Beri Piya by Hareem NovelR50424

Beri Piya by Hareem NovelR50424 Beri Piya Episode 8

347.9K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Beri Piya Episode 8

Beri Piya by Hareem

کہا کہہ رہی ہیں مام آپ…

تو ایسا غلط بھی کیا بول رہی ہوں.. تمھیں وہ پسند ہے تم نے پرپوز کیا ہے اُسے تو بس میں کل پرسوں تک جاتی ہوں لیکر رشتہ…

ویسے بھی میرے بیٹے میں کوئ کمی تھوڑی ہے..اُنہوں نے گردن اکڑاۓ فخر سے کہا..

ایسا رشتہ آنا کسی کی بیٹی کہ لئیے یہ تو اُنکی خوش بختی ہے…ثانیہ بیگم سب ایک جذب سے کہیتیں اُٹھ کھڑی ہوئیں…

اب پتہ نہیں کیا ہوگا یا تو ماہی مجھے مل جائیگی یا پھرررر.. اس سے آگے عدوان سے کچھ سوچا ہی نہیں گیا…

***********

آج کچن میں مہوش کی آمد کی خوشی میں شاندار ناشتہ تیار ہورہا تھا..عالم اور ریاست صاحب بھی گھر پر تھے…جبکہ احد انکے گھر میں ایک سائلنٹ کردار تھا…اور مہد وہ تو تب سے ہی بالکل آپے سے باہر ہوگیا تھا جب سے ماہی کی شادی کہ دن نزدیک آرہے تھے…

عالیہ عائشہ جبکہ ثروت بیگم بھی کچھ نا کچھ بنانے میں مصروف تھیں…

ثروت بیگم کہ ہاتھ میں بہت ذائقہ تھا اتنی عمر ہونے کہ باوجود بھی وہ کچھ نا کچھ بنانے کو ہمہ وقت تیار رہتی تھیں.. ابھی بھی وہ ناشتے میں اپنی سپیشل ڈش قیمہ بھرے پراٹھے بنا رہی تھیں..

عالیہ… جی ماں جی؟؟

ماہی کہاں ہے آٹھ بج رہے ہیں وہ تو سات بجے تک اُٹھ جاتی ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟

عالیہ جو ناشتے کہ لئیے لائ گئ حلوہ پوری خاکی لفافوں سے نکال رہی تھیں اُنکی بات پر ٹھٹکیں..

اب وہ اُنہیں کیا بتاتیں کہ وہ تو کل سے ناراض تھیں ماہی سے پر اب وہ ماہی کی چُپ پہ خود بھی پریشان تھی. .

میں نے بھی نوٹ کیا ہے جب سے مہوش سے ملی ہے تب سے بُجھی بُجھی سی ہے..عائشہ کی شروع سے ہی عادت تھی وہ ہر وقت ماہی اور عالیہ کی ٹوہ میں ہی لگی رہتی تھیں…

عالیہ کو عائشہ کی بات سُن کر کافی ٹینشن ہوئ اس سے پہلے کہ وہ کوئ نئ بات بنائیں اور کسی اور تک پُہنچائیں عالیہ سب کام چھوڑے ماہی سے بات کرنے اُس کہ کمرے تک پُہنچ گئیں…

ماہی اپنے ٹیرس پہ رکھی چئیر پر بیٹھی ہوئ تھی..عالیہ نے آگے بڑھتے ہوۓ ماہی کہ کندھے پر ہاتھ رکھا اور بات کرنا شروع کی..ماہی کوئ مسئلہ ہے کیا اتنی اُداس کیوں ہو کوئ بات ہے تو پلیز اپنی ماما سے شئیر کر لو..

ماہی ویسے ہی سر جھکاۓ اپبے ہاتھوں کو گھور رہی تھی..

کیا تم اپنی شادی کی وجہ سے پریشان ہو؟؟؟

نہیں ماما ایسا کچھ نہیں ہے…ماہی نے تھکے ہوۓ لہجہ میں کہا..

پر پھر کیسا ہے ؟؟تمھارے اس طرح سے خاموش ہونے پر تو سب کو یہی لگ رہا ہے…

لازمی تو نہیں ہے نا کہ جیسا سب کو لگے ویسا ہی ہو..

تو پھر کیسا ہے اپنی ماما کو نہیں بتاوگی؟؟

تبھی ماہی نے اپنی آنکھوں میں آنسو بھرے عالیہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہنا شروع کیا..

ماما مجھے لگتا ہے میں نے کسی کا دل دُکھا دیا ہے وہ بھی بہت بُری طرح…

میں ایسا تو نہیں چاہتی تھی پر شاید انجانے میں سب غلط کردیا ہے میں نے… ماہی نے ایک ہاتھ سے اپنے گالوں پہ پھسلتے آنسووں کو صاف کرتے ہوۓ کہا…

جب آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاۓ نا بیٹا تو سب سے بیسٹ یہ ہی ہوتا ہے کہ آپ اپنی غلطی کو سُدھارنے کی کوشش کریں….

وہ کیسے ماما….

جیسے کہ تمھیں اپنی غلطی کا اگر احساس ہو گیا ہے تو تم سب کلئیر کردو ساری بات,اپنی پوزیشن سب کلئیر کرو اور معافی مانگ لو دیٹس اٹ…

اور اگلا آپکو پھر بھی معاف نہ کرے تو…

تم سب کلئیر کرنے کی کوشش تو کرو انشااللہ سب صحیح ہو جائیگا اور اگر معافی نا بھی ملے تب بھی تم خود تو سیٹسفائیڈ ہو گی نا..

ماہی کو انکی باتوں سے اپنا اپ کچھ ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا..

اب چلو اُٹھو شاباش فریش ہوکر آو…

آج میں نے سپیشل تمھارے لئیے چاکلیٹ اوریو شیک بنایا ہے اور تمھارے والے پرٹھے میں ہری مرچیں خود کاٹ کر زیادہ ڈلوائ ہیں عالیہ نے کھڑے ہوتے ہوۓ ماہی سے کہا….

ماما i am sorry کل میں نے آپ سے بدتمیزی کی ماہی نے عالیہ کہ پاس آکر کھڑے ہوتے ہوۓ شرمندگی سے کہا اٹس اوکے میری جان مجھے تبھی سمجھ آگئ تھی کہ کوئ نا کوئ ایشو ضرور ہے ورنہ میری بیٹی کبھی ایسے behave نہیں کرتی ماہی خوشی سے اُنکے گلے لگ گئ.

**********

مام سوچ لیں کہیں یہ سب awkward نہ لگے..

کیا چیز awkwardلگے گی…

یہی کہ کل ہی آئیں ہیں اور آج رشتہ بھی لے آۓ …

تو کیا ہوا؟؟ اچھا سُنو عدوان کہیں وہ لڑکی کمیٹڈ تو نہیں ہے…

ایسا تو مت کہیں مام آپ تو ڈرا رہی ہیں مجھے..اور مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا صرف اُنیس سال کہ تو ہے اور دوسرا مجھے ایسی feel آتی ہے اُس سے جیسے وہ پسند کرتی ہے مجھے..

تو بس پھر میں جاتی ہوں آج ہی رشتے کی بات ڈالنے اور جہاں رہی بُرا لگنے کی بات تو جہاں بیری ہو وہاں پتھر تو آتے ہی ہیں….آپ کبھی کبھی بہت مشکل باتیں کرتی ہیں مام..اور جیسا آپکا دل کرے ویسا ہی کرین پر اتنا دھیان میں رکھئیے گا..

I want that girl in my life in every condition..

عدوان کہ لہجے میں در آئ ضد اُنکا دل دہلا گئ تھی..

عدوان اپنی بات مکمل کرتا جا چُکا تھا. اور وہ پریشانی سے اُسکی پُشت کو گھورتی رہ گئیں..

************

آج سب لوگ مہوش کہ آنے کی خوشی میں ناشتے کی میز پر اکٹھے تھے. ماہی بھی سب بُھلاۓ اپنی پھوپھو کہ پاس بیٹھی چہک رہی تھی..

تو پھر آج کہاں جانا ہے شاپنگ کہ لئیے بھابھی؟؟ کہاں سے شروع کرنی ہے شاپنگ ایک تو اتنا کچھ کرنا ہے کہ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا وقت بھی اتنا تھوڑا ہے.. میری اکلوتی بہو ہے مجھے سب کچھ شاندار سا چاہئے اس لئیے آپ کہ ذمہ ہے مجھے بہترین جگہوں پر لے کر جانا..مہوش نے پُرجوش لہجہ میں ماہی کو پیار کرتے ہوۓ کہا.

شزرا جو ساتھ بیٹھی بہترین دیسی ناشتہ چھوڑے دلیہ کھا رہی تھی تاکہ مہوش کو جتا سکے کہ اُسکی پسند بُراق سے کتنی ملتی ہے…کو اپنا میٹھا دلیہ کڑوا لگنے لگا تھا..

ماہی تم بتاو تمھیں کس ڈیزائنر کا جوڑا چاہیے تم جس ڈزائینر کا کہو گی میں تمھیں لے دونگی…

ماہی کو کہاں پتہ ہے ڈزائنرز کا پھوپھو آپ تو اسے آبپارہ مارکیٹ سے بھی دلا دیں گی تو بھی یہ خوشی خوشی پہن لے گی…شزرا نے اپنی طرف سے اچھا خاصا طنزیہ تیر پھینکا تھا پر آگے بھی اُسی کی پھوپھو تھیں…

تو کیا ہوا میری بیٹی ہے ہی اتنی سادہ کوئ نخرہ نہیں ہے یہی بات تو سب سے بہترین ہے میری ماہی کی. مہوش نے پیار سے ماہی کو خود سے لپٹاتے ہوۓ کہا..

شزرا کا تو منہ ہی بن گیا تھا..

بابا میں سوچ رہی تھی ایک ولیمہ ہم یہاں کرلیں اور دوسرا پیرس میں وہاں بھی ہمارے دوست احباب ہیں سب کو بُراق کی دُلہن کا انتظار ہے..

ہاں بیٹا کیوں نہیں اکلوتا بیٹا ہے تمھارا سارے ارمان پورے کرو سردار بخش کی جگہ ثروت نے مہوش کو جواب دیتے ہوۓ کہا.

شزرا کہ لئیے تو بیٹھنا ہی محال ہونے لگا تھا.. دوسرا ماہی کو اتنا ریلیکس اور پُرسکون بیٹھا دیکھ کر تو اُسے اپنی بنائ ساری گیم اُلٹتی محسوس ہورہی تھی…

تبھی عالم اپنی چئیر گھسیٹتے اُٹھ گۓ..عالیہ میں نے اپنے کارڈز بھی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دئیے ہیں اُنکی کریڈٹ لمٹ زیادہ ہے تمھیں ضرورت ہوگی ..

اور سب کچھ میری بیٹی کی پسند کا لینا..اُنہوں نے پیار سے ماہی لا سر تھپکتے ہوۓ کہا..میں ہوٹل جارہا ہوں مہندی کا سیٹ اپ تو گھر پہ ہی ہوگا بارات کہ لئیے سیرینہ کی بُکنگ کروائ ہے میں نے وہیں کی پیمنٹ دینے جارہا ہوں…

اُنکی باتیں سُن کر ہمیشہ کا حسد پھر سے جاگنے لگا تھا جسے بار بار عائشہ تھپک کر سُلاتی تھیں..تبھی سُگتی ہوئ نگاہوں سے اُنہوں نے ریاست صاحب کو گھورا جو ہر بات سے انجان اپنے اخبار میں گُم تھے..

چلو مہد میرے ساتھ پہلے بینک جانا ہے پھر ہوٹل.. جی تایا ابو چلیں مہد بھی شکر کرتا اٹھ کھڑا ہوا ویسے بھی اب اُسکا صبر جواب دینے والا تھا.

***********

ماہی عالیہ اور مہوش پھوپھو شاپنگ کہ لئیے ناشتے کہ فوراً بعد ہی نکل گۓ تھے عائشہ کو بہت کہا پر اُن کہ لئیے وہ سب دیکھنا جو اُنکی اپنی بیٹی کہ لئیے خواہش تھی آسان نھیں تھا..

اُنکے جانے کہ کچھ ہی دیر بعد مٹھائ اور فروٹ کہ ٹوکرے لئیے ثانیہ پہنچ چُکی تھیں اور اُنھیں اس طرح آتا دیکھ عائشہ کا دل بلیوں اُچھلنے لگا تھا ..

اُنھیں ڈرائنگ روم میں بٹھاتیں وہ ثروت بیگم کو بُلا کر لے آئیں..

اور ساتھ ہی عالیہ کو یہ کہتے فون کھڑکا دیا کہ شزرا کا رشتہ آیا ہے. اُنکے تو پیر زمین پر ہی نہیں لگ رہے تھے تبھی وہ کچھ سوچتیں شزرا کہ کمرے میں پُہنچیں اور چٹا چٹ اسے خود سے لپٹاۓ پیار کرنے لگیں..

اوہ میری بیٹی کل جا کر کیا کہا تھا تو نے عدوان کی ماں سے..

ہیں کہیں پتہ تو نہیں چل گیا انہیں کہ میں کیا بول کر آئ ہوں؟؟نہیں نہیں اگر پتہ چلا ہوتا تو جوتے لگاتیں پیار نہیں..

کیا سوچ رہی ہے میری جان بتا نا اچھا چلو چھوڑو اور اچھا سا تیار ہوکر فوراً ڈرائنگ روم میں پہنچو اور اچھا سا تیار ہونا اچھا وہ شزرا کو تاکید کرتیں نیچے چلی گئیں…

********/**

اگر عالیہ بہن ہوتیں تو میں اپنا مدعہ بیان کرتی ویسے تو آپ ان سب کی بڑی ہیں..اُنہوں نے ثروت بیگم اے مخاطب ہوتے ہوۓ کہا..

جی جی بھابھی کو کال کردی ہے وہ آنے والی ہیں وہ اصل میں میری نند آئ ہوئ ہیں پیرس سے تو بس شاپنگ کہ لئیے نکلے تھے سبھی…اور ماہی بیٹی بھی ساتھ گئ ہے کیا؟؟کہیں نظر نہیں آرہی

اوہ وہ دیکھیں شزرا آگئ..اُنکے سوال کو مکمل نظرانداز کرتیں شزرا کو سیکھتے ہوۓ بولیں..

آو بیٹا آنٹی کہ پاس بیٹھو شزرا اُنہیں دیکھتی حیران ہوتی ہوئ اُن کہ پاس بیٹھ گی..

بیٹا ماہی کو پرپوز کرتا پھر رہا ہے اور یہ یہاں مجھے بہو بنانے ٹپک پڑی ہیں حد ہے اور ماما کا تو بس نہیں چل رہا کہ ان کے اگے بچھ ہی جائیں شزرا اپنی ماما کو دیکھتے کڑھنے لگی..

تبھی باہر گاڑی رُکنے کی آواز آئ…اوہ بھابھی لوگ آگۓ…عالیہ اور مہوش وہیں آگئیں جبکہ ماہی کو کبھی کسی آۓ گۓ میں اتنا انٹرسٹ رہا ہی نہیں تھا سو وہ اپنے ساتھ لائ چاٹ کھانے اپنے کمرے کی طرف چل دی..

مہوش ان سے ملو یہ ہمارے گھر کہ سامنے ابھی ہی شفٹ ہوئ ہیں بہت ہی نفیس خاتون ہیں عائشہ ان کی تعریف مین رطب اللسان ہوگئیں..

اور مہوش حیرت سے ان سے ملنے لگیں کیونکہ آج تک عائشہ نے کبھی بھی کسی کی اتنی تعریف نہیں کی تھی..

بہت خوشی ہوئ آپ سے مل کر..

آپ کب آئیں پیرس سے؟؟عائشہ بتا رہی تھیں آپ پیرس میں ہوتی ہیں..جی میں شادی کہ بعد سے وہیں ہوتی ہوں بس یہاں تو اپنی بہو لینے آئ ہوئ ہوں..

اچھا اچھا ماشااللہ ..

کب ہے شادی اور کہاں کیا رشتہ آپ نے اپنے بیٹے کا؟؟

جی رشتہ تو بچپن سے ہی طے تھا..

اور بہو سے تو ملی ہی ہونگی آپ..

کس کی بات کر رہی ہیں آپ اُنہوں نے مُسکراتے ہوۓ شزرا کی طرف دیکھا کہ شاید وہ اسکی بات کررہی ہیں…

تطمٰئین کی بات کررہی ہوں میں..

ماہی میری ہونے والی بہو….