Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 23
Rate this Novel
Beri Piya Episode 23
Beri Piya by Hareem
شزرا…..
جی…شزرا نے پانی میں پاوں مارتے ہوۓ بُراق سے پوچھا…
وہ ہم آج اسلام آباد واپس جا رہے ہیں…
کیااا مگر کیوں؟؟؟(شزرا نے ایک دم سے کھڑے ہوکر چلاتے ہوۓ پوچھا)
آہستہ بولو شزرا اور چلو ابھی یہاں سے تو چلو…
بُراق نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جسے پکڑتے ہوۓ شزرا کھڑی ہوتی پانی سے باہر آگئ…
پر بُراق ابھی تو ہم نے سوات ناران کاغان اور مالم جبہ بھی جانا تھا…
جانا تو تھا پر ایک ایمرجنسی ہے مجھے پیرس واپس جانا ہے…
بُراق تقریباً بھاگتا ہوا اپنے ریزورٹ کی طرف پُہنچا تھا جو بالکل لیک کہ پاس تھا…
شزرا جو بُراق کہ ہم قدم ہونے کی چاہ میں ہانپ چُکی تھی…
بُراق کی بات سُنتے ہی حیرت سے کمرے کہ دروازے پر ہی رُک گئ….
اور بُراق کو دیکھنے لگی جو اپنا سامان بیگ میں ڈال رہا تھا…
پپ…پر.. براق ہمارا ایک مہینے کا ٹرپ تھا اور تم ایک ہفتے میں ہی جا رہے ہو ہنی مون کینسل کرکے…
اور….. اور تم نے تو کہا تھا جب تک میرے ڈاکومنٹس کمپلیٹ نہیں ہوجاتے تم یہیں رُکو گے اب ایسی کیا ایمرجنسی ہوگئ ہے؟؟؟؟
شزرا ہڑبڑاہٹ میں براق کو دیکھ بولے چلی جارہی تھی…
جو الماری سے کپڑے نکال سوٹ کیسز بھرنے میں مشغول تھا…اور ایسے کان لپیٹے ہوۓ تھا جیسے شزرا کی آواز سُنائ ہی نا دے رہی ہو…
اپنی بات ٹوٹلی اگنور ہوتی دیکھ شزرا نے غصے سے ہاتھ مارکر سوٹ کیس بند کیا…جس پر بُراق اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہوا اُسکی طرف بڑھا اور دونوں بازووں سے سختی سے پکڑے گویا ہوا…
Youuuuuu….. Whats wrong with you…
براق پہلے ہی بہت پریشان تھا..اور شزرا کا ایسا رئیکشن مزید اُسے بھڑکا گیا تھا…
ہم تھوڑی دیر تک یہاں سے نکل رہے ہیں اور یہاں سے نکلنے کہ بعد اگلے دن رات کی فلائٹ ہے میری اور میں واپس جارہا ہوں….
سمجھی تم….اور اب چُپ چاپ یہاں بیٹھو نہیں تو دفعہ ہو جاو یہاں سے گاٹ اٹ…
براق نے اپنی اُنگلی شزرا کے ماتھے پہ مارتے ہوۓ منہ سے کف اُڑاتے ہوۓ کہا…
اور ایک جھٹکے سے اُسے چھوڑتا ہوا دوبارہ سے پیکنگ کرنے لگا…
جبکہ حیران پریشان سی شزرا حیرت اور صدمے کہ ملے جُلے احساسات لئیے آنکھوں میں آنسو بھرے سر جُھکاۓ رونے میں مصروف ہوگئ….
***********
ماہی باتھروم سے چینج کئیے بلیک ویلوٹ کی شارٹ شرٹ اور گولڈن رنگ کا پاجامہ پہنے بالوں کا میسیی سا بن بناۓ اپنی شال اُٹھاۓ ڈریسنگ کہ سامنے کھڑی لپ بام لگانے لگی…
(یہی ماہی کا کُل میک آپ تھا)
بلیک کلر میں کھلتی ہوئ ماہی عدوان کو بہکا گئ تھی جبھی وہ بیڈ سے اُٹھتا ماہی کہ قریب پُہنچا اور اپنے لب ماہی کی گردن پہ رکھتے اُسے اپنے بازووں میں گھیرے کھڑا ہوگیا…
عدوان کی یہ حرکت ماہی کہ دل کی رفتار کو تیز کر گئ تھی…
میں جانتا ہوں کہ تم باہر صرف مجھ سے فرار حاصل کرنے کہ لئیے جارہی ہو …
نن…نہیں وہ…. وہ….مجھے واقعی… مم..میں کک..کچھ لینا ہے…
عدوان کی اتنی قربت ماہی کی زبان ہی بند کر گئ تھی…اور ماہی کو اٹکتا دیکھ عدوان نے قہقہ لگایا تھا…
اوہ میرہ جان تم اتنی معصوم کیوں ہو تمہیں تو جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا…
اتنے ڈریسز جو میں نے لاکر دئیے ہیں وہ تو ابھی تک سارے پہنے نہیں ہیں تم نے…
بٹ اینی ویز…
تمہیں باہر جانا چاہیے میرے ہاتھ میں تکلیف نا ہوتی تو میں خود لے جاتا پر چلو ڈرائیور تو ہے…
عدوان ابھی بھی ماہی کو اپنی بانہوں کہ حلقوں میں گھیرے کھڑا تھا….تبھی ماہی منمنائ…مجھے جانا ہے….
اوہ ہاں پر کیا کروں دل نہیں چاہ رہا تمہیں خود سے دور کرنے کا…عدوان نے ماہی کہ سر کا بوسا لیتے اُسے چھوڑ دیا…
(عدوان سے فرار پاتے ہی ماہی نے باہر کی طرف دوڑ لگانا چاہی کہ تبھی عدوان نے ایک بار پھر سے اُسے اُسکے بازو سے تھام لیا…
جس پر ماہی نے عدوان کو گھورا)
شاپنگ کہ لئیے پیسے چاہیے ہوتے ہیں وہ تو تم نے لئیے ہی نہیں…
اوہ ہاں میرے پاس تو پیسے ہی نہیں ہیں…
یہ سوچتے ماہی کی آنکھیں بھر آئ تھی…
تو اس میں اتنا اُداس ہونے والی کونسی بات ہے؟؟؟
شادی کہ بعد تو ہسبنڈ کہ پیسے ہی اُڑاتی ہیں بیویاں…اور چونکہ خوشقسمتی سے میں تمھارا ہسبنڈ ہوں اور پیسوں کہ ساتھ ساتھ دل وجان لئیے تمھارے قدموں میں بیٹھا ہوں اس لئیے تم چل کرو…
عدوان نے بات کو مزاق کا رنگ دیتے ماہی کو سمجھاتے ہوۓ اپنے والٹ سے کریڈٹ کارڈز نکال کر ماہی کی طرف بڑھاۓ…
جیسے ہی ماہی نے اُنہیں پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا…
تبھی ماہی کہ بڑھے ہاتھ کو عدوان نے اپنے ہاتھ میں لیا اور اُسکی ہتھیلی پہ کریڈٹ کارڈ رکھ کر دُبایا…
جلدی آنا میں انتظار کرونگا تمھارا ….
عدوان کی آنکھوں میں جذبوں کی شدت کو ہلکورے لیتا دیکھ ماہی کا دل کسی پرندے کی طرح پھڑپھڑا گیا تھا…..
*************
ماما پلیز آپ نے کیا حال بنا لیا ہے اپنا….
زین نے کمرے میں اندھیرا کئیے بیٹھی عالیہ کو دیکھتے ہوۓ شکوہ کیا…
تو کیا کروں بیٹا میرا دل ہی نہیں چاہتا…
پر ایسے کیسے چلے گا ماما ایسے تو آپ خود کو بیمار کرلیں گی…
تو ہونے دو اب صحیح ہو کو کرنا بھی کیا ہے…ایسے تو مت کہیں مجھے ضرورت ہے آپکی…
زین ایک بات کہوں؟؟؟
جی ماما پلیز…
مجھے کچھ دنوں سے ماہی کی بہت فکر ہورہی ہے پتہ نہیں کیوں میرا دل میری بچی کی طرف سے بہت بےچین ہے…
ہممم تو آپ ماہی سے کانٹیکٹ کرنا چاہتی ہیں کیا؟؟
عالیہ نے زین کی طرف دیکھ کر ڈرتے ہوۓ کہا کہ کہیں وہ مائنڈ نا کر جاۓ….
ہاں میں چاہتی ہوں اگر تمہیں بُرا نا لگے تو…
مجھے کیوں بُرا لگے گا میں بس آپ کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں…..
پر میرے پاس ماہی کا کوئ نمبر نہیں ہے…
پر میرے پاس شاید ثانیہ آنٹی کا نمبر ہو میں چیک کرتا ہوں اور بات کروادوں گا آپکی بس آپ پریشان نا ہوں…
زین عالیہ کو تسلی دیتا وہیں اُنکے پاس بیٹھ گیا..
************
بُراق نے گاڑی بُک کروالی تھی اور اب وہ دونوں راستے میں تھے….
شزرا بالکل کھڑکی کی طرف منہ موڑے بیٹھی باہر دیکھ رہی تھی…
بُراق کہ روئیے نے شزرا کو بہت ہرٹ کیا تھا اور اب وہ اس انتظار میں تھی کہ بُراق اُس سے اپنے روئیے کی معافی مانگے…
پر براق اس وقت آنے والے وقت اور سونیا کی وجہ سے اس قدر پریشان تھا کہ پاس بیٹھی شزرا کی ناراضگی اور خاموشی اُسے نظر ہی نہیں آرہی تھی…
پتا نہیں ایسا کیا ہوگیا ہے کہ بُراق کا رویہ اتنا بدل گیا ہے لگ ہی نہیں رہا کہ وہ پہلے والا بُراق ہے….
شزرا ترچھی نظروں سے آنکھیں موندے سیٹ سے ٹیک لگاۓ براق کو دیکھے سوچنے لگی…
کہیں اسے ماہی کا پتہ تو نہیں چل گیا؟؟؟
نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا اگر ایسا ہوتا تو یہ پیرس نا جاتا…
شزرا نے اپنے دل میں آئ سوچ کو جھٹکا
ہممم ایک تو میں نے اس کی عزت بچائ قربانی دی اسکے لئیے اور یہ ہے کہ میری کوئ قدر ہی نہیں ہے…
اب وہ فون پکڑے یہاں کی صورتحال کہ بارے میں اپنی ماما کو میسیج کرنے لگی..
(شزرا اپنے آنسو پونچھتے یہ بھول گئ تھی کہ جس احساس کو وہ قربانی کا نام دے رہی ہے وہ اُسی کی سازش تھی….)
**********
اُشنا اور ماہی گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھیں اپنے راستے کی طرف گامزن تھیں….
کچھ ہی دیر میں سورج بھی ڈوبنے والا تھا…
اُشنا اپنے فون پر مہد کہ ساتھ میسیجنگ میں مصروف تھی…
اور ماہی عدوان کہ روئیے کہ بارے میں سوچتی پریشان بیٹھی تھی…
جبھی دوسری طرف گاڑی مُڑتی دیکھ پریشان ہوتی پوچھ بیٹھی…
یہ ہم کس طرف جارہے ہیں سینٹورس اس طرف تو نہیں ہے…
ماہی کہ بولنے پر اُشنا بتانے لگی…
تمہیں کس نے کہا ہم سینٹورس جارہے ہیں…
تو پھر ہم کہاں جا رہے ہیں؟؟
ہم بحریہ ٹاون کہ مال جارہے ہیں کیا نام تھا وہ…ہاں giga mall ..اُشنا نے یاد کرتے ہوۓ کہا…
پر وہ تو بہت دور ہے یہاں سے اور شام بھی ہونے والی ہے آتے آتے تو گیارہ… بارہ بج جائینگے…
ماہی کو فکر ہوئ تھی ….
اوہ کم آن ماہی اٹس اوکے…ہم کونسا کسی کیب میں جارہے ہیں گاڑی ہے ڈرائیور ہے دیر بھی ہوگئ تو کیا ہوا؟؟
پر ہم قریب میں کہیں چلتے ہیں …
اُف پلیز میں نے گوگل کیا مجھے یہی جگہ اپنے سٹینذرڈ کی لگی…اور اگر تمہیں زیادہ ایشو ہے تو یہیں اُتر جاو کیب لو اور گھر جاو…
اُشنا کہ منہ بنانے پر ماہی کو اُسکی ناراضگی کا احساس ہوا تبھی بول اُٹھی اچھا چلو ٹھیک ہے پر ممی کو میسیج کردو وہ پریشان ہوجائیں گی…
عدوان کا کہتے کہتے ماہی نے ممی کا بول دیا تھا….
( ماہی کہ پاس موبائل نہیں تھا…اور عدوان کہ دئیے فون کو آج تک ماہی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا….)
ہاں ہاں کردونگی…اُشنا لاپرواہی سے کہتی اپنے فون پر جُھک گئ…
ماہی کا دل بہت پریشان ہورہا تھا اور بار بار یہی خیال آرہا تھا کہ شاید باہر آکر غلطی کی…
************
مہوش ارے او مہوش…
کیا ہوگیا بھابھی سب خیریت تو ہے نا آپ ایسے آوازیں کیوں دے رہی ہیں…
نا تو اور کیسے آوازیں لگاوں تمھارے تو بیٹے کی حرکتوں نے میری بیٹی کہ ارمانوں پہ برچھیاں چلا دی ہیں…
ہاۓ بھابھی ایسا بھی کیا ہوگیا کل تو بات ہوئ ہے شزرا سے وہ تو بالکل ٹھیک تھی…
ہاں تو وہ کل ٹھیک تھی…
تو آج ایک دن میں کونسے ظلموں کہ پہاڑ توڑ دئیے ہیں میرے بیٹے نے…
مہوش نے لاونج میں رکھے صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کہ بیٹھتے ہوۓ پوچھا…
نا تو مجھے یہ تو بتاو ایسی بھی کیا آگ لگی تھی تمھارے پیرس میں جسے بُجھانے کہ لئیے براق بھاگا بھاگا واپس جارہا ہے…
عائشہ کی بات پر مہوش حیران ہوتی یک دم سیدھی ہوکر بیٹھ گئیں…
کیا براق واپس جا رہا ہے؟؟؟ پر کیوں؟؟؟اور کب ؟؟؟
زیادہ حیران ہونے کا ڈرامہ مت کرو میں جانتی ہوں تمھارا بیٹا تمھارے کتنے کنٹرول میں ہے…
پر بھابھی میری کل اُس سے بات ہوئ تھی اُس نے ایسا کچھ نہیں کہا سچ…
ہمممم….کہتے عائشہ نے نخوت سے سر جھٹکا جیسے اُنکی بات پر کوئ یقین نا ہو…
ابھی انکی بحث جاری تھی کہ تبھی ثروت بیگم وہاں داخل ہوئیں…
کیا ہوا تم دونوں کو کیوں اتنا اُونچا اُونچا بول رہی ہو؟؟
دیکھیں نا ماں جی میری بچی کی پہلے تو شادی جیسے تیسے ہوگئ پر اب ہنی مون بھی بیچاری کو نصیب نہیں ہوا ہاۓ…
میری تو بیٹی کہ نصیب ہی ماڑے ہیں میری طرح اور ایک وہ ماہی ہے جس نے پہلے تو…. عائشہ روتے ہوۓ ایک بار پھر سے ماہی کو بیچ میں گھسیٹ لائ تھیں….
اچھا بس عائشہ تم بتاو مہوش کہا مسئلہ ہے..پتا نہیں ماں جی بھابھی کہہ رہی ہیں براق واپس جا رہا ہے …
حالانکہ کل بات ہوئ تھی میری اس نے بالکل کوئ بات ہی نہیں کی…
ہاں تو اس میں اتنا شور کرے والی کونسی بات ہے کام کاج والا بچہ ہے پڑ گیا ہوگا کوئ کام…
اور عائشہ اب بیٹی کی شادی ہوگئ ہے اُسکو اپنے مسئلے خود دیکھنے دو…اور جاو اپنے میاں سے کہو باپ بُلا رہا ہے اُسکا…
ثروت نے معاملہ ہی ختم کردیا تھا…عائشہ منہ بناتی اپنے کمرے کی طرف چل دیں…اور مہوش براق کا نمبر ملانے لگیں….
***********
دو گھنٹہ کی ڈرائیو کہ بعد شزرا اور ماہی اپنی مطلوبہ جگہ پر آچُکی تھیں….
اور اب ادھر اُدھر دیکھتیں آگے کو بڑھ رہی تھیں کہ جبھی ماہی ایک شاپ میں گُھس گئ….
اور اپنی فیورٹ ٹی شرٹس دیکھنے لگی…اتنے دنوں بعد اپنی پسند کہ ڈریسز دیکھ کر وہ خوش ہوگئ تھی.
تبھی کسی نے پیچھے سے اُسکے کندھے پہ ہاتھ دھر دیا….
ماہی نے جیسے ہی پیچھے مُڑ کر دیکھا اپنے سامنے کھڑے مہد کو دیکھتے ہی اُسے اپنا آپ ایک بار پھر سے فیصل مسجد کہ پرئینگ ہال میں کھڑا ہوا محسوس ہوا جہاں ہر کوئ اپنی اپنی مرضی سے اُسکے منہ پر کالک پوت رہا تھا….
ماہی….مہد کہ پُکارنے پہ ماہی کو ایک دم سے ہوش آیا اور وہ مہد کی سائیڈ سے ہوتی باہر نکلنے لگی…
ماہی پلیز بات سُنو..
مہد کہ پُکارنے پر ماہی اُسے اگنور کرتی آگے بڑھنے لگی…
ماہی پلیز میری بات سُنو ماہی…
اب کی بار مہد نے آگے بڑھتے ہوۓ ماہی کا ہاتھ پکڑے اپنی طرف کھینچا..
ہاو ڈیر یو…
ماہی پلیز ایک بار بات سُن لو…
کیوں…کیوں سُنو جب میں نے کہا تھا کہ میری بات سُنو تب تو تم سب میں سے کسی نے میری نہیں سُنی تھی…
ہم سے غلطی ہوگئ تھی جو نہیں سُنی اب سُنا دو…
اب کچھ نہیں بچا سُنانے کو ماہی اپنا ہاتھ چھڑاتے آگے بڑھنے لگی…
تبھی مہد نے آخری پتہ پھینکا…
کیا تم یہ بھی نہیں جاننا چاہتی کہ عالیہ تائ کہاں ہیں…
اپنی ماں کا نام سُنتے ہی ماہی کہ قدم رُکے تھے…اور مہد مُسکراتا ہوا اُس تک پُہنچا…
ماما کہاں ہیں مہد؟؟؟
آو بیٹھ کہ بات کرتے ہیں…
مہد کی آفر پہ ماہی نے اُشنا کی طرف دیکھا جو اُنہی کی طرف آرہی تھی…
یہ کون ہیں ماہی اُشنا بے انجان بنتے ہوۓ پوچھا…
وہ یہ میرے کزن ہیں مہد…
اوہ نائس ٹو میٹ یو …ایم اُشنا…
اُشنا نے مسکراتے ہوۓ اپنا انٹرو دیا…
تبھی مہد بول پڑا اگر آپ مائنڈ نا کریں تو کیا ہم وہاں بیٹھ کر بات کرلیں…
یا شیور آپ دونوں باتیں کریں میں اپنی شاپنگ کمپلییٹ کرکہ اپ لوگوں کو جوائن کرتی ہوں…
اُشنا بنا ماہی کا جواب سُنے آگے بڑھ گئ…
اور ماہی ہاتھ مسلتے مہد کہ ہم قدم ہوگئ….
ابھی اُشنا ایک دوکان میں اینٹر ہوئ ہی تھی کہ اُسکے فون پہ عدوان کالنگ جگمگانے لگا..
