Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 13
Rate this Novel
Beri Piya Episode 13
Beri Piya by Hareem
شزرا عدوان سے مل کر آچُکی تھی اور اب خوشی خوشی ماہی کہ مایوں کہ فنکشن میں شریک تھی اور ہر کام میں پیش پیش بھی…
ماہی کو سُرخ ڈوپٹہ کی چھاوں میں اُسکی کزنز اور شزرا پکڑے لاونج میں رکھی پیڑھی کہ پاس لے آۓ تھے جسے گیندے کی پھولوں سے سجایا گیا تھا اور اُسکے سامنے ہی پھولوں سے سجی تھال میں تیل اور اُبٹن کہ پیالوں کہ ساتھ ہی پلیٹ میں مٹھائ بھی رکھی ہوئ تھی….
اب ماہی بیٹھی حیرت سے سب کو دیکھ رہی تھی کیونکہ یہ سب اُسکے لئیے کافی نیا تھا کیونکہ ایسے فنکشنز میں ماہی کبھی نہیں جاتی تھی…
جتنی ٹریڈشنل شادی ماہی کی ہو رہی تھی اُسے دیکھ سب ہی ایکسأئیٹڈ تھے..
شزرا تم نے بھی بالکل ماہی جیسا جوڑا کیوں بنوا لیا؟؟
دُلہن کو کچھ تو مختلف لگنے دیا ہوتا…
مہوش صاحبہ کو شزرا کا ماہی کی طرح کا ڈریس اپ ہونا کوئ خاص پسند نہیں آیا تھا…تبھی شزرا نے ناک سے مکھی اُڑاتے ہوۓ کہا
اوہو پھوپھو دُلہن کی اکلوتی بہن ہوں میں سو تیار ہونا تو بنتا ہے نا میرا شزرا نے خوشی سے چہکتے ماہی کہ ساتھ جُڑ کر بیٹھتے ہوۓ کہا..
تبھی دادو کی آواز گونجی جنہوں نے اعلان کرنے کہ انداز میں کہا”چلو بھئ سب سے پہلے سات سہاگنیں رسم کریں گی ماں جی آپ آئیں نا..آپ سب سے بڑی ہیں عالیہ نے اپنی ساس کو آنے کا کہا..
ہاں ہاں میں ہی کرونگی پہلے تبھی وہ اپنا غرارہ سنبھالتی ہوئ ماہی کہ پاس پُہنچیں جو اُنہوں نے specially ماہی کی مایوں کہ لئیے بنوایا تھا…
ماہی اس وقت مکمل گھونگھٹ نکالے بیٹھی ہوئ تھی اور یہ اُسکے لئیے کتنا مشکل کام تھا آپ سب سمجھ سکتے ہیں
..
دادو یہ ابھی سے گھونگھٹ کیوں نکال دیا میرا یہ تو فرسٹ نائٹ کہ ٹائم پہ نکالتے ہیں نا ماہی نے ایک دم سے گھونگھٹ پلٹتے ہوۓ گُل فشانی کی..
اُسکی اس بات پہ وہاں بیٹھی سب خواتین کا قہقہہ گونجا تھا…
آۓ ہاۓ لڑکی یہ کیا کر دیا ثروت بیگم نے ماہی کہ منہ بسورنے کا کوئ بھی نوٹس لئیے بغیر پھر سے گھونگھٹ نکال دیا…
اور اپنی اُنگلیاں تیل میں ڈبوتے ہوۓ گھونگھٹ کہ اندر ہی سے تیل لگا دیا اور پھر اُبٹن بھی دونوں ہاتھوں میں لیتیں پہلے ماہی کہ چہرے اور بازووں پر لگانے کہ بعد پیروں پر بھی مل دی اور اُسکے بعد چھوٹے چھوٹے بنٹے کہ سائز کہ گُلاب جامن جن پر tooth pick لگایا گیا تھا اُسے سٹک سے پکڑتی اُسکے منہ میں ڈال دی ابھی وہ اُٹھنے ہی والی تھیں کہ شزرا بول اُٹھی..
دادو مجھے بھی مٹھائ کھلا دیں…
اُسکے اس طرح کہنے پر عائشہ نے شزرا کو گھورا جسے اُس نے کمال مہارت سے اگنور کردیا…
ہاں ہاں کیوں نہیں تم بھی لو تاکہ تمھارا نمبر بھی آۓ اگر ایسا ہے تو دادو پھر اُبٹن بھی لگا دیں تاکہ چند دنوں میں ہی نمبر آجاۓ…
اب کی بار شزرا کی بات پر دادو کا ماتھا ٹھنکا تھا چُپ کر جا لڑکی اپنے ہی منہ سے اپنے بیاہ کا بول رہی ہے…
لوگوں کا لحاظ کرتے ہوۓ دادو نے دانت پیستے ہوۓ آرام سے کہا…
اوہ ہو دادو اُبٹن تو اچھی ہوتی ہے سکن کہ لئیے تبھی کہہ رہی ہوں …
چلیں میں خود ہی لگا لیتی ہوں سب کی نظروں کو نظرانداز کرتے ماہی نے خود ہی اُبٹن لگا لی تھی..اور اُسکے بعد جو بھی آیا سب نے ماہی کہ ساتھ ساتھ شزرا کو بھی مٹھائ کھلائ اور کچھ نے تو مذاق مذاق میں اُبٹن بھی لگا دی…
شزرا تو ڈھیٹوں کی طرح بیٹھی رہی پر مہوش کو اُسکی یہ حرکت ایک آنکھ بھی نا بھائ…..
***********
یار کامران تو کر دے نا یقین کر تیرے پہ بالکل بھی کوئ بات نہیں آئیگی…
پر عدوان یہ چھوٹا مسئلہ نہیں ہے اور وہ لڑکی والے بھی پاور والے ہیں اگر تو پکڑا گیا اور میرا لائسنس کینسل ہوگیا تو…
یار تو سمجھ نہیں رہا اُس ٹائم ایسی سچویشن کرئیٹ کردونگا کہ کسی کو اُسے چیک کرنے کا ہوش ہی نہیں رہے گا کہ یہ اصلی ہے یا نقلی…
پر پھر بھی تو سوچ لے یار اس سب میں بہت رسک ہے..
تو ٹینشن نا لے رسک لینا تو عدوان کہ بائیں ہاتھ کا کام ہے..عدوان نے اُسکے سارے خدشات ہوا میں اُڑا دئیے تھے…
اچھا یہ بتا اُسکے سائن کیسے آئیں گے اس پر ؟؟؟
اُسکی تو فکر نا کر سارا بندوبست میں کر چُکا ہوں بس تو پیپر ریڈی کروا اور ساری مہریں وغیرہ بھی لگوا دینا مطلب جو بھی رئیل کاغذ پر ہوتا ہے سب …
وہ تو میں کر دونگا پر مجھے کیا ملے گا بدلے میں؟؟؟
ہاہاہاہا ایک تو تم وکیل لوگ بھی نا بنا اپنے فائدے کہ تو کسی کو پانی بھی نا پوچھو..
تو تو چاہتا ہے کہ میں اتنا بڑا رسک مفت میں لوں تیرے لئیے؟؟
اچھا چل فکر نا کر میری گاڑی پسند ہے نا تجھے سو جس دن مجھے یہ کاغذ دینے آئیگا نا اُسی دن چابی تیرے ہاتھ میں ہوگی ..
چل ڈن تو فون رکھ میں کچھ کرتا ہوں .
اوکے ٹھیک ہے باۓ…
فون رکھتے ہی عدوان نے ماہی کہ گھر کی طرف گھورتے ہوۓ دیکھا…ان جلتی بجھتی روشنیوں کو دیکھتے عدوان کو اپنے اندر بھانبھڑ جلتے ہوۓ محسوس ہوۓ تبھی اپنے اندر جلی آگ کو کم کرنے کہ لئیے عدوان نے سگریٹ سُلگا لیا…اور دل ہی دل میں بُڑبُڑاتے ہوۓ کہا…
بس اب صرف کچھ دن کی دوری رہ گئ ہے تطمئین القلب صرف کچھ دن….
************
یہ سب کیا تھا شزرا…
عائشہ چیختی ہوئیں شزرا کہ سر پر پُہنچیں..
جو آئینے کہ سامنے کھڑی اپنی جیولری اُتار رہی تھی…
کیا سب؟؟
تمھیں کیا ضرورت تھی ماہی جیسے کپڑے پہننے کی اور مٹھائیاں ٹھوسنے کی ہاں؟؟؟
میری مایوں تھی آج اس لئیے…
تمھاری مایوں ؟؟
ہاں میری..کیونکہ باقی سب تو بیوقوف ہیں پر میں جانتی ہوں کہ یہ شادی میری ہی ہوگی ماہی کی نہیں….وہ سب تو ٹھیک ہے پر تم سب کی نظروں میں خود کو مشکوک کیوں بنا رہی ہو شزرا اور عالیہ بھابھی اور مہوش کیسے گھور رہی تھیں تمھیں کچھ اندازہ بھی ہے اس بات کا..
اور یہ بتاو یہ سب ہوگا کیسے اور تم اُس لڑکےسے بھی تو ملنے گئ تھی اُسکا کیا بنا؟؟
وہ ماما شزرا عائشہ کو کاوچ پہ بٹھاتی سرگوشی کہ انداز میں سب پلان بتانے لگی جسے عائشہ حیرت سے سُنتی گئیں…
پر ماما ایک کام آپ کا ہے جس وقت یہ سارا ڈرامہ چلے گا آپکو اتنا شور ڈالنا ہے کہ کسی کا بھی دھیان اس نقلی نکاح نامہ پہ نا جاۓ..
وہ سب تو ٹھیک ہے پر شزرا اگر کوئ گڑبڑ ہوئ اور تمھارا نام آیا تو…
اس سب کی آپ بالکل فکر مت کریں اُس مغرور شخص پر پورا بھروسہ ہے مجھے وہ ضرور اپنی محبت پا لے گا اور یہاں پہ سب کی نظروں میں ماہی کا کردار مشکوک ہو جائیگا بس آپ chill کریں…
کیونکہ آپکا ٹائم آنے والا ہے…
شزرا نےآنکھ مارتے ہوۓ پریشان بیٹھی عائشہ کو یقین دلاتے ہوۓ کہا…
تبھی شزرا کا فون بج اُٹھا…
اوکے ماما آپ ایک سٹرونگ سی کافی بھجوا دیں عائشہ کو چلتا کرکے شزرا نے کال اٹینڈ کی…
ہیلو..
ہاں شزرا وہاں سب کیسا چل رہا..
کیا چلنا ہے ماہی کی مایوں کی رسم ہوئ ہے ابھی اور بُراق بھی پاکستان پہنچ چُکا ہے پر ابھی وہ کراچی میں ہے اُسکی فلائٹ وہاں کی ہوئ تھی شاید صبح یا کل تک پُہنچ جاۓ وہ بھی…
اوکے مجھے کچھ کام تھا تم سے اینڈ آئ ہوپ کہ تم بنا کسی کو شک میں ڈالے وہ کرلو گی..
ہاں کہو کیسا کام..
اوہ بس یہ کرنا ہےعدوان کہ بات سُنتے ہی ماہی نے خوشی سے چہکتے ہوۓ کہا…
پر یہ بتاو میں وہ سب تم تک کیسے پُہنچاونگی؟؟؟
ایسا کرو تم کسی بہانے سے میرے گھر آکر دے جاو یا پھر …چلو تم اپنا کام تو کرو پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے..
اوکے.. ٹھیک ہے چلو میں رکھتا ہوں تم آج ہی اپنا کام کر لو…
اوکے…..
***********
شزرا عدوان کی کال رکھتے ہی ماہی کہ پاس پُہنچی تھی اور ماہی بیڈ پر بیٹھی رضائ میں دُبکی ہوئ اپنے فون میں بزی تھی…
ماہی تم سوئ نہیں اور یہ کیا تم نے چینج نہیں کرنا کیا…
نہیں یار وہ ماما کا آرڈر ہے کہ اب یہ کپڑے میں تب ہی چینج کرونگی جب مہندی کا فنکشن ہوگا…
اوہ اچھا اور کیا کررہی ہو ؟؟؟
کچھ نہیں candy crush کھیل رہی ہوں ماہی نے بنا فون سے نظریں اُٹھاۓ شزرا کو جواب دیا…
شزرا سے کوئ بات ہی نہیں بن پارہی تھی کہ وہ ماہی کہ signatures کیسے لے…عدوان کہ سامنے تو بڑے بول بول آئ تھی اور اب کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا..
تبھی کچھ سوچتے ہوۓ شزرا نے ماہی سے اُسکا فون چھینا…کیا یار یہ لیول complete ہونے والا تھا ماہی نے چلاتے ہوۓ کہا..
کیسی دُلہن ہو تم ؟؟؟صرف گیم کی پڑی ہے کچھ تو شادی کا سوچو..
میں شادی کا کیا سوچوں سب انتظام تو ہو چُکے ہیں…
اوہو میں یہ نہیں کہہ رہی اچھا یہ بتاو نکاح نامہ پہ سائن کی پریکٹس کر لی؟؟؟
ہیں سائن کی بھی پریکٹس کرنی ہوتی ہے ہاں کیوں نہیں بالکل کرنی ہوتی ہے…
اچھا یہ بتاو تمھارے آئ-ڈی کارڈ پر کیسے سائن ہیں؟؟
پتہ نہیں میں تو بھول گئ…
یہ دیکھا شکر کرو میں نے پوچھ لیا جاو اپنا آئ ڈی کارڈ لاو…
پر وہ تو ماما نے سنبھال کر رکھا ہے؟؟
اوہ تو اُن سے مانگ لو؟؟
ہاں پر رُکو مجھے یاد آیا میرے پاس duplicate والا ہے میں وہ لے آتی ہوں ماہی فوراً سے ڈریسنگ کی دراز کی طرف بڑھی…
یہ.لو میرا آئ-ڈی کارڈ..
اب چلو کاپی پینسل لاو اور سیم انہی سائنز کو کاپی کرو..
ماہی نے تقریباً دو سے تین پیجز سائن کہ بھر دئیے تھے اور اب وہ شزرا کہ ساتھ بیٹھی مووی دیکھتے دیکھتے سو گئ تھی …
ماہی کو سوتا دیکھ شزرا اُسکا آئ ڈی کارڈ اور کاپی اُٹھاۓ اپنے کمرے میں آگئ تھی اور عدوان کو done کا میسج کرتی خوشی سے جھومنے لگی…..
***********
کہا ہوا عدوان آرام سے ناشتہ کرو…
نہیں مام مجھے بہت ضروری کام سے جانا ہے.
ایسا بھی کیا ضروری کام ہے…عدوان کو اتنا پُرسکون دیکھ کر پہلے ہی اُنکا دل دہل رہا تھا..
کیونکہ اس سے پہلے جب تک عدوان کی ضد پوری نہیں ہوجاتی تھی وہ سکون سے نہیں بیٹھتا تھا..
ابھی نہیں بتا سکتا مام…عدوان نے فورک میں ڈالا آملیٹ منہ میں رکھتے ہوۓ کہا…
اچھا وہ تمھاری بھابھی کی کال آئ تھی رات میں وہ کہہ رہی تھیں تم کال اٹینڈ نہیں کررہے اُنکی..
تو کیا کروں اُن سے بات کرکے ویسے بھی اُنکے پاس کونسا کوئ بات ہوتی ہے سواۓ اپنی بہن کی تعریفوں کہ…
تو تم سوچ کیوں نہیں لیتے اُسکے بارے میں..
مجھے دیر ہورہی ہے میں بعد میں بات کرتا ہوں…عدوان نے اس بحث سے بچنے کہ لئیے جلدی سے اُٹھتے اپنا کوٹ اُٹھایا اور باہر نکل گیا…
گاڑی پورچ سے نکال کر تھوڑی آگے کھڑی کرتے ہوۓ عدوان نے شزرا کو کال ملائ جو اُس نے تیسری بیل پہ اُٹھا لی…
ہیلو شزرا میں یہ تمھارے گھر سے کچھ آگے کار میں بیٹھا ہوں سو جو کہا تھا وہ لو اور فوراً آو..
اچھا میں آ رہی ہوں…
شزرا نے بیڈ سے اُٹھتے اپنے جوگرز پہنے اور ہُُڈی پہن کر کاپی کا پیج پھاڑ کر اُسے اور آئ -ڈی کارڈ کو جیب میں اڑستے کمرے سے باہر نکلی شُکر ہے کہ رات کہ فنکشن کی وجہ سے سب سو رہے تھے اس لئیے وہ جلدی سے لاونج کراس کرتے باہر کی طرف بڑھ گئ…. اُسے لیفٹ سائیڈ پہ کچھ آگے کرکے کھڑی گاڑی دکھی جسکی طرف وہ بھاگتی ہوئ بڑھی…
شزرا کو دیکھتے ہی عدوان نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا..
یہ لو عدوان اب کوئ صحیح بندہ ڈھونڈنا جو اچھے سے ان سگنیچرز کو کاپی کرسکے…
تم اس سب کی ٹینشن مت لو مجھے پتا ہے کہ کیا کرنا ہے عدوان نے شزرا کو بےرُخی سے دیکھتے ہوۓ زن کر کہ گاڑی بڑھا دی…
ہممممم آیا بڑا کہیں کا ٹام کروز…شزرا نے غصے میں بولتے ہوۓ واپسی کہ لئیے قدم بڑھاۓ….
***********
عالیہ رات کا کھانا لے کر ماہی کہ کمرے میں داخل ہوئ تھیں….
جبکہ ماہی بیڈ پہ لیٹے ہوۓ بے دلی سے the boss baby دیکھ رہی تھی…
اُٹھو ماہی کھانا کھا لو..مجھے نہیں کھانا ماما پر کیوں بیٹا؟؟
کل سے بھائ آۓ ہوۓ ہیں نا آپ اُنہیں یہاں آنے دے رہی ہیں نا مجھے جا کر ملنے دے رہی ہیں ماہی نے منہ بسورتے ہوۓ کہا…
کچھ دنوں کی تو بات ہے مل لینا اور ویسے بھی مایوں بیٹھی لڑکیاں کسی بھی مرد کہ سامنے نہیں جاتیں چاہے وہ باپ ہو یا بھائ…
پر کیوں؟؟؟
یہی تو رسم و رواج ہیں اب تو کچھ رہا ہی نہیں میری شادی کہ وقت تو مہینہ پہلے مجھے مایوں بٹھا دیا تھا تم سے ایک ہفتہ گُزارنا محال ہوا ہے…
پر ماما…
چلو اُٹھو کھانا کھا لو پھر میں نیلو سے کہتی ہوں تمھیں اُبٹن لگا جاۓ..
اُف مام مجھے نہیں لگوانی بُرا حال ہوگیا ہے میرا یہ کیسی شادی ہے با کپڑے بدل سکتی یون نا کمرے سے بایر جاسکتی ہون اور اُوپر سے یہ اُبٹن..
کچھ دنوں کی تو بات ہے آ میرا بچہ کھانا کھا لے عالیہ ماہی کو بہلا پُھسلا کر کھانا کھلا کر چل دیں…
اُنہیں باہر جاتا دیکھ ماہی نے بیڈ پہ پڑا ڈوپٹہ اُٹھا کر اُوڑھا اور باہر چل دی…
سردیوں کہ دن تھے سب ہیٹر جلاۓ زین کو گھیرے دادو کہ کمرے میں بیٹھے ہوۓ تھے ماہی نے سب سے بچتے بچاتے لاونج سے گُزرتے ہوۓ جیسے ہی لاونج کا دروازہ کھولا سامنے سے آتے سردار عالم سے ٹکرا گئ…
اُف بابا آپ نے تو سر توڑ دیا میرا..
اوہو بیٹا لگی تو نہیں اور آپ کہاں جارہی ہیں اس وقت.
وہ بابا اچھا باہر تو چلیں..ماہی اُنھیں اپنے ساتھ گھسیٹتی باہر لے آئ چلیں گاڑی میں بیٹھیں…
پر جانا کہاں ہے؟؟
مجھے سوپ پینا ہے …سو آپ جہاں بھی لے جائیں…
اور اگر تمھاری ماں کو پتہ چل گیا تو؟؟؟کیوں اس عمر میں مجھے ڈانٹ پڑواوگی…
آپکو ڈانٹ کی پڑی ہے بابا آخری آخری فرمائش ہے میری پھر تو پتا نہیں ماہی نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوۓ اُنہیں ایموشنل بلیک میل کرتے ہوۓ کہا…
اوکے اوکے چلو پر پلیز رونا مت….اور صرف سیرینہ تک جائیں گے کیونکہ وہ نزدیک ہے…
ویسے سیرینہ والا حُلیہ تو نہیں ہے میرا پر جہاں بھی چلیں پر یہاں سے نکلیں کوئ دیکھ ہی نا لے…
ماہی کہ کہتے ہی اُنہوں نے دوبارہ سے گاڑی باہر نکال دی…
*********
تم یہ کام کر تو لو گے نا….عدوان نے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا..
جی سر یہ تو کوئ بڑی بات ہی نہیں میرے لئیے میں ابھی کر دیتا ہوں…
ابھی تو تم یہ کاغذ لو اور اچھے سے ان سائنز کی پریکٹس کرو اور ہاں بالکل original لگنے چاہیں…
آپ ٹینشن ہی نا لیں سر یہ تو بہت آسان سے سائینز ہیں میں آرام سے کاپی کرلونگا…
ویسے اصل پیپرز پہ کب کرنے ہیں؟؟
بس ایک دو دن تک میں تم سے کانٹیکٹ کرلونگا پر کام perfect ہونا چاہئے اب تم جاو…
جی سر عدوان کہ سامنے بیٹھا شخص ماہی کہ سائن کیا ہوا کاغذ اُٹھاتے چل دیا…
عدوان مزے سے بیٹھا اپنی کافی انجواۓ کرنے لگا..عدوان نے جیسے ہی کافی ختم کر کے اُٹھنا چاہا اپنے سے کچھ دور ٹیبل پہ ماہی کو بیٹھا دیکھ اُسکا دل ہمکنے لگا…
اس وقت ماہی زرد سوٹ پہنے کوئ پیلا پھول لگ رہی تھی.
پر یہ اس وقت ہے کس کہ ساتھ ماہی کی طرف دیکھتے عدوان اپنا فون اور گاڑی کی چابیاں اُٹھاتے اُنکے ٹیبل تک پُہنچ آیا…عالم صاحب کو دیکھتے ہی وہ اُنکو پہچان گیا تھا کیونکہ اس سے قبل وہ اُنکی پکچرز ماہی کہ سوشل اکاونٹس پر دیکھ چُکا تھا…
السلام وعلیکم انکل….
عدوان کہ سلام پر جیسے ہی ماہی نے عدوان کو دیکھا اُسے اپنے اردگرد سب گھومتا ہوا محسوس ہوا…
