہاۓ لڑکی اُٹھ جاو اب نیچے سب انتظار کررہے ہیں…

***************

اُشنا صُبح ناشتے کی ٹیبل پر ثانیہ کہ ساتھ بیٹھی عدوان کہ انتظار میں تھی کیونکہ وہ اُسکا رئیکشن دیکھنے کو بے تاب تھی پر ابھی تک نا ماہی نیچے آئ تھی اور نا ہی عدوان…

دوسری طرف ماہی کی جیسے ہی آنکھ کُھلی خود کو عدوان کی بانہوں کہ گھیرے میں سمٹے دیکھ رات کا منظر یاد کرتی شرم اور حیا کی لالی چہرے پہ لئیے پھر سے اپنا چہرہ عدوان کہ ہی سینے میں چھپا گئ…

کچھ دیر ایسے ہی رہنے کہ بعد آرام سے اُٹھنے لگی…

کیونکہ فی الحال عدوان کو فیس کرنا ماہی کہ بس میں نہیں تھا…

ابھی ماہی نے عدوان کی بازو خود پر سے ہٹائ ہی تھی کہ وہ جاگ گیا…

گُڈمارننگ مائ لائف…

عدوان نے مارننگ وش کرتے ہوۓ اپنے لب ماہی کہ ماتھے پر ٹکا دئیے…

پیچھے ہٹو مجھے اُٹھنا ہے ماہی نے بنا عدوان سے نظریں ملاۓ کہا…

ماہی کو ایسے بلش کرتا دیکھ ..عدوان نے ماہی کو مزید تنگ کرنے کا ارادہ کینسل کرتے ہوۓ …

اپنے پیار کی قید سے فی الوقت کی رہائ بخش دی…

ماہی جلدی سے اُٹھتے ہوۓ اپنے بال سمیٹتی باتھ روم کی طرف بڑھ گئ…

کل رات جو کچھ بھی ہوا عدوان کہ نزدیک وہ سب ضروری تھا پہلے تو وہ اس انتظار میں تھا کہ ماہی کو دلی طور پر آمادہ کر لے پر ماہی کی دور جانے کی باتیں عدوان کو دہلا گئ تھیں…

سو اپنے پیار میں ماہی کو باندھنے کا یہی طریقہ اُسے سمجھ آیا…

رات ماہی کو ہینڈل کرنا عدوان کہ لئیے کافی مشکل رہا تھا پر ماہی کہ دل میں چُھپی بلکہ سوئ ہوئ عدوان کی محبت عدوان کہ کام آگئ تھی…

****************

ماہی جیسے ہی ناشتے کی ٹیبل پر آئ…

ثانیہ نے تنقیدی نظروں سے ماہی کا جائزہ لیتے ہوۓ شُکر کیا…

جبکہ اُشنا کو جھینپی اور لجائ ہوئ ماہی کو دیکھ کر عجیب سا لگا تبھی سیڑھیوں سے اُترتا ہینڈسم سا عدوان بھی کہیں سے اسے غصے میں نہیں لگا…

اور تو اور ماہی کہ ساتھ بیٹھتے ہوۓ عدوان نے ماہی کہ پلیٹ میں ہی کھانا شروع کر دیا جس پر ماہی نے اُسے گھورا اور وہ مسکراتے ہوۓ بنا کوئ اثر لئیے کھانے میں مشغول رہا…

آج سے پہلے اُشنا نے اُن دونوں میں اتنی فرینکنس نہیں دیکھی تھی…

تبھی غُصے سے ٹیبل پر سے اُٹھتی اندر ماہم کہ کمرے کی طرف بڑھ گئ….

*************

آپی….

آپی….

کیا مسئلہ ہے اُشنا ابھی تو زارون کو بھیج کر لیٹی ہوں اور تم آگئ ہو…

ہاں آپ سوتی رہیں اور یہاں دوسرے اپنی پیار کی پینگیں بڑھانے میں کامیاب ہوگۓ ہیں…

یہ کیا صُبح صبح بول رہی ہو…

آپ نے تو کہا تھا آپ عدوان کو میرا بنا دیں گی پر وہ دونوں تو طوطا مینا بن گۓ ہیں…

اُف اللہ کیا بول رہی ہو…

مجھ نہیں پتا آپ کچھ بھی کرکے عدوان کی لائف میں میری اینٹری کروائیں نہیں تو اچھا نہیں ہوگا…

اُشنا ماہم کو وارن کرتی واک آوٹ کرگئ…

تبھی ماہم بُڑبُڑائی میری تو خود اس ناول میں اینٹری کبھی کبھار کی ہے اس کی کیا اینٹری کرواوں….

ماہم سوچتے ہوۓ پھر سے لیٹ گئ…

**************

براق پیرس واپس آگیا تھا…

شزرا اس بات کہ انتظار میں تھی کہ وہ اُسے مناۓ گا پر وہ اپنے مسئلوں میں اس قدر اُلجھا ہوا تھا کہ شزرا کا خیال ہی نہیں رہا اُسے…

اور ابھی وہ ائیرپورٹ سے سیدھا سونیا کہ فلیٹ پر پُہنچا تھا…

Heyyyy welcome buraq…

براق کو دیکھتے ہی سونیا نے آگے بڑھ کر اس سے گلے لگنا چاہا کہ تبھی براق نے سونیا کو وہیں روک دیا…

اور آگے بڑھتا اندر داخل ہوا…

How dare you soniya…

How dare you…

تم کیسے پکچرز لیک کرسکتی ہو میری فیملی یا میری بیوی دیکھ لیتی تو…

تو دیکھ لے اُنہیں پتہ پونا چاہیے کہ تمھارا

Baby آنے والا ہے…

شٹ آپ پتہ نہیں کس کا گناہ میرے سر منڈھ رہی ہو…

اوکے گناہ…

ہممم تو یہ گناہہ ہے اس سے پہلے جو تم نے میرے ساتھ کیا وہ بھی گناہ تھا مسٹر…

اور اب تو تم آگۓ ہو چلو ابھی DNA کروا لیتے ہیں…

سونیا کا اطمینان دیکھ کر براق گڑبڑا گیا تھا…

پر پھر کچھ سوچتے ہوۓ وہ سونیا کہ ساتھ پاسپٹل کہ لئیے نکل گیا….

**************

ہیلو مہد….

ہاں بولو اُشنا عدوان زیادہ غصہ میں تو نہیں تھا کچھا کہا تو نہیں ماہی کو…

مہد کو ماہی کی فکر ہوئ…

اُنہیں چھوڑو پہلے تو تم مجھے بتاو تم نے ایسی کونسی بوٹی سونگھائ ہے اُس ماہی کو…

کیا مطلب…

مطلب یہ کہ ایک ہی رات میں اُنکا رشتہ اتنا سٹرونگ ہوگیا ہے کہ جو ماہی پہلے عدوان کو دیکھتی نہیں تھہ جگہ چھوڑ کہ بھاگ اُٹھتی تھی آج وہی ماہی عدوان سے شرماتے نہیں تھکتی…

واٹ ایسا کیسے ہوسکتا ہے…

ایسا ہوگیا ہے مسٹر مہد…

تبھی مہد نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا…

اچھا تم دوبارہ مجھے ملواو ماہی سے…

ہاں دوبارہ ملواوں تاکہ تم سے دوبارہ ملاقات کہ بعد وہ لوگ ہنی مون کہ لئیے ہی نکل جائیں…

اوہ سٹاپ ٹونٹنگ…

اچھا تم ملو مجھ سے پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے اوکے…

اوکے…

**********

براق شزرا کو مناۓ بغیر ہی چلا گیا تھا…

اور اس بات نے شزرا پر کافی اثر ڈالا تھا….

ابھی بھی وہ چھت پر رکھے جھولے پر بیٹھی اپنی اور براق کی لاسٹ فائیٹ یاد کرتی رونے میں مشغول تھی….

تبھی ہنسی کی آواز پر اُس نے سامنے گھر کی بالکنی پہ ماہی اور عدوان کو کھڑے دیکھا…

آج کافی عرصے بعد اُس نے ماہی کو دیکھا تھا…

تبھی مزید غور سے دیکھنے کہ لئیے ماہی کی رکھی دوربین اُٹھاۓ دیکھنے لگی….

جہاں سامنے عدوان ہاتھ میں ایک بنی ریبٹ لئیے کھڑا تھا اور ماہی اُس سے جیسے ہی اُسے لینے کہ لئیے آگے بڑھتی عدوان اُس بنی کو اُوپر کرلیتا…

جس پر ماہی چیخنے اور عدوان ہنسنے لگتا…

اُن دونوں کو اتنا خوش دیکھ کر شزرا کہ دل میں لگی آگ مزید بھڑکنے لگی…

کیوں یااللہ کیوں یہ اتنا سب ہونے کہ بعد خوش ہے اور میں اپنی ہی محبت پالینے کہ بعد بھی خوش نہیں ہوں…

دوربین پھینکتے روتے ہوۓ شزرا سیڑھیاں اُترنے لگی

اپنے کمرے میں پُہنچتے ہی سارا کمرہ غُصے سے الُٹ دیا…

کیوں…..کیوں….وہ ہر بار جیت جاتی ہے ہر بار اُسے ہی خوشی مل جاتی ہے…کیوں…

شزرا روتے روتے تھک کر بیٹھ گئ اور سسکنے لگی…

نہیں اب اور نہیں اگر میں خوش نہیں ہوں تو تم بھی خوش نہیں رہوگی ماہی…

کم سے کم میرے ہوتے ہوۓ نہیں…

شزرا نے اپنا موبائل ڈھونڈتے ہوۓ عالیہ کو کال ملا دی…

ہیلو عالیہ تائ…..

(پر شزرا یہ بھول گئ تھی کہ جو وہ کرنے جارہی ہے اُس میں اُسی کا نقصان ہے کیونکہ جو ذات اُوپر بیٹھی ہے وہ سب جانتی ہے اور اُسکی ذات سب سے بڑی گیم پلانر اور گیم چینجر ہے)