Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 18
Rate this Novel
Beri Piya Episode 18
Beri Piya by Hareem
ایک ہفتے بعد……
اس وقت پورا گھر ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھا…
یہ گھر جو کچھ دن قبل قیامت خیز جھٹکوں سے گُزرا تھا اب کافی حد تک سنبھل چُکا تھا. .
پر اسی سب میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ابھی تک سنبھل نہیں پاۓ تھے…جیسے کہ عالیہ,ثروت,اور سردار بخش..
اہمممم(زین نے گلا کھنکھارتے ہوۓ بات کا آغاز کیا)
دادا…
جی بیٹا(سردار بخش جو ہاتھ میں چاۓ کا کپ لئیے کسی گہری سوچ میں تھے چونکتے ہوۓ گویا ہوۓ)
وہ اصل میں آپ سب جانتے ہی ہیں کہ ماہا میرے ساتھ اپنی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے نہیں آ پائ تھی اور جیسی اُسکی کنڈیشن ہے اُسکے مطابق میں مزید یہاں نہیں رُک سکتا….
(اس وقت ویاں موجود سب افراد ہاتھ روکے زین کو سُننے میں مصروف تھے..)
ہم سمجھ سکتے ہیں بیٹا تم بے فکر ہو کر جاو ہم سب ہیں یہاں تمھاری ماں کہ پاس…
پر دادا میں ماما کو ایسے یہاں نہیں چھوڑ سکتا وہ میرے ساتھ جائینگی…
کیاااا پر کیوں؟؟؟
عالیہ بڑی بہو ہے اس گھر کی اور اس گھر کو اور ہم سب کو ضرورت ہے عالیہ کی…
ثروت صاحبہ جو خاموشی سے سب سُن رہی تھیں اب اچانک سے بول پڑی تھیں اور انکا ایسا بولنا عائشہ کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا…
میں آپ سب کہ جذبات کی قدر کرتی ہوں ماں جی…
پر اب میں یہاں نہیں رہ سکتی…
میرا سر کا سائیں ہی نہیں رہا تو اب میں یہاں رہ کر کیا کرونگی(عالیہ نے روتے ہوۓ کہا)
تو ہم سب سے کیا کوئ رشتہ نہیں تمھارا؟؟؟
اپنی ساس کہ ایسا کہنے پر عائشہ کو مرچیں لگ گئ تھیں تبھی دل میں کہا…
(ایسے تو بڑی بی کی کبھی بنی ہی نہیں اور اب تو بس نہیں چل رہا انکا کہ پیر ہی پکڑ لیں ہممم)
کیوں نہیں ماں جی آپ سب سے رشتہ ختم تو نہیں کررہی میں پر فی الوقت مجھے جانے دیں ..
میں یہاں لوگوں کی طنز بھری نظریں اور تمسخر اُڑاتی باتیں برداشت نہیں کر سکتی ماں جی….
تمہیں ہم سے کوئ شکایت ہے ہماری کوئ بات بُری لگی ہے تو کہو بیٹا..
میری تو اپنی بیٹی نے ہی مجھے سر اُٹھانے کہ لائق نہیں چھوڑا بابا تو کسی سے کیا گلا کرنا…
عالیہ نے آنسو صاف کرتے کُرسی کھسکاۓ کھڑے ہوتے ہوۓ مزید کہا مجھے مت روکیں کیونکہ میں آپکی حکم عدولی نہیں کرنا چاہتی…
پلیز مجھ جانے دیں یہاں رہی تو میں پاگل ہو جاونگی…عالیہ اپنے آنسو صاف کرتیں وہاں سے چل دیں….
پہلے ہی بیٹی کو قابو میں رکھا ہوتا تو یہ دن نا دیکھنا پڑتا…زین کو عالیہ کہ پیچھے جاتا دیکھ عائشہ نے بھڑاس نکالی اور سب کو اگنور کرتیں اپنی پلیٹ پر جُھک گئیں…..
**********
دو دن سے مسلسل براق کہ فون پر سونیا کی کالز آرہی تھیں جنہیں وہ مکمل طور پر اگنور کررہا تھا…
لیکین آج اُس سے بات کرنے کا فیصلہ کرتے ہوۓ براق لان میں کھڑا سونیا کو کال ملا رہا تھا…
ہیلو سونیا…
ہاۓ بُراق(سونیا نے ایک ٹھنڈی سانس بھرتے ایک ادا سے ہاۓ بولا)
کیا مسئلہ ہے تمھارا کیوں فون پہ فون کررہی ہو؟؟؟
وہ کیا ہے نا بےبی ہم تمہیں بہت miss کررہے تھے…
ہم کون (براق نے حیرت سے پوچھا)
میں اور ہمارا بےبی…
اوہ shut up جب تک تم کوئ واضح ثبوت نہیں دے دیتی میں اس سب پر یقین کرنے والا نہیں ہوں سمجھی…
اوہ my love ثبوت بھی دے دونگی ابھی تو یہ بتاو واپس کب آرہے ہو…
سونیا میں…
براق…
اپنے نام کی پکار پر جب براق نے اپنے پیچھے شزرا کو کھڑے دیکھا تو فوراً سے کال کاٹ دی…
اوہ شزرا تم کب آئ؟؟؟
میں تو ابھی ہی آئ تھی…
اوہ اچھا(براق نے سکھ کا سانس لیا پر شزرا کی اگلی بات پر اُسے اپنے سانس اٹکتی ہوئ مجسوس ہوئ)
یہ سونیا کون ہے براق؟؟؟
سسونیا….وہ میری آفس کی کولیگ ہے کسی فائل کا پوچھ رہی تھی…
اوہ اچھا…
براق…وہ مجھے ایک بات کرنی تھی…
( شزرا اور براق نے وہیں لان میں ٹہلتے ہوۓ بات شروع کی)
تم دادا سے ہنی مون کا پوچھو نا اُنہوں نے ناردرن ایریاز کی بُکنگ کروائ تھی…
پر شزرا ابھی تو ہفتہ ہوا ہے ماموں کی ڈیتھ کو میں کیسے نانا سے کہوں اچھا نہیں لگے گا…
اس میں بُرا لگنے والی کونسی بات ہے ہفتہ ہو تو گیا ہے ہماری نئ نئ شادی ہے پر کوئ ہمارے بارے میں سوچ ہی نہیں رہا شزرا نے منہ بناتے ہوۓ افسوس سے کہا…
براق نے اپنا بازو شزرا کہ کندھے پر پھیلاتے ہوۓ خود سے قریب کیا…
اور یونہی واک کرتے ہوۓ کہا…
اچھا چلو میں ممی سے بات کرتا ہوں کہ وہ نانا سے کہیں اوکے…
چلو اب موڈ ٹھیک کرو اپنا…
شزرا نے مسکراتے ہوۓ براق کہ ساتھ قدم بڑھا دیا تھا….
*************
ماہی جب سے یہاں آئ تھی اُسے بالکل چُپ لگ گئ تھی…وہ کسی سے بھی کوئ بھی بات نہیں کرتی تھی…
اس گھر کی اُوپر والی منزل کہ ایک کمرے پر ماہی نے آتے ہی قبضہ کر لیا تھا…کیونک اس کمرے کی بالکنی سے پورا سردار ہاوس دکھتا تھا…
اب ماہی کا یہی معمول تھا وہ پورا پورا دن بالکنی کہ پردے کہ پیچھے چُھپی اپنے گھر کو دیکھتی رہتی تھی….
ابھی بھی وہ وہاں کھڑی شزرا اور براق کو ہی دیکھ رہی تھی تبھی عدوان کمرے میں داخل ہوا…
ایسے کیا دیکھ رہی ہو اُنہیں…
اوہ تمہیں کہاں پتہ ہوگا چلو میں ہی بتا دیتا ہوں شزرا نے شادی کرلی ہے بُراق سے…
عدوان کی بات پر ماہی نے کوئ رئیکشن نہیں دیا تھا وہ ویسے ہی کھڑی اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی…
کیا دیکھ رہی ہو وہ میاں بیوی ہیں اور نۓ نویلے کپل ایسے ہی ہوتے ہیں ..
پھر کچھ سوچتے ہوۓ عدوان نے ماہی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا..چلو اچھا ہے اور غور سے دیکھو تاکہ تمھیں بھی کچھ علم ہو کہ میاں بیوی کہ رشتے کہ.کہا تقاضہ ہیں…
عدوان مسلسل ماہی کو بولنے پر اُکسا رہا تھا پر ماہی نے تو ایسا چُپ کا روزہ رکھ لیا تھا کہ وہ بول کر ہی نہیں دے رہی تھی…
تبھی عدوان ماہی کا ہاتھ پکڑے اُسے کاوچ پر لے آیا تھا…
ماہی…
تم کب تک ایسے رہو گی…اپنی طرف دیکھو ایک ہفتے سے یہی کپڑے پہنے ہوۓ ہو کم سے کم چینج ہی کرلو…
اچھا تم نے ڈریسز دیکھے جو میں لایا تھا؟؟؟
اُف ماہی کچھ تو بولو؟؟؟
ایسا لگتا ہے جیسے کسی دیوار کہ ساتھ بیٹھا سر مار رہا ہوں…
اچھا چلو میرے کمرے میں تو شفٹ ہو جاو…
عدوان کی اس بات پر ماہی نے اپنا ہاتھ عدوان کہ ہاتھ سے نکالا اور باتھ روم میں جا کر لاک لگا لیا…
اور عدوان اُسے جاتا ہوا یکھتا رہ گیا…
اب اُسے معلوم تھا کہ وہ جب تک یہاں سے نہیں جائیگا ماہی باہر نہیں آئیگی…
تبھی وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتا باہر نکل گیا…
***********
زین آجکل بہت بزی تھا اور عالیہ کہ پیپرز کمپلیٹ کروانے میں لگا ہوا تھا…
اور عالیہ تو اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں آتی تھیں…ہر وقت سردار عالم کی تصویر لئیے بیٹھی رہتی تھیں…
جبکہ ثروت بیگم کہ سجدے مزید طویل ہوگۓ تھے یہ بھرا پورا گھر ایک دم سے خاموشی کی لپیٹ میں آگیا تھا….
عائشہ اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی چاۓ پیتی اپنا فیورٹ ڈرامہ دیکھ رہی تھیں تبھی احد اندر داخل ہوا…
ماما…
آۓ ہاۓ آگے سے تو ہٹو…
اُنہیں اپنے ڈرامہ کہ بیچ احد کا آنا پسند نہیں آیا تھا…
اسکو تو بند کریں مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے…
یہ تو بند نہیں ہو سکتا جو بھی کہنا ہے ابھی کہو نہیں تو بعد میں آنا…
اچھا تو پھر ایسے ہی سُنیں….
ہانیہ کہ گھر والے چاہتے ہیں کہ دو مہینے بعد کی شادی کی ڈیٹ فکس کی جاۓ…
ہیں….آپا نے تو مجھ سے ایسا کچھ نہیں کہا؟؟؟
مجھ سے تو کہہ دیا ہے ایک ہی بات ہے…
عائشہ کو اپنی بہن کا اُنہیں دودھ میں سے مکھی کی طرح نکالنا پسند نہیں آیا تھا…چلو دیکھتے ہیں میں بات کرتی ہوں گھر میں سب سے…
ایک اور بات ہاں جی وہ بھی بتا دو اب..
ہانیہ چاہتی ہے ہم شادی کہ بعد الگ گھر میں رہیں..کیاااااا….عائشہ نے حیرت سے احد کی طرف دیکھا یہ کیا کہہ رہے ہو.؟؟
اس میں اتنا حیران ہونے والی کونسی بات ہے ویسے بھی میں خود بھی ساتھ رہنے کہ حق میں نہیں ہوں…
پر الگ گھر کی ضرورت کیا ہے یہ اتنا بڑا گھر یہاں کون رہے گا؟؟
یہ میرا مسئلہ نہیں ہے اور ویسے بھی ایک فلیٹ دیکھا ہے یہیں اسی سوسائٹی میں زیادہ دور تو نہیں جارہے…
پر احد میرے کونسے آٹھ دس بیٹے ہیں کہ الگ کرتی پھروں …
اُف ماما…
ہم فیصلہ کر چُکے ہیں بس آپ دادا تک پُہنچا دیجئیے گا…
احد اپنا فیصلہ سُناتا باہر نکل گیا اور عائشہ اُسے حیرت سے دیکھتی رہ گئیں….
************
رات کہ کھانے کہ وقت پوری سردار فیملی کھانے پر موجود تھی کیونکہ صُبح تنویر صاحب کی پیرس کی فلائٹ تھی…
تبھی سب کہ سامنے ریاست صاحب نے زین کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا…
بھابھی کہ ڈاکومنٹس کمپلیٹ ہوگۓ کیا زین؟؟؟
جی چاچو ایک دو دن تک ویزا آجائیگا…
ہممم تو یہاں جو بھائ صاحب کا کاروبار ہے اُسکا کیا ہوگا؟؟؟
اُنکی اس بات پر مہد اور اور عائشہ ہاتھ روکے زین کی طرف متوجہ ہوۓ…
جو جیسے چل رہا تھا ویسے ہی چلتا رہے گا… اب میں اپنے بابا کی اتنے سالوں کی محنت فروخت تو نہیں کرسکتا…
اور ویسے بھی شوروم تو مہد ہی دیکھ رہا تھا وہ دیکھ لےگا کیوں مہد…
جی جی زین بھائ آپ بے فکر رہیں…
ہممم اور بزنس آپ اور احد دیکھ لیں اگر زحمت نا ہو تو…
اور جو کمیشن ہوگا اُسکا کیا کرنا ہے وہ بھی بتا دو؟؟؟
وہ آپ ماما کہ اکاونٹ میں ڈالتے رہیے گا…
زین کی بات پر شزرا نے مُسکراتے ہوۓ عائشہ کو دیکھا جیسے بتانا چاہا ہو کہ میں نے کہا تھا نا آپکا ٹائم آئیگا…
بُراق تبھی بیٹھے ہوۓ سردار بخش نے اُسے مخاطب کیا…
تم اور شزرا بھی صُبح نکل جاو گاوں کی طرف وہاں سے گلگت کیلاش وغیرہ…
پر بابا ابھی ایسے حالات میں انکا جانا اچھا نہیں لگتا…
مہوش کی بات پر بُرا مناتے عائشہ بیچ میں کود پڑیں…
اس میں اچھا نا لگنے والی کونسی بات ہے نیا نیا شادی شدہ جوڑا ہے ابھی نہیں جائینگے تو کب جائینگے اور ویسے بھی اس سب میں انکا کیا قصور جسکی وجہ سے اس گھر پر قیامت ٹوٹی ہے وہ تو مزے سے اپنے سُسرال میں عیش کر رہی ہے….
عائشہ نے حسب عادت ماہی کو بیچ میں گھسیٹا ویسے بھی آجکل ہر بارے میں ماہی کا ذکر اُنہیں بہت مزہ دیتا تھا…
ماہی کہ ذکر پر عالیہ کرسی کھسکاتے اُٹھ کھڑی ہوئیں…
بھابھی آپ تو بیٹھیں نہیں مہوش تم لوگ کھاو میرا ہوگیا عالیہ سر جھکاۓ وہاں سے چلی گئیں اُنکے جانے پر مہوش نے تاسف سے عائشہ کی طرف دیکھا پر وہ سر جھٹکتے کھانا کھانے لگیں ویسے بھی آجکل اُنکی حکومت تھی اور وہ کم ہی کسی کو خاطر میں لاتی تھیں….
***************
دو دن بعد…
عدوان یہ ماہی کب تک ایسے رہے گی….ثانیہ نے ناشتہ کرتے ہوۓ عدوان سے پوچھا…
ابھی شاک میں ہے مام کچھ ٹائم لگے گا…
آخر کتنا ٹائم بُراق؟؟؟؟
پورا پورا دن وہ کھڑی اپنے گھر کو گھورتی رہتی ہے پورے دن میں صرف ایک وقت کا کھانا کھاتی ہے..نا کپڑے بدلتی ہے مجھے تو ترس آتا ہے اُسکی حالت پہ….
کتنی ہنستی کھیلتی بچی تھی اور اب…
میں نے تو جب سے آئ ہے اُسکی آواز تک نہیں سُنی گھنٹہ گھنٹہ اُسکے پاس بیٹھ کر بولتی رہتی ہوں پر مجال ہے جو وہ ایک لفظ بھی کہے….
اب کیا کر سکتے ہیں مام اُسے اُسکے حال پہ چھوڑ دیں خود ہی سنبھل جائیگی….
یہ کیا بات ہوئ بھلا یہ تھی تمھاری محبت پہلے اُسے برباد کیا اب کہتے ہو اُسکے حال پہ چھوڑ دیں….
تو آپ ہی بتائں مام میں کیا کروں….
کسی بات کا وہ جواب نہیں دیتی ذرا سا ہاتھ پکڑلو باتھ روم سے گھنٹہ گھنٹہ باہر نہیں آتی ایسے میں مجھے بتائیں میں کیا کروں…..
تبھی اُنکے گھر کا ملازم راجو سوٹ کیس گھسیٹتا اندر داخل ہوا….
یہ کس کا سامان ہے بھئ…
تبھی پیچھے سے آتی اُشنا چلائ ہم آگۓ عدوان…….
************
ماہی حسب معمول صبح اُٹھتے ہی گیلری میں آ کھڑی ہوئ تھی اور وہاں سردار ہاوس کہ لان میں سب بیٹھے کسی بات پر ہنس رہے تھے یہ سب دیکھ کر ماہی کو ایک جلن سی محسوس ہوئ….
تبھی وہ وہاں سے ہٹتی روتی ہوئ شاور کھولے باتھروم میں کھڑی بھیگنے لگی…
اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اندر کی کھولن لفظوں کی صورت باہر اُنڈیلنے لگی
آپ کیوں چلے گۓ بابا کیوں….
ٹھنڈے پانی کا شاور کھولے ماہی مارچ کہ مہینے میں کپڑوں سمیت بھیگ رہی تھی…جیسے آج ہی اپنے اندر جلتی آگ بُجھانا چاہتی ہو
مجھے میری صفائ کا موقعہ تو دیتے….
آپ سب میں سے کسی نے میرا یقین نہیں کیا کسی نے مجھ پر اعتبار نہیں کیا پر پھر بھی آپ سب مجھ سے ناراض ہیں ناراض ہونا تو میرا بنتا تھا نا….
آپ سب نے مجھے اکیلا کیوں چھوڑ دیا….
ماہی روتے روتے اب کپکپانے لگی تھی..
سب اپنی اپنی زندگیوں میں خوش ہیں… اب میں بھی سب کی پرواہ کرنا چھوڑ دونگی..
جب کسی کو بھی میرا خیال نہیں ہے تو میں بھی کسی کا خیال نہیں کرونگی… تبھی ماہی خود سے فیصلہ کرتی اُٹھتی ہوئ وارڈروب کی طرف بڑھ گئ….
اور مزید بُڑ بُڑانے لگی….
میں بھی آپ سب کو بھول جاونگی کبھی کسی کو یاد نہیں کرونگی ماہی نے اپنے آنسو صاف کئیے اور کپڑے نکالتی چینج کرنے لگی……
اُشنا اور ماہم اندر آتی اب وہیں ڈائننگ پر بیٹھی ناشتہ کررہی تھیں….
اور اُشنا کی نگاہیں ادھر اُدھر عدوان کی بیوی کی تلاش میں تھیں پر ابھی تک کوئ دیکھائ نہیں دیا تھا….
آپ اچانک کیسے آگئیں بھابھی مجھے بتاتیں میں ائیرپورٹ آجاتا….
بتا کر آتے تو سرپرائز کیسے دیتے ماہم کی جگہ اُشنا نے جواب دینا ضروری سمجھا تھا…ویسے کیسا لگا ہمارا سرپرائز(اُشنا نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوۓ پوچھا)
تبھی سب کی نظر ڈارک ریڈ کلر کی شارٹ فراک اور ریڈ ہی پاجامہ پہنے ماہی پر گئ…
ماہی کو گیلے بال کھولے ایسے آتا دیکھ عدوان کو اپنی دھڑکنیں دوڑتی ہوئ محسوس ہوئ تھیں…
واو دادو آپ کہ گھر میں فیری بھی ہے عدوان کہ بھتیجے زارون نے ماہی کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا….
یہ کون ہے ممی کوئ گیسٹ آئ ہوئ ہیں کیا؟؟
ماہم نے انجان بنتے ہوۓ اپنی ساس سے پوچھا تبھی ماہی اتنے لوگوں کو دیکھتی کچھ کنفیوز ہوتی ہوئ سلام کرتی زارون کہ ساتھ والی کُرسی پر بیٹھ گئ….
یہ اس گھر کی چھوٹی بہو ہے عدوان کی بیوی…..
اُشنا جو کسی لڑکی کہ نا دکھنے پر دل ہی دل میں یہ دعائیں کررہی تھی کہ یہ خبر جھوٹ ہو ماہی کو دیکھتے اُسے اپنے سر پر ایک بار پھر سے آسمان گرتا ہوا محسوس ہوا تھا….
واو یہ فیری میری چاچو کی وائف ہیں زارون کہ ماہی کی طرف دیکھ کر پیار سے کہنے پر ماہی نے مُسکراتے ہوۓ زارون کو دیکھا تھا…
اور ماہی کہ مُسکرانے پر عدوان نے شُکر کا سانس لیا تھا…..
************
ریاست صاحب……
ہممممم…
کیا آپ واقعی عالم بھائ کہ منافع کا پیسہ بھابھی کہ اکاونٹ میں ڈال دیں گے؟؟؟؟
میں تمہیں اتنا پاگل لگتا ہوں محنت میں اور میرے بیٹے کریں اور منافع وہ کھائیں….
ایسا نہیں ہوگا ہاں ٹین پرسنٹ ضرور دے سکتا ہوں اس سے زیادہ نہیں….
ریاست صاحب اپنی بات مکمل کرتے پھر سے فائل میں گُم ہوگۓ تھے آج پہلی بار عائشہ کو اپنے شوہر پر فخر محسوس ہوا تھا….
