Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 28 (Last Episode)
Rate this Novel
Beri Piya Episode 28 (Last Episode)
Beri Piya by Hareem
شزرا کہاں جا رہی ہو یار آو کبھی میرے پاس بھی بیٹھو…
بُراق نے کمرے سے باہر جاتی شزرا کا ہاتھ روکے نہایت پیار سے کہا….
واہ آج تو مسٹر کا موڈ بہت ہی خوشگوار ہے..
(شزرا بھی مسکراتے ہوۓ براق کہ پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئ)…
شزرا وہ….میں ایک بہت ضروری بات کرنا چاہتا ہوں تم سے….
جی بالکل کہیے جناب اب تو پوری زندگی آپکو ہی سُننا ہے….
(شزرا نے براق کہ نزدیک ہوتے اپنا سر اُسکے کندھے پر ٹکا دیا)
وہ شزرا….پلیز پہلے میری بات آرام و سکون سے سُن لینا تب ہی کوئ رئیکشن دینا…
ایسی بھی کیا بات ہے بُراق؟؟اور آپ میرے شوہر ہیں کبھی بھی کچھ بھی بلاجھجھک کہہ سکتے ہیں..
(ہاۓ کہیں یہ مجھے کوئ سرپرائز تو نہیں دینے والا تبھی پہلے ایسی ایکٹنگ کررہا ہے…ہاۓ وہ سرپرائز کیا ہوگا شزرا دل ہی دل میں متوقع سرپرائز کہ متعلق سوچنے لگی…)
وہ شزرا وہاں پیرس میں میری ایک girl friend تھی سونیا…gf کا سُنتے ہی شزرا کی براق کی شرٹ کہ بٹنز سے کھیلتی اُنگلیاں ساکت ہوگئ تھیں….
اینڈ یو نو وہاں یہ سب بہت کامن ہے..اور تم تو خود بھی کافی بولڈ ہو تم سُن رہی ہو نا…
شزرا جو سانس روکے بُراق کو سُن رہی تھی ہنکار بھرتے اپنے سُننے کا یقین دلایا…
And now she is pregnant…
کیااااااا…..
شزرا جو ابھی تک بنا کچھ کہے خاموشی سے سُن رہی تھی ایک جھٹکے سے بُراق سے دور ہوئ…
ہاں…اور میں نے ٹیسٹ بھی کروایا…
And she is right…
وہ بچہ میرا ہی ہے….
تت…تو….ااا…اب….
وہ چاہتی ہے کہ….میں….اُس سے شادی کرلوں…
اب کی بار شزرا کا ہاتھ اپنے کھلے منہ کی جانب بڑھا اور وہ بیڈ سے کھڑی ہوتی مزید دور ہوئ…
شزرا بُراق نے اپنے سامنے کھڑی شزرا کہ ہاتھ پکڑے…
میں نے اُسے منع کردیا میں نہیں کرونگا اُس سے شادی believe me میری جان میں تمہیں چاہتا ہوں…
تمھارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں…تمھارا بن کر…
پپ…پر…اُس بچے کا کیا…
اُس سے بات ہوگئ ہے وہ بچہ ہمیں دے دیگی اور پھر ہم دونوں اُسے پالیں گے…
Oh shut up…
بہت ہوا…. بہت ہوا سمجھے مجھے گھن آرہی ہے تم سے…
گھن آرہی ہے خود سے کہ تم جیسے شخص سے پیار کیا میں نے…
شزرا….
بس بہت سُن لیا…اب ایک اور لفظ بھی مت بولنا سمجھے…
ابھی تو صرف یہ ایک لڑکی سامنے آئ ہے آگے پتہ نہیں کون کون نکلے گی.. اور پتہ نہیں کتنے بچے…
ایسا نہیں ہے شزرا یہ پہلی اور آخری غلطی تھی میری…
تم اپنا یقین کھو چُکے ہو…
تم نے میرے بھروسے میرے ارمانوں کا خون کیا ہے براق…
مم…میں سمجھتی تھی کہ میں بہت خوشقسمت ہوں کہ مجھے تم جیسا شوہر ملا…
پر آج سمجھ آرہا ہے کہ خوشقسمت تو ماہی تھی کو تم جیسے انسان سے بچ گئ…
کہاں جا رہی رُکو شزرا…
میں سب کو تمھاری اصلیت بتاونگی…
بتاونگی سب کو کہ دھوکا دیا ہے تم نے مجھے….
اور اپنا فیصلہ بھی سُناونگی کہ نہیں رہنا مجھے تمھارے ساتھ…
شزرا بھاگتی ہوئ اپنے کمرے سے باہر نکل گئ…..
************
رات کہ آٹھ بجے سردار ہاوس کہ ڈرائینگ روم میں اس وقت عدالت کا سا سماں تھا..
جہاں آج سب کی نظروں میں ماہی کہ لئیے ہمدردی تھی…
اور اپنے کئیے پر شرمساری…
تبھی آنسووں سے تر چہرہ لئیے شزرا وہاں پُہنچی اور ماہی اور عالیہ کو بیٹھا دیکھ آسمان اپنے سر پر گرتا محسوس ہوا…
اچھا ہوا تم آگئ میں ابھی تمہیں ہی بُلوانے والا تھا…
اندر آو…دادا کہ کہنے پر شزرا اپنے بوجھل قدم بڑھاتی آگے بڑھی تبھی بُراق بھی اپنی صفائ دینے وہاں پُہنچا پر اندر کہ حالات دیکھتا وہیں خاموشی سے اپنی ماں کہ پاس ٹک گیا….
تم نے اتنی دور عالیہ کو فون کردیا پر ہمیں نہیں بتایا کیوں شزرا؟؟؟
کیا ہم وجہ جان سکتے ہیں؟؟
وہ…وہ دادا میں ڈر گئ تھی مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ آپ سب سے کیا اور کیسے کہوں…
تم نے اُس دن ہی سب سچ کیوں نہیں بتا دیا شزرا…
کیوں ماہی کی زندگی برباد ہونے دی ثروت نے خاموش بیٹھی ماہی کو دیکھتے ہوۓ کہا…
جسے یہاں ہونے والی کسی کاروائ سے کوئ سروکار نہیں تھا…
ماہی کہ دل میں بس یہی ایک بات چل رہی تھی….
کہ جب اعتبار چاہیے تھا تب کیا نہیں اب سب سامنے آگیا ہے تو اب مجھ پر یقین کرنے کا کیا فائدہ اب سب پہلے جیسا تھوڑی ہوگا بابا زندہ تو نہیں ہو جائینگے..
میں کیا کرتی دادو وہ عدوان نے مجھے دھمکی دی تھی…مجھے اتنا ڈرا دھمکا دیا تھا کہ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا…
اور…اور…میں ویسا ہی سب کرتی گئ جیسا مجھے کرنے کو کہا گیا…
شزرا اپنے اُوپر لگے سارے الزام کو ہٹاتی سارا ملبہ عدوان پر تھوپنے لگی…
عدوان کہ ذکر پر زخمی نگاہوں سے ماہی نے شزرا کو گھورا جس پر وہ نگاہیں چُرا گئ……
************
ماہی……
ماہی…..
عدوان ماہی کو پُکارتا سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ تبھی ثانیہ صاحبہ نے عدوان کو آواز دیکر روکا….
عدوان…
عدوان…
پلیز مام ابھی نہیں پہلے مجھے ماہی سے بات کرنے دیں پھر میں آکر آپکی بات سُنتا ہوں….
پر عدوان ماہی تو گھر پر نہیں ہے…
اپنے کمرے کی طرف بڑھتے عدوان کہ قدم وہیں روک گۓ…
کیا….کیا وہ ابھی تک نہیں پُہنچی؟؟
گھر تو آئ تھی بیٹا پر…
پر کیا جلدی بتائیں مام میری ماہی کہاں ہے…
وہ… وہ اپنی ماں کہ ساتھ چلی گئ…
کیا؟؟؟وہ چلی گئ اور آپ نے مجھے بتایا تک نہیں…
کال کی تھی بیٹا بٹ تمھارا نمبر بند تھا…
اُشنا مزے سے چیونگم چباتی عدوان کی حالت سے لطف اُٹھا رہی تھی..
وہ کیسے جاسکتی ہے مام؟؟؟
وہ کیسے چلی گئ…
میں شوہر ہوں اُسکا نا مجھ سے پوچھا نا مجھے بتایا اور چلی گئ…
تو بیٹا کونسا اپنی ماں کہ ساتھ امریکہ چلی گئ ہے سامنے ہی تو گئ ہے…
عدوان جو آنکھوں میں خون لئیے اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا…
سامنے کا نام سُنتے فوراً اُٹھتا باہر بڑھ گیا اور ثانیہ اُسے آوازیں دیتی رہ گئیں….
***********
عدوان کہ بیل دینے پر چوکیدار نے دروازہ کھولا…
جی صاحب…
ہٹو آگے سے..
وہ جی آپکا آنا منع ہے…
اوہ ہٹو آگے سے عدوان چوکیدار کو دھکیلتا آگے بڑھنے لگا جبکہ وہ روکو صاحب….
اندر نہیں جاو…
بڑا صاحب ناراض ہوگا کہتا آوازیں دیتا عدوان کہ پیچھے دوڑنے لگا…..
عدوان کو اندر آتا دیکھ سب کو سانپ سونگھ گیا تھا…
اور ماہی جو پہلے ہی عدوان کہ روئیے کو سوچتی ڈری بیٹھی تھی اپنی ماں کہ مزید قریب ہوگئ…جیسے چُھپنا چاہتی ہو…
اور یہ بات وہاں بیٹھے ہر شخص نے نوٹ کی اور اس کا الگ ہی مطلب نکالا….
تم کس سے پوچھ کر یہاں آئ ہو؟؟؟
عدوان دھاڑتا ہوا ماہی کہ سر پر پہنچا..
تبھی عالیہ جو کب سے اپنی بیٹی کی ساتھ ہوئ زیادتی سُنتے پیچ و تاب کھاۓ بیٹھی تھیں…
غصے سے اُٹھتیں عدوان کہ منہ پہ تھپڑ مار گئیں…
جس پہ وہ ہکا بکا اُنہیں دیکھتا مُٹھیاں بھینچ گیا…
اور شزرا تو مانو اپنی اصلیت کہ کہ کھلنے کہ ڈر سے عدوان کو دیکھتی بیہوش ہونے کہ قریب تھی….
تمھاری ہمت کیسے ہوئ میری بیٹی کو رسوا کرنے کی…
ہاں بولو جواب دو تمہیں کیا لگا اُسکے آگے پیچھے کوئ نہیں ہے ..
عدوان کا گیریبان پکڑے وہ باقاعدہ اُس پر چیخ رہی تھیں. ……
بیٹھ جاو عالیہ آرام سے بات کرو…
سردار بخش نے عالیہ کو پیچھے ہٹاتے ہوۓ کہا.
آرام سے…ابھی بھی میں آرام سے بات کروں میری بیٹی کو تباہ کردیا اس نے بابا اور آپ چاہتے ہیں کہ ابھی بھی میں آرام سے بات کروں ….
اچھا میں نے برباد کیا؟؟؟
اور آپ سب تو جیسے بڑا آباد کرنے والے تھے نا اسے…
عدوان سے مزید نا رہا گیا تو بول ہی پڑا…
آپ ہی بتائیں دادا آپ تو بُزرگ ہیں نا اس گھر کہ…
میں مانتا ہوں میں نے اسے رسوا کیا میں نے بہت غلط کیا…
پر کیا کروں محبت ہوگئ تھی مجھے پاگل ہوگیا تھا میں…
سردار بخش کہ سامنے کھڑا عدوان اپنا دل کھولے کسی ہارے ہوۓ جواری کی طرح بیٹھا اپنی محبت کہ لئیے گڑگڑا رہا تھا…
مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ کہیں انگیجڈ ہے اگر پتہ ہوتا تو اپنے دل پہ پہرے لگا دیتا…
پر جب پتہ چلا تب تک بہت دیر ہوگئ تھی…
پر پھر بھی تم نے غلط کیا تم نے سرعام ہماری عزت اُچھالی…
میں ایسا نہیں کرتا… میں نہیں کرتا ایسا اگر آپ نے کوئ صحیح انسان چُنا ہوتا تو…
کیا مطلب ہے تمھارا لڑکے؟؟اپنے بیٹے کہ ذکر پر کب سے خاموش بیٹھی مہوش بھی میدان میں کود چُکی تھیں…
کیوں کیا آپ نہیں جانتیں کہ اپنے بیٹے کی ناجائز اولاد کی دادی بننے والی ہیں…
کیا بکواس کررہے ہو لڑکے…
صحیح تو کہہ رہا ہوں…عدوان نے سردار بخش کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنا موبائل نکالا اور facebook اوپن کرکے سونیا کی id کھول کر اپنا فون اُنکے ہاتھ میں دیا…
جسے دیکھتے ہی وہ ایک جھٹکے سے کھڑے ہوگۓ…
عائشہ جو عدوان کی بات سُنتے ہی حیرت کہ سمندر میں غوطہ زن تھیں جلدی سے آگے بڑھتیں اپنے سسر کہ ہاتھ سے فون جھپٹتیں منہ پہ ہاتھ رکھے پکچرز دیکھنے لگیں…
براق یہ…یہ سب کیا ہے؟؟
اس سے پہلے کہ براق کوئ جواب دیتا شزرا بول اُٹھی یہ سب صحیح ہے بالکل سچ بول رہا ہے یہ…
اتنا بڑا دھوکہ براق…. اس سے پہلے کہ عائشہ براق پہ جھپٹتیں سردار بخش بول اُٹھے….
خاموش سب خاموش ہو جاو اور عائشہ اپنی جگہ پر بیٹھو ابھی ہم زندہ ہیں….
اور تم اگر سب جانتے تھے تو تب کیوں نہیں بتایا ہم خود ماہی کا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں دے دیتے اور شزرا…
شزرا کہ بھی زندگی تباہ ہونے سے بچ جاتی…
شزرا کی زندگی اُس نے خود تباہ کی ہے…
عدوان نے ایک اور bomb سب کہ سروں پہ پھوڑا…
اور شزرا دعا کرنے لگی کہ کاش یہ زمین پھٹ جاۓ…
(پر نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے اپنی غلطیوں کا سامنا آخر کار کرنا تو پڑتا ہی ہم جتنا مرضی چاہے بھاگ لیں پر ہمارے گناہ گھوم پھر کہ ہمارے سامنے لازمی آتے ہیں)
میں سچ کہہ رہا ہوں شزرا پسند کرتی تھی براق کو اور اس سے ہی شادی بھی کرنا چاہتی تھی تبھی اس نے میری مدد کی اس سب میں..
مہندی سے میرا نام لکھنا… ماہی کا شناختی کارڈ اور سگنیچرز سب اس ہی نے مجھ تک پُہنچاۓ تھے چاہے تو آپ پوچھ لیں اس سے…
بُراق جو شرمندگی کہ مارے نظریں جُھکاۓ بیٹھا تھا شزرا کا سچ سامنے آنے پہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگا….
کہ تبھی سردار بخش عدوان کو کہنے لگے…
ٹھیک ہے ہمارے بچوں نے غلطی کی ہے اس کی سزا انہیں ضرور ملے گی پر تم… تم بھی قصور وار ہو اور تمہیں بھی سزا ملے گی…
ماہی…
ماہی جو کب سے اس ہونے والے تماشے کو دیکھ رہی تھی اپنا نام پکارے جانے پر اپنے دادا کی طرف متوجہ ہوئ…
کیا تم اس شخص کہ ساتھ جانا چاہتی ہو.
اپنے دادا کی بات پر ماہی نے عدوان کی طرف دیکھا…
جو آنکھوں میں آس لئیے ماہی کو ہی دیکھ رہا تھا..
دل تھا کہ عدوان کہ قدموں میں لپٹ لپٹ جارہا تھا…
پر دماغ صرف یہی کہہ رہا تھا…
کہ تڑپاو اس شخص کو اور کبھی معاف نا کرنا جس نے تمہیں تماشا بنا دیا…
جس نے تمھارے کردار کو سوالیہ نشان بنا ڈالا…
بولو ماہی…بتا دو سب کو کہ تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو…
بولو بتاو میری جان عدوان نے آگے بڑھتے ماہی کا چہرہ اپنے ہاتھوں کہ پیالے میں بھرتے ہوۓ کہا….
ماہی نے فیصلہ کرتے ہوۓ اپنا چہرہ عدوان سے چھڑوایا اور…
نہیں میں نہیں رہونگی تمھارے ساتھ کہتی ہوئ اپنے ہی دل کو پیروں تلے روندتی عدوان کو پیچھے کھڑا چھوڑ آگے بڑھ گئ…
ماہی تم ایسا کیسے کر سکتی ہو عدوان نے جیسے ہی ماہی کہ پیچھے جانے کہ لئیے قدم بڑھاۓ تبھی مہد جو کچھ دیر قبل ہی گھر پُہنچا تھا…
سوجا چہرہ لئیے عدوان کہ سامنے کھڑا ہوگیا سُنا نہیں تم نے کیا کہہ کر گئ ہے چلو جاو…
تم… تم کچھ بھی کر لو مہد ہمارے بیچ نہیں آسکتے…
ہاہاہا…بڑی خوش فہمی ہے بھئ…
مہد کا ہنسنا عدوان کو آگ لگا گیا تھا…
چلو نکلو اس سے پہلے کہ دھکے دے کر باہر نکالے جاو….
ابھی تو میں جا رہا ہوں پر میں اپنی بیوی کو لینے ضرور آونگا…
میری بیوی ہے وہ ایسے نہیں روک سکتے آپ سب اُسے….
عدوان نے اپنی بھڑاس نکالتے باہر کی طرف قدم بڑھاۓ ہی تھے کہ آخری bomb blast کرنے کا سوچتے عالیہ کی جانب بڑھا…
نانی بننے والی ہیں آپ سو خیال رکھئیے گا میری بیوی اور بچے کا….
***************
ماہی کمرے میں آتے ہی اتنے عرصے بعد اپنا کمرہ دیکھتی وہیں بیٹھے رونے لگی…
تم جیت گۓ عدوان تمھاری محبت جیت گئ…
ہاں تم کرتے ہو مجھ سے محبت تم ہی ہو جو مجھ پر یقین بھی رکھتے ہو…
ماہی جو اُس گھر سے عدوان کہ reactionکا سوچتی ڈر کر آئ تھی….اب اُسی کی آنکھوں میں بنا کوئ سوال دیکھے جیسے پھر سے جی اُٹھی تھی…
آج وہ خوش تھی اُسکا دل خوش تھا اس لئیے نہیں کہ وہ سب کی نظروں میں سرخرو ہوگئ تھی…
اُس نے جو کچھ جھیلنا تھا جھیل لیا تھا اب کسی کہ اعتبار کرنے سے کوئ فائدہ نہیں تھا..
وہ خوش تھی تو اس لئیے کہ اُسکو پھر سے بےاعتبار نہیں ٹھہرایا گیا تھا…
عدوان نے اُس پہ بھروسہ کیا تھا…
پر کچھ سزا تو بنتی ہے نا عدوان زیادہ نہیں کچھ ہی سہی…
عدوان کا خیال آتے ماہی اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھتی مسکراتے ہوۓ آنسو صاف کرنے لگی…
************
اپنی شاموں میں پھر حصہ کسی کو نہ دیا
عشق تیرے بنا بھی میں نے تجھ سے ہی کیا
عدوان ماہی کہ گھر سے نکلتا اپنے گھر جانے کہ بجاۓ ناک کی سیدھ میں چلتا جا رہا تھا…
کیوں ماہی کیوں؟؟؟
آخر کیسے تم مجھے اور میری محبت کو بھول سکتی ہو…
کیسے…
آج بھی تمہیں اپنے خاندان اپنے گھر والوں کی فکر ہے میری نہیں…
عدوان نے اپنی آنکھوں کہ گوشوں کو صاف کرتے ہوۓ فیصلہ لیا….
ٹھیک ہے ماہی اب جیسے تم چاہوگی ویسے ہی ہوگا..اب میں بار بار تمہیں اپنی محبت کا یقین نہیں دلاونگا اور نا ہی تمہیں راستے میں آونگا…
***********
مہوش بُراق کی حرکت کہ بعد کسی سے بھی نظریں نہیں ملا پارہی تھیں..
شزرا کو تو بُراق کی طرف سے ملے صدمے کا اتنا دُکھ تھا کہ باقی کسی چیز کی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی….
جبکہ عائشہ آج اپنے ہی بولے گۓ طعنوں کی ضد میں تھیں..
کہ تبھی سردار بخش کی آواز نے موت کہ سے سناٹے کو چیرا…
تم دونوں نے آج مجھے بہت شرمندہ کیا ہے…اور بُراق تم اتنا بڑا گناہ کرسکتے ہو اسکی مجھے ذرا برابر بھی اُمید نہیں تھی..
پر نانا…
خاموش ایک دم خاموش میں تمھاری آواز بھی نہیں سُننا چاہتا…
اور تم شزرا مجھے افسوس ہے کہ میرے ہاتھوں میں پلی بچی ہی میری عزت کو تار تار کر گئ…
اب تم دونوں کی سزا ہے کہ ابھی اپنا سامان باندھو اور نکل جاو میرے گھر سے….
پر دادا میں براق کہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی اس نے دھوکا دیا ہے مجھے اور اب چاہتا ہے کہ اسکا ناجائز بچہ بھی پالوں…
ابھی شزرا کی بات مکمل ہی ہوئ تھی کہ ثروت صاحبہ بول پڑیں…
آج میں نے اپنے رب کی آیات کا مفہوم صحیح سے سمجھ لیا ہے…
بیشک تم جیسی عورت کہ لئیے ایسا ہی مرد بہتر ہے…
شزرا کو یہ الفاظ اپنے منہ پر تیزاب کہ چھینٹوں کی طرح محسوس ہوۓ تھے.
پر بابا شزرا کہاں جائیگی…
جب ماہی کو نکالا تھا تب یہ بات تو نہیں کی تھی تم نے…
اور ویسے بھی یہ اپنے شوہر کہ ساتھ جا رہی ہے کوئ اکیلے نہیں…
آدھے گھنٹے کا وقت ہے جاو تم دونوں میرے گھر سے اور جب تک میں ہوں یہاں دوبارہ قدم مت رکھنا…
سردار بخش اپنا فیصلہ سُناتے چل دیئیے اور شزرا روتے ہوۓ اپنی ماں سے لپٹ گئ. ..
*********
بُراق اور شزرا جا چُکے تھے…
احد کا سادگی سے صرف نکاح کردیا گیا تھا..
عالیہ ماہی کی دیکھ بھال میں بزی تھیں..
جبکہ عائشہ آج کل ہر کسی سے نظرہں چُراتی رہتی تھیں…
ماہی اس وقت چھت پر اہک کنارے پہ بیٹھی ہاتھ میں دوربین لئیے عدوان کی بالکنی پہ اپنا فوکس کئیے بیٹھی تھی کہ تبھی مہد گلہ کھنکھارتے وہاں پُہنچا…
کیسی ہو ماہی…
ماہی کا اُس دن کہ بعد سے آج مہد سے سامنا ہوا تھا…تبھی مہد کو اگنور کرتی اپنے فون میں بزی ہوگئ…
ماہی میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے…
میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی…
اوہ تو تم ناراض ہو چلو کوئ نہیں…
مہد بے تکلفی سے کہتا ماہی کہ ساتھ بیٹھ گیا…
آپ کو کام نہیں ہے کیا ؟؟
ماہی نے ناک منہ چڑھاتے ہوۓ کہا…ویسے بھی یہ وقت عدوان کی ایکسرسائز کا تھا اور اُسے عدوان کو دیکھنا بھی تھا..
ابھی تو سب سے ضروری کام یہی ہے کہ میں تم سے یہ پوچھوں کہ آگے کا کیا سوچا ہے تم نے؟؟
کیا مطلب ہے آپکا ماہی نے ناسمجھی سے دیکھتے ہوۓ پوچھا…
مطلب یہ کہ کیا میں تمھارے لئے divorce papers تیار کرواوں.
کیاااا…یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ…
ہاں صحیح تو کہہ رہا ہوں اب تم عدوان کہ ساتھ بھی نہیں رہنا چاہتی سو ساری زندگی ایسے تو نہیں گزاروگی نا… میری مانو تو اُس سے طلاق لے کر مجھ سے شادی کرلو تمھارے بچے کو بھی پال لونگا…آفر لامحدود مدت تک ہے سو آرام سے سوچ لو…
جن اپنوں کی یاد میں تم رو رہی ہو نا ان اپنوں کی اصلیت سامنے أجانے پہ ایک دن تم میرا شکریہ کرو گی…
*************
عدوان تم یہاں بیٹھے ہو…
دیکھو موسم کتنا خوشگوار ہے چلو لونگ ڈرائیو پہ چلتے ہیں…
اُشنا نان سٹاپ بولتی عدوان سے کہنے لگی…
نہیں میرا موڈ نہیں ہے تم جاو…
یہ کیا بات ہوئ جب سے ماہی گئ ہے تم کسی سے بات ہی نہیں کرتے اتنا مس کرتے ہو تو لے آو اُسے….
یہ میرا مسئلہ ہے تم اس میں ٹانگ مت آڑاو سمجھی….
اوہ تم تو مائنڈ ہی کر گۓ…
ویسے ایک اُڑتی اُڑتی خبر پُہنچی ہے مجھ تک….
اچھا وہ کیا…عدوان نے سائیڈ پہ پڑا کُشن اپنی گود میں رکھتے اُشنا سے پوچھا..
میں نے سُنا ہے….
کہ….ماہی تم سے…طلاق لینے والی ہے..
ہاہاہاہاہاہاہا…..nice joke
عدوان نے ہنستے ہوۓ اُشنا کو دیکھا اور پھر غراتے ہوۓ سختی سے اُسکا بازو کھینچا…. یہ تم اور مہد جو آج کل کرتے پھر رہے ہو نا…
وہ سب مجھے سمجھ آرہا ہے سمجھی…
میں ماہی نہیں ہوں…میری دو آنکھیں آگے اور دو پیچھے ہیں…
So be careful plastic doll…
عدوان ایک جھٹکے سے اُشنا کا ہاتھ چھوڑتا اُسکی پلاسٹک سرجریز پہ چوٹ کرتا باہر نکل گیا..
***********
کتنے روکھے بال ہو رہے ہیں ماہی…
کب سے تیل نہیں لگایا….
عالیہ کہ پوچھنے پر ماہی کو اُس دن کا واقع یاد آگیا جب…….
عدوان نے آفس سے آتے ہی چھینکنا شروع کر دیا تھا…
اچھو…اچھو…
یہ اتنی عجیب سے smell کہاں س ے آرہی ہے…
ہیں کیسی سمیل مجھے تو نہیں آرہی…
عفوان نے باتھروم سے باہر آتی ماہی کق گھورا…
یہ کیا لگا لیا تم نے؟؟؟
کہاں پر؟؟؟
یہ اپنے سر پہ عدوان نے مزید نزدیک آتے ماہی کا سر سونگھا…
اچھو…اچھو….یہ یہ چنبیلی کا تیل کون لگاتا ہے بھلا…
اوہ یہ وہ بوا(کام والی) سے میں نے کہا مجھے مساج کردیں تو انہوں نے کردیا…
اچھو اچھو…
جاو سر دھو کر آو…
کیا ابھی تو لگایا ہے ویسے بھی دو گھنٹے تک نہیں دھو سکتی….
اچھو اچھو…جاو ماہی کم سے کم میری حالت پہ ہی ترس کھاو…
اور پھر ماہی کہ ڈھیٹ بننے پر عدوان نے ماہی کو باتھروم میں بھیج کر لاک لگا لیا اور تب تک نہیں کھولا جب تک اُس نے سر نہیں دھویا.. .
عدوان کو یاد کرتے ماہی ہنسنے لگی تھی…
کیا ہوا ہنسی کیوں آرہی یے میری بیٹی کو.
کچھ نہیں ماما بس ایسے ہی..
ایک بات کہوں..
جی کہیۓ….
عدوان کا اور اُسکے گھر والوں کا رویہ کیسا تھا تمھارے ساتھ…؟؟؟
ممی تو بہت اچھی ہیں وہ بہت خیال رکھتی تھیں میرا اور بھابھی بھی ٹھیک تھیں…
اور عدوان؟؟
عدوان کہ ذکر پر ماہی کہ دل نے ایک بیٹ مس کی تھی…
بتاو ماہی ؟؟
وہ بہت خیال رکھتا تھا میرا…
میں نے بہت تنگ بھی کیا اُسے پر وہ کبھی کچھ نہیں کہتا تھا میری ہر فرمائش پوری کرتا تھا…
ماہی عدوان کہ خیالوں میں کھوئ بولتی ہی چلی گئ..
اگر تم بُرا نا مانو تو میں ایک بات کہوں…
جی ماما آپ بار بار ہر بات کہ لئیے اجازت لے کر مجھے شرمندہ نا کریں پلیز…
دیکھو ماہی ہر انسان کو وہی ملتا ہے جو اُسکی قسمت میں ہوتا ہے..چاہے اُسے جیسے بھی ملے…
ہم نے بچپن سے براق کا ہی سوچا تمہارے لئیے پر ہماری سوچ کہ مطابق کچھ نہیں ہوا…
اور اب تم خود دیکھو جو بھی ہوا اُسی میں تمھاری بہتری تھی اگر براق سے تمھاری شادی ہوجاتی تو؟؟؟
اور اب تو تم ماں بھی بننے والی ہو….
سو میری مانو تو واپس چلی جاو میں سب کو سمجھا لونگی…
تبھی ماہی اپنے بال چھڑواتی پیچھے مُڑی..
ماما کیا بابا نے مجھے معاف کردیا ہوگا؟؟؟
بیٹا جب تمھاری غلطی ہی نہیں ہے تو کیسی معافی….
اب اُٹھو اور کھانے کہ لئیے آو میں بات کرتی ہوں تمھارے دادا سے اور خود چھوڑ کر آتی ہوں تمہیں…
عالیہ اُٹھتی باہر نکل گئیں جبکہ ماہی عدوان کہ ذکر پر لال ہوتی گُنگنانے لگی…
پر باہر کھڑے مہد کو جو ماہی سے جواب لینے آرہا تھا…
اُن ماں بیٹی کی باتیں سُنتا غُصے سے پاگل ہونے لگا….
**********
تو نے میرے جاناں….
کبھی نہیں جانا….
عشق میرا درد میرا….
ہاۓ…
تو نے میرے جاناں…
کبھی نہیں جانا…
عشق میرا درد میرا…
عاشق تیرااااااا…..
بھیڑ میں کھویا رہتا ہے…
عاشق تیرااااااا…
پوچھو تو اتنا کہتا ہے….
چلا میں چلا….
عدوان ہاتھ میں سگریٹ پکڑے اپنی بالکنی میں کھڑا تھا…
آج پورے دو ہفتے ہوگۓ تھے ماہی کو گۓ…
ماہی کو دیکھے..
جتنے دن گُزرتے جا رہے تھے اتنا ہی جینا مُشکل ہوتا جارہا تھا…
اُف ماہیییییی…
واپس آجاو واپس آجاو….
میرا جینا مشکل نا کرو پلیز…
Come back my innocent princess please come back…
*************
پتہ نہیں عالیہ نے کیا کہہ کر سب کو منایا تھا پر اب کسی کو بھی ماہی کہ جانے پر اعتراض نہیں تھا…
ویسے بھی جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی…
ماہی خوشی خوشی ہلکے ہلکے ڈانس کہ لئیے سٹیپ اُٹھاتی…
ادھر سے اُدھر ہوتی…جھوم رہی تھی کہ تبھی دروازہ ناک ہوا…
ہیں…اس وقت کون آگیا؟؟
وہ سوچتی جیسے ہی آگے بڑھی سامنے مہد کو کھڑا دیکھ…
منہ بناتے پوچھنے لگی…
کیا ہے…
تمہیں دادا اپنے کمرے مہں بُلا رہے ہیں…
ہیں اس وقت؟؟
وہ سوۓ نہیں ہیں کیا…
جانا ہے تو جاو زیادہ باتیں مت بناو…
مہد اُسے جھاڑتا خود بھی سیڑھیوں کو پھلانگتا نکل گیا…
ہیں اسے کیا ہوا…
ماہی واپس کمرے میں آتی اپنا ڈوپٹہ اُٹھاتے باہر نکل گئ…
ابھی وہ پہلی سیڑھی سے ہی نیچے اُتری تھی کہ اُسکا پیر پھسلا اور وہ چیختی ہوئ نیچے گرنے لگی…
آآآآ…مامااااااا….
ماہی کی چیخ پر تقریباً سب بھاگتے ہوۓ باہر آۓ اور اُسے یوں خون میں لت پت پڑا دیکھ چیختے ہوۓ عالیہ اُس تک پُہنچیں…
ماہی…
ماہی کیا ہوگیا…
آنکھیں کھولو میرا بچہ…
احد گاڑی نکالو…
سردار بخش نے احد کو جلدی سے کہا…
احد کو باہر جاتا دیکھ عالیہ بھی باہر کی طرف بھاگیں…
وہ ابھی گیٹ تک ہی پُہنچی تھیں کہ سامنے ہی عدوان کو دیکھ کر چلانے لگیں…
عدوان…
عدوان..اپنے نام کی پُکار پر ہوش میں آتے عدوان نے سامنے کی طرف دیکھا…
جی آنٹی کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟؟؟
جلدی آو عدوان ماہی ماہی کو کچھ ہوگیا ہے..
ابھی عالیہ کی بات مکمل بھی نہیں ہوئ تھی کہ عدوان بھاگتا ہوا…
کچھ ہی دیر میں سامنے پُہنچا…
جہان زمین پر لت پت ماہی کو پڑا دیکھ عدوان کہ قدم جم گۓ…
پر احد کو ماہی کہ قریب بڑھ کر اُسے اُٹھاتا دیکھ عدوان فوراً سے آگے بڑھا اور اُسے گود میں لے لیا…
*************
تمہیں کیا لگا ماہی کہ تم ایک بار پھر سے مجھے reject کر کہ اتنی آسانی سے چلی جاو گی نہیں ایسا نہیں ہوگا…
(مہد نے ماہی کو گرانے کہ لئیے سیڑھیوں پر تیل گرادیا تھا جس سے ماہی کا پیر پھسلا اور وہ نیچے جا گری)
اچھا خاصا سارا بزنس مجھے مل جاتا…
مہد ڈرائیو کرتا لاہور کی طرف جا رہا تھا تاکہ اُس پہ الزام نا آۓ..
کہ تبھی over speeding کی وجہ سے مہد کی گاڑی ایک تیز رفتار ٹرک سے جا ٹکرائ..
(ویسے بھی جو بُرا کرتے ہیں اُنکی سزا تو بنتی ہے نا)
*********
اس وقت سب ہاسپٹل کہ باہر ماہی کہ لئیے دُعا گو تھے…
اور سب سے زیادہ تو عدوان کی حالت خراب تھی…اور وہ مسلسل ٹہل رہا تھا…
عدوان…
مام…مہوش کو آتا دیکھ عدوان اُن سے لپٹ گیا…
یہ کیا ہوگیا عدوان…
پلیز ماما آپ دعا کریں پلیز ماہی کہ لئیے دعا کریں اگر اُسے کچھ…کچھ ہوگیا تو میں بھی جی نہیں پاونگا…
عدوان ثانیہ سے لپِٹا رونے لگا…
عالیہ جن کی حالت خود بہت خراب تھی رونے کی وجہ سے عدوان کو دیکھتیں ماہی کہ نصیب پر رشک کرنے لگیں…
کہ تبھی ڈاکٹر کو آتا دیکھ وہ اُنکی جانب بڑھا…
ڈاکٹر میری مسز ؟؟؟
وہ…وہ…ٹھیک ہے نا..
جی وہ بالکل ٹھیک ہیں کمر اور سر پر چوٹیں ہیں but she is fine …
مام… مام…دیکھیں ماہی ٹھیک ہے ماہی ٹھیک ہوگئ…
عدوان ثانیہ کو خوشخبری سُناتا اُن سے لپٹ گیا…
مسٹر عدوان….آپ اپنے بےبی کا نہیں پوچھیں گے کہ وہ ٹھیک ہے کہ نہیں…
ماہی کو دیکھتے وہ اپنے ہونے والے بچے کو تو بھول ہی گیا تھا…
اوہ… is my baby fine???
Yeah your baby is perfectly fine..
پر کیسے ڈاکٹر؟؟
عالیہ حیران ہوتیں پوچھنے لگیں…
یہ سب اللہ کہ کام ہیں وہ جسے چاہے زندگی دے..
اور ویسے بھی گرتے ہوۓ اُنکی بیک زیادہ متاثر ہوئ ہے..
عدوان کو تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اپنی خوشی کا اظہار کیسے کرے…
سو اب آپ سب کو بہت زیادہ خیال رکھنا ہے اُنکا…
ڈاکٹر میں مل لوں اُن سے؟؟
جی ضرور…کہتے professional مسکراہٹ چہرے پہ سجاۓ وہ لیفٹ سائیڈ پر مُڑ گۓ…
**********
سردار بخش کسی کام سے اُوپر آۓ تھے اور اب حیرت سے سیڑھیوں پہ گرا تیل دیکھ رہے تھے…
یہ کس نے گرا دیا بھلا؟؟؟
ابھی وہ investigate کر ہی رہے تھے کہ عائشہ اور ریاست صاحب اپنے کمروں سے ہڑبڑاۓ ہوۓ باہر آۓ…
کیا ہوا بیٹا؟؟؟
بابا مہد کا…ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے؟؟
کیاااا….اللہ خیر کرے ایک ہی رات میں اور پتہ نہیں کیا کیا دیکھنا لکھا ہے…
ابھی عائشہ آگے بڑھنے ہی والی تھیں کہ سردار صاحب بول پڑے…
آرام سے اُترو تیل گرا ہوا ہے…
کیا تیل وہ بھی یہاں کیسے آیا..
یہ تو اللہ ہی جانے کہ کہاں سے آیا…
*********
براق آج کل سب بھلاۓ بہت خوش تھا….اور اپنے ساتھ والا بیڈ روم اپنے بےبی کہ لئیے سیٹ کررہا تھا. .
اور شزرا یہ دیکھ دیکھ کر مزید کُڑھ رہی تھی ویسے بھی کوئ دن ایسا نہیں جاتا تھا جب دونوں لڑائ نا کریں…
اگر براق سیر تھا تو شزرا سوا سیر تھی…
اور کبھی کبھی تو اُنکی تو تو میں میں بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائ پہ بھی جا پُہنچتی تھی…
ابھی براق کارٹون میٹس بچھا رہا تھا کہ شزرا وہاں آپُہنچی…
واہ کیا بات ہے میں نے تو پہلی بار کسی ناجائز بچے کہ لئیے اتنی تیاریاں ہوتے دیکھی ہیں…
شزرا نے بھنوئیں چڑھاتے طنزاً کہا
شٹ آپ خبردار جو میرے ہی بچے کو میرے ہی سامنے تم نے ناجائز کہا…
ہاہاہا تو ناجائز تو ناجائز ہی ہوتا ہے تمھارے غُصہ کرنے سے حقیقت بدل تو نہیں جائیگی نا…
شزرا نے ہنستے ہوۓ براق کو مزید طیش دلایا…
تو کیا ہوا جتنی سازشیں تم نے رچی ہیں because of your bloody
محبت تمہیں تو میری ہر جائز اور ناجائز چیز سے محبت ہونی چاہیے..
اُسی محبت نے تو مجھے برباد کردیا مجھے کیا پتہ تھا کہ تم اس قدر گھٹیا نکلو گے…
میرے منہ مت لگو دفعہ ہو یہاں سے…
براق چیختا ہوا خود ہی باہر نکل گیا…
*********
عائشہ اور ریاست کو ہاسپٹل پُہنچتے ہی مہد کہ ڈاکٹر نے جو خبر دی وہ یہ تھی کہ اب شاید ہی وہ کبھی پھر سے کھڑا ہو پاۓ …
مہد کا بہت بُرا ایکسیڈینٹ ہوا تھا جس میں اُسکی ٹانگیں ناکارہ ہوگئ تھیں…
اور عائشہ یہ سُننتے اپنی ہی آنکھوں سے اپنے بچوں کی بربادی دیکھتیں کچھ نا کہہ پائیں.
********
عدوان جیسے ہی کمرے میں آیا سامنے ہی ماہی کو بیڈ پر لیٹا دیکھ جسکے ماتھے اور بازو پہ پٹیاں بندھی تھیں…
ضبط کرتا اُس تک آیا..
ماہی…
ماہی نے اپنے نام کی پکار پہ آنکھیں کھولے عدوان کو دیکھا…
کیسی ہو؟؟؟؟ کیا درد زیادہ ہے….
عع..عد…عدوان..مم..میرا بےبی ٹھیک ہے نا…
ہاں پرنسز بالکل ٹھیک ہے…
یہ سُنتے ہی ماہی کہ اندر اطمینان کی لہر دوڑ گئ تھی…
کہ تبھی پاس پڑے سٹول پہ بیٹھتے عدوان نے ماہی کا ہاتھ اپنی گرفت میں لئیے کہنا شروع کیا…
ماہی…میں جانتا ہوں کہ میں نے تمھارے ساتھ بہت غلط کیا…
مجھے احساس ہے اپنی غلطی کا پر پلیز واپس آجاو تمھارے بغیر رہنا بہت مشکل ہے…
ماہی آنکھیں بند کئیے عدوان کو سُن رہی تھی…
تم سُن رہی ہو نا ماہی؟؟؟
میں محبت کرتا ہوں تم سے اور پوری زندگی کرونگا..
کہ تبھی ماہی بول پڑی
میں جانتی ہوں…
کہ تم ہی ہو جو مجھ س محبت کرتے ہو…
ماہی کی بات پر عدوان خوش ہوتا کہنے لگا…
پھر تم چلی کیوں گئ تھی…
میں ڈر گئ تھی کہ پتا نہیں تم کیا سمجھ رہے ہوگے مجھے وہاں دیکھ کر عدوان میں تو…
بس… بس کچھ مت بولو..مجھے یقین ہے تم پر…
مجھے یقین ہے کہ تم مجھے دھوکا نہیں دے سکتی..
عدوان…ماہی اتنا یقین اور محبت پاتے رونے لگی تھی…
بس اب رونا نہیں ہے عدوان نے آنسو پونچھتے کہا..
اب ہم صرف خوش رہیں گے..ایک دوسرے کہ ساتھ ہمیشہ..
عدوان کی بات پر ماہی خوش ہوتی آنکھیں موند گئ تھی…
اور عدوان نے ماہی کو پرسکون ہوتا دیکھ اپنے لب اُسکی پیشانی پہ رکھ دئیے…
********
یہ دُنیا مکافات عمل ہے…
یہاں دیر سے ہی سہی پر ہر بُرا کرنے والے کو اُسکے کئیے کی سزا ملتی ضرور ہے…
جیسے کہ اُشنا بُراق اور مہد کو اُسکی معذوری کی صورت…
ہم بعض اوقات بُرا کرتے ہوۓ خُدا کو بھول جاتے ہیں پر جب وہ اپنی رسی کھینچتا ہے تو….
ہمیں اپنے گُناہ یاد آتے ہیں..
