Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 21

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 21

Beri Piya by Hareem

جس دن سے ماہی نے عدوان کہ کمرے میں قدم رکھا تھا تب سے صحیح معنوں میں عدوان کی نیندیں حرام ہو چُکی تھیں…

عدوان آفس جانے کہ لئیے ریڈی ہورہا تھا تبھی آئینے کہ سامنے کھڑے اپنی گرے کلر کی ٹائ کی ناٹ باندھتے ہوۓ نیند میں دھت ماہی پر نظر ڈالی…

اور بنا ادھر اُدھر دیکھے وہ سوئ ہوئ ماہی کی جانب بڑھا اور خاموشی سے اُسکے پاس بیٹھے اُسے دیکھنے لگا…

سوتی ہوئ ماہی پر عدوان کو کسی چھوٹی بچی کا گمان ہوا…وہ اس وقت ماہی کو دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ اُسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب عدوان ک اُنگلیاں ماہی کہ بالوں کو سہلانے لگیں….

ماہی کو پیار سے دیکھتے ہوۓ وہ پہلی ملاقات یاد کرنے لگا جب پہلی بار پارک میں عدوان نے ماہی کو بچوں سے جھگڑتے ہوۓ دیکھا تھا…

اُس دن کو یاد کرتے عدوان کہ چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئ تھی…گرے کلر کا تھری پیس پہنے گرے ہی ٹائ لگاۓ عدوان اپنی بیوی کو ڈرتے ہوۓ گھور رہا تھا کہ کہیں اُسکی آنکھ نا کھل جاۓ…

تبھی عدوان نے ماہی کا ہاتھ پکڑے آہستہ سے کہنا شروع کیا…میں نہیں جانتا کہ مجھے کب اور کیسے تم سے محبت ہوئ…

پر میں یہ ضرور جان گیا ہوں کہ اب تمھارے بغیر رہنا بے حد مشکل ہے…تم کبھی نہیں جان پاوگی کہ میرے لئیے اس کمرے میں تمہاری موجودگی کو نظرانداز کرنا کس قدر مشکل ہے…

پر میں تم سے زبردستی کا تعلق قائم کرکے مزید تمھیں خود سے دور نہیں کرنا چاہتا…میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے دل سے چاہو..

اور اس سب کہ لئیے جتنا بھی وقت لگے گا میں تمھیں دونگا…

Because i love u truly, and madly ..

اپنے لب ماہی کہ ماتھے پہ رکھتے اُٹھتے ہوۓ عدوان نے ماہی کو جگانے کہ لئیے ایک بار پھر سے اُسکی ناک دُبا دی تھی….

************

واٹ؟؟؟

تم عدوان کی فیانسی کیسے ہو سکتی ہو؟؟

کیا مطلب ہے کیسے اور ویسے کیوں نہیں ہوسکتی میں اُسکی فیانسی؟؟

اُشنا نے اپنی کمر پر ہاتھ جماتے ہوۓ مہد سے پوچھا…

ماہی میری کزن اُسکی بیوی ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ تم اُسکی فیانسی ہو…

ماہی کا نام سُنتے اُشنا کچھ گڑبڑا گئ تھی…

تو تھی نا میں فیانسی پر بیوی وہ بن گئ…

اب کی بار اُشنا کا منہ بن گیا تھا

I think we need to talk..

Excuse me…

مہد کی بات پر اُشنا نے حیران ہوتے ہوۓ کہا…

میں زیادہ ٹائم نہیں لونگا آپکا یہ ساتھ ہی ایک کیفے ہے وہاں بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں

پلیز…

مہد کہ اسرار پر اُشنا اُسکے ساتھ آگے بڑھ گئ تھی…

***********

بُنی کہ ریسٹ ہاوس میں ناشتہ کرنے کہ بعد شزرا اور براق بُک ہوئ گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گاوں کی طرف بڑھ رہے تھے…

اس وقت اُنکے ساتھ سردار بخش کہ دوست کا پوتا تھا جو اُنہیں کسی ٹریول گائیڈ کی طرح گائیڈ کر رہا تھا…

ہر طرف کھڑے بڑے بڑے درخت جو پوری طرح سے برف سے ڈھکے ہوۓ تھے بہت حسین لگ رہے تھے…

راستے کہ علاوہ ہر جگہ برف سے ڈھکی ہوئ تھی.. گاڑی چھوٹی چھوٹی سڑکوں سے ہوتی آگے بڑھ رہی تھی…

براق تو بہت سے ملکوں میں پھر چُکا تھا پر شزرا نے مری کہ علاوہ پہلی بار کوئ اور برف پوش وادی دیکھی تھی اور وہ اس وقت براق کہ ساتھ بیٹھی بہت پُرجوش ہوتی ہوئ ہر نظارہ اپنے کیمرے میں محفوظ کررہی تھی…

تبھی شزرا نے براق کو پکارا…

براق؟؟

ہممم….

ہم پیرس کب جائینگے بہت جلد میری جان…بُراق کا جان کہنا شزرا کو بلش کر گیا تھا..

اور شزرا کو شرماتا دیکھ بُراق نے مزید تنگ کرتے ہوۓ کہا…

Ooh you Asian Beauty….

براق کہ ایسا کہنے پر شزرا نے شرماتے ہوۓ اُسی کہ سینے میں منہ چھپا لیا تھا….

************

عدوان کہ ناک دُبانے پر ہمیشہ کی طرح گھوڑے گدھے بیچ کر سوئ ماہی ہڑبڑاتے ہوۓ اُٹھ بیٹھی تھی…

( ویسے تو ماہی کو جلدی اُٹھنے کی عادت تھی پر آجکل اُسے جلدی نیند نہیں آتی تھی وہ پوری پوری رات کروٹ بدلتے اپنے ساتھ ہوۓ سانحہ کو اور سب کہ رویوں کہ بارے میں سوچتے جاگتی رہتی تھی)

بدتمیز انسان تم کسی دن میری ناک ہی اُکھیڑ دو گے…

ماہی نے اپنی ناک کو اپنے ہاتھ سے دُباتے ہوۓ عدوان کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا..

اور تم اتنی تیار ہوکر کہاں جارہے ہو؟؟؟

کہاں جاونگا آفس کہ لئیے ریڈی ہوا ہوں…

اتنا تو کوئ اپنا رشتہ لیکر جاتے ہوۓ تیار نہیں ہوتا جتنا تم آفس جاتے ہوۓ تیار ہوتے ہو…

اچھا باتیں مت بناو مجھے دیر ہورہی ہے میرے سوکس لے آو…

کیااااا…میں….میں کیوں لاوں؟؟؟

کیونکہ کل مام کہ سامنے اچھی بیوی کا ڈرامہ کرتے ہوۓ تم میرے سارے کپڑے لانڈری کرنے کہ لئیے لے گئ تھی یاد آیا کچھ.. عدوان نے ماہی کو کل کا واقعہ یاد کراوتے ہوۓ کہا..

اچھاااا…وoooooo….

جی بالکل وooooooo جاو لیکر آو…

پر وہ تو جب آنٹی وہاں سے چلی گئ تھیں تو میں نے وہیں گندے کپڑوں میں رکھ دئیے تھے سب کپڑے…

کیااااا تو اب میں کیا پہنوں میرے صاف والے سوکس بھی تم نے گندے کپڑوں میں ڈال دئیے…

عدوان نے حیرت سے پوچھتے ہوۓ کہا…

تو اس میں کونسا کوئ اتنی بڑی بات ہے… ماہی نے ریلکس انداز میں کندھے اُچکاتے ہوۓ کہا…

بڑی بات….بڑی بات….میرے کوئ بھی سوکس نہیں چھوڑے تم نے اور میں سوکس کہ بغیر شوز نہیں پہن سکتا جاو ابھی واش کر کے لاو…

اُٹھو جلدی…

پر مجھے کپڑے دھونے نہیں آتے…ماہی نے جھجھکتے ہوۓ اپنے پھوہڑ پن کا انکشاف کیا..

تو آجکل کپڑے دھونا کونسا مشکل ہیں بس مشین میں تو ڈالنا ہے…

تو تم خود ڈال لو ماہی نے آرام سے پھر سے لیٹتے ہوۓ کہا..

ماہی ابھی اُٹھو…

اب کی بار عدوان نے غصے سے کہا…

اچھا چِلاو نہیں رُکو میں کچھ کرتی ہوں….

ماہی بستر سے نکلتی الماری تک گئ اور واپس آتے ہوۓ عدوان کی طرف سوکس پھینکے…

جو ییلو کلر کہ تھے اور ایک پر sponge bob بنا ہوا تھا جبکہ دوسرے پر sponge bob لکھا ہوا تھا…

سیریسلی میں یہ پہنونگا ماہی کہ سوکس لہراتے ہوۓ حیرت سے پوچھا گیا…

میرے پاس یہی ہیں پہننے ہیں تو پہنو نہیں تو جا کر خود دھو لو ماہی نے بستر پر لیٹتے ہوۓ خود کو کمبل میں گُم کر لیا ..

جبکہ عدوان غصے سے اسے دیکھتا کپڑے ہی چینج کرنے چلا گیا…

اب عدوان کا ارادہ قمیض شلوار پہن کر اُسکے ساتھ سینڈل پہننے کا تھا ……

***********

ماہی کیسی ہے وہ ٹھیک ہے نا؟؟؟

تمھارے گھر میں سب کا رویہ کیسا ہے اُسکے ساتھ؟؟

مہد نے بیٹھتے ہی اُشنا پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی…

ہولڈ آن… ہولڈ آن….وہ بالکل ٹھیک ہے…

کیا وہ خوش ہے؟؟

تم اُسکے کزن ہو خود پوچھ لو اُشنا نے لاپرواہی سے کہتے ہوۓ ویٹر کو اشارہ کیا…

تم ماہی اور عدوان کی شادی کہ متعلق کیا جانتی ہو؟؟؟

یہی کہ دونوں کی کورٹ میرج ہے ویسے ایک بات ہے اُنہیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ اتنی شدید محبت کی شادی ہے جس میں اُنہیں کورٹ میرج کرنی پڑی….

اُشنا کی بات پر مہد کو اپنی ماں کی باتیں یاد آگئیں جو اُس دن گُزرتے ہوۓ اُس نے سُنی تھیں….

تم کہہ رہی تھی کہ تم فیانسی ہو مہد کی؟؟؟

ہاں ہوتی اگر تمھاری وہ کزن درمیان میں نا آتی…اُشنا نے افسوس سے منہ بناتے ہوۓ کہا

اور اگر میری کزن درمیان سے نکل جاۓ تو …

کیا ایسا ممکن ہے؟؟؟

بالکل ہے مگر تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا…

اُشنا نے مشکوک نظروں سے مہد کو دیکھا…

تم اپنی کزن کو درمیان سے کیوں نکالنا چاہتے ہو…

اُشنا نے اپنی ڈارک بلیک آئ بروز چڑھاتے ہوۓ پوچھا…

کیونکہ میں بھی اُسکا فیانسی ہوتا اگر عدوان درمیان میں نا آتا…

اُشنا کو کچھ ہی سیکنڈ لگے تھے مہد کی بات سمجھنے میں…

اور اب وہ مسکراتے ہوۓ مہد کی پلاننگ سُن رہی تھی….

************

اسلام آباد سے سردیاں رُخصت ہونے والی تھیں…ہوا میں بھی خُنکی کم ہورہی تھی…

تبھی موسم کو دیکھتے ہوۓ عدوان نے گھر پر آج باربی کیو کا انتظام کیا تھا جس میں صرف گھر والے ہی شریک تھے…

باہر لان میں بیٹھے آج سب عدوان کہ بناۓ گۓ باربی کیو سے انصاف کررہے تھے..

ماہی بھی اپنی فیورٹ دھنیہ اور ہری مرچوں کی چٹنی سے بھری کٹوری میں ڈبو ڈبو کر ملائ بوٹی کھا رہی تھی…

ماہی کو اتنی رغبت سے کھاتا دیکھ سب کہ سامنے عدوان نے ماہی کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا….

سو مسز کیسا لگا اپنے ہسبنڈ کا یہ ٹیلنٹ…

ماہی نے منہ میں کانٹا رکھتے ہوۓ عدوان کو گھورا. …جیسے سب کہ سامنے اُسے عدوان کا مخاطب کرنا پسند نا آیا ہو…

ہاں بیٹا بتاو نا کیسا لگا ثانیہ نے بھی اُسے بیچ میں گھسیٹا…

بہت اچھا ہے…. ماہی نے عدوان کو دیکھتے ہوۓ کہا…

اُشنا سے مزید عدوان کا ماہی کو اتنی میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھنا بردشت نا ہوا تو بیچ میں ٹپک پڑی…

عدوان اتنے دنوں بعد جب کچھ بنا کر کھلا ہی دیا ہے تو اب اپنی آواز میں کچھ سُنا بھی دو….

ہاہاہاہا کیا تم چاہتی ہو کہ آج ہی اپنے سارے ٹیلنٹ اپنی بیوی پر شو کردوں میں؟؟؟

ماہی کو عدوان کا بار بار مسز اور بیوی کہنا غصہ دلا رہا تھا…

ہاں بالکل کیا پتہ پھر موقع ملے نا ملے…

عدوان نے بنا اُشنا کی بات کی تہہ میں جاۓ راجو سے اپنا گٹار لانے کو کہا…

عدوان نے اپنے گٹار کو ٹیون کرتے ماہی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا…

یہ میری زندگی کا پہلا گانا ہے جو میں کسی لڑکی کہ لئیے گاونگا…اور وہ تم ہو مسز…

عدوان کہ کہنے پر ماہی کو اپنی ہارٹ بیٹ تیز ہوتی محسوس ہوئ تھی…

تینوں تکیا ہوش ہی پُل گئ….

گرم گرم چاء ہتھ تے ڈُل گئ…

ہتھ تے ڈل گئ چاء سجنا…

ایسی تیری نگاہ سجنا…

ماہی بنا پلک جھپکاۓ عدوان کی آواز میں کھوئ ہوئ اُسکی طرف دیکھنے میں مصروف تھی…

دوسری طرف عدوان نے بھی ایک سیکنڈ کہ لئیے اپنی نظر ماہی سے نہیں ہٹائ تھی…

جاندی جاندی دسدی جا تو…

دل دے وچ کی تیرے…

دل دے وچ کی تیرے…

میں سُنیا اُچیاں دیواراں رکھیاں…

اس دل دے چار چفیرے نالے سامب کہ رکھنیاں اے…کوئ دل چے نا لا لے ڈیرے…

میں سُنیا پیلاں وی دل ٹُٹیا ہاۓ ٹُٹیا تیرا ہیک واری….تایوں دل دی دیواراں چے تو ہیک نا بنائ باری…

اُشنا کہ لئیے اُن دونوں کا ایک دوسرے کی طرف یوں دیکھنا اُس کہ دل میں جلن کی آگ کو بڑھا گیا تھا….

جبکہ دوسری طرف ماہی کو اُسکے گانے کہ بول کہیں اور ہی لے گۓ تھے اُسکی آنکھوں کہ سامنے نکاح کا منظر گھوم گیا تھا…

جہاں اس شخص کی وجہ سے اُسکے باپ کی گردن جھک گئ تھی…

اور ایسی جھکی تھی کہ وہ دُنیا ہی چھوڑ گیا تھا…ماہی کی آنکھوں میں بھرتے آنسو عدوان کو رُکنے پر مجبور کر گۓ تھے…..

کیا ہوا ماہی…

عدوان کہ پوچھنے پر ماہی کو ایسا لگا جیسا اُسے بےدردی سے حال میں لا کر پٹخ دیا گیا ہو…

تبھی وہ بےدردی سے اپنی آنکھیں رگڑتی ہوئ گھر کہ اندر بھاگ گئ…

اسے کیا ہوگیا…ماہم نے حیرت بھاگتی ماہی کو دیکھتے ہوۓ پوچھا ..

میں دیکھتا ہوں…

عدوان بھی تقریباً بھاگتا ہوا ماہی کہ پیچھے اندر بڑھ گیا….

************

شزرا اور براق اپنے آبائ گاوں زانگلشٹ پُہنچ گۓ تھے…

یہ چترال کا ایک خوبصورت پہاڑوں سے ڈھکا ہوا چھوٹا سا گاوں ہے…جہاں جگہ جگہ پتھروں سے پھوٹتے چشمے ہیں..

براق اور شزرا کا یہاں اپنے دادا کہ کزن کہ گھر میں سٹے تھا…

یہاں کوئ بھی ان دونوں کو پرسنلی نہیں جانتا تھا..اس سب کہ باوجود اُن سب کی مہمان داری اُنہیں حیران کر گئ تھی…

چترال کہ لوگوں کی خوراک بہت سادہ اور کم مصالحوں والی ہوتی ہے…

جسے شزرا نے تو کافی ناک منہ چڑھاتے ہوۓ جبکہ براق نے کافی رغبت سے کھایا تھا…

کھانے کہ بعد اُن دونوں کو ایک کافی صاف اور سادہ کمرے میں ٹہرایا گیا تھا…

ہم کب تک ُرکیں گے یہاں بُراق؟؟؟

کیوں تمہیں جگہ پسند نہیں أئ؟؟

جگہ تو بہت حسین ہے پر انکا اتنا پھیکا کھانا میں نے مزید کھایا تو میں تو بیمار پوجاونگی..

پتہ نہیں کیسے اتنا اُبلا ہو کھانا کھا لیتے ہیں. شزرا کا بار بار منہ بنانا براق کو پسند نہیں آیا تھا..

تمہیں صرف پھیکا کھانا دکھ رہا ہے ان سب کا پیار مہمان نوازی کسی شمار میں ہی نہیں ہے تمھارے نزدیک…

وہ سب تو ہے پر..

تمھارا دل بہت تنگ ہے شزرا اور یہ بات بالکل اچھی نہیں ہے شزرا کو ملامت کرتا ہوا بُراق مہمان خانے سے باہر نکل گیا تھا جہاں سب کیرم لئیے اُسکے انتظار میں تھے…

میں نے کونسا غلط کہہ دیا صحیح تو کہہ رہی ہوں..شزرا نے سر جھٹکتے ہوۓ عائشہ کو کال ملائ…

ویسے بھی خود کی غلطی ماننا شزرا کی نیچر میں ہی نہیں تھا…

***********

عدوان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا اُس نے روتی ہوئ ماہی کو زمین پر بیٹھے ہوۓ پایا…

کیا ہوا ماہی ایسے کیوں رو رہی ہو؟؟

میری کوئ بات بُری لگ گئ ہے تو میں معافی مانگ لیتا ہوں پر پلیز ایسے رو کر خود کو اذیت مت دو…

تمھیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا میں ہے پرنسز…

عدوان نے ماہی کہ بال پیار سے پیچھے کرتے اُسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرتے ہوۓ کہا…

تبھی ماہی عدوان کہ ہاتھ جھٹکتی اپنے ساتھ بیٹھتے ہوۓ عدوان کو اُسکی شرٹ سے پکڑتے چیخنے لگی تھی…

تتتم…تم نے مجھے برباد کردیا مجھے میرے ہی اپنوں کی نظروں میں گرا دیا مجھے اکیلا کردیا…میں نے کیا بگاڑا تھا تمھارا؟؟

کیوں آخر کیوں عدوان…ماہی عدوان کو زور زور سے جھنجھوڑتے پوچھنے لگی

یہ کیا بدتمیزی ہے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آئندہ میرے گیریبان پہ ہاتھ مت ڈالنا…عدوان کو بھی طیش آگیا تھا…

تم جو مرضی کرو اور مجھے تم سے بازپُرس کی بھی اجازت نہیں ہے کیوں …کیوں…

ماہی نے چلاتے ہوۓ کہا اب بھی ماہی کہ ہاتھ عدوان کہ گیریبان پہ تھے…..

تبھی وہ ایک جھٹکے سے خود کو چھڑواتا اُٹھ کھڑا ہوا…

تمہیں ایک بار پھر سے پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ہے…اور جن اپنوں کی یاد تمہیں رُلا رہی ہے اُن اپنوں کی اصلیت جس دن تمھارے سامنے آئیگی اُس دن تم میرا اُن سب سے جان چھوٹ جانے پر شکریہ کہوگی سمجھی…