Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 12
Rate this Novel
Beri Piya Episode 12
Beri Piya by Hareem
عدوان رات کہ تین بجے روتا سُلگتا گھر پُہنچا تھا… گھر میں داخل ہوتے ہی عدوان نے لاونج میں اپنے انتطار میں اپنی مام کو سوتا ہوا پایا..
اُنہیں دیکھ کر ایک بار پھر سے عدوان کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں…وہ اپنے آنسو اپنے دل پہ گراتا ہوا اُن تک پُہنچا اور زمین پہ بیٹھتے ہوۓ اُنکے پیروں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے اپنے لبوں سے لگاۓ بےآواز آنسو بہانے لگا…
اپنے پیروں پر کچھ گرم سیال سا محسوس کرتے ثانیہ صاحبہ کی آنکھ کھل گئ تھی..اُنہوں نے آنکھیں ملتے ہوۓ دیکھا تو عدوان کو اپنے پیروں کہ پاس بیٹھا دیکھ حیرانگی سے اُٹھ بیٹھیں..
کیا ہوا میرے بچے رو کیوں رہا ہے؟؟؟
سب ٹھیک تو ہے نا؟؟؟
عدوان کو ویسے ہی سر جھکاۓ بنا حرکت کئیے دیکھتے وہ مزید پریشان ہوگئیں..
عدوان کچھ تو بول میرے بچے؟؟؟
تم تو ماہی سے ملنے گۓ تھے نا؟؟؟
تبھی جھجھکتے ہوۓ وہ بولیں… کک..کیا.. اُس نے تمھیں بتا دیا کہ اُسکی شادی ہے؟؟ثانیہ صاحبہ نے ڈرتے ڈرتے وہ سوال کرہی لیا تھا جسے وہ خود میں بتانے کی ہمت نہیں پارہی تھیں…
تبھی عدوان نے بےیقینی سے سر اُٹھاۓ اُنکی طرف دیکھا تھا..
مام آپ بھی..
کیا آپ سب جانتی تھیں ؟؟؟
اگر جانتی تھیں تو تب کیوں نہیں بتایا اُسی وقت میرے بڑھے قدم کیوں نا روک لئیے آپ نے عدوان نے چلاتے ہوۓ شکایت کی…
کیوں مام کیوں اتنا آگے بڑھنے دیا کہ اب پیچھے صرف کھائ ہی کھائ ہے میرے لئیے..
بیٹا ایسا نہیں ہے مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا پہلے …وہ تو بعد میں…
وہ تو کیا مام؟؟؟عدوان نے اُسی طرح زمین پہ بیٹھے اُنکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لئیے پوچھا…
تب ثانیہ نے اُس دن والا سارا واقعہ بیان کیا کہ وہ کیسے رشتہ لے کر گئیں اور وہاں کیا ہوا اُنہوں نے سب من وعن بتا دیا..
سب سُننے کہ بعد عدوان نے اپنا آپ ڈھیلا چھوڑتے ہوۓ صوفہ سے ٹیک لگائ اور وہیں زمین پہ بیٹھے ہوۓ ٹانگیں پھیلائیں…
عدوان پلیز سنبھالو خود کو.. ویسے بھی وہ کوئ واحد لڑکی نہیں ہے اس دنیا میں..میں خود تمھارے لئیے ایک بہترین لڑکی ڈھونڈونگی..
نہیں چاہیے مجھے بہترہن لڑکی مام نہیں چاہیے.. .مجھے وہی چاہیے مجھے ماہی چاہیے مام .مجھے ماہی چاہیے..
چیختے چیختے اب عدوان کی آواز بھی بیٹھنے لگی تھی..
میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا کیوں..
اس دنیا میں اتنے لوگ محبت کرتے ہیں اور سب اپنی محبت پا بھی لیتے ہیں پھر مجھے ہی ایسی لڑکی سے محبت کیوں ہوئ مام..
ثانیہ صاحبہ کہ تو ہاتھ پیر ہی پھولنے لگے تھے اُنہیں بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ رات کہ اس پہر اپنے ٹوٹے بکھرے لاڈلے کو کیسے سنبھالیں کیسے سمجھائیں..
کیا میں اتنا گیا گزرا ہوں کہ لڑکیاں مجھ پہ شرط لگاتی پھیریں.
میں عدوان ہوں عدوان کوئ گرا پڑا شخص نہیں…میں اُنہیں بتا دوں گا کہ عدوان پہ شرط لگانا اُنہیں کتنا مہنگا پڑھنے والا ہے….میں ماہی سے ہی شادی کرونگا میں اُسے اپنا بنا کر ہی اب آرام سے بیٹھونگا…
مام دیکھنا آپ عدوان گھٹنوں کہ بل بیٹھے ہوۓ اب اشتیاق سے اُنہیں بتانے لگا تھا ماہی ہی آپکی بہو بنے گی آپکو بھی اچھی لگی تھی نا ہے نا؟؟
پر بیٹا وہ انگیجڈ ہے اور اُسکی شادی بھی ہونے والی ہے….
نہیں …نہیں ہوگی اُسکی شادی وہ میری ہے وہ میری ہے مام…اس دفعہ چیخ کر کہنے کی وجہ سے عدوان کو کھانسی کا دورہ پڑا تھا..
تبھی ثانیہ نے ہڑبڑاتے ہوۓ ٹیبل پہ پڑے جگ سے پانی گلاس میں اُنڈیل کر عدوان کی طرف بڑھایا…
جسے عدوان نے ہاتھ میں لیتے ہوۓ زمین پر دے مارا.. کانچ کا گلاس ایک چھناک کی آواز سے بکھر گیا تبھی عدوان نے اُن ٹکڑوں کو گھورتے ہوۓ اچانک سے ایک ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اپنی مٹھی میں پکڑے ٹکڑے کو بھینچ لیا…..
ثانیہ جو عدوان کہ گلاس پھینکنے پر ہی شاک میں تھیں کچھ دیر تک تو عدوان کی مٹھی سے نکلتے خون کو حیرت سے تکتی رہیں اور پھر ایک دم سے صوفے سے اُٹھتی ہوئیں عدوان تک پُہنچیں…
یہ کیا کردیا عدوان چھوڑو پھینکو اسے…
عدوان مُٹھی کھولو یہ کیا پاگل پن ہے ؟؟
وہ مسلسل عدوان کا ہاتھ پکڑے اُسے کھولنے کی کوشش کر رہی تھیں..
مام آپکو پتہ ہے یہ تکلیف اُس تکلیف سے کہیں گُناہ کم ہے جو میں یہاں اپنے دل میں محسوس کر رہا ہوں…
عدوان اب تو پھینک دو دیکھو کتنا خون نکل رہا ہے..تم..تمھیں میری قسم چھوڑ دو اس ٹکڑے کو مت تکلیف دو مجھے..
اُنہیں روتا دیکھ عدوان نے اپنی مُٹھی کھول دی تھی اور تبھی ثانیہ بیگم نے فوراً سے ہاتھ مارتے ہوۓ اس ٹکڑے کو دور پھینک دیا تھا کہ کہیں دوبارہ نا اُٹھالے..
تم نے مجھے بہت پریشان کیا ہے عدوان کوئ ایسے کرتا ہے بھلا اب تو میرے سکون کہ دن ہیں اور تم مجھے ایک کل کی لڑکی کہ لئیے پریشان کر رہے ہو اُنہوں نے عدوان کو بولتے ہوۓ انٹرکام سے باہر چوکیدار کو کال کر کے ڈرائیور کو اُسکے کوارٹر سے بُلانے کا کہا…
اور اب وہ عدوان کی طرف متوجہ ہوئیں جو اُنہیں کافی حد تک پشیمان دکھا..
اور عدوان کا ہاتھ پکڑے اپنے ڈوپٹے کا کونا پھاڑے عدوان کہ ہاتھ پہ لپیٹتے ہوۓ گویا ہوئیں…
جتنا تنگ کرنا تھا کرلیا اب شرافت سے اُٹھو اور ہاسپٹل چلو..
میں ٹھیک ہوں مام…
خبردار ایک لفظ بھی اور کہا ورنہ اب بات نہیں کرونگی تم سے کیوں تنگ کرتے ہو عدوان اُٹھو شاباش وہ عدوان کو اُٹھاتیں باہر کارپورچ کی طرف بڑھ گئیں جہاں ڈرائیور اُنکا منتظر تھا…
***********
ماہی گوٹا لگے خوبصورت سا پیلے رنگ کا لباس پہنے ماتھے پر ٹیکا لگاۓ ہاتھوں میں کانچ کی رنگ برنگی چوڑیاں پہنے مایوں کہ فنکشن کہ لئیے تیار کھڑی تھی….
واو مام یہ کتنا پیارا ہے….کون لایا ہے؟؟؟ماہی نے خود کو توصیفی نظروں سے آئیینے میں دیکھتے ہوۓ اپنے لباس کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ پوچھا..
تمھاری پھوپھو لائ ہیں…عالیہ نے گوٹا لگا ڈوپٹہ ماہی کہ سر پہ ڈالتے ہوۓ بتایا..
تبھی آئینے کہ سامنے کھڑے ماہی نے آخرکار وہ سوال پوچھ ہی ڈالا جو وہ کب سے سوچ رہی تھی….ماما اب یہ بھی بتا دیں مایوں میں بیٹھ کر کرنا کیا ہے مجھے…
ہاہاہا میری جھلی…مایوں میں بیٹھ کر کچھ بھی نہیں کرتے..
کیا مطلب ماہی نے اپنی آنکھیں گھماتے ہوۓ پوچھا …
مطلب یہ کہ جب تک تمھاری مہندی کا فنکشن نہیں آجاتا تم اس کمرے سے باہر نہیں نکلو گی سمجھی…
کیااااا پر میں یہاں بیٹھ کر کرونگی کیا؟؟
جو تمھارے دل میں آۓ وہ کرنا پر اس کمرے سے باہر نہیں آنا سمجھ رہی ہو نا؟؟
تو پھر اس سب کو مایوں بیٹھانا تو نا کہیں سیدھا سیدھا کہیں ماہی ہم تمھیں قید کر رہے ہیں…
اچھا اب زیادہ باتیں نا بناو یہ کتاب لے لو…عالیہ نے ایک سُرخ کور میں لپٹی کتاب ماہی تک بڑھائ..
ہیں اس کتاب کا نام دُلہن کیوں ہے ماما؟؟
کیونکہ اس کتاب میں اُن تمام سوالوں کہ جواب ہیں .. جو تمھیں آگے کام آئیں گے اور ویسے بھی اب تو تم فارغ ہو سو پڑھ لو ویسے بھی مجھے سو فیصد اُمید ہے تمھیں شادی کہ بعد کہ تقاضوں کی الف ب کا بھی نہیں پتہ ہوگا..
پر ماما یہ کتابیں پڑھنا مجھے بہت بورنگ لگتا ہے آپ پڑھ لیں اور پھر مجھے سُنا دینا…
میرے سُنانے سے تو تم سمجھنے سے رہی سو شاید پڑھنے سے ہی کچھ تمھاری عقل میں سما جاۓ…
پر ماما…
اس سے پہلی کہ ماہی کچھ کہتی مہوش پھوپھو اندر داخل ہوئیں ماشااللہ کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی…اللہ ہر بُری نظر سے بچاۓ مہوش نے بلائیں لیتے ہوۓ کچھ نوٹ ماہی کہ سر پہ سے وارے اور عالیہ کی طرف بڑھا دئیے..بھابھی یہ کسی ضرورت مند کو دے دیجئیگا..
************
شزرا تم کہاں جا رہی ہو؟؟
وہ ماما میں اپنی فرینڈ کہ گھر جارہی ہوں پر بیٹا ابھی مغرب ہو جائیگی کل چلی جانا نہیں ماما میرا آج جانا بہت ضروری ہے.. پر شزرا اچھا چلو صحیح ہے ڈرائیور کو ساتھ لے جانا.
نہیں وہ میں نے آن لائن ٹیکسی بُلوا لی ہے…
ہیں…ٹیکسی کیوں گھر میں گاڑی اور ڈرائیور کہ ہوتے ہوۓ تم نے ٹیکسی کیوں بُلوائ…
وہ ماما اصل میں….
وہ.. شزرا نے کچھ سوچتے ہوۓ..عائشہ بیگم کو سب بتانے کا تہیہ کیا ویسے بھی جتنا بڑا اور بولڈ سٹیپ وہ لینے جارہی تھی اس میں کسی اور کا اُسکی بیک پر ہونا بہت ضروری تھا..
ادھر آئیں یہاں بیٹھیں شزرا نے اُنکو بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ اپنے پاس آکر بیٹھنے کا اشارہ کیا..
اُنکے آکر بیٹھ جانے کہ بعد شزرا نے بتانا شروع کیا..
ماما وہ جو سامنے عدوان رہتا ہے نا..
میں اُس سے ملنے جا رہی ہوں..
ہیں مگر کیوں…
مام پلیز میری بات غور سے سُننا اور پھر ہی کچھ کہنا…
پہیلیاں کیوں بجھو رہی ہو اب تو مجھے ٹینشن ہونے لگی ہے.. بول بھی چُکو…
شزرا کو کچھ سوچتا دیکھ وہ پھر سے گویا ہوئیں..
مام وہ عدوان ماہی کو پسند کرتا ہے…
اوووووو…تبھی میں کہوں ایسے ہی رشتہ کیسے آگیا دیکھنے میں تو کتنی بھولی لگتی ہے اور لڑکے پھنساتی پھرتی ہے..
ماما آہستہ بولیں کوئ سُن لےگا…
اور میری تو سُن لیں پہلے وہ شادی کرنا چاہتا ہے اور پسند بھی وہ کرتا ہے ماہی نہیں…
ارے جاو …تم کیا جانو تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے…
ماما آپ اندازے لگانا بند کریں اور میری بات سُنیں..
ہاں تم بھی بول لو…
آپ عالم تایا اور تائ کو نیچا دیکھانا چاہتی ہیں نا؟؟
اور آپ یہ بھی چاہتی ہیں نا کہ زین بھائ ہمیشہ باہر ہی رہیں پاکستان نا آئیں اور یہاں سب کچھ آپکے دونوں بیٹے سنبھالیں…
اور آپکی بیٹی کی شادی بھی اچھہ جگہ پر ہو آخر میں ماہی نے مُسکراتے ہوۓ کہا
ہاں بالکل میں ایسا چاہتی ہوں…
تو بس پھر مجھے سب کرنے دیں اور آپ بنا کچھ کہے خاموشی سے تماشہ دیکھیں…
پر شزرا تم کیسے یہ سب… آپکو بھروسہ ہے نا مجھ پر…
بھروسہ تو ہے تم پر مگر…
مگر وگر کچھ نہیں.. بس آپ دیکھتی جائیں ویسے بھی آپکا وقت آگیا ہے اس گھر پہ حکومت کرنے کا…شزرا اُنہیں سبز باغ دکھاتی اپنا بیگ اُٹھاۓ نکلنے کو تیار کھڑی تھی..
اچھا میں جا رہی ہوں میرا جو بھی پوچھے یہی کہنا کہ میں اپنی فرینڈ کہ گھر ہوں اوکے باۓ…
شزرا کو جاتا دیکھ وہ کچھ دیر اُسی سہانے سپنے کو سوچ کر انجواۓ کرتی رہیں جو شزرا دیکھا کر گئ تھی….
**********
شزرا جیسے ہی monal resturant پُہنچی وہاں پہلے سے ہی عدوان کو اپنا منتظر پایا…
عدوان اس وقت بلیو جینز پہ بلیک لیدر جیکٹ پہنے اور شیڈز لگاۓ بیٹھا تھا..
شزرا ستائشی نظروں سے اس مغرور شہزادے کو دیکھتی کُرسی گھسیٹتے بیٹھ گئ.. .تبھی عدوان کہ ہاتھ پہ نظر پڑتے پوچھ بیٹھی…
اوہ یہ آپ کہ ہاتھ پہ کیا ہوا؟؟؟
عدوان نے اپنے ہاتھ میں پکڑا کافی کا کپ واپس رکھتے ہوۓ انتہائ روکھے لہجے میں شزرا سے کہا…جس کام کہ لئیے بُلوایا ہے وہ کہو اور ادھر اُدھر توجہ مت دو…
تبھی ویٹر کو اپنے پاس آتا دیکھ شزرا نے بھی کافی کا آرڈر دیا مارگلہ کی پہاڑیوں میں بسے اس خوبصورت اوپن ائیر ریسٹورنٹ میں کافی سردی تھی…
شزرا نے اپنے اردگرد دیکھنے کہ بعد جیسے ہی عدوان کی طرف دیکھا تو اُس کہ روئیے کی سنجیدگی دیکھ کر ڈرتے ڈرتے شزرا نے شکر کیا کہ اُسکی آنکھیں چُھپی ہیں ورنہ شاید اُسکی آنکھوں میں بسی سردمہری وہ برداشت نا کرپاتی…
تبھی ہچکچاتے ہوۓ وہ پوچھ بیٹھی کیا آپ واقعی ماہی سے محبت کرتے ہیں؟؟؟
عدوان جو اپنی کُرسی سے پُشت ٹکاۓ مسلسل شزرا کو ہی گھور رہا تھا…نے تپتے ہوۓ جواب دیا…
اس سب سے آپکا کوئ تعلق نہیں ہے مس…
Excuse me جب تک آپ مجھے بتائیں گے نہیں میں آپکی ہیلپ کیسے کرونگی؟؟؟
پر پہلے تو تم مجھے یہ بتاو تمھاری کزن کی شادی ہونے والی ہے پر تم وہ شادی روکوا کر میری مدد کیوں کرنا چاہتی ہو؟؟؟
پہلے تو شزرا سٹپٹا گئ پر پھر کچھ سوچتے ہوۓ بولی…
اور اگر میں آپ کے سوال کا جواب نا دینا چاہوں تو.
تبھی عدوان ایک جھٹکے سے کھڑا ہوتے ہوۓ بولا آئ تھنک آپ یہاں صرف میرا وقت ضائع کرنے آئ ہیں..
نہیں ایسا نہیں ہے پلیز آپ بیٹھیں تو سہی
عدوان کو کھڑا ہوتا دیکھ شزرا کو ساری گیم اپنے ہاتھ سے نکلتی ہوئ محسوس ہوئ..
پلیز بیٹھ جائیں شزرا کہ منت کرنے پر عدوان ایک بار پھر سے بیٹھ گیا…
اصل میں ماہی کی شادی میرے کزن سے ہورہی یے جسے میں بہت چاہتی ہوں اور جیسے آپ ماہی کو حاصل کرنا چاہتے ہیں ویسے ہی مجھے بھی بُراق چاہیے…
شزرا دل کی بات زبان پر لے ہی آئ تھی…
اور اگر آپکو ماہی ملے گی تو ہی مجھے بھی میری محبت مل سکے گی…
اوہ تو یہ بات ہے تبھی جان بوجھ کر آپ نے ماہی سے شرط لگائ….
جج..جی..ایک تو ماہی اپنے پیٹ میں کوئ بات نہین رکھ سکتی اس وقت شزرا کو ماہی پہ شدید غصہ آیا تھا..
پر ماہی مجھ سے محبت نہیں کرتی اگر ایسا ہوتا تو میں اُسے یہاں سے بہت دور لے جاتا اب تم بتاو کہ یہ شادی کیسے رُکے گی..
تبھی شزرا نے ٹیبل کی طرف جھکتے ہوۓ آگے ہوکر سرگوشی کرتے ہوۓ کہا…
تم اُسے کڈنیپ کرلو…
