Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 17

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 17

Beri Piya by Hareem

عالیہ کا تھپڑ لگتے ماہی زمین پر گری اُنکے منہ سے نکلے لفظ سُنتے منجمند ہو چُکی تھی…

وہاں بیٹھی کوئ بھی خاتون ماہی کی طرف نہیں بڑھی تھی…

البتہ عدوان اُسکے پیچھے لاونج تک آگیا تھا اور اب نیچے گری ماہی کی طرف لپکا اُسے اُٹھنے میں مدد دے رہا تھا…

اب کیا لینے آئ ہو؟؟؟

ہمارا تماشہ دیکھنے آئ ہو کہ جو صدمہ تم نے ہمیں دیا ہے وہ کھا کر ہم کس حال میں ہیں..

ہاں بتاو بولو…

ارے تم نے تو اپنے باپ کی محبت کی لاج تک نا رکھی ماہی ..

وہ شخص جس نے ہمیشہ تمہیں اپنے سر پر بٹھایا اپنے آخری وقت میں تمہیں پُکارتا اس دُنیا سے رُخصت ہوگیا….(ابھی لفظ اُنکے منہ میں ہی تھے کہ ماہی نے کہا)

ماما میرے بابا(ماہی سب بھُلاۓ بلکتی ہوئ اپنے بابا کی طرف جیسے ہی بڑھی عالیہ نے فوراً سے روک دیا)

بس وہیں رُک جاو ایک قدم بھی آگے مت بڑھانا اور کونسے بابا کیسے بابا ہاں….یہ شخص جو یہاں سو رہا ہے نا وہ اپنی زندگی میں ہی ہر تعلق تم سے ختم کر گیا ہے سمجھی…

ابھی اور اسی وقت واپس لوٹ جاو اور دوبارہ کبھی لوٹ کر مت دیکھنا جاو چلی جاو چلی جاووووو(عالیہ نے روتے چلاتے ہوۓ ماہی کو جانے کا بولا)

وہاں بیٹھی سب خواتین منہ پہ ہاتھ رکھے سارا ماجرا دیکھ رہی تھیں…

**************

اُشنا….

اُشنا….

ماہم(عدوان کی بھابھی) نے گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی بہن کو زور زور سے آوازیں دینا شروع کردیں…

کیا ہوگیا ہے آپی (اُشنا کافی کا مگ پکڑے کچن سے باہر نکلی)

تم مزے سے کافی پی رہی ہو اور یہاں سب ہمارے ہاتھوں سے پھسل گیا ہے…

کیا ہوگیا ہے آپی آرام سے بیٹھیں اور اب بتائیں…

میں نے آج ماما (ثانیہ)کو کال کی اُنہوں نے اٹینڈ نہیں کی تو میں نے گھر پہ لینڈ لائن والے نمبر پر فون کیا تو پتہ ہے وہاں جو ملازمہ ہے اُس نے مجھے کیا بتایا؟؟؟

اُف آپی اصل بات پر اب آ بھی جائیں..

میں جو بتانے والی ہوں نا سُنو گی تو یہ چھت تمھارے سر پر گر جائیگی سمجھی…

تو بتا دیں اور گرا دیں یہ چھت(اُشنا نے ہنستے ہوۓ کافی کا سپ لیتے ہوۓ کہا)

عدوان نے شادی کر لی ہے….

منہ میں پڑی کافی فوارے کی طرح ماہی کہ منہ سے باہر اُبل گئ تھی…

اور اب کھانستے ہوۓ وہ حیرت سے ماہم کو دیکھ رہی تھی..

کیاااا…

پر کب اور کس سے کر لی اُس سٹون مین نے شادی؟؟؟

اور اس سب کا آپ کو کیسے نہیں پتا ؟؟؟

اُسکی شادی کا تو اُسکی ماں کو نہیں پتہ تھا مجھے کیسے پتہ ہوتا؟؟

پھر اب اب کیا ہوگا آپی؟؟

عدوان کی تو شادی مجھ سے ہونی تھی نا ؟؟؟

اُشنا اب منہ بناتی رونے لگی تھی….

اوہ ہو رو تو مت کچھ کرتے ہیں مل کہ کچھ سوچتے ہیں ایسے panic مت کرو…

ماہم نے اپنی بہن کو اپنے قریب کرتے کندھے سے لگاتے ہوۓ تسلی دی…

************

اندر سے خواتین کی آتی آوازوں پر زین اور احد اندر آۓ تھے…

یہ کیا تماشا لگایا ہوا ہے…

اور تم… تم اب کیا لینے آئ ہو…

کتنی کالز کیں تمھارے اس شوہر کو پر مجال ہے جو کال لگی ہو بابا نے کتنا بُلایا تمھیں تب تو آئ نہیں اب کیا ہماری بےبسی کا تماشا دیکھنے آئ ہو…

زین نے غصے میں منہ سے کف اُڑاتے ماہی کو خوب سُنائیں…

پر بھائ مجھے کچھ نہیں پتہ تھا…

ہاں تم تو اتنی معصوم ہو نکاح کر لیتی ہو پر پھر بھی یہ نہیں پتہ ہوتا کہ نکاح کیا کب…(مہد نے بیچ میں بولنا اپنا حق سمجھا تھا)

زین میرا نمبر بند تھا ورنہ آئ سوئیر مجھے پتہ ہوتا تو میں ماہی کو ضرور لیکر آتا…

جو ہونا تھا ہوگیا اب اس سب کا کوئ فائدہ نہیں ہے او مزید ہمارا تماشا مت بناو اور جاو..

آپ لوگ ماہی کو اُسکے بابا سے ملنے دیں پھر لے جاونگا اسے…

نہیں میں نہیں دیکھنے دونگی(عالیہ جو مہوش کہ کندھے سے لگی بےدم سی پڑی ہوئ تھیں ایک بار ہمت کر کہ پھر اُٹھ گئیں)

ماما پلیز…

چلی جاو ماہی شزرا نکالو اسے باہر…

شزرا جو کب سے اُکتاۓ ہوۓ سارا ڈرامہ دیکھ رہی تھی عالیہ کہ بُلانے پر ماہی تک پُہنچی…

چلو ماہی جاو شاباش…

شزرا تم… تم ہی بتاو…اب تو سچ بتا دو…

جو سچ تھا وہ میں بتا چُکی ہوں ماہی پتہ نہیں کیوں بار بار اپنے کارنامے سُننے کا شوق ہے تمھیں ..

شزرا کو تاسف سے دیکھتے اب ماہی عدوان کی طرف بڑھی…

عدوان اب تو تمھارا مقصد پورا ہوگیا ہے پلیز اب ….اب تو سچ بتا دو…

پلیز عدوان کہہ دو سب سے کہ میں بے گُناہ ہوں…

ماہی کی بات ہر سب حیرت سے اُن دونوں کو دیکھنے لگے تھے…

اور شزرا کو اتنی جلدی ساری مسٹری سولو ہوتا دیکھ گھبراہٹ ہونے لگی تھی…

پلیز عدوان پلیز ماہی نے ایک بار پھر آنکھوں میں آنسو بھرے عدوان کی منت کی تھی…

چلو ماہی یہاں کسی کو تمھاری پرواہ نہیں ہے عدوان نے ماہی کو ٹالتے ہوۓ اپنے ساتھ لئیے آگے بڑھ جانا چاہا..

تبھی ماہی نے عدوان کہ ہاتھ جھٹک دئیے تھے… اور بھاگتی ہوئ اپنے دادو کہ پاس پُہنچی تھی…

جو رو رو کر نڈھال سی صوفے پر بیٹھی ہوئ تھیں..دادو آپ کو تو یقین ہے نا میرا پلیز آپ تو سب کو بتائیں…

مما…ماما کو سمجھائیں (ماہی نے روتے ہوۓ بمشکل کہا)اُنہیں کہیں مجھے بابا کو آخری بار دیکھ لینے دیں..

جا ماہی چلی جا چلی جا اس سے پہلے کہ ایک دُکھی ماں کہ لبوں سے تیرے لئیے کوئ بددعا نکل جاۓ….

اپنی جان چھڑکنے والی دادو کہ الفاظ ماہی کہ لئیے کسی تیزاب کہ چھینٹوں سے کم نہیں تھے…

یہاں کوئ نہیں تھا جو ماہی کی سُنتا یہاں اُسکی بے گُناہی کی گواہی دیتا…یا اُسکی کی گئ ِمنتوں پر مان جاتا…

عدوان لے جاو اسے اس سے زیادہ رسوائ برداشت نہیں کر سکتے ہم…

زین کہ کہنے پر عدوان نے ماہی کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور باہر کی طرف لے جانے لگا ماہی چل تو آگے رہی تھی پر اُسکا چہرہ اپنے باپ کہ جنازے کی چارپائ کی طرف تھا…

وہ جیسے جیسے عدوان کہ ساتھ آگے کو کھینچ رہی تھی اُسکا دل بھی ڈوبتا جا رہا تھا…

************

شزرا تھکی ہاری ابھی اپنے کمرے میں آئ تھی اور اب آئینے کہ سامنے کھڑی خود کو گھور رہی تھی…

ہک ہا کیا مجھے دیکھ کر کوئ کہہ سکتا ہے کہ میں کل کی دُلہن ہوں…

ساری شادی خراب کردی تایا ابا آپ نے کچھ دن بعد نہیں مر سکتے تھے کیا…شزرا نے منہ بسورتے ہوۓ اپنی آنکھوں کو مزید کھولتے ہوۓ سامنے آئینے میں دیکھا…

تبھی بُراق دروازہ کھولے اندر داخل ہوا شزرا نے بُراق کو اندر آتا دیکھ جلدی جلدی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور بلش ہوتی ہوئ پلٹی..

بُراق تھکے ہوۓ انداز میں اندر آتا بیڈ پر بیٹھ گیا..

بُراق آپ تھکے ہوۓ لگ رہے ہیں پانی لے آوں؟؟؟(شزرا نے اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دینا چاہا)

نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے(بُراق نے اپنی کن پٹیاں دُباتے ہوۓ انکار کیا)

شزرا نے جھجھکتے ہوۓ بُراق کہ پاس آکر بیٹھ کر بالآخر بات کا آغاز کرتے ہوۓ کہا..

ایک بات پوچھوں آپ سے؟؟؟

ہممم پوچھو…

کیا آپ ماہی کی حرکت پر غصہ ہیں؟؟

سچ کہوں تو غُصہ نہیں ہوں حیران ہوں کیونکہ جیسا کچھ ماہی کہ متعلق سُن رکھا تھا اور جتنی معصومیت اُسکے چہرے پر ہے سو یقین کرنا تھوڑا مشکل یے..

بُراق کی بات نے ماہی کو پتنگے لگا دئیے تھے..

اور کیسے یقین آئیگا بُراق نکاح نامہ پہ یقین کرنا کونسا مُشکل ہے…

اور میرے پاس تو تصویریں بھی تھیں دیکھائ تو تھیں…

تو میں نے کونسا جھٹلایا ہے میں نے کہا ہے کہ یقین کرنا مُشکل ہے تم تو ناراض ہی ہوگئ ہو…

شزرا نے خود کو سمجھاتے ہوۓ اپنا غصہ کنٹرول کرتے بات کا رُخ بدلا. .

آج ہماری بارات ہوتی اگر تایا زندہ ہوتے تو..

تمہیں اپنے تایا کا زیادہ افسوس ہے یا بارات نا ہونے کا؟؟؟(براق نے حیران ہوتے ہوۓ پوچھا)

ننن..نہیں بُراق آپ میری بات کا غلط مطلب لے رہے ہیں…

اچھا ٹھیک ہے چھوڑو سب یہ دیکھو یہ بریسلٹ ہے چیک کرلو ماہی کہ لئیے لیا تھا تمہیں سائز سہی ہے تو ٹھیک نہیں تو ٹھیک کروا دیتا ہوں…

ویسے تمھیں باقی تو سب چیزیں ماہی کی بہت اچھے سے پوری آئ ہیں…براق نے شزرا کی اُنگلی میں پہنی ہوئ انگوٹھی دیکھتے ہوۓ کہا جو ماہی کہ لئیے بنوائ گئ جیولری میں سے تھی…

شزرا جو بریسلٹ ہاتھ میں پکڑے کافی خوش تھی بُراق کی بات پر اچھا خاصا تپ گئ. ..

تو میں نے کونسا چاہا تھا کہ کسی اور کہ لئیے لاۓ گئ چیزیں مجھے ملیں میں نے تو بس سب کی عزت رکھی ہے…

شزرا نے روتے پوۓ مظلومیت دکھائ جسکا کافی اثر بھی بُراق پر ہوا…

اوہ پلیز میرا یہ مطلب نہیں تھا بس کل سے سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ میں تھوڑا روڈ ہوگیا….

I am really sorry shazra..

(بُراق نے معذرت کرتے ہوۓ شزرا کو خود سے لگاۓ معذرت کی.. )

بُراق کہ گلے لگے ماہی نے مُسکراتے ہوۓ اپنے آنسو صاف کئیے ایک بار پھر سے شزرا کا ڈرامہ کامیاب گیا تھا….

*************

ماہم یہ میں کیا سُن رہی ہوں تم نے تو کہا تھا کہ عدوان کی شادی اُشنا سے کرواوگی…

اُشنا کی مام نے روتی ہوئ اُشنا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا…

تو مام مجھے کیا پتہ تھا کہ لڑکیوں سے دو فُٹ دور رہنے والا ایسے اچانک سے بنا بتاۓ شادی کر لیگا…

میں بتا رہی ہوں مجھے عدوان ہی چاہیے میں اُسی سے شادی کرونگی ورنہ عُمر بھر شادی نہیں کرونگی…

اُشنا بیٹا سنبھالو خود کو تم میں کونسا کسی چیز کی کمی ہے چھوڑو اُس شادی شدہ مرد کو میں تمھاری کسی بہترین سی جگہ پر شادی کرواونگی…

نہیں کرنی کسی بہترین سے شادی میں عدوان سے ہی شادی کرونگی ورنہ نہیں کرونگی…اُشنا نے اٹل انداز میں اپنا فیصلہ سُنایا…

تو ٹھیک ہے پیکنگ کرو ہم پاکستان جا رہے ہیں حماد جب سب کام سمیٹ لینگے وہ تب آجائیں گے ہم کچھ دنوں تک نکلتے ہیں…

ذرا دیکھیں تو آخر کس چیز پر اُس stone man کا دل آیا ہے….

ماہم نے پُرسوچ انداز میں کہتے ہوۓ آگے کا لائحہ عمل تیار کیا…

************

عدوان رات کہ وقت ماہی کو لئیے سامنے ہی اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا تھا.

لاونج میں پریشانی سے عدوان کا نمبر ڈائل کرتی ثانیہ صاحبہ نے دونوں کو اندر آتا دیکھا تو فوراً اُن تک بڑھیں …

ماہی کیا ہوا بچے؟؟؟

ماہی جو بہت مُشکل سے اپنے پیروں پر کھڑی تھی اندر آ تے ہی زمین بوس ہوگئ…

ماہی کیا ہوا ماہی…

عدوان نے ماہی کا چہرہ تھپتھپایا…

اُٹھاو عدوان اسے اور اندر کمرے میں لے آو…

ثانیہ صاحبہ عدوان کو اپنے پیچھے اپنے کمرے میں آنے کا ااشارہ کرتیں آگے بڑھ گئیں…

کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر بھی ماہی کو آکر چیک کر کہ جا چُکا تھا بقول ڈاکٹر کہ وہ بہت سٹریس کہ زیر اثر ہے سو ڈاکٹر نے سکون آور انجکشن ماہی کو لگا دیا تھا…

اب ثانیہ عدوان کو سٹڈی میں لئیے کھڑی تھیں…

یہ کیا حرکت ہے عدوان تم بتانا پسند کرو گے کہ کل تک جس لڑکی کی ریجیکشن پر تم رو رہے تھے اُسی لڑکی نے تم سے چوری چُھپے نکاح کیسے کرلیا؟؟؟؟

مام وہ…

وہ نکاح نامہ جھوٹا تھا عدوان نے نظریں جُھکاۓ اصل بات بتائ…

عدوان کہ اعتراف کرتے ہی ثانیہ کا ہاتھ عدوان کہ چہرے پہ نشان چھوڑ گیا تھا….

میرے بیٹے ہوتے ہوۓ اتنی گھٹیا حرکت کیسے کرسکتے ہو تم؟؟

اتنا رسوا کیا اُسکی فیملی کو کہ اُسکا باپ چل بسا عدوان تت…تم ایسا کیسے کرسکتے ہو؟؟؟

I am in love mom….

Shut up justttt shut up…

پیار کا تو نام بھی مت لینا تم اسے پیار نہیں کہ سکتے پیار ایسا ہو ہی نہیں سکتا…

عدوان آج زندگی میں پہلی بار اپنی ماں کو ایسے دیکھ رہا تھا…

ایک لڑکی کی عزت چوراہے پر لٹکا کر کہتے ہو کہ تم پیار میں تھے لعنت ہے ایسے پیار پر…

ثانیہ ہانپتی ہوئ اب کُرسی ہر ڈھے سی گئ تھیں.

ایسی تربیت تو نہیں کی تھی میں نے تمھاری تم نے تو فیل کردیا مجھے آج….

ایسا نہیں ہے مام آپ میری بات تو سُنیں…

اب بھی کچھ باقی رہ گیا ہے تو وہ بھی سُنا دو…(ثانیہ صاحبہ نے عدوان کو صفائ کا موقع دیتے ہوۓ کہا)

عدوان ے ایک لمبی سانس بھرتے اپنی ماں کہ قدموں میں بیٹھے سب بتانا شروع کیا..

مام ماہی کی شادی اُسکے جس کزن سے ہورہی تھی وہ بالکل بھی اچھے کریکٹر کا نہیں ہے…

میرا ایک دوست ہے پیرس میں جو بُراق کا اور میرا mutual فرینڈ ہے…

اور دوسرا اُسکی کزن بُراق کو پسند کرتی ہے اور دونوں کا نکاح بھی ہوگیا آج اور اگر میں درمیان میں نا آتا وہ تب بھی ماہی کی شادی نا ہونے دیتی…

وہ یہ شادی جیسے بھی کر کہ ضرور روکوا لیتی تب بھی یہی سب ہوتا…

پر اب فرق یہ ہے کہ ماہی محفوظ ہاتھوں میں ہے

پلیز مام آپ سمجھیں اگر وہ لڑکا اچھا ہوتا تو شاید میں یہ سٹیپ نا لیتا پر جانتے بوجھتے اپنی محبت کو کھائ میں گرتا نہیں دیکھ سکتا تھا میں…

ممم..میں جانتا ہوں میرا طریقہ غلط ہے پر میری نیت صاف تھی مام…

میں نے کچھ غلط نہیں کیا بس اپنی محبت کو بچایا ہے….

ثانیہ صاحبہ عدوان کو اب بھی مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھیں….

کیا ماہی تمھارا یقین کر لے گی؟؟؟

کیا وہ تمھیں اتنی آسانی سے معاف کردے گی …..