Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 6
Rate this Novel
Beri Piya Episode 6
Beri Piya by Hareem
عالیہ…
جی ماں جی؟؟؟
مہوش کا فون آیا تھا رات میں….
(فجر کی نماز سے فارغ ہونے کہ بعد ثروت بیگم نے عالیہ کو اپنے کمرے میں بُلوا کر کہا) کیا کہہ رہی تھی وہ سب ٹھیک ہیں نا؟؟؟
ہاں سب خیر ہے پرسوں کی فلائٹ ہے خیر سے اُسکی…
اوہ چلیں اچھا ہے سب مل بانٹ کر انتظام کریں گے تو سب اچھا ہو حائیگا.
ہاں یہ تو ہے….اور وہاں سے وہ کچھ نہیں لا رہی کہہ رہی تھی کہ ماہی کی پسند سے لیگی سب..
ماہی کی کیا پسند اماں اُسے تو بس پھٹی ہوئ رنگ اُڑی جینز لے دو کسی بھی کارٹون شرٹ کہ ساتھ اُسے کیا پتہ…
اُنہوں نے اپنا دُکھ بیان کرتے ہوۓ کہا…
خیر ہے کوئ نہیں سب سیکھ جائیگی …
کچھ بچپنا ہے ورنہ تو ہر لحاظ سے اچھی ہے میری بچی…اور ہاں اب ڈانٹنا کم کردو ..
اُسے کچھ ہی دن تو رہ گۓ ہیں پھر تو ولایت چلی جائیگی پھر یہی حرکتیں یاد کر کہ رؤوگی..
عالیہ جنکا بار بار ماہی کی رخصتی کا سوچ کہ دل بھر آتا تھا..یہ سُن کہ ثروت کہ ساتھ بیٹھے آنسو بہانے لگیں..
نہ رو جھلئیے یہ تو زمانے کی ریت ہے…بیٹیوں کو تو جانا ہی ہوتا ہے اور پھر یہ تو دیکھو اپنی سگی پھوپھو کہ گھر جائیگی جس نے اتنی چاہ سے رشتہ مانگا ہے اور جو محبت بھی بہت کرتی ہے …اب رونا چھوڑو اور تیاری کرو وقت بہت کم ہے…اُٹھو شاباش…اچھا ناشتے کے لئیے آجائیں. ہاں تم چلو میں آرہی ہوں.. .
***********
ماہی…ماہی…کیا ہے شزرا..
جلدی باہر آو…
ماہی نے ٹوتھ برش منہ میں رکھے باتھروم کا دروزہ کھولا جہاں سامنے ہی شزرا کھڑی ہوئ تھی….خیر ہے تم اور سنڈے کو جلدی اُٹھ گئ آج….
بات ہی ایسی تھی مجھے تو پوری رات نیند نہیں آئ ہے …
پر کیوں ایسا بھی کیا ہوگیا شزرا؟؟؟
کل سامنے والی آنٹی آئ تھیں اپنے ہسبنڈ کی برسی پہ انوائیٹ کرنے…
تو اُنکی برسی پہ تم کیوں اتنا خوش ہو…اپنی جائیداد تمھارے نام تو نہیں کر گۓ وہ…
ہاہاہاہا ویری فنی شزرا نے طنزیہ ہنستے ہوۓ کہا..میں تو تمھیں یہ بتانے آئ ہوں کہ موقعہ اچھا ہے…
کس کام کہ لئیے ماہی نے آگے ہوتے ہوۓ رازداری سے پوچھا…
عدوان کہ گھر میں داخل ہونے کا…
اور تم اُنکے گھر کیوں جانا چاہتی ہو؟؟؟
بیوقوف تم نے شرط جیتنی ہے یا نہیں….ایک بات تو بتاو شزرا خود ہی شرط لگا کر اب جیتوانا بھی مجھے چاہتی ہو…مسئلہ کیا ہے..
ماہی نے ایک آبرو اُچکاتے ہوۓ پوچھا…
ایک منٹ کہ لئیے شزرا کو لگا کہ جیسے وہ پکڑی گئ ہے پر اگلے ہی لمحے کچھ سوچتے ہوۓ شزرا نے ایموشنل ہوتے ہوۓ کہا…
تم خود ہی تو کہتی ہو کہ ہم بہنیں ہیں..
اب تم جیتو یہ میں ایک ہی بات ہے اچھا سب چھوڑو میں تمھارے کوئ اچھے سے کپڑے نکالتی ہوں…
پر شزرا کی الماری دیکھنے کہ بعد سر پیٹنے کو دل چاہا یہ کیا تمھارے پاس صرف یہ گھسی پٹی جینز اور عجیب رنگوں کی شرٹس ہیں بس…
ہاں میرے پاس یہی ہے…
تبھی شزرا نے کچھ یاد آتے ہوۓ پوچھا.
اور وہ جوڑا کہاں ہے جو تم نے احد بھائ کی منگنی میں پہنا تھا…وہ تو میں نے ڈونیٹ کردیا…کیاااا اتنا مہنگا ڈزائنر وئیر ایک بار پہن کہ ڈونیٹ کردیا تم نے…
ہاں کردیا…ماہی نے منہ دھوتے ہوۓ جواب دیا..
اُف لڑکی اچھا میں کچھ کرتی ہوں…
**********
شزرا نے ماہی کو وہ جوڑا دے دیا تھا جو عائشہ شزرا کہ پہننے کہ لئیے لائ تھیں…اور ماہی کہ نا نا کرتے جوڑے کہ ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی جیولری اور میک اپ بھی کر دیا تھا…اور اب عائشہ شزرا اور ماہی عدوان کہ گھر جانے کہ لئیے تیار تھے ..
لان میں مردوں کہ لئیے ارینجمنٹ کی گئ تھی.. اس لئیے عائشہ نے تھوڑی دیر تک مہد کو آنے کہ لئیے بھی بول دیا تھا…
عائشہ اور شزرا بحث کرتی ہوئیں آگے آگے چل رہی تھیں کیونکہ یہ جوڑا وہ شزرا کہ لئیے لائ تھیں اور ماہی کو پہنا دیکھ وہ اب شزرا سے بحث میں مصروف تھیں…جبکہ ماہی ڈوپٹے اور ہیلز سے اُلجھتی اردگرد سے بیگانہ چل رہی تھی..
تبھی گھر کہ مین دروازے میں پہنچتے ہوۓ ماہی کا ڈوپٹہ اُسکی ہیل میں اُلجھا…ابھی وہ منہ کہ بل گرتی کہ کسی کے مضبوط بازووں نے اُسے تھام لیا تھا…
لائٹ پیچ کلر کی شارٹ شرٹ اور پاجامہ پہنےبڑا سا ڈوپٹہ لئیے آنکھوں کو سختی سے میچے ماہی کو اتنے قریب سے دیکھتے عدوان کہ دل نے ایک بیٹ مس کی تھی…
تبھی ماہی نے عدوان کو دیکھتے اپنی آنکھیں کھولیں اور سیدھی ہوتی کھڑی ہوگئ…
یہ منظر کسی کی آنکھوں میں بہت بری طرح سے چبھتا ہوا محفوظ ہوگیا تھا…
آپ آنکھیں بند کر کہ چلتی ہیں کیا…
جی نہیں یہ تو بس کبھی ایسے کپڑے پہنے نہیں سو اس لئیے ڈوپٹہ میں اُلجھ گئ تھی ماہی نے اپنی پوزیشن.کلئیر کرتے ہوۓ کہا…
ویسے بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ..
جیییییی ماہی نے حیرت سے منہ اُٹھاۓ دیکھا. ….
مجھے بہت اچھا لگا آپکو اسطرح کہ لباس میں دیکھ کہ…
ایک تو دل ہے کہ اپنی جگہ پر نہیں آرہا اور یہ لنگور خیر لنگور تو نہیں کافی ہینڈسم ہے ماہی نے بلیک کلر کہ شلوار قمیض میں سلیقے سے بالوں کو جماۓ سلیوز کہنیوں تک فولڈ کئیے ہوۓ عدوان کو شاید پہلی بار اتنی غور سے دیکھتے ہوۓ کہا…
ہیلو کہاں کھوگئیں آپ نہیں بس وہ میں چلتی ہوں…
ماہی کو اندر جاتا دیکھ عدوان کو اپنا دل ماہی کہ قدموں میں لپٹتا ہوا محسوس ہوا…
************
بُراق…
ہممممم لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاۓ بغیر برُاق نے کہا…
ناراض ہو اپنی ممی سے؟؟؟
میری ناراضگی سے کونسا آپ کے فیصلے میں فرق آجانا ہے…
ایسا مت کہو میں تمھاری ماں ہوں جانتی ہوں تمھارے لئیے کیا اچھا ہے….
تو آپ کے نزدیک ماہی میرے لئیے بہترین آپشن ہے؟؟؟
ہاں بالکل..
اچھا وہ کیسے ؟؟؟بُراق نے لیپ ٹاپ بند کرکے سائیڈ پر رکھا اور صوفے پہ پاوں اوپر کرکے بیٹھتے ہوۓ پوچھا…
ماہی کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ لڑکی بہت اچھی اور بہت ہمدرد اور معصوم ہے.. آجکل کی لڑکیوں والی تیزی طراری سے بالکل دور ہے…اور ایک اور بات وہ کم عمر ہے تم جس سانچے میں ڈھالو گے وہ ڈھل جائیگی…. میں گارنٹی دیتی ہوں تم بہت خوش رہوگے….
اوکے ٹھیک ہے میں سب کے لئیے تیار یوں…
پر میری بھی ایک بات ماننی ہوگی سب کو بُراق نے اُٹھتے ہوۓ کہا…
میں اپنے کمرے میں ہرگز ہرگز پیلا پینٹ نہیں کروانگا سب سُن لیں….
ہاہاہا حد ہے بُراق…
************
ریاست صاحب میں نے تو سوچ لیا ہے شزرا کی شادی تو عدوان سے کروا کر ہی رہونگی میں…
وہ جب سے عدوان کہ گھر سے آئ تھیں تب سے اُن سے بہت متاثر دکھ رہی تھیں….
اگر وہ رشتہ مانگیں گے تو ہی رشتہ دو گی نا اور تمھاری یہ جلد بازی کی عادت کب ختم ہوگی…
تو کیا چاہتے ہیں آپ ؟؟؟
آپ کی طرح ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہوں؟؟
ماہی سے دو سال بڑی ہے شزرا اور ماہی کی شادی ہونے والی ہے خاندان میں سب کیا کیا کہتے ہیں سب مجھے ہی سننا پڑتا ہے آپ کو تو کبھی اپنے لڑکھڑاتے کاروبار سے فرصت ہی نہیں ملی کہ گھر اور بچوں پر توجہ دیں.
عالم بھائ کو دیکھا ہے آپ نے…
اوہ بسسسسس بس کردو مجھے عالم کے طعنے دینا تھک گیا ہوں میں بچپن سے یہ سُںنتے سُنتے کہ اپنے بھائ کو دیکھو اُس سے سیکھو…
جو دل میں آۓ کرو پر مجھے عالم سے ملانا بند کرو سمجھی تم…
ریاست صاحب عائشہ پر چیختے چلاتے باہر نکل گۓ…..اور عائشہ اُنکو اتنا غصے میں دیکھ کر حیران ہوتی رہیں…..
*************
رات کے دس بج رہے تھے اس وقت…
ماہی اور شزرا چھت پر رکھے جھولے پر بیٹھی ہوئیں تھیں…
تبھی ماہی نے کہنا شروع کیا…
مجھے عدوان کی مام کافی سوئیٹ لگیں..
ہممم سوئیٹ تو ہیں وہ…تمھاری عدوان سے بات ہوئ ماہی..کیوں کیا بات ہونی تھی…
ماہی نے اپنی ٹوپی صحیح کرتے ہوۓ پوچھا..
مطلب عدوان نے تمھیں دیکھا…
شزرا کہ پوچھنے پر ماہی کی نظروں کہ سامنے آجکا اپنا اور عدوان کا ہونے والا ٹکراو گھوم گیا..
ہممم پتہ نہیں مجھے تو وہ کہیں دکھا ہی نہیں…ماہی نے آسانی سے آج کا سارا معاملہ گول کر دیا…اور شزرا کو اپنی کی گئ محنت کہ ضائع ہونے پر بہت دُکھ ہوا..
صبح پھوپھو بھی آ رہی ہیں تم کیسا فیل کر رہی ہو ماہی….عدوان کہ بارے میں سوچتے ہوۓ اچانک سے بُراق کا ذکر آنا ماہی کو کچھ پسند نہیں آیا تھا..
تبھی وہ شزرا کا سوال اگنور کرتی اُٹھ کھڑی ہوئ مجھے بہت نیند آرہی ہے شزرا میں نیچے جا رہی ہوں تم بھی چلو…
نہیں تم جاو میں کچھ دیر بیٹھونگی ابھی…
*********
ماہی اپنے کمرے میں آنے کہ بعد کمرے کہ چکر کاٹ رہی تھی…
یہ مجھے کیا ہو رہا ہے.. اتنا عجیب کیوں فیل ہورہا ہے ایسا تو کبھی بُراق کو دیکھ کر بھی محسوس نہیں کیا میں نے…
کہیں مجھے عدوان سے محبت تو نہیں ہوگئ…
نہیں نہیں مجھے محبت نہیں ہوسکتی..
اُف یہ سب کیا سوچ رہی ہوں میں…
تبھی ماہی کا فون بجنے لگا…
اس وقت کون ہوسکتا ہے بھلا…
یہ سوچتے ہوۓ ماہی نے جب فون اُٹھایا تو عدوان کی کال آرہی تھی میسینجر پر….اف ُ اب یہ فون کیوں کررہا ہے…
اُٹھاوں کہ نہ اُٹھاوں…
کیا کروں کیا کروں…
ماہی کہ سوچتے سوچتے فون بند ہوگیا تھا…
شکر ہے بند ہوا…پر یہ کیا ایک بر پھر سے فون بجنے لگا تھا…
پتہ نہیں اسے آرام کیوں نہیں ہے اب کی بار ماہی نے کال اُٹھا لی تھی…
ہیلو….
ہیلو ماہی…
جی بول رہی ہوں کہیے. .
میں تم سے ملنا چاہتا ہوں..
کیا پر کیوں…
تم کل شام کو پانچ بجے اُسی پارک میں آجاو.
پلیز..
میں تو تقریباً روز ہی آتی ہوں..پر کیا بات کرنی ہے آپکو…
تم مجھ سے مل لو پھر بتاتا ہوں..
تو ہم کل مل رہے ہیں نا عدوان نے لجاجت سے پوچھا؟؟
اوکے ٹھیک ہے میں آجاونگی..
تھینک یو ماہی تھینک یو سومچ….
عدوان نے کال کاٹ دی تھی اور ماہی فون ہاتھ میں لئیے بیٹھی رہ گئ تھی.
اُف یار اب پتہ نہیں یہ کیا کہنے والا ہے…
ماہی عدوان کہ بارے میں سوچتے ہوۓ نیچے کچن کی طرف پانی پینے جا رہی تھی ابھی لائٹ آن ہی کی تھی کہ سامنے فریج کھولے کھڑے مہد کو دیکھ کر ڈر گئ…
اُف مہد بھائ آپ نے تو مجھے ڈرا دیا…
اچھا تم ڈرتی بھی ہو حیرت ہے….مہد نے طنزیہ نظروں سے ماہی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا..
آپکو کیا ہوگیا ہے اور آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے…
تبھی مہد نے آگے بڑھتے ہوۓ ماہی کو بازو سے کھینچتے ہوۓ غُرا کر کہا…
دن دھاڑے غیر مردوں کی باہوں میں ڈولتے تو ڈر نہیں لگتا تمھیں…
مجھے چھوڑیں مہد بھائ اور یہ کیا..ککیا کہہ رہے ہیں آپ…
جتنی لاپرواہ اور معصوم تم بنتی ہو اتنی تم ہو نہیں…سب سمجھ آتا ہے تمھیں.. بازو چھوڑیں میرا..
ایک مجھے ہی نہیں سمجھ پائ تم مہری ہی نظروں کا مفہوم سمجھ نہیں آیا تمھیں..یہ کہتے ہی ایک جھٹکے سے مہد نے ماہی کا بازو چھوڑ دیا اور وہ گرتے گرتے بچی تھی….
