Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 3

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 3

Beri Piya by Hareem

یہ کہا کہہ رہی ہو شزرا میں… ممم.. میں کیسے اُسے توبہ توبہ کوئ اور کام ہے تو بتاو ایسے کام میں نے کبھی نہیں کئیے…

کیا تم ڈر گئ ہو ماہی… شزرا نے اُسے طیش دلانا چاہا.

جی نہیں ماہی کسی سے نہیں ڈرتی…ماہی نے گردن اکڑاتے ہوۓ کہا…

تو پھر کیا ہوا ….ابھی تم خود ہی کہہ رہی تھی سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں..

ہاں وہ تو بالکل صحیح کہا ہے میں نے…ماہی نے زور زور سے سر ہلاتے ہوۓ کہا..

تو پھر شرط لگاو اور اپنی کہی بات ثابت کردو سمپل…اب کہ شزرا نے کندھے اُچکا کر کہا

پر اگر ماما یا بابا کو پتہ لگ گیا تو پھر کیا بنے گا؟؟؟

کون بتاۓ گا میں تو نہیں بتاونگی…

ویسے آج سے پہلے کوئ کام تم نے سوچ کر کیا ہے جو اس بار اتنا سوچ رہی ہو…

شزرا نے ماہی کی ہنسی اُڑاتے ہوۓ کہا…

تم میرا مزاق اُڑا رہی ہو..

ہاہاہا نہیں بالکل بھی نہیں شزرا نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ کہا…

اوکے ڈن مہں تمھیں ثابت کردونگی اور پھر تم………

تم……… ماہی شزرا کہ لئیے سزا سوچنے لگی…

اور تبھی چٹکی بجاتے ہوۓ بولی اوہ ہاں…یہ صحیح رہے گا….

کیا صحیح رہیگا بھئ…

اگر میں نے اُس سامنے والے لڑکے کو بُدھو بنا لیا تو تم اپنا سر گنجا کرواوگی….

کیااااا….

تم پاگل واگل ہوگئ ہو کیا…

کیا ہوا ابھی مجھے ڈرنے کہ طعنے دے رہی تھی اور اب خود کی ہوا نکل گئ….

شزرا نے خشمگیں نظروں سے پہلے ماہی کو دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلا دیا….

ماہی اُسکی ہاں سُن کر بے حد خوش تھی کیونکہ اُسے یقین تھا وہ شرط جیت جائیگی…

اور شزرا کی بھی یہی خواہش تھی کہ وہ جیت جاۓ…تبھی نیلو (ملازمہ)چھت پر آئ

ماہی بی بی…

آپکی ماما کہہ رہی ہہں کچن میں آکر کافی بنانا سیکھ لیں بُراق بابو کو بہت پسند ہے کافی…

ماہی نے یہ سُنتے ہی سر گھما کر نیلو کو دیکھا..

اُسے پسند ہے تو میں کیوں سیکھوں مجھے تو ملک شیکس پسند ہیں اور ویسے بھی میرا میچ ہے گراونڈ میں بچے میرا ویٹ کر رہے ہونگے…..

اپنی بات مکمل کرتی ماہی ٹیبل پھلانگتی یہ جا وہ جا ہوگئ…

تم چلو میں آتی ہوں اچھا جی نیلو سر ہلاتے چل دی…اور شزرا سامنے گھر کہ لان میں جھانکنے لگی جہاں ایک خاتون کسی لڑکے سے بیٹھی باتیں کررہی تھیں ….

عدوان تمھاری بات ہوئ اپنے بھائ سے کب تک آنے کا پروگرام ہے اُنکا…..ثانیہ بیگم نے اپنے بیٹے سے پوچھا..

پتہ نہیں میری بات نہیں ہوئ کافی دنوں سے بس پہلے گھر ڈھونڈنے میں لگا رہا اب بزنس کی طرف بھی دھیان دینا ہے سب کچھ بالکل نۓ سرے سے سٹارٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہے مام…

ہاں یہ بھی ہے ..

تبھی کچھ دیر بعد وہ پھر سے گویا ہوئیں مجھے بہت خوشی ہے کہ تم نے میری خواہش کا احترام کیا…ناہید بیگم نے عدوان کہ ہاتھ پکڑے محبت سے کہا…

(ناہید بیگم آج سے کئ سال پہلے جب عدوان دو سال کا تھا تب وہ اپنے بڑے بیٹے حماد اور شوہر کہ ساتھ لندن شفٹ ہوگئ تھیں..حماد کی شادی اُنہوں نے وہیں اپنے جاننے والوں میں کردی تھی ماہم اچھی بہو ثابت ہوئ تھی اور اُنکا ایک پوتا بھی تھا.. دو سال پہلے اُنکے شوہر کی ڈیتھ ہوگئ تھی ..اور اُسکے بعد سے اُنکی ضد تھی کہ وہ پاکستان جانا چاہتی ہیں…تبھی عدوان اُنہیں یہاں لے آیا تھا..یہ گھر بھی ابھی ایک ماہ قبل خریدا گیا تھا..)

تمھاری بھابھی سے بات ہوئ تھی کل وہ اُشنا… ابھی الفاظ اُن کے منہ میں ہی تھی کہ عدوان نے اُن کی بات کاٹتے ہوۓ کہا…. مام ناٹ اگین پلیززززززز…

تو کیسی لڑکی کہ انتظار میں ہو تیس کہ ہو چکے ہو بڈھے ہو کہ سہرا پہننے کا ارادہ ہے کیا؟؟؟

شادی تو میں آج کرلوں پر کوئ لڑکی تو ملے..عدوان نے آہ بھرتے ہوۓ کہا

اُشنا میں کیا بُرائ ہے پڑھی لکھی ہے زمانے کہ ساتھ چلنا جانتی ہے..خوبصورت….

ایک سیکنڈ ایک سیکنڈ وہ زمانے کہ ساتھ نہیں زمانے سے بھی دو ہاتھ آگے ہے…اور خوبصورت تو کہیں سے نہیں ہے کاسمیٹک سرجریز کروا کروا کہ کیلی جینر کی بہن ضرور لگتی ہے …میک اپ کی دوکان نہیں چاہیے مجھے..

وہ تو میک اپ خرید خرید کہ مجھے سڑک پہ لے آئ گی…

اچھا تو تم ہی بتاو کیسی لڑکی تم ڈھونڈ رہے ہو..اب وہ غور سے اُسے سُننے لگیں..

جو بہت پیاری ہو خوبصورت نہ بھی ہو چلے گی….پر کیوٹ سی ہو جس پر آپکو ایسے پیار آۓ جیسے بچوں پر آتا ہے..بغیر کسی غرض اور مطلب کہ…

جسکی آنکھیں شفاف ہوں بالکل اُسکے دل کی طرح…

جو کبھی بھی دماغ سے نہیں بلکہ دل سے سوچے..

اور…اور…اُسے میک اپ کی الف ب بھی نہ آتی ہو..

ناہید بیگم کی تو بس ہوگئ تھی تبھی اُٹھ کھڑی ہوئیں..تمھیں تو ایسی لڑکی نہیں ملنے والی کیونکہ ابھی تک ایسی لڑکیاں ایجاد نہیں ہوئیں… وہ غصہ سے بولتی ہوئیں واک آوٹ کر گئیں…اور عدوان ہنستا ہوا باہر چل دیا تاکہ آس پاس کا ایریا دیکھ سکے….

شزرا ماہی کو بُلایا تھا کہاں ہے آئ نہیں..

وہ تو چلی گئ تائ امی…

ہیں کہاں چلی گئ دروازے سے تو کوئ باہر جاتا ہوا نہیں دکھا میں تو کب سے لاونج میں ہوں…

ہاں صحیح کہہ رہی ہیں بھابھی ہم نے تو نہیں دیکھا عائشہ بھی بول پڑیں…

تبھی شزرا پانی کا گلاس میز پر رکھتی سیدھی ہو بیٹھی…

تو میں نے کب کہا وہ دروازے سے گئ ہے وہ تو ساتھ والوں کی چھت ٹاپ کر گئ ہے…

ہیں کیاااااا….

جی وہ اُنکی سیڑھیاں پورچ کی طرف جاتی ہیں تو وہ اُنکے گیٹ سے باہر…..

ماہی نے ہاتھ سے شوں کا اشارہ کرتے ہوۓ بتایا….

ویسے بھابھی آپکو ماہی پر تھوڑی سختی کرنی چاہیے…لڑکیوں پہ ایسی حرکتیں سوٹ نہیں کرتیں..اور اُسکی تو شادی ہونے والی ہے .بیشک اُسنے اپنی سگی پھوپھی کہ گھر جانا ہےپر شادی کہ بعد پھوپھی ہو یا خالہ وہ صرف ساس ہی رہ جاتی ہے…..اُنہوں نے پہلے سے غصے میں بھری بیٹھی عالیہ کو مزید بھڑکایا….

نیلو…..

نیلو…..اُنہوں نے غصے سے نیلو کو پکارا…

جاو باہر چوکیدار سے کہو ماہی کو پارک سے بُلا کر لاۓ فوراً…آج تو آنے دو اُسے یونیورسٹی نا جانے کا سارا ملبہ مجھ پر ڈال کہ خود معصوم بن گئ ہے…اور جس کام کہ لئیے یونیورسٹی نا جانے کا بہانہ بنایا ہے اُسکے لئیے تو ہاتھ ہی نہیں آرہی…

شزرا ماہی کی ہونے والی شامت کا سوچتی مسکراتی ہوئ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ…

جبکہ عالیہ ماہی کی شکایت کرنے اپنی ساس سسر کہ کمرے کی طرف بڑھ گئیں…

ماہی آپی پہلے بیٹنگ ہم سب کو ملے گی پھر آپکی باری آئیگی…

وہ کیوں بھلا ماہی نے ہاتھ میں پکڑا بیٹ کندھے پر رکھتے ہوۓ کہا ..

ہم فیلڈنگ اور بولنگ ہی کرتے رہتے ہیں اور آپ آوٹ ہی نہیں ہوتیں…

تو اب آؤٹ کرنا تم لوگوں کا کام ہے نا…

میرا کیا قصور ہے بھلا…

عدوان بینچ پہ بیٹھا اپنے سامنے ہونے والی کیوٹ فائٹ انجواۓ کررہا تھا..

ایک لڑکی سر پہ عجیب سی ٹوپی پہنے یلو کلر کی شرٹ پر جینز کی جیکٹ پہنے کھڑی بچوں سے بحث کر رہی تھی…

تو آپ ہمیں بیٹنگ دیں اور ہمیں جلدی جلدی آوٹ کر کہ اپنی بیٹنگ لے لیں سمپل…

سمپل کہ بچے ماہی نے سامنے کھڑے بچے کہ سر پہ ہاتھ مارا..

پہلے باری میری ہوگی کھیلنا ہے تو بتاو نہیں تو میں جا رہی ہوں…

ہاں تو جائیں پر بیٹ دے دیں میرا…ماہی کو لگا تھا کہ اُسکے نا کھیلنے کی دھمکی اثر کرے گی پر یہ آجکل کہ بچے بھی نا..

یہ لو جاو میں بھی نہیں کھیلونگی….

ماہی اُنکا بیٹ پھینکتی روتی ہوئ عدوان کہ برابر بینچ پہ آ کر بیٹھ گئ…..

عدوان اپنے سامنے اتنی بڑی لڑکی کو حیرت سے روتا ہو دیکھنے لگا جو بار بار اپنی جیکٹ کی آستین سے اپنی ناک پونچھ رہی تھی…

عدوان نے مجبوراً اپنی جیب سے رومال نکال کہ اُسکی طرف بڑھایا ماہی نے بنا رومال دینے والے کی طرف دیکھے جھٹ سے رومال لے لیا…

عدوان نے گلہ کھنکھارتے ہوۓ بات شروع کی.

پلیز آپ روئیں مت میں کھیل لیتا ہوں آپ کہ ساتھ…اُسے اس وقت اُس لڑکی کو چُپ کروانے کہ لئیے یہ ہی حل سمجھ میں آیا..

تبھی ماہی نے جھٹکے سے سر اُٹھایا…کیوں آپ کہ ساتھ کیوں کھیلوں میں..آپ کہاں کہ شاہد آفریدی ہیں..

اوکے ریلیکس مت کھیلیں ماہی کہ اچانک سے چلانے پر عدوان سنبھل کہ بیٹھا..

ماہی نے غور کیا تو اُسے یاد آیا کہ یہ تو وہی ہے جو سامنے رہنے آیا ہے…

تبھی شزرا کی شرط یاد آتے ہی خود پر غصہ آیا کہ پہلا امیج ہی خراب ڈال دیا ہے…

اب کیا کروں…

کیا کروں…

یا اللہ جی پلیز پلیز یہ خود سے بات کر لے پلیز پلیز اب بات کرلونگی بس یہ ایک دفعہ پھر سے بات کر لے پلیز…..ماہی دل ہی دل میں آسمان کی طرف منہ اُٹھاۓ آنکھیں بند کرتی دعائیں مانگنے لگی.

یا اللہ یہ لڑکی تو بے حد عجیب ہے کہیں کوئ پاگل تو نہیں ہے….

چل عدوان بیٹا اُٹھ اور بھاگ کہیں گلے ہی نہ پڑ جاۓ عدوان نے نا ادھر دیکھا اور نہ اُدھر اور وہاں سے چل دیا…

ماہی نے اپنی دعائیں کمپلیٹ کرنے کہ بعد جیسے ہی کن اکھیوں سے اپنے ساتھ دیکھا تو خالی جگہ منہ چڑاتی ہوئ دکھی…

یہ کہاں گیا اُف ماہی پہلا موقع ہی گنوا دیا…تف ہے تجھ پر ..

لگتا ہے میں یہ شرط ہار جاونگی اور شزرا کو گنجا نہیں دیکھ پاونگی….

آآآآآ….ماہی ایک بار پھر رونے کی تیاری پکڑ چُکی تھی…

ارد گرد سے بالکل بے خبر اُسے کبھی بھی اس بات سے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا کہ آس پاس کوئ دیکھ رہا ہے اور کیا سوچ رہا ہے ایسے موقعوں پہ ماہی کا ایک ہی ڈائیلوگ ہوتا تھا..

بھاڑ میں جائیں لوگ 😏😏

دور کھڑے عدوان نے ماہی کو پھر سے روتا دیکھا اور ہنستے ہوا پارک کا گیٹ عبور کر گیا….