Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 5

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 5

Beri Piya by Hareem

ماہی میں کوئ عادت اچھی ہو یا نہ ہو پر اہک عادت سے عالیہ مطمئن تھیں کہ صبح جلدی اُٹھ جاتی تھی…

ماہی نے اُٹھتے ساتھ بالکنی میں آکر منہ کھولے جمائ لی..اور بالکنی سے آدھا باہر لٹکتے ہوۓ آس پاس کہ گھروں میں اچھے سے جھانکنے کہ بعد اب پوری گلی میں نظر دوڑائ جہاں گلی کہ کونے سے یوسف(جس نے کل لڑائ کی تھی ماہی سے)نک سک سے تیار سکول جانے کہ لئیے آتا ہوا دکھا…

اُسے دیکھتے ہی ماہی نے اپنا بدلہ لینے کہ بارے میں سوچا اور بھاگتی ہوئ کمرے سے باہر گئ….

اُسے نیچے آتا دیکھ دادی نے دہلتے ہوۓ سینے پر ہاتھ رکھا..کیا ہوگیا لڑکی صبح صبح کیوں ہوا کہ گھوڑے پہ سوار ہو…

ماہی نے جلدی سے فریج کھولا اور دو دو انڈے دونوں ہاتھوں میں پکڑتے واپسی کی طرف دوڑ لگائ…

آۓ ہاۓ کہاں جا رہی ہے ماہی….

بعد میں بتاتی ہوں دادی…

ماہی نے سیڑھیوں پر بھاگتے ہوۓ جواب دیا..شکر ہے کہ ابھی گھر کا کوئ اور فرد نہیں ٹکرایا تھا۔..

جلدی سے ٹیرس پر پہنچتے ہوۓ ماہی نے نیچے دیکھا تو یوسف خراماں خراماں ٹہلتا ہوا آتا دکھا…

ماہی نے یوسف کا نشانہ لیتے ہوۓ انڈہ پھینکا جو اُسکو لگتے لگتے رہ گیا یوسف نے انڈے کہ گرنے کی آواز پر پیچھے دیکھا جہاں انڈہ ٹوٹا ہوا تھا…

یوسف کو کھڑا دیکھ ماہی نے پھر سے نشانہ لیا اب کی بار انڈہ یوسف کی بازو پر لگا…

انڈہ کسی پتھر کی طرح آکر یوسف کی بازو پر لگا تھا. ..

یوسف نے چیختے ہوۓ ماہی کی چھت کی طرف دیکھا وہاں تو کوئ نہیں تھا…ابھی وہ ادھر ادھر دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک اور انڈہ اُسکے پاوں کہ پاس آکر لگا…..

یوسف کہ چیخنے پر اپنے لان میں exercise کرتا عدوان گیٹ سے باہر آگیا…

کیا ہوا چھوٹے کیوں شور کر رہے ہو…

یوسف عدوان کو اگنور کرتا ہوا ماہی کی بالکنی کی طرف دیکھنے لگا….

ماہی آپیییییییی…….

ماہی آپییییی…

کیا ہے کیوں چلا رہے ہو…

آپ نے اچھا نہیں کیا مجھ پہ انڈہ پھینک کر…

کونسا انڈہ کیسا انڈہ؟؟

میں کسی انڈے کو نہیں جانتی جاو اپنا راستہ ناپو…ابھی لفظ ماہی کہ منہ میں ہی تھے کہ اُسکی نظر عدوان پہ پڑی جسے دیکھتے ہی ماہی نے اندر کی طرف دوڑ لگائ اور جا کر بارھ روم میں بند ہوگئ ہاۓ یہ سامنے والا لنگور تب ہی کیوں آتا ہے جب میری عزت ہو رہی ہو..

ہاۓ ابھی تو فرینڈ ریکویسٹ بھی اپروو نہیں کی تھی…

اگر اس نے ریکویسٹ واپس لے لی تو…

اب ماہی کو نئ ٹینشن نے گھیر لیا تھا…

تبھی باتھ روم سے نکلی اور فوراً موبائل اُٹھا کر ایف بی اوپن کی جہاں فرینڈ ریکویسٹ موجود تھی شکر کا سانس لیتے ریکویسٹ اکسیپٹ کی موبائل بیڈ پر پھینکا…

اور پھر سے باتھ روم میں گم ہوگئ….

*********

سب لوگ ناشتے کی میز پر موجود تھے…

تبھی سردار بخش نے بات کا آغاز کرتے ہوۓ کہا…

کل رات میں تنویر کی کال آئ تھی میرے پاس….

کیا کہہ رہا تھا ؟؟

میری بچی مہوش تو ٹھیک ہے نا ؟؟

جی جی مہوش ٹھیک ہے ثروت…. وہ تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ ہم صلاح مشورہ کر کے شادی کی ڈیٹ کا بتا دیں اور اسکی مناسبت سے وہ اپنے آنے کا بندوبست کر لیں….

مہد نے ماہی کی شادی کا سُن کر عائشہ کی طرف غصے سے دیکھا اور ناشتہ چھوڑ کر کھڑا ہوگیا…

میں چلتا ہوں میری ضروری میٹنگ ہے آج…

ٹھیک ہے بیٹا خیر سے جاو دادو نے دعا دی…

پھر عالم کیا کہتے ہو تم؟؟؟

آپ اور اماں دیکھ لیں جیسے مناسب لگے یہ کہتے ہی اُنکی آنکھوں میں پانی سا تیر گیا تھا اور جسکی شادی کی بات ہورہی تھی وہ مزے سے شزرا کی پلیٹ سے ہری مرچیں چُن کر اپنی پلیٹ میں ڈال رہی تھی…

ٹھیک ہے پھر اگلے مہینے کی پچیس کہ جمعہ کو نکاح رکھ لیتے ہیں اور ہفتے کی بارات…

اتنی جلدی سب انتظام کیسے ہونگے عالیہ کو انتظاموں کی ٹینشن لگ گئ تھی…

سب ہو جائیگا بھابھی ہم مل کہ کریں گے تو پتہ بھی نہیں چلیگا…وہ مسکرا کہ کہتی دل میں ماہی سے جان چھوٹنے پر خوش تھیں کیونکہ مہد کی طرف سے اُنہیں دھڑکا ہی لگا رہتا تھا…

شزرا…

جی تائ امی…

تم آج پارلر سے ماہی کہ لئیے اپائنٹمنٹ لے لو اسے تو بالکل پرواہ نہیں ہے…

مرد حضرات سب کاموں پہ جاچُکے تھے اور عورتوں کی خالصتاً زنانہ گفتگو شروع ہو چُکی تھی…

میں نہیں جا رہی ماما…

خبردار جو تم نے منہ بنایا اور کچھ بولی خود تو تمھیں اپنا دھیان ہے نہیں بال دیکھو اپنے سکن دیکھو کچھ ٹریٹمنٹس کرواو تاکہ کچھ شکل نکلے….

ماہی کو جھاڑتی وہ عائشہ اور اپنی ساس کہ ساتھ دیگر تیاریوں کی باتوں میں مصروف ہوگئیں…

ماہی….

ہممممم

اب بہت کم وقت ہے تمھارے پاس…

ہیں کس کام کہ لئیے وقت کم ہے…

شزرا کا دل چاہا کہ ماتھا ہی پیٹ لے…

شرط یاد ہے نا…

ہاں بلکل یاد ہے…

تبھی ماہی نے اپنا موبائل اٹھایا اور عدوان کی آئ ڈی دیکھائ یہ دیکھو اس نے خود مجھے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی ہے….

واہ کیا بات ہے..

شزرا جو کب سے ماہی کی شادی کا سُن کہ پریشان ہوگئ تھی..

اب اُسے کچھ سکون سا محسوس ہوا تھا…

**********

(پیرس کا وقت چار گھنٹے پاکستان کہ وقت سے پیچھے ہے)

بُراق اپنے ناشتے میں مصروف تھا تبھی مہوش نے خوشخبری سُنائ…

اگلے مہینے کی 25 ڈیٹ دی ہے بابا نے شادی کی….

شادی کا سُنتے ہی بُراق کو اپنا سینڈوچ کڑوا لگنے لگا تھا…

تنویر آپ میری جلد سے جلد ٹکٹ کروادیں دودن بعد کی ہی کروادیں…میرے اکلوتے بیٹے کی شادی ہے آخرکو ..اور مجھے ڈھیروں تیاریاں کرنی ہیں…

اُنہوں نے جوش سے کہتے بُراق کی طرف دیکھا جو ناشتے میں ایسے محو تھا جیسے کسی اور کی شادی کی بات ہورہی ہو..

بُراق…

جی ممی…

تم اپنی شاپنگ کہاں سے کرو گے؟؟؟

میری شاپنگ بھی آپ ہی کر لیں… جب لڑکی ہی میری مرضی کی نہیں ہے تو شاپنگ اپنی پسند کی کرکہ کیا کروں؟؟؟

اور ماہی آپکو کیوں پسند نہیں ہے برخوردار آپ بتانا پسند کریں گے…

تنویر صاحب نے کڑے تیور لئیے پوچھا…

تبھی بُراق اپنی کرسی سے اُٹھتے ہوۓ بولا آپ ممی سے پوچھ لیں انہیں سب پتہ ہے..اور ویسے بھی مجھے دیر ہو رہی ہے خُدا حافظ…

اس لڑکے کا کیا بنے گا آپ ایک بار اور سوچ لیں مہوش ابھی بھی وقت ہے…

آپ فکر ہی نہ کریں یہ جو لڑکے شادی سے پہلے بہت نخرے دیکھاتے ہیں نہ بعد میں یہی اپنی بیویوں کہ آگے پیچھے پھرتے ہیں آپ ٹینشن نہ لیں اور میرے جانے کا انتظام کروایں..

چلیں جیسے آپکی مرضی..وہ صرف اتنا ہی کہہ سکے…

************

ماما ان سب کو ماہی کی شادی کی اتنی جلدی کیوں ہے…

شزرا نے عائشہ کو اپنے پاس بیڈ پر بٹھاتے ہوۓ پوچھا…

انہیں نہیں تمھاری پھوپھو کو جلدی ہے….

ماہی اتنی لکی کیوں ہے ماما…

شزرا نے اُنکی گود مہں سر رکھتے ہوۓ پھر پوچھا..

بس بیٹا سب کا اپنا اپنا نصیب ہے…

میرا نصیب ماہی جیسا کہوں نہیں ہے؟؟؟

تمھارا نصیب بھی انشااللہ بہت اچھا ہوگا…. بُراق میرا نصیب بھی تو ہو سکتا تھا نہ…

شزرا نے بھراۓ ہوۓ لہجے میں کہا..

ہو تو سکتا تھا…پر

پر کیا ماما اگر آپ مہد کہ لئیے ماہی کا ہاتھ مانگ لیتیں تو آج وہ میرا نصیب ہوتا…تائ خوشی خوشی مان جاتیں کیونکہ وہ شروع سے اتنی دور کہ رشتے کہ حق میں نہیں تھیں..تم کیا چاہتی ہو بیٹی کی خاطر اپنے بیٹے کی بلی چڑھا دیتی…

اُنہوں نے غصے سے شزرا کا سر اپنی گود سے ہٹایا..

اور وہ پوری زندگی اپنی بیوی کو پالتا کیوں کہ یہ تو بڑی ہونے والی نہیں ہے….

پر مجھے تو براق مل جاتا نہ…

چپ کر جا لڑکی اب خبردار کچھ کہا تو ..جو چیز میری عقل دیکھ اور سمجھ رہی ہے تم نہیں سمجھ سکتے وہ سب بولتیں غصے سے باہر چلی گئیں..

شزرا نے بھی بیڈ سے تکیہ اُٹھایا اور دروازے پہ دے مارا…. میں اتنی آرام سے ہار نہیں مانوں گی… نہیں مانونگی سن لیں آپ…

اب وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں پہ گراۓ کچھ سوچنے لگی…

تبھی کچھ خیال آتے اپنا موبائل اُٹھایا اور بُراق کو فون ملا دیا…

ہیلو…..

ہیلو شزرا کیسی ہو…

میں بالکل ٹھیک سوچا تمھیں مبارک دے دوں…

کس بات کی؟؟

تمھاری شادی کی ڈیٹ فکس ہونے کی مبارک….اوہ ہاں تھینک یو…

کیسا فیل کررہے ہو خوش ہو نا…شزرا نے دل پہ پتھر رکھے پوچھا..

ہاں بہت…بُراق نے سرد آہ بھرتے ہوۓ کہا..

ویسے داد دینی پڑے گی تمھاری ہمت کی..

وہ کیوں..

ماہی جیسا طوفان اپنے سر پر لینا ہمت کی ہی بات ہے نا…

شزرا کی یہ بات بُراق کو مزید تپا گئ تھی..

میری ایک میٹنگ ہے مجھے اُسکے لئیے جانا ہے بعد میں بات کریں…

شیور…باۓ…

شزرا کو ایک بات کا تو یقین ہوگیا تھا کہ بُراق خوش نہیں ہے..(ویسے بھی یہ سب شزرا کی اُن باتوں کا اثر تھا جو ماہی کہ متعلق وہ وقتاً فوقتاً بُراق سے کرتی رہتی تھی…

**************

جی فاضل صاحب فیکٹری کا کام کیسا جارہا ہے…آج پورے چار دن بعد عدوان آفس آیا تھا..زبردست کام چل رہا ہے سر…

ہمم گُڈ آپ اکاؤنٹس کی فائلز بھجوادیں عدوان نے اپنے بجتے ہوۓ فون کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا..

اوکے سر میں ابھی بھجوا دیتا ہوں..

جی مام خیریت؟؟

تمھیں پتہ ہے نا کل تمھارے بابا کی برسی ہے..

جی جی بالکل یاد ہے…

میں نے کچھ گفٹس یتیم خانے بھجوانے تھے..سردیاں ہیں شام بھی جلدی ہوجاتی ہے اگر تم ابھی آسکو تو…

ابھی اوکے میں ابھی آتا ہوں ڈونٹ وری..

اوکے جیتے رہو…

عدوان اُسی وقت آفس سے اُٹھتا گھر پُہنچا تھا سارے تحفے تحائف لئیے سینٹر پہنچے سب سامان گاڑی سے اُتروا ہی رہا تھا کہ اُسکی نظر گراونڈ میں بچوں کہ ساتھ دائرے میں بیٹھی ماہی پر پڑی…

یہ یہاں تبھی وہ کچھ سوچتا اندر گیا اور تحائف کہ ساتھ کچھ رقم انتظامیہ کو دیتا باہر آگیا ماہی ابھی بھی وہیں تھیں وہ بھی آکر اُن بچوں کہ بیچ بیٹھ گیا…

پارک کہ بچوں سے لڑائ ہوگئ تو تم یہاں آگئ عدوان نے مسکراتے ہوۓ کہا…

ماہی کو تو جیسے اُسے دیکھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے…

جی نہیں ایسی بات نہیں ہے میں بہت سالوں سے یہاں آتی ہوں…

اوہ اچھا..

اور بچوں میں آپ سب کہ لئیے بہت سے تحفے لایا ہوں آپ سب اندر جا کر ک دیکھ لیں…

تحفوں کا سُنتے ہی سب بچوں نے اندر کی جانب دوڑ لگادی..

آپ کہاں جا رہی ہیں بیٹھیں پلیز…

ماہی کو اُٹھتا دیکھ عدوان نے روکنا چاہا…

وہ شام ہورہی ہے مجھے گھر جانا ہے…

کیسے جائیں گی آپ ؟؟؟

میں واک کرتے ہوۓ جاونگی..

عدوان کپڑے جھاڑتے ہوۓ اُٹھ کھڑا ہوا….

اگر آپ کہیں تو میں چھوڑ دوں ویسے بھی ایک ہی جگہ جانا ہے….توبہ ہے کیسے دیکھتا ہے یہ شخص ..یہ واحد انسان ہے جس کہ آگے میرے لفظ کھو سے جاتے ہیں…

ہیلو…عدوان نے ماہی کہ آگے ہاتھ لہراتے ہوۓ کہا..

جج….جی.

چلیں؟؟

ہاں چلیں

*************

تائ امی یہ ماہی کہاں رہ گئ ہے رات آٹھ بجے کی اپائینٹمنٹ ہے ہماری پارلر کی..

آپ نے بتایا تو تھا نا اُسے ؟؟؟وہ ہے کہاں؟؟؟

یہیں پاس کہ orphanage تک گئ ہے جلدی آنے کا کہہ کر گئ تھی آتی ہوگی…

اُنہوں نے شزرا کو کافی دیتے ہوۓ کہا..

اللہ کرے کہ وقت پہ آجاۓ…

تبھی نیلو نے آکر کسی کی آمد کا بتایا….

اوکے میں اپنے کمرے میں ہوں ماہی آۓ تو مجھے بتا دیجئیے گا..

اوکے بیٹا وہ شزرا کو کنفرم کرتیں ڈرائنگ روم کی طرف آئیں جہاں ایک نفیس سی عورت بیٹھی ہوئ تھیں…

عالیہ کو آتا دیکھ وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئیں…

السلام وعلیکم…میں آپ کے سامنے والے گھر میں کچھ دن پہلے ہی شفٹ ہوئیں ہوں…

اوہ تو آپ وہاں پہ شفٹ ہوئ ہیں بہت خوشی ہوئ آپ سے مل کر…اُنہوں نے ثانیہ صاحبہ سے ملتے ہوۓ اپنی خوشی کا اظہار کیا..

جاو نیلو اماں اور عائشہ کو بتاو ہماری نئ پڑوسن آئ ہیں…

اور چاۓ بھی لے آو…

نہیں نہیں پلیز کسی تکلف میں نہ پڑیں..

تکلف کی کیا بات کردی آپ نے پہلی بار آئ ہیں آپ….

********

آرفن ایج سے گھر تک کا راستہ گاڑی میں پنررہ منٹ کا پڑتا تھا پر عدوان اتنی سلو ڈرائیو کر رہا تھا کہ ماہی کو اب کوفت ہونے لگی تھی تبھی بول پڑی…

آپ نے یہ ڈرائیونگ نئ نئ سیکھی ہے کیا؟؟؟

بالکل نہیں مجھے تو بہت سال ہوگۓ ہیں ڈرائیونگ کرتے ہوۓ…

اچھا ایسا لگ نہیں رہا…

کیا مطلب.

مطلب یہ کہ اگر میں پیدل جاتی تو اب تک پہنچ چکی ہوتی..

ہاہاہا

ہنسے مت جلدی کریں مجھے دیر ہو رہی ہے…

میں تو اس لئیے سلو ڈرائیو کر رہا تھا کہ ہم بات کرسکیں…

تو کریں منع کس نے کیا ہے…

تبھی عدوان نے بات کا آغاز کیا.. آپ کا نام سوشل سائیڈز پر بھی ماہی ہے تو رئیل نام کیا ہے آپکا…

عدوان نے آخر وہ سوال کر ہی ڈالا تھا جو وہ کب سے پوچھنا چاہتا تھا…

میرا نام تطمئین القلب ہے…

واو بڑا یونیک نام ہے آپکا..ویسے مطلب کیا ہے اسکا…

واٹ ؟؟؟آپ نے قرآن نہیں پڑھا کیا…ایک سیکینڈ ایک سیکینڈ آپ مسلم تو ہیں نا…جی الحمدللہ میں مسلم ہی ہوں.. تو پھر آپ نے میرا نام قرآن میں نہیں پڑھا کیا.؟؟؟

ویسے ایک بات بتائیں آپکا ایکسننٹ(لہجہ) اتنا انگلش کیوں ہے…

آپ میری بات بھی سُنیں گی…

عدوان نے گھر کہ سامنے گاڑی روکتے ہوۓ کہا…

جی سُنا دیں تو سُن لونگی.

ماہی نے احسان جتلاتے ہوۓ کہا…

اگر مجھے آپکے نام کا مطلب نہیں پتا تو اسکا مطلب کہ میں مسلمان ہی نہیں ہوں…

ایک سیکینڈ میری بات مکمل نہیں ہوئ ابھی..ماہی کو پھر سے بولتا دیکھ عدوان نے روکا…

اور میں لندن میں رہتا رہا ہوں اس لئیے تھوڑا سا پرابلم ہے لیکن میری اُردو بہت اچھی ہے…

آپ تو مائنڈ ہی کر گۓ ہیں…ماہی نے منہ پھولاتے ہوۓ کہا..

شزرا جو کب سے ٹیرس پہ کھڑی سامنے رُکی گاڑی پہ غور کر رہی تھی.. ماہی کو دیکھتے ہی اُسے بےانتہا خوشی نے گھیرا واہ یہ بونگی تو واقعی شرط کو جیتنے کہ لئیے کچھ کررہی ہے چلو اچھا ہے مجھے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی…شزرا دل ہی دل میں بھنگڑے ڈالتی کافی انجاۓ کرنے لگی…

گھر آگیا ہے میں چلتی ہوں…لفٹ دینے کا شکریہ.. ماہی دروازہ کھولتے اُترنے لگی تھی کہ عدوان نے پھر سے پوچھا …

نام کا مطلب نہیں بتایا تم نے…

میرے نام کا مطلب ہے دل کی بے سکونی…یہ کہتے ہی ماہی نے ٹھک سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور یہ جا وہ جا ہوگئ…

ہیں ایسا نام کوئ اپنے بچے کا کیوں رکھے گا عدوان نے کچھ سوچتے ہوۓ موبائل نکالا اور گوگل پہ سرچ کرنے کہ لئیے لکھنے لگا…

Tatmaeen-ul -qalb…..

***********

آپ سب ساتھ رہتے ہیں؟؟؟

جی ہم شروع سے ہی سب ساتھ رہتے ہیں…عائشہ صاحبہ کو تو جب سے یہ پتہ چلا تھا کہ وہ ایک عدد لندن پلٹ بیٹے کی ماں ہیں اُنکا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اُنہیں سب کچھ اپنے ہاتھوں سے ہی کھلا دیں…

مجھے بہت خوشی ہوئ آپ سب سے مل کر ایسے رکھ رکھاو والے لوگ کہاں ملتے ہیں بھلا…تبھی کچھ یاد آنے پہ ثانیہ صاحبہ نے کہا…اوہ میں تو بھول ہی گئ باتوں میں کل میرے شوہر کی برسی ہے اس لئیے گھر پر قرآن خوانی اور میلاد کا اہتمام کروایا ہے آپ سب اگر آئیں گے تو مجھے بہت خوشی ہوگی….جی جی کیوں نہیں ہم ضرور آئیں گے..میں اپنی بیٹی کو بھی ضرور لاونگی جی جی ضرور…

عالیہ کہ تو چھکے چھوٹنے لگے تھے ماہی کو ڈرائنگ روم کی طرف بڑھتا دیکھ کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ماہی اس سارے امیج کا کباڑا کردے گی جو اُن خاتون کے سامنے بنا ہے…. اکسکیوز می میں ابھی آئ وہ جلدی سے باہر نکلیں اور ماہی کا ہاتھ پکڑے اُسے واپس لے گئیں…

ماما کون آیا ہے مجھے ملنے تو دیں….تم نے مل کہ کونسا تیر مار لینا ہے فوراً اوپر جاو شزرا انتظار کر رہی ہے….

شزرا اور ماہی پارلر کہ لئیے نکل گۓ تھے..

اور ثانیہ بیگم بھی جا چُکی تھیں…..

*************

آپکو پتہ ہے آج کون آیا تھا….ثانیہ صاحبہ کے جانے کے فوراً بعد عائشہ ریاست صاحب کہ سر ہوگئیں تھیں..

جتنی وہ عورت اچھی تھی نا اُسکا بیٹا بھی اچھا ہوگا مجھے تو لگتا ہے میری بیٹی کے نصیب کُھلنے والے ہیں…

ابھی سے خیالی پُلاو مت بناو یہ نہ ہو جل جاۓ آپ سے تو بات کرنا بھی فضول ہے…

تبھی وہ شزرا کہ روم میں آئیں جو اپنے نۓ نۓ کرواۓ ہوۓ مینی کیور والے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی…

شزرا اپنا کوئ اچھا سا جوڑا نکال لو میلاد کہ لئیے.. اگر نہیں ہے تو کل صبح ہی لے آنا….

یہ کس سپیشل بندے کی طرف سے بُلاوا آگیا میلاد کا….جو آپ اتنی خوش نظر آرہی ہیں شزرا نے اُنکی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا

سامنے والوں کہ گھر سے….