Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 27

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 27

Beri Piya by Hareem

ماہی اور عدوان گھر والوں کہ ساتھ رات کہ کھانے پر موجود تھے…

ماہم اور اُشنا فون ہاتھ میں پکڑے اپنی آن لائن شاپنگ کی ڈسکشن میں بزی تھیں…

کہ تبھی سی فوڈ کہ شوقین عدوان نے ڈونگے کا ڈھکن اُٹھایا..

جس میں پڑی shrimps curry کو اپنی پلیٹ میں بھرنے لگا…

ساتھ بیٹھی ماہی نے پہلے تو غور سے دیکھا کہ یہ ہے کیا بلا پر اس سے پہلے ایسی چیز نا دیکھی ہونے کہ باعث وہ اسے کوئ کیڑے ہی لگے…

جسے مہارت سے عدوان نے اپنے فورک پہ لگایا اور اچھے سے curry میں ڈپ کرتے جیسے ہی منہ کی طرف لیکر گیا ویسے ہی ماہی اُسے دیکھتے منہ پہ ہاتھ رکھتی لاونج میں موجود باتھ روم میں بھاگ گئ اور باقی سب حیرت سے اُسے جاتا دیکھنے لگے…

اس سے پہلے کہ عدوان اُٹھتا ثانیہ صاحبہ نے اُسے روک دیا..

تم کھانا کھاو میں دیکھتی ہوں…

اسے کیا ہوگیا عدوان ماہم نے تنقیدی نظروں سے باتھ روم میں کھڑی ماہی کی پُشت کو گھورتے ہوۓ عدوان سے پوچھا ساتھ ہی دل میں دعا کی کہ جیسا وہ سمجھ رہی ہے ویسا کچھ نا ہو….

عدوان بھی کھانے سے ہاتھ روکے متفکر سا بیٹھا ماہی کا انتظار کرنے لگا جو کچھ ہی دیر میں ٹشو سے چہرہ تھپتھپاتی ہوئ ڈائننگ کہ پاس آئ…

اُف عدوان یہ کیا کیڑے کھا رہے ہو تم…

ماہی کہ کیڑے کہنے پر عدوان نے کانٹے پہ لگے شرمپس ماہی کی طرف کئیے…

بہت مزے کہ ہوتے ہیں تم ٹرائ تو کرو…

اپنے اتنے قریب یہ عجیب سی چیز دیکھتے ہوۓ ماہی پھر سے منہ پہ ہاتھ رکھے باتھروم کی طرف دوڑ گئ…

ماہی کو جاتا دیکھ عدوان نے ہانک لگائ…

اور کھاو گند بلا..

مام آپکو پتہ ہے کہ آج ان میڈم نے ایک low class سی جگہ سے چاٹ….اور وہ کیا کہتے ہیں ہاں گول گپے اور سموسوں والی چاٹ (سموسہ چاٹ) ڈھیر سارا مصالحہ اُنڈیل اُنڈیل کر کھائ ہے..

اوہ لگتا ہے تبھی بچی کی حالت ایسی ہورہی ہے…

یہ سب سُنتے ماہم نے سکون کا سانس لیا کہ شکر ویسا کچھ نہیں ہے….

جی نہیں وہ گند نہیں تھا گند یہ ہے جو تم کھا رہے ہو…

ماہی نے بُرا مناتے ہوۓ کہا…

اچھا اُٹھو کھانا چھوڑو اور اسے ہاسپٹل لے جاو لگتا ہے فوڈ پوائزن ہوگیا ہے..

اوکے مام..

عدوان کھانا چھوڑتے ماہی کو لئیے باہر کی طرف بڑھ گیا

************

ماہی اور عدوان اس وقت ہاسپٹل سے واپس آرہے تھے…

جہان عدوان اس قدر خوش تھا وہیں ماہی کہ چہرے پہ یاسیت پھیلی ہوئ تھی..

عدوان کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ باپ بننے کی خبر سُنتے وہیں ہاسپٹل میں ہی بھنگڑے ڈالنے شروع کردیتا…

عدوان نے تو ہاسپٹل سے ہی اپنی مام کو گُڈ نیوز سُنا دی تھی اور اب مٹھائ کہ ٹوکرے لئیے وہ گھر جا رہے تھے…

تبھی بنا ماہی کی فیلنگز سمجھے عدوان نے گاڑی میں پھیلی خاموشی کو توڑتے ہوۓ کہا..

مجھے تو بیٹی چاہیے..

تمہیں پتا ہے مجھے ہمیشہ بہن نا ہونے کی کمی محسوس ہوتی رہی ہے زندگی میں…

پر اب میں چاہتا ہوں کہ میری وہ کمی بیٹی کی صورت میں مکمل ہو تم بتاو تمہیں کیا چاہیے..

ماہی کو اپنی ہی سوچ میں ڈوبا دیکھ عدوان نے پُکارا

ماہی…

ماہی جو اپنے ہی خیالوں میں غرق تھی عدوان کہ پکارنے پر حال میں پُہنچی…

تم کچھ کہہ رہے ہو…

تو تم نے سُنا ہی نہیں حد ہے…

اچھا تو اب بتا دو…(ماہی نے اُکتاۓ ہوۓ کہا)

میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہماری بیٹی ہونی چاہیے..

نن…نہیں…نہیں…بب….بیٹی تو بالکل نہیں..

پر کیوں (عدوان نے حیرت سے ڈرائیونگ کرتے ہوۓ ماہی کو دیکھتے پوچھا)

کیونکہ میں نے کہیں سُنا تھا کہ یہ دُنیا مکافات عمل ہے اور ہر انسان کا کیا ایک دن اُسکے آگے ضرور آتا ہے…

تو…. میں بالکل نہیں چاہتی کہ میری بیٹی اپنے باپ کا کیا بُھگتے…

ماہی کہ الفاظ عدوان کو اپنے چہرے پہ ایک زناٹے دار تھپڑ کی طرح لگتے ہوۓ محسوس ہوۓ تھے..

ماہی نے اُسے لا جواب کردیا تھا…

تبھی وہ غصے سے اُسے گھورتا ہوا گاڑی کی سپیڈ بڑھاتا آگے بڑھ گیا….

*************

دو دن بعد….

سردار ہاوس میں اس وقت سب موجود احد کی ہونے والی بیوی کہ لئیے کی گئ خریداری پھیلاۓ بیٹھے تھے…

ماں جی یہ دیکھیں…

یہ پہلے دن کہ لئیے لیا ہے…

(یہ ساری شاپنگ ہانیہ نے عائشہ اور شزرا کہ ساتھ جا کر خود اپنی پسند سے کی تھی)

یہ کیا لے لیا عائشہ اتنا چھوٹا بلاوز ہے یہ تو اور گلہ بھی کتنا ڈیپ ہے….

ماں جی آج کل یہی سب چل رہا ہے اور لڑکیاں ایسا ہی پسند کرتی ہیں…

کرتی ہونگی پسند پر ہمارے بھی کچھ اصول ہیں شادی پہ پورا خاندان موجود ہوگا اور دُلہن یہ بیہودہ لباس پہنے گی…

توبہ توبہ… کل ہی جاو اور چینج کرواو…

پر ماں جی ہانیہ نے….عائشہ نے منمناتے ہوۓ کہا…

(کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ پہلے ہی ہانیہ نے نہیں سُنی تھی تو اب کیا واپس کروانا… )

تو یہ تمہاری غلطی ہے جب وہ یہ لے رہی تھی تمہیں تب ہی اُسے بتانا چاہیے تھا…

اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتیں کہ تبھی بُراق نے اینٹر ہوتے ہوۓ سب کو حیران کردیا…

شزرا نے براق کو دیکھتے ہی شکر کیا پر اپنی ناراضگی بھی تو دیکھانی تھی تبھی سلام کا جواب دیتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ…

اور براق اتنی اچانک کیسے بیٹا تم نے کچھ بتایا ہی نہیں مہوش نے بُراق کو اچانک سے آتے دیکھ پوچھا..

بس ممی میرے پہلے پہلے سالے کی شادی ہے میرا آنا تو بنتا تھا نا…

براق کا آنا عائشہ کو نہال کرگیا تھا ویسے بھی وہ چاہتی تھیں کہ شزرا جلد سے جلد چلی جاۓ….

اور براق بیٹا تھک گۓ ہوگے جاو فریش ہوجاو پھر کھانا لگاتی ہوں اُنہون نے بہانے سے اُسے اُٹھانا چاہا…

فریش بھی ہوجاونگا ممانی پر پہلے اپنی پیاری سی بیوی کو تو منا لوں…

بُراق کہ اُٹھ کر جانے پہ عائشہ نے شُکر کیا…

***********

ہیلو اُشنا…

ہاں مہد بولو…اُشنا نے فون اُٹھاتے بےدلی سے جواب دیا…

تم کہاں غائب ہو اور مجھے ماہی سے کب ملوا رہی ہو…؟؟

اب کوئ فائدہ نہیں ہے مہد…

کیوں…کیوں….ایسا کیا ہوگیا…

وہ…ماہی پریگننٹ ہے…

کیا….پر کیسے تم تو کہہ رہی تھی اُنکے بیچ کچھ بھی صحیح نہیں ہے ماہی تو بات بھی نہیں کرتی پر اب یہ کیسے…

اب کیسے کا مجھے کیا پتہ…اُشنا نے غصہ ہوتے ہوۓ کہا….

ویسے بھی عدوان کو ماہی کہ لئیے ایک پیر پہ کھڑا دیکھ اور ہر وقت اُسکے آگے پیچھے پھرتا دیکھ کر اُسے اب کوئ خاص اُمید نہیں رہی تھی…

چلو خیر ہے کوئ نہیں ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہم سب سنبھال لیں گے اگر تم ساتھ دو تو…

کیا مطلب؟؟؟

مطلب یہ کہ طلاق تو دو دو بچوں والی خواتین کو بھی ہو جاتی ہے اور یہ تو صرف پریگننٹ ہے اور miscarriage بھی اسی دُنیا میں ہوتے ہیں….مہد نے ہنستے ہوۓ اُشنا کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوۓ کہا..

ویسے ماننا پڑے گا تم ہو بہت کمینے…

ہاہاہاہاہا thanks for the compliment darling…

زیادہ خوش مت ہو یہ بتاو کرنا کیا ہے…

تم ماہی کو مجھ سے ملنے پر آمادہ کرو پھر بتاتا ہوں کہ کیا کرنا ہے…

اوکے باس…

اُشنا نے پھر سے پُراُمید ہوتے ہوۓ سُکھ کا سانس لیا…

*************

ماہی نے جب سے conceive کیا تھا….تب سے صحیح معنوں میں عدوان کو دن میں تارے دکھا دئیے تھے…..

اب رو کیوں رہی ہو ماہی جہاں سے کہے تھے وہیں سے تو لایا ہوں گول گپے…

عدوان آفس ٹائمنگ کہ بیچ میں ماہی کی فرمائش پر اُسکے لئیے گول گپے لایا تھا جو ایک منہ میں ڈالتے ہی اب ماہی رو رہی تھی..

خود ہی کھا لو مجھے نہیں کھانا…

مگر کیوں ؟؟؟اچھے نہیں ہیں کیا؟؟؟

اچھے….تمہیں کس نے کہا تھا اس میں میٹھی چٹنی ڈلوا کر لاو گول گپے بھی کبھی میٹھے ہوۓ ہیں…

اب مجھے کیا پتہ میں نے تو کبھی کھاۓ ہی نہیں …عفوان نے بیچارگی سے کہا…

اور ویسے بھی میں نے اُسے کہا گول گپے دے دو اُس نے پوچھا سب کچھ ڈالنا ہے میں نے کہا ہاں سب کچھ ڈال دو تو اب مجھے کیا پتہ تھا وہ کچھ میٹھا ڈال دے گا…

تو غلطی تو ساری تمہاری ہے نا پھر…

میری کہا غلطی ماہی…اس سے پہلے کہ عدوان کچھ کہتا ماہی نے زور وشور سے رونا شروع کردیا…

اچھا اسے چھوڑو کل صحیح والے لا دونگا پکا..

پر مجھے ابھی چاہیے…

اُف ماہی عدوان کا دل چاہا کہ اپنے بال نوچ لے…

یار رات کو بھی میں دو بجے تمہیں فالوہ کھلانے لیکر گیا وہ بھی سب جگہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر آخر کار راولپنڈی سے ملے…..

ہاں تو کونسا احسان کیا ہے…

اور اب گھورنا بند کرو اور لیکر آو…

میں نہیں جارہا ڈرائیور کو بھیج دو…

عدوان نے اپنے موزے اُتارتے ہوۓ لاپرواہی سے کہا…

کیوں وہ کیوں جاۓ ابا بننے کا شوق تو آپکو تھا نا سو آپ ہی لائینگے…

ماہی….ماہی…. عدوان کہ چلانے کی دیر تھی کہ ماہی نے پھر سے آنسو بہانے شروع کردئیے…

تمہیں میرا خیال ہی نہیں ہے….

تمہارا پیار بھی تمہاری طرح دو نمبر ہے…

لوگ تو…تو چاند تارے توڑ لاتے ہیں تم گول گپے نہیں لاسکتے….ماہی نے روتے ہوۓ عدوان کی محبت کو بیچ میں گھسیٹا..

اوکے…. اوکے جا رہا ہوں جارہا ہوں ..ٹھیک…

پر چینج کر لوں پہلے…

ہاں کرلو (ماہی نے احسان کرتے ہوۓ اجازت دی)بہت شکریہ آپکا….

عدوان چینج کرتے جا چُکا تھا کہ تبھی ماہی نے گول گپوں کو للچائ ہوئ نظروں سے دیکھتے ہوۓ سوچا کہ کیا رزق ضائع کرنا تبھی پلیٹ اُٹھاۓ نوٹ بیڈ کہتی وہی گول گپے کھانے لگی….

************

شزرا…

میری جان میں نے بہت مس کیا تمہیں…

براق نے شزرا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ پیار سے کہا…

ہاں اتنا مس کیا تبھی دن میں دس دفعہ فون کرتے تھے ہے نا…

فون کیا تو تھا پر تم نے اُٹھایا ہی نہیں…

تو تم نے کونسا بار بار کیا اور منایا بھی نہیں مجھے….

شزرا نے منہ پُھلاتے گلہ کیا …

ایم سوری شزرا…

لو میں کان پکڑ لیتا ہوں یا جیسے تم چاہو ویسے منا لونگا پر پلیز موڈ ٹھیک کر لو…

براق نے ماہی کو اپنے قریب کرتے ہوۓ مزید کہا..

تم کیا جانو تمھاری ناراضگی کس قدر تکلیف دہ ہے میرے لئیے اور کتنی مشکل سے میرا وقت گُزرا تمھارے بغیر..

اور ویسے بھی تم تو جانتی ہی ہو میں کس قدر پیار کرتا ہوں تم سے…بُراق نے اپنی محبت کا یقین دلاتے کچھ یاد آنے پر فوراً کہا…

اور ہاں یہ دیکھو میں تمھارے لئیے تمھارے فیورٹ برینڈ کہ ہینڈ بیگز اور ڈریسز لایا ہوں…

صدا کی برینڈ کانشس چیزیں دیکھتی فورا سے ایکسائیٹڈ ہوتی سب دیکھنے لگی…

شزرا کا موڈ تو ٹھیک کرلیا تھا براق نے پر اب یہ سوچنا تھا کہ وہ اصل بات کب اور کیسے بتاۓ…

*************

ماہی…

ماہی…

تم یہاں کھڑی ہو میں کب سے ڈھونڈ رہی تھی تمہیں…

ماہی جو سامنے اپنے گھر پہ لگتی لائٹس دیکھتی حیران کھڑی تھی اُشنا کی طرف متوجہ ہوئ…

ہاں کیا ہوا کیوں ڈھونڈ رہی تھی…

وہ ماہی…

وہ جو اُس دن تمہارا کزن ملا تھا نا وہ آج پھر سے مجھے پارک میں ملا تھا….

اچھا…..

ہاں وہ تم سے ملنا چاہتا ہے اُس نے کہا کہ اُسکا پیغام تم تک پُہنچا دوں…

مگر کیوں ملنا چاہتا ہے؟؟

پتہ نہیں کہہ رہا تھا کہ بھائ کی شادی کا کارڈ دینا ہے…

اوہ اچھا تو تبھی وہاں اتنی تیاریاں چل رہی ہیں…

پر اُشنا عدوان نے بہت سختی سے منع کیا تھا مجھے وہ نہیں چاہتا کہ میں ملوں…

دیکھو ماہی ویسے تو جو تمھارا دل چایے وہ کرو پر یہ دیکھو کہ شاید اس بہانے تمھارا تمھاری فیملی سے ملنا ہو جاۓ اور ویسے بھی عدوان کو کون بتائیگا کہ تم اُس سے ملنے گئ ہو…

ماہی کو سوچ میں گھرا دیکھ کر اُشنا نے ایک اور جال پھینکا…

سوچ لو ایسے موقعہ بار بار نہیں آتے آگے تمھاری مرضی..

اُشنا کہ جاتے ماہی پھر سے وہیں کھڑی حسرت سے اپنے گھر کی طرف دیکھنے لگی…

************

ہیلو مہد ماہی مان گئ ہے اب بتاو کہ کہاں بھیجوں اُسے اور آگے کیا کرنا ہے…

مہد اپنا پلان اُشنا کہ گوش گُزار کرنے لگا جس پر وہ مسکراتے ہوۓ سر ہلاتے سُننے لگی…

آپی…

آپی…

کیا ہوا بڑی خوش لگ رہی ہو؟؟

ماہم نے اُشنا کو اتنا کھلتے استفسار کیا

خوش تو میں بہت ہوں…

اچھا اور آپکی خوشی کی وجہ ہے کیا؟؟

بھلا ہمیں بھی تو پتہ چلے…ماہم نے مسکراتے ہوۓ اُشنا سے پوچھا

بس آپی سمجھیں آج تو ماہی کا پتہ صاف ہونے والا ہے…

کیا مطلب…

ماہم کہ پوچھنے پر اُشنا اپنا پلان بتاتی فخر سے اپنے کالر جھاڑنے لگی…

پر اُشنا مجھے تو لگا تھا کہ ماہی کی پریگنینسی کا سُنتے تمھارے سر سے عدوان کا بھوت اُتر چکا ہے…

عدوان کا بھوت تو مرتے دم تک نہیں اُتر سکتا آپی…

اور ویسے بھی اُشنا ایک بار جس چیز پر ہاتھ رکھ لے وہ لیکر ہی چھوڑتی ہے…

اچھا آپ اپنا کام کریں…

جب تک میں اپنے پلان پر عمل کر لوں…

اُشنا اپنے عزائم ماہم کہ گوش گُزار کرتی خوشی خوشی باہر کی طرف بڑھ گئ….

***********

ماہی کچھ دیر پہلے ہی Marriott پُہنچی تھی اور اب مہد کہ سامنے بیٹھی جوس کا گلاس ہاتھ میں پکڑے اُسے سُن رہی تھی…

یہ لو احد کی شادی کا کارڈ…

پپ…پر احد میں کیسے آسکتی ہوں کہیں مجھے دیکھ کر کوئ بدمزگی نا ہوجاۓ…

کیوں… کیوں ہوگی بدمزگی بھلا تمہارا کیا قصور ہے…

سب کیا دھرا اُس عدوان کا ہے جو مزے سے ہر جگہ دندناتا پھرتا ہے اور تم بے قصور ہوتے ہوۓ بھی سب کی نظروں میں مجرم بنی ہوئ ہو…

مہد نے ماہی کو اپنی چکنی چُپڑی باتوں میں پھنسانے کی کوشش کی

اور ساتھ ہی مہد ماہی سے بات کرتے کرتے بار بار سیڑھیوں کی جانب دیکھ رہا تھا جیسے کسی کہ آنے کا انتظار ہو…

*************

ہیلو عدوان…

ہاں اُشنا کوئ کام ہے تو پلیز جلدی بولو مجھے میٹنگ میں جانا ہے…

ہیں کونسی میٹنگ؟؟؟

کیا مطلب تم اتنا حیران کیوں ہورہی ہو میں آفس میں ہوں اور آفس میں تو میٹینگز ہوتی ہی رہتی ہیں…

حیران تو ہونگی ہی نا ماہی تو تمہارے ساتھ لنچ ڈیٹ کا کہہ کر یہاں سے میریٹ ہوٹل کہ لئیے نکلی ہے اور تم میٹنگ کا کہہ رہے ہو….

واٹ ؟؟؟

ماہی نے ایسا تم سے خود کہا…؟؟؟

ہاں بالکل وہ کہہ رہی تھی کہ تم ویٹ کررہے ہو اُسکا وہاں…

عدوان نے غُصے سے اُشنا کا فون رکھتے ہی آفس سے باہر کی طرف قدم بڑھا دئیے…

جبکہ اُشنا اپنا کام کرتی مہد کو ڈن کا میسیج ٹائپ کرنے لگی…

***********

اچھا مہد میں عدوان سے بات کرونگی اور دیکھونگی کہ مجھے آنا چاہیے کہ نہیں ویسے تھینکس کارڈ کا مجھے خوشی ہے کہ تم نے مجھے یاد رکھا…

ماہی نے ممنونیت سے مکد کا شکریہ ادا کیا…

اتنی بھی کیا جلدی ہے ماہی پہلے پورا کھا تو لو..

مہد نے ابھی اپنی بات مکمل ہی کی تھی کہ سامنے سے عدوان کو آتا دیکھ فوراً سے ماہی کا ہاتھ پکڑے کہنے لگا…

ماہی تم بالکل فکر مت کرو اس بچے اور عدوان دونوں سے بہت جلد جان چھوٹ جائیگی تمھاری میں ہوں نا تمھارے ساتھ…

ماہی جو کہ اپنا سانس روکے حیرت سے مہد کی طرف دیکھ رہی تھی کہ تبھی اُسے اپنے کانوں میں عدوان کی سرد سی آواز گونجتی محسوس ہوئ..

ماہی اُٹھو اور جاو باہر جاکر گاڑی میں بیٹھو…

ماہی نے خون چھلکاتی عدوان کی نظروں کو دیکھا تو اُسے ایسا لگا کہ جیسے ایک بار پھر سے وہ دن آگیا ہے جب اُس پر بہتان لگاۓ گۓ تھے..

ع..عد…عدوان…یہ… مجھے… نہیں پتہ کہ یہ کیا اور لیوں کہہ رہا ہے…

عع…عد…وان.. مم

جاو ماہی میں نے کہا جاو عدوان کو چلاتا دیکھ ماہی منہ پہ ہاتھ رکھے باہر کی طرف دوڑ گئ…

جب میرے اتنے اپنے جن کہ ساتھ میں نے اپنی آدھی زندگی بتا دی اُنہوں نے میرا اعتبار نہیں کیا تو یہ کیا کریگا…

ماہی نا اُمیدی سے عدوان کہ بجاۓ اُس گاڑی میں بیٹھ گئ جس میں وہ یہاں تک پُہنچی تھی…

جب کہ دوسری طرف عدوان مہد کو گریبان سے گھسیٹتا باہر لے آیا..

تمھاری ہمت کیسے ہوئ میرے بچے کہ متعلق ایسا کہنے کی…

ہاں بول..عدوان نے مہد کہ منہ پہ ایک مکا جڑتے ہوۓ کہا..

کہا تھا نا دور رہ میری بیوی سے…عدوان نے اُنگلی سے وارن کرتے ہوۓ مہد سے کہا…

جس پر مہد نے اپنے انگوٹھے سے منہ سے نکلتے خون کو صاف کیا…

ہاہاہا مجھے جو کرنا تھا وہ میں نے کر لیا عدوان..

پر افسوس تم کچھ سمجھ ہی نہیں پاۓ…

یو باسٹرڈ..

عدوان نے چلاتے ہوۓ مہد کو مزید مارنا شروع کیا…

اور وہ مار مہد نے ہنستے ہنستے خوشی سے کھائ…

تبھی عدوان مہد پہ لعنت بھیجتا وہاں سے اپنی گاڑی کی جانب آیا جہاں ماہی کو نا پاکر مہد کو گالی دیتے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا…

**************

ماہی پورے راستے روتے اور اپنے آگے کہ لائحہ عمل کا سوچتی گھر پر پُہنچی تھی…

اور اب پورچ میں کھڑی ایک الوداعی نظر گھر پہ ڈالتی سوچنے لگی…

میرا واقعی کوئ گھر نہیں اب یہاں سے بھی…جانے کا وقت آگیا ہے…

ماہی نے آنسو صاف کرتے اٹل فیصلہ کیا…

اس سے پہلے کہ عدوان مجھے آکر یہاں سے نکالے میں خود ہی چلی جاونگی…(ماہی کو عدوان کی آنکھوں کی بےاعتباری یاد کرتے مزید رونا آیا)

ابھی جیسے ہی ماہی نے روتے ہوۓ اپنے قدم گھر کہ اندر رکھے….

سامنے ہی اپنی ماما کو بیٹھے دیکھ ماہی روتے ہوۓ اُن سے لپٹ گئ…

ماہی میری بچی معاف کردو مجھے…

(عالیہ ماہی کو خود سے لپٹاۓ معافی مانگمے لگیں…)

معاف کردو بچے ہم نے تمہیں غلط سمجھا…

ماہی جو پہلے ہی اپنے آپکو ایک بار پھر سے اُسی مصیبت میں گھرا محسوس کررہی تھی کسی اپنے کا سایہ پاتی بکھرنے لگی…

میں آگئ ہوں ماہی…اب کبھی کسی کو تمہیں تکلیف پُہنچانے نہیں دونگی میرے بچے…

اب میں وہی کرونگی جو میری بیٹی چاہے گی…عالیہ نے پیار سے ماہی کو پچکارتے ہوۓ یقین دلایا…

اور تمہیں پتہ ہے ماہی میں سب سے پہلے ائیرپورٹ سے سیدھا اپنی بیٹی سے ملنے آئ ہوں…

عالیہ ماہی کو اپنے ساتھ لگاۓ مسلسل بولے جارہی تھیں…

کہ تبھی ماہی کہنے لگی…

مجھے یہاں سے لے جائیں ماما مجھ میں مزید کسی امتحان سے گُزرنے کی بالکل ہمت نہیں ہے پلیز ماما…

پلیز مجھ لے جائیں…

(ماہی کہ جانے کی بات پر جہاں ثانیہ پریشان ہوئیں وہیں اُشنا کو اپنی کامیابی کا یقین ہوا )

جبکہ ماہی نے روتے ہوۓ عالیہ کی منت کی..

ہاں بالکل میرے بچے میں خود نہیں چاہتی کہ تم یہاں رہو….

(مر ہی نہیں رہی تھی محبت….

پھر یوں ہوا کہ زندہ دفنانی پڑی مجھے…)