Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 1

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 1

Beri Piya by Hareem

دسمبر کی ٹھنڈی رات تھی..اسلام آباد کی آرچرڈ اسکیم میں ہر طرف ہو کا عالم تھا..

یہاں سردیوں میں مغرب کہ بعد کوئ ذی روح دیکھائ نہیں دیتا تھا ابھی تو پھر رات کہ دس ہو رہے تھے…….

(اکثر لوگ جو اسلام آباد میں کراچی یا لاہور سے آتے ہیں وہ یہاں مشکل سے ہی رہ پاتے ہیں کیونکہ اُنکے نزدیک اسلام آباد مُردوں کا شہر ہے…)

اتنی ٹھرٹھراتی سردی میں ایک ہیولہ سا اپنے کمرے کہ سامنے سے گُزرتا ہوا شزرا کو محسوس ہوا …

پر وہ ڈرنے کہ بجاۓ سمجھ گئ کہ اس وقت کون ہو سکتا ہے تبھی اپنے سر پر اونی ٹوپا لیتے سوئیٹر اور شال اوڑھتی اُس ہیولے کو ڈرانے نکل پڑی….

اُس ہیولے کہ پیچھے چلتے چلتے اب شزرا چھت پر پہنچ چُکی تھی..

ہمیشہ کی طرح وہ ہیولا اپنی دور بین لئیے کھڑا تھا..

تبھی شزرا نے اپنا ہاتھ اُسکے کندھے پر رکھا…

اور وہ ہیولا چیخ پڑا…

آآآآآآآآآ………..

مامااااااااا…….

پلیز پلیز میرا خون مت پینا مممممم میرا خون بہت کڑوا ہے..(ماہی آنکھیں بند کئیے بنا شزرا کو دیکھے جسے وہ ایک بھوت سمجھ رہی تھی منتیں کرنے لگی)

شزرا کہ لئیے اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا..

ممممم میرا خون تو اتنا کڑوا ہے کہ پی کر مچھر بھی مر جاتا ہے…

یہ سُنتے ہی شزرا نے قہقہہ لگایا..

شزرا کی ہنسی سن کر ماہی نے ایک آنکھ بمشکل کھولی تبھی شزرا کو خود پر ہنستے ہوۓ پایا…

شزرا کی بچی تم نے مجھے ڈرا دیا..

اب شزرا آگے آگے اور ماہی اُسکے پیچھے پیچھے تھی….

*************

یہ گھر اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں واقع ہے جہاں سردار محمد بخش آج سے کئ سال پہلے چترال سے ہجرت کرکے آۓ تھے..

یہاں آکر اُنہوں نے چھوٹے پیمانے پہ خُشک میوہ جات کا کام شروع کیا…

کیونکہ چترال میں اُنکے بہت سے باغات تھے اور یہ کام کرنا اُنہیں قدرے آسان لگا کیونکہ وہ اس سب کی سمجھ بوجھ رکھتے تھے..

اسلام آباد آنے کہ کچھ ٹائم بعد اُنکی ملاقات کسی تقریب میں ثروت بیگم سے ہوئ..جنکا تعلق پنجاب کہ علاقہ سے تھا..

اُنکی پہلی ملاقات اتنی اثرانگیز ثابت ہوئ کہ اُنہوں نے اُن سے شادی کرلی…

جن میں سے اُنکے تین بچے ہیں..

انکے بڑے بیٹے کا نام سردار عالم خان ہے جن کی شادی اُنکی پسند سے عالیہ بیگم سے ہوئ. سردار عالم کے دو بچے ہیں بڑا بیٹا کامیاب ڈاکٹر ہے جو امریکہ میں اپنی فیملی کہ ساتھ رہائش پذیر ہے بڑے بیٹے کہ بہت سالوں بعد اُنکی ایک بیٹی اس دنیا میں آئ جسکا نام تطمئین القلب عرف ماہی ہے.. جو گھر بھر کی لاڈلی ہے..

سردار عالم کے بعد سردار بخش کا ایک اور بیٹا بھی ہے جسکا نام سردار ریاست خان ہے. ریاست خان قدرے سُست واقعہ ہوۓ ہیں. (ایسا اُنکی بیوی کا ماننا ہے)

یہ آج بھی اپنے بابا کہ ساتھ اُنکا ڈراۓ فروٹس کا بزنس دیکھتے ہیں. اُنکی بیگم عائشہ کو ہمیشہ ان سے شکایت ہی رہی ہے.. عائشہ اُنکی سگی خالہ زاد ہیں..جو چاہتی ہیں کہ اُنکے شوہر الگ سے ڈراۓ فروٹس کا بزنس کریں اور ساتھ کچھ اور کام بھی کریں جیسے سردار عالم کرتے ہیں…

پر ریاست صاحب جو جتنا ہے اُس میں ہی خوش ہیں..

اُنکی تین اولادیں ہیں..بڑا بیٹا احد ہے جو اپنے بابا کہ ساتھ بزنس میں اُنکا ہاتھ بٹاتا ہے اُس سے چھوٹا مہد ہے جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتا ہے اور اُس سے چھوٹی شزرا ہے جو ماہی سے دو سال بڑی ہے…

سردار محمد بخش کی ایک بیٹی بھی ہے جو شادی کہ بعد پیرس شفٹ ہوگئ تھیں اُنکا ایک ہی بیٹا ہے بُراق جس کی بچپن سے بات ماہی سے طے ہے..

یہ چھوٹا سا گھرانہ ہے سردار بخش کا جنھیں ہمیشہ اُنہوں نے جوڑ کر رکھا ہے..وہ اپنی بیوی ثروت سے بے حد محبت کرتے ہیں..اور ہمیشہ ان سب کو خوش رکھنے کی تگُ دو میں رہتے ہیں…

(پر وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا چاہے آپ جتنی بھی کوشش کر لیں)

مامااااااااااا…..

ماماااااااااا….

آۓ ہاۓ لڑکی کیا صبح صبح شور کررہی ہو.. عالیہ نے ماہی کہ کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ کہا..

یہ ماہی کا کمرہ ہے جو پورا زرد اور سفید رنگ میں نہایا ہوا لگتا ہے پیلا رنگ ماہی کا فیورٹ ہے..کیونکہ sponge bob پیلے رنگ کا ہوتا ہے جو ماہی کا فیورٹ ہے… اس کمرے میں داخل ہوتے ہی ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ انڈے کی زردی میں گُھس آۓ ہوں..

پیلے رنگ کا کمرہ جگہ جگہ جگمگاتیں چھوٹی چھوٹی لائٹس کچھ عجیب سی لگتی ہیں پر ماہی اس سب سے خوش ہے….

عالیہ نے کمرے پر نگاہ دوڑانے کہ بعد ماہی کی طرف دیکھا جو کارٹون بنی سوئیٹر اور بلیو جینز پہنے کھڑی تھی

آپکو پتہ ہے نہ آج میرا پہلا دن ہے یونیورسٹی کا؟؟؟تطمئین نے بھنویں اُچکاۓ پوچھا..

ہاں بالکل پتہ ہے ایک مہینے سے تو پورے گھر میں تم نے شور ڈالا ہوا ہے…

تو پھر میری سب چیزیں ریڈی کیوں نہیں ہیں؟؟ماہی نے منہ پھولاۓ کہا

تم کہاں کی مہارانی ہو اتنی بڑی ہو گئ ہو اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالو کل کو اپنے گھر کی ہو جاوگی کچھ تو کرنا سیکھو..

عالیہ نے اپنی وہی باتیں دُہرائیں جو وہ ہمیشہ کہتی تھیں…

یہ لیکچر کا ٹائم نہیں ہے ماما ماہی نے جھنجھناتے ہوۓ کہا..

ایک تو پتہ نہیں کیا سوچ کہ تمھارے باپ نے تمھارا نام تطمٰئین القلب رکھا..ذرا جو کبھی تم نے ہمیں کوئ دلی سکون پُہنچایا ہو…

عالیہ کو ہمیشہ ماہی سے گلے ہی رہتے تھے..

وہ اپنی بیٹی کو اپنی طرح دھیمے مزاج والی ایک سُگھڑ اور سلیقہ شعار لڑکی دیکھنا چاہتی تھیں پر ماہی اس سب کا اُلٹ تھی…

کیا ماما…

میری فرینڈز کی ماما تو اُنکی تعریف کرتے نہیں تھکتیں اور ایک آپ ہیں آپکو تو موقع چاہیے بس…ماہی نے ہاتھ میں پکڑی شرٹ بیڈ پر پھینکتے ہوۓ کہا…

تو بیٹا جی اُن مین کچھ ہوگا ایسا تبھی تو تعریف ہوتی ہوگی…میں کس چیز کی تعریف کروں یہ کمرہ دیکھا ہے تم نے…

پتہ نہیں کیسے رہ لیتی ہو مجھے تو تمھارے کمرے میں آنے کا سوچ کر ہی وحشت شروع ہو جاتی ہے…

اور اب یونیورسٹی کا نیا شوشا چھوڑ دیا ہے تم نے گھر پر رہو کوئ گھرداری سیکھو…

میں دادا سے بات کرتی ہوں وہی آپ کو سمجھائیں گے ماہی چڑتے ہوۓ واک آوٹ کر گئ…

**************

ریاست صاحب آپ کب تک یہی اخروٹ بادام لئیے بیٹھے رہیں گے آپکو پتہ ہے عالم بھائ کا بزنس کہاں سے کہاں پُہنچ رہا ہے اور جو شوروم کھولا ہے وہ بھی بہت چل رہا ہے اور ایک آپ ہیں وہیں کہ وہی کچھ تو اپنے بڑے بھائ سے سیکھیں…

عائشہ کی نظر صبح ہی صبح اخبار لئیے بیٹھے شوہر کی جانب گئ تو انکا اتنی فرصت سے بیٹھنا اُنہیں کھولا گیا.

ہاں ہاں احد سوچ رہا ہے اپنا مال کسی باہر کہ ملک میں سپلائ کرنے کا..

ریاست صاحب نے ہمیشہ کی طرح اُنکی کہی بات ہوا میں اُڑا دی..

وہ بھی آپکا بیٹا ہے.. جیسے آپ ہیں نا ویسے ہی وہ ہے بلکہ آپ دونوں ہی ایک جیسے ہیں کنوئیں کے مینڈک کہیں کہ وہ جھلاتے ہوۓ کمرے سے باہر چلی گئیں…

***************

عالیہ…

عالیہ….

جی آگئ یہ لیں آپکی چاۓ…اُنہوں نے چاۓ ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے کہ لوازمات کہ ساتھ رکھ دی. …

آپ نے سب کہ بغیر ہی ناشتہ کرلیا؟؟

ہاں وہ آج ضروری میٹنگ تھی اماں اور بابا سے مل آیا ہوں اُنکے کمرے میں. اُنہوں نے اپنے اکیلے ناشتہ کرنے کی وضاحت دیتے ہوۓ پوچھا..

تیار ہوگئ میری شہزادی؟؟؟

فی الحال تو آپکی شہزادی میری شکایت کرنے بابا کہ کمرے میں گھسی ہوئ ہے. .

ہاہاہاہا آپ نے پھر صبح ہی صبح میری بیٹی کو ناراض کر دیا؟؟؟

دیکھیں عالم…آپ نے جتنا لاڈ پیار کرنا تھا کر لیا پر اب وہ بڑی ہوگئ ہے اور آپکو پتہ ہے کہ اسی سال اُسکی شادی کا ارادہ ہے ہمارا

پر پھر بھی آپ نے یہ یونیورسٹی کا کھڑاک پال دیا ہے اُسے آگے محترمہ کو کچھ کرنا نہیں آتا کل کو کیا کرے گی وہ ؟؟؟

اوہو بعد کی بعد میں دیکھی جائیگی ویسے بھی یہ گھرداری وغیرہ automatically ہر لڑکی کہ اندر ہوتی ہے اور جب ضرورت پڑتی ہے تو سب آہستہ آہستہ سمجھ آجاتا ہے ڈونٹ وری…اُنہوں نے چاۓ پیتے ہوۓ اُنکو نارمل کرنے کی کوشش کی..

ایک تو جب آپ کی بیٹی کی بات آۓ سارے جواب تیار ہوتے ہیں آپ. کے پاس وہ تاسف سے سر ہلاتیں کچن کی طرف بڑھ گئیں…

************

دادا دیکھیں نا ماما کو ہر وقت مجھے ڈانٹتی رہتی ہیں…

ماہی نے ریوالونگ چئیر پر بیٹھے اپنے دادا کہ قدموں میں بیٹھتے ہوۓ اپنی فریاد پیش کی.

اب کیا کردیا تیری ماں نے.. تبھی پیچھے بیڈ سے اُٹھتے ہوۓ دادو نے پوچھا..

ثروت بیگم کی کوئ خاص نہیں بنتی تھی عالیہ سے اُنکا زیادہ تر جھکاو عائشہ کی طرف تھا جو اُنکی سگی بھانجی تھی..پر پھر بھی اُنہوں نے کبھی روایتی ساسوں والا رویہ نہیں اپنایا تھا.

ماما نہیں چاہتیں کہ میں یونیورسٹی جاوں…ماہی نے معصوم سی شکل بناتے ہوۓ بتایا تاکہ اُس پہ ترس کھاتے پوۓ اُس پر رحم کیا جاۓ. ..

اس بات پہ تو میں تیری ماں کہ ساتھ ہوں..ثروت بیگم نے اپنا پاندان میز پر رکھتے ہوۓ کہا..

دادووووو…

آہستہ کان کا پردہ ہلا دیا میرا جب دیکھو چیختی چلاتی رہتی ہے بالکل صحیح کرتی ہے تیری ماں تجھے کھینچ کر رکھنے کی بہت ضرورت ہے….

دادا دیکھ رہے ہیں آپ اس گھر میں سب کو میں ہی بُری لگتی ہوں..

ماہی روتی ہوئ یہاں سے بھی واک آوٹ کرگئ تھی….

جبکہ سردار بخش اُسے آوازیں دیتے ہی رہ گۓ..

*************

شزرا…

عائشہ شزرا کو پُکارتیں اُسکے کمرے میں داخل ہوئیں…

شزرا کا کمرہ نہایت ہی صاف تھا وائٹ اور گولڈن کلر کا امتزاج بہت بھلا لگتا تھا..

ہر چیز صاف ہونے کہ ساتھ ساتھ بہت مہنگی بھی تھی…کیونکہ برینڈز کا کریز تھا شزرا کو ہمیشہ سے..

بیٹا آجاو ناشتہ کرلو…

تمھارے تایا تو ناشتہ کر کہ جا بھی چُکے ہیں..

ماہی تیار ہوگئ ماما…

ویسے ماما کیا یہ ضروری ہے کہ جو میں کروں گی وہ بھی وہی کریگی؟؟؟

بچپن سے یہی کرتی ہے جس جگہ پر میری ویلیو زیادہ ہو وہ وہاں پہنچ کہ سب کی توجہ اپنی طرف کروا لیتی ہے..

ایسا کب تک ہوگا؟؟؟

(شزرا کو ہمیشہ سے ہی یہ بات بُری لگتی تھی پورے دو سال تک وہ گھر کی لاڈلی رہی لیکین جیسے ہی ماہی پیدا ہوئ سب کی توجہ اُس کالی بڑی بڑی آنکھوں والی گڑیا کی جانب ہو گئ..

اُسکے بعد ماہی ہر اُس جگہ پر پائ گئ اور ہر وہ کام کیا جو شزرا کرتی تھی…تبھی سے شزرا کو اُس سے چڑ ہونے لگی تھی جو کبھی بھی اُس نے اپنی ماں کہ علاوہ کسی سے بھی شئیر نہیں کی تھی..ماہی کہ ساتھ بنتی بھی بہت تھی)

بس کیا کریں بیٹا اُسکا باپ زیادہ کماتا ہے نہ اور گھر کا تقریباً سارا خرچ بھی اُسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اُسکی اکلوتی بیٹی ہے نخرے تو دکھائیگی نا…اُنکی اپنی ہی منطق تھی…وہ ہر بات گھما پھرا کر عالم اور اُنکے بزنس پر لے آتی تھیں..

چلیں ماما

بابا کی ناکامیوں کہ رونے بعد میں رو لینا…وہ اُنہیں ہاتھ سے پکڑ کر اُٹھاتے باہر ڈائیننگ ٹیبل کی طرف چل دی….

*************

ماہی سب سے ناراض ہو کر چھت پر آگئ تھی..(یونیورسٹی جاۓ بھاڑ میں)

یہ چھت اُسکی بچپن سے ہی فیورٹ جگہ تھی…

جب بھی ماہی نہ ملے سب سمجھ جاتے تھے کہ وہ چھت پر ہی ہو گی.

گھر کی چھت بہت بڑی تھی…چھت پر دو کمرے تھے جو بہت بڑے تھے اور سٹور کہ طور پر استعمال ہوتے تھے..اور اسکے سامنے کا پورا ایریا کھلا ہوا تھا اور اُسکے سائیڈ پر چھوٹی چھوٹی دیواریں جبکہ فرنٹ پر گرل لگی ہوئ تھی…

جہاں ہر طرف پھولوں کہ گملے رکھے ہوۓ تھے اور پھولوں کی بیلوں نے ہر چیز ڈھکی ہوئ تھی..

وہیں پر کین چئیرز کہ علاوہ ماہی کا فیورٹ جھولا تھا جہاں دن میں چھ گھنٹے پاۓ جانا ماہی پر فرض تھا.

یہ جھولا باونڈری گرل سے تھوڑا دور تھا تاکہ کوئ اُسے دیکھ نا پاۓ..جبکہ خود سب کو دیکھنے کہ لئیے وہ دوربین کا استعمال کرتی تھی..

ماہی نے جھولے پر بیٹھ کر اپنی دوربین اُٹھا لی تھی تبھی اُسے اپنے سامنے والے گھر کہ باہر ایک پک اپ رُکتی ہوئ دکھی(یہ سب ماہی دوربین سے دیکھ رہی تھی تاکہ سب کلئیر نظر آۓ)

اوہ………یہ گھر تو خالی تھا۔.

تبھی کچھ سوچتے ہوۓ ماہی مسکرائ…

میرا نیا شکار ……