Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 10
Rate this Novel
Beri Piya Episode 10
Beri Piya by Hareem
کیا بکواس کررہی ہو تم کسی اور کو جا کر بیوقوف بناو جو تمھیں جانتا نا ہو سمجھی….
کیوں اُس رات تم میرے فلیٹ پر نہیں رُکے تھے؟؟؟
ہاں رُکا تھا اور اُس دن جو بھی ہوا تھا وہ سب تمھاری وجہ سے ہوا تھا تم نے مجبور کیا تھا مجھے…
ہاہاہاہا ویری فنی تم تو چھوٹے بےبی ہو نا کوئ بھی مجبور کریگا اور تم مجبور ہو جاو گے واہ کیا بات ہے مسٹر بُراق آپکی…
اپنی بکواس بند کرو…بُرق انے اُنگلی اُٹھاۓ سونیا کو وارن کرتے ہوۓ کہا…
تم کونسا صرف میرے ساتھ رات گُزار چُکی ہو ہاں تمھاری زندگی میں تو اتنے مرد آچکے ہیں کہ تمھیں یاد بھی نہیں ہوگا کہ تم کس کس کہ ساتھ…بُراق نے مزید کچھ کہنے سے خود کو روک لیا تھا..اب بس دفعہ ہو یہاں سے یا مزید کچھ سُننا چاہتی ہو؟؟
اگر میرا کیلیبر اتنا ہی خراب تھا تو تم کیوں اتنے مہینوں سے میرے ساتھ تھے ؟؟جواب دو ہاں …..سارے مزے اُٹھانے کہ بعد ہی کیوں تمھیں یاد آرہا ہے کہ میں کس قسم کی عورت ہوں.. یہ تم سالے پاکستانی مرد دُنیا کی ہر عورت میں منہ مار کر بھی خود کو پارسا کیوں سمجھتے ہو…بولتے بولتے سونیا کا چہرہ غصے سے لال پڑ گیا تھا..
تم حد سے بڑھ رہی ہو سونیا…
ہممم ابھی تم نے میری حد دیکھ ہی کہاں ویسے ایک مشور ہ ہے میرا کبھی خود کہ گیریبان میں بھی جھانک لو تو تمھیں پتہ چلے کہ تم شرافت کہ کس معیار پہ پورا اُترتے ہو؟؟.
سونیا نے تقریباً چلاتے ہوۓ کہا تھا کیونکہ یہ پہلی بار تھی کہ کسی نے اُسے dumb کیا تھا اور یہ بات سونیا کی برداشت سے باہر تھی…
میں ابھی تو جارہی ہوں پر بہت جلد تمھارا بچہ تمھارے منہ پر مارنے آونگی سمجھے تم…
سونیا چیختی چلاتی ہوئ اپنا ہینڈ بیگ لئیے واک آوٹ کرگئ تھی…..اور بُراق اُسکی باتوں کی وجہ سے خود کو شرمندگی کہ گڑھے میں گرتا محسوس کررہا تھا…
تبھی وہ کچھ سوچتا اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے دوست کو کال کی کیونکہ وہ ائیرلائن میں کام کرتا تھا. .یار مجھے کل ہی پاکستان جانا ہے کچھ بھی کر مجھے ٹکٹ چاہیے…
پر ہوا کیا ہے ہفتے بعد کی ٹکٹ کروا تو دی تھی تجھے پر مجھے کل ہی جانا ہے یار پلیز کچھ کر اچھا چل میں دیکھتا ہوں…
بُراق کال کاٹتا ریسٹورنٹ سے باہر نکل گیا تھا…..
**********
سردار عالم اپنی ریوالونگ چئیر پر بیٹھے کوئ بُک پڑھ رہے تھے تبھی ماہی دروازہ کھولے اور ہاتھ میں نیم گرم زیتون کہ تیل کا پیالہ لئیے اندر داخل ہوئ…
اوہ ہو میرا بیٹا آیا ہے…
ماہی آتے ہی اپنے بابا کہ قدموں میں بیٹھ گئ تھی..
کتنی بار کہا ہے بچے ایسے مت بیٹھا کرو..
ماہی نے اپنے سر پہ رکھے اُنکے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ لبوں سے لگایا..پر مجھے ایسے اچھا لگتا ہے بابا اب ماہی نے اُنکے پاوں گود میں رکھے تیل لگاتے ہوۓ مساج کرنا شروع کیا…
کہاں گُم ہو آجکل اپنے بابا کہ پاس آتی ہی نہیں ہاں؟؟
بس بابا یہ رائیٹر ہمارا سین ہی نہیں لکھتی…
ہاہاہا کیا بولتی رہتی ہو ماہی..
کچھ نہیں بابا ..
کیا ہوا اُداس کیوں ہے میری چڑیا..
بابا میں آپکو بہت miss کرونگی…ماہی نے آنکھوں میں آنسو بھرے اُنہیں دیکھتے ہوۓ کہا…
یہ تو زمانے کی ریت ہے نا بیٹا… بیٹی چاہے کسی شاہ کی ہو یا فقیر کی اُسے اگلے گھر جانا ہی ہوتا ہے…سردار عالم نے بھی بھیگے لہجے میں ماہی کو سمجھانا چاہا..
تبھی عالیہ بیگم کمرے کا درواہ کھولتیں اندر داخل ہوئیں…آپ دونوں کیوں یہاں بیٹھے رونے کا پروگرام چلا رہے ہیں…
میں بابا سے یہ پوچھ رہی ہوں کہ مجھے اتنی دور کیوں بھیج رہے ہیں ماہی نے مزید تیل پیالہ سے لیتے ہوۓ کہا..
ویسے بابا آپ میرے لئیے کہیں آس پاس بھی تو لڑکا ڈھونڈ سکتے تھے نا ماہی نے روتے ہوۓ کہا…ماہی کی اس بات پہ عالیہ کا ماتھا ٹھنکا تھا..
پر یہ تو نصیب کی بات ہے نا…اچھا رونا تو بند کرو سردار عالم نے اُٹھتے ہوۓ ماہی کو اپنے ساتھ لگایا اور اُسے لئیے صوفے کی طرف بڑھ گۓ..
عالیہ تو ابھی تک ماہی کی آس پاس والی بات میں ہی گھری کھڑی ہوئ تھیں…آپ کیا سوچ رہی ہیں عالیہ ..
نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی…تو آپ ایسا کریں میرے اور میری شہزادی کہ لیئے اچھی سی کافی لے آئیں..
جی میں لے آتی ہوں…
ماہی …
جی بابا…
میں تمہیں کچھ سمجھانا چاہتا ہوں بچے اور میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم میری یہ بات ہمیشہ یاد رکھو…
کونسی بات بابا ماہی نےاپنے بابا کہ کندھے پر سے سر اُٹھاتے ہوۓ حیرت سے پوچھا..
بیٹا حالات کبھی بھی ایک سے نہیں رہتے زندگی بدلتی رہتی ہے جیسے کہ اب تمھاری بدلنے والی ہے…اور یہ جو تمھاری عادت ہے نا ہر کسی کو اپنا دوست اور ہمدرد سمجھ لینے کی اسے بدلو بیٹا اور اپنی آنکھیں کھولو…
آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ماہی کہ تو سر سے گزر گیا تھا سب..
آہ میرا معصوم بچہ ماہی کو خود سے لپٹاتے ہوۓ اُنہوں نے یہ الفاظ ادا کئیے…
بس مجھے یہی ڈر ہے کہ تمھاری معصومیت تمھیں کسی بڑی مشکل میں نہ ڈال دے…
جب تک آپ میرے ساتھ کھڑے ہیں نا بابا ایسا کوئ چاہ کر بھی نہیں کرسکتا…
ہاں بالکل….اُنہوں نے اُسے اپنے ہونے کا یقین دلاتے ہوۓ اُسکا ماتھا چوم لیا…
************
بھابھی کیا کررہی ہیں آپ؟؟
کچھ نہیں بس عالم اور ماہی کہ لئیے کافی بنا رہی تھی…
اوہ اچھا ویسے بھابھی آپ نے ماہی سے بات کی…
کس بارے میں عالیہ نے کافی پھینٹتے ہوۓ مگن سے انداز میں پوچھا…
یہی جو آج محترمہ ثانیہ صاحبہ کہہ کر گئ ہیں..اُنہوں نے دانت پیستے ہوۓ بظاہر مسکراتے ہوۓ دریافت کیا…
ماہی سے کیا کہنا اس بارے میں بھلا بس ایک کنفیوژن تھی جو کلئیر ہوگئ ویسے بھی جہاں بیری ہو وہاں پتھر تو آتے ہی ہیں…
پر بھابھی آپکو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہیں…
ایسے ہی تو رشتے نہیں آجاتے…. عالیہ بظاہر اُنکے کئیے گۓ طنز کو خوب سمجھ رہی تھی…پہلے ہی ماہی کی کہی گئ بات نے اُنہیں اُلجھن میں ڈالا ہوا تھا پر وہ عائشہ کو بھی کوئ مناسب جواب دے کر اُنکا بروقت منہ بند کروانا چاہتی تھیں..
تو تم بتا دو پھر کیسے آتے ہیں رشتے ویسے تمھیں کیا پتہ ہوگا اس سب کہ بارے میں کیونکہ شزرا کا تو آج تک کوئ رشتہ آیا ہی نہیں ہیں نا ؟؟؟وہ مسکراتے ہوۓ اُنہیں آگ لگاتیں کافی کہ کپ ٹرے میں رکھے یہ جا وہ جا ہوگئیں…اور پیچھے عائشہ سلگتی رہ گئیں…
********
اگلے دن عدوان دوپہر میں ہی گھر آگیا تھا….کیا ہو بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے اتنی جلدی کیسے آگۓ تم؟؟؟
مام بتایا تو تھا ماہی نے بُلایا ہے اور مجھے پوری اُمید ہے وہ مجھ سے میرے پرپوزل کا جواب دینے کہ لئیے ملنا چاہتی ہے..
اوکے میں تیار ہوجاوں پر بیٹا ابھی تو چار بجے ہیں اُس نے تو پانچ بجے بُلایا تھا نا…
جی مام پر میں اچھے سے تیار ہونا چاہتا ہوں اور وقت سے پہلے پہنچننا چاہتا ہوں تاکہ اُسے میرا انتظار نا کرنا پڑے… اور یہ دیکھیں یہ رنگ اچھی ہے نا…
عدوان نے ایک چھوٹا سا باکس اُنکی طرف بڑھاتے ہوۓ پوچھا…
پر بیٹا بات تو سُن لو پہلے اُسکی اللہ جانے کیا کہنا چاہتی ہے اور تم ہو کہ ہوا کہ گھوڑے پر سوار ہو…
عدوان کی اتنی تیاری اور خوشی دیکھ کہ اُنکا دل کسی پتے کی مانند لرزنے لگا تھا…
آپکو اپنے بیٹے کی قابلیت پر شک ہے کیا؟؟ ویسے بھی مجھے کوئ ریجیکٹ نہیں کر سکتا مام..اور اُس دن شاید کنفیوز ہوگئ ہو شاید میں نے بھی تو اتنی جلدی دیکھائ تھی..
پر بیٹا …چھوڑیں مام مجھے دیر ہو رہی ہے اُنکے ہاتھ سے باکس لیتا عدوان سیڑھیاں چڑھتے اپنے کمرے کی طرف چل دیا..
یااللہ سب خیر رکھنا… وہ عدوان کو جاتا دیکھ صرف اتنا ہی کہہ سکیں…
*************
بلیک کلر کا کُرتا پاجامہ پہنے ماہی شیشے کہ سامنے کھڑی گلے میں مفلر ڈالے بالوں کا بن بنا رہی تھی…تبھی شزرا کمرے میں داخل ہوئ اُس دن کہ بعد سے اُنکی آپس میں کوئ بات نہیں ہوئ تھی…
کہیں جارہی ہو ماہی؟؟شزرا نے بیڈ پر دھپ سے بیٹھتے ہوۓ پوچھا..
ہاں جو رائتہ تمھاری وجہ سے پھیلا ہے وہ سمیٹنے جا رہی ہوں..
ہیں کیا مطلب کیا کہہ رہی ہو؟؟؟
مطلب یہ کہ میں عدوان سے ملنے جارہی ہوں
عدوان کا نام سُنتے ہی شزرا کہ کان کھڑے ہوۓ تھے..
اچھا پر کیوں ؟؟
میں اُسے سب کچھ بتا کر سب کلئیر کرنا چاہتی ہوں…
تم پاگل ہو کیا.
اس میں پاگل والی کیا بات ہے میں نہیں چاہتی میری وجہ سے ایک انسان آس میں رہے اور اُسکا دل ٹوٹے…
اوہ تو تم دل جوڑنے جا رہی ہو؟؟؟؟؟
شزرا نے معنی خیزی سے کہا….
مجھے خود نہیں پتا کہ میں کیوں جا رہی ہوں بس میرا دل کہ رہا ہے کہ مل کر سب کلئیر کر لو….اچھا ویری گُڈ…
اچھا میں جارہی ہوں اور ماما تو مجھے جانے نہیں دیں گی سو ساتھ والوں کی چھت سے جا رہی ہوں ابھی آجاونگی تم سب سنبھال لینا..
ہاں ہاں تم فکر ہی مت کرو میں سسسبببب سنبھال لونگی…
ماہی کہ نکلتے ہی شزرا اس سوچ میں پڑ گئ کہ اس سب معاملے کو کیسے اپنے حق میں سیٹ کیا جاۓ.
*********
ماہی جیسے ہی پارک میں پہنچی وہاں عدوان پہلے سے ہی اُسی بینچ پر موجود تھا جہاں وہ پہلی دفعہ ملے تھے.
ماہی کو دیکھتے ہی وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا…
اُسے دیکھتے ہوۓ ماہی نے کہا آپ جلدی نہیں آگۓ؟؟؟
ہاں بس وہ میں نے سوچا تمھیں انتظار نہ کرنا پڑے آو بیٹھو…
ماہی آ تو گئ تھی پر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بات شروع کہاں سے کرے..
دوسری طرف عدوان ماہی کہ بولنے کہ انتظار میں تھا…
تبھی ماہی سوچتے ہوۓ بُڑبُڑائ ماما نے کہا تھا سب کلئیر کر لو تو میں اِسے سب شروع سے بتا دیتی ہوں…
ہاں یہ صحیح رہے گا…
آپ نے غالباً کوئ بات کرنی تھی ماہی کو کب سے اپنے ہاتھ مسلتے اور منہ ہی منہ میں کچھ بُڑبُڑاتے دیکھ عدوان نے بات کا آغاز کیا…
وہ اصل میں مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں شروع کہاں سے کروں…
جہاں سے اور جیسے تمھارا دل کرے تم شروع کرلو میں پوری رات یہاں ایسے ہی بیٹھے تمھیں سُننے کو تیار ہوں…عدوان نے اپنی آنکھوں میں محبت کا سمندر لئیے ماہی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا. .
اُف اسکی آنکھیں ہیں یا انرجی سیور والا بلب ماہی نے سر جھکاۓ بُڑبُڑاتے ہوۓ کہا…
وہ آپ میری کزن شزرا کو جانتے ہیں نا؟؟؟
جانتا تو نہیں پر ایک دو بار دیکھا ہے..عجیب ہی لڑکی ہے اس وقت اپنی کزن کی بات کررہی ہے پر خیر یہ ماہی ہے جو کچھ بھی بول سکتی ہے عدوان نے مُسکراتے ہوۓ سر جھٹکا..
اصل میں جب ہم نے آپکو پہلی بار آپکے لان میں دیکھا تو شزرا کو لگا کہ آپ کافی روڈ سے ہیں اور حسین بھی…
اوہ تو آپکو میں حسین نہیں لگا…
نہیں وہ ایسی بات نہیں ہے پلیز آپ مجھے بولنے تو دیں آگے مجھے سمجھ نہیں آ رہا کچھ بھی ماہی نے رونے والا منہ بناتے ہوۓ معصومیت سے کہا…
اوکے میں کچھ نہیں بولونگا پر پلیز رونا مت..
اوکے تو اب جب تک میں بات پوری نا کرلوں آپ بولئیے گا نہیں اوکے؟؟؟.
اوکے.. عدوان نے مسکراتے ہوۓ ماہی کی طرف دیکھتے ہوۓ حامی بھری اس وقت وہ اُسے اتنی خوبصورت کسی گڑیا جیسی لگ رہی تھی اور اُسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اُسے سب سے چھپا کر کہیں دور لے جاۓ…
اور پلیز مجھے ایسے مت گھوریں….
اچھا تو آپ ہی بتا دیں کہاں دیکھوں پھر؟؟؟
آپ وہ سامنے درخت کی طرف دیکھیں اور میں آپکو دیکھ کر بولتی ہوں ..
اوکے پر اب بول بھی دو…
ہاں تو میں کہہ رہی تھی اُسے آپ بہت روڈ لگے اور شزرا نہ کہا کہ ایسے لڑکے لڑکیوں کو گھاس بھی نہیں ڈالتے…
عدوان مسکراتا ہوا درخت کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنی پاگل ماہی کو سُن رہا تھا…
پر میں نے کہا کہ سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں…ماہی نے کہتے کہتے عدوان کو دیکھا جس کہ چہرے پر ہلکی سی غصے کی لہر آچکی تھی…
ماہی نے ڈرتے ڈرتے مزید کہا…
پھر اُسی نے کہا کہ اگر میں اُسے یہ بات ثابت کردون means وہ…
اگر آپکو مجھ سے پیار ہوگیا تو میں وہ…
اُف یہ میں کیا بول رہی ہوں…
پھر ہم نے شرط لگا لی اور واقعی میرے بنا کچھ کئیے ہی آپکو مجھ سے پیار ہوگیا اور پھر مجھے احساس ہوا کہ میں نے تو کچھ غلط کردیا پے تبھی وہ…میں معافی…
ماہی کو اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ بول کیا رہی ہے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جو بھی وہ کہہ سکی اُس نے کہہ دیا…
اور عدوان کو تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اُسے بیوقوف بنایا گیا ہے اور سب اُس پر ہنس رہے ہیں…
غصے سے لال انگارہ ہوئ آنکھوں سے عدوان نے ماہی کو دیکھتے ہوۓ بازووں سے مضبوطی سے جکڑے کھڑا کیا…
عدوان کو اتنے غصے میں دیکھ کر ماہی کو تو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئ محسوس ہوئ…
اور شزرا جو کب سے اُنکے پیچھے موجود درخت کہ پیچھے چھپی کھڑی تھی نے یہ سین انجواۓ کرتے ہوۓ مسکرا کر اپنا فون نکالا اور پکچرز لینے لگی…
تم سمجھتی کیا ہو اتنی آسانی سے مجھے بیوقوف بنا لوگی…
پ…پر میں ن..نے تو کچھ کیا ہی نہیں تم.. خود ہی…
آواز بند کرو اپنی جو ہوا جیسے بھی ہوا اس سب میں تمھارا ہی قصور ہے تم….
عدوان نے کچھ کہتے ہوۓ ماہی کو دیکھا جسکا پورا چہرہ آنسووں سے تر تھا اُسے اس طرح روتا دیکھ عدوان کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا…
تبھی وہ پھر سے اپنے لہجے کو حتی الاامکان دھیما کرتے ہوۓ کہنے لگا میں کچھ نہیں جانتا ماہی جو ہوا جیسے ہوۓ میں ہر چیز بھلا دونگا تمھیں معاف بھی کردونگا….
پر تمھیں مجھ سے شادی کرنا ہوگی کیونکہ میں بہت محبت کرنے لگا ہوں تم سے عدوان نے اپنی اُنگلیوں کی پوروں سے ماہی کہ آنسووں کو کسی قیمتی اثاثے کی طرح چُن لیا…
بولو شادی کروگی نا مجھ سے؟؟؟
تم بھی کرتی ہو نا مجھ سے محبت بولو ماہی میں تمھارے لئیے وہ سب کرونگا جو تم کہو گی بس صرف ایک بار بول دو کہ تمھیں مجھ سے محبت ہے…
عدوان نے ماہی کہ چہرے کو اپنے ہاتھوں کہ پیالے میں بھرتے ہوۓ محبت سے پوچھا…
دور کھڑی شزرا نے دو تین تصویریں مزید کھینچیں اور اپنی کامیابی پر خوش ہوتی تیزی سے گھر کی طرف بڑھ گئ…
بولو نا ماہی کروگی نا مجھ سے شادی؟؟؟
پ…پر میری تو اس month کے اینڈ پہ شادی ہے ماہی نے سر جھکاۓ ہوۓ عدوان کہ کانوں میں صور پھونکا…
Whatttt ????
عدوان نے چلا کر کہتے ہوۓ ایک جھٹکے سے ماہی کو چھوڑا اور وہ اپنا توازن کھوتی نیچے جا گری…
عدوان اُسے خونخوار نظروں سے دیکھتا ہو ماہی کی طرف بڑھا اور پاووں کہ بل بیٹھ گیا…
پارک میں اندھیرا پھیل چُکا تھا… اس وقت ویسے بھی سب جا چُکے تھے اور شاذونادر ہی کوئ بچا تھا ویسے بھی اسلام آباد میں سردیوں کی شامیں بہت ویران ہوتی ہیں…
عدوان نے ماہی کا منہ دبوچے کہنا شروع کیا…میرے خیال سے ماہی وقت آگیا ہے کہ میں تمھیں یہ دکھاوں کہ عدوان چیز کیا ہے…
بہت ہلکا لے لیا ہے تم نے مجھے اب تم دیکھو کہ میں کرتا کیا ہوں… اور مجھے یقین ہے کہ ایک وقت ایسا آئیگا کہ تم اپنی نا سمجھی اور بیوقوفی پر بُری طرح پچھتاوگی…
عدوان ماہی کا چہرہ چھوڑتے ہوۓ اُسکی طرف اُنگلی اُٹھاۓ وارن کرتا پارک سے باہر چلا گیا….
